Pages

Thursday, 1 June 2017

( حصّہ سوم ) دیابنہ کی طرف سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کےلیئے امکان کذب(جھوٹ) ثابت کرنے کا رد

( حصّہ سوم ) دیابنہ کی طرف سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کےلیئے امکان کذب(جھوٹ) ثابت کرنے کا رد
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
استحالہ کذب باری تعالیٰ کے عقلی دلائل : اب اس دعوے (۱) کے اثبات میں چند عقلی دلائل بھی ملاحظہ ہوں۔

دلیل اول : کذب باری اگر ممکن ہے تو احد الامرین سے خالی نہیں۔ یا تو کلام نفسی میں پایا جائے گا یا نہیں؟ اگر نہیں پایا جاتا تو اس کا امکان بھی نہیں اس لئے کہ جب بھی پایا جائے گا حادث ہو کر پایا جائے گا اور قیام حوادث بذات باری تعالیٰ محال ہے۔ لہٰذا کذب کا بھی حادث ہو کر پایا جانا محال ہوا اور اگر پایا جاتا ہے تو قدیم ہی ہو کر پایا جائے گا۔ جیسا کہ ابطال شق اول میں معلوم  ہوا۔ پس ماننا پڑے گا کہ کذب قدیم ہے اور جب کذب قدیم ہوا تو دو استحالے لازم آئے۔ ایک تو یہ کہ جب کذب قدیم مان لیا تو واقع ہو گیا  دوسرے یہ کہ جب کذب قدیم ہوا تو صدق محال ہو گیا۔ وہٰذا باطل ۔

دلیل دوم : کذب باری فی نفسہٖ احد الامرین سے خالی نہیں یا تو نقص ہو گا یا نہ ہو گا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ضرور نقص ہے جیسا کہ عبارات سابقہ سے معلوم ہوا۔ لہٰذا جب نقص ہوا تو بالاتفاق محال ہو گیا۔

دلیل سوم : اگر کذب ممکن ہو تو کلام نفسی میں ضرور پایا جائے گا۔ جیسا کہ دلیل اول میں معلوم ہوا اور یہ بھی ثابت شدہ امر ہے کہ کلام لفظی کلام نفسی کی تعبیر ہے۔ جب کذب کلام نفسی میں مان لیا گیا تو کلام لفظی میں بھی ماننا پڑے گا۔ چونکہ وہ معتبر ہے اور کذب جب کلام لفظی میں ہوا تو وقوع کذب لاز م آ گیا اور یہ باطل ہے۔

ان کے علاوہ اور بھی کثیر التعداد دلائل عقلی امتناع کذب باری تعالیٰ پر قائم ہیں جن کی اس مختصر سے کتابچہ میں گنجائش نہیں ہے۔ ان شاء اللہ کسی اور موقع پر لکھی جائیں گی۔

امکان کذب پر فریق مخالف کی ایک اور دلیل اور اس کا جواب : مخالفین کا دعویٰ ہے کہ کذب تحت قدرت باری تعالیٰ داخل ہے اور اس کی دلیل میں آیت ’’اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر‘‘ ـ(اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے) پیش کرتے ہیں یعنی چونکہ کذب بھی ’’شیء‘‘ میں داخل ہے لہٰذا وہ بھی تحت قدرت داخل ہوا۔

شیء کی بحث نفیس اور اس سے امکان کذب کا رد : اس کا جواب اول تو یہ ہے کہ علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تفسیر یوں کی ہے (ان اللّٰہ علٰی کل شیء)شاء ہ (قدیر) یعنی جس چیز کو خدا چاہے اس پر قادر ہے۔ شیٔ کو بمعنی ’’مشی‘‘ قرار دیا اور کذب باری تعالیٰ کسی آیت یا حدیث یا اقوال مفسرین و متکلمین وغیرہ سے مشی ثابت نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس آیت کریمہ سے مخالفین کے دعوے کا اثبات ہو ہی نہیں سکتا۔ دوسرے یہ کہ کذب باری شیٔ بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ اس کو مَشِیْ کہا جائے۔
علامہ تفتازانی شرح عقائد نسفی میں شیٔ کی تعریف اس طرح کرتے ہیں
الشئ عندنا ہو الموجود
یعنی ہمارے نزدیک موجود کو شیٔ کہتے ہیں۔ اور دوسری جگہ فرماتے ہیں
’’والمعدوم لیس بشئ‘‘ یعنی معدوم کوئی شے نہیں۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

اب میں مخالفین سے دریافت کرتا ہوں کہ آیا کذب باری موجود ہے یا معدوم؟ اگر کہا جائے کہ وہ موجود ہے تب تو واقع ہو گیا اور اگر موجود نہیں یعنی معدوم ہے تو تعریف شیٔ میں داخل نہیں اور جب تعریف شیٔ میں داخل نہیں تو تحت قدرت کیسے ہو گا؟ پھر اس آیت سے استدلال کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟ اور اگر کہا جائے کہ شیٔ سے مراد ما یصح وجودہ ہے اور وہ امکان کے منافی نہیں۔ لہٰذا کذب تحت قدرت باری تعالیٰ داخل رہا تو ہم کہیں گے کہ شیٔ سے مراد ما یصح وجودہ لے کر اول تو اپنے اصول کو چھوڑ کر معتزلہ کے اصول کو اختیار کرنا ہے اور یہ خلاف ہے اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ شیٔ سے مراد ما یصح وجودہ لینا صحیح ہے تو مستدل (۲) کو چاہئے کہ اول تو وہ کذب کو ما یصح وجودہ ثابت کر دے پھر اس کے متعلق کچھ کلام کرے۔

صفاتِ باری تعالیٰ تحت قدرت باری تعالیٰ نہیں : اس کے علاوہ اگر کذب باری تعالیٰ کو شیٔ مان بھی لیا جائے تب بھی وہ تحت قدرت نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ کذب باری پایا جائے گا تو صفت باری تعالیٰ ہو کر پایا جائے گا۔ جب کذب صفت باری تعالیٰ ہوا تو تحت قدرت نہ ہو گا اس لئے کہ تمام حکماء اسلام کا یہ مسلمہ مسئلہ ہے کہ ذات و صفات تحت قدرت باری تعالیٰ داخل نہیں ورنہ ان کا حدوث لازم آئے گا۔ وہو ظاہر البطلان۔

پس معلوم ہوا کہ کذب باری بہرتقدیر خارج عن القدرت ہو گا۔ خواہ شے کہا جائے یا لاشے، معدوم یا موجود اور قائلین خلف وعید پر امکانِ کذب کا الزام لگایا جاتا ہے، وہ ہرگز صحیح نہیں۔ جیسا کہ ’’ما سبق‘‘ سے اظہر من الشمس ہو گیا۔

محققین خلف وعید کے قائل نہیں : اور محققین تو خلف وعید کے قائل ہی نہیں چنانچہ علامہ تفتازانی نے تصریح کی ہے ’’والمحققون علی خلافہ وکیف وہو تبدیل القول وقد قال تعالٰی مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ‘‘ اللہ تعالیٰ ایسے عقائد فاسدہ سے ہر مسلمان کو بچائے۔ (اٰمین ثم اٰمین)

فریق مخالف کی دوسری دلیل اور اس کا رد : مخالفین کہتے ہیں کہ کلام نفسی میں کذب ممتنع بالذات سہی لیکن کلام لفظی میں ممکن بالذات ہے۔ کیونکہ کلام لفظی وہ ہے جو الفاظ سے مرکب ہو اور جو الفاظ سے مرکب ہو وہ حادث اور حادث ممکن بالذات ہے اور جو ممکن ہو گا وہ بحکم ’’اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر‘‘ تحت قدرت داخل ہو گا۔ لہٰذا کلام لفظی باقسامہ تحت قدرت داخل ہوا۔ انتہیٰ

الجواب: اگرچہ اس کا جواب بھی تقریر ماسبق موجود ہے لیکن یہاں کافی وضاحت کی جاتی ہے۔ واضح ہو کہ یہ دلیل تین طریقوں سے مردود ہے۔ اول یہ کہ بجز ایک امر مشہور کے جس سے مستدل کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تمام مقدمات مخدوش ہیں۔ دوسرے یہ کہ مفید مدعی نہیں یعنی امکانِ کذب باری تعالیٰ ثابت نہیں ہوتا۔ تیسرے یہ کہ برتقدیر ثبوت اس مدعا کے مستدل کا دوسرا مدعا یوں کہیئے کہ مدعا کا دوسرا جزو غلط ٹھہرتا ہے۔ اب مستدل کے تمام مقدمات کا ابطال تفصیل سے سنیئے۔

کلام لفظی وہ ہے جو مرکب ہو الفاظ سے، ’’اقول‘‘ بعض کلام ایسے ہیں جن میں فقط ایک ہی لفظ ہے مثلاً ’’ق‘‘ پس جب کلام الفاظ سے مرکب نہیں تو تعریف اپنے افراد کو جامع نہیں ہوتی اور اگر الفاظ حکمیہ یعنی ضمائر مستترہ کا اعتبار کر کے کہا جائے تو مقدمہ ثانیہ یعنی جو الفاظ سے مرکب ہو وہ حادث ہے یہ ممنوع ہوا۔ اس لئے کہ دلیل حدوث ترتب الفاظ میں ہے کیونکہ اسی ترتب کے باعث تقدم یا تاخر زمانی ہوتا ہے جس کی وجہ سے اسے حادث کہہ سکتے ہیں اور یہ تقدم یا تأخر الفاظ حقیقیہ و حکمیہ کی ترکیب میں مفقود ہے۔ پس جب تقدم یا تأخر نہ ہوا تو حدوث کا ثبوت بھی نہ ہو گا۔

یعنی جو کلام الفاظ سے مرکب ہو وہ حادث ہے۔ ’’اقول‘‘ صاحب مواقف نے ایک مستقل رسالہ کلام الٰہی کی تحقیق میں تصنیف کیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ رئیس الاشاعرہ شیخ ابو الحسن اشعری کلام نفسی اور کلام لفظی دونوں کے قدم کے قائل ہیں اور سید سند  علیہ الرحمہ نے اس رسالہ کو بہت پسند کیا ہے۔ لہٰذا اس کی تحقیق کے بموجب ہر کلام لفظی حادث نہ ہو گا بلکہ صرف مخلوقات کا کلام لفظی حادث ہو گا  وہٰذا خارج عن البحث لہٰذا یہ مقدمہ باطل ہو گیا۔(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مکمل تحریر >>

( حصّہ دوم ) دیابنہ کی طرف سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کےلیئے امکان کذب(جھوٹ) ثابت کرنے کا رد

( حصّہ دوم ) دیابنہ کی طرف سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کےلیئے امکان کذب(جھوٹ) ثابت کرنے کا رد
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر کبیر میں ارقام فرماتے ہیں : (المسئلۃ السادسۃ) قولہ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًا استفہام علی سبیل الانکار والمقصود منہ بیان انہ یجب کونہ تعالٰی صادقًا وان الکذب والخلف فی قولہ محالٌ واما المعتزلۃ فقد بنوا ذٰلک علی اصلہم واما اصحابنا فدلیلہم۔ الخ
(ترجمہ) چھٹا مسئلہ۔ اللہ تعالیٰ کا قول ’’ومن اصدق الایۃ‘‘ بیان ہے اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ کا سچا ہونا واجب ہے اور کذب اور خلف اللہ تعالیٰ کے قول میں محال ہے لیکن معتزلہ، پس انہوں نے اس کو اپنے اصول پر قائم کیا ہے اور ہمارے اصحاب پس ان کی یہ دلیل ہے۔ آخر تک۔

امکانِ کذب کا قول کفر ہے : اور وہی فخر العلماء اسی تفسیر مذکور میں فرماتے ہیں
فقد جوزوا الکذب وہٰذا خطأ عظیم بل یقرب من ان یکون کفرا فان العقلاء اجمعوا علی انہ تعالٰی منزہ عن الکذب۔ انتہٰی
(ترجمہ) پس بے شک انہوں نے کذب کو جائز کہا اور یہ بہت بڑی خطا ہے بلکہ قریب بہ کفر ہے۔ اس لئے کہ عقلاء  نے اجماع کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کذب سے منزہ ہے۔

اور تفسیرخازن میں یوں ارشاد فرماتے ہیں : ومن اصدق من اللّٰہ حدیثا یعنی لا احد اصدق من اللّٰہ تعالٰی فانہ لا یخلف المیعاد ولا یجوز علیہ الکذب۔ انتہٰی
(ترجمہ) اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچا  کون ہے؟ ازروئے کلام کے یعنی نہیں ہے کوئی زیادہ سچا اللہ تعالیٰ سے اس لئے کہ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا اور نہ اس پر کذب جائز ہے۔

یہاں تک جو علماء مفسرین کی عبارتیں نقل کی گئیں یہ استحالۂ امکانِ کذبِ باری تعالیٰ پر بے شک براہین قاطعہ و حجج ساطعہ ہیں۔ اب اہل انصاف سے میری درخواست ہے کہ وہ ان تمام عبارتوں کو بغور پڑھ کر خود نتیجہ اخذ کر لیں اور بے سوچے سمجھے فوراً جواب دہی کے لئے تیار نہ ہو جائیں۔

تکلیف ما لا یطاق سے امکانِ کذب کا ردِّ بلیغ : اقوال علماء مفسرین سے امکانِ کذب باری تعالیٰ کی ایک اور طریقہ سے تردید ہو سکتی ہے جس کی تفصیل ذیل میں درج ہے۔ اشاعرہ رحمہم اللہ تعالیٰ تکلیف مالا یطاق کو جائز رکھتے ہیں اور اپنے مدعا کے ثبوت میں ان آیات سے استدلال کرتے ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے اشخاصِ معینہ کے ایمان نہ لانے کی خبر دی ہے۔ استدلال کی تقریر اس طرح کرتے ہیں کہ ابو لہب وغیرہ کا ایمان لانا غیر ممکن ہے۔ حالانکہ وہ ایمان لانے کے مکلف ہیں۔ اگر تکلیف ما لا یطاق جائز نہ ہوتی تو ان کفار کو ایمان کی تکلیف نہ دی جاتی اور ان کے ایمان کا محال ہونا ظاہر ہے۔ اس لئے کہ اگر ان اشخاص کا ایمان لانا ممکن ہوتا تو اس کے وقوع سے محال لازم نہ آتا۔ چونکہ ایمان کا مقتضیٰ یہی ہے حالانکہ اس صورت میں یعنی اشخاص معلومہ کے وقوع ایمان کی تقدیر پر کذب باری تعالیٰ لازم آتا ہے اور وہ محال ہے ’’والمستلزم للمحال محال ۔ اب میں کہتا ہوں کہ اگر اشاعرہ کے نزدیک کذب باری ممکن ہو تو ان کے اس استدلال کے کوئی معنی نہیں ہو سکتے اس لئے کہ جب ان کے نزدیک کذب باری ممکن ہے تو ابو لہب وغیرہ کا ایمان کیونکر محال ہوا۔ اس لئے کہ اس ایمان کے محال ہونے کی صرف یہ وجہ تھی کہ اگر ان کا ایمان واقع ہو گا تو خدا تعالیٰ کا کذب لازم آئے گا اور جب خدا کا کذب محال نہ مانا گیا تو ان لوگوں کے ایمان لانے میں پھر کوئی قباحت نہیں۔ وہٰذا خلف ۔ پس معلوم ہوا کہ اشاعرہ کے نزدیک بھی کذب باری ممکن نہیں۔(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

چنانچہ تفسیر بیضاوی میں فرماتے ہیں : والایۃ مما احتج بہ من جوز تکلیف مالا یطاق فانہ سبحانہٗ وتعالٰی اخبر عنہم بانہم لا یؤمنون فیجتمع الضدان۔ الخ
(ترجمہ) یہ آیت ان آیتوں میں سے ہے جن سے مجوزین تکلیف مالا یطاق نے استدلال کیا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان اشخاص معلومہ کے ایمان نہ لانے کی خبر دی ہے۔ پس دو ضدیں جمع ہو جائیں گی۔ انتہیٰ

اور امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں : (المسئلۃ الثانیۃ) احتج اہل السنۃ بہٰذا وکل ما اشبہہا من قولہ لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰی اَکْثَرِہِمْ فَہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ وقولہ وَذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا الی قولہ سَاُرْہِقُہٗ صَعُوْدًا و قولہ تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَہَبٍ علی تکلیف مالا یطاق و تقریرہ انہ تعالٰی اخبر عن شخص معین انہ لا یؤمن قط فلو صدر منہ الایمان لزم انقلاب الخبر الصادق کذبا والکذب عند الخصم قبیح والفعل القبیح یستلزم اما الجہل واما الحاجۃ وہما محالان علی اللّٰہ تعالٰی والمفضی الی المحال محال وقد یذکر ہٰذا فی صورۃ العـــلم وہو انہ تعالٰی لما علم منہ انہ لا یؤمن فکان صدور الایمان منہ یستلزم انقلاب علم اللّٰہ جہلا و ذٰلک محال ومستلزم المحال محال۔ انتہٰی
(ترجمہ) دوسرا مسئلہ استدلال کیا ہے اہل سنت نے اس کے ساتھ اور ہر اس شئ کے ساتھ جو اس کے مشابہ ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ’’لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰی اَکْثَرِہِمْ۔ (الاٰیۃ)‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا قول ’’وَذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا‘‘ اس کے قول ’’سَاُرْہِقُہٗ صَعُوْدًا‘‘ اور اللہ کے قول ’’تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَہَبٍ‘‘ سے تکلیف مالا یطاق پر اس کی تقریر یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین شخص کی خبر دی کہ وہ کبھی ایمان نہ لائے گا۔ پس اگر اس سے ایمان صادر ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی سچی خبر جھوٹ سے بدل جائے گی اور جھوٹ مخالف کے نزدیک بھی برا ہے اور برا کام یا جہل کو مستلزم ہے یا حاجت کو اور وہ دونوں اللہ تعالیٰ پر محال ہیں اور محال کی طرف پہنچانے والا بھی محال ہے اور یہ کبھی علم کی صورت میں ذکر کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے جان لیا کہ یہ ایمان نہیں لائے گا۔ پس اس سے ایمان کا صادر ہونا مستلزم ہے اللہ کے علم کے جہل سے بدل جانے کو اور یہ محال ہے اور مستلزم محال بھی محال ہے۔ انتہیٰ

تکلیف ما لا یطاق کے مانعین کے جواب سے امکان کذب کا ردِّ عظیم : اور تکلیف مالا یطاق کے مانعین یعنی ما تریدیہ وغیرہ اس استدلال کے جواب اس طرح دیتے ہیں کہ متنازعہ فیہ جواز تکلیف مالا یطاق غیر ممکن لذاتہٖ اور ممتنع بنفسہٖ (۱) کا ہے اور وہ یہاں لازم نہیں آتا بلکہ ممتنع لغیرہٖ کی تکلیف کا جائز ہونا لازم آتا ہے اور وہ متنازعہ فیہ نہیں ہے بلکہ سب کا متفق علیہ ہے اور ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ممکن بالذات محال بالغیر سے محال بالذات لازم نہیں آتا۔ دیکھئے عدم معلول اول ممکن بالذات ممتنع بالغیر ہے اور اس سے محال بالذات یعنی عدم واجب لازم آتا ہے۔ ’’والایلزم تخلف المعلول عن علتہ التامۃ وہو محال۔‘‘ (۱) اگر ممکن بالذات کی حیثیت امتناع بالغیر پر نظر نہ کی جائے تو بے شک اس سے محال بالذات لازم نہ آئے گا۔ پس ما نحن فیہ جب کہ ابو لہب وغیرہ کا ایمان بسبب خبر دینے اور علم باری کے بالغیر ہو گیا تو اگر برتقدیر وقوع محال بالذات یعنی کذب اور جہل باری تعالیٰ کو مستلزم ہو تو اس کے امکان ذاتی کے منافی نہیں۔ اب اہل انصاف کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر ما تریدیہ وغیرہ کے نزدیک کذب باری تعالیٰ ممکن بالذات ہوتا تو اس جواب کی کیا ضرورت تھی صرف اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ (معاذ اللہ) ہمارے نزدیک کذب باری ممکن بالذات ہے۔ پس خدا کی کوئی خبر دینے سے ان کا ایمان غیر ممکن بالذات نہیں ہو سکتا کیونکہ برتقدیر وقوع ایمان کوئی قباحت لازم نہیں آتی۔ غایت ما فی الباب یہ کہ کذب باری لازم آئے گا اور وہ محال بالذات نہیں۔ پس ایمان ابو لہب کیونکر محال بالذات ہوا۔ پس معلوم ہوا کہ مشائخ ماتریدیہ کا بھی وہی مذہب ہے جو اشاعرہ کا مسلک ہے یعنی خدا تعالیٰ کے کلام لفظی کا کذب محال اور ممتنع بالذات ہے۔(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

عباراتِ علمائے متکلمین : سید سند علیہ الرحمہ شرح مواقف میں ارشاد فرماتے ہیں
تفریع علی ثبوت کلام اللّٰہ تعالٰی وہو انہ یمتنع علیہ الکذب اتفاقا
اللہ تعالیٰ کے کلام کے ثبوت پر تفریع ہے اور وہ یہ ہے کہ اس پر کذب بالاتفاق ممتنع ہے۔
اور امام المحققین علامہ جلال الدین شرح عقائد جلالی میں فرماتے ہیں
ولا یصح علیہ الحرکۃ ولا الجہل ولا الکذب لانہا نقص والنقص علی اللّٰہ محال۔
اور نہیں ہے صحیح اس پر حرکت اور نہ جہل اور نہ کذب اس لئے کہ وہ نقص ہیں اور نقص اللہ تعالیٰ پر محال ہے۔
اور دوسرے مقام پر عضد الملۃ والدین صاحب عضدیہ فرماتے ہیں
وہو منزہ عن جمیع صفات النقص کما سبق من اجماع العقلاء علٰی ذٰلک۔
اور وہ منزہ ہے تمام صفات نقص سے جیسے کہ اس پر عقلاء کا اجماع گزر گیا۔
اور صاحب مواقف نے بعد رد کرنے فرق ضالہ کے لکھا ہے
واما الفرق الناجیۃ فہم الاشاعرۃ والسلف من المحدثین واہل السنۃ والجماعۃ وقد اجمعوا علی انہ لیس فی حیز ولا جہۃ ولا یصح علیہ الحرکۃ ولا الانتقال ولا الجہل ولا الکذب ولا شئ من صفات النقص۔ الخ
(ترجمہ) اور لیکن ناجیہ فرقے پس وہ اشاعرہ  ہیں اور سلف محدثین سے اور اہل سنت و جماعت اور انہوں نے اجماع کیا ہے اس بات پر کہ وہ نہ کسی حیز میں ہے اور نہ کسی جہت میں اور نہیں صحیح ہے اس پر حرکت اور نہ انتقال نہ جہل نہ کذب اور نہ کوئی شئ صفات نقص سے۔ انتہیٰ
اور صاحب حاشیہ خیالی شرح عقائد کے قول وکیف وہو تبدیل القول (۱) کے ذیل میں لکھتے ہیں ’’بل کذب منتفٍ بالاجماع‘‘ یعنی کذب بالاجماع منتفی ہے اور علامہ تفتازانی علیہ الرحمۃ نے تکلیف مالا یطاق کے اختلاف کو بیان کرتے ہوئے امکانِ کذب باری تعالیٰ کا اس طرح رد کیا ہے ۔ وقد یستدل بقولہ لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا
اس کی تقریر یوں ہے کہ مابین اشاعرہ و معتزلہ تکلیف مالا یطاق کے امکان اور امتناع میں اختلاف ہے۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ تکلیف مالا یطاق محال ہے جس کی دلیل میں یہ آیت کریمہ پیش کرتے ہیں ۔ لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا (الاٰیۃ)
اگر تکلیف مالایطاق کو جائز مان لیا جائے تو کلام الٰہی میں کذب لازم آتا ہے اور وہ بالاتفاق محال ہے۔ چنانچہ اشاعرہ کثرہم اللہ تعالیٰ اس کا جواب اس طرح دیتے ہیں کہ ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ہر ممکن فی نفسہٖ کے وقوع سے جس وقت اس کو امتناع بالغیر عارض ہو محال بالذات لازم نہ آئے بلکہ یہ اس وقت واجب ہے کہ جب اس کو امتناع بالغیر عارض نہ ہو۔ جیسے ایک ممکن فی نفسہٖ کہ اس کا عدم اور وجود دونوں مساوی ہیں لیکن جس وقت اللہ تعالیٰ اس کے وجود کا ارادہ کرے تو اس وقت اس کا عدم محال ہو جاتا ہے اس لئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ارادئہ مذکور کے بعد بھی اس کا عدم ممکن ہو تو معلول کا علت تامہ سے تخلف لازم آئے گا اور وہ محال بالذات ہے تو اس طرح اگر یہ بھی کذب باری تعالیٰ کو (جو کہ محال بالذات ہے) مستلزم ہو گیا تو کوئی استحالہ  لازم نہیں آتا تو اگر اشاعرہ کے نزدیک کذب باری تعالیٰ ممکن ہوتا تو معتزلہ کے مقابلہ میں یہ جواب بالکل بے کار تھا۔ صاف کہہ دیتے کہ ہمارے نزدیک تکلیف مالا یطاق اور کذب باری تعالیٰ دونوں محال بالغیر ہیں ۔ اگر محال بالغیر، محال بالغیر کو مستلزم ہو گیا تو کوئی قباحت نہیں ہے دونوں ممکن ہیں ۔ تو معلوم ہوا کہ اشاعرہ کثرہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی کذب باری محال بالذات ہے۔

نیز علامہ قوسجی نے شرح تجرید میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اپنے زمانے کے مسلمانوں تک امتناع کذب باری تعالیٰ پر اجماع نقل کیا ہے اور محقق دوانی شرح عقائد جلالی میں فرماتے ہیں
قلت الکذب نقص والنقص علیہ تعالٰی محال فلا یکون من الممکنات ولا یشملہ القدرۃ کما لا یشمل سائر وجوہ النقص علیہ تعالٰی کالجہل والعجز ونفی صفات الکمال۔ الخ
(ترجمہ) میں کہوں گا کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ تعالیٰ پر محال ہے۔ پس نہ ہو گا ممکنات سے اور نہ شامل ہو گی اس کو قدرت جیسے کہ نہیں شامل ہے تمام ان طریقوں کو کہ اللہ تعالیٰ پر نقص ہیں۔ جیسے جہل اور عجز اور صفات کمال کی نفی۔(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مکمل تحریر >>

( حصّہ اوّل ) دیابنہ کی طرف سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کےلیئے امکان کذب(جھوٹ) ثابت کرنے کا رد

( حصّہ اوّل ) دیابنہ کی طرف سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کےلیئے امکان کذب(جھوٹ) ثابت کرنے کا رد
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کلامِ الٰہی میں مسلمانوں کا عقیدہ : اس مسئلہ میں مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ کلام الٰہی میں وجود کذب (۱) محال بالذات ہے خواہ کلام نفسی (۲) ہو یا لفظی (۳) لیکن نام نہاد علماء وہابیہ (۴) نے اس کے خلاف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ مقدسہ کی طرف ایسے مکروہ عیب کو منسوب کیا، جس کا تصور بھی مسلمانوں کے واسطے تنزل ایمان کا باعث ہے۔ چنانچہ بعض لوگ (۵) تو صرف امکانِ کذب ہی کے قائل ہوئے ہیں لیکن بعض وقوع (۶) کے بھی قائل ہیں۔ مثلاً مولوی رشید احمد گنگوہی جن کا دستخطی و مہری فتویٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں اب تک موجود ہے اور اس کے فوٹو اکثر علمائِ اہل سنت کے پاس محفوظ ہیں۔

فرقہ امکانیہ کو زبردست مغالطہ ہوا ہے چنانچہ وقوع کذب باری تعالیٰ کا قول تو باتفاق فریق مخالف موجودہ بھی مردود ہے خواہ مولوی رشید احمد صاحب کا ہو یا کسی اور کا۔ رہا امکان کا قول اس کے متعلق سنیئے، حقیقتاً فرقہ امکانیہ (۱) کو ایک زبردست مغالطہ ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے خلف وعد اور خلف وعید دونوں کو ایک ہی سمجھ کر خلف وعید کو امکانِ کذب کا مقیس علیہ ٹھہرایا ہے۔

خلف وعد و خلف وعید میں فرق : اب دیکھئے کہ ان دونوں میں کتنا عظیم الشان فرق ہے۔ خلف وعد کے معنی ہیں کسی انعام کے وعدہ کرنے کے بعد اس کے خلاف کرنا اور خلف وعید کے معنی ہیں کسی سزا کے وعدہ کرنے کے بعد اس کا خلاف کرنا (۲) چنانچہ بعض متکلمین بظاہر جواز خلف وعید کے قائل ہوتے ہیں (۳) لیکن خلف وعد کے جواز کا قائل اہل سنت میں سے آج تک کوئی نہیں ہوا۔ ان کے جواز خلف وعید کے قول سے فرقہ وہابیہ کو مغالطہ واقع ہوا کہ جب خلف وعید جائز ہے تو خلف وعد بھی جائز ہو گا۔ خلف وعید کو خلف وعد کا مقیس علیہ کہہ دیا۔(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

خلف وعد کا خلف وعید پر قیاس باطل ہے : لیکن یہ قیاس بہ چند وجوہ مخدوش ہے۔اولاً تو یہ کہ جنہوں نے خلف وعید کو جائز کہا ہے وہ یہ کہتے ہیں ’’لانہ کرم‘‘ (۴) اور بعض کہتے ہیں کہ ’’لانہ انشاء فیجوز من اللّٰہ تعالٰی‘‘ (۱) اور پھر وہی حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ کذب باری تعالیٰ محال ہے۔ لانہٗ نقص والنقص علی اللّٰہ محال۔ (۲)

فرقہ وہابیہ سے ایک سوال : اب میں فرقہ وہابیہ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ اگر خلف وعید کو امکانِ کذب کی فرع کہنا صحیح ہو تو متکلمین نے امکانِ کذب کو اس پر قیاس کیوں نہ کر لیا بلکہ انہوں نے تو خلف وعید کو جائز کہتے ہوئے بھی امکانِ کذب کا رد (۳) کیا ہے۔

ثانیاً خلف وعید کو امکانِ کذب کا مقیس علیہ کہنا اس وجہ سے صحیح نہیں ہو سکتا کہ خلف وعید کرم اور امکانِ کذب نقص ہے۔ پس نقص کو کرم کی فرع کہنا اور اس پر قیاس کرنا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟ اہل سنت کا مذہب ان خرافات سے مبرا اور منزہ ہے۔

ثالثاً یہ کہ خلف وعید انشاء ہے اور امکانِ کذب ہمیشہ خبر ہی میں ہوتا ہے تو اخبار کا قیاس انشاء پر کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟ اگر زمین کا آسمان پر اور پانی کا آگ پر اور ہوا کا مٹی پر قیاس کرنا جائز ہو تو یہ بھی جائز ہو گا۔ (۱)

متکلمین جس خلف کے قائل ہیں وہ حقیقت میں خلف نہیں : اس کے علاوہ بعض متکلمین جس خلف وعید کے قائل ہوئے ہیں حقیقتاً وہ خلف نہیں بلکہ اس پر خلف کا اطلاق محض مجازاً کیا گیا ہے۔ (۲) مثلاً مجوزین خلف اس آیت سے استدلال کرتے ہیں
اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَائُ
یعنی بے شک اللہ تعالیٰ مشرکین کی مغفرت نہ کرے گا اور ان کے علاوہ اور جس کو چاہے گا بخش دے گا یہ حقیقتاً خلف نہیں۔ اس وجہ سے کہ خلف وعید کی تعریف اس پر صادق نہیں آتی۔ چونکہ خلف وعید کے معنی ہیں کسی سزا کے وعدہ کا خلاف کرنا۔ یہاں نہ تو وعدہ ہے کہ فلاں شخص کو اس کے گناہوں کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا اور نہ یہ فرمایا کہ ہم نے فلاں شخص کو عذاب دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب اس کو عذاب نہ دیں گے۔ پس معلوم ہوا کہ اس پر متکلمین کا اطلاقِ خلف کرنا محض مجازاً ہے جس کی مثال قرآن پاک میں موجود ہے ۔ جَزَائُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مبِمِثْلِہَا
یعنی برائی کا بدلہ برائی ہے اسی کی مثل، یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی برائی کا حکم نہیں کرتا۔ اب اگر ’’سیئۃ‘‘ کو اپنے ہی معنی میں رکھا جائے تو لازم آئے گا کہ (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ بھی برائی کا حکم کرتا ہے
تَعَالَی اللّٰہُ عَنْ ذٰلِکَ عُلُوًّا کَبِیْرًا
پس جس طرح یہاں جزاء ’’سیئۃ‘‘ پر ’’سیئۃ‘‘ کا اطلاق کیا گیا ہے اسی طرح متکلمین نے اس پر خلف کا اطلاق مجازاً کیا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ بعض متکلمین اس معنی متنازعہ میں ہرگز خلف وعید کے قائل نہ تھے اور اگر خلف وعید اسی کو کہا جائے تو ہم کو اس سے انکار نہیں بلکہ ہم تو اس کے وقوع کو مانتے ہیں جیسا کہ آئندہ معلوم ہو گا۔

نیز اس خلف وعید کو امکانِ کذب کا مقیس علیہ کہنا ایک اور وجہ سے بھی باطل ہے۔ اس لئے کہ اگر امکانِ کذب کو اس پر قیاس کر لیا جائے تو وقوعِ کذب لازم آئے گا۔ تقریر اس کی یوں ہے کہ خلفِ وعید مجوزہ متکلمین کا قیامت کے دن وقوع ہو گا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ یوم مذکور میں مشرکین کے علاوہ ہزاروں، لاکھوں بلکہ بے شمار گنہگاروں کی مغفرت کرے گا۔ تو وقوع خلف ہوا اور جب وقوع خلف ہوا تو وقوع کذب ہوا۔ وہٰذا باطل بالاجماع (۲)۔ پس معلوم ہوا کہ خلف وعید کو امکانِ کذب کا مقیس علیہ کہنا ہرگز ہرگز صحیح نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا خلف وعید متعین ہو گیا اور وہی کذب ہے۔

استحالہ کذب باری تعالیٰ پر عباراتِ علماء : اب استحالہ کذب باری تعالیٰ پر عباراتِ علماء مفسرین ومتکلمین بدلائل عقلی و نقلی قائم ہیں۔

عبارت قاضی بیضاوی : قاضی بیضاوی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں (وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًا) انکار ان یکون احد اصدق منہ فانہ لا یتطرق الکذب الٰی خبرہ بوجہ لانہ نقص وہو علی اللّٰہ تعالٰی محال۔
(اور کون زیادہ سچا ہے اللہ سے بات میں) اس بات کی نفی ہے کہ کوئی ایک خدا تعالیٰ سے زیادہ سچا ہو کیونکہ جھوٹ کسی طرح خدا کی خبر کی طرف راہ نہیں پاتا کیونکہ جھوٹ عیب ہے اور وہ خدا کے لئے محال ہے۔ (محشی)(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مکمل تحریر >>