Pages

Friday, 21 August 2020

ماتم کی ابتداء کس نے کی تھی___ ؟

ماتم کی ابتداء کس نے کی تھی___ ؟ 

*سب سے پہلے ابلیس نے ماتم کیا تھا:*

علامہ شفیع بن صالح شیعی عالم لکھتا ہے کہ شیطان کو بہشت سے نکالا گیا تو اس نے نوحہ (ماتم) کیا۔

*حدیث پاک میں ہے کہ* غناء ابلیس کا نوحہ ہے۔ یہ ماتم اس نے بہشت کی جدائی میں کیا۔
اور رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا:
*ماتم کرنے والا کل قیامت کے دن کتے کی طرح آئے گا اور آپ نے یہ بھی فرمایا: کہ ماتم اور مرثیہ خوانی زنا کا منتر ہے۔*

*(شیعہ کی معتبر کتاب مجمع المعارف حاشیہ حلیۃ المتقین، ص 142، ص 162، اور حرمت غنا مطبوعہ تہران طبع جدید)*

👈🏿 امام حسین رضی ﷲ عنہ کا پہلا باقاعدہ ماتم کوفہ میں آپ کے قاتلوں نے کیا

(جلاء الیون ص 424-426 مطبوعہ ایران)

👈🏿 پھر دمشق میں یزید نے اپنے گھر کی عورتوں سے تین روزہ ماتم کرایا

(جلاء العیون ص 445 مطبوعہ ایران)

*ابن زیاد نے آپ کے سر مبارک کو کوفہ کے بازاروں میں پھرایا۔ کوفہ کے شیعوں نے رو رو کر کہرام برپا کر دیا۔*

*نوٹ 😗

*حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے قاتل رافضی شیعہ ہی ہیں 👇🏼*

*👈🏿 شیعوں کی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ کوفہ والوں کو روتا دیکھ کر سیدنا امام زین العابدین نے فرمایا:*

ان ہولاء یبکون علینا فمن قتلنا غیرہم ۔

*ترجمہ 😗 یہ سب خود ہی ہمارے قاتل ہیں اور خود ہی ہم پر رو رہے ہیں ۔

(احتجاج طبرسی، جلد 2، ص 29)

*👈حضرت سیدہ طاہرہ زینب نے فرمایا: کہ تم لوگ میرے بھائی کو روتے ہو__؟*
*ایسا ہی سہی۔ روتے رہو، تمہیں روتے رہنے کی کھلی چھٹی ہے۔ کثرت سے رونا اور کم ہنسنا۔ یقینا تم رو کر اپنا کانا پن چھپا رہے ہو۔ جبکہ یہ بے عزتی تمہارا مقدر بن چکی ہے۔ تم آخری نبی کے لخت جگر کے قتل کا داغ آنسوئوں سے کیسے دھو سکتے ہو جو رسالت کا خزانہ ہے اور جنتی نوجوانوں کا سردار ہے*

(احتجاج طبرسی ج 2، ص 30)

*👈 اسی طرح شیعہ کی کتاب مجالس المومنین میں لکھا ہے کہ کوفہ کے لوگ شیعہ تھے*

(مجالس المومنین ج 1، ص 56)

*کیا شیعوں نے امام حسین کو چھوڑ دیا تھا__؟*

*👈 امام حسین رضی ﷲ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے فرمایا : کہ*
*مجھے خبر ملی ہے کہ مسلم بن عقیل کو شہید کر دیا گیا ہے اور شیعوں نے ہماری مدد سے ہاتھ اٹھا لیا ہے جو چاہتا ہے ہم سے الگ ہوجائے، اس پر کوئی اعتراض نہیں*

(جلاء العیون ص 421، مصنفہ ملا باقر مجلسی، منتہی الاعمال
 مصنفہ شیخ عباس قمی ص 238)
مکمل تحریر >>

Saturday, 30 May 2020

"سنی مسلمان سے شیعوں کا بغض"

براۓ مہربانی پوسٹ مکمل پڑھیں......!

"سنی مسلمان سے شیعوں کا بغض"

📝محمد اسد رضا قادری

محترم قارئین کرام!
آج میں آپکو بتاتا ہوں کہ بظاہر شیعہ سنی بھائ بھائ
کا نعرہ لگانے والے بدباطن کس طرح سنیوں
سے بغض رکھتے ہیں۔
جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ اہل تشیع حضرات
صحابہ کرام اور انکے ماننے والوں کو اپنا ازلی
دشمن سمجھتے ہیں۔ نیز خود کو مومن اور اپنے
علاوہ سب مسلمانوں کو ناصبی کہتے ہیں۔
لہذا شیعہ مجتہد سید نعمت اللہ جزائری
امام جعفر صادق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ پر جھوٹ
باندھتے ہوۓ لکھتے ہیں کہ امام جعفر صادق
رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:
"ناصبی وہ ہے جو اے شیعہ تمہیں اچھا نہ سمجھتا
ہو۔ اور تم سے بغض و عداوت رکھتا ہو۔ ناصبی کی علامت
یہ ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ پر
دوسروں کو فضیلت دیتا ہو"۔
(الانوارالنعمانیة، ج2 ص 307)

چونکہ مولا علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی تمام
صحابہ بلکہ انبیاء کرام پر بھی افضلیت کا عقیدہ
فقط اہل تشیع کا ہی ہے لہذا اہل تشیع نے امام جعفر
صادق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا نام استعمال کرکے 
تمام مسلمانوں کو ناصبی قرار دے دیا۔ 

اچھا جی بات صرف ناصبی ہونے تک نہیں رکی
بلکہ انکے نزدیک تمام سنی کافر بھی ہیں۔
لہذا شیعوں کی معتبر کتاب "الاستبصار ج3 ص 184"
پر درج ہے کہ
"کسی نے امام محمد باقر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے
پوچھا کہ کیا کسی شیعہ عورت کا نکاح کسی ناصبی
یعنی سنی سے ہو سکتا ہے؟؟
تو آپ نے فرمایا: نہیں ! لان الناصب کافر
یعنی تمام ناصبی کافر ہیں"
نیز
"ناصبی سے نہ نکاح کرو نہ نکاح دو نہ انکا
ذبیحہ کھاؤ اور نہ انکے ساتھ رہن سہن اختیار کرو"

دیکھا آپ نے کہ کس طرح یہ شیعہ اہلسنت والجماعت
پر ناصبی ہونے کی تہمت لگا کر انکی تکفیر کر رہے
ہیں۔ مزید روایات ملاحظہ کیجۓ
چنانچہ شیعوں کی معتبر کتاب
"روضة الکافی ج8 ص 135" پر درج ہے کہ
"سارے لوگ حرام کی اولاد ہیں یا فرمایا
زانی و بدکار ہیں سواۓ ہم شیعوں کے"

ایک اور جگہ شیعوں نے سنیوں سے بغض 
کا اظہار کرتے ہوۓ امام جعفر صادق کے سر پر ملبہ
ڈالا اور یہاں تک لکھ دیا کہ امام نے فرمایا:
"وہاں غسل نہ کرو جہاں غسل کا پانی گرتا
اور جمع ہوتا ہے کیونکہ وہاں ولد الزنا #سنی
کا دھوون ہوتا ہے اور سنی، ولد الزنا سے بھی
بدتر ہے۔ یہ یقینی بات ہے کہ خدا نے کوئ مخلوق
کتے سے زیادہ بری نہیں پیدا کی اور سنی خدا
کے ہاں کتے سے بھی زیادہ ذلیل و خوار ہیں"
(حق الیقین 516)

اسی کتاب "حق الیقین ص 537" پر درج ہے کہ
سنی اور مشرک یکساں ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں
"اس شیعی ایمان کے مقابل کفر ہے اس میں تمام مذاہب
باطلہ کے سب فرقے شامل ہیں جیسے عام کفار
منافقین مشرکین اور #سنی مسلمان"

سابقہ پوسٹ کے بعد میں سوچ رہا تھا کہ
ایک طرف پوری امت مسلمہ ہے جو حضورﷺ
کی احادیث پر بھروسہ رکھے ہوۓ ہے
کہ قرب قیامت میں امام مہدی کفر کو ختم کرکے
اسلامی نظام رائج کریں گے
جبکہ دوسری طرف یہ مخصوص گروہ ہے جو
امام مہدی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مسلمانوں
کا ہی قتل عام کروانا چاہتا ہے۔
پھر ذہن میں انکی تاریخ گھوم گئ کہ دراصل اس
فرقے کا بانی ہی ایک یہودی تھا تو عقائد و نظریات
میں مسلمانوں کا مخالف ہونا تو انکے لۓ واجب ہے۔

بہر حال سابقہ پوسٹ کی طرح اس پوسٹ میں
ملاحظہ فرمائیں کہ شیعوں نے امام مہدی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ
پر کتنا سخت جھوٹ باندھا ہے۔۔۔۔
چنانچہ ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں کہ
"ان القائم یھدم مسجد الحرام حتی یردہ الی اساسه
والمسجد النبوی الی اساسه"
ترجمہ:  "امام قائم مسجد حرام کو مسمار کریں گے
اور اسے بنیاد تک لوٹادیں گے اور اسی طرح مسجد
نبوی کو بھی اسکی بنیاد تک لوٹا دیں گے"

(بحار الانوار338/52، الغیبة للطوسی، 282)

کسی شیعہ کا منہ کھلے اور صحابہ کرام پر گند نہ
بکے، ایسا ممکن ہی نہیں۔ لہذا خود تو یہ لوگ
شیخین کریمین کی گستاخی کرکے جہنم کے
حقدار بنتے ہی ہیں۔ مگر امام مہدی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ
کو بھی انہوں نے شیخین کا دشمن ثابت کرنے
کی ناکام کوشش کی ہے
چنانچہ اسی کتاب میں ملا باقی مجلسی لکھتے ہیں
"امام قائم پہلا کام یہ کریں گے کہ قبروں سے
ان دونوں یعنی ابو بکر و عمر کی لاش کو بالکل
#تازہ حالت میں باہر نکالیں گے اور دونوں کو ہوا
میں اڑا دیں گے اور مسجد نبوی کو ڈھا دیں گے"

(بحارالانوار، 338/52)

محترم قارئین!
مجلسی صاحب توہین کرتے کرتے بھی بے خبری
میں شیخین کی افضلیت کا اعتراف کرگۓ
ذرا لفظ #تازہ پر غور کریں۔۔۔۔۔
قبر میں ہزاروں سال بعد بھی لاشیں یا تو انبیاء
کرام کی تازہ رہتی ہیں یا شہداء و اولیاء کی۔
شیخین کو ہم نبی نہیں مانتے 
لیکن انہیں شہید مانو، ولی مانو یا ایک عام سا نیک
پارسا مسلمان، بہر حال افضلیت تو ثابت ہوگئ😊

محترم عاشقان صحابہ و اہلبیت!
ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ جو قوم
سنی مسلمانوں سے اتنا بغض رکھتی ہو،
سنیوں کو کافر، حرامی اور کتے سے بدتر
سمجھتی ہو کیا ان سے کسی خیر کی توقع
کی جا سکتی ہے؟؟؟؟؟
ہر گز نہیں۔ تو کیوں چند دوستیاں اور رشتے داریاں
نبھانے کیلۓ ہم اپنے عقیدے کا سودا کرلیتے ہیں؟؟؟؟اللہ کریمﷻ بدمذہبوں سے محفوظ فرماۓ
آمین 
مکمل تحریر >>

Saturday, 11 January 2020

درود شریف

بسْــــــــــــــــــمِ اﷲِالرَّحْمَنِ اارَّحِيم

إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

الصلوة والسلام عليك يارسول الله ﷻ ﷺ وعلى الك واصحابك ياحبيب الله ﷻ ﷺ

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

بسم الله الرحمن الرحيم

إنّ اللَّهَ ومَلَائِكَتهُ يُصَلُّون على النبيِّ ياأيُّها ٱلّذين آمنُوا صَلُّواْ عَلَيهِ وسلِّمُوا تَسْلِيمًا

الصلاه و السلام علیك یا سیدی یا رسول الله ﷺ 

الصلاة و السلام علیك یا سیدی یا حبیب الله ﷺ

اللهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ طَلعَةِ شَمسِ الأَسرَارِ الرَّبَّانِيَّةِ وعَلَى آلِهِ وَصَحبِهِ وَسَلِّم

اَلصَّلاَةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حبيبَ اللّٰهِ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِىَّ اللّٰهِ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خليل اللّٰهِ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا صَفِىَّ اللّٰهِ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَلِىَّ اللّٰهِ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَيْرَ خَلْقِ اللّٰه ﷺ،

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نُورَ عَرْشِ اللّٰهِ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدَ اْلاَوَّلينَ وَاْلاٰخِرينَ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا شَفيعَ الْمُذْنِبِينَ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَاتَمَ النَّبِيينَ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَحْمَةً لِلْعَالَمينَ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا اِمَامَ الْمُتَّقِينَ ﷺ
مکمل تحریر >>

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم مبارک کے ذکر پر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنا نہ صرف جائز بلکہ مستحب عمل ہے۔ یہ عمل خلیفہ رسول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سنت ہے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم مبارک کے ذکر پر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنا نہ صرف جائز بلکہ مستحب عمل ہے۔ یہ عمل خلیفہ رسول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سنت ہے۔ امام سخاوی رحمۃ اللہ علیہ ’المقاصد الحسنۃ (1 : 384، رقم : 1021)‘ میں فرماتے ہیں :

’’مؤذن سے اذان میں اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِسن کر انگشتانِ شہادت کے پورے جانبِ باطن سے چوم کر آنکھوں پر ملنا اور یہ پڑھنا چاہیے : اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُه وَرَسُوْلُه، رَضِيْتُ بِاﷲِ رَبًّا وَبِالاِسْلَامِ دِيْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا (میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اور میں اللہ کے رب ہونے پر، اِسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوں۔‘‘

دیلمی نے اس حدیث کو الفردوس بماثور الخطاب میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جب انہوں نے مؤذن کواَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ کہتے ہوئے سنا تو یہ دعا پڑھی، اور دونوں انگشتانِ شہادت کے پوروں کو چوم کر آنکھوں سے ملا۔ یہ دیکھ کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’جس نے میرے پیارے دوست کی طرح عمل کیا، اس پر میری شفاعت حلال ہوگئی۔‘‘

ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اگر یہ عمل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے تو اس پر عمل کرنا کافی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے : ’’تم پر میرے بعد میری سنت اور سنتِ خلفائے راشدین لازم ہے۔‘‘

عجلونی، کشف الخفاء، 2 : 270، رقم : 2296

ائمہ فقہاء بھی اذان میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک سن کر انگوٹھے چومنے کو مستحب قرار دیتے ہیں۔

علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ اپنے مشہور و معروف فتاویٰ رد المحتار علی الدر المختار میں فرماتے ہیں :

’’مستحب ہے کہ اذان کی پہلی شہادت سننے پر صَلَّی اﷲُ عَلَيْکَ يَارَسُوْلَ اﷲِ اور دوسری شہادت سننے پر قُرَّةُ عَيْنِی بِکَ يَارَسُوْلَ اﷲِ کہا جائے، اور پھر اپنے دونوں انگوٹھوں کے ناخن چوم کر اپنی آنکھوں پر رکھ کر کہو : اَللّٰهُمَّ مَتِّعْنِیْ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ کیونکہ بے شک حضور نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا کرنے والے کو اپنے پیچھے جنت میں لے جائیں گے۔‘‘

ابن عابدين شامی، رد المحتار، 1 : 398

علامہ طحطاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں :

’’قہستانی نے کنز العباد سے نقل کیا ہے کہ بے شک جب اذان میں پہلی بار اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ سنے تو اس کے جواب میں صَلَّی اﷲُ عَلَيْکَ يَارَسُوْلَ اﷲِ کہے اور دوسری بار سنے تو دونوں انگوٹھوں کے ناخن چومتے ہوئے یہ کہے :قُرَّهُ عَيْنِی بِکَ يَارَسُوْلَ اﷲِ، اَللّٰهُمَّ مَتِّعْنِی بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ. ایسا کرنا مستحب ہے اور بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا کرنے والے کو جنت میں اپنے ساتھ لے جائیں گے۔‘‘

طحطاوی، حاشيه علی مراقی الفلاح شرح نور الايضاح، 1 : 138

علامہ عبد الحئی لکھنوی   لکھتے ہیں :

’’جاننا چاہیے کہ اذان میں پہلی شہادت سن کر صَلَّی اﷲُ عَلَيْکَ يَارَسُوْلَ اﷲِ اور دوسری شہادت سن کر قُرَّةُ عَيْنِیْ بِکَ يَارَسُولَ اﷲِ اور پھر دونوں انگوٹھوں کے ناخن آنکھوں پر رکھ کر اَللّٰهُمَّ مَتِّعْنِیْ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ کہنا مستحب ہے۔ پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شخض کو جنت میں لے جائیں گے۔ ایسا ہی کنز العباد میں ہے۔‘‘

عبد الحی لکهنوی، مجموعه فتاوی، 1 : 189

واللہ اعلم و رسولہ اعلم ۔
مکمل تحریر >>

Tuesday, 24 December 2019

کرسمس،چند شبہات کا ازالہ*

*کرسمس،چند شبہات کا ازالہ*

کرسمس کی مبارک باد دینے کے حوالے سے کل،  ایک پوسٹ پڑھنے کا اتفاق ہوا-

جس میں لکھا تھا کہ کرسمس کی مبارک باد دینا جائز ہے، کیونکہ مذہبی تہواروں کی مبارکباد دینا آج کی دنیا کی ایک سماجی روایت بن چکی ہے-

ھندو عیسائی بھی مسلمانوں کو عید مبارک کہتے ہیں ایساکرنے سے وہ مذہب سے خارج نہیں ہوتے تو مسلمان کرسمس کی مبارکباد دیدے تو کون سی بری بات ہے؟

ہم اس حوالے سے اپنا موقف پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں:

 *کرسمس سراسر شرک پر مبنی تہوار ہے*  

 کرسمس کا مفہوم ہے (معاذاللہ!) “اللہ کے بیٹے مسیح کی پیدائش کی خوشی اور اس خوشی کی تقریبات” حالانکہ قرآن پاک کا صاف اعلان ہے کہ اللہ  تعالی کی ذات اولاد سے پاک ہے- (لم یلد ولم یولد) ثابت ہوا کہ کرسمس ایک شرکیہ عقیدے پر مبنی تہوار ہے- اب ایسے شرکیہ تہوار کا موازنہ پاکیزہ اسلامی عیدوں سے کرنا، ایک نہ سمجھ میں آنے والی بات ہے-
 نبی کریم علیہ السلام سے بڑھ کر کوئی رواداری کرنے والا اور سماجی رسوم وروایات کو سمجھنے والا نہیں ہوسکتا-
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سالہ مکی دور میں جب اسلام ،موجودہ دور سے بھی زیادہ کسمپرسی اور کمزوری کی حالت میں تھاکبھی ملکی و قومی اتحاد کی خاطر شرکیہ تہواروں میں شرکت نہیں کی،
مشرکوں نے پیش کش کی کہ ایک دن ہم آپ کے معبود کی عبادت کرلیاکریں گے، بدلے میں ایک دن آپ ہمارے بت خانے میں آکر بتوں کی عبادت کرلیا کریں! لیکن اس نازک اور صبر آزما دور میں بھی عقیدے کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا، بلکہ (لکم دینکم ولی دین) کا اعلان فرمایاگیااور قرآن نےواضح کردیا کہ (لئن اشرکت لیحبطن عملک) معلوم ہوا کہ شرک اور مظاہر شرک کی تائید و ترویج ایک ایسا عمل ہے جو کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہوسکتا،

حالانکہ اسلام ضرورت اور مجبوری کے احوال میں تخفیف کا قائل ہے لیکن شرک اور مظاہرشرک کے حوالے سے ذرہ برابر لچک نہیں دیتا- تاکہ شرک بالکل ہی نابود ہوجاۓ!

 پھر شرکیہ تہواروں کی مبارک باد دینا چاروں فقہی مسالک میں حرام ہے

اور جب کسی مسئلہ پر ائمہ اربعہ کا اجماع ہوتو اس کے مقابلے میں چوں چراں کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی-
مکمل تحریر >>

Tuesday, 5 November 2019

ناف پر دلچسپ معلومات : صدقہ جاریہ سمجھ کر شیئیر کریں

#ناف پر دلچسپ معلومات  : صدقہ جاریہ سمجھ کر شیئیر کریں 

ناف اللہ سبحان و تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص تحفہ ھے ۔  62 سال کی عمر کے ایک بوڑھے آدمی کو  لیفٹ آنکھ سے صحیح نظر نہیں آ رہا تھا - خاص طور پر رات کو تو اور نظر خراب ھو جاتی تھی ۔ 
ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ آپ کی آنکھیں تو ٹھیک ہیں - 
بس ایک پرابلم ھے - کہ جن رگوں سے آنکھوں کو خون فراہم ھوتا ھے - وہ سوکھ گئی ہیں ۔
سائنس کے مطابق سب سے پہلے اللہ کی تخلیق انسان میں ناف بنتی ھے - جو پھر ایک کارڈ کے ذریعے ماں سے جڑ جاتی ھے ۔ اور اس ہی خاص تحفے سے جو باظاہر ایک چھوٹی سی چیز ھے - ایک پورا انسان فارم ھو جاتا ھے ۔ سبحان اللہ 

#ناف کا سوراخ ایک حیران کن چیز ھے : - ☆ 

سائنس کے مطابق ایک انسان کے مرنے کے تین گھنٹے بعد تک ناف کا یہ حصہ گرم رہتا ھے - وجہ اس کی یہ بتائی جاتی ھے - کہ یہاں سے بچے کو ماں کے ذریعے خوراک ملتی ھے ۔ بچہ پوری طرح سے 270 دن میں فارم ھو جاتا ھے - یعنی 9 مہینے میں ۔
یہ وجہ ھے - کہ ہماری تمام رگیں اس مقام سے جڑی ھوتی ہیں ۔ اس کی اپنی ایک خود کی زندگی ھوتی ھے ۔
پیچوٹی ناف کے اس سوراخ کے پیچھے موجود ھوتی ھے -  جہاں تقریبا 72،000 رگیں موجود ھوتی ہیں ۔ ہمارے جسم وجود رگیں - اگر پھیلائی جائیں تو زمین کے گرد دو بار گھمائی جا سکتی ہیں ۔

#علاج : - ☆

آنکھ اگر سوکھ جائے - صحیح نظر نا آتا ھو - 
پتہ صحیح کام نا کر رہا ھو - پاؤں یا ھونٹ پھٹ جاتے ھوں -  چہرے کو چمک دار بنانے کے لیے - بال چمکانے کے لیے - گھٹنوں کے درد - سستی - جوڑوں میں درد، سکن کا سوکھ جانا -

#طریقہ علاج : - ☆ 

آنکھوں کے سوکھ جانا - صحیح نظر نہیں آنا - گلونگ کھال اور بال کے لیے روز رات کو سونے سے پہلے تین قطرے خالص دیسی گھی کے یا ناریل کے تیل کے ناف کے سوراخ میں ٹپکائیں اور تقریبا ڈیرھ انچ سوراخ کے ارد گرد لگائیں ۔

گھٹنوں کی تکلیف دور کرنے کے لیے تین قطرے ارنڈی کے تیل کے تین قطرے سوراخ میں ٹپکائیں اور  ارد گرد لگائیں جیسے اوپر بتایا ھے ۔

کپکپی اور سستی دور کرنے کے لیے اور جوڑوں کے درد میں افاقہ کے لیے اور سکن کے سوکھ جانے کو دور کرنے کے لیے سرسوں کے تیل کے تین قطرے اوپر بتائے گئے طریقے کے مطابق استعمال کریں -

#ناف کے سوراخ میں تیل کیوں ڈالا جائے - ☆

ناف کے سوراخ میں اللہ نے یہ خاصیت رکھی ھے - 
کہ جو رگیں جسم میں اگر کہیں سوکھ گئی ہیں - 
تو ناف کے ذریعے ان تک تیل پہنچایا جا سکتا ھے ۔ 
جس سے وہ دوبارہ کھل جاتی ہیں -

بچے کے پیٹ میں اگر درد ھو تو ہینگ پانی اور تیل میں مکس کر کے ناف کے ارد گرد لگائیں چند ہی منٹوں میں ان شاءاللہ اللہ کے کرم سے آرام آ جائے گا ۔ 

#تناو کی کمی کے لئے ناف میں : - ☆

 آب پیاز بیس گرام - 
روغن ذیتون آدھ پاو - 
میں جلا کے لگانے سے یہ مسلہ حل ھو جاتا ھے - 
ناف کے اندر اور باہر مالش کرنے سے - 

#برائے کان کے لئے  : - ☆ 

کانوں میں سائیں سائیں کی آواز آتی ھو - 
تو سرسوں کے تیل پچاس گرام میں تخم ہرمل دو عدد پیس کر ناف میں پندرہ دن لگانے سے سائیں سائیں کی آواز آنا ختم ھو جاتی ھے ۔ 

#قوت سماعت کے لئے : - ☆ 

قوت سماعت کی کمی دور کرنے کے لئے - 
سرسوں کے پچاس گرام تیل میں دار چینی پیسیں - 
بیس گرام جلا کے وہ تیل ناف میں لگانے سے قوت سماعت میں بہتری آتی ھے ۔

#پیٹ کا پھولنا : - ☆

پچاس گرام سرسوں کے تیل میں بیس گرام کلونجی کا تیل ملا کے ہلکا گرم کر کے ٹھنڈا کر کے لگانے سے دو ماہ میں پیٹ کنٹرول ھو جاتا ھے  ☆

بڑا قبض کشا نسخہ ھے - 
اگر نہانے کے بعد روغن زیتون ناف میں لگا دیں - 
 تو الرجی اور زکام نہیں ھوتا -

(ذرا غور کیجیے جو علم آپ تک پہنچا وہ امانت ھے ان لوگوں کی جو لاعلم ہیں لہذا یہ امانت اس کے حقدار تک پہنچانے کے لٸے سبھی اپنا اپنا فرض ادا کریں۔۔۔۔
مکمل تحریر >>

Friday, 4 October 2019

*آئینہ دیوبند ، دیوبندی مذھب کا انسائیکلو پیڈیا*

*آئینہ دیوبند ، دیوبندی مذھب کا انسائیکلو پیڈیا*

چونکہ *تبلیغی جماعت*  بھی دیوبند کی ہی ھے بانی تبلیغی جماعت *مولوی الیاس دیوبندی رشید گنگوہی کا مرید خلیل انبیٹھوی کا طالب اور اشرفعلی تھانوی کا معتقد خاص اور تھانوی مذکور کی تعلیمات کا پرچارک تھا*
لہذا مندرجہ ذیل عقائد دیوبندی تبلیغی جماعت کے بھی ہونا یقینی ہیں *ان کو اہلسنت کی مساجد میں داخل نہ ہونے دیا جائے* ان کے عقائد ملاحظہ کریں

*دیوبندی مذھب کے باطل عقائد و نظریات انہیں کی کتابوں سے*👇

*نہ تم صدمے ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے*
*نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں*

*حکیم الامت دیوبند اشرفعلی تھانوی اپنی کتاب حفظ الایمان میں لکھتا ہے کہ :*
پھر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ۔اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی کیا تخصیص ہے ۔ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی (بچہ ) مجنون یعنی پاگل بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ۔
نعوذبااللہ

*( حفظ الایمان صفحہ 8 کتب خانہ اشرفیہ راشد کمپنی دیوبند مصنف :اشرف علی تھانوی )*

*مطلب یہ کہ* سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کو *پاگل ،جانوروں اور بچوں* سے ملایا ۔

*بانی دیوبند قاسم نانوتوی اپنی کتاب تحذیر الناس میں لکھتا ہے کہ :*
اگر بالغرض زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمد ی صلی اللہ علیہ وسلم میں کچھ فرق نہیں آئیگا ۔
معاذاللہ

*( تحذیر النّاس ،صفحہ نمبر 34 دارالاشاعت مقابل مولوی مسافر خانہ کراچی ، مصنف : قاسم نانوتوی )*

*مطلب یہ کہ* قاسم نانوتوی نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو *خاتم النبین* ماننے سے *انکار* کیا ۔

*مولوی خلیل احمد انبیٹھوی دیوبندی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ :*
شیطان و ملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض قیاسِ فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کونسا ایمان کاحصّہ ہے شیطان و ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی ۔
فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے ۔
نعوذبااللہ

*(براہین قاطعہ صفحہ نمبر 51 مطبوعہ بلال ڈھور ،مصنف :مولوی خلیل احمد ابنیٹھوی مصدّقہ ،مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی )*

*مطلب یہ کہ* سرکار اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک سے *شیطان و ملک الموت* کے *علم کو زیادہ بتایا* گیا مولوی خلیل احمد کی اس کتاب کی *دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی نے تصدیق بھی کی ۔*

*شاہ اسمعیل دہلوی دیوبندی ، وہابی :* نے نماز میں سرکار اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال مبارک کے آنے کو جانوروں کے خیالات میں ڈوبنے سے بدتر کہا ۔
معاذاللہ

*( صراطِ مستقیم صفحہ 169،اسلامی اکادمی اردو بازار لاھو رمصنف :مولوی اسمعیل دہلوی )*

*حکیم الامت دیوبند اشرفعلی تھانوی کے ایک مرید* نے اپنے پیراشرف علی تھانوی کو اپنے خواب اور بیداری کا واقعہ لکھا کہ وہ خواب میں کلمہ شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ِ *نامی اسمِ گرامی کی جگہ اپنے پیر اشرفعلی تھانوی کا نام لیتا ہے یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جگہ لا الہ الا اللہ اشرف علی رسول اللہ (معاذ اللہ )* پڑھتا ہے اور اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی اپنے پیر سے معلوم کرتا ھے تو جواب میں *اشرفعلی تھانوی دیوبندی توبہ و استغفار کا حکم دینے کے بجائے کہتا ہے ۔* ”اس واقعہ میں تسّلی تھی کہ جسکی طرف تم رجوع کرتے ہو وہ یعونہ تعالیٰ متبع سنّت ہے ۔
معاذاللہ

*( الا مداد صفحہ 35 مطبع امداد المطا بع تھا نہ بھون انڈیا ،مصنف : اشرف علی تھانوی )*

*مطلب یہ کہ* کلمہ کفر کو اشرف علی تھانوی صاحب نے عین اتباع سنت کہا ۔
نعوذبااللہ

*مولوی حسین علی دیوبندی نے اپنی کتاب بلغۃ الحیران میں لکھا ہے کہ*
حضور صلی اللہ علیہ وسلم پل صراط سے گر رہے تھے میں نے انہیں بچایا ۔
(معاذاللہ )

*( بلغۃ الحیران صفحہ نمبر 7 )*

*دیوبندی مولوی خلیل احمد انبیٹھوی لکھتا ہے کہ*
رسول کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں ۔
نعوذبااللہ

*(براہین قاطعہ ص55، مصنف :خلیل احمد انبیٹھوی)*

*دیوبندی وہابی مولوی اسمعیل دہلوی لکھتا ہے کہ*
جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا علی رضی اللہ عنہ ہے وہ کسی چیز کا مالک ومختار نہیں ۔
نعوذبااللہ

*( تقویۃ الایمان مع تذکیر الاخوان صفحہ 43 مطبوعہ :میر محمد کتب خانہ مرکز علم و ادب آرام باغ کراچی مصنف :مولوی اسمعیل دہلوی)*

*حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم بڑے بھائی کے برابر کرنا چاہئے ۔*(معاذ اللہ )

*( تقویۃ الایمان ص88: مصنف :مولوی اسمعیل دہلوی )*

*ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہیں۔* (معاذاللہ )

*( تقویۃالایمان ص 13 مصنف :مولوی اسمعیل دہلوی )*

اسی مولوی اسمعیل دہلوی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء باندھا کہ *گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی ایک دن مرکر مٹی میں ملنے والا ہوں ۔*
معاذاللہ
*(تقویۃ الایمان ص 53 )*

*مولوی خلیل احمد انبیٹھوی دیوبندی نے اپنی کتاب براہین قاطعہ کے صفحہ نمبر 52 پر لکھا ہے کہ*
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یومِ ولادت منانا کنھّیا کے جنم دن منانے کی طرح ہے ۔
(معاذ اللہ )

*مولوی خلیل دیوبندی اپنی کتاب براہین قاطعہ کے صفحہ نمبر 30 پر لکھتا ہے کہ*
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اردو زبان علماء دیوبند سے سیکھی ۔ (معاذاللہ )

*حکیم الامت دیوبند اشرفعلی تھانوی اور مولوی فضل الرحمٰن کی زبانی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے خواب میں حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ انہوں نے ہم کو اپنے سینے سے چمٹایا ۔*
(معاذاللہ )

*( الاضافات الیومیہ صفحہ 62/37 مصنف :مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی )*

*بانی دیوبند نانوتوی لکھتا ہے :*
انبیاءکرام اپنی امت میں ممتاز ہوتے ہیں تو علوم ہی میں ممتاز ہوتے ہیں باقی رہا عمل اس میں بسا اوقات بظاہر امتّی مساوی ہوجاتے بلکہ بڑھ جاتے ہیں ۔
نعوذبااللہ

*( تحذیر النّاس ص5، مصنف :مولوی قاسم نانوتوی دیوبندی )*

*مطلب یہ کہ* عمل اگر اُمتّی زیادہ کرلے تو نبی سے بڑھ جاتا ہے ۔(معاذاللہ )

*قطب العالم دیوبند رشید گنگوہی لکھتا ہے :*
لفظ رحمۃ للعالمین صفت خاصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ہے اگر (کسی ) دوسرے پر اس لفظ کو تباویل بول دیوے تو جائز ہے ۔
نعوذبااللہ

*( فتاوٰی رشید یہ جلد دوم ص 9 ،مولوی رشید گنگوہی دیوبندی )*

*محرم میں ذکر شہادت حسین کرنا اگرچہ بروایات صحیح ہو یا سبیل لگانا ،شربت پلانا چندہ سبیل اور شربت میں دینا یا دودھ پلانا سب ناجائز اور حرام ہے ۔*
نعوذبااللہ

*( فتاوٰی رشیدیہ ص 435 مصنف :رشید احمد گنگوہی دیوبندی )*
عقیدہ :قبلہ و کعبہ کسی کو لکھنا جائز نہیں ہے ۔
*(فتاوٰی رشیدیہ ص265،)*

*عیدین میں ( عیدالفطر و عید الاضحی ) کو معائقہ کرنا ( گلے ملنا )بد عت ہے ۔* معاذاللہ
(فتاوٰی رشیدیہ ص243)

( وہابی دیوبندی شیعہ نواز ہیں )

*حکیم الامتِ دیوبند اشرفعلی تھانوی دیوبندی اپنی فتاوٰی کی کتاب امداد الافتاوٰی جلد دوم صفحہ 29/28میں لکھتا ہے کہ*
شیعہ سنّی کا نکاح ہو سکتا ہے لہٰذا سب اولاد ثابت النسب ہے اور محبت حلال ہے ۔
*عقیدہ :* مولوی اشرفعلی تھانوی اپنی فتاوٰی کی کتاب امدا د الفتاوٰی کا اختلاف ہے راجح اور صحیح یہ ہے کہ حلال ہے ۔
*مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی کتاب الاضافات الیومیہ جلد 4 ص139 پر لکھتا ہے کہ*
شیعوں اور ہندوؤں کی لڑائی اسلام اور کفر کی لڑائی ہے شیعہ صاحبان کی شکست اسلام اور مسلمانوں کی شکست ہے اسلئے اہلِ تعزیہ کی نصرت (مدد) کرنی چاہئے ۔

*آپ نے مولوی اسمعیل دہلوی کی گستاخانہ کتاب تقویۃ الایمان کی عبارتیں ملاحظہ کیں اس کتاب کے متعلق دیوبندی اکابر ین کیا لکھتے ہیں ملاحظہ کریں ۔*👇

*مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی اکابر اپنی فتاوٰی کی کتاب فتاوٰی رشید یہ میں تقویۃ الایمان کے بارے میں لکھتا ہے :*
کتاب تقویۃ الایمان نہایت ہی عمدہ کتاب ہے اسکا رکھنا اور پڑھنا اور عمل کرنا عین اسلام ہے ۔
*(فتاویٰ رشیدیہ ص351)*

جو تقویۃالایمان کو کفر اور مولوی اسمعیل کو کافر کہے وہ خود کافر اور شیطان ملعون ہے ۔ *(فتاوٰی رشید یہ ص252،356)*

مولوی اسمعیل دہلوی قطعی جنتّی ہیں ۔
*(فتاوٰی رشیدیہ ص252)*

*نذر و نیاز حرام ہے ، پیر یا استاد کی برسی کرنا خلافِ سنّت و بدعت ہے ۔*
نعوذبااللہ

*(فتاوٰی رشیدیہ ص461)*

*بروز ختم قرآن شریف مسجد میں روشنی کرنا بد عت و ناجائز ہے ۔*
نعوذبااللہ

*(فتاوٰی رشیدیہ ص 460)*

*مولوی اسماعیل دہلوی لکھتا ہے :*
اللہ کے مکر سے ڈرنا چاہئیے
نعوذبااللہ

*(تقویۃ الایمان ص55)*

*اللہ تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے اور ہر انسان نقص و عیب اس کے لئے ممکن ہے ۔*
نعوذبااللہ استغفراللہ

*( رسالہ یک روزہ)*

*حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کہ یمین اورحضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد دیوبندیوں کے نزدیک مشرک ہیں ۔*
نعوذبااللہ
*(فتاویٰ رشیدیہ)*

*دیوبندیوں کے نزدیک یزید ( امیر المومنین جنّتی اور بے قصور ) ہے ۔*
معاذاللہ
*( رشید ابن رشید ، حیات سیّدنا یزید )*

*اصل اختلاف کیا ہے ؟ :*

اہلسنّت وجماعت اور وہابی دیوبندیوں کا اصل اختلاف یہ نہیں ہے کہ *اہلسنّت کھڑے ہوکر درود و سلام پڑھتے ،نذر و نیاز کرتے ہیں ،وسیلے کے قائل ہیں ،مزارات پر حاضری دیتے ہیں اور دیوبندی اس تمام کارِخیر سے محروم ہیں*
👈بلکہ اصل اختلاف جس نے  اُمت مسلمہ کو دو دھڑوں میں بانٹ دیا *وہ اکابر وہابیہ دیوبندیہ یعنی وہابی دیوبندیوں کا پیشواؤں کی وہ کفریہ عبارات ہیں جو ہم نے اوپر تحریر کیں جن میں کھلم کھلا سرکارِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کرکے اسلام کی دجیاں بکھیری گئی ہیں ۔*
👈 دیوبندی ادارے آج بھی ان کفریہ عبارات کو *کتابوں* میں شائع کرتے ہیں اس کی تردید بھی نہیں کرتے ،اس کے خلاف بھی کچھ نہیں کہتے ۔
*ان میں دارالعلوم دیوبند ،تبلیغی جماعت ،جمعیت علماءاسلام ، جماعتِ اسلامی ، سپاہ صحابہ ، جمعیت علماءہند ، تنظیم اسلامی ،جیشِ محمد ، حزب المجاہدین جماعۃ الدعوہ وغیرہ تمام وہابی دیوبندی تنظیمیں ان باطل عقائد پر مشتمل ہیں* جو اپنے آپ کو آج کل سنی مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی دیوبندی مکتبہ فکر کا لیبل لگا کر پیش کرتے ہیں *یہ ان کے علماءکفریہ عبارات سے توبہ کرتے ہیں نہ یہ کہتے ہیں کہ ان عبارات کو لکھنے والے ہمارے اکابرین نہیں ہیں بلکہ ان سب کو اپنا امام مجدّد اور حکیم الامت کہتے ہیں اور مانتے بھی ہیں ۔*

*اس اختلاف کا حل یہ ہے :*

اگر آج بھی دیوبندی اپنے ان بڑوں کی کفریہ عبارات سے توبہ کرکے ان تمام کفر آمیز کتب سے بیزاری کا اظہار کرکے انہیں دریا برد کر دیں تو اہلسنّت کا اعلان ہے کہ وہ ہمارے بھائی ہیں ۔

*دیوبندی شاطروں کی چال :*

علماء وہابیہ دیوبندیہ یا عوامِ وہابی دیوبند کبھی بھی اپنے ان عقائد کو آپ پر ظاہر نہیں کریں گے بلکہ ان عبارات کا زبان سے انکار بھی کریں گے تاکہ بھولی بھالی عوام کو دھوکہ دے سکیں *یاد رکھئے زہر کھلانے والا کبھی بھی سامنے زہر نہیں دیگا اور نہ بتائے گا کہ اس میں زہر ھے ورنہ کوئی اسے نہیں کھائے گا* اس کی چال یہ ہوتی ہے کہ مٹھائی کے اندر ڈال کر دیگا اور کہے گا کہ کھاؤ یہ مٹھائی ہے اس مٹھائی کو دیکھ کر قوم اسے کھائے گی ۔
*آج دیوبندی وہابی یہ چال چل کر لاکھوں لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں نماز نماز کہہ کر لوگوں کو لے کر جاتے ہیں اس طرح انہوں نے لاکھوں لوگوں کو بدمذہب بدعقیدہ کر دیا ،لاکھوں نوجوانوں کو مفتی بنا دیا کہ وہ مسلمان پر بدعتی اور مشرک کے فتوے لگائیں*
👈 یہی وجہ ہے کہ آج گھر میں یہ ماڑ دھاڑ ہے اولاد والدین پر بدعتی اور مشرک کے فتوے لگاتی ہے

*خدارا !🙏*
اپنی نوجوان نسل کا خیال رکھو ان کی تربیت کرو،انہیں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مائل کرو یہی فلاح و کامرانی کا راستہ ہے ۔

*📌 وہابی دیوبندی منافق فرقوں کی مفہومِ قرآن بدلنے کی واردات قرآن مجید کے ترجموں میں خیانتیں و کفریہ عبارات، خود بدلتے نہیں قرآن بدل دیتے ہیں*

*(1)* القرآن :ولما یعلم اللّٰہ الذین جاھد وا منکم۔
*(سورہ اٰل عمران آیت نمبر142،پارہ 4)*
*ترجمہ :*
حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔
*( فتح محمد جالندھری دیوبندی )*

*ترجمہ :*
حالانکہ ہنوز اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کو تو دیکھا ہی نہیں جنہوں نے تم سے جہاد کیا ہو۔
*(اشرفعلی تھانوی دیوبندی)*

👈 ان دونوں دیوبندی مولویوں نے اللہ کو (معاذ اللہ ) بےخبر لکھا ہے جو کہ کفر ہے ۔

*ترجمہ قرآن کنزالایمان*

امام اہلسنّت امام احمد رضا خان صاحب محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا ترجمہ اپنے ترجمہ قرآن کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں
*ترجمہ :*
اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا ۔
( امام اہلسنّت امام احمد رضا خان حنفی بریلوی قادری رحمۃ اللہ علیہ )

*(2)* القرآن :ویمکرون ویمکر اللّٰہ واللّٰہ خیر المٰکرین ۔
*(سورہ انفال ،پارہ نمبر 9)*
*ترجمہ :*
وہ بھی داؤ کرتے تھے اور اللہ بھی داؤ کرتا تھا اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے ۔
*(محمود الحسن دیوبندی )*

*ترجمہ :*
اور وہ بھی فریب کرتے تھے اور اللہ بھی فریب کرتا تھا اوراللہ کا فریب سب سے بہتر ہے ۔
*(شاہ عبدالقادر)*
👈 ان دونوں وہابی دیوبندی مولویوں نے *اللہ تعالیٰ کو مکرو فریب کرنے والا لکھ اہے* کیا اللہ تعالیٰ کے لئے ایسے الفاظ کا استعمال کفر نہیں ہے ؟

*ترجمہ قرآن کنزالایمان*

امام اہلسنّت امام احمد رضا خانصاحب محدث بریلی علیہ الرحمہ اس آیت کا ترجمہ کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔
*ترجمہ :*
اور وہ اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرما تا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر ۔
*(کنز الایمان)*

*(3)* القرآن :ووجدک ضالا فھدی ۔
(سورہ والضحیٰ آیت نمبر 7)
*ترجمہ :*
اور آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بےخبر پایا سو رستہ بتایا ۔
*(عبدالماجد دریا بادی دیوبندی )*

*ترجمہ :*
اور اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو *شریعت* سے بےخبر پایا سو آپ کو *شریعت* کا رستہ بتلا دیا ۔
*(اشرفعلی تھانوی دیوبندی )*

👈 ان دونوں وہابی دیوبندی مولویوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بےخبر اور بھٹکا ہوا لکھا ہے اگر نبی بھولا بھٹکا اور بےخبر ہوگا تو پھر وہ اُمت کو کیا راستہ دکھائے گا نبی تو پیدائشی نبی اور ہدایت یافتہ ہوتا ہے ۔

*ترجمہ قرآن کنزالایمان*

امامِ اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا ن صاحب محدث بریلوی علیہ الرحمہ اس کا ترجمہ کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔
*ترجمہ :*
اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی ۔

*(4)* القرآن : ان المنا فقین یخادعون اللّٰہ وھو خاد عھم ۔
*( سور ہ نساءآیت 142،پارہ 5 )*
*ترجمہ :*
منافقین دغابازی کرتے ہیں اللہ سے اور اللہ بھی ان کو دغا دیگا ۔
*(محمود الحسن دیوبندی ، شاہ عبدالقادر )*

👈 ان دونوں وہابی دیوبندیوں نے اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے والا لکھا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات عیب سے پاک *اس طرح کی چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا کفر ہے ۔*

*ترجمہ قرآن کنزالایمان*

امام اہلسنّت امام احمد رضا خان صاحب محّدث بریلوی علیہ الرحمہ اس آیت کا ترجمہ کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔
*ترجمہ:*
بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں اور وہی ان کو غافل کرکے ماریگا ۔
*(کنز الایمان ترجمہ قرآن)*

*📌 فیصلہ کیجئے :*

*آپ حضرات نے وہابیوں دیوبندیوں مولویوں کے قرآنی تراجم کی جھلک ملاحظہ فرمائی آپ حضرات فیصلہ کریں کہ*
ان لوگوں نے قرآن مجید کے تراجم میں خیانت نہیں کی کیا ایسے لوگ اسلام کے چہرے کو مسخ نہیں کر رہے ؟
کیا ان لوگوں کے پیچھے نماز جائز ہو سکتی ہے ؟
کیا ان لوگوں کے تراجم ہمیں پڑھنے چاہئیے ؟
کیا ہم ان لوگوں سے کوئی اصلاحی کوششوں کی امید رکھیں ؟
*نہیں ہرگز نہیں ان باطل عقائد رکھنے والوں کا اسلام سے دور تک کابھی کوئی واسطہ نہیں ۔​*
👈🏿 مضمون دیئے گئے حوالہ جات کی اصل کتب ہمارے پاس موجود ہیں جب چاہیں جہاں چاہیں ہم دیکھا سکتے ہیں اور تراجم قرآن بھی ہمارے پاس موجود ہیں ۔ *کوئی بھی منکر انہیں غلط ثابت کر کے دیکھائے ۔*

(طالبِ دعا و دعاگو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مکمل تحریر >>