Pages

Thursday, 27 September 2018

پیر کامل

پیر کامل

جناب احمد رضا خاں صاحب نے فرمایا کہ’’ بیعت کے لیے لازم ہے کہ پیر چار شرطوں کاجامع ہو ۔
1۔سنی صحیح العقیدہ ہو 2۔ فقہ کا اتنا علم کہ اپنی حاجت کے سب مسائل جانتا ہواور حاجت جدید پیش آئے تو اس کا حکم کتاب سے نکال سکے۔بغیراس کے اور فنون کا کتنا بڑاعالم ہو عالم نہیں 3۔ اس کا سلسلہ حضور کریمﷺ تک صحیح و متصل ہو 4۔غیر فاسق معلن یعنی اعلانیہ کسی کبیرہ گناہ کا مرتکب یا کسی صغیرہ گناہ پرمُصر نہ ہو‘‘(فتاوی رضویہ جلد نمبر26صفحہ575) اسلئے نسبت، عقائد، علم اور پرہیزگاری لازم ہوئی۔

سوال

1۔ کیا مرید کو اتنا اختیار ہے کہ اپنے پیر کا خلافت نامہ دیکھ سکے؟
2۔ کیا تمام قادری، رضوی، سیفی، جلالی’’ مُریدین ‘‘ اپنے پیر و مُرشد کے ’’عقائد‘‘ پوچھ کر مُرید ہوتے ہیں یادُعا، دَم درود، تعویذ دھاگے، کرامت، کشف ، خوابوں کا ’’پرچار‘‘ سُن کر مرید ہوتے ہیں؟
اہلسنت بریلوی پیران عظام سے شرط نمبر2کے مطابق چند سوالوں کا کھلم کھلا میڈیا پر’’ جواب‘‘ چاہئے کیونکہ یہ’’اتحاد اُمت‘‘ کے لئے ضروری ہے۔ کیا یہ دُرست نہیں ہے کہ:

خارجی (سعودی مذہبی امور)

نبی کریمﷺ، صحابہ کرام، تابعین، عباسی دور اور اُس کے بعد( 1354سے 1930 )575 سالہ عثمانی ترک ( مکہ مدینہ پاک )کے دور حکومت میں اہلسنت کے ’’ عقائد‘‘ایک ہیں۔1930میں آل سعود نے ابن وہاب نجدی کے ساتھ مل کر اہلسنت کو’’ بدعتی و مشرک‘‘ کہہ کر مُلک حجاز پر قبضہ کر لیااور اہلسنت نے ان کو ’’خارجی‘‘ قرار دے دیا۔دیوبندی اکابر(جناب اشرف علی تھانوی، جناب محمود الحسن، خلیل احمد سہارنپوری) نے کتاب’’ المہندعلی المفند‘‘ صفحہ 36-38 اور جناب فاضل بریلوی نے فتاوی رضویہ جلد27صفحہ 586پر میں جناب محمد بن عبدالوہاب کے ماننے والوں کو ’’خارجی‘‘ قرار دیاتھا۔

کُفریہ عبارتیں

جناب احمد رضا خاں صاحب 1905 میں مکہ مدینہ پاک کے36 علماء کرام کے سامنے دیوبندی اکابر (جناب اشرف علی تھانوی، جناب رشید احمد گنگوہی، جناب خلیل احمد انبیٹھوی، جناب قاسم نانوتوی صاحبان) کی چار کُفریہ عبارتیں رکھیں اور ان مفتیان عظام نے ان عبارتوں کی وجہ سے نام بنام دیوبندی علماء پر کُفر کا فتوی لگایا، جس کی وجہ سے’’ اہلسنت‘‘ نے ان چاروں دیوبندی علماء کو کافر قرار دیا۔ یہ فتوی ’’حسام الحرمین‘‘ میں لگے ہوئے ہیں۔ البتہ حسام الحرمین کے مقدمہ میں بھی جناب عبدالحکیم شرف قادری صاحب نے یہ لکھا ہے کہ ہمارا اختلاف دیوبندی حضرات سے چار کُفریہ عبارتوں پر ہے اور کچھ نہیں ہے(حوالہ نیچے موجود ہے)۔

توبہ یا سزا

ہماری 99% مذہبی (بریلوی اور دیوبندی) عوام کو ان کُفریہ عبارتوں کے اصولی اختلاف کا علم نہیں ہے ، بلکہ تمام مسلمان پریشان ہیں کہ اصل اختلاف کیا ہے ، اس پر یہ سوال ہیں کہ:

(1) جس دیوبندی مسلمان کو چار عبارتوں کا علم ہی نہیں ہے تو بریلوی اُس کو کافر کیسے کہہ سکتے ہیں؟
(2) جس بریلوی عوام کو چار کفریہ عبارتوں کا علم ہی نہیں تو کیا دیوبندی کو کافر کہنے سے خود کافر نہیں ہوتی؟
(3) جن علماء، خطیب، پیران عظام نے اپنی اپنی ’’عوام‘‘ کو چار کفریہ عبارتوں کا علم نہیں دیا تو کیا وہ بھی توہین رسالت کی عبارتوں کو چُھپانے کے مُجرم نہیں؟ اس پر ان پر کوئی سزا ہے یا نہیں؟

توہین رسالت کیس

اگر کوئی میلاد نہیں مناتا، مزاروں پر نہیں جاتا، اذان سے پہلے درود نہیں پڑھتا، قُل چہلم نہیں کرتا تو کوئی گناہ گار نہیں بلکہ غیر شرعی انداز کی وجہ سے کئی بریلوی اوردیوبندی حضرات یہ اعمال نہیں کرتے تو کوئی گناہ نہیں ، البتہ اگر کوئی دیوبندی عالم ’’اہلسنت‘‘ کے عقائد چھوڑ کر سعودیہ والے خارجی عقائد کی پیروی کر رہے ہیں اور توسل استمداد، استغاثہ، میلاد جائز کو بدعت ضلالہ اور شرک کہہ رہے ہیں تو وہ بھی اہلسنت نہیں بلکہ دیوبندی اکابر کی کتاب المہند کی وجہ سے وہ بھی خارجی ہیں۔

حل

اسلئے کفریہ عبارتوں پرموجودہ دور کے دیوبندی علماء جناب الیاس گھمن صاحب، مفتی نجیب اللہ عمر، مولوی ساجد خاں نقشبندی جو کہتے ہیں کہ یہ عبارتیں کفریہ نہیں ہیں ان کو توبہ کرنی چاہئے یاثبوت پیش کر دیں کہ 36مفتیان عظام نے کُفر کے فتوی واپس لے لئے تھے ۔ اگر دیوبندی عوام خارجیوں کے ساتھ مل کر 575 سالہ عثمانی ترکوں کی وجہ سے اہلسنت کو بدعتی و مشرک کہہ رہے ہیں تو پھر وہ بھی توبہ کریں کیونکہ عقائد اہلسنت میں کوئی بدعت و شرک نہیں تھا۔

حوالہ حسام الحرمین

محترم ومکرم محمدعبد الحکیم شرف قادری صدر مدرس جامعہ نظامیہ لاہور کتاب ’’ حسام الحرمین مع تمہیدایمان‘‘ کے پیرایہ آغازمیں ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’بریلوی ( اہلسنت و جماعت) اور دیوبندی اختلافات کی نوعیت بھی ایسی ہی ہے یہ دوسری بات ہے کہ عوام کو مغالطہ دینے کیلئے ایصال ثواب(قل، چہلم، دسواں) عرس، گیارھویں شریف،نذر ونیاز، میلاد شریف، استمداد، علم غیب، حاضر وناظر اورنوروبشر وغیرہ مسائل پر دھواں دار تقریریں کر کے یہ یقین دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اختلاف انہی مسائل میں ہے، حالانکہ اصل اختلاف ان مسائل میں نہیں ہے، بلکہ بنائے اختلاف وہ عبارات ہیں جن میں بارگاہ رسالت علی صاحبہ الصلٰوۃ و السلام میں کھلم کھلا گستاخی اور توہین کی گئی ہے:

کُفریہ عبارتیں

1۔ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی الله علیہ والہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ھو جائے تو پھربھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گاچہ جائیکہ آپ کےمعاصر کسی اور زمین میں یا فرض کیجیے اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے (محمد قاسم نانوتوی،کتاب تحذیر الناس)اس عبارت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت  پر حرف آتا تھا اور اس عبارت کو قادیانی بھی اپنی کتابوں میں بیان کرتے ہیی

2- مولوی رشیداحمدگنگوہی کی تالیف "براہین قاطعہ"مولوی خلیل احمد انبیٹھوی کے نام سے شائع ہوئی جس پرمولوی رشید احمد گنگوہی کی زوردار تقریظ موجود ہے اسمیں لکھا ہواہے کہ "شیطان وملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخرعالم کو خلاف نصوص قطیعہ کے بلادلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کون سا ایمان کا حصہ ہے، شیطان و ملک المو ت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی،فخرِعالم کی وسعت علم کی کون سی نص قطعی ہے-(براہین قاطعہ )اس عبارت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو شیطان اور ملک الموت کے علم سے کم کیا گیا ہے اور غلط الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے

3۔ مولوی اشرف علی تھانوی نے رسالہ حفظ الایمان میں لکھا:آپ کی ذاتِ مقدسہ پر علمِ غیب کا حکم کیا جانا اگربقول زید صحیح ہو تودریافت طلب یہ امرہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ،اگر بعض علوم غیب مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید، عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کےلیے بھی حاصل ہے
اس عبارت میى نعو ذ بالله نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت علم کو جانوروں کے علم سے ملایا گیا

4۔ یہ بھی لکھا تھا کہ "الله تعالی سے کذب مکمن ہے"- جو الله سبحانہ تعالی کو بالفعل جھوٹا مانے اور تصریح کرے کہ (معاذالله تعالی) الله تعالی نے جھوٹ بولا اور یہ بڑا عیب اس سے صادر ہو چکاتواسے کفر بالائے طاق گمراہی در کنار فاسق بھی نہ کہو(مولوی گنگوہی صاحب کا دستخطی مہری فتوی)

مکمل تحریر >>

مزارات پر حاضری🔵 🌹قسط نمبر 1🌹 ▫سوال: مزاراتِ اولیاء پر جانا کیسا ہے؟

🔵مزارات پر حاضری🔵
         🌹قسط نمبر 1🌹
▫سوال: مزاراتِ اولیاء پر جانا کیسا ہے؟

جواب: مزاراتِ اولیاء پر جانا جائز اور مستحب کام ہے۔ جیسا کہ حضرت بریدہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ : رسول ﷲﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیاتھا۔ اب زیارت کیا کرو۔

📒( مسلم شریف ، کتاب الجنائز، ،حدیث نمبر 2260، مطبوعہ دارالسلام، ریاض سعودی عرب)

▫سوال: کیا حضورﷺ بھی مزارات پر تشریف لے جایا کرتے تھے؟

جواب: حضور علیہ السلام بھی مزارات پر تشریف لے جایا کرتے تھے۔ جیسا کہ مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی۔ آپﷺ نے وہاں گریہ فرمایا اور جو صحابہ آپﷺ کے ساتھ تھے وہ بھی روئے۔

📒(مسلم شریف ، کتاب الجنائز،حدیث 2258، مطبوعہ دارالسلام، ریاض سعودی عرب)

▫فقہ حنفی کی مایہ ناز کتاب رد المحتار میں حضور خاتم المحققین ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ (وصال1252ھ) فرماتے ہیں:

امام بخاری علیہ الرحمہ کے استاد امام ابن ابی شیبہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام ہر سال شہداء احد کے مزارات پر تشریف لے جاتے تھے ۔

📒(رد المحتار ، باب مطلب فی زیارۃ القبور ،مطبوعہ دارالفکر، بیروت)

▫امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ (سن وصال606ھ) اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں: حضور علیہ السلام ہر سال شہداء احد کے مزارات پر تشریف لے جاتے اور آپﷺ کے وصال مبارک کے بعد چاروں خلفاء کرام علیہم الرضوان بھی ایسا ہی کرتے تھے
📒(تفسیر کبیر، زیر تحت آیت نمبر 20، سورہ الرعد)

▫سوال: کیا صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی کسی کے مزار پر جاتے تھے؟

جواب: جی ہاں! صحابہ کرام علیہم الرضوان حضورﷺ کے مزار اقدس پر حاضری دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ حضرت مالک دار رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی ﷲ عنہ کے زمانے میں لوگ قحط میں مبتلا ہوگئے۔ ایک صحابی نبی کریمﷺ کی قبر اطہر پر آئے اور عرض کیا۔ یارسولﷺ آپ اپنی امت کے لئے بارش مانگئے کیونکہ وہ ہلاک ہوگئی۔

📒(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، حدیث نمبر 32002، مکتبہ الرشد، ریاض، سعودی عرب)

▫فائدہ: زیارت مزار کے ساتھ، صاحب مزار سے مدد طلب کرنا صحابہ کا طریقہ ہے۔

▫حضرت داؤد بن صالح سے مروی ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز مروان آیا اور اس نے دیکھا کہ ایک آدمی حضور نبی کریمﷺ کے مزارِ انور پر اپنا منہ رکھے ہوئے، تو اس (مروان) نے کہا: کیا تو جانتا ہے کہ توکیا کررہا ہے؟ جب مروان اس کی طرف بڑھا تودیکھا وہ صحابی رسولﷺ حضرت ابو ایوب انصاری رضی ﷲ عنہ تھے۔ اور انہوں نے جواب دیا۔ ہاں میں جانتا ہوں۔ میں رسول ﷲﷺ کے پاس آیا ہوں ’’لم ات الحجر‘‘ میں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا۔

📒(مسند امام احمد بن حنبل،حدیث نمبر 23646، مطبوعہ دارالفکر ، بیروت )

▫سوال: حدیث شریف میں ہے کہ تین مسجدوں (مسجد حرام، مسجد اقصیٰ اور مسجد نبوی شریف) کے سوا کسی جگہ کا سفر نہ کیا جائے۔ پھر لوگ مزارات اولیاء پر حاضری کی نیت سے سفر کیوں کرتے ہیں؟

جواب: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ان تینوں مسجدوں میں نماز کا ثواب زیادہ ملتا ہے۔ چنانچہ مسجد الحرام میں ایک نمازکا ثواب ایک لاکھ کے برابر مسجد اقصیٰ اور مسجد نبوی شریف میں ایک نماز کا ثواب پچاس ہزار کے برابر ہے۔ لہذا ان مساجد میں یہ نیت کرکے دور سے آنا چونکہ فائدہ مند ہے، جائز ہے۔ لیکن کسی اور مسجد کی طرف سفر کرنا ’’یہ سمجھ کر ‘‘کہ وہاں ثواب زیادہ ملتا ہے۔ یہ ناجائز ہے کیونکہ ہر جگہ کی مسجد میں ثواب یکساں ہے اور حدیث میں اسی نیت سے سفر کو منع فرمایا ہے۔ آج لوگ تجات کے لئے سفر کرتے ہیں۔ علم دین کے لئے سفر کرتے ہیں۔ تبلیغ کے لئے سفر کرتے ہیں اور بے شمار دنیاوی کاموں کے لئے مختلف قسم کے سفر کئے جاتے ہیں۔ کیا یہ سب سفر حرام ہوں گے؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ سارے سفر جائز ہیں اور ان کا انکار کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ تو پھر مزارات اولیاء کے لئے سفر کرنا ناجائز کیوں ہوگا بلکہ لاکھوں شافعیوں کے پیشوا امام شافعی علیہ الرحمہ (سن وصال 204ھ) فرماتے ہیں۔ میں امام ابو حنیفہ رضی اﷲ عنہ سے برکت حاصل کرتا اور ان کے مزار پر آتا ہوں۔ اگر مجھے کوئی حاجت درپیش ہوتی ہے تو دو رکعتیں پڑھتا ہوں اور ان کے مزار کے پاس جاکر ﷲ سے دعا کرتا ہوں تو حاجت جلد پوری ہوجاتی ہے۔
📒 (رد المحتار، مقدمہ، مطبوعہ دارالفکر ، بیروت)

▫فائدہ:امام شافعی علیہ الرحمہ اپنے وطن فلسطین سے عراق کا سفر کرکے امام صاحب کے مزار پر تشریف لاتے تھے اور مزار سے برکتیں بھی حاصل کرتے تھے۔کیا ان کا یہ سفر کرنا بھی ناجائز تھا؟

▫محمد بن معمر سے روایت ہے کہ کہتے ہیں: امام المحدثین ابوبکر بن خذیمہ علیہ الرحمہ، شیخ المحدثین ابو علی ثقفی علیہ الرحمہ اور ان کے ساتھ کئی مشائخ امام علی رضا بن موسیٰ رضی ﷲ تعالیٰ عنہما کے مزار پر حاضر ہوئے اور مزار کی خوب تعظیم فرمائی۔

📒(تہذیب التہذیب، حروف العین المہملہ، مطبوعہ دارالفکر،بیروت)

اگر مزاراتِ اولیاء پر جانا شرک ہوتا تو…❗

🔹کیا حضورﷺ اپنی والدہ ماجدہ اور شہداء احد کے مزاروں پر تشریف لے جاتے؟

🔹کیا صحابہ کرام حضورﷺ کے مزار پر انوار پر حاضری دیتے؟ کیا تابعین، محدثین، مفسرین، مجتہدین مزارات اولیاء پر حاضری کے لئے سفر کرتے ؟

🔹پتہ چلا مزارات پر حاضری حضور علیہ السلامﷺ ، آپ کے اصحاب اور امت کے مجتہدین، محدثین اور مفسرین کی سنت ہے اور یہی اہلِ اسلام کا طریقہ رہا ہے اور اس مبارک عمل پر شرک کے فتویٰ دینے والے صراط ِمستقیم سے بھٹکے ہوئے ہیں۔

🔹ان کی اسی روش نے ان کے ھم خیال دھشت گرد گروە کو تشدد کی راە دی
اور
آج مزارات اولیاء کو  دھشت گرد بموں سے شھید کر رھے ھیں- جبکہ سعودی ملا نے حرمین کے قبرستانوں میں صحابہ کرام و اکابرین کے مزارات کو زمین بوس کر دیا-

▫مزارات ِ اولیاء پر ہونے والی خرافات

اکثر مخالفین مزاراتِ اولیاء مزارات پر ہونے والی خرافات کو امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مزارات اولیاء پر ہونے والی خرافات کا اہلسنت و جماعت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنی تصانیف میں ان کا رد بلیغ فرمایا ہے۔

▫ عورتوں کا مزارات پر جانا ناجائز ہے: سوائے روضہ رسولﷺ کے کسی مزار پر جانے کی اجازت نہیں ۔

📒(جمل النور فی نہی النساء عن زیارۃ القبور، فتاویٰ رضویہ جلد 9، صفحہ 541، مطبوعہ )

جزاك اللّه خيرا كثيرا  فى الدارین
جاری ہے بقیہ آیندہ پوسٹ پر
.🌹 لعل حسین گوہر صدیقی حسینی -🌹

مکمل تحریر >>

Wednesday, 26 September 2018

آخر اکابر دیوبند کیا تھے؟*

*آخر اکابر دیوبند کیا تھے؟*

آپ اس سوال کو ہلکا پھلکا سوال نہ سمجھیں درجنوں کتب علماء دیوبند کی دیکھ چکا سمجھ نہیں آتا کہ انہیں کیا کہوں؟
جب دیوبندیوں کے حجۃ الاسلام  نانوتوی کو دیکھا تو وہ بچوں کے کمر بند کھول رہے تھے

سوچا تھانوی صاحب حکیم الامت ہیں ان سے ملتے ہیں ان کو پڑھنا شروع کیا تو جناب مسخرہ پن میں اپنا ثانی نہیں رکھتے جناب خود ہی لکھتے ہیں کہ '' بچپن میں بھائ کے سر پر پیشاب کیا تھا

پھر سوچا چلو دیوبندی قطب عالم مولوی رشید گنگوہی سے ملیں ممکن ہے ان کی عادت مذکورہ بالا مولوی سے اچھی ہو یقین جاننے پڑھنے لگا تو مارے شرم کے کتاب ہی بند کرنی پڑی
رشید گنگوہی صاحب تو سارے دیوبندی سے آگے نکلے آں جناب دن دہاڑے اپنی خانقاہ میں نانوتوی کو لٹا کر سینے پر ہاتھ رکھ کر عاشق صادق 😬 ہونے کا ثبوت دیا صداقت یہاں تک پہنچی کہ جناب نے ہی فرمایا نانوتوی کے ساتھ میرا نکاح ہوا اور مجھے وہی لذت ملی جو ایک بیوی سے شوہر کو ملنا چاہیے

پھر سر پکڑ کر بیٹھ کر سوچنے لگا کہ
*آخر اکابر دیوبند کیا تھے؟*
پھر دل نے کہا ایک بار اور پڑھو

میں نے سوچا چلو مان لیا کہ دیوبندیوں میں شرم و حیا نام کی کوئی چیز نہیں کیوں کہ تھانوی صاحب ہی کہتے ہیں کہ
وہابی بے ادب ہوتا ہے

اب دیکھیں ان میں انسانیت کا کوئی عنصر بچا ہے یا نہیں؟

پھر ذہن میں عنوان قائم کیا

*آخر اکابر دیوبند کیا تھے؟*

سب سے پہلے میں نے اکابر کا مقام تواضع نامی کتاب ص 204 دیکھا تو حیران رہ گیا
تھانوی صاحب کہتے ہیں کہ *مسلمان اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک خود کو کافر فرنگ سے بدتر نہ سمجھے*

دل بھر آیا کتاب سائڈ میں رکھ کر دوسری کتاب اٹھایا

ارواح ثلاثہ اٹھایا سوچا یہ کرامات پر مبنی کتاب ہے ممکن ہے تسلی ملے
پڑھتے پڑھتے ص 118 پر پہنچا تو دیکھ کر مزید حیرانی بڑھ گئی کہ سید احمد  رائے بریلوی انسان کے بجائے '' کتا'' نکلا
اور وہ بھی بدصورت کتا

پھر سوچنے لگا کہ
گنگوہی تھانوی نانوتوی اور سید احمد رائے بریلوی کو پڑھ لیا کوئ کمر بند کھولتا ہے تو کوئ بھائی کے سر پر پیشاب تو کوئی دن دہاڑے خانقاہ ہی میں ازدواجی تعلقات مرد سے قائم کرنا چاہتا ہے
پھر سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کہ

*آخر اکابر دیوبند کیا تھے؟*
خیال رہے دیوبندی علماء کو پرکھنے کے لیے انہی کی کتابوں کو پڑھا گیا ہے اور ہرجگہ حقیقی معنی ہی مراد لیا گیا کیونکہ دیوبندی ساجد خان نقشبندی جس کی ہم کر رہے ہیں نسبندی اس نالائق نا مراد نے

امام اہلسنت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کا مشہور شعر
*کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا*
*تجھ سے کتے ہزار پھرتے ہیں*
اس کے اوپر ٹائٹل دیا

---آوارہ کتا----
اور تبصرہ میں لفظ کتے کو حقیقی معنی میں لیا جب دیوبندی مجازی معنی لیتے  ہی نہیں تو اب ہم حقیقی کتا بنا کر ہی چھوڑیں گے

ساجد دیوبندی سن لو
*نہ صدمے تم ہمیں دیتے نہ یوں فریاد ہم کرتے*
*نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں*

*ابھی جاری*
حسن نوری گونڈوی
+918485880123

مکمل تحریر >>

ﻏﯿﺮ ﻣﻘﻠﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻓﺮﻗﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﺳﻮﺍﻻﺕ کا علمی جواب چاہیئے

ﻏﯿﺮ ﻣﻘﻠﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻓﺮﻗﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﺳﻮﺍﻻﺕ کا علمی جواب چاہیئے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ﮐﯿﺎ ﮨﺮﻏﯿﺮﻣﻘﻠﺪ ﻣﺠﺘﮩﺪ ﮨﮯ ؟
۱۔ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ : ﻓَﺄَﻭْﺗِﺮُﻭﺍ ﻳَﺎ ﺃَﻫْﻞَ
ﺍﻟْﻘُﺮْﺁﻥ(ﺗﺮﻣﺬﯼ ) ﺍﮮ ﺍﮨﻞ ﻗﺮﺁﻥ ! ﻭﺗﺮ ﭘﮍﮬﻮ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ : ﺇِﻥَّ
ﻟِﻠَّﻪِ ﺃَﻫْﻠِﻴﻦَ ﻣِﻦْ ﺍﻟﻨَّﺎﺱِ ﻗَﺎﻟُﻮﺍ ﻳَﺎ ﺭَﺳُﻮﻝَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻣَﻦْ ﻫُﻢْ ﻗَﺎﻝَ ﻫُﻢْ ﺃَﻫْﻞُ ﺍﻟْﻘُﺮْﺁﻥِ
ﺃَﻫْﻞُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺧَﺎﺻَّﺘُﻪ( ﺍﺑﻦ ﻣﺎﺟﮧ) ﺍﮨﻞ ﻗﺮﺁﻥ ﺧﺎﺹ ﺍﮨﻞ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﯿﮟ،ﮐﯿﺎ ﺍﻥ
ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺍﮨﻞ ﻗﺮﺁﻥ ﺳﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﻓﺮﻗﮧ ﺍﮨﻞ ﻗﺮﺁﻥ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﻨﮑﺮﯾﻦ
ﺣﺪﯾﺚ ﻣﺮﺍﺩ ﮨﯿﮟ؟
۲۔ﺍﺱ ﻓﺮﻗﮧ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﮨﻞ ﻗﺮﺁﻥ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺏ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ
، ﺍﮨﻠﺤﺪﯾﺚ ﮐﺎ ﻗﺮﺁﻥ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮨﺎ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟
ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻌﻮﺩﯼ ﻓﺮﻗﮧ ﻧﮯ ﺍﮨﻠﺤﺪﯾﺚ ﺳﮯ ﮐﭧ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﺟﻤﺎﻋﺖ
ﺍﻟﻤﺴﻠﻤﯿﻦ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺎ، ﺍﺏ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞﻤﺴﻠﻢ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﻓﺮﻗﮧ ﻣﺮﺍﺩ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻠﺤﺪﯾﺚ ﮐﻮ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ، ﮐﯿﺎ
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺣﻖ ﺑﺠﺎﻧﺐ ﻧﮩﯿﮟ؟
۳۔ﺍﮨﻞ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﺍﮨﻞ ﻗﺮﺁﻥ
ﮨﯿﮟ، ﺟﺐ ﻗﺮﺁﻥ ﺳﭽﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﮨﻞ ﻗﺮﺁﻥ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺳﭽﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﮨﻞ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﻮ
ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺟﮭﻮﭨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﻮ ﺟﮭﻮﭨﺎ ﻧﮧ
ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ؟ ﯾﮧ ﺍﮨﻞ ﻗﺮﺁﻥ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﮯ،( ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ
ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﮨﻞ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ)
۴۔ﺍﮨﻞ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮨﻠﺤﺪﯾﺚ ﮐﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻧﻮﺍﺏ ﺻﺪﯾﻖ ﺣﺴﻦ ﻧﮯ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺛﻨﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ
ﻟﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺷﻮﮐﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﮨﮯ ( ﻣﻈﺎﻟﻢ ﺭﻭﭘﮍﯼ ﺹ ۲۱ ) ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺛﻨﺎﺀ
ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻋﺮﺏ ﻭ ﻋﺠﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﺎﻓﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﺪ
ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ، ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﺍﺛﺮﯼ ﻧﮯ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﻭﭘﮍﯼ ﻧﮯ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﻏﻠﻂ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ، ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﻭﭘﮍﯼ ﻧﮯ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﻟﮑﮭﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﻮ
ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺛﻨﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮐﻮﮎ ﺷﺎﺳﺘﺮ ﺭﮐﮭﺎ۔
۵۔ﺍﮨﻞ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻗﺪﺱ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﮨﻞ
ﻗﺮﺁﻥ ﮐﻮ ﺧﺎﺹ ﺍﮨﻞ ﺍﻟﻠﮧ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﮨﻠﺤﺪﯾﺚ ﻧﮧ ﺍﺱ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ
ﻧﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻧﺠﺎﺕ ﭘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔
۶۔ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﻮ ﯾﮧ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ
ﺍﮨﻞ ﺫﮐﺮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﺎﻗﯽ ﻧﺎﻭﺍﻗﻒ، ﺍﻥ ﻧﺎﻭﺍﻗﻔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﮨﻞ ﺫﮐﺮ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ
ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ( ﺍﻟﻨﺤﻞ: ۴۳ )، ﺁﭖ ﺍﺱ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﮯ ﻗﺎﺋﻞ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟
۷۔ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﮨﻞ ﺍﺳﺘﻨﺒﺎﻁ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺑﺎﻗﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ
ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﻮﭨﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﮯ ﺁﭖ ﻗﺎﺋﻞ ﮨﯿﮟ
ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟
۸۔ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﮨﺮ ﻗﻮﻡ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﯾﺎ ﭼﻨﺪ ﺍﯾﮏ ﮐﻮ ﻓﻘﯿﮧ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ
ﺩﯾﺎﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻓﻘﮧ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ
ﻧﮩﯿﮟ؟
( ﺍﻟﺘﻮﺑﮧ: ۱۲۲)
۹۔ﺁﭖ ﮐﮯ ﻓﺮﻗﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻓﺮﻗﮧ ﮐﮯ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ
ﻓﻘﯿﮧ ،ﺍﮨﻞ ﺫﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞ ﺍﺳﺘﻨﺒﺎﻁ ﮨﯿﮟ؟
۱۰۔ﺁﭖ ﮐﮯ ﻓﺮﻗﮧ ﮐﮯ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﺍﮨﻞ ﺍﺳﺘﻨﺒﺎﻁ ﺍﻭﺭ ﻓﻘﯿﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ
ﺑﮭﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻭ ﺳﻨﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﺎ ﻻﺯﻡ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟
ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﮐﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩﯼ ﺍﺣﮑﺎﻡ
ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﮨﮯ
ﯾﺎ ﻭﺍﺟﺐ؟
ﺁﭖ ﻧﮯ ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ
ﺍﺟﺘﮩﺎﺩﺳﮯ ﮐﺌﮯ ﯾﺎ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﺳﮯ ؟
۱۱۔ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﮐﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺷﺮﺍﺋﻂ ﮨﯿﮟ؟ ﺁﭖ ﺳﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺑﻌﺾ
ﻣﯿﮟ، ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﮐﯽ ﻗﻮﺕ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﮐﺮﯾﮟ ﻭﮦ
ﻓﺎﻓﺘﻮﺍ ﺑﻐﯿﺮ ﻋﻠﻢ ﻓﻀﻠﻮﺍ ﻭ ﺍﺿﻠﻮ( ﺑﺨﺎﺭﯼ،ﺑﺎﺏ ﮐﯿﻒ ﯾﻘﺒﺾ ﺍﻟﻌﻠﻢ) ﮐﮯ
ﻣﺼﺪﺍﻕ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟
۱۲۔ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﮨﻠﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ
ﺑﻌﺾ ﻣﯿﮟ، ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﺹ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﮐﮯ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﺩﺱ ﻧﻤﻮﻧﮯ ﭘﯿﺶ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﺩﺱ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻭﮦ ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﻮ؟
۱۳۔ﺍﺟﺘﮩﺎﺩﯼ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﺘﮩﺪ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺻﻮﺍﺏ ﭘﺮ
ﺩﻭ ﺍﺟﺮ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﺎﺀ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﺟﺮ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ، ﺗﻮ ﯾﮧ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﻧﺒﻮﯼ ﺻﻠﯽ
ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮨﮯ ، ( ﺑﺨﺎﺭﯼ، ﺑَﺎﺏ ﺃَﺟْﺮِ ﺍﻟْﺤَﺎﻛِﻢِ ﺇِﺫَﺍ ﺍﺟْﺘَﻬَﺪَ ﻓَﺄَﺻَﺎﺏَ ﺃَﻭْ
ﺃَﺧْﻄَﺄَ ) ﻣﮕﺮ ﺍﮨﻠﺤﺪﯾﺚ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺭﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﮐﺎﺭ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮨﮯ
، ﯾﮧ ﮐﺲ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ؟
۱۴۔ﺭﻭﺯ ﺍﻭﻝ ﺳﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﯾﮩﯽ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﺎﻣﯽ ﮐﻮ ﺟﻮ ﻣﺴﺌﻠﮧ
ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮨﻮ، ﻭﮦ ﻋﺎﻟﻢ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ، ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺑﺘﺎﯾﺎ ، ﺳﺎﺋﻞ ﻧﮯ ﻣﺎﻧﺎ
ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﺑﻨﺪ ﮨﻮﺍ ۔ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﺳﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ، ﺣﮑﻢ ﺑﺘﺎﺗﮯ
ﻭﻗﺖ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺩﻟﯿﻞ ﺗﻔﺼﯿﻠﯽ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺑﯿﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ
ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺧﻮﺏ ﺫﮨﻦ ﻧﺸﯿﻦ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺣﮑﻢ ﺛﺎﺑﺖ ﺻﺤﯿﺢ ، ﻭﺍﺿﺢ
ﺍﻭﺭ ﺻﺮﯾﺢ ﻏﯿﺮ ﻣﻌﺎﺭﺽ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﻣﻨﺴﻮﺥ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﻋﺎﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﯽ
ﺩﻟﯿﻞ ﺗﻔﺼﯿﻠﯽ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﯿﺎ ، ﯾﮩﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺘﺐ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﺜﻼً:
ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻵﺛﺎﺭ ، ﻣﻮﻃﺎ ، ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺯﺍﻕ ، ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺷﯿﺒﮧ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﮐﺘﺐ ﺣﺪﯾﺚ
ﮐﮯﺗﺮﺍﺟﻢ ﻭ ﺍﺑﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﻧﺼﻒ ﺍﻟﻨﮩﺎﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ ۔
ﮨﺰﺍﺭﮨﺎ ﻓﺘﺎﻭﯼ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺑﻌﯿﻦ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ
ﮐﮯ ﮐﺘﺐ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭﻻﮐﮭﻮﮞ ﻓﺘﺎﻭﯼ ﻓﻘﮩﺎﺀ ﮐﮯ ﮐﺘﺐ ﻓﻘﮧ ﻭ ﻓﺘﺎﻭﯼ
ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮﮮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﻣﻔﺘﯽ ﻧﮯ ﺩﻟﯿﻞ ﺗﻔﺼﯿﻠﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﻧﮧ
ﻣﺴﺘﻔﺘﯽ ﻧﮯ ﺩﻟﯿﻞ ﺗﻔﺼﯿﻠﯽ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﯿﺎ ﻧﮧ ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻓﺘﺎﻭﯼ
ﮐﻮ ﻣﺮﺩﻭﺩ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﮐﺮ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﺎﺭﺝ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻏﯿﺮﻣﻘﻠﺪﯾﻦ ﮐﮯ
ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺩﻭﺭ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺝ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺳﺐ
ﻋﺎﻣﯽ ﻣﺸﺮﮎ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﻣﺖ ﻣﺸﺮﮎ ﮔﺮ ﮨﻮﺋﮯ؟ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ
ﺧﯿﺮﺍﻟﻘﺮﻭﻥ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺧﯿﺮﺍﻻﻣﺖ؟
۱۵۔ﺁﭖ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺍﺋﻤﮧ ﻟﻐﺖ ﮐﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺍﺋﻤﮧ ﺻﺮﻑ ، ﺍﺋﻤﮧ ﻧﺤﻮ
ﺍﻭﺭﺍﺋﻤﮧ ﺍﺻﻮﻝ ﮐﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺭﺍﻭﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺿﻌﯿﻒ ﺍﻭﺭ ﺛﻘﮧ ﮐﮩﺘﮯ
ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﺳﻤﺎﺀﺍﻟﺮﺟﺎﻝ ﮐﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺭﺍﻭﯾﻮﮞ ﮐﯽ
ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ، ﺭﮨﺎﺋﺶ ، ﻣﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﺆﺭﺧﯿﻦ ﮐﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺣﺪﯾﺚ
ﮐﮯ ﺿﻌﯿﻒ ﻭ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ ﮐﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﯾﮧ
ﺳﺐ ﺗﻘﻠﯿﺪﯾﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺲ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ؟ ﮐﯿﺎ ﺧﺪﺍ ﻭ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ
ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ؟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ
ﺑﮍﮮ ﺑﺰﺭﮒ ﻓﺮﻣﺎﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﺎ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﺲ ﺍﺋﻤﮧ ﺍﺭﺑﻌﮧ
ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ؟
۱۶۔ﺁﭖ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﻭ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺳﮯ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺋﻤﮧ ﺍﺭﺑﻌﮧ ﮐﻮ ﺗﻮ
ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻘﻠﺪﯾﻦ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺑﻦ
ﺣﺠﺮ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ، ﺍﻣﺎﻡ ﻧﻮﻭﯼ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺁﭖ ﻟﻮﮒ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺷﺎﻓﻌﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﺷﺮﮎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮ
ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ ؟ﻋﺠﯿﺐ ﺑﺎﺕ ﺣﺠﺮ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺷﺮﮎ ﮨﻮ
ﻣﮕﺮ ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺗﻮﺣﯿﺪ ، ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﺎ
ﮨﯽ ﻃﺮﺯ ﺗﮭﺎﮐﮧ ﺭﺏ ﺍﻻﺭﺑﺎﺏ ﺫﯼ ﺍﻟﻌﺮﺵ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﯽ
ﺑﻨﺪﮔﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
۱۷۔ﺟﯿﺴﺎ ﺍﮨﻞ ﺑﺪﻋﺖ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﻮ ﺑﺪﻋﺖ ﺣﺴﻨﮧ
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﻮ ﺷﺎﻥ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﮐﯽ ﮔﺴﺘﺎﺧﯽ ﮐﺎ
ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ،ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﮐﻮ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ ﭘﻮﺭﮮ ﺯﻭﺭ
ﺳﮯ ﺻﺤﯿﺢ،ﺻﺤﯿﺢ ، ﺻﺤﯿﺢ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﺟﺘﻨﯽ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ
ﭘﮍﮬﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺿﻌﯿﻒ، ﺿﻌﯿﻒ، ﺿﻌﯿﻒ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﻮ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﻣﻨﮑﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ
ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﻣﻨﺼﺐ ﺭﺳﺎﻟﺖ
ﺳﻨﺒﮭﺎﻻ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻨﮑﺮ، ﻣﻨﮑﺮ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ
ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺮﺍﺭﭘﺎﯾﺎ ؟
۱۸۔ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺷﺎﮨﺪ ﻋﺪﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺍﻡ ﺗﻮ ﮐﺠﺎ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺑﮭﯽ
ﺧﯿﺮﺍﻟﻘﺮﻭﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﮐﯽ ﻭﺍﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﺗﮭﮯ
ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺧﻮﺍﮦ ﻣﻔﺴﺮﯾﻦ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ ، ﻗﺎﺿﯽ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﻣﻔﺘﯽ
، ﻓﻘﮩﺎﺀ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﻣﺆﺭﺧﯿﻦ ،ﺳﻼﻃﯿﻦ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﻭﺯﺭﺍﺀ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ
ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﮨﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔ﻃﺒﻘﺎﺕ ﺣﻨﻔﯿﮧ ، ﻃﺒﻘﺎﺕ
ﺷﺎﻓﻌﯿﮧ ، ﻃﺒﻘﺎﺕ ﻣﺎﻟﮑﯿﮧ ،ﻃﺒﻘﺎﺕ ﺣﻨﺎﺑﻠﮧ ۔ ﻃﺒﻘﺎﺕ ﻏﯿﺮﻣﻘﻠﺪﯾﻦ ﻧﺎﻣﯽ
ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮑﮭﯽ ﮔﺌﯽ۔
۱۹۔ﺩﻋﻮﯼ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ
ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺣﺠﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻨﺪ ﻣﻌﺪﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﺭﺣﻮﮞ ﮐﻮ
ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﻮﻝ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻗﺮﺁﻥ
ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺑﻠﮑﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺳﻨﺖ ﭘﺮ ﺣﺎﮐﻢ ﺑﻨﺎﺩﯾﺎ ﮨﮯ ، ﻭﮦ ﺷﺮﯾﮏ
ﻓﯽ ﺍﻻﻟﻮﮨﯿﺖ ﻧﮧ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺷﺮﯾﮏ ﻓﯽ ﺍﻟﺮﺳﺎﻟﺖ ﺿﺮﻭﺭ ﮨﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻣﺼﺪﺍﻕ
ﺍﺗﺨﺬﻭﺍ ﺍﺣﺒﺎﺭﻫﻢ ﻭ ﺭﻫﺒﺎﻧﻬﻢ ﺍﺭﺑﺎﺑﺎ ﻣﻦ ﺩﻭﻥ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﺎ ﮨﯿﮟ۔
۲۰۔ﺁﺝ ﮐﻞ ﺳﻮﻓﯿﺼﺪ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ ، ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺳﻼﻡ
ﮐﯽ ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮐﻮﺩﻻﺋﻞ ﺳﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﺧﻮﺩ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﻮ
ﺑﻼﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﺩﻟﯿﻞ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ،ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﮐﺎﻓﺮ ؟ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ
ﭘﺮ ﺭﺣﻢ ﻓﺮﻣﺎﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯﺗﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺌﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﯾﻤﺎﻧﯿﺎﺕ
ﻣﯿﮟ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻓﺮﻭﻋﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﻔﺮ ﮨﻮﮔﯽ ؟
۲۱۔ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻓﺮ ﺑﻼﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﺩﻟﯿﻞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ
ﻣﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﯾﺎ ﻭﮦ ﮈﺑﻞ ﮐﺎﻓﺮ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ۔ ﺍﯾﮏ ﮐﻔﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﮐﻔﺮ
ﺗﻘﻠﯿﺪﯼ ﮨﻮﮔﯿﺎ ؟
۲۲۔ﻣﻌﺎﺫﺍﻟﻠﮧ : ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺑﻼﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﺩﻟﯿﻞ ﻣﺮﺗﺪ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ
ﮐﻮﻣﺮﺗﺪ ﻣﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﯾﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ؟
۲۳۔ﺁﺝ ﮐﻞ ﺳﻮ ﻓﯿﺼﺪ ﻏﯿﺮ ﻣﻘﻠﺪ ﻧﻤﺎﺯﯼ ﺑﮭﯽ ، ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﺰﺋﯿﺎﺕ ﮐﮯ
ﺩﻻﺋﻞ ﺗﻔﺼﯿﻠﯿﮧ ﺳﮯ ﻧﺎﻭﺍﻗﻒ ﮨﯿﮟ ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﺤﺾ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻮﻟﻮﯾﻮﮞ
ﮐﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﺍ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ
ﺳﮯ ﮐﺎﻓﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﺮﮎ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ؟
۲۴۔ﺁﺝ ﮐﻞ ﺳﻮﻓﯿﺼﺪ ﻋﻮﺍﻡ ﻏﯿﺮ ﻣﻘﻠﺪ ﺟﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﺮﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﻧﮧ ﺍﻋﺮﺍﺏ ﮐﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﺍﻭﻗﺎﻑ ﮐﮯ ، ﺻﺮﻑ ﺍﺱ
ﺣﺴﻦ ﻇﻦ ﭘﺮ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻻﺋﻞ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﮕﺮ
ﺍﺱ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺯﺑﺮ ، ﺍﯾﮏ ﺯﯾﺮ ﺑﮭﯽ ﺑﻐﯿﺮ ﺩﻟﯿﻞ ﮐﮯ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﻋﻠﻤﺎﺀ
ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺯﺑﺮ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﺣﺴﻦ ﻇﻦ ﭘﺮ ﺗﻼﻭﺕ
ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﺎﻓﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﺮﮎ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ؟
۲۵۔ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﻏﯿﺮﻣﻘﻠﺪ ﺣﺎﺟﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺑﭩﮭﺎﻟﯿﮟ ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﺣﺞ ﮐﺎ
ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺑﺎﻟﺘﻔﺼﯿﻞ ، ﺑﺎﻟﺘﺮﺗﯿﺐ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺟﺰﺋﯽ
ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﺗﻔﺼﯿﻠﯽ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﮦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﻣﺤﺾ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﺣﺞ ﮐﺮﮐﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﻘﻠﯿﺪﯼ ﺣﺞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺭﮨﺎ ﯾﺎ ﮐﺎﻓﺮ ﮨﻮﮔﯿﺎ ؟
۲۶۔ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﻏﯿﺮﻣﻘﻠﺪ ﮐﻮ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﮐﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﭘﮑﮍﻟﯿﮟ ، ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ
ﺑﺎﻟﺘﺮﺗﯿﺐ ﻣﻔﺼﻞ ﻧﻤﺎﺯﮦ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﻟﮑﮭﻮﺍﮐﺮ ﺩﺳﺘﺨﻂ ﮐﺮﻭﺍﻟﯿﮟ ﭘﮭﺮ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﮐﺘﻨﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺳﻨﺘﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯿﮟ ؟
ﻭﮦ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﮯ ﮨﺮﮔﺰﻧﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎﺳﮑﮯ ﮔﺎ۔
ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﭘﮩﻠﯽ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﺗﺤﺮﯾﻤﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺛﻨﺎﺀ ، ﺗﻌﻮﺫ ،
ﺗﺴﻤﯿﮧ ، ﻓﺎﺗﺤﮧ ، ﺁﻣﯿﻦ ، ﺳﻮﺭۃ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﯾﮧ ﺳﺎﺗﻮﮞ ﭼﯿﺰﯾﮟ
ﺑﺎﻟﺘﺮﺗﯿﺐ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﮐﯽ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺩﮐﮭﻼﺩﯾﮟ ؟ ﻭﮦ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮧ ﺩﮐﮭﺎﺳﮑﮯ ﮔﺎ ۔
ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﺭﻭﺩ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻤﯽ ﺍﺳﮟ
ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺑﻠﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺘﺪﯼ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ
ﺩﻟﯿﻞ ﻗﺮﺁﻥ ﯾﺎ ﺣﺪﯾﺚ ﺳﮯ ﺩﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ، ﻭﮦ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮧ ﺩﮐﮭﺎﺳﮑﮯ ﮔﺎ ۔
ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﺱ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﺑﻠﻨﺪ
ﺁﻭﺍﺯﺳﮯ ﭘﮍﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺘﺪﯼ ﺁﻣﯿﻦ ﺁﻣﯿﻦ ﮐﮩﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺻﺮﯾﺢ
ﺣﺪﯾﺚ ﺩﮐﮭﺎﺅ ؟
ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻣﺎﻡ ﺑﻠﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺘﺪﯼ ﺁﮨﺴﺘﮧ
ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺳﻼﻡ ﭘﮭﯿﺮﯾﮟ ، ﺍﺳﮑﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﻻﺅ ؟ ﻭﮦ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮧ ﻻﺳﮑﮯ ﮔﺎ ۔ ﺟﺐ
ﺗﻘﻠﯿﺪﯼ ﻋﻤﻞ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺑﺎﻃﻞ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮔﻮﯾﺎ ﯾﮧ ﺑﻼﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﯿﺖ
ﮐﻮ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺁﺋﮯ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﯿﺖ ۔
۲۷۔ﺁﺝ ﺍﺳﻤﺎﺀﺍﻟﺮﺟﺎﻝ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺩﻭ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ : ﺍﯾﮏ ﻭﮦ ﺟﻦ ﮐﻮ
ﻣﻨﻘﺢ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﺍﻟﺘﮩﺬﯾﺐ ، ﺗﮩﺬﯾﺐ ﺍﻟﺘﮩﺬﯾﺐ ،
ﺗﺬﮐﺮۃ ﺍﻟﺤﻔﺎﻅ ، ﻣﯿﺰﺍﻥ ﺍﻻﻋﺘﺪﺍﻝ ، ﺧﻼﺻﮧ ﺗﮩﺬﯾﺐ ﺍﻟﮑﻤﺎﻝ ، ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ
ﺟﺎﺭﺡ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻨﺪ ﻧﮧ ﺟﺮﺡ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺍﺿﺢ ﺩﻟﯿﻞ ، ﺍﻥ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﭘﺮ
ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﺩﺭ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮨﮯ۔
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﻏﯿﺮ ﻣﻨﻘﺢ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺭﻃﺐ
ﻭ ﯾﺎﺑﺲ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺍﺳﺎﻧﯿﺪ ﺳﮯ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﺎﻧﯿﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺾ ﺭﺍﻭﯼ
ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮑﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﻧﺎﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ
ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺤﺾ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮨﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮨﻮﮔﺎ۔
۲۸۔ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﮔﻨﺎﮦ ﺗﺮﮎ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮨﯽ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ
ﻧﮯﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ، ﯾﮧ ﺣﮑﻢ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ
ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ۔ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯽ ﺑﻼﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﺩﻟﯿﻞ
ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﮔﺌﮯ ۔ ﯾﮩﯽ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﺍﻟﻘﻮﻝ ﺑﻼﺩﻟﯿﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﺎ ﮨﺎﺭ
ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻦ ﻟﯿﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯﺍﺱ ﺑﻼﺩﻟﯿﻞ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ
ﺍﻭﺭ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﮯ ﮨﺎﺭ ﭘﺮ ﻟﻌﻨﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﻕ ﮐﻮﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩﯼ۔
ﺧﻠﻔﺎﺋﮯ ﺭﺍﺷﺪﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺗﻘﻠﯿﺪ
۲۹۔ﺣﻀﺮﺕ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺟﻤﻊ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ
ﺩﯾﺎﺗﻮﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻭﮦ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﻀﻮﺭ
ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ
ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﯾﮧ ﺍﭼﮭﺎﺋﯽ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﯾﺖ ﯾﺎ
ﺣﺪﯾﺚ ﻧﮧ ﭘﮍﮬﯽ ۔ ﺳﺐ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﻼﻃﻠﺐ ﺩﻟﯿﻞ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﻓﺮﻣﺎﻟﯿﺎ :
ﺑﺨﺎﺭﯼ
۳۰۔ﺣﻀﺮﺕ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺣﻀﺮﺕ
ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻗﯿﺎﺱ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ
ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ
ﺳﺐ ﮐﺎ ﺍﻣﺎﻡ ﺑﻨﺎﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺍﺳﯽ ﭘﺮﻗﯿﺎﺱ ﮐﺮﮐﮯ ﮨﻢ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻣﯿﮟ
ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺁﮔﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺳﺐ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮩﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ
ﻗﯿﺎﺱ ﮐﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﯽ ، ﮐﯿﺎ ﻏﯿﺮﻣﻘﻠﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺍﺱ
ﻗﯿﺎﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﺫﺍﻟﻠﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ
ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺑﻨﮯ ؟ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﯾﮧ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ
ﮐﯿﺎ ﻣﻌﺎﺫﺍﻟﻠﮧ ﺳﺐ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮩﻢ ﻣﺸﺮﮎ ﮨﻮﮔﺌﮯ ؟ ﮨﺮﮔﺰ
ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻣﺸﺮﮎ ﮐﮩﻨﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ۔
۳۱۔ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﺸﻮﺭ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ
ﯾﻮﮞ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻟﯿﺘﮯ ﺍﮔﺮ ﻧﮧ ﻣﻠﺘﺎ ﺗﻮ
ﺳﻨﺖ ﺳﮯ ﻟﯿﺘﮯ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻥ ﻧﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﻧﮧ ﺳﻨﺖ
ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﻫﺬﺍ ﺭﺃﯾﯽ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺍﺋﮯ ﮨﮯ ۔ ﺍﮔﺮ
ﺻﻮﺍﺏ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﺧﻄﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﻪ ﺳﮯ ﺑﺨﺸﺶ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ۔
(ﺟﺎﻣﻊ ﺑﯿﺎﻥ ﺍﻟﻌﻠﻢ ﺝ۲ ﺹ ۵۱ )
ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮨﺮ ﺟﺎﮨﻞ ﻏﯿﺮ ﻣﻘﻠﺪ ﯾﮧ ﺩﻋﻮﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﻣﺴﺎﺋﻞ
ﺻﺎﻑ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮔﻮﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ
ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ
ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ
ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﺭﺍﺋﮯ ﺳﮯ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﺘﺎﺗﮯﺗﻮ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ
ﮐﻮ ﻣﺎﻧﺘﮯ، ﯾﮩﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮨﮯ۔ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﺩﻭﺭ ﺻﺪﯾﻘﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﻣﯿﮟ
ﮐﻮﺋﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﻘﻠﺪ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯﮐﻮ ﮐﺎﺭ
ﺍﺑﻠﯿﺲ ﮐﮩﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺭﺍﺋﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺸﺮﮎ ﮐﮩﺘﺎ۔
۳۲۔ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ
ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻧﺎﻣﺰﺩ ﮐﺮﺩﯾﺎ ، ﺍﺱ ﺣﮑﻢ ﻧﺎﻣﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺁﯾﺖ
ﺳﮯ ﺩﻟﯿﻞ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﻧﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﺳﮯ ، ﻣﺤﺾ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺎ ۔
ﺗﻤﺎﻡ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮩﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﮐﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﻣﯿﮟ
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﻟﯿﺎ ، ﯾﮩﯽ
ﺗﺴﻠﯿﻢ ﺍﻟﻘﻮﻝ ﺑﻼﺩﻟﯿﻞ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮨﮯ ۔
۳۳۔ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺑﻨﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﺸﻮﺭ
ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺠﺘﮩﺪ ﻗﺎﺿﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺖ
ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮧ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﻭ ﺭﺍﺋﮯ
ﺳﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻭ۔( ﺟﺎﻣﻊ ﺑﯿﺎﻥ ﺍﻟﻌﻠﻢ ﺝ۲ ﺹ ۵۶ )ﻣﺠﺘﮩﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﻮﮞ
ﮐﺎ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮨﮯ۔
۳۴۔ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ
ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮩﻢ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺟﻤﺎﻋﺖ
ﺗﺮﺍﻭﯾﺢ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺟﻮ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ
ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﮧ ﻓﺮﺽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﮔﮭﺮ ﭘﮍﮬﺎ ﮐﺮﻭ ( ﺑﺨﺎﺭﯼ )ﮐﮯ
ﺧﻼﻑ ﺗﮭﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻟﯿﻞ
ﺑﯿﺎﻥ ﻧﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ .
۳۵۔ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺩﻭﺭ ﻓﺎﺭﻭﻗﯽ ، ﻋﺜﻤﺎﻧﯽ ، ﻋﻠﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺲ ۲۰ ﺗﺮﺍﻭﯾﺢ
ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﻭﮦ ﻋﺎﻣﻞ ﺑﮧ ﺳﻨﺖ ﺗﮭﮯ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﮐﮯ
ﻣﻘﻠﺪ۔
۳۶۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﻃﻼﻕ ﮐﻮ ﺗﯿﻦ ﻗﺮﺍﺭ
ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﻟﯿﺎ ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ
ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﯾﺖ ﺑﻄﻮﺭ ﺩﻟﯿﻞ ﭘﯿﺶ
ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﻧﮧ ﺣﺪﯾﺚ ، ﯾﮧ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﺍﻟﻘﻮﻝ ﺑﻼﺩﻟﯿﻞ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮨﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮐﯿﺎ؟
۳۷۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ
ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﺑﯿﻌﺖ ﺍﺱ ﺷﺮﻁ ﭘﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﻭ
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮩﻢ ﮐﮯ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ۔ ﮐﯿﺎ
ﺍﺱ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺑﯿﻌﺖ ﮨﻮﺋﯽ ﻭﮦ ﺧﻼﻓﺖ ﻏﯿﺮ ﻣﻘﻠﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﭘﺮ
ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻏﻠﻂ ؟
۳۸۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﯽ ﺍﺫﺍﻥ ﮐﺎ
ﺟﻮ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ
ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﯾﺖ ﯾﺎ ﺣﺪﯾﺚ ﺑﻄﻮﺭ ﺩﻟﯿﻞ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﯾﺎ ﺳﺐ
ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮩﻢ ﻧﮯ ﺑﻼﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﺩﻟﯿﻞ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ
ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺟﻮ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮨﮯ ؟
۳۹۔ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻣﺎﻧﮓ
ﻣﺎﻧﮓ ﮐﺮ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺳﺎﺗﻮﮞ ﻟﻐﺎﺕ ﭘﺮ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﯽ ﺗﮭﯽ
ﻣﮕﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮩﻢ
ﮐﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺳﮯ ﻟﻐﺖ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺑﺎﻗﯽ ﭼﮫ ۶ ﻟﻐﺎﺕ ﭘﺮ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ
ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﻓﺮﻣﺎﺩﯾﺎ، ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﯾﺖ ﯾﺎ ﺣﺪﯾﺚ ﭘﯿﺶ ﻧﮧ
ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ، ﺍﻣﺖ ﮐﻮ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﺼﻠﺤﺖ ﺗﮭﯽ ، ﺳﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ
ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻼﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﺩﻟﯿﻞ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﯾﮩﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮨﮯ۔
۴۰۔ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮩﻢ
ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺍﯾﮏ ﻻﮐﮫ ﺳﮯ ﻣﺘﺠﺎﻭﺯ ﺗﮭﯽ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻣﺎﺩﺭﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﻋﺮﺑﯽ
ﺗﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﺑﻘﻮﻝ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﺎﻭ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺻﺪﯾﻖ
ﺍﮐﺒﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ، ﺣﻀﺮﺕ
ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ
ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﻭ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ
ﻣﺠﺘﮩﺪ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ
ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺻﺪﯾﻘﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮩﺎ ﺟﺰﻭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻣﺠﺘﮩﺪ ﺗﮭﮯ ،ﺣﺠۃ ﺍﻟﻠﮧ
ﺑﺎﻟﻐﮧ ﺍﻭﺭ ﻗﺮۃﺍﻟﻌﯿﻨﯿﻦ ﻓﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺍﻟﺸﯿﺨﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ،ﺻﺤﺎﺑﮧ
ﺩﻭ ﮔﺮﻭﻩ ﺑﻮﺩﻧﺪ ﻣﺠﺘﮩﺪ ﻭ ﻣﻘﻠﺪ،ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﻭﺭ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ
ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮩﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﻘﻠﺪ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔
ﻗﯿﺎﺱ ﮐﺎﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯﭼﻨﺪ ﺳﻮﺍﻻﺕ
۴۱۔ ﺳﺪﮬﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺘﮯ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺣﻼﻝ ﮨﮯ : ﯾﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ،
ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺷﯿﺮ ، ﭼﯿﺘﮯ ، ﺑﮭﯿﮍﯾﺌﮯ ، ﺑﻨﺪﺭ ، ﺑﺎﺯ ، ﺷﮑﺮﮮ ﻭﻏﯿﺮﮦ
ﮐﻮ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﮮ ﻟﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺣﻼﻝ ﮨﻮﮔﺎ ﯾﺎ ﺣﺮﺍﻡ ؟ ﻗﯿﺎﺱ ﺳﮯ ﯾﺎ
ﮐﺴﯽ ﻧﺺ ﺳﮯ ؟
۴۲۔ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﮐﻮ ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ : ﺟﺎﻣﻮﺱ: ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﻟﻔﻆ ﻧﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ
ﮨﮯ ﻧﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ، ﺩﻭﺩﮪ ، ﺩﮨﯽ ، ﮔﮭﯽ ، ﻟﺴﯽ ،
ﭘﻨﯿﺮ ﺣﻼﻝ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺣﺮﺍﻡ ؟ ﮔﺎﺋﮯ ﭘﺮ ﻗﯿﺎﺱ ﮐﺮﮐﮯ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﻧﺺ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ
ﭘﯿﺶ ﮐﺮﯾﮟ ؟
۴۳۔ ﭼﻮﮨﺎ ﮔﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﮐﺮ ﻣﺮﺟﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ
ﮨﮯ ، ﺍﮔﺮ ﺑﻠﯽ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ، ﺧﻨﺰﯾﺮ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ، ﮐﺘﯿﺎ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ، ﭼﮭﭙﮑﻠﯽ ، ﺳﺎﻧﭗ ،
ﺑﭽﮭﻮ ، ﭼﯿﻮﻧﭩﯽ ، ﺑﮭﮍ ، ﺟﮭﯿﻨﮕﺮ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮔﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﮐﺮ ﻣﺮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ
ﺍﻥ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﻗﯿﺎﺱ ﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﮔﺎ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﻧﺺ ﺳﮯ ؟
۴۴۔ ﺍﮔﺮ ﺗﯿﻞ ، ﺩﮨﯽ ، ﺩﻭﺩﮪ ، ﺷﺮﺑﺖ ، ﺳﺮﮐﮧ ، ﺷﯿﺮﮮ، ﻟﺴﯽ، ﻋﺮﻕ
ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﮨﺎ ﮔﺮ ﮐﺮ ﻣﺮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﮐﺴﯽ ﺻﺮﯾﺢ ﻧﺺ
ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮔﮭﯽ ﭘﺮ ﻗﯿﺎﺱ ﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟
۴۵۔ ﮐﯿﺎ ﺑﯿﻊ ﺍﻟﻌﻨﺐ ﺑﺎﻟﺰﺑﯿﺐ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ؟ ﮐﺴﯽ ﻧﺺ ﺳﮯ ﯾﺎ ﺑﯿﻊ ﺍﻟﺮﻃﺐ
ﺑﺎﻟﺘﻤﺮ ﭘﺮﻗﯿﺎﺱ ﮐﺮﮐﮯ ؟
۴۶۔ ﺯﯾﺪ ﻧﮯ ﺯﯾﻨﺐ ﮐﻮ ﺗﯿﻦ ۳ ﺷﺮﻋﯽ ﻃﻼﻗﯿﮟ ﺩﯾﮟ ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮑﺮ ﺳﮯ
ﻧﮑﺎﺡ ﮐﯿﺎ ، ﭘﮭﺮ ﺑﮑﺮ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﺩﮮ ﺩﯼ ، ﺍﺏ ﺯﯾﻨﺐ ﻋﺪﺕ ﮔﺰﺍﺭ ﮐﺮ
ﺯﯾﺪ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﺮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ؟ ﯾﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ، ﻟﯿﮑﻦ
ﺍﮔﺮ ﺑﮑﺮ ﻧﮯ ﻃﻼﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ ﺯﯾﻨﺐ ﻧﮯ ﺧﻠﻊ ﮐﺮﺍﻟﯽ ﯾﺎ ﺑﺬﺭﯾﻌﮧ ﻋﺪﺍﻟﺖ
ﻧﮑﺎﺡ ﻓﺴﺦ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺏ ﻋﺪﺕ ﮔﺰﺍﺭ ﮐﺮ ﺯﯾﺪ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﺮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ
ﻧﮩﯿﮟ ؟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﮐﺴﯽ ﺻﺮﯾﺢ ﻧﺺ ﺳﮯ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻣﺤﺾ ﻃﻼﻕ
ﭘﺮﻗﯿﺎﺱ ﺳﮯ؟
۴۷۔ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺳﻮﻧﮯ ، ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﮯ
ﺑﺮﺗﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ ، ﺍﺏ ﺳﻮﻧﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﮯ ﺑﺮﺗﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﮯ
ﮐﺮ ﻭﺿﻮ ﯾﺎ ﻏﺴﻞ ﮐﺮﻧﺎ ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﯿﻞ ﻟﮕﺎﻧﺎ ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﻠﻢ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﻨﺎ ،
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﻼﺋﯽ ﺳﮯ ﺳﺮﻣﮧ ﻟﮕﺎﻧﺎ ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻄﺮ ﺩﺍﻧﯽ ﺳﮯ ﻋﻄﺮ ﭼﮭﮍﮐﻨﺎ
ﺣﻼﻝ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺣﺮﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﯿﻞ ﻧﺺ ﺻﺮﯾﺢ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻣﺤﺾ ﻗﯿﺎﺱ ؟
۴۸۔ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻭﺭﻕ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ؟ ﺩﻟﯿﻞ ﮐﻮﺋﯽ
ﻧﺺ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﯿﺎﺱ ؟
۴۹۔ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻨﺠﺎﺀ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ۔ ﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﭙﮍﮮ ، ﭨﺸﻮ ﭘﯿﭙﺮ ، ﺭﻭﺋﯽ ، ﺍﻭﻥ ، ﮔﮭﺎﺱ ،
ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﭘﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻨﺠﺎﺀ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﭘﺎﮎ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ؟
ﺩﻟﯿﻞ ﮐﻮﺋﯽ ﺻﺮﯾﺢ ﻧﺺ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﺘﮭﺮ ﭘﺮ ﻗﯿﺎﺱ ؟
۵۰۔ ﻟﻮﻧﮉﯼ ﺯﻧﺎ ﮐﺎ ﺍﺭﺗﮑﺎﺏ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻧﺼﻒ ﺣﺪ ﮨﮯ ، ﺯﺍﻧﯽ ﻏﻼﻡ ﭘﺮ
ﺑﮭﯽ ﻧﺼﻒ ﺣﺪ ﮨﻮﮔﯽ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﺺ ﺳﮯ ﯾﺎ ﻗﯿﺎﺱ ﺳﮯ ؟
۵۱۔ ﻏﻼﻡ ﻣﺮﺩ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ، ﺁﺯﺍﺩ
ﻣﺮﺩ ﭘﺮ ﻗﯿﺎﺱ ﮐﺮﮐﮯ ﯾﺎ ﺻﺮﻑ ﺩﻭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﺣﺪ ﭘﺮ ﻗﯿﺎﺱ ﮐﺮﮐﮯ ،
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻗﻮﻝ ﭘﺮ ﺍﺟﻤﺎﻉ
ﮨﻮﮔﯿﺎ ۔ ﺁﭖ ﻧﺺ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﯾﮟ ؟
۵۲۔ ﻏﻼﻡ ﺗﯿﻦ ﻃﻼﻗﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺩﻭ ﮐﺎ ﯾﺎ ﮈﯾﮍﮪ ﮐﺎ ،
ﺟﻮﺍﺏ ﻧﺺ ﺳﮯ ﺩﯾﮟ ﻧﮧ ﮐﮧ ﻗﯿﺎﺱ ﺳﮯ ؟
۵۳۔ ﻟﻮﻧﮉﯼ ﮐﯽ ﻃﻼﻕ ﮐﯽ ﻋﺪﺕ ﺗﯿﻦ ﺣﯿﺾ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺩﻭ ﺣﯿﺾ ﯾﺎ ﮈﯾﮍﮪ
ﺣﯿﺾ ، ﺟﻮﺍﺏ ﻧﺺ ﺻﺮﯾﺢ ﺳﮯ ﺩﯾﮟ ، ﻗﯿﺎﺱ ﻧﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ؟
۵۴۔ ﺟﻨﺒﯽ ﮐﻮ ﻏﺴﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮧ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻤﻢ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ
ﮨﮯ ، ﺣﺎﺋﻀﮧ ﯾﺎ ﻧﻔﺎﺱ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﭘﺎﮎ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﻏﺴﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮧ
ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﻤﻢ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ؟ ﮐﺴﯽ ﺻﺮﯾﺢ ﻧﺺ ﺳﮯ ﯾﺎ ﺟﻨﺒﯽ ﭘﺮ
ﻗﯿﺎﺱ ﮐﺮﮐﮯ ؟
۵۵۔ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﺗﺐ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺭﮨﻦ ﺭﮐﮫ ﻟﻮ ،
ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻦ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ؟ ﮐﺲ ﻧﺺ ﺳﮯ ؟
ﺍﮔﺮ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﻦ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﻮﮔﺎ ﯾﺎ
ﻧﮩﯿﮟ؟ ﺟﻮﺍﺏ ﺻﺮﯾﺢ ﻧﺺ ﺳﮯ ﺩﯾﮟ ؟
۵۶۔ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﺎﺧﺎﻧﮧ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﮐﺮ ﻭﺿﻮ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭘﺎﻧﯽ
ﻧﮧ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺗﯿﻤﻢ ﮐﺮﻟﻮ ، ﺍﮔﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﯾﺎ ﺧﺮﻭﺝ ﺭﯾﺢ ﯾﺎ ﺧﺮﻭﺝ ﻣﺬﯼ ﯾﺎ ﻗﮯ
ﯾﺎ ﺧﻮﻥ ﺑﮩﻨﮯ ﺳﮯ ﯾﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﺬﮨﺐ ﭘﺮ ﻣﺲ ﺫﮐﺮ ﯾﺎ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﻧﮯ
ﺳﮯ ﻭﺿﻮ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﯿﻤﻢ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺯ ﻧﺺ ﺳﮯ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻗﯿﺎﺱ ﺳﮯ ؟
۵۷۔ ﺍﮔﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﭘﯿﺎﺱ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺁﭨﺎ ﮔﻮﺩﮬﻨﮯ ﮐﻮ
ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮧ ﺑﭽﮯ ﮔﺎ ﯾﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﯾﺎ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﮐﺎ
ﺧﻄﺮﮦ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺗﯿﻤﻢ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﯿﻞ ﻧﺺ ﺻﺮﯾﺢ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ
ﻗﯿﺎﺱ ؟
۵۸۔ ﺍﮔﺮ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﭼﯿﺰ ﻣﯿﮟ ﻣﮑﮭﯽ ﮔﺮ ﮐﺮ ﻣﺮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﮐﺎ
ﺣﮑﻢ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ۔ ﺍﮔﺮ ﻣﮑﮭﯽ ، ﻣﭽﮭﺮ ، ﭼﯿﻮﻧﭩﯽ ، ﺑﮭﮍ ، ﺟﮕﻨﻮ
ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺩﻭﺩﮪ ، ﺷﻮﺭﺑﮯ، ﺳﺮﮐﮯ ، ﻋﺮﻕ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ
ﻧﺺ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﺎ ﻗﯿﺎﺱ ﺳﮯ ؟
۵۹۔ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻗﺮﺽ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻧﺼﺎﺏ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ
ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺩﻭ ﻣﺮﺩ ﯾﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺩ ﺩﻭ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ، ﺍﺏ ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻣﯿﺮﺍﺙ ، ﻭﺻﯿﺖ ، ﺍﻣﺎﻧﺖ ، ﻏﻀﺐ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﻣﺎﻟﯽ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ
ﻧﺼﺎﺏ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﯾﮩﯽ ﮨﻮﮔﺎ ؟ ﺗﻮ ﻧﺺ ﺳﮯ ﯾﺎ ﻗﯿﺎﺱ ﺳﮯ ؟
۶۰۔ ﮐﺘﮯ ﮐﮯ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﭘﺎﮎ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﻮ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ۔ ﺧﻨﺰﯾﺮ ، ﺷﯿﺮ ،
ﭼﯿﺘﺎ ، ﺑﮭﯿﮍﯾﺎ ، ﺑﻨﺪﺭ ، ﮔﯿﻨﮉﺍ ، ﮔﯿﮉﺭ ، ﻟﻮﻣﮍﯼ ، ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺩﺭﻧﺪﻭﮞ ﮐﮯ
ﺟﮭﻮﭨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻗﯿﺎﺱ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﯾﺎ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻧﺎﻡ ﺑﻨﺎﻡ
ﺻﺮﯾﺢ ﻧﺺ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ؟
۶۱۔ ﻣﻨﺪﺭﺟﮧ ﺑﺎﻻ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﻥ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ
ﮐﮯ ﭘﯿﺸﺎﺏ ، ﭘﺎﺧﺎﻧﮯ ، ﻗﮯ ، ﺧﻮﻥ ، ﭘﺴﯿﻨﮯ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﭘﺎﮎ ﯾﺎ ﻧﺎﭘﺎﮎ ﮨﻮﻧﮯ
ﮐﯽ ﻧﺎﻡ ﺑﻨﺎﻡ ﺻﺮﯾﺢ ﻧﺼﻮﺹ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﻗﯿﺎﺱ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻟﯿﺎ
ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ؟
۶۲۔ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮔﺮﺍﻣﯽ ! ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺣﺪﯾﺜﻮﮞ ﭘﺮ
ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺩﺍﻋﯽ ﻓﺮﻗﮧ ﺍﮨﻠﺤﺪﯾﺚ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﻗﯿﺎﺱ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﮐﮯ
ﻣﺸﺮﮎ ﺑﻨﺎ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﻗﯿﺎﺱ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﮎ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺟﻮ ﺣﻨﻔﯽ ﮨﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﯾﮧ ﻗﯿﺎﺱ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﺸﺮﮎ ﺑﺘﻼﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ۔ ﺑﮭﻼ ﯾﮧ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻏﯿﺮﻣﻘﻠﺪ ﺍﮔﺮ ﻗﯿﺎﺱ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﯾﮟ
ﺗﻮ ﺍﮨﻠﺤﺪﯾﺚ ﮐﮩﻼﺋﯿﮟ ۔ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﺟﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ، ﮨﻮﺵ
ﻣﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ۔
۶۳۔ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﯽ ﺁﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺼﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ
ﺟﻦ ﺳﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ
ﻣﺎﻣﻮﮞ ، ﭼﭽﺎ ، ﺗﺎﯾﺎ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﻥ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﻓﺮﺽ ﮨﻮﮔﺎ
ﯾﺎ ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﮧ ﺟﻦ ﺳﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﻣﺤﺮﻡ ﮨﯿﮟ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ
ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻭﺟﮧ ﭼﭽﺎ ،ﻣﺎﻣﻮﮞ ، ﺗﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ
ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﺣﺼﺮ ﮐﻮ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺳﮯ
ﺑﮭﯽ ﭘﺮﺩﮦ ﻓﺮﺽ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﺎ؟
۶۴۔ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ( ﺍﻑ) ﮐﮩﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﺏ
ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﮮ ، ﭘﯿﭩﮯ ﯾﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺗﮭﻮﮐﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺁﯾﺖ
ﮐﯽ ﺩﻻﻟﺖ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﻮﮔﺎ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ؟ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺩﻻﻟۃﺍﻟﻨﺺ ﮐﻮ
ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ؟
۶۵۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺩﻻﻟۃﺍﻟﻨﺺ ، ﺍﺷﺎﺭۃﺍﻟﻨﺺ ، ﺍﻗﺘﻀﺎﺀﺍﻟﻨﺺ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﻮ
ﺍﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﻣﻊ ﻣﺎﻧﻊ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ؟
۶۶۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﺱ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ
ﺍﮨﻞ ﻗﯿﺎﺱ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ، ﺍﮨﻠﺤﺪﯾﺚ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮ ؟
۶۷۔ ﺣﻨﻔﯽ ، ﺷﺎﻓﻌﯽ ، ﻣﺎﻟﮑﯽ ، ﺣﻨﺒﻠﯽ ﺑﻮﻗﺖ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻗﯿﺎﺱ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﺘﮯ
ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺍﺻﻮﻝ ﻓﻘﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ۔ ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﻗﯿﺎﺱ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﻣﺴﻠﻤﮧ ﮐﺘﺐ ﺍﺻﻮﻝ ﻓﻘﮧ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺩﯾﮟ ۔ ﯾﮧ
ﮐﺐ ﻟﮑﮭﯽ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺩﺍﺧﻞ
ﻧﺼﺎﺏ ﮨﯿﮟ ؟
۶۸۔ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﺍﺭﺑﻌﮧ ﻗﯿﺎﺱ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﯽ ﻓﻘﮧ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ
ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺩﺍﺧﻞ ﻧﺼﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﺍﺭ ﻓﺘﻮﯼ ﮨﯿﮟ ، ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﻗﯿﺎﺱ ﮐﻮ
ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺴﻠﻤﮧ ﮐﺘﺐ ﻓﻘﮧ ﺟﻮ ﺩﺍﺧﻞ ﻧﺼﺎﺏ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﺍﺭ
ﻓﺘﻮﯼ ﮨﻮﮞ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ؟
۶۹۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﻣﺠﺘﮩﺪ ﮐﯽ ﺷﺮﺍﺋﻂ ﻭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﺍﺭﺑﻌﮧ ﻣﯿﮟ
ﻣﺴﻠﻢ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﮐﭽﮫ ﮐﻢ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ؟
۷۰۔ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﺍﺋﻂ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﮐﺎﻣﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ
ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺑﻌﺾ ﻣﯿﮟ ؟
۷۱۔ ﺍﺋﻤﮧ ﺍﺭﺑﻌﮧ ﮐﺎ ﻣﺠﺘﮩﺪ ﮨﻮﻧﺎ ﺩﻟﯿﻞ ﺷﺮﻋﯽ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺟﻤﺎﻉ ﺍﻣﺖ ﺳﮯ
ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ ، ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﮯ ﻣﺠﺘﮩﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺍﮨﻞ
ﺍﻟﺴﻨۃ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩ ﮐﺎ ﺟﺎﻣﻊ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ، ﺍﻥ ﮐﯽ
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ؟
۷۲۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻗﯿﺎﺳﺎﺕ ﻗﻄﻌﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻇﻨﯽ ، ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﻗﻄﻌﯽ ﺍﻭﺭ
ﻇﻨﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ، ﺑﺎﺣﻮﺍﻟﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ۔
۷۳۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﺠﺘﮩﺪﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ؟ ﺍﮔﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺣﻖ ﭘﺮ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺍﯾﮏ ﮐﻮ ﺣﻖ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺑﺎﻃﻞ
ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ؟
۷۴۔ ﺍﺱ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﻼﻓﯽ ﺍﺻﻮﻝ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺲ
ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﻣﺤﺾ ﺍﺗﺒﺎ ۔

مکمل تحریر >>