Pages

Thursday, 20 June 2019

کیاا اللہ کے سوا کسی کو الہ (معبود) جانے بغیر پکارنا بھی شرک ہے؟*

*کیاا اللہ کے سوا کسی کو الہ (معبود) جانے بغیر پکارنا بھی شرک ہے؟*

قرآن کریم ارشاد ہے

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ۔ المائدة،( 5 : 55

’’بیشک تمہارا ولی (دوست، مددگار) تو اﷲ اور اس کا رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہی ہے اور وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ (اﷲ کے حضور عاجزی سے) جھکنے والے ہیں۔‘‘                         

ایک مقام پر ارشاد ہے

سورہ التحريم،( 66:4)فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ

’’بیشک اللہ اُن کا دوست و مددگار ہے، اور جبریل اور صالح مومنین بھی اور اس کے بعد فرشتے بھی مددگار ہیں۔‘‘

ایک دوسری جگہ ارشاد

وَمَا نَقَمُواْ إِلاَّ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ

"ان کو اللہ اور رسول نے غنی یعنی مالدار کر دیا. "( 9 : 74)

نبی پاک علیہ السلام نے اپنے ِصحابی ربیعہ بن کعب رضی اللّٰہ عنہ سے خوش ہو کر فرمایا " مانگو کیا مانگتے ہو؟ انہوں نے عرض کی (اسئلک)  آپ سے مانگتا ہوں جنت میں آپ کی رفاقت. فرمایا کچھ اور مانگنا ہے؟ عرض کی بس یہی.  فرمایا کثرت نوافل سے میری مدد کر. (مسلم شریف کتاب الصلاۃ)

مشکوۃ شریف کے دونوں شارحین ملا علی قاری اور شیخ عبدالحق محدث دھلوی اد حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی علیہ السلام  جس کو جو چاہیں اللہ کے حکم سے عطا فرما دیں. (آج تک کسی نے دونوں بزرگوں کو شرک کہا ہو تو ہمارے علم میں بھی لایا جائے جبکہ سنی اور وہابیوں کے دونوں گروہ یعنی دیوبندی اور اہلحدیث ان کی کتب سے استفادہ کرتے ہیں۔)

ام المومنین حضرت میمونہ بنت ہارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک صبح رسول اللہ ﷺ تہجد کی نماز کے لئے وضو فرما رہے تھے کہ اچانک آپ نے لبیک لبیک لبیک فرمایا اور اس کے فوراً بعد نصرت نصرت نصرت فرمایا، میں نے عرض کی یا رسول اللہ اس کا سبب کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ”عمر بن سالم رضی اللہ عنہ اپنے سفر سے مدینہ کی جانب واپس آرہے ہیں اور راستے میں انہیں قریش مکہ سے حملہ کا خطرہ محسوس ہوا اور انہوں نے مجھے مدد کے لئے پکارا اور کہا کہ یارسول اللہ میری مدد فرمایئے اور میں جواب میں یہ کہہ رہا تھا لبیک لبیک لبیک (میں نے تمہاری مدد کردی)“ ۔( معجم صغیر لطبرانی،جلد دوم)

یہ روایت بانیء فرقہ وہابیہ محمد بن عبدالوھاب نجدی کے بیٹے عبداللہ بن محمد بن عبدالوھاب نجدی نے اپنی کتاب "مختصر سیرت الرسول " میں بھی لکھی ہے جو مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور میں صفحہ 333 پر اور جامعہ العلوم الاثریہ جہلم  سے چھپنے والی کتاب کے صفحہ 528 پر بھی موجود ہے۔ یاد رہے کہ تین دن کی مسافت سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو فریاد کی گئی اور آپ علیہ السلام نے سماعت فرمائی

حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے دور میں قحط پڑھ گیا.  حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللّٰہ عنہ حضور علیہ السلام کی قبر انور پر حاضر ہوئے اور عرض کی.  یا رسول اللہ اپنی امت کے لیے بارش کی دعا مانگیے کیونکہ ہم لوگ ھلاک ہوئے جا رہے ہیں. خواب میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا.  عمر رضی اللّٰہ عنہ کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ لوگوں کے لیے بارش کی دعا مانگے.  انہیں بارش دی جائے گی اور انہیں کہو کے اِحتیاط کا دامن مضبوطی سے پکڑے رہیں.  وہ صحابی رضی اللّٰہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ماجرا سنایا.  حضرت عمر رو دئیے.  اور کہا یا اللہ : میں اپنی بساط بھر کوتاہی نہیں کرتا. (الاستیعاب علامہ قرطبی)                   

فارق اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے دور میں 18 ھجری میں دوبارہ قحط واقع ہوا. حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللّٰہ عنہ سے انکی قوم بنو مزینہ نے کہا,  ہم  مرے جا رہے ہیں. کوئ بکری ذبح کیجیے.  فرمایا بکریوں میں کچھ نہیں رکھا.  اصرار پر ایک بکری ذبح کی,  جب کھال کھینچی تو نیچے سرخ ہڈی تھی.  یہ دیکھ کر حضرت بلال مزنی رضی اللّٰہ عنہ نے پکارا.       یا محمداہ!  رات ہوئ تو خواب میں دیکھا رسول اللہ علیہ السلام فرما رہے ہیں تمھیں زندگی مبارک ہو.(البدایہ والنہایہ ابن کثیر جلد 7 ص 91)

حضرت اوس بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ شریف میں قحط آیا. لوگوں نے امی عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے شکایت کی.  آپ رضی اللّٰہ عنہا نے فرمایا. " نبی اکرم علیہ السلام کے مزار مبارک کو دیکھو اور آسمان کی طرف اس کا روشن دان کھول دو تاکہ اس کے اور آسمان کے درمیان چھت حائل نہ رہے.  انہوں نے ایسا ہی کیا.  اتنی بارش ہوئی کہ سبزہ اگا,  اونٹ موٹے ہو گئے حتی کہ چربی سے انکے بدن پھٹنے لگے یعنی بہت فربہ ہو گئے.  چنانچہ اس سال کا نام عام الفتق رکھ دیا گیا. ".(سنن دارامی جلد اول، باب ما اکرم اللہ تعالیٰ نبیہ بعد موتہ، رقم الحدیث 92)

امام طبرانی ایک طویل حدیث نقل فرماتے ہیں کہ" حضرت عثمان بن حنیف بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے کسی کام سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جاتا تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور نہ اس کے کام کی طرف دھیان دیتے تھے ایک دن اس شخص کی حضرت عثمان بن حنیف سے ملاقات ہوئی اس نے ان سے اس بات کی شکایت کی حضرت عثمان بن حنیف نے اس سے کہا کہ تم وضو خانہ جاکر وضو کرو اور پھر مسجد میں جاو اوردو رکعت نماز اد اکرو پھر یہ کہو کہ اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور ہمارے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کے واسطے سے آپ کے رب عزوجل کی طرف متوجہ ہوا ہوں تاکہ وہ میری حاجت روائی کرے اور اپنی حاجت کا ذکر کرنا پھر میرے پاس آنا حتی کہ میں تمہارے ساتھ جاوں وہ شخص گیا اور اس نے اس پر عمل کیا پھر وہ حضرت عثمان بن عفان کے پاس گیا دربان نے ان کےلئے دروازہ کھولا اور انہیں حضرت عثمان بن عفان کے پاس لے گیا حضرت عثمان نے انہیں اپنے ساتھ مسند پر بٹھالیا اور پوچھا کہ تمہارا کیا کام ہے اس نے اپناکام ذکر کردیا حضرت عثمان نے اس کا کام کردیا اور فرمایا کہ تم نے اس سے پہلے اپنے کام کا ذکر نہیں کیا تھا اور فرمایا کہ جب بھی تمہیں کوئی کام ہو تو تم ہمارے پاس آجانا پھر وہ حضرت عثمان کے پاس سے چلاگیا اور جب اس کی حضرت عثمان بن حنیف سے ملاقات ہوئی تو کہا کہ اللہ تعالی آپ کو جزائے خير عطا فرمائے حضرت عمارن میری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور میرے معاملہ میں غور نہیں کرتے تھے حتی کہ آپ نے ان سے میری سفارش کی حضرت عثمان بن حنیف نے کہا بخدا میں نے ان سے کوئی سفارش نہیں کی لیکن ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور اس نےاپنی نابینائی کی شکایت کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اس پر صبر کرو گے اس نےکہا یا رسول اللہ مجھے راستہ دیکھا نے والا کوئی نہیں ہے اور مجھے بڑی مشکل ہوتی ہے تو رسول اللہ نے فرمایا کہ تم وضو خانے جاؤ اوروضو کرو پھر دورکعت نماز پڑھو پھر ان کلمات سے دعا کرو حضرت عثمان بن حنیف فرماتے ہیں کہ ہم الگ نہیں ہوئے تھے اور نہ ابھی زیادہ باتیں ہوئی تھیں کہ وہ نابینا شخص اس حال میں آیا کہ اس میں بالکل نابینائی نہیں تھی۔

(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث نمبر 8311

شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام     الباب الثامن فی التوسل صفحہ 371، دار الکتب العلمیۃ

احمد بن حسين البيهقي نے دلائل النبوۃ للبہیقی  میں اور

امام جلال الدین سیوطی نے  الخصائص الکبری میں اس حدیث کو نقل فرمایا ہے 

حافظ زکی الدین عبد العظیم نے الترغیب والترہیب میں او رحافظ الہیثیمی نے مجمع الزوائد میں

اس حدیث کو بیان کرکے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے 

بلکہ ابن تیمیہ نےکہ جو غیر مقلدین کے امام ہیں اس حدیث کی سند کوفتاوی ابن تیمیہ جلد ۱ صفحہ ۲۷۳مطبوعہ با مر فہد بن عبد العزیز آل السعود میں صحيح کہا ہے) 

جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے ساتھ فوج کی تعداد ساٹھ ہزار تھی.  جبکہ مسلمانوں کی تعداد کم تھی.  مقابلہ بہت سخت تھا.  ایک وقت نوبت یہاں تک پہنچی کہ مسلمان مجاہدین کے پاؤں اکھڑنے لگے.  حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰہ عنہ  سپہ سالار تھے.  انہوں نے یہ حالت دیکھی تو انہوں نے مسلمانوں کی علامت کے ساتھ ندا کی. یا محمداہ اور جنگ کا پانسہ پلٹ گیا. (البدایہ والنہایہ جلد 6 صفحہ 324).

حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے  حضرت کعب بن ضمرہ رضی اللّٰہ عنہما کو ایک ہزار کا لشکر دے کر حلب کی طرف روانہ کیا.  جب وہ حلب پہنچے تو یوقنا پانچ ہزار افراد کے ساتھ حملہ آور ہوا.  مسلمان جم کر لڑے اتنے میں پانچ ہزار اورں نےحملہ کر دیا.  اس خطرناک صورتحال میں حضرت کعب بن جمرہ نے جھنڈا تھامے ہوئے بلند آواز سے نعرہ لگایا یا محمد!  یا محمد یا نصراللہ انزل.  یا محمد یا محمد اے اللہ کی مدد نزول فرما. مسلمان ان کے گرد جمع ہو گئے اور کمال ثابت قدمی سے لڑے اور فتح پائی. (فتوح الشام,  جلد 1 ص 96).

ایسے ہی فتح بہسنا میں ایک دن رات بھر لڑائ ہوتی رہی اور مسلمانوں کا شعار تھا یا محمد یا محمد جا نصر اللہ انزل پکارنا تھا.(فتوح الشام جلد 2)

علامہ ابن کثیر حضرت ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ کے کے زمانہ خلافت کے احوال لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ "اس زمانہ کا شعار یا محمداہ پکارنا تھا".)البدایہ والنہایہ جلد 6 ص 324 مطبوعہ دارلفکر بیروت).

امام عبدالرحمن بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا.  آپ رضی اللّٰہ عنہ کا پاؤں سن ہو گیا.  میں نے عرض کی اسے پکاریئے جو آپ کو سب سے محبوب ہے.  انہوں نے کہا یا محمد.  وہ اسی وقت بھلے چنگے ہو گئے گویا قید سے آزاد کر دیے گئے ہوں.(کتاب الاذکار باب مایقول اذا اخدرت,  امام نووی صفحہ 271 ).

حضرت زینب بنت مولا علی رضی اللّٰہ عنہما نے کربلا کی اسیری میں پڑھا. "یا محمداہ یا محمداہ صل علیک و ملک السماہ ھذا حسین بالعراہ........... ان کی پرسوز آواز نے ہر اپنے بیگانے کا رلا دیا. (البدایہ والنہایہ جلد 8 ص 193).

امام زین العابدین  اپن مشہور نعتیہ قصدہ میں فرماتے ہیں.

یارحمۃ للعالمین ادرک الذین العابدین.

محبوس  ایدی الظالمین فی موکب المذدہم

ترجمہ : اے رحمۃ للعالمین زین العابدین کی مدد کو پہنچو.  وہ اژدھام میں ظالموں کی قید میں ہے.

امیرالمؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالاربنا کر نہاوند کی سرزمین میں جہاد کے لیے روانہ فرمادیا۔ آپ جہاد میں مصروف تھے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجدنبوی کے منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ناگہاں یہ ارشاد فرمایا کہ یَاسَارِیَۃُ الْجَبَل (یعنی اے ساریہ!پہاڑکی طرف اپنی پیٹھ کرلو) حاضرین مسجد حیران رہ گئے کہ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو سرزمین نہاوند میں مصروف جہاد ہیں اورمدینہ منورہ سے سینکڑوں میل کی دوری پر ہیں۔آج امیر المؤمنین نے انہیں کیونکر اورکیسے پکارا ؟ لیکن نہاوند سے جب حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قاصد آیا تو اس نے یہ خبر دی کہ میدان جنگ میں جب کفار سے مقابلہ ہوا تو ہم کو شکست ہونے لگی اتنے میں ناگہاں ایک چیخنے والے کی آواز آئی جو چلا چلا کریہ کہہ رہا تھا کہ اے ساریہ ! تم پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو ۔ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز ہے، یہ کہا اورفوراً ہی انہوں نے اپنے لشکر کو پہاڑ کی طرف پشت کر کے صف بندی کا حکم دیا اور اس کے بعد جو ہمارے لشکر کی کفار سے ٹکر ہوئی تو ایک دم اچانک جنگ کا پانسہ ہی پلٹ گیا اوردم زدن میں اسلامی لشکرنے کفار کی فوجوں کو روندڈالا اورعساکر اسلامیہ کے قاہرانہ حملوں کی تاب نہ لاکر کفار کا لشکر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور افواج اسلام نے فتح مبین کا پرچم لہرا دیا۔ (مشکوٰۃ باب الکرامات ، بیہقی،  طبرانی ،ابو نعیم وتاریخ الخلفاء)

حضرت امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سرزمین روم میں مجاہدین اسلام کا ایک لشکر بھیجا ۔ پھر کچھ دنوں کے بعد بالکل ہی اچانک مدینہ منورہ میں نہایت ہی بلندآواز سے آپ نے دو مرتبہ یہ فرمایا : یَالَبَّیْکَاہُ!یَالَبَّیْکَاہُ!  (یعنی اے شخص! میں تیری پکار پر حاضر ہوں)اہل مدینہ حیران رہ گئے اوران کی سمجھ میں کچھ بھی  آیا کہ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کس فریاد کرنے والے کی پکار کا جواب دے رہے ہیں؟ لیکن جب کچھ دنوں کے بعد وہ لشکر مدینہ منورہ واپس آیا اوراس لشکر کا سپہ سالاراپنی فتوحات اور اپنے جنگی کارناموں کاذکر کر نے لگا تو امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ان باتوں کو چھوڑدو! پہلے یہ بتاؤ کہ جس مجاہد کو تم نے زبردستی دریا میں اتاراتھا اوراس نے یَاعُمَرَاہُ! یَاعُمَرَاہُ!  (اے میرے عمر!میری خبرلیجئے ) پکارا تھا اس کا کیا واقعہ تھا. سپہ سالارنے فاروقی جلال سے سہم کر کانپتے ہوئے عرض کیا کہ امیر المؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے اپنی  دریا کے پار اتارنا تھا اس لئے میں نے پانی کی گہرائی کا اندازہ کرنے کے لیے اس کو دریا میں اترنے کا حکم دیا ،چونکہ موسم بہت ہی سرد تھا اور زور دار ہوائیں چل رہی تھیں اس لئے اس کو سردی لگ گئی اوراس نے دو مرتبہ زور زور سے  یَا عُمَرَاہُ! یَاعُمَرَاہُ! کہہ کر آپ کو پکارا،پھر یکایک اس کی روح پرواز کر گئی ۔ خدا گواہ ہے کہ میں نے ہرگز ہرگز اس کو ہلاک کرنے کے ارادہ سے دریا میں اترنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ جب اہل مدینہ نے سپہ سالارکی زبانی یہ قصہ سناتو ان لوگوں کی سمجھ میں آگیا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دن جو دو مرتبہ یَالَبَّیْکَاہُ! یَالَبَّیْکَاہُ! فرمایا تھا درحقیقت یہ اسی مظلوم مجاہد کی فریاد وپکارکا جواب تھا ۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سپہ سالارکا بیان سن کر غیظ وغضب میں بھر گئے اورفرمایاکہ سر دموسم اور ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں میں اس مجاہد کودریا کی گہرائی میں اتارنا یہ قتل خطا کے حکم میں ہے ،لہٰذا تم اپنے مال میں سے اس کے وارثوں کو اس کا خون بہا ادا کرواورخبردار! خبردار!آئندہ کسی سپاہی سے ہرگز ہرگز کبھی کوئی ایسا کام نہ لینا جس میں اس کی ہلاکت کا اندیشہ ہوکیونکہ میرے نزدیک ایک مسلمان کا ہلاک ہوجانا بڑی سے بڑی ہلاکتوں سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر ہلاکت ہے۔( ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء للشاہ ولی اللہ)۔

حصن حصین جو کہ امام جزری رحمہ اللہ کی مرتب کردہ ہے جس میں انہوں نے مسنوں دعائیں اور ازکار جمع کیے ہیں. ان کے فرمان کے مطابق اس کتاب میں سب کچھ صحیح یعنی مستند ہے. حصن حصین تمام مکاتب فکر کے نزدیک معتبرترین مسنون وظائف کی کتاب ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے امام جزری سے اس کی اجازت لی تھی۔ اسی حصن حصین میں امام جزری رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں. "جب مدد لینا چاہے تو کہے اے اللہ کے بندو میری مدد کرو,  اے اللہ کے بندو میری مدد کرو,  اے اللہ کے بندو میری مدد کرو ". (حصن حصین ص 22).

حصن حصین کی شرح میں ملا  علی قاری اس روایت کے تحت فرماتے ہیں کہ "اللہ کے بندوں سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا مسلمان,  یا جن یا رجال الغیب یعنی ابدال" مزید فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے اور مسافروں کو اس کی بڑی حاجت ہے.  اگر جنگل میں جانور بھاگ جائے تو آواز دو کہ اے اللہ کے بندو اسے روکو".(الحرزالثمین شرح حصن حصین. صفحہ 202 مطبوعہ مکۃ المکرمہ سعودیہ)

یہ کتاب عموما حاجیوں کو تحفہ میں دی جانے والی کتابوں میں بھی شامل ہوتی ہے.

 اولیاءاللہ کی دور و نزدیک سے تصرف کرنے کی قوت

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا  ہے :جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اُس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں اور میرا بندہ ایسی کسی چیز کے ذریعے میرا قرب نہیں پاتا جو مجھے فرائض سے زیادہ محبوب ہو اور میرا بندہ نفلی عبادات کے ذریعے برابر میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں (اللہ تعالی) اس (بندے) کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔اگر وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں. اور اگر وہ میری پناہ مانگتا ہے تو میں ضرور اسے پناہ دیتا ہوں.

(البخاري في الصحيح، کتاب : الرقاق، باب : التواضع، 5 / 2384، الرقم : 6137، وابن حبان في الصحيح، 2 / 58، الرقم : 347، والبيهقي في السنن الکبري، 10 / 219، باب (60)، وفي کتاب الزهد الکبير، 2 / 269، الرقم : 696

امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ سورہ کہف کی آیت نمبر 9 کے تحت فرماتے ہیں کہ

"جب بندہ نیکیوں کی پابندی کرتا ہے تو اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے۔ کہ میں اس بندے کی سمع و بصر ہو جاتا ہوں پس جب نورِ جلالت اس کا سمع ہو جاتا ہے تو وہ دور و نزدیک سے سنتا ہے اور جب یہ نور اس کی بصر ہو جاتا ہے تو وہ دور و نزدیک سے دیکھتا ہے اور جب یہ نور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے تو وہ بندہ مشکل و آسان،  دور و نزدیک امور  میں بھی تصرف کرنے پر قادر ہوتا ہے۔" تفسیر کبیر.

انور شاہ کشمیری دیوبندی نے بھی اپنی شرح بخاری میں اس حدیث کی یہی شرح کی ہے۔  تاوقت کسی نے امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ اور کشمیری صاحب پر شرک کا الزام نہیں لگایا.

اس بات کو علامہ اقبال نے یوں بیان کی ہے.

ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مؤمن کا ہاتھ

غالب و کار آفریں کارکشا کار ساز

جو لوگ یہ کہتے پھرتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور اولیاءاللہ رحمہم اللہ کی کرامات میں انکا اپنا کچھ عمل دخل نہیں ہوتا اور انہیں کوئی اختیار نہیں ہوتا وہ "سورہ ص" کی ان آیات مبارکہ کو بغور پڑھ کر اپنے عقیدہ کی اصلاح کر لیں۔

فَسَخَّرْنَا لَـهُ الرِّيْحَ تَجْرِىْ بِاَمْرِهٖ رُخَـآءً حَيْثُ اَصَابَ (36)

ترجمہ: پھر ہم نے ہوا کو اس کے تابع کر دیا کہ وہ اس کے حکم سے بڑی نرمی سے چلتی تھی جہاں اسے پہنچنا ہوتا

وَالشَّيَاطِيْنَ كُلَّ بَنَّـآءٍ وَّغَوَّاصٍ (37

اور شیطانوں کو جو سب معمار اور غوطہ زن تھے۔

وَاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِى الْاَصْفَادِ(38)

اور دوسروں کو جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔

هٰذَا عَطَـآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَيْـرِ حِسَابٍ (39)

یہ ہماری بخشش ہے پس احسان کر یا اپنے پاس رکھ کوئی حساب نہیں۔

بعض اوقات جب انبیاء کرام علیہم السلام و اولیاء کرام رحمہم اللہ کے عطائی تصرفات کا قرآن و حدیث سے واضح ثبوت پیش کر دیا جائے تو منکرین حضرات کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو اللہ کے دینے سے ہیں۔ تو جناب آپ کو کس نے کہا کہ مسلمان ان تصرفات کو انبیاء کرام علیہم السلام و اولیاءاللہ رحمہم اللہ کے لیے ذاتی مانتے ہیں بلکہ اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ یہ سب اللہ کی عطا،  اذن اور ارادہ سے ہے اور ہر آن اللہ کے قبضہ و قدرت میں ہے۔ تو پھر مسلمانوں پر ان تصرفات کے ذاتی ماننے کا الزام کیوں دھرا جاتا ہے؟  بقول شاعر

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات اُن کو بہت ناگوار گزری ہے

کیا دور سے دیکھ لینے یا سن لینے کا عقیدہ رکھنا شرک ہے؟

احادیث مبارکہ کے مطابق جنت ساتویں آسمان پر ہے لیکن جنتی حور وہاں سے اپنے مستقبل میں ہونے والے دنیوی شوہر کے احوال کا مشاہدہ کرتی ہے جیسا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "جب عورت اپنے شوہر کو دنیا میں ایذا دیتی ہے تو حورِ عین کہتی ہے خدا تجھے قتل کرے اسے ایذا نہ دے یہ تو تیرے پاس مہمان ہے عنقریب تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آئے گا". (ابن ماجہ،  کتاب النکاح،  باب فی المراۃ توذی زوجھا۔ الحدیث: 2014)

اسی طرح جنت ساتویں آسمان پر اور جہنم ساتوں زمینوں کے نیچے ہے لیکن قرآن کریم کے مطابق جنتی اور جہنمی ایک دوسرے کے ساتھ مقاملہ بھی کریں گے اور احوال کا مشاہدہ بھی۔

اس طرح کی بیسیوں مثالیں دی جا سکتی ہیں لھذا یہ بھی وہابیہ کا من گھڑت عقیدہ ہے.

غیر اللہ کے لئے کون سی پکار شرک ہے

عقیدہ توحید کیوں کہ اسلام کی بنیاد ہے اور اسی پر باقی تمام عقائد و امور کی بنیاد کھڑی ہے لھذا اللہ کریم نے ہر گز توحید و شرک کو ناقابل فہم اور موشگافیوں سے پرُ کر کے بیان نہیں کیا کہ عام آدمی سمجھ ہی نہ سکے۔ قرآن کریم میں واضح ارشاد ہے اللہ کے ساتھ کسی کو بطور الہ یعنی معبود نہ پکارو۔ وَ لَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۘ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۟ کُلُّ شَیۡءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجۡہَہٗ ؕ لَہُ الۡحُکۡمُ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ۔   سورہ القصص 28آیت 88)

اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ پکارنا بجز اللہ تعالٰی کے کوئی اور معبود نہیں ، ہرچیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے، اسی کے لئے فرمانروائی ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔

یاد رہے کہ وہابیہ کا مسلمانوں پر شرک کا اطلاق کرنے کے لیے پکار کو دور و نزدیک،  زندہ و مردہ اور ماتحت الاسباب و مافوق الاسباب سے مقید کرنا ان کا من گھڑت اور بدعتی عقیدہ ہے جسکا قرآن و حدیث میں کہیں ذکر نہیں.
حدیث پاک میں دجال کے بہت سے فوق الاسباب تصرفات بیان کیے گئے ہیں.. کیا ان احادیث کو ماننا شرک ہے؟
دجال
"آسمان کو بارش برسانے کا حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین کو حکم دے گا تو وہ سبزہ اگائے گی۔ان کے جانور جب ان کے پاس لوٹیں گے تو ان کے کوہان بڑھ چکے ہوں گے اور تھن خوب بھرے ہوئے ہوں گے، کولہے چوڑے ہوگئے ہوں گے، پھر وہ لوگوں کے پاس آئے گااور انہیں دعوت دے گاتو لوگ اس کی دعوت کو رد کردیں گے تو وہ ان کے پاس سے واپس لوٹ جائے گااور لوگ قحط زدہ ہوجائیں گے۔ان کے ہاتھوں میں کچھ بھی مال نہیں بچے گا،اس وقت دجال ویرانے سے گزرے گا تو اس سے کہے گا اپنا خزانہ نکال تو اس کے خزانے شہد کی مکھیوں کی طرح اس کے پیچھے لگ جائیں گے"…..(صحیح مسلم)

جس عقیدہ سے دور والے اور فوت شدہ کو پکارنا شرک ہے اسی عقیدہ سے سامنے والے اور زندہ کو پکارنا بھی شرک ہے۔ اگر اسکو اللہ کا بندہ تصور نہ کیا جائے اور اسکی مدد کو اللہ کے حکم سے اور اللہ کی مدد کا مظہر نہ سمجھا جائے۔ کیونکہ ہر مدد خواہ ماں باپ،  بہن بھائی،  دوست و حاکم کریں یا انبیاء علیہم السلام و اولیاءاللہ رحمہم اللہ وہ اللہ کے حکم و ارادہ سے وقوع پذیر ہوتی ہے۔ یعنی حقیقی طور پر مددگار صرف اللہ ہے جس میں اسکا کوئی شریک نہیں نہ زندہ نہ مردہ،  نہ دور والا نہ پاس والا نہ ماتحت الاسباب نہ ما فوق الاسباب۔ مخلوق کی مدد باذن اللہ اور مجازی ہے جب اللہ کی مدد حقیقی و ذاتی ہے۔         

یہ بھی یاد رہے کہ اہلسنت انبیاء علیہم السلام اور اولیاءاللہ رحمہم اللہ سے استمداد کے فقط جواز یعنی جائز ہونے کے قائل ہیں نہ کہ اسے کوئی فرض و واجب یا اسلام کے بنیادی عقائد میں شمار کرتے ہیں لیکن وہابیت کا  یہ بنیادی اور اہم ترین عقیدہ ہے مسلمانوں پر شرک کا الزام لگانا ہے مگر بغیر قرآن وحدیث سے دلیل پیش کیے فقط خوارج کے طریقہ پر۔

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما انہیں (خوارج کو) بدترین مخلوق سمجھتے تھے اور فرماتے تھے : یہ وہ لوگ ہیں جو کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق اہلِ ایمان پر کرتے ہیں۔ (1-بخاري، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين و المعاندين و قتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين، 6 : 2539)

 ،(2. ابن عبد البر، التمهيد، 23 : 335)، (3. ابن حجر عسقلاني، تغليق التعليق، باب قتل الخوارج والملحدين، 5 : 259)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ خوارج کو اس لئے اللہ تعالیٰ کی بدترین مخلوق سمجھتے تھے کہ وہ ان آیات کو جو کفار و مشرکین کے حق میں نازل ہوئی تھیں، اہلِ ایمان پر منطبق و چسپاں کرکے انہیں کافر و مشرک ٹھہراتے تھے۔ اس لئے آیات اور الفاظِ قرآنی کا اصل مورد و محل جانے بغیر انہیں اس طرح بے باکی کے ساتھ ہر جگہ استعمال کرنا بذاتِ خود ایک بہت بڑی گمراہی ہے۔ قرآن کے ہر طالب علم کا اس گمراہی سے بچنا ضروری ہے.

"حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک مجھے جس چیز کا تم پر خدشہ ہے وہ ایک ایسا آدمی ہے جس نے قرآن پڑھا یہاں تک کہ جب اس پر اس قرآن کا جمال دیکھا گیا اور وہ اس وقت تک جب تک اﷲ نے چاہا اسلام کی خاطر دوسروں کی پشت پناہی بھی کرتا تھا۔ پس وہ اس قرآن سے دور ہو گیا اور اس کو اپنی پشت پیچھے پھینک دیا اور اپنے پڑوسی پر تلوار لے کر چڑھ دوڑا اور اس پر شرک کا الزام لگایا" راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا،اے اﷲ کے نبی صل اللہ علیہ و آلہ و سلم !  ان دونوں میں سے کون زیادہ شرک کے قریب تھا؟ جس نے الزام لگایا یا جس پر شرک کا الزام لگایا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شرک کا الزام لگانے والا۔ (الحديث رقم 25 : أخرجه ابن حبان في الصحيح، 1 / 282، الرقم : 81، والبزار في المسند، 7 / 220.)

اللہ پاک دورِ فتن میں ہمارے ایمان و عقیدہ کی حفاظت فرمائے. آمین

مکمل تحریر >>

بدمزہب وہابی دیوبند رسالت مآب سےسوال کرنےسےمانگنےسےمنع کرتےاور اسکوشرک کہتےہیں آئیےاس عقیدہ کو چند احادیث کی روشنی میں جانتےہیں.

بدمزہب وہابی دیوبند رسالت مآب سےسوال کرنےسےمانگنےسےمنع کرتےاور اسکوشرک کہتےہیں آئیےاس عقیدہ کو چند احادیث کی روشنی میں جانتےہیں.
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حَدَّثَنَا ہَشَّامُ بْنُ عَمَّارٍنَا الْھَقْلُ ابْنُ زِیَادِ نِالسَّکْسَکِیُّ نَا الْاَوْزَاعِیُّ عَنْ یَحْیَی ابْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَبِیْعَۃَ بْنَ کَعْبِ نِالْاَسْلَمِیَّ یَقُوْلُ کُنْتُ اَبِیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اٰتِیْہِ بِوَضُوْئِہٖ وَبِحَاجَتِہِ فَقَالَ سَلْنِی فَقُلْتُ مُرَافَقَتَکَ فِی الْجَنَّۃِ قَالَ اَوْغَیْرُ ذٰلِکَ قُلْتُ ہَوَ ذَاکَ قَالَ فَاَعِنِّی عَلٰی نَفْسِکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ ۔
ترجمہ: ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک رات میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت میں گزاری اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے لئے وضو اور قضائے حاجت کے لئے پانی پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ مجھ سے مانگ لو۔ پس میں عرض گزار ہوا کہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی رفاقت فرمایا کہ اس کے سوا اور کچھ؟ عرض کی کہ یہی کافی ہے۔ فرمایا کہ زیادہ سجدے کرکے میری مدد کرتے رہنا ۔ (ابو داؤد‘ عربی‘ کتاب الصلوٰۃ‘ باب وقت قیام النبی من اللیل‘ حدیث نمبر 1320‘ ص 197‘ مطبوعہ دارالسلام ‘ ریاض سعودی عرب)۔(ابو داؤد ‘ عربی اردو‘ جلد اول‘ باب وقت قیام النبی من اللیل‘ حدیث نمبر1306‘ ص 491‘مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہورپاکستان،چشتی)

مختصر تشریح : یہ روایت سنن ابو دائود کے علاوہ صحیح مسلم‘ سنن ابن ماجہ اورمعجم کبیر طبرانی میں بھی موجود ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ پروردگار عالم جل جلالہ‘ کے خلیفہ اعظم محبوب اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا دریائے کرم جوش میں آیا تو حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا۔ سل سنن ابودائود میں سلنی ہے یعنی مجھ سے مانگ لو۔ طبرانی میں ہے۔ سلنی فاعطیک مجھ سے مانگ لو میں عطا کردوں گا۔ موجودہ شرک فروش ٹولے کے بقول تو یہ فرمانا تھا کہ جو کچھ مانگنا ہو خدا سے مانگو اور ہم بھی دعا کریں گے بلکہ اس کے برعکس فرمایا کہ ہم سے مانگو میں عطا فرمادوں گا۔ گویا یہ خلافت عُظمیٰ کا اظہار فرمایا جارہاہے اور یہ بھی نہیں فرمایا کہ جو کچھ ہمارے کاشانہ اقدس میں نظر آئے اس میں سے جو جی چاہے مانگ لو۔ بلکہ فرمایا کہ جو جی میں آئے ہم سے مانگو۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کا بھی یہی عقیدہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ باری تعالیٰ جل جلالہ‘ کے خلیفہ اعظم اور ماذون و مختار ہیں لہذا دنیا و آخرت کی ہر چیز دے سکتے ہیں۔ اسی لئے حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ نے نہ صرف جنت مانگی بلکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے جنت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی رفاقت مانگی۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے مانگنا شرک ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم خود ایسا کیوں فرماتے؟ حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ کیوں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے مانگتے ؟ محدثین کرام کیوں ایسی حدیثوں کو کتب احادیث میں درج کرتے؟ کیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ کو شرک کی تعلیم دی۔ کیا حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے جنت میں رفاقت مانگ کر شرک کیا؟ کیا محدثین کرام نے ایسی حدیثوں کو اپنی کتابوں میں جگہ دے کر شرک کی نشرواشاعت کی ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ اگر توحید کے نام نہاد علمبرداروں کے نزدیک یہ شرک نہیں ہے تو ان مہربانوں کو بھولے بھالے مسلمانوں پر ترس کھاتے ہوئے توحید اور شرک کی تعریفوں پر نظرثانی کرلینی چاہئے جبکہ ایسا کرنے سے مسلمانوں کو مشرک ٹھہرا کر ان کے خرمن اتحاد میں آگ لگانے کا ابلیسی منصوبہ دریا برد ہوجائے گا اور بڑی حد تک اتفاق و اتحاد کی جانفرا ہوائیں چلنے لگیں گی ۔

اشعتہ اللمعات شرح مشکوٰۃ کے اندر اس حدیث کی شرح لکھتے ہوئے خاتم المحققین شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ (المتوفی ۱۰۵۲ھ / ۱۶۴۲ئ) نے اہل حق کی ترجمانی کا فریضہ یوں ادا کیا ۔

از اطلاق سوال کرد کہ فرمود سل بخواہ تخصیص
نکرد بمطلوبے خاص معلوم میشود کہ کار ہمہ بدست

ہمت و کرامت اوست صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم
ہر چہ خواہد وہرکہ راخواہد باذن پروردگار خود دہد

ترجمہ : مطلق سوال کرنے کے لئے فرمانا کہ مانگ لو اور کسی خاص مطلوب چیز کی تخصیص نہ کرنا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام کام نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی دست مبارک کی ہمت وکرامت سے وابستہ ہیں کہ جو چیز چاہیں اور جس چیز کے لئے چاہیں اپنے پروردگار جل جلالہ‘ کے حکم سے عطا فرمائیں۔

اسی حدیث کی شرح لکھتے ہوئے گیارہویں صدی کے مجدد برحق اور اہلسنت و جماعت کے مایہ ناز محقق و محدث علامہ علی قاری علیہ رحمتہ اللہ علیہ (۱۰۱۴ھ/۱۶۰۵ئ) نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں اس حقیقت کے چہرے سے یوں نقاب ہٹائی ہے۔

یُؤْخَذُ مِنْ اِطْلَاقِہ صَلَّی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ اﷲَ تَعَالٰی مَکَّنَہٗ مِنْ اِعْطَآئِ کُلِّ مَا اَرَادَمِنْ خَزَائِنِ الْحَقِّ ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اس مطلق حکم فرمانے سے معلوم ہورہاہے ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں مقرر فرمایا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے خزانوں سے جس کو جو چیز چاہیں عطا فرمائیں ۔

اس لئے شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اﷲعلیہ نے مسلمانوں کو یوں فہمائش کی ہے۔

اگر خیریت دنیا و عقبی آرزو داری
بدرگاہش بیاوہرچہ می خواہی تمنا کن

امام محمد بوصیری رحمتہ اﷲ علیہ نے قصیدہ بردہ شریف میں اس عقیدے کو یوں نظم فرمایا۔

فَاِنَّ مِنْ جُوْدِکَ الدُّنْیَا وَضَرَّتَھَا
وَمِنْ عُلُوْمِکَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمِ

ماضی قریب کے ایک عاشق صادق امام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ عقیدہ یوں بیان فرمایا ہے ۔

مانگیں گے‘ مانگے جائیں گے‘ منہ مانگی پائیں گے
سرکار میں نہ لا ہے نہ حاجت اگر کی ہے

حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ثَنَا اَبُو اُسَامَۃَ وَعَبْدُاﷲِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِاﷲِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدِ نِالْمَقْبُرِیِّ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْلَا اَنْ اَشُقَّ عَلٰی اُمَّتِیْ لَاَ مَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلٰوۃٍ ۔
ترجمہ: ابوبکر بن ابی شیبہ‘ ابو اسامہ ‘ عبداﷲ بن نمیر‘ عبیداﷲ بن عمر‘ سعید بن ابی سعید المقبری‘ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا۔ اگر اُمَّت کا مشقت میں پڑنا مجھ پر گراں نہ ہوتا تو انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا ۔ (سنن ابن ماجہ‘ عربی‘ باب السواک‘ حدیث نمبر 287‘ص 44‘ مطبوعہ دارالسلام‘ ریاض سعودی عرب) ۔ (سنن ابن ماجہ ‘ عربی اردو‘ جلد اول‘ باب السواک‘ حدیث نمبر304‘ ص 113‘مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہورپاکستان،چشتی)

رسول اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا یہ فرمانا کہ میں مسواک کو ہر نماز کے وقت ضروری قرار دے دیتا اس عقیدے کو ثابت کرتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو شریعت کا مختار بنایا ہے۔

مکمل تحریر >>

Saturday, 8 June 2019

کافروں ، مشرکوں ، بے دینوں ، گمراہوں اور ظالموں کے ساتھ ایسے سیاسی، سماجی و معاشرتی تعلقات جو شرعی اعتبار سے ناجائز و حرام ہیں۔*

*کافروں ، مشرکوں ، بے دینوں ، گمراہوں اور ظالموں کے ساتھ ایسے سیاسی، سماجی و معاشرتی  تعلقات جو شرعی اعتبار سے ناجائز و حرام ہیں۔*

اللہ تعالی قرآن مجید فرقان حمید کے پارہ 12، سورہ ھود کی آیت نمبر 113 میں ارشاد فرماتا ہے:

*وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ(۱۱۳)*

*ترجمہ کنزالایمان: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حمایتی نہیں پھر مدد نہ پاؤ گے۔*

تفسیر صراط الجنان:

*{وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا:اور ظالموں کی طرف نہ جھکو۔}* رُکون یعنی جھکنے کا معنی ہے قلبی میلان اور جب اس پر اتنی سخت وعید ہے تو کافروں کے ساتھ تعلقات کی اُن صورتوں میں کیا حال ہو گا جو قلبی میلان سے بڑھ کر ہیں۔
یاد رہے کہ طبعی میلان کی غیر اختیاری صورت اس آیت میں بیان کئے گئے حکم میں داخل نہیں ، چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ ’’مگر طبعی میلان جیسے ماں باپ، اولاد یا خوبصورت بیوی کی طرف ہوتا ہے، اس کی جو صورت غیر اختیاری ہو وہ اس حکم کے تحت داخل نہیں ، پھر بھی اس تصور سے کہ یہ اللہ و رسول کے دشمن ہیں ان سے دوستی حرام ہے اور اپنی قدرت کے مطابق اُسے دبانا یہاں تک کہ بن پڑے تو فنا کردینا لازم ہے ۔ (میلان کا) آنا بے اختیار تھا اور (اس کا) جانا یعنی اسے زائل کرنا قدرت میں ہے تو (اس میلان کو) رکھنا اختیار موالات ہوا اور یہ حرام قطعی ہے ، اسی وجہ سے جس غیر اختیاری (میلان) کے مبادی (یعنی ابتدائی افعال) اس نے باختیار پیدا کئے تو اس میں معذور نہ ہوگا، جیسے شراب کہ اس سے عقل زائل ہوجانا اس کا اختیاری نہیں مگر جبکہ اختیار سے پی تو عقل کا زائل ہو جانا اور اس پر جو کچھ مرتب ہو سب اسی کے اختیار سے ہوا۔
(فتاویٰ رضویہ، ج: 14، ص: 465، 466)

*خدا کے نافرمانوں سے تعلقات کی ممانعت:*

            اس سے معلوم ہوا کہ خدا کے نافرمانوں کے ساتھ یعنی کافروں ، بے دینوں ، گمراہوں اور ظالموں کے ساتھ بلاضرورت میل جول ،رسم و راہ، قلبی میلان اور محبت، ان کی ہاں میں ہاں ملانا اور ان کی خوشامد میں رہنا ممنوع ہے۔ ظالموں کے بارے میں امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’(ظالموں کے ساتھ عملی طور پر تعاون تو ظاہر ہے اور) زبانی طور پر تعاون یہ ہے کہ وہ ظالم کے لئے دعا مانگتا ہے یا اس کی تعریف کرتا ہے یا اس کے جھوٹے قول کی صراحتاً تصدیق کرتا ہے، مثلاً زبان سے اسے سچا قرار دیتا ہے یا سر ہلا دیتا ہے یا اس کے چہرے پر مُسَرَّت ظاہر ہوتی ہے یا وہ اس شخص سے محبت و دوستی ظاہر کرتا ہے ، اس سے ملاقات کا شوق رکھتا ہے اور اس کی عمر میں اضافہ اور ا س کی بقا کی حرص رکھتا ہے، ایسا شخص عام طور پر (ظالموں کو) صرف سلام ہی نہیں کرتا بلکہ (ان سے) کچھ بات چیت بھی کرتا ہے اور وہ اسی شخص کا کلام ہوتا ہے حالانکہ اس کا ظالم کی حفاظت، اس کی لمبی زندگی، اس کے لئے نعمتوں کی تکمیل اور اس طرح کی دوسری دعائیں مانگنا جائز نہیں ،اور اگر دعا کے ساتھ تعریفی کلمات بھی ہوں اور وہ ان باتوں کا ذکر کرے جو اس ظالم میں نہیں ہیں تو یہ شخص جھوٹا، منافق اور ظالم کا اعزاز کرنے والا ہے اور یہ تین گناہ ہیں ،اور اگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ا س کی باتوں کی تصدیق بھی کرے،اس کے کاموں کی تعریف کرے،اس کی پاکیزگی بیان کرے تو وہ اس تصدیق اور اِعانت کی وجہ سے گناہگار ہو گا کیونکہ ظالم کی پاکیزگی بیان کرنا اور تعریف کرنا گناہ پر مدد کرنا ہے۔(احیاء العلوم، کتاب الحلال والحرام، الباب السادس فیما یحلّ من مخالطۃ السلطان الظلمۃ ویحرم۔۔۔ الخ، ج: 2 ، ص: 179، 180)

  اَحادیث اور بزرگانِ دین کے اَقوال میں بھی ان چیزوں کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے ،چنانچہ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک اللہ تعالیٰ اس وقت ناراض ہوتا ہے جب زمین پر کسی فاسق کی تعریف کی جاتی ہے ۔(شعب الایمان، الرابع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ج:4، ص: 230 ، الحدیث: 4885)

حضرت حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’جو شخص کسی ظالم کے باقی رہنے کی دعا کرتا ہے وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جائے۔ (شعب الایمان، السادس والستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ،  ج:7، ص:53، روایت نمبر:  9432)

   امام اوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ کے ہاں اس عالم سے زیادہ ناپسندیدہ شخص کوئی نہیں جو کسی عامل (یعنی ظالم گورنر) کے پاس جاتا ہے۔ (مدارک، ھود، تحت الآیۃ: 113، ص:515)

     یہاں ایک اور بات یاد رکھیں کہ بعض حضرات کا یہ نظریہ ہے کہ ہم اپنی دنیوی ضروریات کی وجہ سے ظالموں کے اعمال پر راضی ہوتے، ان کی خوشامد و چاپلوسی کرتے اور ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ، اگر ہم ایسا نہ کریں تو ہمارے لئے اپنی دنیوی ضروریات کو پورا کرنا دشوار ہو جائے، انہیں چاہئے کہ وہ علامہ احمدصاوی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ا س کلام پر غور کر لیں ، چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ظالموں کے اَعمال سے راضی ہونے میں دنیوی ضروریات کو دلیل بنانا قابلِ قبول نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی بڑا رزق دینے والا، قوت والا اور قدرت والا ہے۔(5…صاوی، ہود، تحت الآیۃ:113، ج: 3، ص: 936)
اور جب حقیقی رازق، قوی اور قادر اللہ تعالیٰ ہے تو خود کو ظالموں کا دست نگر سمجھنا کہاں کی عقلمندی ہے۔
          نوٹ: غیر مسلموں سے تعلقات رکھنے کے حوالے سے تفصیلی معلومات کے لئے فتاویٰ رضویہ کی جلد نمبر 14 سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے رسالے’’ اَ لْمَحَجَّۃُ الْمُؤْتَمِنَۃ فِی اٰیَۃِ الْمُمْتَحِنَہ‘‘ (سورہِ ممتحنہ کی آیت کے بارے میں تفصیلی کلام)کا مطالعہ کریں۔

*{وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ:اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حما یتی نہیں۔}* یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا اور کوئی مددگار نہیں کہ تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّکے عذاب سے بچاسکے اور نہ ہی کل قیامت کے دن تمہیں کوئی ایسا ملے گا کہ جو تمہاری مدد کر سکے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے تمہیں بچا لے۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: 113، ج:2، ص: 374)

*ظالموں کے لئے نصیحت:*

    علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’یہ حال تو ان کا ہے جو ظالموں سے تعلقات اور میل جول رکھیں ، ان کے اعمال سے راضی ہوں اور ان سے محبت رکھیں اور جو خود ظالم ہو تو اس کا حال ان سے کتنا بدتر ہوگا وہ خود ہی غور کر لے۔ (خازن، ھود، تحت الآیۃ: 113، ج:2، ص: 374)

          اور امام عبداللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں ’’ایک دن حضرت موفق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے امام کے پیچھے نماز پڑھی اور جب امام نے یہ آیت’’وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا…الخ‘‘ تلاوت کی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر غشی طاری ہو گئی ، جب اِفاقہ ہوا تو ان سے (غشی کی وجہ کے بارے میں ) عرض کی گئی توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا ’’یہ ( سزا کا بیان) اُس شخص کے بارے میں ہے جو ظالم کی طرف جھکے اور جو خود ظالم ہو تو اس کا کیا حال ہو گا۔ (مدارک، ھود، تحت الآیۃ: 113، ص:515)

            ہم ظلم اور ظالموں کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں اور ہر ظالم کو چاہئے کہ وہ اپنے ظلم سے باز آ جائے اور جیتے جی ان لوگوں سے معافی مانگ لے جن پر ظلم کیا ورنہ قیامت کے دن جب ظلم کا بدلہ دینا پڑا تو انجام بہت دردناک ہوگا جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،
رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا ’’جس نے کسی کی عزت یا کسی اور چیز پر زیادتی کی ہو تو اسے چاہئے کہ اس دن سے پہلے آج ہی معافی حاصل کر لے جس دن دینار اور درہم پاس نہیں ہوں گے، اگر ظالم کے پاس نیک اعمال ہوئے تو ظلم کے برابر ان میں سے لے لئے جائیں گے اور اگر نیکیاں نہ ہوئیں تو ظلم کے برابر مظلوم کے گناہ ظالم پر ڈال دئیے جائیں گے۔
(بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب من کانت لہ مظلمۃ عند الرجل فحلّلہا لہ۔۔۔ الخ، ج:2، ص: 128، الحدیث: 2449)

مکمل تحریر >>