Pages

Wednesday, 7 September 2022

تحریک ختم ‏نبوت ‏اور ‏نورانی ‏ڈاکٹرائن

*تحریک ختم ‏نبوت ‏اور ‏نورانی ‏ڈاکٹرائن*


*تحریر: ‏ابو رفیع سید محمد احمد کاظمی*

اللہ رب العزت نے اپنی ربوبیت الوہیت اور وحدانیت کو ہمیشہ مخفی رکھا، اور جب اس کو ظاہر کرنا چاہا تو مکمل اور منظم تدبیر کے ساتھ اس عظیم کائنات کو شرف تخلیق بخشا، جہاں جنات اور انسان سب کو رہنے کا موقع عطاء فرمایا۔ اپنی ربوبیت براہ راست نہیں ظاہر کی کیونکہ دیدار الٰہی کے عتاب کی تاب لانا ہمارے بس کی بات نہیں۔ اللہ پاک نے اپنی ربوبیت کو ظاہر کرنا چاہا تو اپنے مظہر کو اس دنیا کے اندر بھیجا انسانیت کے پردے میں۔چاور اس رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنا شرف عظیمت بخشا کہ خود ہی "لو لاک کما خلقت الافلاک" فرماکر ثقلان وغلمات پر یہ آشکار کردیا کہ یہ اب کچھ جو تخلیق کیا گیا صرف اور صرف محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان دکھانے کے لئیے پیدا فرمایا۔ یہاں پر امام احمد رضا نے ترجمانی کی اور فرمایا:

زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لیے

چنین و چناں تمہارے لئے ، بنے دو جہاں تمہارے لیے

اصالتِ کُل امامتِ کُل سیادتِ کُل امارتِ کُل

حکومتِ کُل ولایتِ کُل خدا کے یہاں تمہارے لیے


تمہاری چمک تمہاری دمک تمہاری جھلک تمہاری مہک

زمین و فلک سماک و سمک میں سکہ نشاں تمہارے لیے


اللہ پاک نے اس عظیم رسول کو سب سے آخر میں مبعوث فرمایا تاکہ تاکہ اس کے بعد پھر اس مسند پر کوئی نا آئے تا قیامت پھر اگر نام رہے گا تو اس پاک عظیم ہستی ہی کا رہے گا۔ اسی لئیے قرآن پاک میں علی الاعلان فرمایا:

سورۃ الأحزاب
آیت نمبر 40

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمًا  ۞

ترجمہ:
محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ‘ لیکن وہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں ‘ اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔


اہل ایمان اس عقیدے کی ہمیشہ حفاظت کرتے آئے، چائے سیدنا ابوبکر صدیق کے دور میں اسود عنسی آیا تو قتل ہوا، مسلمہ کذاب آیا تو واصل جہنم ہوا. اس کے بعد جب بھی ختم نبوت پر کسی نے انگلی اٹھانے کا تصور بھی کیا تو اس کی انگلی ہی نہیں سر بھی دھڑ سے الگ کردیا گیا۔ جس کی ہزاروں مثالیں ملتی ہیں۔

امت مسلمہ ایک اتحاد میں یک جسم ہوکر اپنا عروج بڑھاتی جارہی تھی مگر افسوس کسی کالی نظر کو ۔ کفر اور طاغوتی قوتوں کو یہ کہاں گوار گزرتا اس نے امت محمدیہ کے اندر اس عشق کو عقیدے کو ختم کرنے کے لئیے "فتنئہ قادیانیت" کو داخل کردیا۔ ہندوستان کی سرزمین سے غلام احمد نامی شخص جو کم وبیش 20بیماروں میں مبتلا تھا، اس کو کئی انجیکشن لگائے جاتے اور دماغی طور پر اس کو متذبذب کیا جاتا جس کے نتیجے میں کم۔وبیش 50 بیماروں کا وجود اس سے ثابت ہے۔ اس کو دماغی مرض بھی تھا ایسا مرض تھا جس کی تشخیص ڈاکٹرز نے ایسے کی کہ اس مرض میں انسان کسی بڑی چیز کا دعویٰ کرتا ہے پوزیشن اور عہدے کا اور ایسا ہی ہوا کہ اس بدبخت نے 11مراحل ہے کرتے ہوئے بالآخر خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے خلاف علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ جیسی شخصیات۔ پیر مہر علی جیسی شخصیات اسی وقت میدان عمل میں آئیں تو امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی کیسے چپ رہتے لیکن ان کو امام اعظم کا فرمان یاد آگیا کہ جو شخص دعوی کرے نبوت کا اس سے دلیل مانگنا بھی کفر ہے۔ الغرض آپ نے اس ذلیل کے واصل جہنم ہونے کے بعد بتایا سب کو اور لکھا بھی۔ لیکن یہ فتنہ ختم نہیں ہوا چونکہ انگریز اس کو مکمل پال پوس رہے تھے تو پاکستان بننے کے فورا بعد ان جاسوسوں نے پاکستان کی سیاست کو (ہائی جیک) کرلیا، قائد اعظم جیسی شخصیات کو راتسے سے زہر دے کر ہٹادیا گیا اور پاکستان کو مکمل قادیانی ملک بنانے کے اپنے دیکھے جانے لگے۔ لیکن اس وقت قربان جاؤں لیاقت علی خان جیسے عظیم لیڈرز پر۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی جیسے لوگ، علامہ سید ابوالحسنات قادری جیسے لوگوں پر۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری جیسے علمائے کرام۔ جنہوں نے اس فتنے کے خلاف آواز اٹھائی اور قوم کو بیدار کیا۔ اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ ظفراللہ خان قادیانی اس فتنے کو پال رہے تھے۔ اس نے آہستہ آہستہ نشریات اطلاعات پر بھی قادیانی لوگوں کو طعینات کردیا۔ پاک فوج کے اندر پلید قادیانیوں کو بھارتی کیا جانے لگا۔


*تحریک ختم نبوت 1953ء*
بالآخر جب علمائے کرام نے محسوس کیا کہ اب پاکستان اپنی نظریاتی ساکھ ہی کھو رہا ہے۔ لیاقت علی خان جیسے راہنماؤں کو قتل کیا جارہا ہے۔ ملک کا وزیر اعظم ناظم الدین جیسے غدار آچکے ہیں۔ فوج کے اندر جنرل عاصم جیسے ڈاکو بیٹھے ہیں۔ اور حکومت کے اندر اسکندر مرزا جیسے ختم نبوت کے غدار بیٹھے ہیں۔ تو علمائے کرام نے اس "قادیانی انقلاب" کا راستہ روکنے کی مکمل تگ ودو کی۔ اور باقاعدہ "تحریک ختم نبوت" چلائی۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے لوگ اور علماء شامل تھے۔ عوام اہلسنت ہر ہر شہر میں جلوس کی شکل اختیار کرکے "ختم نبوت زندہ باد" کے نعرے لگاتی کوئی احتجاج کی شکل میں تحریک چلاتی۔ اور علمائے کرام کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہوتا "ختم نبوت پر جان بھی قربان" اس وقت ان تمام اکابرین اور علماء کے تین مطالبات تھے:

1__ ظفراللہ خان کو فی الفور وزارت خارجہ سے ہٹادیا جائے کیونکہ وہ سرے عام قادیانیت کی تبلیغ کررہا تھا،

2__ کوئی بھی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک ختم نبوت پر ایمان نا رکھے۔

3__ پاکستان میں حکومت اور بڑے عہدوں پر غیر مسلم نہیں آسکتا یہ قانون بنایا جائے۔


ان تین مطالبات پر جو نتیجے میں ضرورت پیش آئی وہ یہ تھی کہ:

1__ مسلمان کی تعریف کیا ہے
2__ قادیانیت کو اسلام سے خارج قرار دیا جائے
3__ ظفراللہ خان کو ہٹادیا جائے اور اہم عہدوں پر غیر مسلم کی تقرری پر پابندی لگائی جائے۔

یہ سارے وزراء اور حاکمان کو پیش کردئیے گئے اس وقت مولانا عبدالستار خان نیازی رحمۃ اللہ علیہ نے وفد کے ساتھ یہ مطالبات جا کر کراچی میں وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کے سامنے پیش کئیے تو اس نے کہا ہم آٹے اور دال تک کو ترس جائیں گے امریکہ ہمیں کچھ نہیں دے گا۔ اس کے بعد علمائے کرام نے وہی تحریک ختم نبوت شروع کی۔ مولانا عبدالستار خان ابھی تحریک چلا ہی رہے تھے کہ سارے قائدین کو گرفتار کرلیا گیا۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے بڑے بڑے علماء علامہ ابوالحسنات قادری صاحب، سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب۔ ماسٹر تاج الدین انصاری صاحب۔ مولانا عبد الحامد بدایونی صاحب اور کافی اکابرین وعلماء کو گرفتار کرلیا گیا۔ اور عوام کو اس وقت فوج پولیس کے حوالے چھوڑ دیا گیا۔ جو علماء گرفتار نا تھے ان کو مولانا خلیل، علامہ غوث ہزاروی، مولانا عبدالستار خان نیازی جیسے بہادر علماء نے جمع کرنا شروع کیا اور ایک بار پھر سے اسی زور سے شروع ہوئی۔ لیکن اس بار ہر ہر جگہ فوج اور پولیس تعینات تھی جس جگہ سے جلوس گزرتا کئی جنازے ببی ساتھ ملاتے جاتے کئی عنفوان شباب کے نوجوان اپنی سانسیں نعرہ ختم نبوت پر نچھاور کرتے جاتے۔ پاک فوج میں موجود قادیانی جنرل عاصم جیسے بدبخت لوگوں نے اسکندر مرزا سے مل کر خون کی ہولی کھیلنا شروع کی ہزاروں علماء کو شہید کیا اور عوام کو گرفتار کرکے جنگلوں میں چھوڑ دیا گیا۔ اور کئی ہزار کارکنان اور قائدین کو یا تو زنندہ درغور کردیا گیا بے نام ونشان اجتماعی قبروں میں یا غریق آب کردیا گیا یا ان کو آگ لگادی گئی زندہ جلا دیا گیا۔ سینکڑوں علماء پر مقدمات دائر کردئیے گئے اور مولانا مودودی جیسے غلامی کو سزائے موت تک کے آرڈر جاری ہوگئے۔ اس وقت آن رکارڈ بات ہے کہ ایک فقیر سا بندہ بھی گرفتار تھا جس کو گرفتار اسی وجہ سے کیا گیا کہ نعرہ لگا رہا تھا ختم نبوت زندہ باد پولیس نے پکڑ کر گاڑی میں ڈالا اس وقت بھی اس کی زبان پر وہی نعرہ جاری تھا۔ اس کو بولا گیا کہ اس کی سزا موت ہے لیکن اس نے اور تیزی لگانا شروع کردیا بالآخر اس کو عدالت میں پیش کیا گیا جج نے ایک سال کی سزا دی تو وہ درویش چلا کر نعرہ بلند کرنے لگا "ختم نبوت زندہ باد" اس کے بعد جج نے ایک سال اور بڑھادی اس نے پھر نعرہ لگایا تو جج نے مزید بڑھادی ۔ بالآخر یہی بنتا رہا تو جج نے آرڈر دیا اس کو اسی وقت باہر لے جا کر گولی مار دی جائے یہ سن کو وہ درویش خوشی سے چلا اٹھا "ختم نبوت پر جان بھی قربان ہے" جج نے بالآخر حکم دیا کہ اس کو رہا کرو اس کے بعد بھی اس نے نعرہ لگایا "ختم نبوت زندہ باد" جج نے آرڈر جاری کردیا یہ دیوانہ ہے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔

لاہور میں ایک جگہ جلوس نکلا تو اندھا دھند فائرنگ کردی گئی سینکڑوں شہادتیں ہوئیں لیکن ختم نبوت کے وہ نعرے جاری رہے۔ بالآخر جلوس اس ریڈ لائن تک پہنچ گیا جو پاک فوج نے لگائی تھی کہ اس سے آگے کوئی بڑھا تو گولی مار دی جائے گی۔ اس وقت ایک نوجوان آگے بڑھا اور جام شہادت نوش کرگیا۔ اسی کے بعد اس جیسا دوسرا آیا اس نے بھی اپنی جان قربان کردی۔ بعد میں پتہ چلا یہ دونوں سگے بھائی تھے۔ اسی طرح کئی لاشیں یہاں برتی گئیں بالآخر سارے مل کر نکلے اور ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگانے والی عوام اہلسنت کو بےدردی سے قتل کردیا گیا۔ لاہور اور کراچی کی سڑکیں کئی مہینوں تک خون سے لت پت رہیں بالآخر طاقت کے زور پر تمام علمائے کرام کو گرفتار کرلیا گیا۔ سید ابوالحسنات۔ عطاء اللہ شاہ بخاری۔ ماسٹر تاج الدین۔ شیخ حسان الدین۔ مولانا احمد لاہوری۔ سید نورالحسن شاہ۔ مولانا لال حسین۔ مولانا محمد حیات۔ خواجہ قمرالدین سیالوی۔ مولانا عبدالستار خان نیازی۔ مولانا غلام غوث ہزاروی۔ مولانا خلیل احمد۔ مولانا کفایت حسین نائب امیر تحریک شیعہ تھے اور گرفتار ہوئے۔ مولانا مظفر علی شمسی شیعہ گرفتار ہوئے۔ کافی کو شہید کردیا گیا۔ عوام کا منتشر کیا گیا۔ ہزاروں اکابرین اور مجاہدین اپنی کا۔ نچھاور کرگئے۔ لیکن یہ تحریک بالآخر دب گئی۔

*"امام احمد نورانی علیہ الرحمہ اور تحریک ختم نبوت"*

نواسہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ۔ صاحبزادہ شاہ عبد العلیم صدیقی نوراللہ مرقدہ امام انقلاب بصیرت کے سمندر سیاست کے شہنشاہ افق پر روشن ستارے نے اس تحریک میں دوبارہ جام ڈالی۔ سرے مکاتب فکر کو جمع کرنا شروع کیا۔ اور قادیانی انقلاب کا راستہ روکنے کی کوششیں تیز کردیں۔ "تحریک ختم نبوت" کای ابتداء ہوئی اور اس کا سربراہ دیوبندی عالم دین مولانا یوسف لدھیانوی کو مقرر کردیا گیا۔ یہ تحریک اس قلندر کی قیادت میں چل رہی تھی جس کے بابا نے اپنی خلافت میں اسود عنسی، سجاعہ اور مسلمہ کذاب جیسے بدبختوں کو واصل جہنم کردیا تھا۔ ان کا ہی خون شامل تھا نا کسی کی پرواہ کی نا خوف قید وبند، مولانا محمد شفیع اوکاڑوی جیسے علماء علامہ عبد المصطفیٰ ہزاروی جیسے علماء کو الیکشن میں کھڑا کروایا اور الیکشن میں کئی سیٹیں حاصل کیں۔ مولانا مفتی محمود بھی موجود تھے۔ بالآخر وہی پرانے مطالبات پیش کردئیے گئے کہ قادیانیت کا خارج از اسلام قرار دیا جائے۔ لیکن اس بار کے جو حالات تھے وہ بھی کم نہ تھے خون آشام حالات ہوچکے تھے ہر طرف شہادتیں ہوئیں۔ لیکن علمائے حق اتحاد پر ڈھٹے رہے بالآخر قادیانیت جیسے فتنے کو 7ستمبر 1974ء کو قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی گئی۔ اور اس انقلاب کا راستہ مکمل روک دیا گیا۔ پھر 1984ء میں ایک بار پھر قادیانیوں نے مذہبی آزادی کی اپیل کی لیکن علمائے کرام نے اس وقت بھی ان کو دلائل دے کر ہرا دیا اور عدالت نے ان کی اپیل خارج کردی۔ کم وبیش 10ہزار قربانیوں کے بعد پاکستان کا انظام ان قادیانی پلید کتوں سے پاک ہوگیا۔


*"نورانی ڈاکٹرائن ماضی اور حال"*

جس وقت کرام نے تحریک چلائی تو اس وقت کے غدار ختم نبوت جسٹس منیر نے ایک گناؤنی سازش کی۔ جو بھی علامہ دین جس مسلک کا جیل میں آتا اس سے سوال کرتا مسلمان کی تعریف کیا ہے؟؟ وہ اپنے نظریات کے مطابق جواب دیتا اس طرح اس کمبخت نے علمائے کرام ک مختلف تعریفات کو ملا کر "منیر انکوائری کمیشن رپورٹ" شائع کردی اور کہا کہ اگر صرف قادیانیوں کو کافر قرار دیا جائے تو بھی مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ ان میں سے ہر ایک مکتبہ فکر دوسرے کی تعریف کے مطابق کافر ٹھہرتا ہے۔ اسمبلی میں تقریر چل رہی تھی کہ اس نے چیلنج دے دی کہ آپ لوگ ایک متفقہ تعریف لے آئیں ان شاءاللہ تعالیٰ عزوجل اس پر عمل ہوگا۔ جمیعت علمائے پاکستان کے علماء (مولانا شجاعت علی) نے ترجمانی کرتے ہوئے چیلنج قبول کیا۔

سارے مکتبہ فکر کے علماء کو جمع کردیا گیا اور ایک متفقہ تعریف پر زور دیا گیا تاکہ قادیانیت کو کسی بھی طرح نکال دیا جائے ۔ اس پر سارے اختلافات عقائد نظریات کو دیکھنے سے پہلے دین کی اصل اور ماخذ قرآن پاک کی طرف رجوع کیا گیا اس کی چند آیات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تعریف کی گئی کہ:

*"مسلمان ہر وہ شخص ہے جو ضروریات دین اور قرآن وسنت پر یقین رکھتا ہو،اور حضور نبی اکرم علیہ السلام کو آخری نبی مانتا اور قرآن وسنت کی تعبیر جو سلف صالحین سے اجماعا منقول ہے صحیح جانتا ہو"۔*

اسی تعریف کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ اور پھر اس کو دیکھ آئین پاکستان کے باب:5، آرٹیکل:260 دفعہ:3 کے تحت مسلمان اور کافر کی تعریف شامل کردیا گئی۔

امام احمد نورانی نے اس وقت سیاسی پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے عظیم کارنہ انجام دیا۔ اور اس کے بعد گروپ وارانہ مواد میں کمی نظر آئی۔ کیونکہ جو مرتبہ اجماعی تعریف شائع کردی گئی اس کے مطابق کوئی فرقہ بنیادی طور پر کافر نہیں ٹھہرتا تھا۔ جس کے اندر کفر ہوگا وہ چائے کا جماعت کا ہو کافر ٹھہرے گا۔ اس پر اتفاق ہوا اور قادیانیت کو بالکل نامراد قرار دے دیا گیا۔ لیکن ان کو شک تھا کہ یہ لوگ گاؤں دیہاتوں میں حملہ آور یوں گے کیسے کی لالچ دے کر ان کو قادیانی بنادیں گے۔ تو آپ نے تبلیغ دین کے لئیے 8جماعتوں کے علاؤہ ایک جماعت بنائی اور فیصلہ کیا کہ یہ صرف اور صرف تبلیغ دین کا کام کرے گی اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ سیاست ہم سنبھال لیں گے۔ لہذا "دعوت اسلامی" کی بنیاد رکھی اور اس طرح قادیانی لابیوں کا مکمل راستہ بند کردیا۔

مولانا شاہ احمد نورانی مذہبی علماء کا اتحاد چاہتے تھے ۔ اور پاکستان میں ایک اسلامی حکومت کا خواب دیکھ رہے تھے جس پر انہوں نے پہلے جمیعت علمائے پاکستان کی بنیاد رکھی پھر متحدہ مجلس عمل بنائی گئی جس میں تمام مکاتب فکر نے حصہ لیا اور کافی سیٹیں حاصل کیں۔

اس ساری کوشش کے بعد ایک اور پھر سے امریکہ اور برطانیہ نے اسرائیل کے زریعے پاکستان میں قادیانیت کو مضبوط کرنا شروع کردیا۔ اور مشرف جیسے قادیانی جرنیلز آگئے جس نے پورے ملک میں فوجی طاقت کے بل بوتے پر قادیانیت لابیز کو شامل کردیا۔ علماء کو قتل کروادیا۔ آواز اٹھانے نہیں دیتا تھا کسی کو۔ اور پاکستان میں قادیانیت پھر جھنڈے گاڑنے لگی۔ علمائے کرام کے اندر پھر وہی پرانی بحث ومباحثہ شروع کروادیا گیا۔ ایک دوسر پر کفر کے فتوے آنا شروع ہوگئے۔ اور اس طرح پاکستان میں آج پھر سے 79-80٪ نظام مکمل قادیانیت کے حوالے ہے۔ آج اگر ہمارے اوپر فرض ہے تو وہی تعریف اور نورانی ڈاکٹرائن ہے۔ سب نے مل کر اس آئے ہوئے سیلاب اور فتنے کو روکنا ہے۔ مگر افسوس کہ آج دوسروں کو کیا ملاتے اپنوں کی ٹانگیں کھینچنے لگے پڑے ہیں۔ اگر پاکستان کو اس ناسور مرض سے بچانا ہے تو قادیانیت کے خلاف ایک پھر سے تحریک ختم نبوت چلانا ہوگی علماء کرام نے۔


اگر آج ہم نے اپنی ماضی کی قربانیوں کو یاد نہیں کیا۔ اپنی عوام اہلسنت کے خون علمائے کرام کی قربانیوں کو یاد نہیں کیا۔ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی گرفتاری کو یاد نہیں کیا۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادی کی کوششوں کو یاد نہیں کیا۔ مولانا جالندھری ہو ہونے والے ظلم کو یاد نہیں کیا۔ سید ابوالحسنات کی قید وبند کو یاد نہیں کیا۔ مولانا لال حسین اختر جیسے مرد سپاس کو یاد نہیں کیا۔ مولانا یوسف بنوری جیسے علماء کرام کی خدمات کو یاد نہیں کیا۔ علامہ صاحبزادہ افتخار الحان کی گرفتاری کو یاد نہیں کیا۔ مولانا عبدالستار خان نیازی کی درناک داستان کو یاد نہیں کیا جو جیل کے اندر ان پر ظلم وستم ہوا اس کو یاد نہیں کیا علامہ غلام غوث ہزاروی کی اولاد کی قربانیوں کو یاد نہیں کیا۔ مولانا یوسف لدھیانوی کی شہادت کو یاد نہیں کیا۔ علامہ انور شاہ کشمیری کو ہم نے بلا دیا۔ خواجہ محمد ابراہیم کی کوششوں کو پس پشت ڈال دیا۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر کی شہادت کی قدر نہیں کی۔ حضرت شاہ صافی سلیمان کو بلادیا۔ حضرت میاں میر شرقپوری کی خدمات کو نہیں پڑھا۔ مولانا سید شمس الدین کی شہادت کی قدر نا کی۔ خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی کی قربانیقں کو رائے گاں جانے دیا۔ مولانا عتیق الرحمن چنیوٹی کی عظیم قربانیوں کو اوراقوں میں دفن کردیا۔ لیاقت علی خان کی شہادت کو بلادیا۔ مولانا مودودی کی کاوشوں کو بلایا ۔۔مجاہد ختم نبوت آغا شورش کاشمیری کو بلادیا۔ مولانا تاج محمود پر ہونے والے ظلم وجبر کو بھول بیٹھے۔ محبوب علی شمسی (شیعہ) کی قربانیوں کو بھول گئے۔ مولانا کفایت حسین اور جعفر حسین شیعہ کو ہم نے کافر کہہ کر ٹھکرادیا۔ قائد انقلاب امام شاہ احمد نورانی کی عظیم قربانیوں کی قدر نہیں کی۔۔۔۔۔ تو یاد رکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دن نہ آئے کہ پھر آپ کو خون میں لت پت ہونا پڑے۔ شہروں کی دیواریں خون سے رنگین ہوجائیں۔ ملک خدادا د پر مکمل قادیانی قابض ہوجائیں۔ اپنے اپنے امیر اپنے اپنے قائد سب کو مبارک مگر اس وقت وہ وقت نہیں کہ ہر کوئی اپنا قائد لے کر نکلے اگر مولانا نورانی دیوبندی عالم کو تحریک تحفظ ختم نبوت کا امیر مقرر کرسکتا ہے۔ اگر مولانا نورانی شیعہ عالم مولانا شمسی کا نائب امیر مقرر کرسکتا ہے۔ اگر جنرل سیکریٹری علمائے اہلسنت اور علمائے اہلحدیث میں سے کسی کو رکھ سکتا ہے تو وہ جزبہ آپ کو پیدا کرنا ہوگا قربانی دینی ہوگی ورنہ اللہ نا کرے آگے علماء کرام کا مکمل کردار ختم کرنے کا منصوبہ چل رہا ہے۔ صدارتی نظام لایا جائے گا جس میں ووٹ جیتنا بہت مشکل کام ہے چھوٹی چھوٹی پارٹیاں بناکر۔ آپ کو اتحاد کرنا پڑے گا۔ شاہ احمد نورانی جیسا نا کوئی سیدہ عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیہا سے محبت کرنے والا ہوگا۔ نا ہی مولنا شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللّٰہ علیہ جیسا کوئی امیر معاویہ کا داعی ہوگا۔ نا ہی کوئی علمائے اہلسنت جیسا مولا علی کا محب ہوگا۔ نا ہی کوئی علمائے دیوبند جیسا کٹر حنفی ہوگا۔ وہ سب حالات کو سمجھ گئے اور متفقہ تعریف بھی شائع کروائی۔ آج پھر ہمیں ایک ہونا پڑے گا۔۔۔۔

اللہ پاک اس وطن عظیم کا حامی وناصر ہو۔ اللہ پاک تحریکی ختم نبوت کے مجاہدین کے درجات بلند فرمائے ۔ جس جس نے غداری کی کی آپ کے سامنے ذلیل ہوا۔ اور جلد ان شاءاللہ تعالیٰ عزوجل جو کو غدار ہے ذلیل اور رسوا ہوگا۔
مکمل تحریر >>

Saturday, 6 August 2022

*شیعہ کی طرف سے ماتم کے تمام دلائل اور ان کے جوابات*♦️

♦️ *شیعہ کی طرف سے ماتم کے تمام دلائل اور ان کے جوابات*♦️

*ماتم کے حق میں دی گئی دلیلوں کے آسان اور عام فہم شافی جوابات نوجوان حضرات پڑھ کر رٹ لیں شيعوں کا منہ بند کرنے کے کام آئیں گی*

🔸  *شیعہ دلیل نمبر1* 🔸
حضرت یعقوبؑ بھی تو یوسفؓ کے غم میں روئے تھے یہاں تک کہ رو رو کر ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی تھی، چنانچہ قرآن پاک میں آتا ہے کہ:
*’’وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ ‘‘:* (سورة یوسف آیت 84)
''اور اس نے منہ پھیر لیا اور کہنے لگا ہائے افسوس! یوسف پر اور غم واندوہ کی وجہ سے اس کی دونوں آنکھیں سفید ہوگئیں۔''
تو جب ایک نبی دوسرے نبی کے غم میں رو رو کر آنکھیں سفید کرسکتا ہے تو امام عالی مقام کا غم منانے پر کیا اعتراض ہے؟

🔹 *الجواب اہلسنّت* 🔹
*ماتمی شیعہ نے اس آیت کے لفظ *’’فَهُوَ كَظِيمٌ‘‘*  پر غور نہیں کیا، جس کا ترجمہ ہے کہ *’’وہ اپنے غم کو روکنے والے تھے‘‘*
معلوم ہوا کہ غم لاحق ہوناحضرت یعقوبؑ کا غیر اختیاری فعل تھا اور انہوں نے اپنا ارادہ و اختیار غم منانے پر نہیں بلکہ غم ختم کرنے پر صرف کیا۔ اسی کو صبر جمیل کہتے ہیں جس پر انعامات کی بشارتیں اللہ کا قرآن سناتا ہے۔
 2-آیت میں نہ *''منہ پیٹنے''*  کا لفظ ہے نہ  *''سینہ کوبی''*  اور  *''ماتم''*  کا بلکہ صرف *''حزن''*  کا لفظ ہے جس کا معنی صرف * ''غم واندوہ''*  ہے۔
3-حضرت یوسفؑ کے فراق کا صدمہ حضرت یعقوبؑ کو مسلسل رہا۔ لیکن جب دور فراق ختم ہوا اور آپؑ کو حضرت یوسفؑ کے تخت ِمصر پر متمکن ہونے کی بشارت ملی تو پھر آپؑ کا غم بھی جاتا رہا اور آنکھوں کی روشنی بھی واپس لوٹ آئی۔ اس سے ثابت ہوا کہ جب تک کسی محبوب کی مصیبت باقی ہو اور اس کا صدمہ لاحق رہے لیکن صبر کے خلاف کوئی حرکت نہ کرے تو یہ غیر اختیاری ''غم و اندوہ ''گناہ نہیں اور جب وہ مصیبت ختم ہو جائے تو پھر غم بھی ختم ہو جاتا ہے۔
اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ میدان کربلا میں حضرت امام عالی مقام اور آپ کے اعزہ واحباب پر جو مصیبت نازل ہوئی وہ وقتی تھی۔ شہادت کا درجہ پانے کے بعد جب آپ کو جنت مل گئی تو پہلی مصیبت ختم ہوگئی۔
اب شہدائے کربلا کی روحوں کو حسبِ آیاتِ قرآنی جنت کا رزق ملتا ہے اور وہ وہاں خوش ہیں تو اب رونے اور ماتم کرنے کا کیا موقعہ ہے؟ ہم تو حضرت یعقوبؑ کی پیروی کرتے ہیں کہ جب تک آپؑ مصیبت میں مبتلا تھے اس وقت بھی صبر کیا اور جب حضرت یوسفؑ کے بلند مقام کی بشارت ملی تو پہلا غم بھی بالکل ختم ہوگیا۔ مصر کے تخت سے جنت کا مقام تو اعلیٰ درجہ رکھتا ہے کیا ماتمیوں کو حضرت حسینؓ کے جنتی ہونے اور وہاں خوشیاں منانے کا یقین نہیں ہے اور اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ جنت میں بھی وہ مصیبت میں ہیں۔
4- حضرت یوسفؑ کو مصر کی سلطنت ملنے کے بعد بھی کیا حضرت یعقوبؑ نے اس گزری ہوئی مصیبت کی یادگار میں ہر سال غم کی مجلس منعقد کی تھی؟
5-حضرت حسینؓ کے لیے سانحہ کربلا ایک بہت بڑا ایمانی امتحان تھا۔ جس میں آپؓ اعلیٰ نمبروں سے پاس ہوئے تو اب  *''واہ واہ حسینؓ''* امام کربلا کی شان کے لیے مناسب ہے یا *''ہائے حسینؓ، ہائے حسینؓ''*  جو امام عالی مقام کو پاس سمجھتا ہے وہ ''واہ واہ'' کرے اور جو نعوذ باللہ فیل سمجھتا ہے وہ ''ہائے ہائے'' کرتا رہے ۔ نگاہ اپنی اپنی، پسند اپنی اپنی.
6- پاکستان میں کتنے ماتمی شیعہ ایسے ہیں جو امام حسینؓ کے غم میں اندھے ہوئے ہیں؟

🔸 *شیعہ دلیل نمبر 2*🔸
*ماتمی شیعہ حضرات اپنے ماتم کی حمایت میں پارہ 7المائدہ آیت 83 بھی پیش کرتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے:*
*"اور جب وہ سنتے ہیں اس کو جو رسول ﷺ کی طرف اتارا گیا تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔ اس لیے کہ انہوں نے حق پہچان لیا۔" الخ۔*

🔹 *الجواب اہلسنّت* 🔹
1- یہ آیت ان عیسائیوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو ملک حبشہ سے حضرت جعفر بن ابی طالب کے ساتھ مدینے شریف پہنچے تھے اور جب رسول خدا ﷺ کی زبان مبارک سے انہوں نے قرآن مجید سنا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور وہ مسلمان ہوگئے۔ یہاں تو صرف آنکھوں سے آنسو جاری ہونے کا ذکر ہے اور وہ بھی قرآن سننے پر۔ اس کو تمہارے ماتم سے کیا تعلق ہے؟ 
 2-اگر ماتمیوں کے نزدیک اس آیت کا مطلب ماتم کرنا ہے تو پھر قرآن سننے پر ماتم کیوں نہیں کرتے؟

🔸 *شیعہ دلیل نمبر 3*🔸
*ماتمی شیعہ حضرات کا ایک استدلال یہ بھی ہے کہ فرعون کے غرق ہونے کے واقعے کے دوران اللہ جل شانہ فرماتے ہیں کہ*:
*’’فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠‘‘:*
*''نہ ان پر آسمان رویا نہ زمین نے گریہ کیا۔ اور نہ انہیں اللہ کی طرف سے مہلت دی گئی۔''*
معلوم ہوا کہ جو برے لوگ ہیں وہ اس قابل نہیں کہ ان پر رویا جائے، اس کے بالمقابل ثابت ہوتا ہے کہ اچھے لوگوں پر روناچاہئیے۔'

🔹 *الجواب اہلسنّت* 🔹
1- اس آیت میں نہ شہادت کا ذکر ہے نہ ماتم کا تو اس سے مروجہ ماتم کیسے ثابت ہوگیا۔
2- اس آیت میں کوئی حکم نہیں ہے کہ نیک لوگوں پر رونا چاہیے۔
3- کیا ماتمی لوگ زمین وآسمان کے مذہب کے پیروکار ہیں؟
4- اگر اللہ کے مقبول اور صالح بندے مستحق گریہ ہیں تو پھر حضرت امام حسنؓ اور دیگر صلحائے امت کی وفات پر ہر سال کیوں گریہ وماتم کی مجلس بپا نہیں کرتے؟
5- نیک لوگوں کی وفات پر طبعاً انسان کو افسوس ہوتا ہے اور غیر اختیاری طور پر رونا بھی آتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں، اعتراض تو سال بسال اس دن کی یادگار منانے اور بے صبری و نوحے کے اعمال کرنے پر ہے جن کے کسی ثبوت کا اشارہ بھی اس آیت سے نہیں نکلتا.

🔸 *شیعہ دلیل نمبر 4*🔸
*بعض ماتمی تفسیر ابن کثیر کے ایک حوالے سے بھی اپنے مروجہ ماتم کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تفسیر ابن کثیر میں ہابیل و قابیل کے واقعہ کے تحت لکھا ہے کہ:*
*''کہتے ہیں کہ اس صدمہ سے حضرت آدمؑ بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی۔ آخر فرشتوں نے ان کے غم دور ہونے اور ہنسی آنے کی دعا کی۔''الخ*
*(تفسیر ابن کثیر مترجم جلد اول صفحہ86)*

🔹 *الجواب اہلسنّت* 🔹
1- فرمائیے! کیا اس سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ حضرت آدمؑ ہر سال''غم کی مجلس'' قائم کرتے تھے یا یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرشتوں نے ان کے غم کو دور کرنے کی دعا کی تھی؟ اس سے معلوم ہوا کہ غم دور کرنا ضروری ہے نہ کہ باقی رکھنا۔
2-حضرت آدم علیہ السلام نے ''منہ پیٹا'' اور نہ ''سینہ کوبی'' کی اور نہ کالے کپڑے پہنے تو ماتمی لوگ یہ کام کر کے کس کی سنت کی پیروی کرتے ہیں؟

🔸 *شیعہ دلیل نمبر 5*🔸
*''حضرت نوحؑ کا اصلی نام عبد الغفار تھا اور نوحہ کرنے کی وجہ سے نوح کہلاتے ہیں۔ ''(الصاوی علی الجلالین، جلد دوم صفحہ 133مطبوعہ مصر)*

🔹 *الجواب اہلسنّت* 🔹
1- حضرت نوحؑ کسی مقبول بندے کی مصیبت،بشارت کی وجہ سے سے نہیں روئے بلکہ اس کی وجہ سے خود صاوی حاشیہ جلالین میں یہ لکھی ہے :
*''لقب نوح لکثرة نوحة علی نفسہ حیث دعا علی قومہ فھلکوا ۔وقیل لمراجعتہ ربہ فی شان ولدہ کنعان۔*
"آپؑ کا لقب نوح اس لیے ہوا کہ آپ اس بنا پر زیادہ روتے رہے کہ آپؑ نے اپنی قوم کے لیے بددعا کی تھی جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگئی تھی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ کے رونے کی وجہ یہ تھی کہ اپنے بیٹے کے بارے میں آپؑ نے اپنے رب تعالیٰ سے سوال کیا تھا۔"
2- اس نوحہ (رونے) سے منہ پیٹنا اور سینہ کوبی کرنا کیسے ثابت ہوگیا؟

🔸 *شیعہ دلیل نمبر 06*🔸
*حضرت ابراہیم بن محمد ﷺ کے انتقال کی آنحضرت ﷺ کو خبر ہوئی تو عبد الرحمن بن عوفؓ کے ساتھ تشریف لائے۔ نزع کی حالت تھی گود میں اٹھا لیا۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ (سیرت النبیؐ حصہ اول صفحہ 728)*

🔹 *الجواب اہلسنّت* 🔹
1-اس کے بعد یہ الفاظ بھی ہیں کہ:
''عبد الرحمن بن عوفؓ نے کہا یا رسول اللہﷺ ! آپ کی یہ حالت؟ آپ نے فرمایا یہ رحمت ہے۔''
اس سے ثابت ہوا کہ اپنے فرزندحضرت ابراہیم کے انتقال پر رحمت کی وجہ سے حضورﷺ کی آنکھ سے آنسو جاری ہوگئے تھے لیکن اس سے ماتم مروّجہ کیسے ثابت ہوا۔؟
2-اور اس گریہ کی بھی کیا ہر سال ابراہیم کی وفات کے دن رسول اللہﷺ نے کوئی مجلس بپا کیا تھی؟
3-حضرت حسینؓ کے ماتمیوں نے بھی کبھی حضرت ابراہیم بن محمد ﷺ کے ماتم کی مجلس بپا کی ہے؟ عجیب بات ہے کہ جس چیز سے استدلال کرتے ہیں خود اسی پر عمل نہیں۔

🔸 *شیعہ دلیل نمبر 7*🔸
*حضرت حمزہؓ کی شہادت پر حضرت رسول اکرم ﷺ روئے اور فرمایا۔ ہائے آج حمزہ کا ماتم کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اس پر صحابہؓ نے اپنی عورتوں سے کہا کہ تم حضرت حمزہؓ کا ماتم کرو اور عورتوں نے گریہ کیا اور صف ماتم بچھائی۔ آنحضرت ﷺ نے عورتوں کا گریہ سن کر خود گریہ کیا اور عورتوں کو ماتم کرنے کی وجہ سے دعائے خیر دی۔ (کتاب مغازی فتوح الشام صفحہ 108، سیرة ابن ہشام ،سیرة النبی شبلی نعمانی جلد اول)*

🔹 *الجواب اہلسنّت* 🔹
1- اس عبارت میں بھی منہ پیٹنا اور سینہ کوبی کرنا ثابت نہیں جس سے مروجہ ماتم ثابت ہوتا ہے۔
2-سیرة النبی شبلی نعمانی حصہ اول 387میں تو یہ الفاظ ہیں۔
''آنحضرت ﷺ نے دیکھا تو دروازہ پر پردہ نشینان انصار کی بھیڑ تھی اور حضرت حمزہؓ کا ماتم بلند تھا۔ ان کے حق میں دعائے خیر کی اور فرمایا تمہارے ہمدردی کا شکرگزار ہوں لیکن مُردوں پر نوحہ کرنا جائز نہیں''
اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حمزہؓ کے ماتم میں عورتوں نے رواج کے تحت نوحہ (بین کرکے رونا)شروع کر دیا تھا جس سے رحمة للعالمین ﷺ نے ان کو منع فرمادیا۔
4- کیا پھر ہر سال حضرت حمزہؓ کی شہادت کے دن ماتم و گریہ کی مجلس بھی قائم کی گئی تھی؟
 *5-* کیا آج کل کے ماتمیوں نے بھی کبھی حضرت حمزہؓ کی مجالسِ ماتم بپا کی ہیں۔اگر نہیں تو کیوں؟*
🔸 *شیعہ دلیل نمبر 8* 🔸
 "حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجہؓ  کی وفات کے سال کو آنحضرتﷺ نے "عام الحزن " یعنی غم کا سال کے نام سے یاد کیا ہے۔
  🔹 *الجواب اہلسنّت* 🔹
 اگر اس سال کو عام الحزن کا نام دینے کا مطلب یہی ہے کہ ہر سال ان کی وفات کے دن ماتم کی مجالس قائم کی جائیں تو کیا حضرت علی المرتضیٰؓ ،حضرت فاطمۃ الزھراءؓ،حضرت حسنؓ و حضرت حسینؓ نے ہر سال کوئی مجلس غم بپا کئ تھی؟اور کیا رحمۃ للعالمینﷺ نے بھی اپنے مہربان چچا ابو طالب اور اپنی پیاری بیوی خدیجۃ الکبریٰؓ کی وفات کا دن ہر سال مجلس ماتم کی طرح منایا تھا؟اگر نہیں تو پھر کس کی پیروی کرتے ہو؟

🔸 *شیعہ دلیل نمبر 9* 🔸
 جنگ احد میں رسول اللہﷺ  کا دانت مبارک شہید ہوگیا جس کی خبر سن کر خواجہ اویس قرنی نے اپنے دانت توڑ دیے آنحضرت ﷺ نے اس فعل کو پسند فرمایا اور خواجہ کے لیے دعا دی۔

 🔹 *الجواب اہلسنّت* 🔹

 *1۔* یہ روایت بلاسند اور بلا حوالہ پیش کی گئی ہے اس لیے اس کو حجت نہیں بنایا جاسکتا۔
*2۔* اگر اسی طرح اپنے دانت توڑنا صحیح اور کارِ ثواب ہوتا تو پھر حضرت علی مرتضیٰؓ  بھی اپنے دانت توڑ دیتے کیا ماتمیوں کے نزدیک خواجہ اویس قرنی کا عشقِ رسالتﷺ حضرت علیؓ سے زیادہ تھا؟
 *3* ۔اگر خواجہ اویس قرنی کی یہ سنت ماتمیوں کو پسند ہے تو پھر سرکارِ دو عالمﷺ کے دانت شہید ہونے کی یادگار میں اپنے دانت کیوں نہیں توڑ دیتے *سارا قصہ ہی ختم ہو جائے نا مرثیہ خواں رہیں نا سوز خواں  "نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری"۔* 
 🔸 *شیعہ دلیل نمبر 10*🔸
 اسلام دینِ فطرت ہے اور رونا فطرتِ انسانی ہے بچہ پیدائش کے بعد زندگی کا آغاز رونے سے کرتا ہے۔ الخ
             
 🔹 *الجواب اہلسنّت* 🔹
*1۔* پیدائش کے بعد رونا مروجہ ماتم کی دلیل کیسے بن گیا؟بچہ کس کے ماتم میں روتا ہے؟۔ 
*2۔* اگر بچہ روتا ہے تو پیشاب پاخانہ بھی کرتا ہے تو اس فطرت انسانی کے پیش نظر پیشاب پاخانہ کی مجالس بھی قائم ہونی چاہییں واہ کیا خوب عقل ہے سبحان اللہ۔

 🔸 *شیعہ دلیل نمبر 11* 🔸
 
سانحہ کربلا کے وقت اسلام میں کوئی فرقہ بندی نا تھی قاتلانِ امام دائرہ اسلام سے خارج ہو چکے تھے آج امام حسینؓ کا ذکر اور ان کی حمایت کرنا گویا امام مظلوم کا ساتھ دینا ہے۔ الخ 
    
 🔹 *الجواب اہلسنّت*🔹
*1۔* ماتم کرنے کو امام حسینؓ کی حمایت سے کیا تعلق ہے؟ حسینیت تو یہ کہ امام حسینؓ نے جس شریعت اور سنت مقدسہ کے لیے اپنی جان قربان کی تھی اس کی اتباع کی جائے اور اعمال صالحہ کو رائج کیا جائے شرک و بدعت اور بت پرستی کے مظاہر کو مٹایا جائے۔
    *امام عالی مقام کو دعوت دینے والے بھی کوفی ہیں اور یزیدیت کی حمایت میں شہید کرنے والے غدار بھی کوفی لوگ ہیں جو ماتم امام حسینؓ نے ساری عمر نہیں کیا اس کا ارتکاب حسینیت کی حمایت ہے یا مخالفت؟* 
*2۔* اخبار ماتم ص 967 میں ہے کہ سب سے پہلے شہادت حسینؓ کا ماتم یزید کے گھر میں اس کی بیوی ہندہ نے بپا کیا تھا اب یہ نتیجہ نکالنا آسان ہے کہ حسینیت کیا ہے اور یزیدیت کیا؟ 

   *🔸شیعہ دلیل نمبر 12*🔸
 فریقین کی معتبر روایتوں میں ان المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ حضرت جابر بن عبداللؓہ اور حضرت انسؓ وغیرہ سے منقول ہے کہ جناب رسالت مآب ﷺ نے فرمایا جو شخص کربلا میں امام حسینؓ کی زیارت کرے اس حال میں کہ ان کے حق کو پہچانتا ہو تو اس پر بہشت واجب ہو جاتی ہے۔  

🔹 *الجواب اہلسنّت* 🔹
                           
 *1* ۔فریقین (یعنی سنی اور شیعہ) کی کتابوں کا حوالہ نہیں لکھا گیا تاکہ معلوم ہو کہ یہ روایت کیسی ہے۔
 *2۔* امام حسینؓ کے مزار کی زیارت کرنے سے ماتم کا عبادت ہونا کیسے ثابت ہوگیا؟۔
 *3۔* جو شخص امام حسینؓ کے صبر اور نماز کی پیروی نہیں کرتا اور سنت کو ترک کرتا ہے اور بدعات کا مرتکب ہے وہ امام حسینؓ کا حق پہچاننے والوں میں شامل ہی نہیں ہوسکتا پھر جنت کا مستحق کیسے ہوگیا۔؟

 🔸 *شیعہ دلیل نمبر 13* 🔸  
 حضرت محمدﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص حضرت حسینؓ پر ان کا حق پہچانتے ہوئے روئے اس پر جنت واجب ہے۔
                
🔹 *الجواب اہلسنّت*🔹 
 *1۔* اس روایت کا بھی حوالہ پیش نہیں کیا گیا۔              
*2* ۔پھر اس میں ماتم مروجہ کا تو کوئی ذکر نہیں.                
*3۔* اگر صرف رونے سے جنت ملتی ہے پھر شریعت کی کیا ضرورت ہے۔
*4* ۔آئمہ اہل بیت امام زین العابدینؒ ,امام محمد باقؒر اور امام جعفرؒ صادقؒ نے ایسی مجالس ماتم کیوں نہیں قائم کیں؟بلکہ ان امور کوحرام قرار دیا ہے جیسا کہ آئندہ حوالہ جات میں پیش کیا جائے گا۔

 🔸 *شیعہ دلیل نمبر 14*🔸
      حضرت حسینؓ کا غم تو وہ غم ہے جس پر انسان تو کجا جن و ملک, چرند و پرند, آسمان و درخت سب نے گریہ کیا چناچہ لکھا ہے آسمان حضرت حسین ؓپر  40 دن تک روتا رہا. (ینابیع المودات از علامہ شیخ سلیمان حنفی قندوزی مطبوعہ قسطنطنیہ ص 39)               ثابت ہوا کہ مرثیہ پڑھنا, رونا اور ماتم کرنا انبیاء کی سنت اور اصحاب رسول اکرم ﷺ ہے۔
🔹 *الجواب اہلسنّت* 🔹        
 *1* ۔"ینابیع المودات "حنفیوں کی کوئی مستند کتاب نہیں پھر قرآن و حدیث کے صریح ارشادات کے خلاف ایسی روایات کیونکر قابل قبول ہو سکتی ہیں۔
   *2* ۔اس عبارت میں بھی منہ پیٹنے اور سینہ کوبی کا کوئی ذکر تک نہیں۔
  *3* ۔کیا فرشتوں کی فطرت بھی رونا اور ماتم کرنا ہے.؟العیاذباللہ!
4۔کیا ہر سال زمین آسمان ماتم کرتے ہیں ؟ 
 🔸 *شیعہ دلیل نمبر 15* 🔸  
   اے منکر غم گر میرے پیر ناہوتے, مسمارمحل دین کے تعمیر نا ہوتے, حسینؓ کی قربانی سے زندہ ہے یہ اسلام,  مٹ جاتا اگر دنیا میں شبیر نا ہوتے۔

     🔹 *الجواب اہلسنّت* 🔹 

  *1۔* ان اشعار میں تو دعویٰ ہے نہ کہ دلیل۔                       
 *2* ۔اس کو ماتم سےکیاتعلق؟
 *3* ۔کیا دین کے محل میں رحمت للعالمین حضرت محمد ﷺنے کوئی ماتم کی اینٹ بھی لگائی ہے یا دین کا محل نماز، روزہ،صبرورضا جیسے اعمال صالحہ سے تعمیر کیا گیا ہے؟
🔸 *شیعہ دلیل نمبر 16* 🔸
🔸 *شیعہ دلیل نمبر 17* 🔸
🔸 *شیعہ دلیل نمبر 18*🔸 
دلیل نمبر 16 ،17، 18  میں
 *تورات* کی عبارتیں پیش کی گئی ہیں جن میں گریہ،ماتم رونے کے الفاظ ہیں۔

🔹 *الجواب اہلسنّت* 🔹

 *1-* ان عبارتوں میں بھی *منہ پیٹنے* اور *سینہ کوبی* کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے *مروّجہ ماتم* کیونکر ثابت ہوا۔

 *2-* قرآن کے بعد تورات انجیل وغیرہ آسمانی کتابیں منسوخ ہوچکی ہیں ،جن کی عبارتیں مسلمانوں کے لئے حجت نہیں ہیں۔کیوں کہ اصلی آسمانی کتابوں میں تبدیلی ہو گئی ہے۔

 *3-* اگر تورات انجیل کے مذہب کی پیروی کرنی ہے تو کیا اس پر بھی ایمان لاؤگے جو تورات میں لکھا ہے کہ:
 *(ا) حضرت یعقوبؑ نے خدا کے ساتھ کُشتی کی تھی۔نعوذ باللہ (پیدائش صفحہ 46)* 

 *(ب) حضرت لوطؑ نے اپنی بیٹیوں سے بدکاری کی تھی. استغفراللہ (پیدائش صفحہ 24)*


  🔹 *خلاصہ جوابات* 🔹
 *یہ ہے کہ مذکورہ 18 دلائل میں سے کسی ایک دلیل سے بھی مروجہ ماتم ثابت نہیں ہوسکتا اور اگر یہ ماتم عبادت ہوتا تو اولاً قرآن میں اس کا صریح حکم ہوتا اور ثانیاً احادیث مبارکہ میں اس کی تصریح ہوتی اور نعوذ باللہ خود رسول ﷺ ماتم کی مجالس بپا کرتے جیسا کہ نماز روزہ وغیر عبادات پہلے خودحضورﷺ نےادا کی ہیں۔*
مکمل تحریر >>

Sunday, 17 July 2022

ووٹ/سیاست/ جمہوری/ بادشاہی/ مارشل لاء/ اسلام

ووٹ/ سیاست/ جمہوری/ بادشاہی/ مارشل لاء/ اسلام
🇵🇰🇹🇷🇵🇰🇸🇦🇵🇰🇸🇦🇵🇰🇸🇦🇵🇰🇸🇦🇹🇷🇵🇰🇸🇦🇹🇷🇵🇰🇸🇦

سیاست عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب بہترین تدبیر ، حکمت عملی ہے بھگڑے ہوئے کو ٹھیک کرنا اور اُردو زبان میں ریاست کے علم کو سیاست کہا جاتاہے اور جمہوریت کے لغوی معنی لوگوں کی حکمرانی( میں یوں کہوں گا عوام کی حاکمیت، عوام کے ذریعے، عوام پر)

ڈاکٹر علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

علامہ صاحب فرماتے ہیں جب دین کو سیاست سے الگ کر دیا جاتا ہے تو وہ سیاست محض ظلم و ستم والی چیز( چنگیزخانی) بن کے رہے جاتی ہے پھر ہر طرف ظلم و ستم ہوجاتا ہے پھر اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ نظام حکومت کیا اور کس شکل میں ہے بادشاہت یا جمہوری:

پاکستان نہ تو مارشل کےلیے نہ بادشاہت کےلیےاور نہ جمہوریت کےلیے پاکستان صرف اور صرف بس اسلام کےلیے بنایا ہیں
اسلام کے نام پر جمہوریت کا قیام دراصل اسلام و جمہوریت دونوں سے مزاق ہے اسلام صداقت پر مبنی ہے اور اکثرہت دین سے بزار ہے آج تک اسلام کا نافز نہ ہونے کی وجہ یہی ہے جمہوریت سابقہ حکومت کا جھوٹ موٹ ، توڑ پھوڑ اود مقدار کی قائل ہے معیار کی نہیں جمہوریت کے زریعے کوئی قابل نیک ایماندار عالم دین دانش وار سر اقتدار نہیں آسکتا جمہوریت امام حق کو زہر پلاتی ہے غازیِ اسلام کو سولی چڑھاتی ہے دین داروں کا احترام نہیں کرتی

سیاست دو طرح کی ہوتی ہیں ایک رحمانی اور دوسری شیطانی ہے رحمانی وہ ہے جو حضرت موسی، ابراہیم، یوسف، سلیمان علیہ سلام تمام انبیاء اکرم اور حضور پاکﷺ کے خلفائے راشیدین حضرت ابو بکر، عمر، عثمان، علی، حسن، حسین سمیت تا قیامت تک جو بھی قرآن و سنت اللہ رسولﷺ احکامات کے مطابق چلے چلائے گا اور وہ شیطانی ہے جو فرعون، نمرود، ابو جہل و لہب، یزید اور جو تاقیامت تک نظام مصطفیﷺ قرآن و سنت کو الگ کر کے سیاست کرے گا

اس بات کا علم ہونا لازم ہے کہ ووٹ کی شرعی حثیت کیا ہے ووٹ کوئی عام پرچی نہیں شریعت کے نقطہ نظر سے ووٹ( شفارش، امانت، بیعت، شہادت، گواہی، وکالت ہے)قرآن و حدیث کی روح سے واضح ہے کہ نااہل، ظالم، فاسق، شرابی، زانی، بےحیا غلط آدمی اور قرآن و سنت نظام مصطفیٰ ﷺ کے خلاف چلنے والوں کو ووٹ دینا گناہِ کبیرہ ہے، اسی طرح ایک اچھے نیک دین دار و ایماندار قابل آدمی کو ووٹ دینا ثواب عظیم بلکہ ایک فریضہ شرعی ہے، قرآن کریم میں جیسے جھوٹی شہادت کو حرام قرار دیا ہے اسی طرح سچی شہادت کو واجب اور لازم فرمایا ہے، ارشاد باری ہے کُونُوا قَوَّامِینَ لِلَّہِ شُہَدَاء َ بِالْقِسْطِ اور دوسری جگہ ہے کُونُوا قَوَّامِینَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاء َ لِلَّہِ ان دونوں آیتوں میں مسلمانوں پر فرض کیا کہ سچی شہادت سے جان نہ چرائیں، اللہ کے لیے ادائیگی شہادت کے لیے کھڑے ہوجائیں، تیسری جگہ سورہٴ طلاق میں ارشاد ہے وَأَقِیمُوا الشَّہَادَةَ لِلَّہِ یعنی اللہ کے لیے سچی شہادت قائم کرو، ایک آیت میں ارشاد فرمایا کہ سچی شہادت کا چھپانا حرام اور گناہ ہے، ارشاد ہے: وَلَا تَکْتُمُوا الشَّہَادَةَ وَمَنْ یَکْتُمْہَا فَإِنَّہُ آَثِمٌ قَلْبُہُ یعنی شہادت کو نہ چھپاوٴ اور جو چھپائے گا اسکا دل گنہ گار ہے۔ حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں کو ووٹ ضرور ڈالنا چاہیے، البتہ ووٹ ڈالنے جس امیدوار کے حق میں ووٹ ڈال رہا ہے اس کے حق میں گویا یہ خود ہی گواہی دے رہا ہے کہ یہ امیدوار میرے علم کے مطابق سب سے زیادہ مستحق اور دیانت دار ہے

ہم اکثر پڑھتے، سنتے، لکھتے اور کہتے ہیں دین دار لوگ پیروں، مشائق، علمائے کرام کو سیاست میں آنا / کرنی نہیں چاہیے دین دار لوگ  پیروں، مشائق، علمائے حق کو مدرسہے، مسجدوں اور خانگاوں میں رہنا چاہئے یہ ایک بیوقوف جاہلانہ سوچ و فقر ہے اور کچھ بڑے بڑے پیر، مشائخ، مولوی خود کہتے ہیں ہم غیر سیاسی ہے ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تو جناب ہم آپ سے پوچھتے ہیں آپ ہے کون کس کی پیروی کر رہے ہوں دین تو ہے ہی اس کا نام گھر سے لئے کر تختِ سلطان تک اسلام کے مطابق چلے پاکستان تو بڑے بڑے علامہ،مشائق، پیر،مولویوں نے سیاست مل کر بنایا تھا اگر آپ دین دار سیاست نہیں کرے گے تو پھر کیا دنیا دار کتے نمرود، فوعون، یزید جیسے ظالم، شرابی، زانی، چھوٹے، چور، سود خور، کرے گے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ روایت کرتے ہیں رسولﷺ نے فرمایا ۔۔

بنی اسرائیل کے انبیاء اُن کی سیاسی رہنمائی بھی کیا کرتے تھے، جب ان کا کوئی نبی فوت ہوجاتا تو دوسرے ان کی جگہ آ موجود ہوتے. لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا! ہاں، میرے نائب (خلفاء) ہوں گے اور بہت ہوں گے.
بخاری 3455
(مسلم 4773؛ ماجہ 2871؛ مسند احمد 12146؛ مشکوٰۃ 3675)

تین چیزیں ہیں اسلام میں 
شریعت، طریقت، سیاست 
شریعت راستہ ہے جب راستہ ہی نہ ہو تو چلوگے کس طرف؟
طریقت راستے پر چلنے کے اصول کا نام ہے راستہ ہو اور چلنے کا ڈھنگ ہی نہ آئے
سیاست اس راستے پر چلتے ہوئے جو مشکلات سامنے آئیں تو اسے دور کرنے کا نام سیاست ہے
یہ تینوں چیزیں ہونگی تو اعتدال ہوگی

ایک بات ہمیشہ یاد رکھے میدان جنگ ہو یا میدان الیکشن یہ دونوں میدان نظرِے پر ہیں، حق اور ناحق کے ہوتے ہیں حق کی ہار بھی جیت ہوتی ہے اور ناحق کی جیت کر بھی ہار ہوتی ہے تو آپ بس یہ دیکھے کہ ہم حق کے ساتھ ہے یا ناحق کے ساتھ ہے( کربلا حق و ناحق کی جنگ اور بیعت کا میدان ہے برحق امام حسین نے ظالم یزید کی بیعت نہیں کی سب کچھ قربان کر دیا آقا حسین کی قیامت تک جیت ہوئی اور یزید کی ہار) اسی طرح ایک شخص نے صحابیؓ رسولؐ کو شہید کر دیا تو صحابیؓ رسولؐ کے منہ سے نکلا ربِ کعبہ کی قسم میں بازی جیت گیا وہ شخص حضور پاکﷺ کے پاس آیا پوچھا اے محمدﷺ دنیا کا دستور ہے  جنگ میں جو مر گیا وہ ہار گیا جو زندہ بچ گیا وہ جیت گیا مگر میں نے آپﷺ کے غلام کو قتل کیا وہ کہتا ہے میں جیت گیا آپﷺ نے فرمایا تجھے اس طرح سمجھ نہیں آئےگی تُو پہلے کلمہ حق پڑھ )

ڈاکٹر علامہ اقبال فرماتے ہیں

سبق پڑھ پھر#صداقت کا#عدالت کا#سجاعت کا
۔۔۔۔۔لیا جائے گا تجھ سے کام دُنیا کی امامت کا

صداقت مطلب دینِ حق، عدالت مطلب حکومت، سجاعت مطلب بہادر مجاہدین، آفواج، 
پتا چلا کہ پوری دنیا پر اسلام کا پرچم لہڑانے والا پوری امت مسلمہ کا سچا لیڑر وہی شخص ہو گا جس میں یہ تینوں خوبیاں موجود ہوں گی پھر آج وہ کون سا شخص ہے جو قرآن و سنت/نظام مصطفیٰﷺ کی بات کرتا ہے وہ کون انبیاء اکرم کا ورث علماء حق ہیں جو سنت انبیاء سیاست میں آکر امامتِ عظمیٰ پڑی امامت حکومت کرنا چاہتا ہے وہ کون ہے جو خود اپنی تحریک سمیت پاکستان میں نظام مصطفیٰ ﷺ قائم کرنے اور پوری دنیا پر دین اسلام کا پرچم لہرانے اور دشمن اسلام یہود انصاریٰ و گستاخ رسولﷺ کے خلاف جہاد کرنے کیلے ہر وقت تیار ہیں

پاکستان میں تین طرح کی سیاست موجود ہیں اور ہو رہی ہے ایک جمہوریت، دوسری فوجی فیلڈ مارشل لاء اور تیسری مزہبی اسلام " ہم نے 75 سال سے جمہوریت ( پیپلزپارٹی/ مسلم ن لیک/ تحریک انصاف/ اور وغیرہ وغیرہ  کو بھی دیکھ لیا اور فوجی فیلڈ مارشل ایوب خان، جنرل یحییٰ، جنرل ضیاء الحق اور پرویز مشرف مارشل لاء  کو بھی دیکھ لیا 1958سے1971 تک پاک فوج، 1971سے 1977تک پیپلزپارٹی، 1977سے1988تک پھر پاک فوج، 1988سے1990تک پھر پیپلزپارٹی، 1990سے1993تک مسلم ن لیک، 1993سے1996تک تیسری بار پھر پیپلزپارٹی، 1997سے1999تک پھر مسلم ن لیک، 1999سے1908تک تیسری بار پھر پاک فوج، 1908سے1913تک چوتھی بار پھر پیپلزپارٹی، 1913سے1918تک تیسری بار پھر مسلم ن لیگ، 1918سے1922تک تین سال سات ماہ تحریک انصاف، سب کو دیکھ لیا پاکستان نقصان میں گیا اب آئے اس نظام قانون کی طرف جس کے لیے پاکستان بنایا گیا وہ ہے بس 
اسلام( نظام مصطفیٰﷺ، قرآن و سنتﷺ )

 
ہم نظامِ حکومت نہ بادشاہت چاہتے ہیں نہ جمہوریت، نہ فوج مارشل لاء اور نہ مزہبی مولویوں کو صرف ہ پاکستان میں بس اسلام چاہتے ہیں نظام مصطفیٰﷺ،  قرآن وسنتﷺ  کا نظامِ قانون 🇵🇰🇸🇦🇹🇷

🇹🇷 از تحریر قلم @محمد گلفام مصطفائی🇵🇰
مکمل تحریر >>

Saturday, 16 July 2022

پولنگ اسٹیشن پر دھاندلی کیسے روکنی ھے

🛑🛑

*پولنگ اسٹیشن پر دھاندلی کیسے روکنی ھے*

*1۔ صبح پولنگ بونے سے پہلے پریزائیڈنگ آفیسر، پولنگ ایجنٹس کے سامنے خالی ڈبے دکھائے گا اور سیل کرے گا، یقینی بنائیں آپ اس موقع پر موجود ہوں ۔*
*پولنگ ایجنٹ ایکٹو اور فعال بندہ ھو ۔ بلکہ ایک سے زائد بندے موجود ھوں بلخصوص خواتین پولنگ ایجنٹ چست اور چالاک ھو جس سے زیادہ دھاندلی لیڈی پولنگ بوتھ ہر ھوتی ھے*

*2۔ پریزائیڈنگ آفیسر ایسے نہیں کرتا تو یقینی بنائیں کہ وہ خالی ڈبے دکھائے اور سیل کرے ۔ وقت بھی ضائع نہ ھو فوری فون ان کریں اور لائیو کریں امیدوار ممکن بنائے پولنگ ایجنٹ اور دیگر کارکنوں کا موبائل پیکج لگا ھونا چاھیے اور بیٹری بھی فل چارج ۔ تمام پولنگ ایجنٹس کے پاس کیمرے والا فون ھو*
*3۔ الیکشن کیمپ پر زرا تیز لوگ بٹھائیں، تاکہ swing voter کو پرچی لیے زیادہ مشکل نہ ہو، کئی لوگ پولنگ اسٹیشن پر پہنچ کر ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کرتے ہیں، رونق میلہ لگائی رکھیں، کمزوری کا تاثر نہیں جانا چاہیے ۔ کوشش یہ ھو پولنگ ڈے سے قبل گھرانہ وائز زیادہ سے زیادہ پرچیاں بن جائیں اور لوگ جلد از جلد ووٹ کیلے نکلیں وعٹ کیلے لائن میں کھڑے افراد کیلے پانی کا بندوبست کیا جائے*
*4۔ ووٹوں والی ہر book میں 100 بیلٹ پیپر ہوتے ہیں، پریزائیڈنگ آفیسر کو کہیں کہ جب نئی book لگائی جائے، اس کا نمبر پولنگ ایجنٹس کو نوٹ کرائے.. اس طرح معلوم ہو جائے گا کہ نوئل کاسٹنگ کیا رہی، مثلا تین books لگی ہوں تو 300 ووٹ، نئی book کا سیریل نمبر نوٹ کرتے جائیں، گنتی کے وقت کام آئے گا پریزائیڈنگ آفیسر آپ کو بتائے بغیر نئی book لگائے تو سمجھ لیں آپ مارے گئے ہیں*

*5۔ کھانے کے وقفے وغیرہ میں (دیہاتی حلقوں میں یہ ہوتا ہے) ووٹوں کے ڈیے نگرانی میں ایک کمرے میں بند کرائیں ڈبے خالی نہ چھوڑے جائیں ۔ سرکاری عملہ کوئی فرمائش کرے تو فون کرکے فرمائش پوری کریں اٹھ کر ھرگز نہ جائیں دودھ پلانے والی خاتون پولنگ ایجنٹ نہ ھو اور نہ دوران پولنگ فیس بک یو ٹیوب دیکھا جائے عملہ کو کھانا پلانا پولنگ ایجنٹ کی زمہ داری نھی اور نہ وہ مخالف کیمپ سے بھجوایا گیا کھانا ، پانی اور چائے پیئے ۔*

6۔ اگر آپ جیت رہے ہوں تو مخالف پولنگ ایجنٹس لازما لڑائی کریں گے تا کہ ووٹ ڈالنے کی شرح کم رہے، لڑائی سے گریز کریں، پولنگ ختم ہونے کے بعد لڑ لیں بیشک
7۔ آنکھیں کھول کر ایک ایک ووٹ بغور گنیں

*8۔ فارم 45، جسے ہم پکا نتیجہ بھی کہتے ہیں، وہ لیے بغیر نہ ہلیں، پریزائیڈنگ آفیسر کچی پنسل یا پین سے لکھا نتیجہ دینے کی کوشش کرے تو بلکل بھی نہ لیں، بال پوائنٹ کا بنا نتیجہ لیں ۔ بعض اوقات پولنگ ختم ھونے سے پہلے پولنگ ایجنٹ سے خالی فارم پر دستخظ کروانے کی کوششبکی جاتی ھے نتیجہ مرتب ھونے تک ھرگز کسی فارم ہر دستخظ نہ کریں*
*9۔ نتیجہ ملنے کے فوری بعد اپنے امیدوار کو واٹس ایپ کریں، امیدوار الیکشن کمیشن آفس کو واٹس ایپ ہوئے نتیجے سے ٹیلی کرے جبکہ تمام پو لنگ ایجنٹوں کا وٹس ایپ گروپ ھونا چاھیے یہ کام پولنگ ڈے سے پہلے کر لیا یائے*

*10۔ الیکشن نتائج والے دن امیدوار کو چاہیے اپنے ڈیرے کے بجائے کچہری (آر او آفس) بیٹھے، پولنگ ایجنٹس یقینی بنائیں کہ پولنگ اسمال کو اپنی نگرانی میں آر او آفس تک پہنچائیں، عملہ اور گاڑی کو اکیلا مت چھوڑیں ۔*
*•┈┈┈┈┈••✦TLP✦••┈┈┈┈┈•*
*🤝​اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎​ ہمارے رضوی پاور میڈیا آفیشل یوٹیوب چینل اور ٹویٹر اکاونٹ کو ضرور سبسکرائب کریں اور گھنٹی🔔کے نشان پر پریس کر کے تمام نوٹیفیکیشن آن کرنا مت بھولیں شکریہ🥀*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*🔰Retweet & Follow Account ⤵️*
https://twitter.com/TLPRPM
*🔰YouTube Channel Link⤵️*
https://youtube.com/c/RizviPowerMedia
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
            ⚔️ *مَن٘ سَبَّ نَبِیًّا فَاق٘تُلُو٘ہُ*⚔️
        *⚔آپ کی دعاؤں🤲کا طلبگار⚔* 
*🌺❥🇵🇰𝐑𝐈𝐙𝐕𝐈 𝐏𝐎𝐖𝐄𝐑 𝐌𝐄𝐃𝐈𝐀🇹🇷❥🌺*
مکمل تحریر >>

Saturday, 16 October 2021

وصال کے دن یعنی بارہ ربیع الاول کو جشن مناتے ہو دیابنہ اور وہابیہ کے اعتراض کا جواب ٭٭٭٭

وصال کے دن یعنی بارہ ربیع الاول کو جشن مناتے ہو دیابنہ اور وہابیہ کے اعتراض کا جواب
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارٸینِ کرام : دیابنہ اور وہابیہ ہر نیا کام خود کرتے ہیں مگر انہیں بغض و عداوت صرف میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ہے اسی لیے نت جاہلانہ اعتراضات کرکے اپنے بغض کا اظہار کرتے رہتے ہیں انہیں میں سے ایک اعتراض یہ بھی کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وصال کے دن یعنی بارہ ربیع الاول کو جشن مناتے ہو حقیقت یہ ہے کہ بارہ ربیع الاول حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تاریخ وصال نہیں ہے ۔ اگر بالفرض اس بات کو تسلیم کربھی لیا جائے کہ بارہ ربیع الاول شریف کو ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا وصال شریف ہوا تھا تو وفات کا غم وفات سے تین دن کے بعد منانا قطعا جائز نہیں ۔ اسلام میں سوگ صرف تین دن ہے اگر تین دن سے زیادہ سوگ کا کہیں حکم ہے تو کوئی دیوبندی وہابی ثبوت دے اب حدیث شریف ملاحظہ فرمائیں ۔

حضرت اُمِّ حبیبہ اور حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں : ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم کسی وفات یافتہ پر تین روز کے بعد غم نہ منائیں مگر شوہر پرچار ماہ دس دن تک بیوی غم منائے گی ۔ (صحیح بخاری مترجم جلد اوّل صفحہ663)۔(مسلم جلد اول صفحہ نمبر 486،چشتی)۔(صحیح بخاری کتاب الجنایزحدیث نمبر 1280 دار الکتب العلمیۃ بیروت)

ثابت ہوا کہ تین دن کے بعد وفات کا سوگ منانا ناجائز ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وصال کا غم منانے کا حکم ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہر جمعہ (یوم ولادت حضرت آدم علیہ السلام) منانے کے بجائے یوم سوگ منانے کا حکم دیتے چنانچہ حدیث ملاحظہ ہو ۔

حضرت اوس بن اوس رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فضیلت جمعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا ۔ تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے اس میں حضرت آدم علیہ السلا کو پیدا کیا اور اسی میں ان کا وصال ہوا ۔ (ابو داؤد شریف، ابن ماجہ، نسائی شریف،چشتی)

قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات ثابت ہے کہ انبیاء کرام علیہم السّلام ، شہداء اور صالحین علیہم الرّحمہ اپنی قبور میں جسم و جسمانیت کے ساتھ حیات ہیں ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم حیات ہیں تو پھر سوگ اور غم کیسا ؟ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ارشاد فرماتے ہیں چنانچہ حدیث شریف ملاحظہ ہو :

حضرت عبدﷲ ابن مسعود رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : حیاتی خیرلکم و مماتی خیر لکم ۔
ترجمہ : میری ظاہری حیات اور وصال دونوں تمہارے لئے باعث خیر ہے ۔ (کتاب الشفاء امام قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ)

الزام لگانے والو ذرا سوچو اور یاد کرو بخاری شریف کی پہلی حدیث ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘ لہٰذا ہم جشن ولادت کی خوشی کی نیت سے میلاد مناتے ہیں نہ کہ وصال کی خوشی پر جشن مناتے ہیں ۔

دیابنہ اور وہابیہ ، سادہ لوح مسلمانوں کو یہ کہہ کر ان کے ایمان افروز جذبات کو مجروح کرنے کی ناپاک کوشش کرتے ہیں کہ ۱۲ ربیع الا ول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات شریف کا دن ہے۔ اس لیے اس روز خوشی منانے کا جواز ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ تو غم افسوس اور سوگ کا دن ہے ۔چنانچہ قاضی محمد سلیمان اپنی کتاب رحمۃ اللعالمین میں رقمطرازہیں کہ ۱۲ ربیع الاول ۱۱ھ یوم دو شنبہ وقت چاشت تھا کہ جسم ا طہر سے روح انور نے پرواز کیا۔اس وقت عمر مبارک ۶۳ سال قمری پر ۴ دن تھی۔ ’’ اِنّٰا للّٰہ وَاِ ناَّ اِلَےْہِ رَاجِعُوْن۔‘‘ (رحمۃ اللعالمین جلد اول صفحہ ۳۲۳)

۱۲ ربیع الاول بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم وفات ہے۔اس روز خوشیاں منانے والے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی وفات پر خوشیاں مناتے ہیں۔ان کا ضمیرو ایمان مردہ ہے۔ان کو نہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا پاس ہے نہ ان سے حیا۔یہ لوگ روز قیامت خدا تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے۔محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو کیا منہ دکھائیں گے۔

کیا ۱۲ ربیع الاول بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم وفات ہے ؟ نہیں نہیں ہرگز نہیں ۔اس موضوع پر مورخین ومحققین اسلام کا نکتہ نظر اختصاراً پیش خدمت ہے ۔

پیر کا دن : اگرچہ یہ بات طے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت با سعادت اور وفات شریف پیر کے دن ہوئی ۔ لیکن وفات شریف کےلیے ۱۲ ربیع الاول کی تاریخ کو خاص کرنا کسی معتبر دلیل سے ثابت نہیں۔یہ بات نہ تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے ثابت ہے نہ ہی تابعین سے۔ لہذا بعد میں کسی کا ۱۲ ربیع لاول کو تاریخ وفات قرار دینا ہرگز درست نہیں۔

روایت شریف سے استدلال : معترضین ۱۲ ربیع الاول کو وفات شریف ثابت کرنے کے لئے ایک روایت جو کہ حضرت عائشہ اورحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے منسوب ہے سے استدلال کرتے ہیں ۔ مگر اس موقع پر اس روایت کے راوی کی حیثیت پر تبصرہ نہیں کرتے ۔ حالا نکہ اہل علم حضرات پر یہ بات مخفی نہیں ہے کہ اس روایت کی سند محمد بن عمرو اقدی ایک ایسا راوی ہے ۔ جس کے بارے میں اسحاق بن راہویہ ،امام علی بن مدین،امام ابو حاتم الرازی اور نسائی نے متفقہ طور کہا ہے کہ واقدی اپنی طرف سے درپیش گھڑ لیا کرتا تھا۔امام یحیےٰ بن معین کے نزدیک واقدی ثقہ یعنی قابل اعتبار نہیں ہے۔ امام احمد بن حنبل نے فرمایا واقدی کذاب ہے۔حدیثوں میں تبدیلی کر دیتا تھا۔بخاری شریف اور ابو حاتم رازی نے کہا کہ واقدی کی حدیثیں تحریف سے محفوظ نہیں۔امام زہبی نے فرمایا کہ واقدی کے سخت ضعیف ہونے پر آئمہ جرح وتبدیل کا اجماع ہے ۔ (میزان الاعتدال جلد ۲ ،ص،۳۶-۴۲۵ مطبوعہ ہند قدیم،چشتی)

معلوم ہوا کہ اس روایت کے سخت ضعیف ہونے پر محدثین ومحقیقین اسلام کا اجماع ہے ۔لہذا اس روایت سے استدلال کرنا باطل ہے۔ بفضلہ تعالیٰ! اگر ہم ۱۲ ربیع الاول کو تاریخ ولادت ثابت کرنے کیلئے دلائل اکٹھا کرنا شروع کریں تو اس موضوع پر پوری کتاب تیار ہو سکتی ہے لیکن اختصار کے پیش نظر زیر قلم مضمون میں فقط یہ ثابت کریں گے کہ ۱۲ ربیع الاول حضور پر نور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا یوم وصال نہیں ہے۔

۱۲ ربیع الا ول کا تاریخ وفات نہ ہونے پر ناقابلِ تردید دلیل : ⬇

مورّخِ اسلام امام ابو القاسم عبد الرحمن السّہیلی ارشاد فرماتے ہیں:’’وکیف ما دار الحال علی ھذا الحساب فلم یکن الثانی عشر من ربیع الاول یوم الاثنین بوجہ ۔‘‘ (الروض الا نف جلد ۲ ،ص ۳۷۲) ، یعنی اس حساب پر کسی طرح بھی حال دائر ہو مگر ۱۲ ربیع الاول کو یوم وفات سوموار کسی صورت میں نہیں آسکتا۔یہی مضمون امام شمس الدین الذھبی،ابن کثیر ،امام نور الدین علی بن احمد السمہوری بن برہان الدین الحلبی وغیرہ سے بھی منقول ہے۔ (تاریخ اسلام للذہبی جزارلسیرۃ النبویہ ص ۴۰۰-۳۹۹، وفاء الوفاء جلد ۱ص ۳۱۸، البدایہ والنہایہ جلد ۵ ص ۲۵۶ سیرۃ حلبیہ جلد ۳ ص ۴۷۳،چشتی )

محقیقین ومورخین اسلام کی مذکورہ دلیل کو پرکھنے کےلیے تاریخ اسلام کی کسی پختہ تاریخ و یوم کا معلوم ہونا ضروری ہے۔ اس مقصد کیلئے یوم عرفہ ۱۰ ھ کو ۹ ذی الحج کی تاریخ اور جمعۃ المبارک کا دن ہونے پر مختصر دلائل پیش کرتے ہیں ۔تا کہ اس تاریخ سے تقویم کی رو سے نتیجہ سامنے آ سکے۔ یوم عرفہ کو تاریخ سے تقویم کی رو سے نتیجہ سامنے آ سکے۔ یوم عرفہ کو تاریخ ۹ ذی الحجہ ۱۰ ھ ؁ اور دن جمعۃ المبارک کا تھا۔۹ ذی الحجہ ۱۰ھ ؁ کو حضور پر نور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع ارشاد فرمایا اسی روزیہ آیت نازل ہوئی۔’’الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الا سلام دیناً ۔‘ل (المائدہ ،آیت نمبر۳) ’’ یعنی آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کیا ۔ یہ آیت حجۃ الوداع میں عرفہ کے روز جو جمعہ کو تھا ،بعد عصر نازل ہوئی۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا اے امیر المومنین ! آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے ۔اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم روز نزول کو عید مناتے۔فرمایا کون سی آیت؟ اس نے یہی آیت ’’الیوم اکملت لکم——پڑھی۔ آپؓ نے ارشاد فرمایا میں اس دن کو جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی تھی۔اور اس کے مقام نزول کو بھی پہچانتا ہوں۔وہ مقام عرفات کا تھا اور دن جمعہ کا ۔ (خزائن العرفان)

ترمذی شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے آپ سے بھی ایک یہودی نے ایسا ہی کہا ۔آپ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن ۲ عیدیں تھیں۔جمعہ، عرفہ۔ (خزائن العرفان)

یہ آیت جیسا کہ شیخین نے حضر ت عمرؓ سے روایت کیا ،عصر کے وقت جمعہ کے روز ذوالحجہ کی نویں تاریخ ،حجۃ الوداع میں جو کہ ۱۰ھ ؁میں تھا۔

نازل ہوئی ہے۔ (حاشیہ القرآن الحکیم مع ترجمعہ شاہ رفیع الدین دہلوی ومولانا اشر ف علی تھانوی ف۱۰ ص ۱۱۹ مطبوعہ تاج آرٹ پر یس کراچی)

جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مکہ معظمہ میں حجۃ الوداع کے مبارک موقع پر عرفہ کے دن، جمعہ کے روز عضباء ناقہ پر سوار تھے ۔ (ترجمعہ مولانا محمود الحسن مع حاشیہ و فوائد القرآن صفحہ نمبر ۱۷۲،چشتی)

یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ کے روز جمعہ کے دن عصر کے وقت نازل ہوئی جبکہ میدان عرفات میں حضرت خیر الانام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اونٹنی کے گرد چالیس ہزار سے زائد اتقیاء ابرار رضوان اللہ علیھم اجمعین کا مجمع تھا ۔ ( ترجمعہ مولانا محمود الحسن مع حاشیہ و فوائد القرآن ص ۱۷۳)

نویں ذی الحجہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم طلوع آفتاب کے بعد وادی نمرہ میں آکر اترے۔دن ڈھلنے کے بعد یہاں سے روانہ ہو کر عرفات میں تشریف لائے ۔ (رحمۃ اللعالمین جلد اول ص نمبر ۲۹۹)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جب خطبہ سے فارغ ہوئے تو اسی جگہ اس آیت کا نزول ہوا۔ الیوم اکملت لکم دینکم ۔ (رحمۃ اللعالمین جلد اول ص ۳۰۵ بحوالہ صحیح بخاری عن عمر بن الخطاب)

اس مختصر سی وضاحت سے واضح ہوا کہ یوم عرفہ کو تاریخ ۹ ذی الحجہ ۱۰ھ اور دن جمعۃ المبارک کا تھا۔ اس تاریخ سے حساب شروع کر کے چاند کے طلوع وغروب ہونے کی نسبت سے ذی الحجہ ،محرم اور صفر کے ایام کی تعداد انتیس ۲۹ اور تیس۳۰ متصور کر کے ہر اسلامی مہینہ تقومی نظام کے آئینے میں دیکھتے ہیں کہ آیا ۱۲ ربیع الاول شریف کا دن سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا یوم وصال ہے یا نہیں ؟

۹ ذی الحجہ تا ۱۳ ربیع الاول تک تقومی نظام کی رو سے ربیع الاول شریف کو ۱،۲،۶،۷،۸،۹،۱۳ میں سے کوئی ایک تاریخ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تاریخ وفات قرار پاتی ہے جبکہ منکرین میلاد کے دعوی کے برعکس ۱۲ ربیع الاول کو سوموار کا دن نہیں آتا ہے۔چنانچہ کتب تواریخ وسیر میں بھی وفات شریف کی تاریخ سے متعلق مختلف روایات موجود ہیں۔اجلۂ تابعین ابن شہاب زہری ،سلیمان بن طرخان اور سعد بن ابراہیم زہری سے اسناد کے سا تھ یکم۱،دو ۲ ربیع الاول کو وفات نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم منقول ہے۔

علامہ شبلی نعمانی نے بھی یکم ربیع الاول کو یوم وفات قرار دیا ہے۔(سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ۔جلد ۲)محمد بن عبدالوہاب کے بیٹے شیخ عبد اللہ نے آٹھ ربیع الاول کو یوم وفات قرار دیا ہے۔ (مختصر سیرۃ الر سول ﷺ)

دعوتِ فکر وعمل : ⬇

وہ جن کو دعوی ہے کہ ۱۲ ربیع الاول ہی سرکار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا یوم وصال ہے ۔ معتبر حقائق و دلائل کی روشنی میں ۱۲ ربیع الاول ۱۱ھ ؁ کو سوموار کا دن ثابت کریں ۔مذکورہ دلائل کا رد بلیغ کریں۔لیکن سوموار شریف کا دن نہ کر سکیں یا پیش کردہ دلائل کا معقول جواب نہ دے سکیں تو ہم عرض کریں گے کہ (۱) ۱۲ ربیع الاول کو غم اور سوگ کی بجائے آقائے کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے میلاد کی خوشیاں منایا کریں۔ (۲) محبوبان و مقبولان خدا کی تنقیص کی بجائے توقیر و عظمت کے پہلوجات بیان فرمائے جائیں اور ہر ممکن ادب واحترام کا خیال رکھاجائے۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی) ⬇
مکمل تحریر >>

تاریخِ وصالُ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم 12 ربیع الاوّل ہرگز نہیں ہے ٭٭٭٭

تاریخِ وصالُ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم 12 ربیع الاوّل ہرگز نہیں ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارٸینِ کرام : دراصل اسے بارہ وفات کہنا ہی نہیں چاہیے بلکہ اسے عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم “بارھویں شریف“ “عیدوں کی عید“ یا “عاشقوں کی عید“ کہنا چاہئیے کیونکہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو محبوب کبریا سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم دنیا میں جلوہ افروز ہوئے تھے اس لئے اسے بارھویں شریف کہتے ہیں ، اور چونکہ لغوی اعتبار سے عید وہ دن ہوتا ہے کہ جس میں کسی صاحب فضل یا کسی بڑے واقعے کی یادگار منائی جاتی ہو ۔ (مصباح اللغات) ۔ اور یقیناً ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت سے زیادہ صاحب فضل شخصیت اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت مبارکہ سے زیادہ اہم واقعہ اور کون سا ہو گا ؟ لٰہذا اسے “عید میلادالنبی“ یا “عیدوں کی عید“ یا “عاشقوں کی عید“ بھی کہہ  دیتے ہیں ۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا وصال شریف بارہ ربیع الاول کو ہوا چنانچہ اس اعتبار سے اسے بارہ وفات کہہ دیتے ہیں لیکن صحیح یہی ہے کہ تایخ وصال “دو ربیع الاول“ ہے جیسا کہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی بخاری شریف کی شرح “فتح الباری“ میں طویل بحث کے بعد ثابت کیا ہے۔ چنانچہ ہمیں چاہئیے کہ خود بھی اسے بارہ وفات کہنے سے پرہیز کریں اور اس عظیم الشان خوشی کے موقع کا یہ نام رکھنے سے دوسروں کو بھی محبت و شفقت کے ساتھ روکیں ۔ کم از کم اپنے گھر والوں کو تو اس بارے میں ضرور سمجھانا چاہئیے ۔

ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺟﻠﺪ 1 ﺻﻔﺤﮧ 11۔ﺟﻠﺪ 2 ﺻﻔﺤﮧ 662۔ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ ﺟﻠﺪ 2 ﺻﻔﺤﮧ 420۔ﺟﺎﻣﻊ ﺗﺮﻣﺬﯼ ﺟﻠﺪ 2 ﺻﻔﺤﮧ 129 (ﺣﺴﻦ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ) ﮐﮧ ﺣﺠﺘﮧ ﺍﻟﻮﺩﺍﻉ ﮐﮯ ﺳﺎﻝ ﯾﻮﻡِ ﻋﺮﻓﮧ (9 ﺫﻭاﻟﺤﺠﮧ) ﺟﻤﻌﮧ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺟﻠﺪ 1 ﺻﻔﺤﮧ 93,94 ﭘﺮ ﺣﺪﯾﺚ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﺻﺎﻝ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﭘﯿﺮ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮨﻮﺍ ﻟﮩﺬﺍ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﯾﮑﻢ ﯾﺎ ﺩﻭ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ﮐﻮ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ ۔ﺑﺎﺭﮦ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ﭘﯿﺮ ﮐﺎ ﺩﻥ ﯾﻮﻡِ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ ۔ﺧﻮﺍﮦ ﺫﻭﺍﻟﺤﺠﮧ ، ﻣﺤﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﺻﻔﺮ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻣﮩﯿﻨﮯ 30,30 ﺩﻥ ﮐﮯ ﯾﺎ 29,29 ﺩﻥ ﮐﮯ ﯾﺎﺩﻭ ﻣﮩﯿﻨﮯ 30,30 ﺩﻥ ﮐﮯ ﯾﺎ ﺍﯾﮏ 29 ﺩﻥ ﮐﺎ ﯾﺎ ﺩﻭ ﻣﮩﯿﻨﮯ 29,29 ﺩﻥ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﯿﻨﮧ 30ﺩﻥ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ۔ ﺩﻭ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ﺑﺮﻭﺯ ﭘﯿﺮ ﯾﻮﻡِ ﻭﻓﺎﺕ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﻠﻤﺎﺀﺍﺳﻼﻡ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﻣﺘﻮﻓﯽ 230 ﮪ۔ﺍﻟﻄﺒﻘﺎﺕ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼ ﺟﻠﺪ
2 ﺻﻔﺤﮧ 208,209 ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﯿﮩﻘﯽ 458 ﮪ۔ ﺩﻻﺋﻞ ﺍﻟﻨﺒﻮﮦ ﺟﻠﺪ 7 ﺻﻔﺤﮧ 235
ﺣﺎﻓﻆ ﻣﻐﻠﻄﺎﺋﯽ 762 ﮪ۔ ﺍﻻﺷﺎﺭﮦ ﺍﻟﯽ ﺳﯿﺮﺕ ﺍﻟﻤﺼﻄﻔﯽ ﺻﻔﺤﮧ 351 ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺳﻤﺎﻋﯿﻞ (ﺍﺑﻦِ ﮐﺜﯿﺮ) 774 ﮪ۔ ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭﺍﻟﻨﮩﺎﯾﮧ ﺟﻠﺪ 4ﺻﻔﺤﮧ 228 ﺣﺎﻓﻆ ﺷﮩﺎﺏ ﺍﻟﺪﯾﻦ (ﺍﺑﻦِ ﺣﺠﺮ ) 852 ﮪ۔ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﯼ ﺟﻠﺪ 8 ﺻﻔﺤﮧ 473 ﻋﻼﻣﮧ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﯾﻮﺳﻒ ﺍﻟﺼﺎﻟﺤﯽ 942 ﮪ۔چشتی۔ﺳﺒﻞ ﺍﻟﮭﺪﯼ ﻭﺍﻟﺮﺷﺎﺩ ﺟﻠﺪ 12 ﺻﻔﺤﮧ 305 ﺷﯿﺦ ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻖ ﺩﮨﻠﻮﯼ 1052 ﮪ۔ﺍﺷﻌﺘﮧ ﺍﻟﻠﻤﻌﺎﺕ ﺟﻠﺪ 4 ﺻﻔﺤﮧ 604 ﻋﻼﻣﮧ ﺑﺪﺭ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻋﯿﻨﯽ 855 ﮪ۔ﻋﻤﺪﺓ ﺍﻟﻘﺎﺭﯼ ﺟﺰ 18 ﺻﻔﺤﮧ 60 ﻋﻼﻣﮧ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺍﻟﻘﺎﺭ ﯼ 1014 ﮪ۔ﺍﻟﻤﺮﻗﺎﺕ ﺟﻠﺪ 11 ﺻﻔﺤﮧ 238 ﻋﻼﻣﮧ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺳﮩﯿﻠﯽ 581 ﮪ۔ﺍﻟﺮﻭﺽ ﺍﻻﻧﻒ ﻣﻊ ﺍﻟﺴﯿﺮﺓ ﺍﻟﻨﺒﻮﯾﮧ ﺟﻠﺪ 4 ﺻﻔﺤﮧ440 ۔

ﯾﮑﻢ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ﺑﺮﻭﺯ ﭘﯿﺮ ﻭﻓﺎﺕ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﻠﻤﺎﺀ

ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮ ﺍﻟﻘﺎﺳﻢ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﻋﺴﺎﮐﺮ 571 ﮪ۔ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺩﻣﺸﻖ ﺟﻠﺪ2 ﺻﻔﺤﮧ 387 ﻋﻼﻣﮧ ﺟﻼﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺳﯿﻮﻃﯽ 911 ﮪ۔ﺍﻟﺘﻮﺷﯿﺢ ﺟﻠﺪ 4 ﺻﻔﺤﮧ 143 ﻋﻼﻣﮧ ﻋﻠﯽ ﺣﺒﻠﯽ 1044 ﮪ۔ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﻟﻌﯿﻮﻥ ﺟﻠﺪ3 ﺻﻔﺤﮧ 473 ﻋﻼﻣﮧ ﺷﺒﻠﯽ ﻧﻌﻤﺎﻧﯽ ﺳﯿﺮﺕ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﺟﻠﺪ 2 ﺻﻔﺤﮧ 106,107 ﻋﻼﻣﮧ ﻧﻮﺭ ﺑﺨﺶ ﺗﻮﮐﻠﯽ1367 ﮪ۔ ﺳﯿﺮﺕ ﺭﺳﻮﻝ ﻋﺮﺑﯽ 226 ﻋﻼﻣﮧ ﻏﻼﻡ ﺭﺳﻮﻝ ﺳﻌﯿﺪﯼ ﺗﺒﯿﺎﻥ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ ﺟﻠﺪ 7 ﺻﻔﺤﮧ 576 ۔

ﺷﯿﺦ ﺍﺷﺮﻑ ﻋﻠﯽ ﺗﮭﺎﻧﻮﯼ دیوبندی 1364 ﮪ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﮨﻮﯾﮟ ﺟﻮ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺣﺴﺎﺏ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﺳﺎﻝ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ﮐﯽ ﻧﻮﯾﮟ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﯽ ﺗﮭﯽطﺍﻭﺭ ﯾﻮﻡِ ﻭﻓﺎﺕ ﺩﻭ ﺷﻨﺒﮧ (ﭘﯿﺮ) ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ ۔ ﭘﺲ ﺟﻤﻌﮧ ﻧﻮﯾﮟ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﮦ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ﺩﻭ ﺷﻨﺒﮧ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ۔ (ﻧﺸﺮﺍﻟﻄﯿﺐ ﺻﻔﺤﮧ 241)

ﺑﺎﺭﮦ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ﻭﻓﺎﺕ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻏﻠﻄﯽ ﯾﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﺛﺎﻧﯽ ( 2 ) ﮐﻮ ﺛﺎﻧﯽ ﻋﺸﺮ ( 12 ) ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ ۔ (ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﯼ ﺟﻠﺪ 8 ﺻﻔﺤﮧ نمبر 473,474۔چشتی)

ﺍﮨﻞِ ﺳﻨﺖ ﭘﺮ ﺍﺏ ﯾﮧ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﻨﺎﺗﮯ ﮨﻮ ۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ حضور پُر نور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تاریخ وفات شریف کے بارے میں ایک استفتا کے جواب میں رقم طراز ہیں : قول مشہور و معتمد جمہور دواز دہم (12 ۔ بارہ) ربیع الاول شریف ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ جلد نمبر 26 صفحہ نمبر 415)
دیابنہ اور وہابیہ نے اِس قول کو بھی اعلیٰ حضرت کی تحقیق کہہ دیا حالانکہ اعلیٰ حضرت یہ فرما رہے ہیں کہ یہ قول مشہور ہے اور جمہور یعنی اکثر علما نے اِسی قول پر اعتماد کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی وفات اقدس 12ربیع الاول ہے ۔ لیکن اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کے نزدیک 13ربیع الاول ہے اور جمہور کے قول 12 ربیع الاول کی 13 ربیع الاول کے ساتھ یوں تطبیق فرماتے ہیں : اور تحقیق یہ ہے کہ حقیقتاً بحسب رؤیتِ مکۂ معظمہ ربیع الاول شریف کی تیرھویں تھی ۔ مدینۂ طیبہ میں رؤیت نہ ہوئی (یعنی چاند نظر نہیں آیا) لہٰذا اُن کے حساب سے بارہویں ٹھہری وہی رُواۃ (یعنی روایت کرنے والوں) نے اپنے حساب کی بناہ پر روایت کی اور مشہور و مقبول جمہور ہوئی یہ حاصل تحقیق امام بارزی و امام عماد الدین بن کثیر اور امام بدر الدین بن جماعہ و غیرھم محدثین و محققین ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 26، صفحہ 417۔چشتی) ۔ اعلیٰ حضرت نے اِس اقتباس میں امام بارزی ، امام عماد الدین بن کثیر اور امام بدر الدین بن جماعہ وغیرھم ایسے بڑے محدثین و محققین کی تحقیق کا حاصل یہ بتایا کہ مکۂ معظمہ میں مدینۂ طیبہ سے ایک دن پہلے چاند نظر آگیا تھا لہٰذا مکۂ معظمہ میں چاند نظر آنے کے اعتبار سے تیرہ تاریخ تھی اور مدینۂ طیبہ میں چونکہ ایک دن بعد میں چاند نظر آیا اِس لحاظ سے راویوں نے اپنے حساب کی بناء پر بارہ ربیع الاول کی روایت کردی اور اِس طرح سے وفات اقدس کی تاریخ بارہ ربیع الاول مشہور ہوگئی اور جمہور نے اِن مشہور روایت پر اعتماد کر لیا لیکن حقیقت میں ربیع الاول شریف کی تیرھویں تھی اور اِسی کے لیے اعلیٰ حضرت نے فرمایا "اور تحقیق یہ ہے ۔" وہ حضرات جو یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ اعلیٰ حضرت کی تحقیق یہ ہے کہ وفات شریف کی تاریخ بارہ ربیع الاول ہے اب ذرا اعلیٰ حضرت کی درج ذیل واقعی اور حقیقی تحقیق ملاحظہ فرمائیں کہ وفات شریف بارہ ربیع الاول کو نہیں ہوئی : ⬇
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : تفصیل و مقام توضیح مرام یہ ہے کہ وفاتِ اقدس ماہِ ربیع الاول شریف روز دو شنبہ میں واقع ہوئی اِس قدر ثابت و مستحکم و یقینی ہے جس میں اصلاً جائے نزاع نہیں ۔ (فتاوٰی رضویہ جلد 26 صفحہ 418) ۔ یعنی وفات شریف ربیع الاول کے مہینے میں پیر کے دن ہوئی اِس میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں (حتّٰی کے دیوبندی اور وہابی بھی اس سے متفق ہیں) ۔

آگے چل کر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : ادھر یہ بلاشبہ ثابت ہے کہ اِس ربیع الاول سے پہلے جو ذی الحجہ تھا اُس کی پہلی روز پنجشنبہ تھی کہ حجۃ الوداع شریف بالا جماع روزِ جمعہ ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ جلد 26، صفحہ،418،چشتی)
یعنی جس ربیع الاول شریف میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا وصال ہوا اُس سے تین مہینے پہلے جو ذی الحجہ تھا اُس کی پہلی تاریخ جمعرات کے دن تھی کیونکہ حجۃ الوداع شریف کے روز جمعہ (جمعہ کا دن) ہونے پر اجماع (یعنی سب کا اتفاق) ہے، یعنی 9 ذی الحجہ کو جمعہ کا دن تھا لازمًا ذی الحجہ کی پہلی تاریخ جمعرات کو تھی ۔ اس حساب سے 29 ذی الحجہ کو جمعرات ہوئی۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : "اور جب ذی الحجہ 10ھء کی 29 روز پنجشنبہ تھی تو ربیع الاول 11ھ ء کی 12 کسی طرح روز ِ دو شنبہ نہیں آتی) کہ اگر ذی الحجہ، محرم، صفر تینوں مہینے 30کے لیے جائیں تو غرّہ ربیع الاول روز چار شنبہ ہوتا ہے اور پیر کی چھٹی اور تیرھویں، اور اگر تینوں 29 کے لیں تو غرّہ اور روزِ یکشنبہ پڑتا ہے اور پیر کی دوسری اور نویں، اور اگر اُن میں کوئی سا ایک ناقص اور باقی دو کامل لیجیے تو پہلی سہ شنبہ کی ہوتی ہے اور پیر کی ساتویں اور چوھویں، اور اگر ایک کامل دو ناقص مانیے تو پہلی پیر کی ہوتی ہے پھر پیر کی آٹھویں اور پندرھویں ، غرض بارہویں کسی حساب سے نہیں آتی، اور ان چار کے سوا پانچویں کوئی صورت نہیں، قولِ جمہور پر یہ اشکال پہلے امام سہیلی کے خیال میں آیا اور اسے لاحل سمجھ کر انھوں نے قول یکم اور امام ابن حجر عسقلانی نے دوم کی طرف عدول فرمایا ۔ (فتاوٰی رضویہ جلد 26 صفحات 418تا 419۔چشتی)
خلاصہ یہ ہے کہ دو باتوں میں کسی کا اختلاف نہیں ہے پہلی بات یہ کہ وصال مبارک سے پہلے جو ذی الحجہ تھا اُس کی پہلی تاریخ جمعرات کے دن تھی کہ وقوف، عرفہ (9ذی الحجہ) بروز جمعہ ہونے پر سب متفق ہیں دوسری بات یہ کہ وفات اقدس ربیع الاول میں پیر کے دن ہوئی۔ تو ذی الحجہ کی پہلی تاریخ جمعرات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں یہ حساب لگانا ہوگا کہ آنے والے ربیع الاول شریف میں پیر کس کس تاریخ میں آیا۔ تو اگر ذی الحجہ، محرم، صفر تینوں مہینے تیس کے لیے جائیں تو ربیع الاول کی پہلی تاریخ بدھ کو ہوگی اور پیر کو 6، 13، 20 اور 27 تاریخیں ہوں گی اگر تینوں مہینے 29 کے لیے جائیں تو یکم ربیع الاول اتوار کو ہوگی اور پیر کے دن 2، 9، 16، 23 (اور 30 بھی ممکن ہے) تاریخیں ہوں گی اور اگر تینوں مہینوں میں سے کوئی سا ایک مہینہ 29 کا اور باقی دو مہینے 30 کے لیے جائیں تو ربیع الاول کی پہلی تاریخ منگل کی ہوگی اور پیر کو 7، 14، 21، 28 اور اگر تینوں مہینوں میں سے کوئی سا بھی ایک 30 کا لیجیے اور باقی دو 29 کے سمجھیں تو یکم ربیع الاول پیر کو ہوگی اوراِس طرح پیر کے دن 1، 8، 15، 29 تاریخیں ہوں گی یعنی چاروں صورتوں میں پیر کے دن ممکنہ تاریخیں یہ ہوئیں: 1، 2، 6، 7، 8، 9، 13، 14، 15، 16، 20، 22، 23، 27، 28، 29 اور 30۔ اِن چاروں صورتوں میں ربیع الاول کی 12تاریخ پیر کے دن کسی حساب سے نہیں آتی اور ان چار کے سوا کوئی صورت ممکن نہیں۔ اِن ممکنہ تاریخوں میں سے یکم ربیع الاول اور 2ربیع الاول کے اقوال بھی ملتے ہیں اور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اِن دونوں اقوال کو علم ہیات وزیجات کے حساب سے غلط ثابت کرنے کے بعد فرماتے ہیں، "وہ دونوں قول (یکم اور دوم ربیع الاول کے) قطعاً باطل ہیں اور حق و صواب وہی قولِ جمہور بمعنی مذکو رہے یعنی واقع میں تیرھویں اور بوجہ مسطور تعبیر میں بارہویں ۔ (فتاوٰی رضویہ جلد نمبر 26 صفحہ نمبر 426،چشتی)
یعنی مدینۂ طیبہ میں چاند نظر نہیں آیا تو اُن کے حساب سے بارہ ہوئی۔ اور راویوں نے وہی مشہور کردی لیکن چونکہ مکۂ معظمہ میں چاند نظر آگیا تھا واقع میں (یعنی حقیقت میں) تیرہ ربیع الاول۔ اور حقیقتاً 12ربیع الاول کسی حساب سے نہیں آتی، جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔
یہ ہے اعلیٰ حضرت کی تحقیق۔ علم ہیاٴت و زیج کے حساب بھی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کی تحقیق یہی ہے کہ وفات شریف 12 نہیں بلکہ 13 تاریخ کو ہے چنانچہ میلاد شریف پر ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں : اگر ہیاٴت و زیج کا حساب لیتا ہے تو تاریخِ وفات شریف بھی بارہ نہیں بلکہ تیرہ ربیع الاول (ہے) کَمَا حَقَّقْنَاہُ فِیْ فَتَاوٰ نَا (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کردی ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ جلد 26 صفحہ 428۔چشتی)
اور اگر بارہ ربیع الاول ہی تاریخِ وفات شریف ہو تو بھی میلاد شریف منانے سے روکنے کی کوئی دلیل نہیں۔ شریعت میں تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں صرف بیوہ کو شوہر کے لیے چار ماہ دس دن سوگ کرنے کا حکم ہے۔ غم پر صبر کرنا اور نعمت کا چرچا کرنا ہی مومن کی شان ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش بھی جمعہ کے دن ہے اور وفات شریف بھی لیکن حدیث شریف میں جمعہ کے دن کو عید کا دن قرار دیا گیا ہے بلکہ مشکوٰۃ شریف باب الجمعۃ مین ابن ماجہ کے حوالے سے ایک حدیث روایت کی جس میں جمعہ کو عید الاضحی اور عید الفطر سے بھی عظیم دن فرمایاگیا۔ حالانکہ اسی دن ایک نبی کی وفات بھی ہے، تو معلوم ہوا کہ غم پر صبر کرنا چاہیے اور پیدائش کا اعتبار کرتے ہوئے اس دن عید (خوشی) منانا چاہیے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:"اگر مشہور کا اعتبار کرتا ہے تو ولادت شریف اور وفات شریف دونوں کی تاریخ بارہ ہے ہمیں شریعت نے نعمتِ الٰہی کا چرچا کرنے اور غم پر صبر کرنے کا حکم دیا، لہٰذا اس تاریخ کو روزِ ماتمِ وفات (وفات کے ماتم کا دن) نہ کیا روزِ سُرورِ ولادتِ شریفہ (ولادت شریف کی خوشی کا دن) کیا ۔ کما فی مجمع البحار الانوار (جیسا کہ مجمع البحار الانوار میں ہے)۔(فتاوٰی رضویہ جلد نمبر 26 صفحہ نمبر 428)

صرف 12 ربیع الاوّل کے دن ہی نہیں بلکہ ربیع النور کی پہلی تاریخ سے لے کر بارہ تک ان بارہ دنوں میں جتنا اور جس طرح بھی ممکن ہو ہر امتی کو چاہئیے کہ نور مجسم فخر بنی آدم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی رضا و خوشنودی کیلئے خوشی کے اظہار کے مختلف طریقے اپنائے مثلاً آپس میں مبارک باد دیں اپنے گھر دکان گلی محلہ اور مسجد کو قمقموں اور جھنڈوں سے سجائیں ، اپنی سائیکل یا موٹر سائیکل یا کار وغیرہ پر بھی جھنڈے لگائیں ، مٹھائیاں تقسیم کریں ، دودھ شربت پلائیں ، کھانا کھلائیں، دوردپاک کی کثرت کریں، اجتماعات منعقد کریں جس میں مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فضائل و کمالات و معجزات اور ولادت مبارکہ ، کے واقعات بیان کیے جائیں ، خوب خوب نعتیہ محافل قائم کریں ، ہر قسم کے صغیرہ کبیرہ گناہ سے بچیں اور نیک اعمال کی کثرت کی کوشش کریں اور خصوصاً بارہ تاریخ کو گھر کو خوب صاف ستھرا رکھیں ، تازہ غسل کریں ہو سکے تو نئے کپڑے اور اگر استطاعت نہ ہو تو پرانے ہی مگر اچھی طرح دھو کر پہنیں ، آنکھوں میں سرمہ لگائیں ، خوب اچھی طرح عطر ملیں ، طاقت اور قدرت ہو تو روزہ رکھیں اور اپنے علاقے میں نکلنے والے جلوس میں شرکت کرکے اللہ تعالٰی کی طرف سے نازل ہونے والی بےشمار رحمتوں اور برکتوں سے حصہ طلب فرمائیں ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
مکمل تحریر >>

Friday, 15 October 2021

جنازہِ رسول کریمﷺو تدفین.........؟؟ سوال:

جنازہِ رسول کریمﷺو تدفین.........؟؟
سوال:
علامہ صاحب ایک شیعہ بار بار اعتراض کر رہا ہے کہ بتاؤ رسول اللہ کے جنازے میں صرف گیارہ لوگ کیوں تھے باقی لاکھوں صحابہ کہاں تھے…؟؟ ایک اور بھائی نے بار بار وڈیو بھیجی اور کہا کہ اسکا جواب دیجیے، وڈیو میں ایک شخص کہہ رہا ہے کہ رسول کریم کی تدفین میں صحابہ شامل نہ تھے ابوبکر و عمر شامل نہ تھے ایسا اہلسنت کی کتب میں لکھا ہے دیکھو المصنف لابن ابی شیبہ
.
جواب:
دونوں جھوٹ و بہتان و مردود ہیں، شیعہ و رافضی و نیم رافضیوں کا ایک طرح سے صحابہ کرام پر طعن و اعتراض ہیں....صحابہ کرام بالخصوص خلفاء راشدین نماز جنازہ اور تدفین میں شامل تھے بلکہ نبی پاک کی نماز جنازہ سکھانے والے، مدفن بتانے والے سیدنا صدیق اکبر تھے
دَخَلَ أبو بكرٍ -رضي الله عنه- على رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- حينَ ماتَ.....ويُصَلَّى عَلَيهِ؟ وكَيفَ يُصَلِّى عَلَيهِ؟ قال: تَجيئونَ عُصَبًا عُصَبًا فيُصَلُّونَ فعَلِموا أنَّه كما قال، فقالوا: هَل يُدفَنُ؟ وأَينَ؟ فقالَ: حَيثُ قَبَضَ اللهُ روحَه
ترجمہ:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب وفات ہو گئی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ حاضر ہوئے صحابہ کرام نے عرض کیا کہ کیا آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی تو سیدنا صدیق اکبر نے جواب دیا جی ہاں ۔صحابہ کرام نے عرض کیا کیسے نماز جنازہ پڑھیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ تم گروہ در گروہ آتے جاؤ اور نماز جنازہ پڑھتے جاؤ... پھر صحابہ کرام نے عرض کیا کہ کیا آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو دفن کیا جائے گا اور کہاں دفن کیا جائے گا ؟ تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو وہاں دفن کیا جائے گا جہاں ان کی روح قبض ہوئی 
(السنن الكبرى للبيهقي ت التركي ,7/362روایت6987بحذف)
.
سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھم نے بھی نماز جنازہ پڑھی، دوٹوک تصریح پڑھیے:
ووضع على سريره دخل أبو بكر وعمر فقالا السلام عليك أيها النبى ورحمة الله وبركاته ومعهما نفر من المهاجرين والأنصار قدر ما يسع البيت فسلموا كما سلم أبو بكر وعمر وصفوا صفوفا لا يؤمهم عليه أحد
ترجمہ:
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے جسد مبارک کو تخت پر لٹایا گیا تو ابوبکر اور عمر دونوں داخل ہوئے اور دونوں نے عرض کیا السلام عليك أيها النبى ورحمة الله وبركاته... سیدنا ابو بکر صدیق اور عمر کے ساتھ مہاجرین اور انصار میں سے صحابہ کرام تھے کہ جتنا گھر میں جگہ تھی پھر سب نے سلام عرض کیا جیسے کہ ابوبکر اور عمر نے سلام عرض کیا اور یہ سب صف باندھے کھڑے ہوئے تھے کوئی امام نہ تھا
(جامع الأحاديث روایت27941)
(كتاب الطبقات الكبرى ط دار صادر2/290)
.
سب صحابہ و تابعین نے نماز جنازہ پڑھی:
وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ دَخَلَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَالًا يُصَلُّونَ عَلَيْهِ، حَتَّى إِذَا فَرَغُوا أَدْخَلُوا النِّسَاءَ، حَتَّى إِذَا فَرَغُوا أَدْخَلُوا الصِّبْيَانَ، وَلَمْ يَؤُمَّ النَّاسَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ
ترجمہ:
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے جسد مبارک کو تخت پر لٹایا گیا ان کے گھر میں ہی.....پھر لوگ داخل ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر گروہ در گروہ آپ پر نماز جنازہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ مرد صحابہ کرام و تابعین وغیرہ نماز جنازہ سے  فارغ ہوگئے تو عورتوں کو داخل کیا گیا تاکہ وہ بھی رسول کریم کی نماز جنازہ پڑھ سکیں... جب عورتوں نے نماز جنازہ پڑھ لیا تو بچوں کو داخل کیا گیا تھا کہ وہ نماز جنازہ پڑھیں اور ان سب نے نماز جنازہ پڑھی، کسی نے کسی کی امامت نہ کی  
(سنن ابن ماجه ,1/520روایت1628)
.
 لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ , فَكَانَ النَّاسُ يَدْخُلُونَ زُمَرًا زُمَرًا يُصَلُّونَ عَلَيْهِ وَيَخْرُجُونَ وَلَمْ يَؤُمَّهُمْ أَحَدٌ
ترجمہ:
جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو آپ کے جسم مبارک کو تخت پر لٹایا گیا تو لوگ(تمام صحابہ کرام و تابعین و اہل اسلام)گروہ در گروہ حاضر ہوتے اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کا جنازہ پڑھتے اور پھر نکل جاتے کوئی بھی امام نہ ہوتا 
(استاد بخاری مصنف ابن أبي شيبة ,7/430روایت37041)
.
ثُمَّ أُضْجِعَ عَلَى السَّرِيرِ، ثُمَّ أَذِنُوا لِلنَّاسِ ; فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَوْجًا فَوْجًا يُصَلُّونَ عَلَيْهِ بِغَيْرِ إِمَامٍ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ بِالْمَدِينَةِ - حُرٌّ وَلَا عَبْدٌ - إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ
ترجمہ:
پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد مبارک کو تخت پر لٹایا گیا اور پھر لوگوں(تمام صحابہ کرام و تابعین و اہل اسلام) کو اجازت دی گئی کہ وہ نماز جنازہ پڑھیں... تو وہ گروہ در گروہ حاضر ہوتے اور نماز جنازہ پڑھے بغیر امام کے... تو مدینے پاک میں آزاد یا غلام(مرد یا عورت،  بچہ یا بوڑھا) کوئی بھی ایسا شخص نہ بچا کہ جس نے نماز جنازہ نہ پڑھی ہو 
(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ,9/33روایت14254)
.
.
*#تدفین کے متعلق چند روایات*
وڈیو میں جس روایت کا ذکر ہے وہ یہ ہے
ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ أَبَا بَكْرٍ , وَعُمَرَ §لَمْ يَشْهَدَا دَفْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ابوبکر و عمر نبی پاک کے دفنانے میں شریک نہ تھے
(مصنف ابن أبي شيبة7/432)
.
اس روایت میں آخری راوی عروہ بن زبیر ہے جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دفن کے سال پیدا ہی نہیں ہوا تھا تو وہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ ابوبکر و عمر حاضر نہ ہوئے....؟؟مزید یہ کہ مذکورہ روایت صحیح روایت کے خلاف بھی ہے تو مقطوع و منکر ہے...مردود و باطل ہے
شیعہ سنی نجدی سب کا متفقہ اصول ہے کہ
فحديثه منكر مردود
ترجمہ:
اس(غیرثقہ)کی حدیث.و.روایت(بلامتابع بلاتائید ہو تو)منکر و مردود ہے
(شیعہ کتاب رسائل فی درایۃ الحدیث1/185)
(اہلسنت کتاب المقنع في علوم الحديث1/188)
.
ولد عروة سنة ثلاث وعشرين . فهذا قول قوي ، وقيل : مولده بعد ذلك
عروہ بن زبیر 23ھجری میں پیدا ہوئے یہ قول قوی ہے اور کہا گیا ہے کہ 23ھجری کے بھی بعد پیدا ہوئے(جبکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 11ھجری میں ہوئی)
(سیر اعلام النبلاء4/423)
.

جب تدفین کا وقت آیا تو صحابہ کرام میں اختلاف ہوا کہ کہاں دفنایا جائے تو سیدنا صدیق اکبر نے حدیث پاک سنا کر مسلہ حل کر دیا:
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي دَفْنِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مَا نَسِيتُهُ، قَالَ: «مَا قَبَضَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا فِي المَوْضِعِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ»، ادْفِنُوهُ فِي مَوْضِعِ فِرَاشِهِ
ترجمہ:
جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو صحابہ کرام میں اختلاف ہو گیا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو کہاں دفن کیا جائے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےاس متعلق  ایک حدیث پاک سنی ہے کہ جس کو میں کبھی نہیں بھولا...نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ کوئی بھی نبی اسی جگہ وفات پاتا ہے کہ جس جگہ پر اس کا دفن ہونا محبوب ہوتا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وفات کی جگہ پر دفن کیا جائے گا 
(سنن الترمذي ت شاكر ,3/329 روایت1018)
.
لما فرغ من جهاز رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يوم الثلاثاء وضع على سريره فى بيته وكان المسلمون قد اختلفوا فى دفنه فقال قائل ادفنوه فى مسجده وقال قائل ادفنوه مع أصحابه بالبقيع قال أبو بكر سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول ما مات نبى إلا دفن حيث يقبض فرفع فراش النبى - صلى الله عليه وسلم - الذى توفى عليه ثم حفر له تحتہ
ترجمہ:
جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد مبارک دفن کرنے کا وقت آیا تو اسے تخت پر لٹایا گیا، مسلمانوں میں اختلاف ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں دفن کیا جائے تو ایک کہنے والے نے کہا کہ مسجد میں دفن کیجیے اور ایک کہنے والے نے کہا کہ دفن کیجیے جنت البقیع میں اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ھوئے سنا کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ نبی پاک کو وہاں دفن کیا جاتا ہے جہاں اس کی روح قبض ہوتی ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی جگہ دفن کیا گیا 
(جامع الأحاديث ,25/236روایت27897)
.
 أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ يَدْفِنُونَهُ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ النَّبِيَّ لَا يُحَوَّلُ عَنْ مَكَانِهِ , يُدْفَنُ حَيْثُ يَمُوتُ» فَنَحَّوْا فِرَاشَهُ فَحَفَرُوا لَهُ مَوْضِعَ فِرَاشِهِ
ترجمہ:
صحابہ کرام میں اختلاف ہو گیا کہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام کی قبر مبارک کہاں کی جائے،کہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کریں؟... سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ نبی پاک کو اس جگہ سے نہیں ہٹایا جاتا جہاں اس کی وفات  ہوئی ہو تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو اسی جگہ پر دفن کیا گیا  
(استادِ بخاری مصنف ابن أبي شيبة ,7/427 روایت37022)
.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
whats App nmbr
00923468392475
03468392475
other nmbr
03062524574
مکمل تحریر >>