Pages

Sunday, 6 December 2020

دیوبندیوں سے گستاخانہ عبارات کے علاوہ ہمیں یہ اختلاف بھی ہمیشہ ہی رھا ہے کہ یہ لوگ انبیاء واولیاء کی شان کا انکار بڑے دھڑلے سے کرتے ہیں*

https://chat.whatsapp.com/CwHd4mEFkmUJq9BZWP88R2

*دیوبندیوں سے گستاخانہ عبارات کے علاوہ ہمیں یہ اختلاف بھی ہمیشہ ہی رھا ہے کہ یہ لوگ انبیاء واولیاء کی شان کا انکار بڑے دھڑلے سے کرتے ہیں*
 لیکن افسوس کہ یہ باتیں اپنے گھروں کے چوہڑوں چماروں کے حق میں بھی ثابت کرتے ہیں ۔ لیجیے اس کا ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے:

سرحد میں جہاد کے نام پر فساد کرنے اور غیور پٹھانوں کے ھاتھوں کتے کی موت مرنے والا اسمٰعیل دھلوی قتیل بالاکوٹی اپنی رسوائے زمانہ کتاب "تقویۃ الایمان" میں سورهٔ لقمان کی آخری آیات جن میں علوم خمسہ کا بیان ہے، نقل کر کے لکھتا ہے کہ:

"اور اسی طرح جو کچھ مادہ کے پیٹ میں ہے اس بھی کوئی نہیں جان سکتا کہ ایک ہے یا دو، نر ہے یا مادہ، کامل ہے یا ناقص، خوبصورت ہے یا بد صورت ۔"
 📘(تقویۃ الایمان، ص 32)

*اور دوسری کتاب "تاریخ مشائخ چشت" میں ان کے سڑک چھاپ تبلیغی گدھوں کا مشہور مولبی زکریا کاندھلوی لکھتا ہے کہ:*

"خواجہ ابو محمد کی ہمشیرہ بھی نہایت بزرگ متقیہ تھیں ہر وقت یادِ الٰہی میں مشغول رہتی تھیں ۔ جس کی وجہ سے نکاح کی بھی رغبت نہیں ہوتی تھی ۔ ایک مرتبہ خواجہ ابو محمد ان کے پاس آئے اور فرمایا ہمشیرہ تمہارے پیٹ سے ایک لڑکے کا وجود جو ایک وقت میں قطب الأقطاب ہونے والا ہے مقدر ہو چکا ہے اور وہ بلا نکاح ممکن نہیں اس لیے تم نکاح کر لو ۔"
 📘(تاریخ مشائخ چشت، ص 156 مکتبة الشیخ، بہادر آباد کراچی)

*اسمٰعیل دھلوی نے تقویۃ الایمان کی مذکورہ عبارت پر "فصل دوسری بیان میں برائی شرک فی العلم" کی فصل قائم کی ہے یعنی اس کے نزدیک تو انبیاء واولیاء کے حق میں ما فی الأرحام کے علم کا عقیدہ رکھنے والا مشرک ہے لیکن یہی "شرک" دیوبند وسہارنپور کی چاردیواری میں پہنچ کر عین ایمان اور کرامت بن گیا ۔*
مکمل تحریر >>

Friday, 21 August 2020

ماتم کی ابتداء کس نے کی تھی___ ؟

ماتم کی ابتداء کس نے کی تھی___ ؟ 

*سب سے پہلے ابلیس نے ماتم کیا تھا:*

علامہ شفیع بن صالح شیعی عالم لکھتا ہے کہ شیطان کو بہشت سے نکالا گیا تو اس نے نوحہ (ماتم) کیا۔

*حدیث پاک میں ہے کہ* غناء ابلیس کا نوحہ ہے۔ یہ ماتم اس نے بہشت کی جدائی میں کیا۔
اور رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا:
*ماتم کرنے والا کل قیامت کے دن کتے کی طرح آئے گا اور آپ نے یہ بھی فرمایا: کہ ماتم اور مرثیہ خوانی زنا کا منتر ہے۔*

*(شیعہ کی معتبر کتاب مجمع المعارف حاشیہ حلیۃ المتقین، ص 142، ص 162، اور حرمت غنا مطبوعہ تہران طبع جدید)*

👈🏿 امام حسین رضی ﷲ عنہ کا پہلا باقاعدہ ماتم کوفہ میں آپ کے قاتلوں نے کیا

(جلاء الیون ص 424-426 مطبوعہ ایران)

👈🏿 پھر دمشق میں یزید نے اپنے گھر کی عورتوں سے تین روزہ ماتم کرایا

(جلاء العیون ص 445 مطبوعہ ایران)

*ابن زیاد نے آپ کے سر مبارک کو کوفہ کے بازاروں میں پھرایا۔ کوفہ کے شیعوں نے رو رو کر کہرام برپا کر دیا۔*

*نوٹ 😗

*حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے قاتل رافضی شیعہ ہی ہیں 👇🏼*

*👈🏿 شیعوں کی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ کوفہ والوں کو روتا دیکھ کر سیدنا امام زین العابدین نے فرمایا:*

ان ہولاء یبکون علینا فمن قتلنا غیرہم ۔

*ترجمہ 😗 یہ سب خود ہی ہمارے قاتل ہیں اور خود ہی ہم پر رو رہے ہیں ۔

(احتجاج طبرسی، جلد 2، ص 29)

*👈حضرت سیدہ طاہرہ زینب نے فرمایا: کہ تم لوگ میرے بھائی کو روتے ہو__؟*
*ایسا ہی سہی۔ روتے رہو، تمہیں روتے رہنے کی کھلی چھٹی ہے۔ کثرت سے رونا اور کم ہنسنا۔ یقینا تم رو کر اپنا کانا پن چھپا رہے ہو۔ جبکہ یہ بے عزتی تمہارا مقدر بن چکی ہے۔ تم آخری نبی کے لخت جگر کے قتل کا داغ آنسوئوں سے کیسے دھو سکتے ہو جو رسالت کا خزانہ ہے اور جنتی نوجوانوں کا سردار ہے*

(احتجاج طبرسی ج 2، ص 30)

*👈 اسی طرح شیعہ کی کتاب مجالس المومنین میں لکھا ہے کہ کوفہ کے لوگ شیعہ تھے*

(مجالس المومنین ج 1، ص 56)

*کیا شیعوں نے امام حسین کو چھوڑ دیا تھا__؟*

*👈 امام حسین رضی ﷲ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے فرمایا : کہ*
*مجھے خبر ملی ہے کہ مسلم بن عقیل کو شہید کر دیا گیا ہے اور شیعوں نے ہماری مدد سے ہاتھ اٹھا لیا ہے جو چاہتا ہے ہم سے الگ ہوجائے، اس پر کوئی اعتراض نہیں*

(جلاء العیون ص 421، مصنفہ ملا باقر مجلسی، منتہی الاعمال
 مصنفہ شیخ عباس قمی ص 238)
مکمل تحریر >>

Saturday, 30 May 2020

"سنی مسلمان سے شیعوں کا بغض"

براۓ مہربانی پوسٹ مکمل پڑھیں......!

"سنی مسلمان سے شیعوں کا بغض"

📝محمد اسد رضا قادری

محترم قارئین کرام!
آج میں آپکو بتاتا ہوں کہ بظاہر شیعہ سنی بھائ بھائ
کا نعرہ لگانے والے بدباطن کس طرح سنیوں
سے بغض رکھتے ہیں۔
جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ اہل تشیع حضرات
صحابہ کرام اور انکے ماننے والوں کو اپنا ازلی
دشمن سمجھتے ہیں۔ نیز خود کو مومن اور اپنے
علاوہ سب مسلمانوں کو ناصبی کہتے ہیں۔
لہذا شیعہ مجتہد سید نعمت اللہ جزائری
امام جعفر صادق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ پر جھوٹ
باندھتے ہوۓ لکھتے ہیں کہ امام جعفر صادق
رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:
"ناصبی وہ ہے جو اے شیعہ تمہیں اچھا نہ سمجھتا
ہو۔ اور تم سے بغض و عداوت رکھتا ہو۔ ناصبی کی علامت
یہ ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ پر
دوسروں کو فضیلت دیتا ہو"۔
(الانوارالنعمانیة، ج2 ص 307)

چونکہ مولا علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی تمام
صحابہ بلکہ انبیاء کرام پر بھی افضلیت کا عقیدہ
فقط اہل تشیع کا ہی ہے لہذا اہل تشیع نے امام جعفر
صادق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا نام استعمال کرکے 
تمام مسلمانوں کو ناصبی قرار دے دیا۔ 

اچھا جی بات صرف ناصبی ہونے تک نہیں رکی
بلکہ انکے نزدیک تمام سنی کافر بھی ہیں۔
لہذا شیعوں کی معتبر کتاب "الاستبصار ج3 ص 184"
پر درج ہے کہ
"کسی نے امام محمد باقر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے
پوچھا کہ کیا کسی شیعہ عورت کا نکاح کسی ناصبی
یعنی سنی سے ہو سکتا ہے؟؟
تو آپ نے فرمایا: نہیں ! لان الناصب کافر
یعنی تمام ناصبی کافر ہیں"
نیز
"ناصبی سے نہ نکاح کرو نہ نکاح دو نہ انکا
ذبیحہ کھاؤ اور نہ انکے ساتھ رہن سہن اختیار کرو"

دیکھا آپ نے کہ کس طرح یہ شیعہ اہلسنت والجماعت
پر ناصبی ہونے کی تہمت لگا کر انکی تکفیر کر رہے
ہیں۔ مزید روایات ملاحظہ کیجۓ
چنانچہ شیعوں کی معتبر کتاب
"روضة الکافی ج8 ص 135" پر درج ہے کہ
"سارے لوگ حرام کی اولاد ہیں یا فرمایا
زانی و بدکار ہیں سواۓ ہم شیعوں کے"

ایک اور جگہ شیعوں نے سنیوں سے بغض 
کا اظہار کرتے ہوۓ امام جعفر صادق کے سر پر ملبہ
ڈالا اور یہاں تک لکھ دیا کہ امام نے فرمایا:
"وہاں غسل نہ کرو جہاں غسل کا پانی گرتا
اور جمع ہوتا ہے کیونکہ وہاں ولد الزنا #سنی
کا دھوون ہوتا ہے اور سنی، ولد الزنا سے بھی
بدتر ہے۔ یہ یقینی بات ہے کہ خدا نے کوئ مخلوق
کتے سے زیادہ بری نہیں پیدا کی اور سنی خدا
کے ہاں کتے سے بھی زیادہ ذلیل و خوار ہیں"
(حق الیقین 516)

اسی کتاب "حق الیقین ص 537" پر درج ہے کہ
سنی اور مشرک یکساں ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں
"اس شیعی ایمان کے مقابل کفر ہے اس میں تمام مذاہب
باطلہ کے سب فرقے شامل ہیں جیسے عام کفار
منافقین مشرکین اور #سنی مسلمان"

سابقہ پوسٹ کے بعد میں سوچ رہا تھا کہ
ایک طرف پوری امت مسلمہ ہے جو حضورﷺ
کی احادیث پر بھروسہ رکھے ہوۓ ہے
کہ قرب قیامت میں امام مہدی کفر کو ختم کرکے
اسلامی نظام رائج کریں گے
جبکہ دوسری طرف یہ مخصوص گروہ ہے جو
امام مہدی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مسلمانوں
کا ہی قتل عام کروانا چاہتا ہے۔
پھر ذہن میں انکی تاریخ گھوم گئ کہ دراصل اس
فرقے کا بانی ہی ایک یہودی تھا تو عقائد و نظریات
میں مسلمانوں کا مخالف ہونا تو انکے لۓ واجب ہے۔

بہر حال سابقہ پوسٹ کی طرح اس پوسٹ میں
ملاحظہ فرمائیں کہ شیعوں نے امام مہدی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ
پر کتنا سخت جھوٹ باندھا ہے۔۔۔۔
چنانچہ ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں کہ
"ان القائم یھدم مسجد الحرام حتی یردہ الی اساسه
والمسجد النبوی الی اساسه"
ترجمہ:  "امام قائم مسجد حرام کو مسمار کریں گے
اور اسے بنیاد تک لوٹادیں گے اور اسی طرح مسجد
نبوی کو بھی اسکی بنیاد تک لوٹا دیں گے"

(بحار الانوار338/52، الغیبة للطوسی، 282)

کسی شیعہ کا منہ کھلے اور صحابہ کرام پر گند نہ
بکے، ایسا ممکن ہی نہیں۔ لہذا خود تو یہ لوگ
شیخین کریمین کی گستاخی کرکے جہنم کے
حقدار بنتے ہی ہیں۔ مگر امام مہدی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ
کو بھی انہوں نے شیخین کا دشمن ثابت کرنے
کی ناکام کوشش کی ہے
چنانچہ اسی کتاب میں ملا باقی مجلسی لکھتے ہیں
"امام قائم پہلا کام یہ کریں گے کہ قبروں سے
ان دونوں یعنی ابو بکر و عمر کی لاش کو بالکل
#تازہ حالت میں باہر نکالیں گے اور دونوں کو ہوا
میں اڑا دیں گے اور مسجد نبوی کو ڈھا دیں گے"

(بحارالانوار، 338/52)

محترم قارئین!
مجلسی صاحب توہین کرتے کرتے بھی بے خبری
میں شیخین کی افضلیت کا اعتراف کرگۓ
ذرا لفظ #تازہ پر غور کریں۔۔۔۔۔
قبر میں ہزاروں سال بعد بھی لاشیں یا تو انبیاء
کرام کی تازہ رہتی ہیں یا شہداء و اولیاء کی۔
شیخین کو ہم نبی نہیں مانتے 
لیکن انہیں شہید مانو، ولی مانو یا ایک عام سا نیک
پارسا مسلمان، بہر حال افضلیت تو ثابت ہوگئ😊

محترم عاشقان صحابہ و اہلبیت!
ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ جو قوم
سنی مسلمانوں سے اتنا بغض رکھتی ہو،
سنیوں کو کافر، حرامی اور کتے سے بدتر
سمجھتی ہو کیا ان سے کسی خیر کی توقع
کی جا سکتی ہے؟؟؟؟؟
ہر گز نہیں۔ تو کیوں چند دوستیاں اور رشتے داریاں
نبھانے کیلۓ ہم اپنے عقیدے کا سودا کرلیتے ہیں؟؟؟؟اللہ کریمﷻ بدمذہبوں سے محفوظ فرماۓ
آمین 
مکمل تحریر >>

Saturday, 11 January 2020

درود شریف

بسْــــــــــــــــــمِ اﷲِالرَّحْمَنِ اارَّحِيم

إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

الصلوة والسلام عليك يارسول الله ﷻ ﷺ وعلى الك واصحابك ياحبيب الله ﷻ ﷺ

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

بسم الله الرحمن الرحيم

إنّ اللَّهَ ومَلَائِكَتهُ يُصَلُّون على النبيِّ ياأيُّها ٱلّذين آمنُوا صَلُّواْ عَلَيهِ وسلِّمُوا تَسْلِيمًا

الصلاه و السلام علیك یا سیدی یا رسول الله ﷺ 

الصلاة و السلام علیك یا سیدی یا حبیب الله ﷺ

اللهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ طَلعَةِ شَمسِ الأَسرَارِ الرَّبَّانِيَّةِ وعَلَى آلِهِ وَصَحبِهِ وَسَلِّم

اَلصَّلاَةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حبيبَ اللّٰهِ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِىَّ اللّٰهِ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خليل اللّٰهِ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا صَفِىَّ اللّٰهِ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَلِىَّ اللّٰهِ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَيْرَ خَلْقِ اللّٰه ﷺ،

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نُورَ عَرْشِ اللّٰهِ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدَ اْلاَوَّلينَ وَاْلاٰخِرينَ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا شَفيعَ الْمُذْنِبِينَ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَاتَمَ النَّبِيينَ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَحْمَةً لِلْعَالَمينَ ﷺ

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا اِمَامَ الْمُتَّقِينَ ﷺ
مکمل تحریر >>

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم مبارک کے ذکر پر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنا نہ صرف جائز بلکہ مستحب عمل ہے۔ یہ عمل خلیفہ رسول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سنت ہے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم مبارک کے ذکر پر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر رکھنا نہ صرف جائز بلکہ مستحب عمل ہے۔ یہ عمل خلیفہ رسول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سنت ہے۔ امام سخاوی رحمۃ اللہ علیہ ’المقاصد الحسنۃ (1 : 384، رقم : 1021)‘ میں فرماتے ہیں :

’’مؤذن سے اذان میں اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِسن کر انگشتانِ شہادت کے پورے جانبِ باطن سے چوم کر آنکھوں پر ملنا اور یہ پڑھنا چاہیے : اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُه وَرَسُوْلُه، رَضِيْتُ بِاﷲِ رَبًّا وَبِالاِسْلَامِ دِيْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا (میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اور میں اللہ کے رب ہونے پر، اِسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوں۔‘‘

دیلمی نے اس حدیث کو الفردوس بماثور الخطاب میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جب انہوں نے مؤذن کواَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ کہتے ہوئے سنا تو یہ دعا پڑھی، اور دونوں انگشتانِ شہادت کے پوروں کو چوم کر آنکھوں سے ملا۔ یہ دیکھ کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’جس نے میرے پیارے دوست کی طرح عمل کیا، اس پر میری شفاعت حلال ہوگئی۔‘‘

ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اگر یہ عمل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے تو اس پر عمل کرنا کافی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے : ’’تم پر میرے بعد میری سنت اور سنتِ خلفائے راشدین لازم ہے۔‘‘

عجلونی، کشف الخفاء، 2 : 270، رقم : 2296

ائمہ فقہاء بھی اذان میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک سن کر انگوٹھے چومنے کو مستحب قرار دیتے ہیں۔

علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ اپنے مشہور و معروف فتاویٰ رد المحتار علی الدر المختار میں فرماتے ہیں :

’’مستحب ہے کہ اذان کی پہلی شہادت سننے پر صَلَّی اﷲُ عَلَيْکَ يَارَسُوْلَ اﷲِ اور دوسری شہادت سننے پر قُرَّةُ عَيْنِی بِکَ يَارَسُوْلَ اﷲِ کہا جائے، اور پھر اپنے دونوں انگوٹھوں کے ناخن چوم کر اپنی آنکھوں پر رکھ کر کہو : اَللّٰهُمَّ مَتِّعْنِیْ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ کیونکہ بے شک حضور نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا کرنے والے کو اپنے پیچھے جنت میں لے جائیں گے۔‘‘

ابن عابدين شامی، رد المحتار، 1 : 398

علامہ طحطاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں :

’’قہستانی نے کنز العباد سے نقل کیا ہے کہ بے شک جب اذان میں پہلی بار اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ سنے تو اس کے جواب میں صَلَّی اﷲُ عَلَيْکَ يَارَسُوْلَ اﷲِ کہے اور دوسری بار سنے تو دونوں انگوٹھوں کے ناخن چومتے ہوئے یہ کہے :قُرَّهُ عَيْنِی بِکَ يَارَسُوْلَ اﷲِ، اَللّٰهُمَّ مَتِّعْنِی بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ. ایسا کرنا مستحب ہے اور بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا کرنے والے کو جنت میں اپنے ساتھ لے جائیں گے۔‘‘

طحطاوی، حاشيه علی مراقی الفلاح شرح نور الايضاح، 1 : 138

علامہ عبد الحئی لکھنوی   لکھتے ہیں :

’’جاننا چاہیے کہ اذان میں پہلی شہادت سن کر صَلَّی اﷲُ عَلَيْکَ يَارَسُوْلَ اﷲِ اور دوسری شہادت سن کر قُرَّةُ عَيْنِیْ بِکَ يَارَسُولَ اﷲِ اور پھر دونوں انگوٹھوں کے ناخن آنکھوں پر رکھ کر اَللّٰهُمَّ مَتِّعْنِیْ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ کہنا مستحب ہے۔ پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شخض کو جنت میں لے جائیں گے۔ ایسا ہی کنز العباد میں ہے۔‘‘

عبد الحی لکهنوی، مجموعه فتاوی، 1 : 189

واللہ اعلم و رسولہ اعلم ۔
مکمل تحریر >>

Tuesday, 24 December 2019

کرسمس،چند شبہات کا ازالہ*

*کرسمس،چند شبہات کا ازالہ*

کرسمس کی مبارک باد دینے کے حوالے سے کل،  ایک پوسٹ پڑھنے کا اتفاق ہوا-

جس میں لکھا تھا کہ کرسمس کی مبارک باد دینا جائز ہے، کیونکہ مذہبی تہواروں کی مبارکباد دینا آج کی دنیا کی ایک سماجی روایت بن چکی ہے-

ھندو عیسائی بھی مسلمانوں کو عید مبارک کہتے ہیں ایساکرنے سے وہ مذہب سے خارج نہیں ہوتے تو مسلمان کرسمس کی مبارکباد دیدے تو کون سی بری بات ہے؟

ہم اس حوالے سے اپنا موقف پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں:

 *کرسمس سراسر شرک پر مبنی تہوار ہے*  

 کرسمس کا مفہوم ہے (معاذاللہ!) “اللہ کے بیٹے مسیح کی پیدائش کی خوشی اور اس خوشی کی تقریبات” حالانکہ قرآن پاک کا صاف اعلان ہے کہ اللہ  تعالی کی ذات اولاد سے پاک ہے- (لم یلد ولم یولد) ثابت ہوا کہ کرسمس ایک شرکیہ عقیدے پر مبنی تہوار ہے- اب ایسے شرکیہ تہوار کا موازنہ پاکیزہ اسلامی عیدوں سے کرنا، ایک نہ سمجھ میں آنے والی بات ہے-
 نبی کریم علیہ السلام سے بڑھ کر کوئی رواداری کرنے والا اور سماجی رسوم وروایات کو سمجھنے والا نہیں ہوسکتا-
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سالہ مکی دور میں جب اسلام ،موجودہ دور سے بھی زیادہ کسمپرسی اور کمزوری کی حالت میں تھاکبھی ملکی و قومی اتحاد کی خاطر شرکیہ تہواروں میں شرکت نہیں کی،
مشرکوں نے پیش کش کی کہ ایک دن ہم آپ کے معبود کی عبادت کرلیاکریں گے، بدلے میں ایک دن آپ ہمارے بت خانے میں آکر بتوں کی عبادت کرلیا کریں! لیکن اس نازک اور صبر آزما دور میں بھی عقیدے کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا، بلکہ (لکم دینکم ولی دین) کا اعلان فرمایاگیااور قرآن نےواضح کردیا کہ (لئن اشرکت لیحبطن عملک) معلوم ہوا کہ شرک اور مظاہر شرک کی تائید و ترویج ایک ایسا عمل ہے جو کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہوسکتا،

حالانکہ اسلام ضرورت اور مجبوری کے احوال میں تخفیف کا قائل ہے لیکن شرک اور مظاہرشرک کے حوالے سے ذرہ برابر لچک نہیں دیتا- تاکہ شرک بالکل ہی نابود ہوجاۓ!

 پھر شرکیہ تہواروں کی مبارک باد دینا چاروں فقہی مسالک میں حرام ہے

اور جب کسی مسئلہ پر ائمہ اربعہ کا اجماع ہوتو اس کے مقابلے میں چوں چراں کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی-
مکمل تحریر >>

Tuesday, 5 November 2019

ناف پر دلچسپ معلومات : صدقہ جاریہ سمجھ کر شیئیر کریں

#ناف پر دلچسپ معلومات  : صدقہ جاریہ سمجھ کر شیئیر کریں 

ناف اللہ سبحان و تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص تحفہ ھے ۔  62 سال کی عمر کے ایک بوڑھے آدمی کو  لیفٹ آنکھ سے صحیح نظر نہیں آ رہا تھا - خاص طور پر رات کو تو اور نظر خراب ھو جاتی تھی ۔ 
ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ آپ کی آنکھیں تو ٹھیک ہیں - 
بس ایک پرابلم ھے - کہ جن رگوں سے آنکھوں کو خون فراہم ھوتا ھے - وہ سوکھ گئی ہیں ۔
سائنس کے مطابق سب سے پہلے اللہ کی تخلیق انسان میں ناف بنتی ھے - جو پھر ایک کارڈ کے ذریعے ماں سے جڑ جاتی ھے ۔ اور اس ہی خاص تحفے سے جو باظاہر ایک چھوٹی سی چیز ھے - ایک پورا انسان فارم ھو جاتا ھے ۔ سبحان اللہ 

#ناف کا سوراخ ایک حیران کن چیز ھے : - ☆ 

سائنس کے مطابق ایک انسان کے مرنے کے تین گھنٹے بعد تک ناف کا یہ حصہ گرم رہتا ھے - وجہ اس کی یہ بتائی جاتی ھے - کہ یہاں سے بچے کو ماں کے ذریعے خوراک ملتی ھے ۔ بچہ پوری طرح سے 270 دن میں فارم ھو جاتا ھے - یعنی 9 مہینے میں ۔
یہ وجہ ھے - کہ ہماری تمام رگیں اس مقام سے جڑی ھوتی ہیں ۔ اس کی اپنی ایک خود کی زندگی ھوتی ھے ۔
پیچوٹی ناف کے اس سوراخ کے پیچھے موجود ھوتی ھے -  جہاں تقریبا 72،000 رگیں موجود ھوتی ہیں ۔ ہمارے جسم وجود رگیں - اگر پھیلائی جائیں تو زمین کے گرد دو بار گھمائی جا سکتی ہیں ۔

#علاج : - ☆

آنکھ اگر سوکھ جائے - صحیح نظر نا آتا ھو - 
پتہ صحیح کام نا کر رہا ھو - پاؤں یا ھونٹ پھٹ جاتے ھوں -  چہرے کو چمک دار بنانے کے لیے - بال چمکانے کے لیے - گھٹنوں کے درد - سستی - جوڑوں میں درد، سکن کا سوکھ جانا -

#طریقہ علاج : - ☆ 

آنکھوں کے سوکھ جانا - صحیح نظر نہیں آنا - گلونگ کھال اور بال کے لیے روز رات کو سونے سے پہلے تین قطرے خالص دیسی گھی کے یا ناریل کے تیل کے ناف کے سوراخ میں ٹپکائیں اور تقریبا ڈیرھ انچ سوراخ کے ارد گرد لگائیں ۔

گھٹنوں کی تکلیف دور کرنے کے لیے تین قطرے ارنڈی کے تیل کے تین قطرے سوراخ میں ٹپکائیں اور  ارد گرد لگائیں جیسے اوپر بتایا ھے ۔

کپکپی اور سستی دور کرنے کے لیے اور جوڑوں کے درد میں افاقہ کے لیے اور سکن کے سوکھ جانے کو دور کرنے کے لیے سرسوں کے تیل کے تین قطرے اوپر بتائے گئے طریقے کے مطابق استعمال کریں -

#ناف کے سوراخ میں تیل کیوں ڈالا جائے - ☆

ناف کے سوراخ میں اللہ نے یہ خاصیت رکھی ھے - 
کہ جو رگیں جسم میں اگر کہیں سوکھ گئی ہیں - 
تو ناف کے ذریعے ان تک تیل پہنچایا جا سکتا ھے ۔ 
جس سے وہ دوبارہ کھل جاتی ہیں -

بچے کے پیٹ میں اگر درد ھو تو ہینگ پانی اور تیل میں مکس کر کے ناف کے ارد گرد لگائیں چند ہی منٹوں میں ان شاءاللہ اللہ کے کرم سے آرام آ جائے گا ۔ 

#تناو کی کمی کے لئے ناف میں : - ☆

 آب پیاز بیس گرام - 
روغن ذیتون آدھ پاو - 
میں جلا کے لگانے سے یہ مسلہ حل ھو جاتا ھے - 
ناف کے اندر اور باہر مالش کرنے سے - 

#برائے کان کے لئے  : - ☆ 

کانوں میں سائیں سائیں کی آواز آتی ھو - 
تو سرسوں کے تیل پچاس گرام میں تخم ہرمل دو عدد پیس کر ناف میں پندرہ دن لگانے سے سائیں سائیں کی آواز آنا ختم ھو جاتی ھے ۔ 

#قوت سماعت کے لئے : - ☆ 

قوت سماعت کی کمی دور کرنے کے لئے - 
سرسوں کے پچاس گرام تیل میں دار چینی پیسیں - 
بیس گرام جلا کے وہ تیل ناف میں لگانے سے قوت سماعت میں بہتری آتی ھے ۔

#پیٹ کا پھولنا : - ☆

پچاس گرام سرسوں کے تیل میں بیس گرام کلونجی کا تیل ملا کے ہلکا گرم کر کے ٹھنڈا کر کے لگانے سے دو ماہ میں پیٹ کنٹرول ھو جاتا ھے  ☆

بڑا قبض کشا نسخہ ھے - 
اگر نہانے کے بعد روغن زیتون ناف میں لگا دیں - 
 تو الرجی اور زکام نہیں ھوتا -

(ذرا غور کیجیے جو علم آپ تک پہنچا وہ امانت ھے ان لوگوں کی جو لاعلم ہیں لہذا یہ امانت اس کے حقدار تک پہنچانے کے لٸے سبھی اپنا اپنا فرض ادا کریں۔۔۔۔
مکمل تحریر >>