Pages

Monday, 11 October 2021

میلاد کے بارے میں اہم سوالات جوابات...

...میلاد کے بارے میں اہم سوالات جوابات...
سوال:
①میلاد کیا ہے، کس حدیث میں ہے کہ میلاد مناو یا کس حدیث میں ہے کہ میلاد نا مناو.....؟؟
سب سے پہلے کس نے منایا.؟
②فرض ہے یا واجب..کوئ نا مناے، جلوس میں نا آے تو..؟؟
③اسلام کے مرکز مکہ مدینہ میں میلاد نہیں منایا جاتا تو تم لوگ کیوں مناتے ہو......؟؟
④بارہ ربیع الاول کے دن تو نبی پاک کی وفات ہوئی، وفات پر خوشی تو شیطان کرتا ہے.....؟؟
نبی پاک کی ولادت اور وفات کی تاریخ کیا ہے....؟؟
⑤میلاد دور نبوی میں نہین تھا، خلفاء راشدین صحابہ کرام تابعین کے دور مین نہین تھا تو یہ بدعت ہوا.........؟؟
بدعت کیوں نہیں، بدعت کیا ہے......؟
⑥آپ نے کہا میلاد کی اصل ثابت ہے تو قرآن و سنت سے وہ اصل وہ دلیل پیش کریں
⑦میلاد پے ہزاروں لاکھوں عاشقانِ رسول اور مسجدیں ویران
یہ عاشقِ رسول ہیں یا بدعتی ٹھگ جعلی عاشق......؟؟
⑧میلاد کے جلسے جلوس جھندے ناچنا کہاں سے ثابت ہے....؟؟
⑨تم نعوذ باللہ سمجھتے ہو کہ نبی پاک حاضر ناظر ہیں اور تمھاری محفل جلسے جلوس مین ائے ہین اس لیے آمد مصطفی مرحبا کے نعرے لگاتے ہو،اسکی کیا دلیل ہے.....؟؟
.
.
جواب①:
*میلاد کیا ہے،سب سے پہلے کس نے منایا*
میلاد کوئ مقرر کردہ مخصوص عبادت.و.عمل نہیں..!
قرآن و حدیث میں صاف صاف دو ٹوک الفاظ میں میلاد منانے یا نا منانے کا حکم نہیں بلکہ قرآن و حدیث اور نبی پاک کے عمل اور صحابہ کرام اہل بیت کے اقوال و عمل میں غور کیا تو واضح ہوا کہ:
"نبی پاک صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ وسلم کی ولادت کی مناسبت سے اچھے،جائز طریقوں سے شکر ادا کرنا، درود ذکر و اذکار کرنا، روزے رکھنا، عبادات کرنا، ذکرِ نبی کرنا، صحیح طریقے سے خوشی کا اظھار کرنا میلاد کہلاتا ہے
(ماخذ:حول الاحتفال صفحہ13تا35، حسن المقصد ص196)
.
جلسے جلوس جھنڈے عمدہ لباس...عبادت ذکر اذکار درود کی کثرت....روزہ نوافل عبادت ذکر حمد نعت تحریر تقریر صدقہ خیرات وغیرہ اگر "نبی پاک کی ولادت کی مناسبت سے ہوں صحیح طریقے سے ہوں تو یہ سب میلاد میں شامل ہیں
(ماخذ حول الاحتفال ص13تا35)
.
سب سے پہلے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے میلاد منایا.
(حول الاحتفال صفحہ16)
.
.
سوال②
*میلاد فرض ہے یا واجب...؟ کوئی نا منائے تو...؟*
جواب:
میلاد کی اصل سنت ہے، مروجہ طریقے سے میلاد مستحب ہے جائز و ثواب ہے فرض واجب نہیں،
کسی ایک طریقے یا مختلف طریقوں سے میلاد منا سکتے ہیں تو اگر کوئی ایک طریقے سے میلاد مناے اور جلوس وغیرہ باقی طریقوں میں شرکت نا کرے مگر توہین اور بے ادبی بھی نا کرے تو اسے گستاخ یا گناہ گار یا محبت نا کرنے والا نہیں کہہ سکتے.(ماخذ حول الاحتفال ص63)
علامہ شامی نے فرمایا:
کثرت سے درود و سلام پڑھا جاے تو بھی کافی ہے
(جواہر البحار 3/340)
.
.
سوال③:
*اسلام کے مرکز مکہ مدینہ میں میلاد نہیں منایا جاتا تو تم لوگ کیوں مناتے ہو......؟؟*
جواب:
موجودہ قسم کی حکومت سے پہلے حرمین شریفین میں میلاد منایا جاتا تھا...حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی جو تھانوی گنگوہی وغیرہ علماء دیوبند کے مرشد ہیں فرماتے ہیں:
تمامی حرمین کے لوگ میلاد مناتے ہیں ہمارے لیئے یہی حجت کافی ہے.(شمائم امدادیہ صفحہ 87)
محدث کبیر علامہ ابن جوزی رحمۃ ﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’یہ اچھا عمل (یعنی میلاد) ہمیشہ سے حرمین شریفین یعنی مکہ و مدینہ، مصر، یمن و شام تمام بلاد عرب اور مشرق و مغرب کے رہنے والے مسلمانوں میں جاری ہے اور وہ میلاد النبیﷺ کی محفلیں قائم کرتے اور لوگ جمع ہوتے ہیں
(المیلاد النبوی ص 35-34)
حضرت شاہ ولی ﷲ محدث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ اور ان کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ کا معمول تھا کہ 12 ربیع الاول کو ان کے ہاں لوگ جمع ہوتے، آپ ذکر ولادت فرماتے پھر کھانا اور مٹھائی تقسیم کرتے (الدرالمنظم ص 89)
.
نوٹ:
ﺑﮯ ﺷﮏ ﻣﮑﮧ ﻣﺪﻳﻨﮧ ﻣﺮﮐﺰ ﮨﻴﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﺾ ﻟﻮﮒ..ﻗﺎﺑﺾ ﺳﻮﭺ...ﻗﺎﺑﺾ ﮔﺮﻭﭖ ﻣﺮﮐﺰ ﻧﮩﻴﮟ...!!
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺗﻮ ﺷﻴﻌﮧ ﻗﺎﺩﻳﺎﻧﯽ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﺍﻳﺠﻨﭧ ﻭﻏﻴﺮﮦ ﮐﻮﺉ ﻣﮑﮧ ﻣﺪﻳﻨﮧ ﭘﮯ ﻗﺎﺑﺾ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﻴﺎ ﮐﮩﻮ ﮔﺌﮯ..؟؟الغرض ﻗﺮﺍن ﻭﺳﻨﺖ ﻣﺮﮐﺰ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺍﮨﻞ ﺑﻴﺖ ﺍﻭﻟﻴﺎﺀ ﺍﺳﻼﻑ ﻧﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﮐﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﻳﺎ، ﺑﺘﺎﻳﺎ ﻭہی ﺗﻌﻠﻴﻤﺎﺕ ﻣﺮﮐﺰ ﮨﻴﮟ..!!
لیھذا کسی ملک شہر حکومت گروپ کے وہ نظریات و اعمال مرکز کہلائیں گے جو قرآن و سنت کے مطابق ہونگے
.

سوال④:
*بارہ ربیع الاول کے دن تو نبی پاک کی وفات ہوئی، وفات پر خوشی تو شیطان کرتا ہے.....؟؟
نبی پاک کی ولادت اور وفات کی تاریخ کیا ہے....؟؟*
.
جواب:
*ولادت*
حضرت سیدنا ابن عباس اور سیدنا جابر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پیر کے دن بارہ ربیع الاول میں ہوئی...
(البدایہ والنھایہ3/375 سیرت ابن ہشام1/58
فتاوی رضویہ26/411, سیرت رسول مصنف مفتی شفیع دیوبندی ص36)
سبل الھدی تاریخ طبری دلائل النبوہ عیون الاآثار زرقانی مستدرک حاکم وغیرہ کئ کتب میں یہی بات لکھی ہے
.
*وفات*
اور نبی پاک کی وفات دو ربیع الاول میں ہوئی..
(البدایہ والنہایہ4/228.. فتح الباری شرح بخاری8/474
مرقاۃ شرح مشکاۃ11/238)
.
کچھ کتابوں میں لکھا ہے کہ وفات بھی بارہ ربیع الاول میں ہوئی مگر علماء محققین کی تحقیق ہے کہ وفات بارہ کو ثابت نہین حتی کہ دیوبندیوں کے معتبر عالم اشرف تھانوی نے بھی لکھا کہ وفات بارہ کو ثابت نہیں
(نشر الطیب ص241 سبل الھدی12/305)
.
امام احمد رضا لکھتے ہیں:
تحقیق یہ ہے کہ(وفات کی تاریخ) حقیقتا حسبِ رویت مکہ معظمہ ربیع الاول شریف کی تیرویں تھی..(نطق الھلال فتاوی رضویہ26/417)
.
دیکھا آپ نے کہ وفات بارہ کو ثابت نہیں، پھر بالفرض بارہ کو وفات ہو تو بھی میلاد پر فرق نہین پڑے گا، کیونکہ ایک ہی دن ولادت و وفات ہو اور اسکو خوشی کا دن عید بھی کہا جائے یہ حدیث پاک سے ثابت ہے، جمعہ کو سیدنا ادم علیہ السلام کی ولادت بھی ہے اور وفات بھی ہے اور اسی جمعہ کے دن کو نبی پاک نے عید بھی فرمایا...
بہت ساری احادیث مبارکہ میں ہے کہ:
جمعہ کے دن آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے اور جمعے کے دن وفات پائ..
(ابو داود حدیث نمبر1047..ابن ماجہ ح1084)
اور
اسی جمعے کے دن کو نبی پاک نے صحابہ کرام نے عید کا دن بھی قرار دیا ہے....الحدیث: بے شک جمعہ کا دن عید ہے..(ابن ماجہ حدیث نمبر1098)
.
دیکھا آپ نے جس دن حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی پیدائش اسی دن وفات بھی....اور نبی پاک نے
اسی دن کو عید بھی قرار دیا....
.
اور پھر ایک ہی دن وفات بھی ہو اور ولادت بھی ہو تو غم منانے سے اسلام نے روکا ہے اور ولادت پر خوشی کی اجازت ہے لیھذا میلاد کی خوشی جائز ہے...الحدیث:
نبی پاک نے وفات کے تین دن کے بعد سوگ.و.غم کرنے سے روکا ہے....(بخاری حدیث 1279)
.
ربیع الاول،ولادتِ نبیﷺکی مناسبت سےجائز خوشی،شکر درود ذکر،عبادت وعظ نصیحت محافل صدقہ خیرات کا مہینہ ہے…وفات کا مہینہ کہہ کر غم کرنا جائز نہیں(از مجمع بحار الانور5/287,حول الاحتفال15تا35)
.
اور عقل اور شعور کا بھی یہی تقاضا ہے کیونکہ
لاکھوں انبیاء کرام گذرے....لاکھوں صحابہ کرام اور اہل بیت سادات گذرے....لاکھوں اولیاء گذرے اور ہفتے میں صرف 7دن اور سال میں کوئ360 دن تو ہر دن کسی نا کسی کی وفات تو ہوئ ہوگی...پھر تو سارا سال ساری زندگی عید منانا جرم...خوشی جرم...؟؟
ایسا ہرگز نہیں........!!
.
سوال⑤:
*میلاد دور نبوی میں نہین تھا، خلفاء راشدین صحابہ کرام تابعین کے دور مین نہین تھا تو یہ بدعت ہوا.........؟؟
بدعت کیوں نہیں، بدعت کیا ہے......؟*
.
جواب:
میلاد ایک طریقے سے خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے منایا، صحابہ کرام تابعین اولیاء علماء اسلاف نے منایا ہے، لیھذا میلاد دور نبوی میں بھی تھا، دور صحابہ میں بھی تھا، دور تابعیں میں بھی تھا، خلفاء راشدین کے دور مین تھا،
میلاد کی اصل قران احادیث سنت سے ثابت ہے اور میلاد کا کوئی ایک طریقہ مقرر نہیں اس لیے میلاد کے مروجہ نئے طریقے بھی جائز و ثواب کہلائیں گے
.
حدیث پاک میں ہے کہ:
وما سكت عنه فهو مما عفا عنه
ترجمہ:
جس چیز کے متعلق(قرآن و احادیث میں)خاموشی ہو(مطلب دوٹوک حلال یا دوٹوک حرام نہ کہا گیا ہو تو)وہ معاف ہے، جائز ہے... (ابن ماجہ حدیث3368)
یہ حدیث ترمذی اور ابوداؤد وغیرہ بہت کتابوں میں ہے
.
حدیث پاک میں ہے:
من سن في الإسلام سنة حسنة، فعمل بها بعده، كتب له مثل أجر من عمل بها، ولا ينقص من أجورهم شيء
ترجمہ:
جس نے اسلام میں اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کے بعد
جو جو اس پر عمل کرے گا ان سب کا ثواب اسے ملے گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں بھی کمی نا آے گی
(مسلم حدیث نمبر1017)
یہ حدیث پاک ابن ماجہ سنن نسائی وغیرہ بہت کتابوں میں بھی ہے
.
ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ عبادت وہ نیک کام جسکا کوئی ایک طریقہ مقرر نا ہو تو اس کے نئے طریقے بدعت نہیں بلکہ اس کے نئے پرانے سب طریقے جائز ہیں ہاں جس کام جس عبادت کے طریقے اسلام نے متعین و مخصوص کر دیے ہین ان مین نیا طریقہ نکالنا ٹھیک نہین... جیسے نماز روزے کے نئے طریقے نکالنا ٹھیک نہین مگر صدقہ خیرات ذکر اذکار درود میلاد فاتحہ وغیرہ کے نئے پرانے سب طریقے جائز ہیں بشرطیکہ اسلام کے کسی اصول کے خلاف نا ہوں..
.
جب نئے طریقے بدعت نہیں تو #پھر_آخر_بدعت_ہے_کیا.....؟؟
جواب اور #چیلنج:
دراصل بدعت کی تعریف واضح الفاظ میں کسی آیت کسی حدیث میں نہیں آئی، جو لوگ یہ کہتے ہین کہ جو کام صحابہ کرام نے نہین کیا وہ بدعت ہے ہم انہیں چیلنج کرتے ہین کہ کسی حدیث میں یہ دکھا دیں کہ بدعت وہ ہے جو کام صحابہ نے نا کیا ہو... چیلنج چیلنج...
کچھ لوگ کہتے ہین جو سنت نہین وہ بدعت ہے، یہ بھی ٹھیک نہیں کیونکہ اوپر احادیث کی زبانی بتایا جا چکا ہے کہ جو کام سنت نا ہو وہ جائز بھی کہلا سکتا ہے، سنت کے بعد جائز بھی ایک قیمتی چیز ہے، جائز بھی دین کی تعلیمات میں سے ہے.. سنت سنت کی رٹ لگانے کے ساتھ ساتھ جائز جائز کی رٹ لگانا بھی ضروری ہے..
.
پھر آخر بدعت ہے کیا.....؟؟
ایات احادیث میں غور کرکے بدعت کی تعریف اخذ کی گئ ہے جسے علماء کرام نے جامع انداز میں کچھ یوں بیان فرمایا ہے کہ:
المراد بھا ما احدث ولیس لہ اصل فی الشرع،،ویسمی فی عرف الشرع بدعۃ، وماکان لہ اصل یدل علیہ الشرع فلیس ببدعۃ
فالبدعۃ فی عرف الشرع مذمومۃ بخلاف اللغۃ
ترجمہ:
بدعت اس نئ چیز کو کہتے ہیں جسکی شریعت میں کوئ اصل نا ہو،،شریعت میں اسی کو بدعت کہا جاتا ہے
اور
جس نئے کام کی اصل ہو کہ اس پر شریعت رہنمائ کرے وہ تو بدعت نہیں، بدعۃ شریعت میں مذموم ہی ہوتی ہے"با خلاف لغت کے"
(فتح الباری 13/253
حاشیہ اصول الایمان ص126
اصول الرشاد ص64
مرعاۃ،عمدۃ القاری، مجمع بحار الانوار
فتح المبین،وغیرہ بہت کتابوں میں بھی یہی تعریف ہے
جن تین کتابوں کا مکمل حوالہ لکھا ہے وہ اس لیے کہ پہلی کتاب تمام کے ہاں معتبر ہے خاص کر اہل حدیث کے لیے
اور دوسری کتاب وہابیوں کی ہے سعودی عرب کی حکومت نے چھاپی ہے اور تیسری کتاب امام احمد رضا کے والد صاحب کی کتاب ہے)
.
نوٹ:
صحابہ کرام کا فتویٰ:
یہ کیا ہی اچھی بدعت ہے
(بخاری جلد2 صفحہ707)
یہ فتوی دیگر بہت کتابوں میں بھی ہے
سنی وہابی نجدی شیعہ اہل ھدیث وغیرہ تمام کی کتابوں.میں "موضوع حدیث" لفظ بولا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں کوئ "حدیث" موضوع نہیں ہوتی ..اسکو فقط ظاہر کے لحاظ سے اور لغت و معنی مجاز کے لحاظ سے "حدیث" کہا جاتا ہے
اسی طرح "اچھی بدعت" حقیقت میں بدعت نہیں اسے فقط ظاہر کے لحاظ سے لغت و مجاز کے لحاظ سے بدعت کہا جاتا ہے... اوپر صحابہ کرام کے فتوے میں جو اچھی بدعت فرمایا گیا وہ بھی حقیقت میں بدعت نہیں...اسے ظاہر و لغت کے لحاظ سے بدعت فرمایا گیا ہے... بدعت کی جو پانچ اقسام بتائی جاتی ہیں وہ بھی دراصل ظاہر و لغت کے لحاظ سے ہیں ورنہ بدعت حسنہ حقیقتا بدعت ہی نہیں، بدعت کی تعریف میں"بخلاف لغت کے" الفاظوں میں اسی چیز کو بیان کیاگیا ہے

.
سوال⑥:
*آپ نے کہا میلاد کی اصل ثابت ہے تو قرآن و سنت سے وہ اصل وہ دلائل پیش کریں*
جواب:
علماء کرام نے باقاعدہ میلاد پر کتابیں لکھی ہین اور قرآن و سنت سے کئ دلائل پیش کیے ہیں، یہاں تمام دلائل کا احاطہ مقصود نہیں..چند دلائل پیش ہیں
.
دلیل:1
القرآن...ترجمہ:
اپنے رب کی نعمت کا چرچا کرو..(سورہ والضحی آیت11)
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی نعمت ہین..(بخاری2/41)
میلاد میں اللہ کریم کی عظیم نعمت یعنی حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچہ ہی تو ہوتا ہے
.
دلیل:2
القرآن...ترجمہ:
کہہ دیجیے اللہ کے فضل و رحمت اور اسی پر خوشی کرنا چاہیے..(سورہ یونس آیت58)
میلاد میں اللہ کی عظیم رحمت اور اللہ کی عظیم نعمت پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے
.
دلیل:3
نبی پاک نے کئ بار ایک طریقے سے میلاد منایا...نبی پاک سے پیر کے دن روزہ رکھنے کی وجہ پوچھی گئ تو آپ نے فرمایا:
یہ دن میری ولادت کا دن ہے..(مسلم1/368)
یہ حدیث بے شمار کتابوں مین ہے
.
دلیل:4
اسی طرح صحابہ کرام نے بھی روزہ رکھ کر میلاد منایا ہے
دیکھیے ابو داود 1/331)
.
دلیل:5
نبی پاک کی ولادت پر عقیقہ ہوا تھا اس کے باوجود آپ نے دوبارہ اپنا عقیقہ کیا جو کہ میلاد کی دلیل ہے
دیکھیے سنن کبری 9/300 فتح الباری9/595)

.
دلیل:6
صحابہ کرام ایک دن محفل سجائے بیٹھے تھے اللہ کا ذکر کر رہے تھے حمد کر رہے تھے، نبی پاک کی آمد و بعثت کا تذکرہ کر رہے تھے کہ اللہ یہ اللہ کا عظیم احسان ہے تو نبی پاک نے صحابہ کرام سے فرمایا:
اللہ فرشتوں سے تم پر فخر کر رہا ہے...(صحیح سنن نسائی حدیث5426) مسند احمد طبرانی وغیرہ کتب مین بھی یہ واقعہ درج ہے
.
دلیل:7
ہر سال ایام معین کرکےمیلاد منانےکی ایک دلیل..........!!
الحدیث:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا قَدِمَ المَدِينَةَ، وَجَدَهُمْ يَصُومُونَ يَوْمًا، يَعْنِي عَاشُورَاءَ، فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ، وَهُوَ يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى، وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ، فَصَامَ مُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ، فَقَالَ «أَنَا أَوْلَى بِمُوسَى مِنْهُمْ» فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ
ترجمہ:
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ایک دن یعنی عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ بڑی عظمت والا دن  ہے، اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی تھی اور آل فرعون کو غرق کیا تھا۔ اس کے *#شکر* میں موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کا ان سے زیادہ قریب ہوں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے  خود بھی اس دن کا روزہ رکھنا شروع کیا اور صحابہ کرام کو بھی اس کا حکم فرمایا۔
[صحيح البخاري ,4/153حدیث3397]
ایسی حدیث پاک مسلم ابن ماجہ طبرانی شعب الایمان صحیح ابن حبان وغیرہ کئ کتب میں ہے
.
علامہ شامی علیہ الرحمۃ نقل فرماتے ہیں کہ:
فيستفاد من فعل ذلك شكرا لله تعالى على ما من به في يوم معين من إسداء نعمة أو دفع نقمة، ويعاد ذلك في نظير ذلك اليوم من كل سنة، والشكر لله تعالى يحصل بأنواع العبادات والسجود والصيام والصدقة والتلاوة، وأيّ نعمة أعظم من النعمة ببروز هذا النبي الكريم نبيّ الرحمة في ذلك اليوم؟
ترجمہ:
اس حدیث پاک اور نبی پاک و صحابہ کرام کے اس فعل سے ثابت ہوتا ہے کہ جن پر کسی معین دن میں کوئی نعمت ملی ہو یا عذاب و برائی ٹلی ہو اس دن اللہ تعالیٰ شکر کا دن منانا چاہیے اور یہ دن ہر سال منانا چاہیے اور مختلف قسم کی عبادات سجود روزے صدقہ تلاوت وغیرہ بہت طریقوں سے شکر ادا کیاجاسکتا ہے اور ہمارے پیارے نبی رحمت کی جس دن دنیا میں تشریف آوری ہوئی اس دن سے بڑھ کر شکر و نعمت والا دن بھلا کوئی ہوسکتا ہے....؟؟(لیھذا ہر سال یوم ولادت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی جشن منا کر ، روزہ نوافل صدقہ خیرات کرکے مختلف نیکیاں و عبادات کرکے کسی بھی نئے پرانے اچھے طریقے سے شکر و نعمت کے دن کے طور پر منانا مذکورہ حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے)
[سبل الهدى والرشاد1/444]
.
نوٹ:
الحدیث:
صوموا يوم عاشوراء,وخالفوا اليهود صوموا قبله يوما أو بعده يوما...ترجمہ:
عاشورہ(دس محرم) کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو(اس طرح)کہ اس کے ساتھ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھو...(صحیح ابن خزیمہ حدیث2095)
.
اور بھی بہت دلائل علماء کرام نے کتابوں میں لکھے ہیں، عربی اردو مین میلاد پر کتابیں لکھی گئی ہیں، دو چار کتب تو ضرور پڑھنی چاہیے...
.
⑦میلاد پے لاکھوں عاشقانِ رسول اور مسجدیں ویران
یہ عاشقِ رسول ہیں یا بدعتی ٹھگ جعلی عاشق......؟؟
.
سوال:
فیس بک پر ایک صاحب کی تحریر پڑھی، خلاصہ یہ تھا کہ میلاد پر گلی گلی کوچہ کوچہ ہزاروں لاکھوں عاشقانِ رسول نکلتے ہیں مگر مسجدیں ویران....یہ میلادی عاشقِ رسول نہیں بدعتی ٹھگ ہیں
.
جواب:
الحدیث:
ایک صحابی تھے جنکا لقب حمار رضی اللہ عنہ تھا، وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی محبت و عقیدت رکھتے تھے اور آپ علیہ السلام بھی ان سے بڑا پیار کرتے تھے
وہ صحابی شراب مکمل چھوڑ نہ پائے، ایک دفعہ شراب پینے کے جرم و گناہ میں حضور کے پاس لائے گئے تو ایک صحابی کہنے لگے:
اللَّهُمَّ العَنْهُ، مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ؟ 
ترجمہ: اے اللہ اس پر لعنت فرما، کتنی دفعہ یہ شراب پینے کے جرم مین لایا گیا ہے
یہ سن کر آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا:
فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَلْعَنُوهُ، فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ»
ترجمہ:
تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لعنت مت کرو، اللہ کی قسم میں تو یہی جانتا ہوں کہ وہ اللہ اور اسکے رسول سے محبت کرتا ہے..(بخاری حدیث6780)
.
.
شراب نوشی کتنا بڑا جرم و گناہ ہے.......؟؟
القرآن:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
ترجمہ:
اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں تو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ..(سورہ مائدہ آیت90)
.
شراب کی مذمت میں بہت سی آیات و احادیث ہیں حتی کہ ترمذی کی ایک حدیث میں اسے لعنتی عمل تک کہا گیا
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َنے شراب کے بارے میں دس شخصوں پر لعنت کی: (1) شراب بنانے والے پر۔ (2) شراب بنوانے والے پر۔ (3) شراب پینے والے پر۔ (4) شراب اٹھانے والے پر۔ (5) جس کے پاس شراب اٹھا کر لائی گئی اس پر۔ (6) شراب پلانے والے پر۔ (7) شراب بیچنے والے پر۔ (8) شراب کی قیمت کھانے والے پر۔ (9) شراب خریدنے والے پر۔ (10) جس کے لئے شراب خریدی گئی اس پر۔( ترمذی، کتاب البیوع، باب النہی ان یتخذ الخمر خلاً،۳/۴۷، الحدیث: ۱۲۹۹)
مگر
یہی بدعمل برا عمل اگر ایسے شخص سے ہو جس میں عشقِ رسول کے آثار ہوں تو اسے لعنتی مردود کہنے کے بجائے محبِ رسول کہا رسول کریم نے..........!!
حضور اکرم کا یہ انداز یقینا شراب نوشی کی حمایت میں نہین تھا بلکہ آپ نے اس عاشقِ رسول شراب پینے والے صحابی کو سزا بھی دی اور یقینا سمجھاتے بھی رہے، منع بھی کرتے رہے مگر عاشقِ رسول پھر بھی کہا جعلی عاشق ٹھگ منافق نہ کہا...گناہ بدعملی کی وجہ سے عشقِ الہی اور عشقِ رسول کی نفی نہیں کی جاسکتی،جعلی عاشق منافقت و ڈھونگ نہیں کہہ سکتے بلکہ محب رسول ہی کہا جائے گا اور عمل کرنے کے لیے سمجھایا جایا جائے گا
.

کچھ میلادی بے عمل، بدعمل ہوسکتے ہیں بلکہ ہوتے ہیں مگر میلادی عاشقِ رسول ضرور ہیں، بدعتی ٹھگ جعلی عاشقِ رسول نہیں...ہرگز نہیں...
میلاد عشقِ نبی کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے، ایسے بدعمل عاشقِ رسول کو سمجھایا جاءے مگر ان سے عشقِ رسول کی نفی نہیں کرسکتے......ہرگز نہیں
.
نوٹ:
کسی صحابی کو شرابی گناہ گار نہیں کہہ سکتے کیونکہ صرف اور صرف دو چار صحابہ کرام سے اگر گناہ ہو بھی گئے تو انہوں نے توبہ کرلی، مجتنب رہے، اور جراءم و گناہ پر حد.و.سزا پا کر پاک پاکیزہ ہوگئے....توبہ و سزا سے پاک ہوجانے کے بعد انکا کوئی گناہ ثابت نہیں....لہھذا وہ توبہ و سزا پاکر پاک ہوگئے... توبہ و سزا کے بعد انہیں گناہ گار فاسق نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ ان فضائل کے بیان کے حقدار ہین کہ جو صحابہ کرام کے متعلق آئے...صحابہ کرام کی تفسیق و مذمت جائز نہین بلکہ تعریف و بیان تطہیر لازم و فرض ہے........!!
.
.
⑧جلوس جھنڈے محافل جھومنا:
*میلاد اسٹیج نعت*
نبی علیہ الصلاۃ والسلام حضرت حسان کے لیے منبر (اسٹیج) رکھواتے اور وہ اس پر کھڑے ہوکر  شانِ مصطفی بیان کرتے، نعتِ نبی بیان کرتے، کافروں مشرکوں کی مذمت بیان کرتے تھے، نبی پاک کا دفاع بیان کرتے تھے..
(دیکھیے بخاری حدیث3212 ترمذی حدیث2846)
.
*میلاد ولادت اور سلام*
القرآن..ترجمہ:
مجھ(حضرت عیسی علیہ السلام) پر سلام ہو میری ولادت کے دن..(سورہ مریم آیت33)
.
*میلاد جلسے جلوس نعت جھنڈے
نعرے*
جب نبی پاک مدینہ تشریف لا رہے تھے تو اس وقت عظیم الشان جلوس کے ساتھ آپ علیہ السلام کا استقبال کیا گیا، طلع البدر علینا اور دیگر نعت پڑھی گئ، جھنڈا نہین تھا تو ایک صحابی نے اپنے عمامے کو اتار کر بڑا جھنڈا بنا لیا، یا محمد یا رسول اللہ کے نعرے لگائے گئے
(دیکھیے الوفا247 بخاری1/555 مسلم2/419)
.
بسکٹ وغیرہ میلاد کا لنگر عوام کیطرف پھینکنا بےادبی،ضیاع کاخطرہ اس لیے منع و گناہ ہے! ایسا نہ کریں لنگر سلیقےسےبانٹیں (دیکھیے احکام شریعت1/88)
.
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےعرض کیا:
نہیں،اللہ کی قسم آپﷺکا نام مبارک کبھی نہیں مٹاؤنگا…پھر نبی پاک نےخود مٹایا(ماخذ بخاری حدیث3184)
نیکی روزہ نوافل تلاوت درود ،جائز خوشی،عبادات خیرات کرکے میلاد منانا بہتر…میلاد پےکیک کاٹیں یا نہ ، یہ مسلہ اپنی جگہ مگر کم سےکم کیک پےنام مبارک تو ہرگز ہرگز نہ لکھا جائےکہ نام مٹےگا جو عشاق کا طریقہ نہیں،ہاں ضرورتا لکھنا مٹانا جائز جیسےبلیک بورڈ
.

معتدل جھومنا.................!!
الحدیث:
عن علي قال: أتيت النبي - صلى الله عليه وسلم - وجعفر وزيد، قال: فقال لزيد: أنت مولاي، فحجل! قال: وقال لجعفر: أنت أشبهت خلقى وخلقي، قال: فحجل وراء زيد! قال لي: أنت مني وأنا منك، قال: فحجلت وراء جعفر
ترجمہ:
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور حضرت جعفر اور حضرت زید رضی اللہ عنھم اجمعین تینوں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے
حضور نے حضرت زید کہا "انت مولائی"(یہ سن کر حضرت زید خوشی سے) ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر جھومنے لگے
پھر
حضور نے حضرت جعفر سے فرمایا کہ تم میری صورت اور سیرت میں مجھ سے مشابہت رکھتے ہو(یہ سن کر حضرت جعفر خوشی سے) ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر حضرت زید کے پیچھے جھومنے لگے
پھر
حضور نے مجھ(حضرت علی) سے کہا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں(تو یہ سن کر خوشی سے) میں حضرت جعفر کے پیچھے ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر جھومنے لگا
(مسند احمد حدیث857)
.
امام بیھقی اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں
فَالرَّقْصُ الَّذِي يَكُونُ عَلَى مِثَالِهِ يَكُونُ مِثْلَهُ فِي الْجَوَازِ
ترجمہ:
اس قسم سے ملتا جلتا(غیرِ فحش)رقص و جھومنا جائز ہے
(سنن کبری بیھقی1/382)
.
حمد و نعت ، نثر و بیان میں اللہ اور اسکے رسول کی محبت و تذکرے میں اور خاص کر میلاد کے مواقع پر معتاد بلاترتیبِ رقاصِ مذموم محض جھومنا جائز و ثواب ہے مگر فرض واجب نہیں، ایسا نہیں کہ جو نہ جھومے وہ محب نہیں....ہرگز نہیں، اور اسی طرح بلادلیل و شواہد جھومنے والوں پر دکھاوے جہالت و مذمت کے فتوے لگانا بھی ٹھیک نہیں..
.
ہم معتدل جھومنے کو جاءز کہتے ہین مگر ڈھول دھماکے ناچ گانے اور عورتون مردوں کے اختلاط کو ہر گز جائز نہیں سمجھتے....ہم اہلسنت ہمیشہ لکھتے رہتے ہین ، کہتے رہتے ہیں کہ میلاد گناہوں خرافات سے پاکیزہ ہونا ضروری ہے....کچھ جاہل لوگ یا سازشی لوگ میلاد پے ایسی خرافات کرتے ہیں تو ان خرافات کی مذمت کیجیے میلاد کی مزمت و تردید مت کیجیے بلکہ میلاد کو پاکیزہ رکھنے کی ہدایات و تلقین کیجیے.
.
مخالفین اور ہمارے معتبر عالمِ دیں، عظیم شخصیت شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں:
اس موقعہ(میلاد، جلوس محافل) پر جو "بری بدعتیں" پیدا کر لی گئ ہیں اور آلاتِ محرمہ کے ساتھ گانا باجا ہوتا ہے ان سے محفل خالی ہو...(مدارج النبوۃ2/19)
.
.
⑨آمد مصطفی مرحبا کا مقصد اور عقیدہ حاضر ناظر کی وضاحت و دلائل:
*آمدِ مصطفی مرحبا کے نعرے*
معراج کی رات آسمانوں پر آمدِ مصطفی پے انبیاء کرام نے یہ کہتے ہوئے استقبال فرمایا...ترجمہ: آپ کی آمد مرحبا
(دیکھیے بخاری حدیث2968)
اسی ادا کی یاد تازہ کرتے ہوئے، انبیاء کرام کی اتباع کرتے ہوئے آمدِ مصطفی کے مہینے دن کی مناسبت سے آمد مصطفی مرحبا مرحبا کے نعرے جائز و ثواب ہیں، بدعت نہیں.........!!
ہمارا یہ عقیدہ نہین کہ میلاد کی محفل و جلوس میں نبی کریم تشریف لائے ہین اس لیے امد پر مرحبا....ایسا عقیدہ ہرگز نہیں، بلکہ ہمارا عقیدہ حاضر ناظر یہ ہے کہ نبی کریم سب جانتے ہیں دیکھتے ہیں اور جب چاہیں جس جگہ چاہیں جا سکتے ہیں....لیھذا میلاد کی محفل و جلوس میں آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی تشریف آوری ضروری نہیں مگر ممکن ضرور ہے البتہ نبی کریم جانتے دیکھتے ضرور ہیں
.
الحدیث:
جب بھی غیب کا سوال ہوتا یا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سوال فرماتے تو صحابہ کرام حضور کی بارگاہ میں جواب اس طرح عرض کرتے کہ "الله ورسوله اعلم"
ترجمہ:
اللہ کو اور اسکے رسول کو علم ہے..... "اللہ اور رسول جانے"کہنا ایک دو دفعہ کا واقعہ نہین بلکہ یہ تو صحابہ کرام تابعین عظام کی عادت مبارکہ تھی، نبی کریم کے سامنے یہ کہا کرتے تھے مگر کبھی نبی کریم نے ان پر شرک و بدعت کا فتوی نہین دیا، بخاری مسلم میں کم و بیش ساٹھ سے زائد مقامات پر اللہ ورسولہ اعلم جملہ آیا ہے...جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جملہ اہل اسلام کا عقیدہ تھا نظریہ تھا کہ اللہ کو علم ہے اور اللہ کے بتانے سے نبی کریم کو بھی علم ہے
(مثلا دیکھیے مسلم حدیث 159 بخاری حدیث3199)
.

الحدیث:
مجھ پر میری امت کے تمام اچھے برے اعمال پیش کیے گئے.(مسلم حدیث نمبر1120 سند صحیح ہے)
الحدیث:
تمھارے تمام اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں
(مجمع الزوائد جلد9 صفحہ24سند صحیح ہے)
.
الحدیث:
بے شک اللہ نے میرے لیے دنیا کو اس طرح مرتفع کر دیا کہ مین اسے اور اس مین ہونے والے تمام معاملات قیامت تک ایسے دیکھتا ہوں جیسے اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں
(مجمع الزوائد جلد8 صفحہ287)
اسکی سند اگرچہ ضعیف ہے مگر اوپر والی احادیث کی تائید کی وجہ سے ضعیف ہونے سے فرق نہین آئے گا..
ان تینوں احادیث مبارکہ میں صاف ظاہر ہے کہ نبی کریم تمام اعمال و افعال جانتے ہیں، دنیا انکی نظر میں ایسے ہے جیسے جیسے دنیا ان کے ہاتھ کی ہتیھلی پر رکھی ہوئی ہو.....!!
.
شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں..ترجمہ:
علماء میں کثرت اختلاف اور بہت سے مذاہب ہین لیکن اسکے باوجود سب کا اس میں اتفاق ہے کہ رسول اللہ.صلی اللہ علیہ وسلم(وفات کے بعد)حقیقتا بلا شک و شبہ بلا توھم و تاویل کے زندہ ہیں،دائم.و باقی ہیں.. امت کے تمام اعمال پر حاضر و ناظر ہیں،حقیقت کے.طلبگاروں اور متوجہ ہونے والوں کو فیض پہنچاتے ہیں..
(مکتوبات علی ہامش اخبار الاخیار ص155)
.
غیرمقلدوں اہل حدیثوں وہابیوں دیوبندیوں کے معتمد عالم شمس الحق اور قاضی شوکانی لکھتے ہیں:
ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حی بعد وفاتہ وانہ یسر بطاعات امتہ
ترجمہ:
بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم وفات کے بعد زندہ ہیں اور وہ امت کی نیکیوں سے خوش ہوتے ہیں
(نیل الاوطار جلد4 صفحہ183)
مکمل تحریر >>

حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ

حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ حضرتِ سیّدہ فاطمۃُالزّہراء رضی اللہ عنہا کے گلشن کے مہکتے پھول ، اپنے نانا جان ، رحمتِ عالمیان صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کی آنکھوں کے نور ، راکبِ دوشِ مصطفےٰ (مصطفےٰ جانِ رحمت صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک کندھوں پر سواری کرنے والے)، سردارِ امّت ، حضرت سیّدُنا امام حَسَن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کی ولادتِ باسعادت 15 رمضان المبارک 3 ہجری کو مدینہ طیبہ میں ہوئی ۔ (البدايۃوالنہایہ، 5/519)

آپ رضی اللہ عنہ کا نام حسن کنیت ”ابو محمد“ اور لقب ”سبطِ رسول اللہ“(رَسُوۡلُ اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کے نَواسے) اور”رَیْحَانَۃُ الرَّسُوْل“(رَسُوۡلُ اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کے پھول)ہے۔(تاریخ الخلفاء، صفحہ 149،چشتی)

نبی کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ کے کان میں اذان کہی ۔ (معجم کبیر، 1/313، حدیث:926) اور اپنے لعابِ دہن سے گھٹی دی۔(البدايۃ والنہایہ، 5/519)

شہد خوارِ لعابِ زبانِ نبی
چاشنی گیر عصمت پہ لاکھوں سلام

نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم نےآپ رضی اللہ عنہ کے عقىقے میں دو دنبے ذبح فرمائے ۔ (نسائی،ص 688، حدیث: 4225)

حضورِ اکرم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کوآپ رضی اللہ عنہ سے بے پناہ محبت تھی۔ پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ کو کبھی اپنی آغوشِ شفقت میں لیتے تو کبھی مبارک کندھے پر سوار کئے ہوئے گھر سے باہر تشریف لاتے ، آپ رضی اللہ عنہ کی معمولی سی تکلیف پر بےقرار ہوجاتے، آپ کو دیکھنے اور پیار کرنے کےلیے سیّدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے ۔ آپ رضی اللہ عنہ بھی اپنے پیارے نانا جان صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم سے بے حد مانوس تھے ، نماز کی حالت میں پشت مبارک پر سوار ہو جاتے تو کبھی داڑھی مبارک سے کھیلتے لیکن سرکارِ دو عالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں کبھی نہیں جھڑکا ۔ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ کو حضور پرنور صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کےشانۂ مبارک پرسوار دیکھ کر کسی نے کہا : صاحبزادے ! آپ کی سواری کیسی اچھی ہےتو نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : سواربھی تو کیسا اچھا ہے ۔ (ترمذی،5/432،حدیث:3809)

حسنِ مجتبیٰ، سیّد الاسخیاء
راکبِ دوشِ عزت پہ لاکھوں   سلام

آپ رضی اللہ عنہ اُن خوش نصیبوں میں شامل  ہیں جنہیں نبیِّ کریم  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : بِاَبِي وَاُمِّي یعنی تم پر میرے ماں باپ فِدا۔(معجم کبیر،3/65، حديث:2677)

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ( امام) حسن  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  سے بڑھ کرکوئی بھی حضور اکرم  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  سے مُشابہت رکھنے والا نہ تھا۔(بخاری، 2/547، حدیث :3752)

آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ  رضی اللہ عنہ سےصلح فرما کر اپنے نانا جان ، رحمتِ عالمیان صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم  کے اس فرمان کو عملاً پورا فرمایا : میرایہ بیٹا سردار ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی بدولت مسلمانوں کی دوبڑی جماعتوں میں صلح فرمائے گا ۔ (بخاری،2/214،حدیث:2704)

آپ رضی اللہ عنہ نہایت رحم دل ، سخی ، عبادت گزار اور عفو و درگزر کے پیکر تھے ۔ آپ  رضی اللہ عنہ فجر کى نماز کے بعد طلوع آفتاب تک ٹیک لگاکر بیٹھ جاتے اور مسجد میں موجود لوگوں سے دینی مسائل پر گفتگو فرماتے ۔ جب آفتاب بلند ہو جاتا تو چاشت کے نوافل ادا فرماتے پھر اُمَّہاتُ المؤمنین رضی اللہ عنہن کے گھر تشریف لے جاتےتھے ۔ (تاریخ ابن عساکر، 13/241)

آپ رضی اللہ عنہ نے(مدینۂ منورہ زادہَا اللَّہُ شرفًا وَّ تعظیمًا سے مکۂ مکرمہ زادہَا اللَّہُ شرفاً وَّ تعظیماً) پیدل چل کر 25 حج ادا فرمائے ۔ (سیر اعلام النبلاء، 4/387،چشتی)

آپ رضی اللہ عنہ کثرت سے صدقہ و خیرات فرماتے حتّی کہ دو مرتبہ اپنا سارا مال اور تین مرتبہ آدھا مال را ہِ خدا میں صدقہ فرمایا ۔  (ابن عساکر، 13/243)

آپ رضی اللہ عنہ حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ اور خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی پہلی اولاد ہیں ۔ قُرب ولادت کے وقت نبی کریم عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام ایمن اور حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو سیدہ عالم کی دیکھ بھال کےلیے مامور کیا ۔ انہوں نے آیت الکرسی اور تینوں معوذ پڑھ کر ان کو دم کیا ، بچے کی ولادت ہوئی تو نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساتویں دن نومولود کے عقیقے کے موقع پردو دُنبے ذبح کئے اور اپنی پیاری بیٹی سے فرمایا کہ بچے کے سر کے بال اتروائیں اور بالوں کے وزن کے برابر چاندی خیرات کریں ۔ جب آپ کا سر منڈا کر بالوں کا وزن کیا گیا تو یہ وزن ایک درہم کے برابر تھا۔ اتنی چاندی خیرات کی گئی ۔ دایہ کو دنبے کی ران اور ایک دینار دیا گیا ۔ سرمنڈانے کے بعد نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے نومولود کے سر پر خوشبو ملی اور اسی دن آپ کا نام رکھا گیا اور ختنہ کیا گیا ۔ علاوہ ازیں نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی آپ کے کان میں اذان کہی تھی ۔ (ضیاء النبی ، مدارج النبوۃ ، سیرت حلبیہ)

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسن علیہ السلام سینہ سے سرتک نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل شبیہہ ہیں اور حضرت امام حسین علیہ السلام سینہ سے نیچے تک حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل شبیہہ ہیں ۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب، رقم: 3779،چشتی)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود مبارک میں تھے اور وہ اپنی انگلیاں نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک میں ڈال رہے تھے اور نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زبان مبارک ان کے منہ میں ڈالتے اور فرماتے : اللهم انی احبه فاحبه ۔
ترجمہ : اے اللہ میں اسے محبوب رکھتا ہوں تو بھی اسے محبوب رکھ ۔ (صواعق محرقہ صفحہ نمبر467)

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا میرا یہ بیٹا سردار ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں دو جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا ۔ راوی فرماتے ہیں کہ بیٹے سے مراد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب، رقم: 3773)

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:میری والدہ نے مجھ سے پو چھا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کتنے دنوں بعد جاتے ہو۔میں نے کہا کہ:اتنے اتنے دنوں سے میرا آنا جانا چھوٹا ہوا ہے۔اس پر وہ ناراض ہو گئیں۔تو میں نے کہا کہ:اچھا، اب آپ مان بھی جائیے۔میں آج ہی حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر نماز مغرب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کروں گا ،اپنی اور آپ کی مغفرت کی دعا کرنے کی درخواست کروں گا،حضرت حذیفہ کہتے ہیں:میں گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب ادا کیا،پھر حضور عشاء تک نماز میں مشغول رہے،عشاء پڑ ھنے کے بعد جب آپ لوٹے تو میں آپ کے پیچھے ہو لیا ،حضور نے جب میری آواز سنی تو فر مایا:کون ؟ حذیفہ،میں نے کہا:جی ہاں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:تمہیں کیا کام ہے ؟ اللہ تمہاری اور تمہاری والدہ کی مغفرت فر مائے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:بے شک ایک فر شتہ جو آج رات سے پہلے کبھی زمین پر نہ آیا،آج اس نے اپنے رب سے اس بات کی اجازت مانگی کہ وہ مجھے سلام کرے اور مجھے اس بات کی خوشخبری دے کہ:فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہے اور حسن ،حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ (جامع ترمذی،کتاب المناقب، باب مناقب الحسن والحسین رضی اللہ عنہما،حدیث :۳۷۸۱،چشتی)

حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ بڑے حلیم،کریم اور متقی و پر ہیز گار تھے ،انہوں نے اپنی زندگی میں دو بار اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیا ۔اس کے علاوہ جب بھی راہ خدا میں مال لٹانے کی باری آئی تو انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے ۵۰/مرتبہ پیدل حج کیا۔وہ کہتے تھے کہ:مجھے اپنے رب سے حیاء آتی ہےکہ میں اس سے ملاقات کروں اور اس تک پیدل چل کر نہ جاؤں۔

۱۷/رمضان سن ۴۰/ہجری میں اپنے والد ماجد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد خلیفہ ہوئے،چالیس ہزار سے زیادہ مسلمانوں نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کیا۔اور آپ نے چھ یا سات مہینے تک عراق،خراسان،حجاز اور یمن وغیرہ پر حکومت کیا ۔پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ملک شام سے آپ کے خلاف فوج کشی کی ،آپ نے بھی اپنی فوج اُتاری اور جب دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئی اور قریب تھا کہ جنگ کی آگ بھڑک جائے تو آپ نے سوچا کہ :کوئی فریق دوسرے پر اس وقت تک غالب نہ ہوگا جب تک کہ دونوں طرف سے بہت سارے مسلمانوں کا خون نہ بہہ جائے ۔یہ سوچ کر آپ نے حضرت امیر معاویہ کی طرف یہ پیغام بھیجا کہ :وہ اس شرط پر حکومت ان کے سپرد کرنے کے لئے تیار ہیں کہ ان کے بعد خلافت ہمارے پاس رہے اور یہ کہ ہمارے والد کے زمانے میں مدینہ ،حجاز اور عراق کے لوگوں کے پاس جو کچھ تھا اس کا مطا لبہ نہیں کریں گے ۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان شرائط کو منظور کر لیا اور اس طرح سے غیب داں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ ظاہر ہوا کہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان کے بچپنے ہی میں فر مایا تھا کہ”یہ میرا بیٹا سردار ہے ،اللہ تعالی اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں میں صلح کرا دے گا”۔جس ذات کے لئے حضور نے فر مایا ہو کہ: یہ سردار ہے اس کی عظمتوں کا اندازہ بھلا کون لگا سکتا ہے۔(اسد الغابہ،باب الحاء والسین،حسن بن علی رضی اللہ عنہما)

حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی تایخ وصال میں مور خین کا اختلاف ہے،ایک قول یہ ہے کہ سن ۴۹/ہجری میں آپ کا وصال ہوا ۔اور ایک قول یہ ہے کہ سن ۵۰/ہجری میں ہوا،اور سن ۵۱/ہجری کا بھی قول کیا گیا ہے۔لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔آپ کی وفات کاسبب یہ ہوا کہ دشمنوں کی سازش سے آپ کو زہر پلا دیا گیا ، جس کی وجہ سے آپ چالیس دن تک بیمار رہے پھر انتقال کر گئے ۔ جب بیماری زیادہ بڑھی تو آپ نے اپنے چھوٹے بھائی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے فر مایا کہ : مجھے تین بار زہر دیا گیا لیکن اس بار سب سے زیادہ شدید زہر تھا جس سے میرا جگر کٹ رہا ہے ۔سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے پو چھا کہ آپ کو کس نے زہر دیا ہے؟تو آپ نے فر مایا:یہ سوال کیوں پوچھتے ہو؟کیا تم ان سے جنگ کروگے ۔ میں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔ زہر کھلا دینے کی وجہ سےآپ  رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ  نے 5 ربیع الاول 49 ہجری کو مدینۂ منورہ میں شہادت کا جام نوش فرمایا۔ایک قول50ہجری کا بھی ہے ۔(المنتظم، 5/226، صفۃ الصفوة،1/386)

کچھ لوگوں سے یہاں پر سخت غلطی واقع ہو ئی ، وہ کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی بیوی “جعدہ بنت الاشعث” کو دشمنوں نے بہلا پھسلا کر اپنی سازش کا حصہ بنا لیا اور وہ دشمنوں کے جھانسے میں آکر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دھوکے میں زہر پلادی ۔ یہ بات بالکل جھوٹ اور افترائے محض ہے ۔ کیو نکہ تمام مور خین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ جب حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے زہر پلانے والے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کسی کا نام نہ بتایا اور صرف اتنا کہا کہ : میں ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں ۔

تو جب انہوں نےنام نہیں بتایا یہاں تک کہ کسی کے بارے میں اپنی شک کا اظہار بھی نہ فر مایا ۔ جس کی وجہ سے اس وقت کسی سے قصاص نہ لیا جا سکا تو پھر دوسروں کو کیسے اس کا علم ہوا ؟ اس لئے ایک ایسے مقدس امام جن سے اپنا رشتہ جوڑنے پر اس زمانے کی عورتیں ہر دکھ گوارا کرنے کو تیار رہتی تھی ،پھر جنہیں نوجوانا ن جنت کی سردار کی بیوی بننے کا شرف حاصل ہوا ۔ ان کے بارے میں ایسا خیال ر کھنا اپنی تباہی اور بر بادی کو دعوت دینا ہے۔اللہ تعالی ہم سب کو صراط مستقیم پر قائم رکھے اور اپنے ان نیک بندوں کے صدقے دارین کی سر خروئی نصیب فر مائے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
مکمل تحریر >>

لکھنا میرے مزار کےکتبے پہ یہ حروف مرحوم زندگی کی حراست میں مرگیا تحقیق وتحریر ازمحمدعثمان صدیقی

لکھنا میرے مزار کےکتبے پہ یہ حروف
مرحوم زندگی کی حراست میں مرگیا
تحقیق وتحریر
ازمحمدعثمان صدیقی

واقفان حال جانتے ہیں کہ جناب محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب علیہ الرحمہ بارے بڑےمنظم انداز میں پورےیورپ کےمیڈیا میں ایک گھناؤنی مہم چلائی گئی تھی
اس پربات کرنےسےپہلےضروری ہےکہ ڈاکٹرصاحب علیہ الرحمہ کےبارےضروری ایسی معلومات عرض کروں جس سےپاکستان میں ان کی خدمات واضح ہوسکیں
محسن پاکستان جناب ڈاکٹرعبدالقدیرخان صاحب علیہ الرحمہ 1952 میں مغربی پاکستان آئے اور 1960 میں کراچی یونیورسٹی سے 'میٹالرجی' (دھاتوں کے علم) میں آپ نے سند حاصل کی
اگلی دہائی میں آپ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنےتشریف لےگئے پہلے مغربی برلن گئے اور پھر نیدرلینڈز کے شہر ڈیلفٹ میں زیر تعلیم رہے جہاں 1967 میں 'میٹالرجی' میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
1972 میں ڈاکٹرعبدالقدیرخان صاحب نے بیلجئیم میں 'میٹالرجیکل انجینئیرنگ' میں 'لووَن' کی کیتھولک یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کیا۔ اس دوران 1964 میں انھوں نے ایک برطانوی خاتون 'ہیندرینا ریترینک' سے شادی کی جو ڈچ نژاد والدین کے ہاں جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئیں اور شمالی روڈیشیا (موجودہ زیمبیا) میں پلی بڑھی تھیں پھر نیدرلینڈز آگئیں۔
ڈاکٹرصاحب کا یہ وہ دورتھاجب آپ اپنےشعبےکے علم و عرفان کی معراج پرپہنچ رہے تھے اللہ پاک نے ارض پاک کےلئے ان سےبڑاکام لینا تھا اللہ عزوجل کی آپ کےحافظہ پرایسی کرم نوازی تھی کہ کہ کوئی کتاب لائبریری میں اگرایک بار پڑھ لیتے توواپس گھر آکر بلکل ویسی ہی لکھ لیتےحیران کن بات یہ کہ آپ ایک وقت میں ایک کتاب ہی نہیں کئی کئی کتابیں پڑھا کرتےتھے اورسب الگ الگ یاد رہ جاتیں
1972 میں ڈاکٹرعبدالقدیر خان رحمہ اللہ نے 'فزیکل ڈائینامکس ریسرچ لیبارٹری' میں یورینکو(URENCO) کی ڈچ شراکت دار ذیلی ٹھیکدار کمپنی میں ملازمت کی
 برطانیہ، جرمنی اور ڈچ (ہالینڈ) کی کمپنیوں کے اشتراک سے یورینکو(URENCO) وجود میں آئی تھی جسے 1971 میں قائم کیا گیا تھا تاکہ 'سینٹری فیوجز' (مختلف اجزا کو الگ کرنے کے عمل) کے ذریعے یورینیم کی افزودگی کی تیاری اور تحقیق ممکن ہو۔
یہ 'سینٹری فیوجز' انتہائی تیز رفتار سے کام کرتے تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کو نچلی سطح کی سکیورٹی کلیئرنس دی گئی لیکن ذہانت اورپھرتی کی وجہ سےانھیں 'سینٹری فیوج ٹیکنالوجی' کی مکمل معلومات تک رسائی حاصل ہو گئی۔
آپ نے مشرقی ہالینڈ کے شہرایل میلو میں قائم ڈچ پلانٹ کا بھی متعدد مرتبہ دورہ کیا۔ آپ کو کئی زبانوں فارمولوں پرمہارت تامہ حاصل تھی چناچہ اس ملازمت میں آپ کی ایک ذمہ داری جدید ترین سینٹری فیوجز سے متعلق جرمن دستاویزات کا ڈچ زبان میں ترجمہ کرنا بھی شامل تھا۔
17 ستمبر 1974 کو ڈاکٹرعبدالقدیرخان صاحب علیہ الرحمہ نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھا جس میں آپ نے ایٹم بم بنانے کے لیے اپنی خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کیں۔ اس خط میں ان کی رائے تھی کہ سینٹری فیوجز کو استعمال کرکے جوہری بم بنانے کا راستہ پلوٹونیم (جس سے پاکستان پہلے ہی بم بنانے کی کوشش کر رہا تھا) کے ذریعے بم بنانے سے بہتر ہے کیونکہ اس میں 'جوہری ری ایکٹرز' اور 'ری پراسیسنگ' ہوتی ہے۔
اگست 2009 میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران ڈاکٹرصاحب نے بتایا تھا کہ میں نے ستمبر 1974 میں بھٹو کو خط لکھا کہ میرے پاس مطلوبہ مہارت ہے۔ بھٹوصاحب کا جواب بہت حوصلہ افزا تھا، دو ہفتوں بعد بھٹومرحوم نے مجھے جوابی خط لکھا جس میں مجھے پاکستان واپس آنے کے لیے کہا میں جب واپس آگیا تومیں نے ٹیکنالوجی کے بارے میں منیر احمد خان اور ان کی ٹیم کو تفصیلات سے آگاہ کیا اور ہالینڈ واپسی سے قبل ان سے 'انفراسٹرکچر' کی تیاری کے لیے کہااورمل جل کے کام شروع ہوگیا۔
ابتدا میں ڈاکٹرعبدالقدیرخان صاحب نے پاکستان اٹامک انرجی کمشن (پی اے ای سی) کے ساتھ کام کیا لیکن ادارے کے سربراہ منیراحمد خان سے ورکنگ ریلیشن شپ نہ بن سکی چناچہ 1976 کے وسط میں ذوالفقار علی بھٹو کی ہدایت پر ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ نے 'انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری' (ای آر ایل) قائم کی تاکہ یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو پروان چڑھایا جائے۔
مئی 1981 میں کہوٹہ میں قائم کردہ اس لیبارٹری کا نام 'ڈاکٹراے کیوخان ریسرچ لیبارٹری کے آر ایل' رکھ دیا گیا
اب منیراحمدصاحب اورڈاکٹرصاحب دونوں اپنےاپنےطوراس عظیم مشن کوپایہ تکمیل پہنچانےمیں محوہوگئے
ڈاکٹر عبدالقدیرخان صاحب نے جرمن نمونے کے مطابق سینٹری فیوج کا ابتدائی نمونہ تیارکیا اور ضروری اجزا کی درآمد کے لیے پرزے فراہم کرنے والوں کی فہرست استعمال کی۔ پرزے فراہم کرنے والوں میں دیگر کے علاوہ سوئس، ڈچ، برطانوی اور جرمن کمپنیاں شامل تھیں۔
پاکستان ڈیفنس جرنل کی 2000 میں ایک شائع شدہ رپورٹ کے مطابق ’پی اے ای سی اور کے آر ایل نے یکساں طورپر ہدف کو طے کیا
ڈاکٹرعبدالقدیرخان علیہ الرحمہ کو دو مرتبہ ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز نشانِ امتیاز دیا گیا۔
پہلے چودہ اگست 1996 کو صدر فاروق لغاری اور پھر 1998 کے جوہری دھماکوں کے بعد اگلے برس 1999 میں اس وقت کے صدر رفیق تارڑ نے انھیں اس اعزاز سے نوازا۔ اس سے قبل 1989 میں انھیں ہلال امتیاز بھی دیا گیا تھا
ڈاکٹرصاحب دینی لحاظ سےبھی بڑی عظیم سوچ کےحامل تھے بڑےعاشق رسول تھےکئی مساجد بنائیں سلطان شہاب الدین غوری رحمہ اللہ کامزارتعمیرکروایا امام اہلسنت حضرت احمدرضابریلوی علیہ الرحمہ کےمتعقدتھےبرملا انکی تعریف فرماتے رہے
فلاح وبہبودکابھی بہت احسن اندازسےمنظم کام Schet نامی تنظیم کےنام سےکیا۔
سیاسی پارٹی بنائی الیکشن میں حصہ لیامگرپٹواریت یوتھیت زدہ گندی سیاست کےحاوی ہونےکی وجہ سےسیاست میں پنپ نہ سکے
یہ توتھیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان علیہ الرحمہ بارے معلومات اب کرتاہوذکراس منظم و مذموم سازش کا جوان کےخلاف ہوئی ڈاکٹر عبدالقدیر خان علیہ الرحمہ کی زندگی کااہم حصہ ہالینڈمیں گزرا ہالینڈ ہی کی حکومت نے ایٹمی توانائی بارےاہم معلومات چرانے کے الزام میں جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان علیہ الرحمہ پر ایک جھوٹا مقدمہ دائر کیاپروپیگنڈہ مضبوط تھامگریہ وارناکام ہوکےاپنےہی ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کےڈاکٹرصاحب کی ہی فیلڈکے پروفیسروں نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تومحسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرخان صاحب علیہ الرحمہ کو بَری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے زوردیاکہ جن معلومات کی بنیادپریہ مقدمہ داخل کیا گیا تھا وہ عام سائنسی کتابوں میں محض افسانوی انداز میں موجود ہیں ـ
چناچہ ہالینڈ کی عدالت عالیہ نے محسن پاکستان جناب ڈاکٹرعبدالقدیر صاحب علیہ الرحمہ کو باعزت بری کردیا۔
یہ 1984 کا دورتھا انڈیا نے پوکھران میں ایٹم بم کاتجربہ کیاتو ہرپاکستانی کی نظرڈاکٹرصاحب پر ٹہری ڈاکٹر عبدالقدیرخان صاحب علیہ الرحمہ ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں میں ان دنوں صدرضیا کوملا تومیں نےکولڈ ٹیسٹ کامیابی بارے مفصل انداز میں بتایا ضیا نے مجھے گلے لگاکرکہا کہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہوگیاہے تو میں نے ضیا کو کہا آپ اگر کہیں توہم ایک ہفتے میں ایٹم بم کا تجربہ کرسکتے ہیں۔ مگرتجربہ نہ کروایاگیا
آمریت کا دورتھا انڈیابڑھکیں مارتا پھرااوریہاں ہم دنیا کےسامنے دبادئیےگئی 
قارئین آپ پاکستان کی ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوئی بھی تاریخ پڑھ لیں ڈاکٹر عبدالقدیرخان صاحب علیہ الرحمہ کاکردار ان کا نام نامی کسی نہ کسی طور آپ کوضرور ملےگا مگر میں حیران ہوتا ہوں جب تک پاکستان نے ایٹمی دھماکہ نہ کیا تھا تب تک کوئی کہہ ہی نہیں سکا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کا ایٹم بنانے میں کوئی کردار نہیں جویورپی پروپگینڈے سے مرعوب نظرآتے ہیں ان کو سوچناچاہیے کہ پاکستان میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کے نام سے ہی پھرلیبارٹریاں کیوں بنائی گئیں تھیں کوئی اوراگران کےعلاوہ پاکستان کےایٹمی پروگرام کا خالق و موجد ہےتو اس کے نام پرکیوں یہ ادارے نہیں ؟ (جبکہ یہاں توچورڈاکوسیاست دان تک کے ناموں پرسرکاری ہاسپٹل، پارک تک کےنام رکھناآسان ہے) یاجوبےہودہ الزامات ڈاکٹر صاحب پرلگائے گئےکیوں ان کے نام سےمنسوب اداروں کےنام تبدیل کرنے بھی جرآت کسی سےہوسکی؟حتی کےمشرف تک سےبھی۔توڈاکٹرصاحب کانام ہٹاکےتودیکھو 
سکروٹنی میں ڈاکٹر صاحب ہرطرح بےقصوراورغیرمتنازعہ ہی ثابت ہوئےتوان مبغضین ڈاکٹر عبدالقدیر علیہ الرحمہ کی زراسی بھی کوشش کامیاب نہ ہوئی ایٹمی دھماکوں کے بعد ڈاکٹر صاحب کو سازش کے زریعے سائڈ لائین کردیا گیا۔ ۔سوچئیے کیسے اور کیوں 
مشرف جس نے امریکہ کو پاکستانی بیچنے کااعتراف جرم اپنی کتاب [In The Line Of Fire]
 میں کیا ہے یہ اسی کادور تھا جس میں ڈاکٹر صاحب کو بھی متنازعہ کیا گیا(آگے چل کرتفصیل عرض کروں گا)  اشارہ یہ دےرہاہوں کہ پاکستان کو ایٹم بم کے تجربات سےروکنے کی جو آفردی گئی کیا ڈاکٹر صاحب کو متنازعہ کرنے کےلئے تو مشرف کو بھی نہ دےدی گئی؟ سوچئےزرا ۔  ۔ 
 اورکیابعیدکےوہ قبول کربھی لی گئی ہو۔ ۔
ایٹمی دھماکوں کےبعد یورپ کی جانب سےپابندیاں عائدکی گئیں تب ڈاکٹرعبدالقدیرخان صاحب کو بھی عتاب کا شکار بنانا کیاگیا۔
اس کاپہلامظاہرہ جب ہواجب ڈاکٹر صاحب اوران کے ساتھی پاکستانی ایٹمی سائنسدانوں کے اعزاز میں اسی حوالے سےمنعقدہ تقریب میں مہمانان گرامی کی خصوصی نشتوں کی پہلی قطار سےڈاکٹرعبدالقدیرصاحب کا نام نکال کر پیچھے عام نشتوں میں ڈال دیاگیا
ایٹم بم کےتجربہ کرنےکےلئےمتعین ٹیم کےایک دوسرے پاکستانی سینیر سائنسدان ڈاکٹرثمرمبارک مند صاحب جواس سےپہلےمنظرعام پرنہ تھےجو ایٹمی دھماکوں کےلئے چاغی میں ٹنل وغیرہ کھودنےاورانتظامی امورکی نگرانی کرنے پر معمور تھےاور آپریشن بنام ”چاغی ون“ کےسربراہ تھےکوڈاکٹرعبدالقدیرخان صاحب کے متبادل کےطورپراچانک فرنٹ مین بنادیاگیااورمرکزی سائنسدان انہیں ہی قراردیاجانےلگاجبکہ ڈاکٹرعبدالقدیرخان صاحب انہی کےساتھ ایٹمی دھماکوں کے تجربات ”ٹیم چاغی ٹو“ کےسربراہ تھے اگرکوئی کرداران کانہ تھاوہ ٹیم چاغی ٹوکےسربراہ آخرکیوں بنائےگئے؟
جنرل قدوائی کی ڈاکٹرعبدالقدیر خان صاحب بارےصحافیوں کوبریفنگ دینےاورخبریں چلوانےسےسائنسدانوں میں آپس میں پھوٹ ڈلوانےمیں مشرف کاسب سےبڑاہاتھ تھا
ڈاکٹرعبدالقدیرصاحب کے بارے نجی محافل سے میڈیاتک ڈاکٹرثمر مبارک منفی گفتگو کرتے پائےگئےاوربڑے زورشور سے ان کاڈاکٹر صاحب بارے مخالفانہ موقف قومی اخبارات کے فرنٹ صفحات پرشائع کیایاکروایاجاتارہا۔ ۔
گویادونوں ڈاکٹرز میں خلیج ڈال کرتقسیم کردیاگیا
یورپی حکمرانوں اوریورپی میڈیا کےزریعے ڈاکٹر عبدالقدیرخان صاحب کے بارے مختلف نوع کے الزام (یورینیم کی سمگلنگ سمیت) لگاکر بھرپورپروپیگنڈہ کیاگیا
سب سےمنظم اورمضبوط واردات ایسے ڈالی گئی کہ ان دنوں ایران زوروشورسےجوہری میدان میں تیزی سےترقی کررہاتھاتوآئی اے ای اے نے ایران کے ایٹمی ری ایکٹرکادورہ کرنےکادباؤ دیاعالمی دباؤ بھی اس ادارےکی پشت پرہونےکی بدولت بالاآخرایران نے دھمکیوں کےبعداجازت دےدی وہاں معائنہ کےبعد ایٹمی سینٹری فیوجیز دیکھ کرآئی اےای اےنےفوراالزام عائد کیاکہ یہ ڈاکٹرعبدالقدیراحمد خان صاحب کے1970 کےڈیزائنز ہیں آئی اے ای اے کے مطابق یہ ڈاکٹر عبدالقدیرخان صاحب ہی کہ فراہم کردہ ہیں چناچہ ڈاکٹرعبدالقدیرخان صاحب پرامریکہ کی جانب سےپابندیاں عائد کرنےکےلئےمنظم اورباقاعدہ سرکاری سطح سے پریشردیناشروع کردیاگیاحتی کے انہیں امریکہ نےاپنےحوالےکرنےکامطالبہ کردیا
قارئین یہاں یہ بات بتاتاچلوں کہ امریکہ سمیت کوئی ملک ایسا نہیں جس نے جوہری پروگرام میں کسی دوسرے ملک یا متعلقہ فردکی مددنہ لی ہویاخریدوفروخت نہ کی ہو حتی کہ چوری تک سےگریزنہ کیاہویابدمعاشی نہ کی ہومگر کمال کی بات ہے کہ آج تک کسی سائنسدان کوعتاب کاایسے نشانہ نہ بنایاگیاجیسے ڈاکٹرعبدالقدیراحمدخان صاحب کو ۔ ۔یہ بھی آپ ہی سوچئےکہ کیوں ایسا ہوا۔ ۔ 
آگے چلیں ۔  ۔ 
2003 کاسال آگیاتھامشرف حکومت کےاس وقت کےمنہ پھٹ وزیراطلاعات شیخ رشید احمد جو ایٹمی دھماکوں کے وقت خودفرماتےہیں کہ میں تواس دن ملک سے فرار ہوگیا تھا نےڈاکٹرعبدالقدیراحمد صاحب کے خلاف گھٹیا پن کی تمام حدیں پارکردیں۔
پرہجوم پریس کانفرنس میں ڈاکٹرعبدالقدیرخان صاحب علیہ الرحمہ کےبارے ہرزہ سرائی کی کہ ”جس نے گاجریں کھائی ہیں اس کے پیٹ میں درد توہوگاہم ڈاکٹرعبدالقدیراحمد خان سےحساب لیں گے“
سرکاری چینل پی ٹی وی پر پرویز مسلط اورڈاکٹرعبدالقدیراحمدخان صاحب کی ان عالمی سطح پرلگائے جانے والے الزامات  کے حوالے سےملاقات کی ویڈیوسرکاری ٹی وی پردکھاتےہوئےڈاکٹرعبدالقدیر
احمدخان صاحب کومعذرت کرنےکی آڈیوتک عام عوام کو سنائی گئی۔
اسی پربس نہیں ڈاکٹر عبدالقدیراحمد خان صاحب علیہ الرحمہ کو لوکل اسٹبلشمنٹ کا پریشر دےکر قوم سےخطاب کی صورت معافی بھی منگوائی گئی انہیں ایسےپیش کیاگیاجیسےیہ کوئی قوم کےمجرم ہوں
مصدقہ زرائع بتاتے ہیں کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان صاحب کچھ سیکنڈ قبل تک بھی اس معافی والے تحریری بیان کوسرکاری میڈیامیں پڑھنے سےسختی سےانکار کرتےرہےمگرانہیں مشرف اوراس کےحواریوں نےجس میں چوہدری شجاعت سرفہرست تھا مجبور کردیا۔چوہدری شجاعت اوراس وقت کےوزیرقانون ایس ایم ظفر نےکہاآپ صرف یہ معافی نامہ پڑھ دیں اس کےبعدآپ کوکچھ نہیں کہاجائےگا
تاریخ حیران تھی قوم کامحسن اپنی ہی قوم پر احسانات کرکےبھی مجرم بنا ڈھلکے کندھوں کپکپاتے ہونٹوں لرزتی آوازسےمعافی مانگ رہاتھا
اور اصل مدعا جاننےوالےڈاکٹرصاحب کو ایسے بےبس مجبور دیکھ کردھاڑیں مارمارکےرودئیےتھے
آمریت کادوردورہ تھاتوقومی اخبارات کوپریشردیاگیاکہ ڈاکٹرصاحب کےبارے سخت الفاظ بولےاورلکھےجائیں
پہلی بارڈی بریفنگ کی اصطلاح ڈاکٹر عبدالقدیر خان علیہ الرحمہ کےلئےاستعمال کی گئی کہ ڈاکٹرصاحب کی ڈی بریفنگ کی جائےگی
بعد میں پرویزمسلط نےکئی جگہ انٹرویوزمیں تمسخرانہ انداز میں کہاکہ ڈاکٹرعبدالقدیرخان تومیرےگھٹنوں کوہاتھ لگاکرروپڑےتھےمیں نےتب انہیں معاف کیا۔
امریکہ کوفوجی اڈےدینے، عافیہ صدیقی سمیت سینکڑوں پاکستانیوں کوامریکہ کےحوالےکرنےوالےسودےباز کاذب وغاصب پرویزمسلط نےیہ دعوی بھی کیاکہ یہ تومیں ہی ہوں جس نےڈاکٹرعبدالقدیرخان کوامریکہ سےبچالیا۔ ۔
اس سب کو لےکرانڈین میڈیانے پاکستان اور محسن پاکستان کابہت مذاق بنایا ڈاکٹر صاحب کی معافی والی ویڈیوانڈین میڈیامیں جشن کےطور باربار چلائی گئی 
جوہری ٹیکنالوجی کی ایران، لیبیا اور شمالی کوریا(واضح رہےیہی ممالک امریکہ دشمن ہیں) منتقلی کالکھالکھایابیان پڑھ کرجونہی ڈاکٹرصاحب فارغ ہوئےچند فوجی انہیں اٹھاکرلےگئےمشرف حکومت کی جانب سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان علیہ الرحمہ کوگرفتارکرکےاسلام آباد ہی میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔
2004 سےجاری نظربندی خاتمے کےاحکامات فروری سنہ 2009 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نےجاری کیے اور کہا کہ ڈاکٹر عبد القدیر ایک آزاد شہری ہیں۔ عدالتی حکم پر ان کی نظر بندی تو ختم کر دی گئی لیکن وہ اپنی نقل و حرکت کے بارے میں حکام کو مطلع کرنے کے پابند تھے اور ہر وقت سکیورٹی کے حصار میں رہتے رہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے ملک بھر میں آزادانہ نقل و حرکت سمیت ان کے بنیادی حقوق پر عمل درآمد کے لیے 23 دسمبر2019 کو سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا۔ ایڈووکیٹ زبیر افضل رانا کے توسط سے عدالت عظمی میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ آزادانہ نقل و حرکت سمیت بنیادی حقوق، معقول پابندیوں کی آڑ میں کسی کی پسند یا ناپسند پر کم  یا سلب نہیں کیے جاسکتے۔
ڈاکٹرعبدالقدیر خان علیہ الرحمہ نے لاہور ہائی کورٹ کے 25 ستمبر 2019 کے اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمی میں اپیل دائر کی تھی جس میں ان کی اسی طرح کی ایک درخواست کو اس بنیاد پر مسترد کردیا گیا تھا کہ ان کے تحفظ کے لیے ریاست کی جانب سے خصوصی سیکیورٹی اقدامات کا معاملہ ان کے دائرہ کار میں نہیں۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب علیہ الرحمہ نے اپیل میں کہا کہ میری 84 سال عمر ہے اور اکثر بیمار رہتا ہوں، میرے ساتھ جو سلوک کیا جارہاہے وہ کےآر ایل کے کسی سائنسدان کے ساتھ نہیں کیا گیا، قانون کے مطابق ہر شہری کو آزادانہ نقل وحرکت ،اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے۔
ایٹمی سائنس دان نے کہا کہ مجھے کینسر کا مرض ہوا ایسی حالت میں پابندیاں جان لیوا ہو سکتی ہیں، حکومتی ادارے میرےبارےگمراہ کن پروپیگنڈا کررہے ہیں ، میری سکیورٹی کا یہ مطلب ہرگز نہیں نقل وحرکت پر پابندی عائد کردی جائے
قبل ازیں گزشتہ سےپیوستہ برس ماہ جولائی میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نےموجودہ پی ٹی آئی حکومت کے نام خط لکھا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے چند غیرقانونی اور بلاجواز رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ حسب معمول حکومت کی طرف سے جھوٹ کا پلندہ پیش کیاجارہا ہے کہ میری جان کو خطرہ ہے
ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے کہا کہ میں اس وقت انگلینڈ، فرانس، جرمنی، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، مصر، سوڈان، نائجیریا، مالی (ٹمبکٹو)، تھائی لینڈ، جاپان، روس، ازبکستان، قازقستان، مراکو، کینیا، شام وغیرہ کے سفر کر رہا تھا۔ اس وقت ان کو میری جان کی فکر نہ تھی اور نہ ہی کسی نے مجھے مارا۔ نہ ہندوستانیوں نے، نہ امریکنوں نے اور نہ ہی اسرائیلیوں نے، اس وقت میرے ساتھ میرے رفقائے کار ہوتے تھے نہ گارڈ، نہ بندوقیں، نہ فوجی، نہ رینجرز۔حتی کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد تک میں دنیا میں سفر کرتا رہا، اس وقت سب کو علم تھا کہ میں کون ہوں. اوراپنےبھی جانتےہیں کہ میں غدارنہیں
ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہا کہ اب جبکہ میں عمررسیدہ ہوچکا ہوں، چلنا پھرنا مشکل ہے، ملک میں ہی رہوں گا باہر جانے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں ہے تو اس دروغ گوئی سے مجھے پریشان کیا جا رہا ہے۔ درحقیقت ان کو اپنی بدمعاشیوں کے راز فاش ہونے کا خطرہ ہے مگر میں محب وطن پاکستانی ہوں، میں نے اور میری بیوی بچوں نے ملک کی خاطر خاندانی زندگی قربان کر دی ہے۔ میں جان دے دوں گا ملک سے کبھی غداری نہ کروں گا۔ میں ایک عام انسان کی طرح اپنی بقیہ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔
مگراس خط کوارسال تین سال ہوئے عمران خان حکومت سےانہیں انکی وفات تک کوئی جواب نہیں دیاگیا نہ ہی کوئی سہولت ورعایت حضرت ڈاکٹرصاحب کو حاصل ہوسکی۔ حتی کہ عدالت میں بھی پیشی کرتےعمران حکومت روایتی تاخیری حربےدیتی ہے یامحض زچ کرتی رہی ہے۔
عدالتی کاروائی پرسرکاری وکیل کا مطالبہ تھاکہ کاروائی ان کیمرہ کی جائے جس پرججز نے کہا کہ ہم ڈاکٹرصاحب کااحترام کرتے ہیں ہم نے کون سا ان سے بم کے فارمولے پوچھنےہیں جو ایسے مطالبات کئے جارہے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کوملزم کی حیثیت دےکر منظم پروپیگنڈے کےزریعےآخری دنوں تک عتاب کا شکار بنایاجاتارہا
ڈاکٹر عبدالقدیر اپنی مرضی سے لوگوں سے ملنے اور ایک آزاد زندگی گزارنے جیسے بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے آخری دم تک عدالتوں سے ریلیف کے منتظر ہی رہے۔
اس غیراعلانیہ نظربندی کے خلاف ڈاکٹر خان نے مختلف اعلیٰ عدالتوں میں درخواستیں دائر کیں۔ آخری درخواست پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں دو سال قبل یعنی سنہ 2019 میں دائر کی گئی تھی جس پر نہ تو کوئی فیصلہ ہوا اور نہ ہی ان کے وکلا کو سکیورٹی کے نام پر ان سے ملنے کی اجازت تک دی گئی۔
 ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکلا شیخ احسن الدین اور توفیق آصف کے مطابق جب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر ہوئی ہے اس وقت سے اب تک اس کی صرف پانچ سماعتیں ہوئی ہیں جبکہ پہلی سماعت درخواست دائر کرنے کے نو ماہ بعد ہوئی تھی۔
عدالت میں ڈاکٹر عبدالقدیر کے وکلا نے ڈاکٹرصاحب کے گھر کےبارے کرتے ہوئے کہا کہ جس جگہ ان کے مؤکل کو سکیورٹی کے نام پر نظربندرکھاگیا ہے اس علاقے سے بہت کم لوگوں کو گزرنے کی اجازت ہے کوئی وہاں سے دو بار گزر جائے تو وہاں پر موجود سکیورٹی کے اہلکار اسے پکڑ لیتے ہیں اور اس سے تفتیش شروع کر دیتے ہیں کہ وہ کس مقصد کے لیے ادھر آئے ہیں۔
ڈاکٹرصاحب کی بڑھاپے کی عمر میں انھیں اپنے رشتے داروں اور دوستوں سے ملنے کی ضرورت ہے لیکن انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی
اس سب پرعدالت نےکوئی خاص ردعمل نہ دیابلکہ حالت یہ ہےکہ ایک سال کے بعد دوبارہ سماعت کے لیےتاریخ مقرر کی۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس درخواست کی چوتھی سماعت کے دوران متعلقہ حکام سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب سے گذشتہ سات سال کے دوران ہونے والی سب ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب کیا تھا لیکن متعلقہ حکام کی طرف سے ایسا کوئی ریکارڈ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کے وکلا کی طرف سے ذمہ داروں کے خلاف عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن عدالت نےمحض متعلقہ حکام کو ایک ماہ میں دوبارہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دینےپراکتفا کیا۔
اس کیس کی پانچویں سماعت جو کہ ڈاکٹرصاحب کی زندگی کی آخری سماعت ثابت ہوئی، 15 ستمبر2021 کو ہوئی عدالت نے یہ سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کی اوربالائےستم اگلی تاریخ تک نہیں دی گئی تھی
یوں ڈاکٹرصاحب غیراعلانیہ نظربندی میں انصاف مانگتے دنیاسےچلےگئے۔
زندگی کےآخری ایام میں موجودہ حکمرانوں کی محسنِ پاکستان ڈاکٹرصاحب سے بےاعتنائی روایتی بےحسی اورپھر شیخ رشیدجیسےمنافق کی ڈاکٹرصاحب کےجنازےکےمعاملات میں بدانتظامی ڈاکٹرصاحب اوران کےجنازےکےشرکاکےلئےایک اور اذیت تھی۔
آخری عمرنظربندی سہتےسہتےمظلوم ڈاکٹرصاحب جب دنیاکی قیدسےآزادہوئےتو سرکاری اعزازکےساتھ دفنائےگئے
حکمرانوں کےوہی گھسےپٹے روایتی بیانات ڈاکٹرصاحب کےدکھوں تکلیفوں اوران سےکی گئی زیادتیوں کاہرگزازالہ نہیں ہیں 
آپ اب ہرقیدوبندسےآزادہیں ہمارے دلوں میں آبادہیں اوراب مگران کےمخالف اپنےپرائے اپنےہی ضمیرکےسامنےقیدہیں 
میں سوچ رہاتھاکہ فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کی ایک رپورٹ کےمطابق پاکستان کےپاس الحمدللہ 2017 تک 140 ایٹم بم موجود ہیں جبکہ انڈیاکےپاس 130
 اگرگنتی میں بھی جیتناہےتوبھی ہم انڈیاسےاس محاذ میں آگےہی ہیں اوراس سب میں ڈاکٹرعبدالقدیر خان صاحب کااہم کردارہے
آپ کی عزت عام پاکستانی کرتا رہے گا پاکستان آپ کی بدولت دفاعی محاذپرمضبوط ہے۔
ڈاکٹرصاحب ایسی پٌربہاراورباوقارشخصیت کوپاکستانی غیرت مندقوم ہمیشہ فخرسےیادرکھےگی۔
مکمل تحریر >>

Friday, 8 October 2021

ماہ میلاد النبی اور کچھ عام سوالات کے جوابات*

*ماہ میلاد النبی اور کچھ عام سوالات کے جوابات*

سب سے پہلے یہ بتا دوں کہ میں کوئی مولوی نہیں بلکہ ایک عام سا مسلمان ہوں۔ ربیع الاول کی آمد پر مجھے اس لئے خوشی ہوتی ہے کہ اس مہینے میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم تمام عالمین کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے۔ مجھ سے میرے کچھ دوست عجیب سوالات کرتے ہیں اور میں ان کو سادہ سے جواب دیتا ہوں۔ سوال و جواب درج ذیل ہیں۔

نوٹ: ان سوالات و جوابات کو فرقہ واریت کی عینک اتار کر پڑھیے گا۔

پہلا سوال: اسلام میں دو عیدیں ہیں، یہ تیسری عید کہاں سے آ گئی؟ اور اگر یہ عید ہے تو عید کی نماز کہاں ہے؟ اگر یہ عید ہے تو اس دن روزہ کیوں رکھا جاتا ہے جبکہ عید کو روزہ شیطان رکھتا ہے؟ لہذا 12 ربیع الاول کے دن کو عید کہنا غلط ہے۔

جواب: اسلام میں عید الاضحی اور عید الفطر کو خاص حیثیت حاصل ہے۔ یہ وہ عیدین ہیں جن عیدوں میں روزہ رکھنا حرام ہے۔ اس کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحیح حدیث میں ہے کہ جمعہ کا دن عید ہے۔ اب کیا جمعہ کے دن کو روزہ رکھنا شیطان کا کام ہو گیا؟ تو ہر عید ایسی نہیں کہ جس میں روزہ رکھنا گناہ ہو۔ دوسری بات یہ کہ عید میلاد النبی کو "عید" اس کے معنی کے اعتبار سے کہا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں خوشی کے دن کو عید کہا گیا ہے۔ عام طور پر ہمیں کوئی بڑی خوشی ملے تو ہم کہتے ہیں "یار آج تو میری عید ہی ہو گئی" تو بھلا نبی کریم علیہ السلام کے یوم ولادت سے بڑھ کر اور ان کی تشریف آوری سے زیادہ کون سی خوشی ہو سکتی ہے؟ لہذا ان معنوں میں ایک خوشی کے دن کے طور پر اسے عید میلاد النبی کہا جاتا ہے جو کہ ہر لحاظ سے جائز ہے۔

دوسرا سوال: عید میلاد النبی کے موقع پر بہت سے لوگ ناجائز کام کرتے ہیں جیسے باجے بجانا اور رات کو لائٹنگ لگاتے وقت شور شرابا کرنا اس کے علاوہ بعض مقامات پر بےادبی وغیرہ کی جاتی ہے لہذا اسے بند ہونا چاہیے۔

جواب: ناک سےمکھی اڑائیں نا کہ ناک ہی کاٹ دیں۔ باجےبجانا اور مسلمانوں کو کسی بھی طریقے سے ایزا دینا یہ حرام اور سخت ناجائز ہے۔ اس کی اجازت دی ہی کس نے ہے؟ عید میلاد کے حامی علماء نے ہمیشہ اس کی مذمت مذمت اور مذمت ہی کی ہے۔ بھائی ایک غیر مسلم آپ کو کہے کہ مسلمان دھوکہ دیتے اور فراڈ کرتے ہیں لہذا دین اسلام غلط ہے آپ ان کو بتاؤ گے کہ اسلام غلط نہیں بلکہ یہ لوگ اسلام پر عمل پیرا نہیں ہے۔ تو کسی کے غلط کام کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا مذہب یا مسلک غلط ہو گیا۔ دیکھا یہ جائے گا کہ کیا اس کے مذہب نے اس کو اس چیز کی اجازت دی ہے؟ اگر نہیں تو یہ اس کا انفرادی فعل ہے جس کا وہ خود ذمہ دار ہے۔ آسان مثال میں مجھے دعوت اسلامی کا انداز  اس لحاظ سے بہت بھلا لگتا ہے۔ ان کے جلوسوں اور پروگرامز میں کوئی غیر شرعی کام نہیں ہوتا بلکہ جھنڈے بھی سادہ لہرائے جاتے ہیں تا کہ بےادبی نا ہو۔ مولانا الیاس قادری صاحب نے ایک سوال کے جواب میں واضح کہا کہ اگر رات کو میلاد کی لائٹنگ لگانے سے آپ کی فجر چھوٹتی ہے توہمیں ایساچراغاں نہیں چاہیے۔ آپ سو جائیں اور نماز فجر ادا کریں۔ کیونکہ نماز فرض ہے اورچراغاں نا فرض نا واجب نا آپ چراغاں نہ کرنے پر گنہگار ہوں گے جب کہ اس فعل کو حرام نا سمجھتے ہوں۔ اسی طرح انہوں نے رات کو بلند آواز سے نعتیں لگانے سے بھی منع کیا کہ جس سے لوگوں کو تکلیف ہو وغیرہ وغیرہ۔ توہمیں مثبت پہلو کو پروموٹ کرنا چاہیے۔

تیسرا سوال: نبی کریم علیہ السلام کی ولادت کا دن 12 ربیع الاول نہیں بلکہ 9 یا 11 ہے۔

جواب:  جمہور علماء کا قول 12 ربیع الاول کا ہے لیکن اگر کسی مسلمان کو اس میں اختلاف ہے تو وہ 9 یا 11کو یا جو بھی ولادت کی سہی تاریخ سمجھتا ہے، اسی تاریخ کو ذکر ولادت کر لے ان شاء اللہ ثواب ملے گا۔

چوتھا سوال: عید میلاد النبی ایک بدعت ہے جو نا صحابہ سے ثابت ہے نا تابعین سے۔ آخر کہاں لکھا ہے کہ میلاد مناؤ؟

جواب: اگر تو کسی شے کے حرام اور بدعت ہونے کا یہ ثبوت کافی ہے کہ وہ عمل صحابہ سے ثابت نہیں تو پھر کوئی فرقہ اس سے نہیں بچے گا۔ سالانہ غسل کعبہ کی تقریب کس صحابی سے ثابت ہے؟ سالانہ اہلحدیث کانفرنس کس صحابی سے ثابت ہے؟ مساجد میں قالین اور سپیکر کس صحابی سے ثابت ہیں؟  صحابہ کرام کے ایام کے جلوس کس صحابی یا تابعی سے ثابت ہیں؟ کہتے ہیں کہ یہ تو ثواب سمجھ کے نہیں کرتے تو بھائی کیا گناہ سمجھ کے کرتے ہو؟  

بدعت کی تعریف یہ ہے کہ ایسا عمل جس کی اصل دین میں موجود نا ہو یعنی ایسا عمل جو دین سے ٹکراتا ہو۔ 

جلوس صحابہ اور دینی محافل جو ہر فرقہ کےلوگ کرتے ہیں یہ کیوں جائز ہیں کہ یہ دین سے ٹکراتی نہیں اور نا ہی ان میں کوئی ناجائز کام کیا جاتا ہے۔ اسی طرح غسل کعبہ بھی ایک اچھا عمل ہے چاہے اس کا ثبوت صحابہ یا تابعین سے نہیں ملتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا ذکر کرنا یہ صحابہ سے بکثرت روایات صحیحہ کے ساتھ ثابت ہے۔ اسی طرح نبی پاک علیہ السلام جب مدینہ آئے تو وہاں بچیوں سمیت سب لوگوں سے آپ کا استقبال کیا اور نعتیہ اشعار پڑھے یہ سب روایات میں واضح موجود ہے۔ ہاں! ظاہر ہے موجودہ جس طریقے سے جلوس اور محافل ہوتی ہیں یہ اس زمانے میں نہیں تھیں بلکل اسی طرح سالانہ اہلحدیث کانفرنس تب نہیں تھی یوم صحابہ کے جلوس تب نہیں تھے وغیرہ وغیرہ مگر یہ حرام کیسے؟  جب تک کہ ان میں کوئی غیر شرعی کام نا ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی منانا باعث ثواب اور اللہ کے حکم "رب کی نعمتوں کا چرچا کرو"کی تعمیل ہے۔ 

یا اللہ! ہمیں صراط مستقیم پر چلا ان لوگوں کا رستہ جن پر تو نے اپنا فضل کیا۔ آمین
مکمل تحریر >>

Tuesday, 5 October 2021

سوال:میلاد شریف منانا کیسا ہے؟

میلاد شریف منانا

سوال:میلاد شریف منانا کیسا ہے؟

جواب:میلاد شریف منانا جائز اور مستحسن یعنی بہت اچھا کام ہے ۔

سوال:میلاد شریف میں کیا ہوتا ہے؟

جواب:میلاد عرفِ عام میں ذکرِمصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کا نام ہے خواہ دو آدمی مل کر کریں یا ہزاروں اور لاکھوں ۔ اس محفل میں اللّٰہ تَعَالٰی کی حمد وثنا بیان کی جاتی ہے، تلاوتِ قرآنِ مجید ہوتی ہے اور ذکرِ حبیبِ خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم ہوتا ہے اور ان کی نعتیں پڑھی جاتی ہیں اور ان پر صلوٰۃ وسلام پیش کیا جاتا ہے۔

سوال:میلاد شریف منانے کا ثبوت کیا ہے؟

جواب:میلاد کا جواز بکثرت آیات و احادیث اور سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہے۔ اگرچہ جواز کے لئے یہ دلیل بھی کافی ہے کہ اس کی ممانعت شرع سے ثابت نہیں ہے اور جس کام سے اللّٰہ تَعَالٰی اور رسولِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے منع نہیں فرمایا وہ کسی کے منع کرنے سے ممنوع نہیں ہوسکتا ۔ آیاتِ قرآنِ مجید آقائے نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی آمد کے ذکرِ خیر سے مالامال ہیں:چُنانچہ پارہ 11سورۂ یونس کی آیت 58 میں ارشاد ہوتا ہے:

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ- (پ۱۱،يونس:۵۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اللّٰہ ہی کے فضل اوراسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ فضل و رحمت پر خوشی کرنا چاہیے لہٰذا مسلمان حضورِ انور، شافعِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو فضل ورحمت جان کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کا ذکر کر کے خوشی مناتے ہیں اور یہ حکمِ الٰہی ہے۔

چُنانچہاللّٰہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے:

وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱)(پ٣٠،الضحٰى:۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔

نبی کریم ، رءوف رَّحیم،حلیم کریم عظیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم اللّٰہ تَعَالٰی کی عظیم ترین نعمت ہیں اور نعمتِ الٰہی کا چرچا کرنا حکمِ خداوندی ہے۔ لہٰذا مسلمان حبیبِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو نعمتِ الٰہی سمجھتے ہوئے محفلِ میلاد کی صورت میں اسکا چرچا کرتے ہیں۔

سوال:اس ضِمن میں حدیث میں کوئی واقعہ مذکور ہو تو وہ بھی بیان فرمادیں؟

جواب:بخاری شریف میں ہے:’’حضرت عُروہ فرماتے ہیں:ثُـوَ یْبَہ ابو لہب کی باندی تھی جسے اس نے (حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی پیدائش کی خوشی میں)آزاد کر دیا تھا۔ اس نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو دودھ بھی پلایا ۔ ابو لہب کے مرنے کے بعد اسکے بعض اہل (حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ)نے اسے بہت بُری حالت میں خواب میں دیکھاا ور اس سے پوچھا مرنے کے بعد تیرا کیا حال رہا؟ ابولہب نے کہا :تم سے جُدا ہوکر میں نے کوئی راحت نہیں پائی سوائے اسکے کہ میں تھوڑا سا سیراب کیا جاتا ہوں اس لیے کہ میں نے (حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی پیدائش کی خوشی میں) ثُـوَ یْبَہ کو آزاد کیا تھا۔[1]

شرحِ حدیث: امام قسطلانی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں :ابنِ جَزری نے کہا: شبِ میلاد کی خوشی کی وجہ سے جب ابولہب جیسے کافر کا یہ حال ہے کہ اسکے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے حالانکہ ابولہب ایسا کافر ہے جس کی مذمّت میں قرآن نازل ہوا تو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے اُمّتی مومن و مُوَحِّد کا کیا حال ہوگا جو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی محبت کی وجہ سے اپنی قدرت اور طاقت کے مُوافِق خرچ کرتا ہے۔ قسم ہے میری عُمر کی! اسکی جزا یہی ہے کہاللّٰہ تَعَالٰی اسے اپنے فضلِ عمیم سے جناتِ نعیم میں داخل کرے۔[2]

سوال:کیا حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی ذات کے حوالے سے بھی ولادت کی خوشی منانے کا ثبوت ملتا ہے؟

جواب:جی ہاں!خود نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے اپنی ولادت کی خوشی منائی جیسا کہ امام مسلمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسیّدنا ابو قتادہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کرتے ہیں:رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم سے پیر شریف کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا:فِیْہِ وُلِدْتُ وَفِیْہِ اُنْزِلَ عَلَیَّ اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔[3]

نیز میلاد منانا آج کی ایجاد نہیں مسلمان صدیوں سے میلاد مناتے آئے ہیں ،چُنانچہ ملا علی قاری رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْهِ اور علامہ برہانُ الدین حلبی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْهِ لکھتے ہیں:’’مسلمان تمام مقامات اور بڑے بڑے شہروں میں ہمیشہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی ولادت کے مہینے میں محافل منعقد کرتے رہے ہیں۔[4]

سوال:ولادتِ مبارکہ کی درست تاریخ کیاہے؟

جواب:حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادتِ مبارکہ پیر کے دن ہو ئی ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے اور تاریخِ ولا دت میں اقوال مختلف ہیں ۔ مشہور تاریخ بارہ ربیع الاول ہے ساری دنیا میں اسی تاریخ کو خصوصی اہتمام کے ساتھ جشنِ ولادت منایا جاتا ہے۔

سوال:حضورنبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی ولادتِ مبارکہ کی خوشی میں جلوس نکالنا، چراغاں وغیرہ کرنا کیسا؟

جواب:نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے اس دنیامیں جلوہ فرماہونے کی وجہ سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیر کیلئے جلوس نکالنا ،پرچم لہرانا،اورجلوس میں شرکت کرنااور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق چراغاں اور روشنی کرنا جائز و مستحسن ہے۔

سوال:مسلمان ولادتِ مبارکہ کے موقع پر جلوس کیوں نکالتے ہیں؟

جواب:مسلمان آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی ولادت باسعادت کے موقع پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم وتوقیرکیلئے جلوس نکالتے، خوشیوں کا اظہار کرتے ہیں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم وتوقیر کے لئے جو جائز کام کیا جائے اور اس میں کسی قسم کی خرابی بھی نہ ہو وہ جائز ومستحسن ہے۔ (بنیادی عقائد اور معمولاتِ اہلسنت،حصہ دوم،صفحہ۱۲۴تا۱۲۷)
مکمل تحریر >>

میلاد کہاں لکھا ہے؟؟؟؟* *غور سے پڑھو میلاد یہاں لکھا ہے* *450 کتب کے زبردست حوالہ جات وہ بھی عرب علما کے*

*میلاد کہاں لکھا ہے؟؟؟؟*
*غور سے پڑھو میلاد یہاں لکھا ہے*
*450 کتب کے زبردست  حوالہ جات وہ بھی عرب علما کے*

*نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاول، سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں مناررہےہیں*

اگر کوئی میلادپاک کا انکاری ہو اور اپنی جہالت کی وجہ سے کہے کہ میلاد کہاں سے ثابت ہے 
تو اس بے عقل وجاہل سے کہیں کہ سندھی واردو علماء کی تو کثیر تعداد کتب موجود ہیں لیکن۔۔۔۔!
علماء عرب کی میلاد النبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم 
 پر لکھی جانیوالی تقریبا ساڑھے چارسو (450) سے زیادہ  معروف کتب میں حضور پاک ﷺ  کے میلاد کو نہ صرف جائز لکھا ہے بلکہ میلاد پاک کے فیوض وبرکات بھی بےشمار لکھے ہیں
ان کتابوں سے استفادہ حاضل کریں 
اور گستاخی رسالت ﷺ  دور رہیں
👇👇👇👇👇

* الدر المنظم فی مولد النبی الاعظمﷺ

شیخ ابو العباس احمد اقلیشی (م 550ھ)

* بیان المیلاد النبویﷺ * مولد العروس

شیخ علامہ ابن جوزی (597ھ)

* التنویر فی مولد البشیر النذیرﷺ

شیخ ابن دحیہ کلبی (م 233ھ)

* عرف التعریف بالمولد الشریف

شیخ حافظ شمس الدین جزری (660ھ)

*المورد العذب المعین فی مولد سید الخلق اجمعینﷺ

شیخ ابوبکر جزائری (م 707ھ)

* الطالع السعید الجامع لاسماء نجباء الصعید

شیخ امام کمال الدین الادفوی (748ھ)

*مناسک الحجر المنتقی من سیر مولد المصطفیٰﷺ

شیخ سعید الدین الکازرونی (م 758ھ)

*الدریۃ السنیۃ فی مولد خیر البریۃﷺ

شیخ ابو سعید خلیل بن کیکلدی (761ھ)

* ذکر مولد رسول اﷲﷺ ورضاعہ

شیخ امام عماد الدین بن کثیر (774ھ)

* وسیلۃ النجاۃ

شیخ سلیمان برسوی حنفی

* مولد البرعی

شیخ امام عبدالرحیم برعی (م 803ھ)

* المورد الہنی فی المولد السنی

شیخ حافظ زین الدین عراقی (808ھ)

* میلاد نامہ

شیخ سلیمان برسونی

* النفحۃ العنبریہ فی مولد خیر البریۃ ﷺ

شیخ امام محمد بن یعقوب فیروز آبادی (817ھ)

*جامع الآثار فی مولد النبی المختار * اللفظ الرائق فی مولد خیر الخلائقﷺ * مورد الصادی فی مولد الہادی ﷺ

شیخ امام شمس الدین بن ناصر الدین دمشقی (842ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ عفیف الدین التبریزی (م 855ھ)

* در المنظم فی مولد النبی المعظمﷺ

* اللفظ الجمیل بمولد النبی الجلیلﷺ

شیخ محمد بن فخر الدین (م 867ھ)

* درج الدرر فی میلاد سید البشرﷺ

شیخ سید اصیل الدین ہروی (م 883ھ)

* درج الدرر فی میلاد سید البشر

امام عبداﷲ حسینی شیرازی (م 884ھ)

* المنہل العذب القریر فی مولد الہادی البشیر النذیرﷺ

شیخ علاء الدین المرداوی (م 885ھ)

* فتح اﷲ حسبی وکفی فی مولد المصطفیﷺ

شیخ برہان الدین ابو الصفاء (م 887ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ عمر بن عبدالرحمن باعلوی (م 889ھ)

*الفخر العلوی فی مولد النبویﷺ

امام شمس الدین السخاوی (م 902ھ)

* المورد الہنیۃ فی مولد خیر البریۃ ﷺ

امام نور الدین سمہودی (911ھ)

* حسن المقصد فی عمل المولد

امام جلال الدین سیوطی (911ھ)

* مولود النبویﷺ

عائشہ بنت یوسف باعونیہ (922ھ)

*الکواکب الدریۃ فی مولد خیر البریۃ ﷺ

شیخ ابوبکر بن محمد حلبی (م930ھ)

* مولد النبی ﷺ

شیخ ملا عرب الواعظ (م 938ھ)

* میلاد النبیﷺ

شیخ ابن دیبع الشیبانی (944ھ)

* میلاد نامہ

شیخ عبدالکریم الادرنتوی (م 965ھ)

* تحریر الکلام فی القیام عند ذکر مولد سید الانامﷺ

* تحفۃ الاخیار فی مولد المختارﷺ

* مولد النبیﷺ

* اتمام النعمۃ علی العالم بمولد سید ولد آدمﷺ

امام ابن حجر بیشمی مکی (973ھ)

* مولد النبیﷺ

امام خطیب شربینی (م 977ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ ابو الثناء احمد الحنفی

* المورد الروی فی مولد النبویﷺ

شیخ ملا علی قاری (م 1014ھ)

* مولد المناوی

امام عبدالرؤف المناوی (1031ھ)

* المنتخب المصفی فی اخبار مولد المصطفیٰﷺ

شیخ محی الدین عبدالقادر عید روسی (1038ھ)

*الکواکب المنیر فی مولد البشیر النذیرﷺ

امام علی بن ابراہیم الحلبی (1044ھ)

* مورد الصفی فی مولد المصطفیٰﷺ

امام محمد بن علان صدیقی (1057ھ)

* الجمع الزاہر المنیر فی ذکر مولد البشیر النذیرﷺ

شیخ زین العابدین خلیفتی (م 1130ھ)

* المولد النبویﷺ

* تحفہ ذوی العرفان فی مولد سیدینی عدنانﷺ

امام عبدالغنی بن اسماعیل بن عبدالغنی النابلسی (متوفی 1143ھ)

*مولد النبیﷺ

شیخ جمال الدین بن عقلیہ المکی الظاہر (م 1130ھ)

* میلاد نامہ

شیخ سلیمان نحیفی رومی (م 1151ھ)

* الکلام السنی المصفی فی مولد المصطفیٰﷺ

شیخ یوسف زادہ رومی (1167ھ)

*رسالۃ فی مولد النبیﷺ

شیخ حسن بن علی مدابغی (1170ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ عبداﷲ کاشغری (1174ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ احمد بن عثمان حنفی (1174ھ)

* عقد الجوہر فی مولد النبی الازہرﷺ

امام جعفر بن حسن بن عبدالکریم البرزنجی (متوفی 1177ھ)

* القول المنجی علی مولد البرز نجی

شیخ محمد بن احمد علیش (م 1299ھ)

* الکوکب الانور علی عقد الجوہر

شیخ جعفر بن اسماعیل برزنجی (متوفی 1317ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ سید محمد بن حسین حنفی جعفری (1186ھ)

* میلاد نامہ

شیخ اشرف زادہ برسوی (1202ھ)

* تذکرۃ اہل الخیر فی المولد النبویﷺ

شیخ محمد شاکر عقاد السالمی (م 1202ھ)

* حاشیہ علی مولد النبیﷺ

شیخ عبدالرحمن بن محمد مقری (م 1210ھ)

* میلاد نامہ

شیخ سلامی الازمیری (م 1228ھ)

* الجواہر السنیۃ فی مولد خیر البریۃﷺ

شیخ محمد بن علی شنوانی (م 1233ھ)

* مطالع الانوار فی مولد النبی المختار ﷺ

شیخ عبداﷲ سویدان (م 1234ھ)

* تانیس ارباب الفصا فی مولد المصطفیٰﷺ

شیخ ابن صلاح الامیر (1236ھ)

* مولد النبیﷺ

امام محمد مغربی (م 1240ھ)

* تحفۃ البشیر علی مولد ابن حجر

شیخ ابراہیم بن محمد باجوری (م 1276ھ)

* بلوغ المرام لبیان الفاظ مولد سید الانامﷺ

* عقیدۃ العوام، تحصیل نیل المرام

شیخ سید احمد مرزوقی

* مولد النبیﷺ

شیخ عبدالہادی آبیاری (م 1305ھ)

* سرور الابرار فی مولد النبی المختار ﷺ

شیخ عبدالفتاح بن عبدالقادر دمشقی (1305ھ)

* منظومۃ فی مولد النبیﷺ

شیخ ابراہیم طرابلسی حنفی (1308ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ ہبۃ اﷲ محمد بن عبدالقادر دمشقی (1311ھ)

* بغیۃ العوام فی شرح مولد سید الانام ﷺ

شیخ ابو عبدالمعطی محمد نویر جاوی (م 1315ھ)

* اثبات المحسنات فی تلاوت مولد سید السادات ﷺ

مفتی آدرنہ محمد فوزی رومی (م 1318ھ)

* نثر الدرر علی مولد ابن حجر

شیخ سید احمد بن عبدالغنی دمشقی (م1320ھ)

* الیمن والاسعاد بمولد خیر العبادﷺ

شیخ محمد بن جعفر کتانی (م 1345ھ)

* جواہر النظم البدیع فی مولد النبی الشفیعﷺ

امام یوسف بن اسماعیل نہبانی (1350ھ)

* استحباب القیام عند ذکر ولادتہ علیہ الصلوٰۃ والسلام

شیخ محمود عطار دمشقی ( 1362ھ)

* مختلف مقالہ جات

علامہ محمد زاہد کوثری (م 1371ھ)

* ذکر المولد وخلاصۃ السیرۃ النبویۃ ﷺ

شیخ محمد رشید رضا مصری

* حول الاحتفال بذکر مولد النبی الشریفﷺ

* الاعلام بفتاویٰ ائمۃ الاسلام حولہ مولدہ علیہ الصلوٰۃ والسلام

شیخ محمد بن علوی مالکی (م 1425ھ)

* بعثۃ المصطفیٰ ﷺ فی مولد المصطفیٰﷺ

شیخ عبدالعزیز بن محمد

* بشائر الاخیار فی مولد المختار ﷺ

شیخ سید ماضی ابو العزائم

* مولد النبیﷺ

شیخ سید محمد عثمان میر غنی

* شرح اقتناس الشوارد من موارد الموارد

شیخ محمد بن محمد منصوری شافعی خیاط

* مولد النبیﷺ

شیخ احمد بن قاسم مالکی بخاری حریری

* الانوار فی مولد النبیﷺ

شیخ ابو حسن بکری

* مولد رسول اﷲﷺ

شیخ ابراہیم آبیاری

* المولد النبوی شریفﷺ

شیخ صلاح الدین بواری

* ابتغاء الوصول لحب اﷲ بمدح الرسولﷺ

شیخ ابو محمد ویلتوری

* البنیان المرصوص فی شرح مولد المنقوص

شیخ زین الدین مخدوم فتانی

* المولد النبیﷺ

شیخ عبداﷲ عفیفی

* المولد النبیﷺ

شیخ عبداﷲ حمصی شاذلی

* المولد النبیﷺ

شیخ خالد بن والدی

* المولد النبیﷺ

شیخ محمد وفا صیادی

* المولد النبیﷺ

شیخ محمد محفوظ دمشقی

* المولد الجلیلﷺ

شیخ عبداﷲ بن محمد مناوی

* المولد النبیﷺ

شیخ الحافظ عبدالرحمن بن علی شیبانی

* الحقائق فی قرأۃ مولد النبیﷺ

شیخ سید عبدالقادر اسکندرانی

* المولد العزب

شیخ محمد بن محمد دمیاطی

* المولد النبیﷺ

شیخ محمد ہاشم رفاعی

* المولد فی الاسلام بین البدعۃ والایمان

شیخ محمد ہشام قبانی

* تعریب المتقی فی سیرۃ مولد النبیﷺ

شیخ سعید بن مسعود بن محمد کازرونی

* الابریز الدانی فی مولد سیدنا محمد العدنانیﷺ

* بغیۃ العوام فی شرح مولد سید الانام

شیخ محمد نوری بن عمر بن عربی بن علی نووی

* الجمع الزاہر المنیر فی ذکر مولد البشیرالنذیرﷺ

شیخ زین العابدین محمد عباسی

* الدر المنظم شرح الکنز المطلسم فی مولد النبی المعظمﷺ

شیخ ابو شاکر عبداﷲ شلبی

* الدر النظیم فی مولد النبی الکریمﷺ

شیخ سیف الدین ابو جعفر عمر بن ایوب بن عمر حمیری

* احراز المزیۃ فی مولد النبی خیر البریۃﷺ

شیخ ابو ہاشم عمر شریف نوری

* فتح القدیر فی شرح مولد الدر دیر ﷺ

شیخ بدر الدین یوسف المغربی

* الفوائد البہیۃ فی مولد خیر البریۃﷺ

شیخ ابو الفتوح الحلبی

* مطالع الانوار فی مولد النبی المختارﷺ

شیخ سویدان عبداﷲ بن علی وملجیی

* مورد الصفیٰ فی مولد المصطفیٰﷺ

شیخ ابن علان محمد علی صدیقی مکی

* مولد النبیﷺ

شیخ سید محمد بن خلیل اطرابلسی المعروف قادقجی

* الورد العزب المعین فی مولد سید الخلق اجمعینﷺ

شیخ ابو عبداﷲ محمد بن احمد بن محمد العطار الجزائری

* کتاب الانوار و مفتاح السرور والافکار فی مولد محمدﷺ

شیخ ابوالحسن احمد بن عبداﷲ بکری

* طل الغمامۃ فی مولد سید التہامۃﷺ

شیخ احمد بن علی بن سعید

* المولد الجسمانی والمورد الروحانی

شیخ ابن الشیخ آق شمس الدین حمداﷲ

* الدر الثمین فی مولد سید الاولین والآخرینﷺ

شیخ محمد بن حسن بن محمد بن احمد بن، جمال الدین خلوتی سمنودی

* بلوغ المامول فی الاحتفاء والاحتفال بمولد الرسولﷺ

شیخ عیسٰی بن عبداﷲ بن مانع الحمیری

* مولد انسان الکاملﷺ

شیخ سید محمد بن مختار الشنقیطی

* الہدی التام فی موارد المولد النبی وما اعتید فی من القیامﷺ

علامہ محمد علی بن حسین المالکی المکی متوفی 1367ھ

* سمط الدرر فی اخبار مولد خیر البشیر ومالہ من اخلاق

اوصاف وسیرﷺ

شیخ علی بن محمد بن حسین الحبشی متوفی 1333ھ

* اسعاف ذوی الوفا بمولد النبی المصطفیٰﷺ

شیخ محمد بن محمد بن الطیب التافلاتی المغربی

* اظہار السرور بمولد النبی المسرورﷺ

ابی حامد محمد بن محمد متوفی 1140ھ

*بہجۃ السامعین والناظرین بمولد سید الاولین والاخرینﷺ

شیخ ابی المواہب محمد بن احمد بن علی الغیطی متوفی 981ھ

* التجلیات الحقیۃ فی مولد خیر البریۃﷺ

محمد بن ناصر الدین المغربی الاداوی متوفی 1240ھ

* تحفۃ الاسماع بمولد حسن الاخلاق والطباع

*نظم بمختصر النعمۃ الکبریٰ علی العالم بمولد

سید ولد آدم لابن حجر الہیثمی متوفی 974ھ

* تکلمۃ الدرر المنظم فی مولد النبی المعظمﷺ

احمد بن محمد العزفی متوفی 633ھ

* مختصر شرح مولد السید الاہدل

شیخ محمد حسین بن الصدیق بن البدر حسین بن عبدالرحمن الاہدل متوفی 860ھ

* منحۃ الصفا ونفخۃ الشفا بمولد المصطفیٰﷺ

شیخ مصطفی بن محمد العرضی الشافعی الحلبی ثم الدمشقی

* المنہل الاوفی فی میلاد المصطفیٰﷺ

صالح بن محمد بن محمد الدسوقی الدمشقی الحسینی الشافعی متوفی 1246ھ

* مولد الظمآن فی مولد سید ولد عدنانﷺ

شیخ قطب الدین مصطفی البکری متوفی 1162ھ

* مورد الناہل بمولد النبی الکاملﷺ

قاسم افندی الشافعی القادری الشہیر بالحلاق

* المولد الاکبر فی اصل وجود سید البشیرﷺ

شیخ محمد بن محمد بن علی الداوودی متوفی 1345ھ

* مولد سید الاولین والاخرین وحبیب و خلیل رب العالمینﷺ

شیخ جمال الدین بن محمد بن عمر الحمیری متوفی 930ھ

* المولد العاطر الشریف والسفر الزاہر المنیفﷺ

محمد مرتضیٰ الحسینی

* المولد الکبیرﷺ

محمد العقاد

* مولد النبیﷺ

شیخ ابو عبداﷲ محمد بن عمر بن واقدالسہمی متوفی 207ھ

* مولد النبیﷺ

شیخ ابو عبداﷲ محمد بن عبدالکریم السمان متوفی 1189ھ

* مولد النبیﷺ

صدیق بن عمر خان تلمیذ الشیخ محمد السمان المتوفی 1189ھ

* مولد النبیﷺ

عقیل بن مصطفی العمری

* الورد اللطیف فی المولد الشریف

عبدالسلام بن عبدالرحمن بن مصطفی

* الروض الرحیب بمولد الحبیبﷺ

محمد بن ابراہیم بن محمد مقبل

* موعد الکرام فی مولد النبی علیہ الصلوٰۃ والسلام

شیخ برہان الدین ابراہیم بن عمر

* مولد البشیر النذیر االسراج المنیرﷺ

احمد ابو الوفا الحسینی

* مولد المصطفیٰ العدنانیﷺ

نظم ،لعطیۃ بن ابراہیم الشیبانی متوفی 1311ھ

* المولد الجلیل حسن الشکل الجمیلﷺ

شیخ عبداﷲ بن محمد المناوی الاحمدی الشاذلی

* العلم الاحمدی فی المولد المحمدیﷺ

* مواکب الربیع فی مولد الشفیعﷺ

احمد الحلوانی

* مولد النبوی الشریفﷺ

محمد سعید البانی

* نظم المولد الشریف

حسین السمان

* مختصر سعادۃ العالمین بمولد سید المرسلینﷺ

محمد شاکر بن محمد المصری

* حدیقۃ الندیۃ فی الولادۃ الشریفیۃ المحمدیۃﷺ

سلیمان بن علی عباد

* فضل شہر ربیع الاول وما یتعلق بولادۃ النبیﷺ

محمد بن رجب بن عبدالعال بن موسیٰ بن حجر الشافعی

* البدر التمام فی مولد خیر الانامﷺ

شیخ حسین الجسر

* المولد النبوی المسمی النشاۃ المحمدیۃﷺ

ناصر الرواحی

* المورد الندی فی المولد المحمدیﷺ

عبداﷲ العلمی الحسینی

* مولد النبیﷺ

سید محمد عثمان بن ابن ابی بکر بن عبداﷲ المکی متوفی 1370ھ

* احسن القصص من الروایات المرضیۃ فی مولد واسراء ومعراج الحضرۃ المحمدیۃﷺ

شیخ عبدالمعطی الحجاجی الحسنی الصعیدی

* مولد النبیﷺ

الشیخ حسن کلیب المالکی

* مولد النبیﷺ

شیخ محمد البہانی

* مولد الرسولﷺ

شیخ محمد بن احمد بن جعفر القاضی الدمیاطی

* الابریز الدانی فی مولد سیدنا محمدالعدنانیﷺ

شیخ محمدالنووی

* مولد النبیﷺ

محمد امین بن علی السویدی

* الدرالنظیم فی مولد النبی الکریمﷺ

امام عمر بن ایوب ترکمانی

* القول المبین فی حکم مولد سید المرسلینﷺ

شیخ مفتاح بن صالح

* تاریخ الاحتفال بالمولد النبویﷺ

شیخ حسن سندوبی

* الضیاء الامع بذکر مولد النبی الشافعﷺ

شیخ حبیب عمر بن محمد بن سالم بن حفیظ

* البیان النبوی عن فضل الاحتفال بمولد النبیﷺ

شیخ محمود احمد الزین

* تنبیہ المادح المقلد علی ماکان علیہ سلف تنبتکوفی المولد

شیخ محمود بن محمد ددب تنبتکی

* القول اجلی فی الرد علی منکر مولد النبویﷺ

شیخ ابو ہاشم سید احمد الشریف

* مولد النبیﷺ المسمیٰ الاسرار الربانیہ

دکتور محمد عثمان میر غنی

* مولد النبویﷺ

شیخ غیث بن عبداﷲ غالبی

* اجوبۃ فی شان الاحتفال للمولد النبویﷺ

شیخ محمد فقیہ بن عبداﷲ

علماء عرب کی میلاد النبیﷺ پر لکھی جانیوالی چند معروف کتب

* الدر المنظم فی مولد النبی الاعظمﷺ

شیخ ابو العباس احمد اقلیشی (م 550ھ)

* بیان المیلاد النبویﷺ * مولد العروس

شیخ علامہ ابن جوزی (597ھ)

* التنویر فی مولد البشیر النذیرﷺ

شیخ ابن دحیہ کلبی (م 233ھ)

* عرف التعریف بالمولد الشریف

شیخ حافظ شمس الدین جزری (660ھ)

*المورد العذب المعین فی مولد سید الخلق اجمعینﷺ

شیخ ابوبکر جزائری (م 707ھ)

* الطالع السعید الجامع لاسماء نجباء الصعید

شیخ امام کمال الدین الادفوی (748ھ)

*مناسک الحجر المنتقی من سیر مولد المصطفیٰﷺ

شیخ سعید الدین الکازرونی (م 758ھ)

*الدریۃ السنیۃ فی مولد خیر البریۃﷺ

شیخ ابو سعید خلیل بن کیکلدی (761ھ)

* ذکر مولد رسول اﷲﷺ ورضاعہ

شیخ امام عماد الدین بن کثیر (774ھ)

* وسیلۃ النجاۃ

شیخ سلیمان برسوی حنفی

* مولد البرعی

شیخ امام عبدالرحیم برعی (م 803ھ)

* المورد الہنی فی المولد السنی

شیخ حافظ زین الدین عراقی (808ھ)

* میلاد نامہ

شیخ سلیمان برسونی

* النفحۃ العنبریہ فی مولد خیر البریۃ ﷺ

شیخ امام محمد بن یعقوب فیروز آبادی (817ھ)

*جامع الآثار فی مولد النبی المختار * اللفظ الرائق فی مولد خیر الخلائقﷺ * مورد الصادی فی مولد الہادی ﷺ

شیخ امام شمس الدین بن ناصر الدین دمشقی (842ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ عفیف الدین التبریزی (م 855ھ)

* در المنظم فی مولد النبی المعظمﷺ

* اللفظ الجمیل بمولد النبی الجلیلﷺ

شیخ محمد بن فخر الدین (م 867ھ)

* درج الدرر فی میلاد سید البشرﷺ

شیخ سید اصیل الدین ہروی (م 883ھ)

* درج الدرر فی میلاد سید البشر

امام عبداﷲ حسینی شیرازی (م 884ھ)

* المنہل العذب القریر فی مولد الہادی البشیر النذیرﷺ

شیخ علاء الدین المرداوی (م 885ھ)

* فتح اﷲ حسبی وکفی فی مولد المصطفیﷺ

شیخ برہان الدین ابو الصفاء (م 887ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ عمر بن عبدالرحمن باعلوی (م 889ھ)

*الفخر العلوی فی مولد النبویﷺ

امام شمس الدین السخاوی (م 902ھ)

* المورد الہنیۃ فی مولد خیر البریۃ ﷺ

امام نور الدین سمہودی (911ھ)

* حسن المقصد فی عمل المولد

امام جلال الدین سیوطی (911ھ)

* مولود النبویﷺ

عائشہ بنت یوسف باعونیہ (922ھ)

*الکواکب الدریۃ فی مولد خیر البریۃ ﷺ

شیخ ابوبکر بن محمد حلبی (م930ھ)

* مولد النبی ﷺ

شیخ ملا عرب الواعظ (م 938ھ)

* میلاد النبیﷺ

شیخ ابن دیبع الشیبانی (944ھ)

* میلاد نامہ

شیخ عبدالکریم الادرنتوی (م 965ھ)

* تحریر الکلام فی القیام عند ذکر مولد سید الانامﷺ

* تحفۃ الاخیار فی مولد المختارﷺ

* مولد النبیﷺ

* اتمام النعمۃ علی العالم بمولد سید ولد آدمﷺ

امام ابن حجر بیشمی مکی (973ھ)

* مولد النبیﷺ

امام خطیب شربینی (م 977ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ ابو الثناء احمد الحنفی

* المورد الروی فی مولد النبویﷺ

شیخ ملا علی قاری (م 1014ھ)

* مولد المناوی

امام عبدالرؤف المناوی (1031ھ)

* المنتخب المصفی فی اخبار مولد المصطفیٰﷺ

شیخ محی الدین عبدالقادر عید روسی (1038ھ)

*الکواکب المنیر فی مولد البشیر النذیرﷺ

امام علی بن ابراہیم الحلبی (1044ھ)

* مورد الصفی فی مولد المصطفیٰﷺ

امام محمد بن علان صدیقی (1057ھ)

* الجمع الزاہر المنیر فی ذکر مولد البشیر النذیرﷺ

شیخ زین العابدین خلیفتی (م 1130ھ)

* المولد النبویﷺ

* تحفہ ذوی العرفان فی مولد سیدینی عدنانﷺ

امام عبدالغنی بن اسماعیل بن عبدالغنی النابلسی (متوفی 1143ھ)

*مولد النبیﷺ

شیخ جمال الدین بن عقلیہ المکی الظاہر (م 1130ھ)

* میلاد نامہ

شیخ سلیمان نحیفی رومی (م 1151ھ)

* الکلام السنی المصفی فی مولد المصطفیٰﷺ

شیخ یوسف زادہ رومی (1167ھ)

*رسالۃ فی مولد النبیﷺ

شیخ حسن بن علی مدابغی (1170ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ عبداﷲ کاشغری (1174ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ احمد بن عثمان حنفی (1174ھ)

* عقد الجوہر فی مولد النبی الازہرﷺ

امام جعفر بن حسن بن عبدالکریم البرزنجی (متوفی 1177ھ)

* القول المنجی علی مولد البرز نجی

شیخ محمد بن احمد علیش (م 1299ھ)

* الکوکب الانور علی عقد الجوہر

شیخ جعفر بن اسماعیل برزنجی (متوفی 1317ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ سید محمد بن حسین حنفی جعفری (1186ھ)

* میلاد نامہ

شیخ اشرف زادہ برسوی (1202ھ)

* تذکرۃ اہل الخیر فی المولد النبویﷺ

شیخ محمد شاکر عقاد السالمی (م 1202ھ)

* حاشیہ علی مولد النبیﷺ

شیخ عبدالرحمن بن محمد مقری (م 1210ھ)

* میلاد نامہ

شیخ سلامی الازمیری (م 1228ھ)

* الجواہر السنیۃ فی مولد خیر البریۃﷺ

شیخ محمد بن علی شنوانی (م 1233ھ)

* مطالع الانوار فی مولد النبی المختار ﷺ

شیخ عبداﷲ سویدان (م 1234ھ)

* تانیس ارباب الفصا فی مولد المصطفیٰﷺ

شیخ ابن صلاح الامیر (1236ھ)

* مولد النبیﷺ

امام محمد مغربی (م 1240ھ)

* تحفۃ البشیر علی مولد ابن حجر

شیخ ابراہیم بن محمد باجوری (م 1276ھ)

* بلوغ المرام لبیان الفاظ مولد سید الانامﷺ

* عقیدۃ العوام، تحصیل نیل المرام

شیخ سید احمد مرزوقی

* مولد النبیﷺ

شیخ عبدالہادی آبیاری (م 1305ھ)

* سرور الابرار فی مولد النبی المختار ﷺ

شیخ عبدالفتاح بن عبدالقادر دمشقی (1305ھ)

* منظومۃ فی مولد النبیﷺ

شیخ ابراہیم طرابلسی حنفی (1308ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ ہبۃ اﷲ محمد بن عبدالقادر دمشقی (1311ھ)

* بغیۃ العوام فی شرح مولد سید الانام ﷺ

شیخ ابو عبدالمعطی محمد نویر جاوی (م 1315ھ)

* اثبات المحسنات فی تلاوت مولد سید السادات ﷺ

مفتی آدرنہ محمد فوزی رومی (م 1318ھ)

* نثر الدرر علی مولد ابن حجر

شیخ سید احمد بن عبدالغنی دمشقی (م1320ھ)

* الیمن والاسعاد بمولد خیر العبادﷺ

شیخ محمد بن جعفر کتانی (م 1345ھ)

* جواہر النظم البدیع فی مولد النبی الشفیعﷺ

امام یوسف بن اسماعیل نہبانی (1350ھ)

* استحباب القیام عند ذکر ولادتہ علیہ الصلوٰۃ والسلام

شیخ محمود عطار دمشقی ( 1362ھ)

* مختلف مقالہ جات

علامہ محمد زاہد کوثری (م 1371ھ)

* ذکر المولد وخلاصۃ السیرۃ النبویۃ ﷺ

شیخ محمد رشید رضا مصری

* حول الاحتفال بذکر مولد النبی الشریفﷺ

* الاعلام بفتاویٰ ائمۃ الاسلام حولہ مولدہ علیہ الصلوٰۃ والسلام

شیخ محمد بن علوی مالکی (م 1425ھ)

* بعثۃ المصطفیٰ ﷺ فی مولد المصطفیٰﷺ

شیخ عبدالعزیز بن محمد

* بشائر الاخیار فی مولد المختار ﷺ

شیخ سید ماضی ابو العزائم

* مولد النبیﷺ

شیخ سید محمد عثمان میر غنی

* شرح اقتناس الشوارد من موارد الموارد

شیخ محمد بن محمد منصوری شافعی خیاط

* مولد النبیﷺ

شیخ احمد بن قاسم مالکی بخاری حریری

* الانوار فی مولد النبیﷺ

شیخ ابو حسن بکری

* مولد رسول اﷲﷺ

شیخ ابراہیم آبیاری

* المولد النبوی شریفﷺ

شیخ صلاح الدین بواری

* ابتغاء الوصول لحب اﷲ بمدح الرسولﷺ

شیخ ابو محمد ویلتوری

* البنیان المرصوص فی شرح مولد المنقوص

شیخ زین الدین مخدوم فتانی

* المولد النبیﷺ

شیخ عبداﷲ عفیفی

* المولد النبیﷺ

شیخ عبداﷲ حمصی شاذلی

* المولد النبیﷺ

شیخ خالد بن والدی

* المولد النبیﷺ

شیخ محمد وفا صیادی

* المولد النبیﷺ

شیخ محمد محفوظ دمشقی

* المولد الجلیلﷺ

شیخ عبداﷲ بن محمد مناوی

* المولد النبیﷺ

شیخ الحافظ عبدالرحمن بن علی شیبانی

* الحقائق فی قرأۃ مولد النبیﷺ

شیخ سید عبدالقادر اسکندرانی

* المولد العزب

شیخ محمد بن محمد دمیاطی

* المولد النبیﷺ

شیخ محمد ہاشم رفاعی

* المولد فی الاسلام بین البدعۃ والایمان

شیخ محمد ہشام قبانی

* تعریب المتقی فی سیرۃ مولد النبیﷺ

شیخ سعید بن مسعود بن محمد کازرونی

* الابریز الدانی فی مولد سیدنا محمد العدنانیﷺ

* بغیۃ العوام فی شرح مولد سید الانام

شیخ محمد نوری بن عمر بن عربی بن علی نووی

* الجمع الزاہر المنیر فی ذکر مولد البشیرالنذیرﷺ

شیخ زین العابدین محمد عباسی

* الدر المنظم شرح الکنز المطلسم فی مولد النبی المعظمﷺ

شیخ ابو شاکر عبداﷲ شلبی

* الدر النظیم فی مولد النبی الکریمﷺ

شیخ سیف الدین ابو جعفر عمر بن ایوب بن عمر حمیری

* احراز المزیۃ فی مولد النبی خیر البریۃﷺ

شیخ ابو ہاشم عمر شریف نوری

* فتح القدیر فی شرح مولد الدر دیر ﷺ

شیخ بدر الدین یوسف المغربی

* الفوائد البہیۃ فی مولد خیر البریۃﷺ

شیخ ابو الفتوح الحلبی

* مطالع الانوار فی مولد النبی المختارﷺ

شیخ سویدان عبداﷲ بن علی وملجیی

* مورد الصفیٰ فی مولد المصطفیٰﷺ

شیخ ابن علان محمد علی صدیقی مکی

* مولد النبیﷺ

شیخ سید محمد بن خلیل اطرابلسی المعروف قادقجی

* الورد العزب المعین فی مولد سید الخلق اجمعینﷺ

شیخ ابو عبداﷲ محمد بن احمد بن محمد العطار الجزائری

* کتاب الانوار و مفتاح السرور والافکار فی مولد محمدﷺ

شیخ ابوالحسن احمد بن عبداﷲ بکری

* طل الغمامۃ فی مولد سید التہامۃﷺ

شیخ احمد بن علی بن سعید

* المولد الجسمانی والمورد الروحانی

شیخ ابن الشیخ آق شمس الدین حمداﷲ

* الدر الثمین فی مولد سید الاولین والآخرینﷺ

شیخ محمد بن حسن بن محمد بن احمد بن، جمال الدین خلوتی سمنودی

* بلوغ المامول فی الاحتفاء والاحتفال بمولد الرسولﷺ

شیخ عیسٰی بن عبداﷲ بن مانع الحمیری

* مولد انسان الکاملﷺ

شیخ سید محمد بن مختار الشنقیطی

* الہدی التام فی موارد المولد النبی وما اعتید فی من القیامﷺ

علامہ محمد علی بن حسین المالکی المکی متوفی 1367ھ

* سمط الدرر فی اخبار مولد خیر البشیر ومالہ من اخلاق

اوصاف وسیرﷺ

شیخ علی بن محمد بن حسین الحبشی متوفی 1333ھ

* اسعاف ذوی الوفا بمولد النبی المصطفیٰﷺ

شیخ محمد بن محمد بن الطیب التافلاتی المغربی

* اظہار السرور بمولد النبی المسرورﷺ

ابی حامد محمد بن محمد متوفی 1140ھ

*بہجۃ السامعین والناظرین بمولد سید الاولین والاخرینﷺ

شیخ ابی المواہب محمد بن احمد بن علی الغیطی متوفی 981ھ

* التجلیات الحقیۃ فی مولد خیر البریۃﷺ

محمد بن ناصر الدین المغربی الاداوی متوفی 1240ھ

* تحفۃ الاسماع بمولد حسن الاخلاق والطباع

*نظم بمختصر النعمۃ الکبریٰ علی العالم بمولد

سید ولد آدم لابن حجر الہیثمی متوفی 974ھ

* تکلمۃ الدرر المنظم فی مولد النبی المعظمﷺ

احمد بن محمد العزفی متوفی 633ھ

* مختصر شرح مولد السید الاہدل

شیخ محمد حسین بن الصدیق بن البدر حسین بن عبدالرحمن الاہدل متوفی 860ھ

* منحۃ الصفا ونفخۃ الشفا بمولد المصطفیٰﷺ

شیخ مصطفی بن محمد العرضی الشافعی الحلبی ثم الدمشقی

* المنہل الاوفی فی میلاد المصطفیٰﷺ

صالح بن محمد بن محمد الدسوقی الدمشقی الحسینی الشافعی متوفی 1246ھ

* مولد الظمآن فی مولد سید ولد عدنانﷺ

شیخ قطب الدین مصطفی البکری متوفی 1162ھ

* مورد الناہل بمولد النبی الکاملﷺ

قاسم افندی الشافعی القادری الشہیر بالحلاق

* المولد الاکبر فی اصل وجود سید البشیرﷺ

شیخ محمد بن محمد بن علی الداوودی متوفی 1345ھ

* مولد سید الاولین والاخرین وحبیب و خلیل رب العالمینﷺ

شیخ جمال الدین بن محمد بن عمر الحمیری متوفی 930ھ

* المولد العاطر الشریف والسفر الزاہر المنیفﷺ

محمد مرتضیٰ الحسینی

* المولد الکبیرﷺ

محمد العقاد

* مولد النبیﷺ

شیخ ابو عبداﷲ محمد بن عمر بن واقدالسہمی متوفی 207ھ

* مولد النبیﷺ

شیخ ابو عبداﷲ محمد بن عبدالکریم السمان متوفی 1189ھ

* مولد النبیﷺ

صدیق بن عمر خان تلمیذ الشیخ محمد السمان المتوفی 1189ھ

* مولد النبیﷺ

عقیل بن مصطفی العمری

* الورد اللطیف فی المولد الشریف

عبدالسلام بن عبدالرحمن بن مصطفی

* الروض الرحیب بمولد الحبیبﷺ

محمد بن ابراہیم بن محمد مقبل

* موعد الکرام فی مولد النبی علیہ الصلوٰۃ والسلام

شیخ برہان الدین ابراہیم بن عمر

* مولد البشیر النذیر االسراج المنیرﷺ

احمد ابو الوفا الحسینی

* مولد المصطفیٰ العدنانیﷺ

نظم ،لعطیۃ بن ابراہیم الشیبانی متوفی 1311ھ

* المولد الجلیل حسن الشکل الجمیلﷺ

شیخ عبداﷲ بن محمد المناوی الاحمدی الشاذلی

* العلم الاحمدی فی المولد المحمدیﷺ

* مواکب الربیع فی مولد الشفیعﷺ

احمد الحلوانی

* مولد النبوی الشریفﷺ

محمد سعید البانی

* نظم المولد الشریف

حسین السمان

* مختصر سعادۃ العالمین بمولد سید المرسلینﷺ

محمد شاکر بن محمد المصری

* حدیقۃ الندیۃ فی الولادۃ الشریفیۃ المحمدیۃﷺ

سلیمان بن علی عباد

* فضل شہر ربیع الاول وما یتعلق بولادۃ النبیﷺ

محمد بن رجب بن عبدالعال بن موسیٰ بن حجر الشافعی

* البدر التمام فی مولد خیر الانامﷺ

شیخ حسین الجسر

* المولد النبوی المسمی النشاۃ المحمدیۃﷺ

ناصر الرواحی

* المورد الندی فی المولد المحمدیﷺ

عبداﷲ العلمی الحسینی

* مولد النبیﷺ

سید محمد عثمان بن ابن ابی بکر بن عبداﷲ المکی متوفی 1370ھ

* احسن القصص من الروایات المرضیۃ فی مولد واسراء ومعراج الحضرۃ المحمدیۃﷺ

شیخ عبدالمعطی الحجاجی الحسنی الصعیدی

* مولد النبیﷺ

الشیخ حسن کلیب المالکی

* مولد النبیﷺ

شیخ محمد البہانی

* مولد الرسولﷺ

شیخ محمد بن احمد بن جعفر القاضی الدمیاطی

* الابریز الدانی فی مولد سیدنا محمدالعدنانیﷺ

شیخ محمدالنووی

* مولد النبیﷺ

محمد امین بن علی السویدی

* الدرالنظیم فی مولد النبی الکریمﷺ

امام عمر بن ایوب ترکمانی

* القول المبین فی حکم مولد سید المرسلینﷺ

شیخ مفتاح بن صالح

* تاریخ الاحتفال بالمولد النبویﷺ

شیخ حسن سندوبی

* الضیاء الامع بذکر مولد النبی الشافعﷺ

شیخ حبیب عمر بن محمد بن سالم بن حفیظ

* البیان النبوی عن فضل الاحتفال بمولد النبیﷺ

شیخ محمود احمد الزین

* تنبیہ المادح المقلد علی ماکان علیہ سلف تنبتکوفی المولد

شیخ محمود بن محمد ددب تنبتکی

* القول اجلی فی الرد علی منکر مولد النبویﷺ

شیخ ابو ہاشم سید احمد الشریف

* مولد النبیﷺ المسمیٰ الاسرار الربانیہ

دکتور محمد عثمان میر غنی

* مولد النبویﷺ

شیخ غیث بن عبداﷲ غالبی

* اجوبۃ فی شان الاحتفال للمولد النبویﷺ

شیخ محمد فقیہ بن عبداﷲ

اگے نشر کرےعلماء عرب کی میلاد النبیﷺ پر لکھی جانیوالی چند معروف کتب

* الدر المنظم فی مولد النبی الاعظمﷺ

شیخ ابو العباس احمد اقلیشی (م 550ھ)

* بیان المیلاد النبویﷺ * مولد العروس

شیخ علامہ ابن جوزی (597ھ)

* التنویر فی مولد البشیر النذیرﷺ

شیخ ابن دحیہ کلبی (م 233ھ)

* عرف التعریف بالمولد الشریف

شیخ حافظ شمس الدین جزری (660ھ)

*المورد العذب المعین فی مولد سید الخلق اجمعینﷺ

شیخ ابوبکر جزائری (م 707ھ)

* الطالع السعید الجامع لاسماء نجباء الصعید

شیخ امام کمال الدین الادفوی (748ھ)

*مناسک الحجر المنتقی من سیر مولد المصطفیٰﷺ

شیخ سعید الدین الکازرونی (م 758ھ)

*الدریۃ السنیۃ فی مولد خیر البریۃﷺ

شیخ ابو سعید خلیل بن کیکلدی (761ھ)

* ذکر مولد رسول اﷲﷺ ورضاعہ

شیخ امام عماد الدین بن کثیر (774ھ)

* وسیلۃ النجاۃ

شیخ سلیمان برسوی حنفی

* مولد البرعی

شیخ امام عبدالرحیم برعی (م 803ھ)

* المورد الہنی فی المولد السنی

شیخ حافظ زین الدین عراقی (808ھ)

* میلاد نامہ

شیخ سلیمان برسونی

* النفحۃ العنبریہ فی مولد خیر البریۃ ﷺ

شیخ امام محمد بن یعقوب فیروز آبادی (817ھ)

*جامع الآثار فی مولد النبی المختار * اللفظ الرائق فی مولد خیر الخلائقﷺ * مورد الصادی فی مولد الہادی ﷺ

شیخ امام شمس الدین بن ناصر الدین دمشقی (842ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ عفیف الدین التبریزی (م 855ھ)

* در المنظم فی مولد النبی المعظمﷺ

* اللفظ الجمیل بمولد النبی الجلیلﷺ

شیخ محمد بن فخر الدین (م 867ھ)

* درج الدرر فی میلاد سید البشرﷺ

شیخ سید اصیل الدین ہروی (م 883ھ)

* درج الدرر فی میلاد سید البشر

امام عبداﷲ حسینی شیرازی (م 884ھ)

* المنہل العذب القریر فی مولد الہادی البشیر النذیرﷺ

شیخ علاء الدین المرداوی (م 885ھ)

* فتح اﷲ حسبی وکفی فی مولد المصطفیﷺ

شیخ برہان الدین ابو الصفاء (م 887ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ عمر بن عبدالرحمن باعلوی (م 889ھ)

*الفخر العلوی فی مولد النبویﷺ

امام شمس الدین السخاوی (م 902ھ)

* المورد الہنیۃ فی مولد خیر البریۃ ﷺ

امام نور الدین سمہودی (911ھ)

* حسن المقصد فی عمل المولد

امام جلال الدین سیوطی (911ھ)

* مولود النبویﷺ

عائشہ بنت یوسف باعونیہ (922ھ)

*الکواکب الدریۃ فی مولد خیر البریۃ ﷺ

شیخ ابوبکر بن محمد حلبی (م930ھ)

* مولد النبی ﷺ

شیخ ملا عرب الواعظ (م 938ھ)

* میلاد النبیﷺ

شیخ ابن دیبع الشیبانی (944ھ)

* میلاد نامہ

شیخ عبدالکریم الادرنتوی (م 965ھ)

* تحریر الکلام فی القیام عند ذکر مولد سید الانامﷺ

* تحفۃ الاخیار فی مولد المختارﷺ

* مولد النبیﷺ

* اتمام النعمۃ علی العالم بمولد سید ولد آدمﷺ

امام ابن حجر بیشمی مکی (973ھ)

* مولد النبیﷺ

امام خطیب شربینی (م 977ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ ابو الثناء احمد الحنفی

* المورد الروی فی مولد النبویﷺ

شیخ ملا علی قاری (م 1014ھ)

* مولد المناوی

امام عبدالرؤف المناوی (1031ھ)

* المنتخب المصفی فی اخبار مولد المصطفیٰﷺ

شیخ محی الدین عبدالقادر عید روسی (1038ھ)

*الکواکب المنیر فی مولد البشیر النذیرﷺ

امام علی بن ابراہیم الحلبی (1044ھ)

* مورد الصفی فی مولد المصطفیٰﷺ

امام محمد بن علان صدیقی (1057ھ)

* الجمع الزاہر المنیر فی ذکر مولد البشیر النذیرﷺ

شیخ زین العابدین خلیفتی (م 1130ھ)

* المولد النبویﷺ

* تحفہ ذوی العرفان فی مولد سیدینی عدنانﷺ

امام عبدالغنی بن اسماعیل بن عبدالغنی النابلسی (متوفی 1143ھ)

*مولد النبیﷺ

شیخ جمال الدین بن عقلیہ المکی الظاہر (م 1130ھ)

* میلاد نامہ

شیخ سلیمان نحیفی رومی (م 1151ھ)

* الکلام السنی المصفی فی مولد المصطفیٰﷺ

شیخ یوسف زادہ رومی (1167ھ)

*رسالۃ فی مولد النبیﷺ

شیخ حسن بن علی مدابغی (1170ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ عبداﷲ کاشغری (1174ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ احمد بن عثمان حنفی (1174ھ)

* عقد الجوہر فی مولد النبی الازہرﷺ

امام جعفر بن حسن بن عبدالکریم البرزنجی (متوفی 1177ھ)

* القول المنجی علی مولد البرز نجی

شیخ محمد بن احمد علیش (م 1299ھ)

* الکوکب الانور علی عقد الجوہر

شیخ جعفر بن اسماعیل برزنجی (متوفی 1317ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ سید محمد بن حسین حنفی جعفری (1186ھ)

* میلاد نامہ

شیخ اشرف زادہ برسوی (1202ھ)

* تذکرۃ اہل الخیر فی المولد النبویﷺ

شیخ محمد شاکر عقاد السالمی (م 1202ھ)

* حاشیہ علی مولد النبیﷺ

شیخ عبدالرحمن بن محمد مقری (م 1210ھ)

* میلاد نامہ

شیخ سلامی الازمیری (م 1228ھ)

* الجواہر السنیۃ فی مولد خیر البریۃﷺ

شیخ محمد بن علی شنوانی (م 1233ھ)

* مطالع الانوار فی مولد النبی المختار ﷺ

شیخ عبداﷲ سویدان (م 1234ھ)

* تانیس ارباب الفصا فی مولد المصطفیٰﷺ

شیخ ابن صلاح الامیر (1236ھ)

* مولد النبیﷺ

امام محمد مغربی (م 1240ھ)

* تحفۃ البشیر علی مولد ابن حجر

شیخ ابراہیم بن محمد باجوری (م 1276ھ)

* بلوغ المرام لبیان الفاظ مولد سید الانامﷺ

* عقیدۃ العوام، تحصیل نیل المرام

شیخ سید احمد مرزوقی

* مولد النبیﷺ

شیخ عبدالہادی آبیاری (م 1305ھ)

* سرور الابرار فی مولد النبی المختار ﷺ

شیخ عبدالفتاح بن عبدالقادر دمشقی (1305ھ)

* منظومۃ فی مولد النبیﷺ

شیخ ابراہیم طرابلسی حنفی (1308ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ ہبۃ اﷲ محمد بن عبدالقادر دمشقی (1311ھ)

* بغیۃ العوام فی شرح مولد سید الانام ﷺ

شیخ ابو عبدالمعطی محمد نویر جاوی (م 1315ھ)

* اثبات المحسنات فی تلاوت مولد سید السادات ﷺ

مفتی آدرنہ محمد فوزی رومی (م 1318ھ)

* نثر الدرر علی مولد ابن حجر

شیخ سید احمد بن عبدالغنی دمشقی (م1320ھ)

* الیمن والاسعاد بمولد خیر العبادﷺ

شیخ محمد بن جعفر کتانی (م 1345ھ)

* جواہر النظم البدیع فی مولد النبی الشفیعﷺ

امام یوسف بن اسماعیل نہبانی (1350ھ)

* استحباب القیام عند ذکر ولادتہ علیہ الصلوٰۃ والسلام

شیخ محمود عطار دمشقی ( 1362ھ)

* مختلف مقالہ جات

علامہ محمد زاہد کوثری (م 1371ھ)

* ذکر المولد وخلاصۃ السیرۃ النبویۃ ﷺ

شیخ محمد رشید رضا مصری

* حول الاحتفال بذکر مولد النبی الشریفﷺ

* الاعلام بفتاویٰ ائمۃ الاسلام حولہ مولدہ علیہ الصلوٰۃ والسلام

شیخ محمد بن علوی مالکی (م 1425ھ)

* بعثۃ المصطفیٰ ﷺ فی مولد المصطفیٰﷺ

شیخ عبدالعزیز بن محمد

* بشائر الاخیار فی مولد المختار ﷺ

شیخ سید ماضی ابو العزائم

* مولد النبیﷺ

شیخ سید محمد عثمان میر غنی

* شرح اقتناس الشوارد من موارد الموارد

شیخ محمد بن محمد منصوری شافعی خیاط

* مولد النبیﷺ

شیخ احمد بن قاسم مالکی بخاری حریری

* الانوار فی مولد النبیﷺ

شیخ ابو حسن بکری

* مولد رسول اﷲﷺ

شیخ ابراہیم آبیاری

* المولد النبوی شریفﷺ

شیخ صلاح الدین بواری

* ابتغاء الوصول لحب اﷲ بمدح الرسولﷺ

شیخ ابو محمد ویلتوری

* البنیان المرصوص فی شرح مولد المنقوص

شیخ زین الدین مخدوم فتانی

* المولد النبیﷺ

شیخ عبداﷲ عفیفی

* المولد النبیﷺ

شیخ عبداﷲ حمصی شاذلی

* المولد النبیﷺ

شیخ خالد بن والدی

* المولد النبیﷺ

شیخ محمد وفا صیادی

* المولد النبیﷺ

شیخ محمد محفوظ دمشقی

* المولد الجلیلﷺ

شیخ عبداﷲ بن محمد مناوی

* المولد النبیﷺ

شیخ الحافظ عبدالرحمن بن علی شیبانی

* الحقائق فی قرأۃ مولد النبیﷺ

شیخ سید عبدالقادر اسکندرانی

* المولد العزب

شیخ محمد بن محمد دمیاطی

* المولد النبیﷺ

شیخ محمد ہاشم رفاعی

* المولد فی الاسلام بین البدعۃ والایمان

شیخ محمد ہشام قبانی

* تعریب المتقی فی سیرۃ مولد النبیﷺ

شیخ سعید بن مسعود بن محمد کازرونی

* الابریز الدانی فی مولد سیدنا محمد العدنانیﷺ

* بغیۃ العوام فی شرح مولد سید الانام

شیخ محمد نوری بن عمر بن عربی بن علی نووی

* الجمع الزاہر المنیر فی ذکر مولد البشیرالنذیرﷺ

شیخ زین العابدین محمد عباسی

* الدر المنظم شرح الکنز المطلسم فی مولد النبی المعظمﷺ

شیخ ابو شاکر عبداﷲ شلبی

* الدر النظیم فی مولد النبی الکریمﷺ

شیخ سیف الدین ابو جعفر عمر بن ایوب بن عمر حمیری

* احراز المزیۃ فی مولد النبی خیر البریۃﷺ

شیخ ابو ہاشم عمر شریف نوری

* فتح القدیر فی شرح مولد الدر دیر ﷺ

شیخ بدر الدین یوسف المغربی

* الفوائد البہیۃ فی مولد خیر البریۃﷺ

شیخ ابو الفتوح الحلبی

* مطالع الانوار فی مولد النبی المختارﷺ

شیخ سویدان عبداﷲ بن علی وملجیی

* مورد الصفیٰ فی مولد المصطفیٰﷺ

شیخ ابن علان محمد علی صدیقی مکی

* مولد النبیﷺ

شیخ سید محمد بن خلیل اطرابلسی المعروف قادقجی

* الورد العزب المعین فی مولد سید الخلق اجمعینﷺ

شیخ ابو عبداﷲ محمد بن احمد بن محمد العطار الجزائری

* کتاب الانوار و مفتاح السرور والافکار فی مولد محمدﷺ

شیخ ابوالحسن احمد بن عبداﷲ بکری

* طل الغمامۃ فی مولد سید التہامۃﷺ

شیخ احمد بن علی بن سعید

* المولد الجسمانی والمورد الروحانی

شیخ ابن الشیخ آق شمس الدین حمداﷲ

* الدر الثمین فی مولد سید الاولین والآخرینﷺ

شیخ محمد بن حسن بن محمد بن احمد بن، جمال الدین خلوتی سمنودی

* بلوغ المامول فی الاحتفاء والاحتفال بمولد الرسولﷺ

شیخ عیسٰی بن عبداﷲ بن مانع الحمیری

* مولد انسان الکاملﷺ

شیخ سید محمد بن مختار الشنقیطی

* الہدی التام فی موارد المولد النبی وما اعتید فی من القیامﷺ

علامہ محمد علی بن حسین المالکی المکی متوفی 1367ھ

* سمط الدرر فی اخبار مولد خیر البشیر ومالہ من اخلاق

اوصاف وسیرﷺ

شیخ علی بن محمد بن حسین الحبشی متوفی 1333ھ

* اسعاف ذوی الوفا بمولد النبی المصطفیٰﷺ

شیخ محمد بن محمد بن الطیب التافلاتی المغربی

* اظہار السرور بمولد النبی المسرورﷺ

ابی حامد محمد بن محمد متوفی 1140ھ

*بہجۃ السامعین والناظرین بمولد سید الاولین والاخرینﷺ

شیخ ابی المواہب محمد بن احمد بن علی الغیطی متوفی 981ھ

* التجلیات الحقیۃ فی مولد خیر البریۃﷺ

محمد بن ناصر الدین المغربی الاداوی متوفی 1240ھ

* تحفۃ الاسماع بمولد حسن الاخلاق والطباع

*نظم بمختصر النعمۃ الکبریٰ علی العالم بمولد

سید ولد آدم لابن حجر الہیثمی متوفی 974ھ

* تکلمۃ الدرر المنظم فی مولد النبی المعظمﷺ

احمد بن محمد العزفی متوفی 633ھ

* مختصر شرح مولد السید الاہدل

شیخ محمد حسین بن الصدیق بن البدر حسین بن عبدالرحمن الاہدل متوفی 860ھ

* منحۃ الصفا ونفخۃ الشفا بمولد المصطفیٰﷺ

شیخ مصطفی بن محمد العرضی الشافعی الحلبی ثم الدمشقی

* المنہل الاوفی فی میلاد المصطفیٰﷺ

صالح بن محمد بن محمد الدسوقی الدمشقی الحسینی الشافعی متوفی 1246ھ

* مولد الظمآن فی مولد سید ولد عدنانﷺ

شیخ قطب الدین مصطفی البکری متوفی 1162ھ

* مورد الناہل بمولد النبی الکاملﷺ

قاسم افندی الشافعی القادری الشہیر بالحلاق

* المولد الاکبر فی اصل وجود سید البشیرﷺ

شیخ محمد بن محمد بن علی الداوودی متوفی 1345ھ

* مولد سید الاولین والاخرین وحبیب و خلیل رب العالمینﷺ

شیخ جمال الدین بن محمد بن عمر الحمیری متوفی 930ھ

* المولد العاطر الشریف والسفر الزاہر المنیفﷺ

محمد مرتضیٰ الحسینی

* المولد الکبیرﷺ

محمد العقاد

* مولد النبیﷺ

شیخ ابو عبداﷲ محمد بن عمر بن واقدالسہمی متوفی 207ھ

* مولد النبیﷺ

شیخ ابو عبداﷲ محمد بن عبدالکریم السمان متوفی 1189ھ

* مولد النبیﷺ

صدیق بن عمر خان تلمیذ الشیخ محمد السمان المتوفی 1189ھ

* مولد النبیﷺ

عقیل بن مصطفی العمری

* الورد اللطیف فی المولد الشریف

عبدالسلام بن عبدالرحمن بن مصطفی

* الروض الرحیب بمولد الحبیبﷺ

محمد بن ابراہیم بن محمد مقبل

* موعد الکرام فی مولد النبی علیہ الصلوٰۃ والسلام

شیخ برہان الدین ابراہیم بن عمر

* مولد البشیر النذیر االسراج المنیرﷺ

احمد ابو الوفا الحسینی

* مولد المصطفیٰ العدنانیﷺ

نظم ،لعطیۃ بن ابراہیم الشیبانی متوفی 1311ھ

* المولد الجلیل حسن الشکل الجمیلﷺ

شیخ عبداﷲ بن محمد المناوی الاحمدی الشاذلی

* العلم الاحمدی فی المولد المحمدیﷺ

* مواکب الربیع فی مولد الشفیعﷺ

احمد الحلوانی

* مولد النبوی الشریفﷺ

محمد سعید البانی

* نظم المولد الشریف

حسین السمان

* مختصر سعادۃ العالمین بمولد سید المرسلینﷺ

محمد شاکر بن محمد المصری

* حدیقۃ الندیۃ فی الولادۃ الشریفیۃ المحمدیۃﷺ

سلیمان بن علی عباد

* فضل شہر ربیع الاول وما یتعلق بولادۃ النبیﷺ

محمد بن رجب بن عبدالعال بن موسیٰ بن حجر الشافعی

* البدر التمام فی مولد خیر الانامﷺ

شیخ حسین الجسر

* المولد النبوی المسمی النشاۃ المحمدیۃﷺ

ناصر الرواحی

* المورد الندی فی المولد المحمدیﷺ

عبداﷲ العلمی الحسینی

* مولد النبیﷺ

سید محمد عثمان بن ابن ابی بکر بن عبداﷲ المکی متوفی 1370ھ

* احسن القصص من الروایات المرضیۃ فی مولد واسراء ومعراج الحضرۃ المحمدیۃﷺ

شیخ عبدالمعطی الحجاجی الحسنی الصعیدی

* مولد النبیﷺ

الشیخ حسن کلیب المالکی

* مولد النبیﷺ

شیخ محمد البہانی

* مولد الرسولﷺ

شیخ محمد بن احمد بن جعفر القاضی الدمیاطی

* الابریز الدانی فی مولد سیدنا محمدالعدنانیﷺ

شیخ محمدالنووی

* مولد النبیﷺ

محمد امین بن علی السویدی

* الدرالنظیم فی مولد النبی الکریمﷺ

امام عمر بن ایوب ترکمانی

* القول المبین فی حکم مولد سید المرسلینﷺ

شیخ مفتاح بن صالح

* تاریخ الاحتفال بالمولد النبویﷺ

شیخ حسن سندوبی

* الضیاء الامع بذکر مولد النبی الشافعﷺ

شیخ حبیب عمر بن محمد بن سالم بن حفیظ

* البیان النبوی عن فضل الاحتفال بمولد النبیﷺ

شیخ محمود احمد الزین

* تنبیہ المادح المقلد علی ماکان علیہ سلف تنبتکوفی المولد

شیخ محمود بن محمد ددب تنبتکی

* القول اجلی فی الرد علی منکر مولد النبویﷺ

شیخ ابو ہاشم سید احمد الشریف

* مولد النبیﷺ المسمیٰ الاسرار الربانیہ

دکتور محمد عثمان میر غنی

* مولد النبویﷺ

شیخ غیث بن عبداﷲ غالبی

* اجوبۃ فی شان الاحتفال للمولد النبویﷺ

شیخ محمد فقیہ بن عبداﷲ

علماء عرب کی میلاد النبیﷺ پر لکھی جانیوالی چند معروف کتب

* الدر المنظم فی مولد النبی الاعظمﷺ

شیخ ابو العباس احمد اقلیشی (م 550ھ)

* بیان المیلاد النبویﷺ * مولد العروس

شیخ علامہ ابن جوزی (597ھ)

* التنویر فی مولد البشیر النذیرﷺ

شیخ ابن دحیہ کلبی (م 233ھ)

* عرف التعریف بالمولد الشریف

شیخ حافظ شمس الدین جزری (660ھ)

*المورد العذب المعین فی مولد سید الخلق اجمعینﷺ

شیخ ابوبکر جزائری (م 707ھ)

* الطالع السعید الجامع لاسماء نجباء الصعید

شیخ امام کمال الدین الادفوی (748ھ)

*مناسک الحجر المنتقی من سیر مولد المصطفیٰﷺ

شیخ سعید الدین الکازرونی (م 758ھ)

*الدریۃ السنیۃ فی مولد خیر البریۃﷺ

شیخ ابو سعید خلیل بن کیکلدی (761ھ)

* ذکر مولد رسول اﷲﷺ ورضاعہ

شیخ امام عماد الدین بن کثیر (774ھ)

* وسیلۃ النجاۃ

شیخ سلیمان برسوی حنفی

* مولد البرعی

شیخ امام عبدالرحیم برعی (م 803ھ)

* المورد الہنی فی المولد السنی

شیخ حافظ زین الدین عراقی (808ھ)

* میلاد نامہ

شیخ سلیمان برسونی

* النفحۃ العنبریہ فی مولد خیر البریۃ ﷺ

شیخ امام محمد بن یعقوب فیروز آبادی (817ھ)

*جامع الآثار فی مولد النبی المختار * اللفظ الرائق فی مولد خیر الخلائقﷺ * مورد الصادی فی مولد الہادی ﷺ

شیخ امام شمس الدین بن ناصر الدین دمشقی (842ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ عفیف الدین التبریزی (م 855ھ)

* در المنظم فی مولد النبی المعظمﷺ

* اللفظ الجمیل بمولد النبی الجلیلﷺ

شیخ محمد بن فخر الدین (م 867ھ)

* درج الدرر فی میلاد سید البشرﷺ

شیخ سید اصیل الدین ہروی (م 883ھ)

* درج الدرر فی میلاد سید البشر

امام عبداﷲ حسینی شیرازی (م 884ھ)

* المنہل العذب القریر فی مولد الہادی البشیر النذیرﷺ

شیخ علاء الدین المرداوی (م 885ھ)

* فتح اﷲ حسبی وکفی فی مولد المصطفیﷺ

شیخ برہان الدین ابو الصفاء (م 887ھ)

* مولد النبیﷺ

شیخ عمر بن عبدالرحمن باعلوی (م 889ھ)

*الفخر العلوی فی مولد النبویﷺ

امام شمس الدین السخاوی (م 902ھ)

* المورد الہنیۃ فی مولد خیر البریۃ ﷺ

امام نور الدین سمہودی (911ھ)

* حسن المقصد فی عمل المولد

امام جلال الدین سیوطی (911ھ)

* مولود النبویﷺ

عائشہ بنت یوسف باعونیہ (922ھ)

*الکواکب الدریۃ فی مولد خیر البریۃ ﷺ

شیخ ابوبکر بن محمد حلبی (م930ھ)

* مولد النبی ﷺ

شیخ ملا عرب الواعظ (م 938ھ)

* میلاد النبیﷺ

شیخ ابن دیبع الشیبانی (944ھ)

* میلاد نامہ

شیخ عبدالکریم الادرنتوی (م 965ھ)

* تحریر الکلام فی القیام عند ذکر مولد سید الانامﷺ

* تحفۃ الاخیار فی مولد المختارﷺ

* مولد النبیﷺ

* اتمام النعمۃ علی العالم
مکمل تحریر >>