Pages

Friday, 30 April 2021

ابو طالب کا ایمان

ابو طالب کا ایمان

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

فلما رأی حرص رسول اللہ ﷺ علیه قال :یا ابن أخي! والله، لو لا مخافة السبة علیك وعلی بني أبیک من بعدي، وأن تظن قریش أني إنما قلتھا جزعا من الموت لقلتھا، لا أقولھا إلا لإسرک بھا، قال: فلما تقارب من أبي طالب الموت قال: نظر العباس إلیه یحرک شفتیه، قال: فأصغی إلیه بأذنه، قال: فقال: یا ابن أخي ! واللہ، لقد قال أخي الکلمة التي أمرته أن یقولھا، قال: فقال رسول اللہ ﷺ : لم أسمع.
"جب ابو طالب نے اپنے( ایمان کے) بارے میں رسول اللہ ﷺ کی حرص دیکھی تو کہا: اے بھتیجے ! اللہ کی قسم، اگر مجھے اپنے بعد آپ اور آپ کے بھائیوں پر طعن و تشنیع کا خطرہ نہ ہوتا، نیز قریش یہ نہ سمجھتے کہ میں نے موت کے ڈر سے یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں کلمہ پڑھ لیتا۔ میں صرف آپ کو خوش کرنے کیلئے ایسا کروں گا۔ پھر جب ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو عباس نے ان کو ہونٹ ہلاتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے اپنا کان لگایا اور (رسول اللہ ﷺ سے ) کہا: اےبھتیجے ! یقیناً میرے بھائی نے وہ بات کہہ دی ہے جس کے کہنے  کا آپ نے اُنہیں حکم دیا تھا۔"

 (السیرۃ لابن ھشام: ۴۱۷/۱، ۴۱۸، المغازي لیونس بن بکیر: ص ۲۳۸، دلائل النبوۃ للبیھقي: ۳۴۶/۲)



سخت ضعیف:  یہ روایت سخت"ضعیف" ہے ،کیونکہ:

٭ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "اس حدیث کی سند کا ایک راوی نا معلوم ہے۔ اس کے برعکس صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو طالب کفر کی حالت میں فوت ہوئے۔" (تاریخ ابن عساکر: ۳۳/۶۶)

٭حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: " ھٰذا إسنادمنقطع ۔۔۔۔"الخ ،  یہ سند منقطع ہے۔۔۔۔۔ (تاریخ الاسلام: ۱۵۱/۲)

٭حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إن في السند مبھما لا یعرف حاله، وھو قول عن بعض أھله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد........ و الخبر عندي ما صح لضعف في سندہ"

اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے، جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے، نیز یہ اُس کے بعض اہل کی بات ہے جو کہ نام اور حالات دونوں میں ابہام ہے۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا

ہے۔۔۔ میرے نزدیک یہ روایت سند کے ضعیف ہونے کی بنا پر صحیح نہیں۔ (البدایة و النھایة لابن کثیر: ۱۲۳/۳ ۔ ۱۲۵)

٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "بسند فیه لم یسم...... و ھذا الحدیث لو کان طریقه صحیحا لعارضه ھذا الحدیث الذی ھو أصح منه فضلا عن أنه لا یصح."

یہ روایت ایسی سند  کے ساتھ مروی ہے جس میں ایک راوی کا نام ہی بیان نہیں کیا گیا.... اس حدیث کی سند اگر صحیح بھی ہو تو یہ اپنے سے زیادہ صحیح حدیث کے معارض ہے۔ اس کا صحیح نہ ہونا مستزاد ہے۔ (فتح الباری لابن حجر: ۱۸۴/۷)

٭علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "في سند ھذا الحدیث مبھم لا یعرف حاله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد."

اس حدیث کی سند میں ایک مبہم راوی ہے جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے۔ نام اور حالات دونوں مجہول ہیں۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا ہے۔ (شرح ابي داؤد للعیني الحنفي: ۱۷۲/۶)



ابو طالب کے  بارے میں صحیح روایات:
٭ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بیان کرتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا (ابو طالب) سے کہا: آپ لا اٰلہ الا اللہ کہہ دیں۔ میں قیامت کے روز اس کلمے کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔ اُنہوں نے جواب دیا:  اگر مجھے قریش طعنہ نہ دیتے کہ موت کی گھبراہٹ نے اسے آمادہ کردیا ہے تو میں یہ کلمہ پڑھ کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کردیتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی: ﴿یقینا جسے آپ چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، البتہ جسے اللہ چاہے ہدایت عطا فرمادیتا ہے۔ القصص: ۵۶﴾  "  (صحیح مسلم: ۲۵)


٭ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: "اے اللہ کے رسول ! کیا آپ نے جو ابو طالب کو کوئی فائدہ دیا ۔ وہ تو آپ کا دفاع کیا کرتے تھے اور آپ کے لیے دوسروں سے غصے ہوجایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ! (میں نے انہیں فائدہ پہنچایا ہے) وہ اب بالائی طبقے میں ہیں۔ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے نچلے حصے میں ہوتے۔" (صحیح البخاری:۳۸۸۳، صحیح مسلم: ۲۰۹)



٭سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "انہوں نے نبیٔ  اکرم ﷺ کو سنا۔ آپ کے پاس آپ کے چچا (ابو طالب) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: شاید کہ اُن کو میری سفارش قیامت کے دن فائدہ دے اور اُن کو جہنم کے بالائی طبقے میں رکھا جائے جہاں عذاب صر ف ٹخنوں تک ہو اور جس سے (صرف) اُن کا دماغ کھولے گا۔" (صحیح البخاری: ۳۸۸۵، صحیح مسلم: ۲۱۰)



٭سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جہنمیوں میں سے سب سے ہلکے عذاب والے شخص ابو طالب ہوں گے۔ وہ آگ کے دو جوتے پہنے ہوں گے جن کی وجہ سے اُن کا دماغ کھول رہا ہوگا۔" (صحیح مسلم: ۲۱۲)



٭خلیفہ راشد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنه بیان کرتے ہیں: "جب میرے والد فوت ہوئے تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: آپ کے چچا فوت ہوگئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جاکر دفنا دیں۔ میں نے عرض کی: یقینا وہ مشرک ہونے کی حالت میں فوت ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جائیں اور انہیں دفنا دیں، لیکن جب تک میرے پاس واپس نہ آئیں کوئی نیا کام نہ کریں۔ میں نے ایسا کیا، پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے غسل کرنے کا حکم فرمایا۔" (مسند الطیالسی: ص ۱۹،ح۱۲۰ وسندہ حسن متصل)

ایک روایت کے الفاظ ہیں: "سیدنا علی رضی اللہ نے عرض کی: آپ کے  گمراہ چچا فوت ہوگئے ہیں۔ ان کو کون دفنائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جائیں اور اپنے والد کو دفنا دیں۔" (مسند الامام احمد: ۹۷/۱، سنن ابی داؤد: ۳۲۱۴، سنن النسائی: ۱۹۰، ۲۰۰۸، واللفظ له، و سندہ حسن)

اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (کما في الاصابة لابن حجر: ۱۱۴/۷) اور امام ابن جارود رحمہما اللہ (۵۵۰) نے "صحیح" قرار دیا ہے۔

یہ حدیث نص قطعی ہے کہ ابو طالب مسلمان نہیں تھے۔ اس پر نبیٔ اکرم ﷺ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ تک نہیں پڑھی۔



٭سیدنا اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا انتہائی واضح بیان ملاحظہ ہو: "عقیل اور طالب دونوں ابو طالب کے وارث بنے تھے، لیکن (ابو طالب کے بیٹے) سیدنا جعفر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے اُن کی وراثت سے کچھ بھی نہیں لیا کیونکہ وہ دونوں مسلمان تھے جبکہ عقیل اور طالب دونوں کافر تھے۔ " (صحیح البخاری: ۱۵۸۸، صحیح مسلم: ۱۶۱۴ مختصراً)

یہ روایت بھی بیّن دلیل ہے کہ ابو طالب کفر کی حالت میں فوت ہوگئے تھے۔ اسی لیے عقیل اور طالب کے برعکس سیدنا جعفر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما  اُن کے وارث  نہیں نے کیونکہ نبیٔ اکرم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "نہ مسلمان کافر کا وارث بن سکتا ہے نہ کافر مسلمان کا۔" (صحیح البخاری: ۶۷۶۴، صحیح مسلم: ۱۶۱۴)

 ابو طالب کے ایمان لائے بغیر فوت ہونے پر رسول اللہ ﷺ کو بہت صدمہ  ہوا تھا۔  وہ یقیناً پوری زندگی اسلام دوست رہے۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے وہ ہمیشہ اپنے دل میں ایک نرم گوشہ رکھتے رہے لیکن اللہ کی مرضی کہ وہ اسلام کی دولت سے سرفراز نہ ہو پائے۔ اس لیے ہم اُن کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھنے کے باوجود دُعاگو نہیں ہوسکتے۔
٭حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ ابو طالب کے کفر پر فوت ہونے کا ذکر نے کے بعد لکھتے ہیں: "اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں مشرکین کے لیے استغفار کرنے سے منع  نہ فرمایا ہوتا تو ہم ابو طالب کیلئے استغفار کرتے اور اُن کیلئے رحم کی دُعا بھی کرتے!" (سیرۃ الرسول لابن کثیر: ۱۳۲/۲)

قرآن پاک اور مفسرین اور عدم ایمان ابو طالب
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے
آیت نمبر1
مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ یَّسْتَغْفِرُوۡا لِلْمُشْرِکِیۡنَ وَلَوْکَانُوۡۤا اُولِیۡ قُرْبٰی مِنۡۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیۡمِ ﴿۱۱۳﴾
*سورہ التوبة ۱۱۳*
امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ اس آیت کا شان نزول ذکر فرماتے ہیں کہ *اس آیت کے نزول کا تعلق نبی علیہ السلام کا اپنے چچا ابو طالب کے لئے استغفار اور بعض صحابہ کا اپنے والدین مشرکین کے لئے استغفار کرنے سے ہے*
تفسیر جلالین شریف
صرف حضرت امام سیوطی ہی نے اس کا شان نزول ابو طالب کے لئے کہا بلکہ کئ اور مفسرین نے بھی لکھا ہے جن میں *تفسیر بیضاوی تفسیر صاوی تفسیر مدارک تفسر معالم التنزیل تفسیر خازن تفسیر قرطبی تفسیر نیشاپوری تفسیر ابو سعود تفسیر کبیر تفسیر جریر طبری تفسیر در منثور تفسیر بحر المحیط تفسیر السراج المنیر تفسیر روح البیان تفسیر فرقان القرآن تفسیر روح المعانی تفسیر حسینی تفسیر ابن کثیر*
ان تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ آیت ابو طالب کے تعلق سے نازل ہوئی
آیت نمبر2
انك لا تهدى من احببت ولكن الله يهدى من يشآء
*سوره القصص 56*
اس آیت کے شان نزل کے تعلق سے مفسیر قرآن امام طبری فرماتے ہیں کہ
*ذکر کیا گیا ہےکہ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت نازل ہوئ جب آپ نے اپنے چچا ابو طالب کو ایمان لانے کی دعوت دی اور ابو طالب نے آپ کی دعوت کا انکار کردیا*
*ترجمہ:نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں*
ہندوستان کے مشہور بزرگ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ لکھتے ہیں
*” امام مسلم رحمہ اللہ نے حضرت ابوہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب سے کہا لا اللہ الہ الا اللہ پڑھ لو قیامت کے روز میں تمہاری گواہی دوں گا ابو طالب نے کہا اگر قریش مجھے یہ کہہ کر کہ عار نہ دلاتے کہ انہیں ڈر اور خوف نے لاالہ الا اللہ پڑھنے پر مجبور کیا ہے تو میں کلمہ طیبہ پڑھ کر ضرور تمہاری انکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا اس وقت اللہ نے یہ ارشاد فرمایا انك لا تهد ى من احببت ولكن الله يهدى من يشاء*
اس آیت کے شان نزول پر بھی تمام مفسرین یہی کہتے ہیں کہ آیت مذکورہ کا تعلق ابو طالب سے ہے
 
*احادیث کریمہ اور ایمان ابو طالب*
بخاری شریف اور عدم ایمان ابو طالب
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَغْنَيْتَ عَنْ عَمِّکَ فَإِنَّهُ کَانَ يَحُوطُکَ وَيَغْضَبُ لَکَ قَالَ هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ وَلَوْلَا أَنَا لَکَانَ فِي الدَّرَکِ الْأَسْفَلِ مِنْ النَّارِ
مسدد یحیی سفیان عبدالملک عبداللہ بن حارث حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابوطالب کو کچھ نفع پہنچایا کیونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف داری میں (مخالفوں پر) غصہ کیا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ صرف ٹخنوں تک آگ میں ہیں اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے نچلے طبقہ میں ہوتے۔
صحیح بخاری ۔ جلد دوم ۔ انبیاء علیہم السلام کا بیان ۔ حدیث 1116
صحیح بخاری ۔ جلد دوم ۔ انبیاء علیہم السلام کا بیان ۔ حدیث 1117
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذُکِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ فَقَالَ لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ النَّارِ يَبْلُغُ کَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ
عبداللہ بن یوسف لیث ابن ہاد عبداللہ بن خباب حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا (ابو طالب) کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امید ہے قیامت کے دن انہیں میری شفاعت کچھ نفع دے جائے گی کہ وہ آگ کے درمیان درجہ میں کردیئے جائیں گے کہ آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ کھولنے لگے گا۔
*صحیح بخاری ۔ جلد دوم ۔ انبیاء علیہم السلام کا بیان ۔ حدیث 1118*
مسلم شریف اور عدم ایمان ابو طالب
 
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَائَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَمِّ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کَلِمَةً أَشْهَدُ لَکَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدُ لَهُ تِلْکَ الْمَقَالَةَ حَتَّی قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا کَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَی مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَی أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا کَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِينَ وَلَوْ کَانُوا أُولِي قُرْبَی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی فِي أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَکِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَائُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
حرملة بن یحیی، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ بن مغیرہ کو ان کے پاس موجود پایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے چچا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا کلمہ کہہ دو میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی گواہی دوں گا ابوجہل اور ابن امیہ کہنے لگے کیا تم عبدالمطلب کے دین سے پھر رہے ہو؟ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باربار کلمہ تو حید اپنے چچا ابوطالب کے سامنے پیش کرتے رہے اور یہی بات دھراتے رہے بالآخر ابوطالب نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہنے سے انکار کردیا اور آخری الفاظ یہ کہے کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تک مجھے روکا نہیں جائے گا میں تو برابر دعائے مغفرت کرتا رہوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْ ا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْ ا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ) 9۔ التوبہ : 113) نازل فرمائی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مومنوں کے لئے یہ بات مناسب نہیں کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا کریں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ ان پر یہ ظاہر ہوگیا ہو کہ وہ دوزخی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ابوطالب کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطاب فرماتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ)
*صحیح مسلم ۔ جلد اول ۔ ایمان کا بیان ۔ حدیث 135*
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ عِنْدَ الْمَوْتِ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ لَکَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَبَی فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ الْآيَةَ
محمد بن عباد، ابن ابی عمر، مروان، یزید یعنی ابن کیسان، ابوکیسان، ابوحازم ، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا سے ان کی موت کے وقت فرمایا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہہ دو میں قیامت کے دن اس کی گواہی دے دوں گا ابوطالب نے انکار کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ) 28۔ القصص : 56) نازل فرمائی یعنی بے شک تو ہدایت نہیں کر سکتا جسے تو چاہے لیکن اللہ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے۔
*صحیح مسلم ۔ جلد اول ۔ ایمان کا بیان ۔ حدیث 137*
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ يَقُولُا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا طَالِبٍ کَانَ يَحُوطُکَ وَيَنْصُرُکَ فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِکَ قَالَ نَعَمْ وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنْ النَّارِ فَأَخْرَجْتُهُ إِلَی ضَحْضَاحٍ
ابن ابی عمر، سفیان، عبدالملک، بن عمیر، عبداللہ بن حارث، ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوطالب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لوگوں پر غصے ہوتے تھے تو کیا ان باتوں کی وجہ سے ان کو کوئی فائدہ ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے انہیں آگ کی ش’دت میں پایا تو میں انہیں ہلکی آگ میں نکال کر لے آیا۔
 
*صحیح مسلم ۔ جلد اول ۔ ایمان کا بیان ۔ حدیث 511*
نسائی شریف اور عدم ایمان ابو طالب
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ نَاجِيَةَ بْنَ کَعْبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبَا طَالِبٍ مَاتَ فَقَالَ اذْهَبْ فَوَارِهِ قَالَ إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِکًا قَالَ اذْهَبْ فَوَارِهِ فَلَمَّا وَارَيْتُهُ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ لِي اغْتَسِلْ
محمد بن مثنی، محمد، شعبہ، ابواسحاق، ناجیہ بن کعب، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ابوطالب گزر گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ جاؤ اور ان کو زمین میں دبا دو۔ میں نے کہا وہ تو کافر و مشرک ہونے کی حالت میں مرے ہیں پس ان کو دبا دینا کیا ضروری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جاؤ ان کو زمین میں دبا دو۔ میں جس وقت ان کو زمین میں دبا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا غسل کرو۔
*سنن نسائی ۔ جلد اول ۔ پاکی کا بیان ۔ حدیث 192*
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ کَعْبٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَمَّکَ الشَّيْخَ الضَّالَّ مَاتَ فَمَنْ يُوَارِيهِ قَالَ اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاکَ وَلَا تُحْدِثَنَّ حَدَثًا حَتَّی تَأْتِيَنِي فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي وَذَکَرَ دُعَائً لَمْ أَحْفَظْهُ
عبیداللہ بن سعید، یحیی، سفیان، ابواسحاق ، ناجیة بن کعب، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بوڑھا چچا ابوطالب مر گیا ہے۔ اب ان کو کون آدمی دفن کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ جاؤ اور اپنے والد کو دفن کر کے آجاؤ اور تم لوگ کسی قسم کی کوئی نئی بات نہ کرنا چنانچہ میں گیا اور میں ان کو زمین کے اندر چھپا کر واپس آگیا پھر میں خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو غسل کرنے کا حکم فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے واسطے دعا فرمائی اور ایک دعا اس قسم کی بیان فرمائی کہ جو مجھ کو یاد نہیں۔
*سنن نسائی ۔ جلد اول ۔ جنائز کے متعلق احادیث ۔ حدیث 2012*
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ فَقَالَ أَيْ عَمِّ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کَلِمَةً أُحَاجُّ لَکَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ يَزَالَا يُکَلِّمَانِهِ حَتَّی کَانَ آخِرُ شَيْئٍ کَلَّمَهُمْ بِهِ عَلَی مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْکَ فَنَزَلَتْ مَا کَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِينَ وَنَزَلَتْ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ
محمد بن عبدالاعلی، محمد و ابن ثور، معمر، زہری، سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد ماجد سے سنا کہ جس وقت (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا) ابوطالب کی وفات کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے وہاں پر ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے میرے چچا! تم لَا اِلٰہِ اِلَّا اللہ کہو اس جملہ کی وجہ سے میں تمہارے واسطے بارگاہ الٰہی میں حجت کروں گا (سفارش کی کوشش کروں گا) اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ نے کہا اے ابوطالب! کیا تم عبدالمطلب کے دین سے نفرت کرتے ہو؟ پھر وہ دونوں ان سے گفتگو کرنے لگے۔ یہاں تک کہ ابوطالب کی زبان سے آخری جملہ یہ نکلا کہ میں تو عبدالمطلب کے دین پر ہی قائم ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمہارے واسطے اس وقت تک دعا مانگوں گا جب تک مجھ کو ممانعت نہ ہوگی اس پر آیت کریمہ مَا کَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِينَ نازل ہوئی
*سنن نسائی ۔ جلد اول ۔ جنائز کے متعلق احادیث ۔ حدیث 2041*
ترمذی شریف اور عدم ایمان ابو طالب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ کَيْسَانَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ لَکَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي بِهَا قُرَيْشٌ أَنَّ مَا يَحْمِلُهُ عَلَيْهِ الْجَزَعُ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَکِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَائُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ کَيْسَانَ
محمد بن بشار، یحیی بن سعید، یزید بن کیسان، ابوحازم اشجعی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا (ابوطالب) سے فرمایا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہہ دیجئے تاکہ میں قیامت کے دن آپ کے متعلق ایمان کی گواہی دے سکوں۔ وہ کہنے لگے اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ قریش کہیں گے کہ (ابوطالب) نے موت کی گھبرا ہٹ کی وجہ سے کلمہ پڑھ لیا تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ ) 28۔ القصص : 56) (بے شک تو ہدایت نہیں کر سکتا جسے تو چاہے لیکن اللہ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے۔) یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو صرف یزید بن کیسان کی روایت سے جانتے ہیں۔
*جامع ترمذی ۔ جلد دوم ۔ قرآن کی تفسیر کا بیان ۔ حدیث 1136*
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَعْنَی وَاحِدٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ يَحْيَی قَالَ عَبْدٌ هُوَ ابْنُ عَبَّادٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ فَجَائَتْهُ قُرَيْشٌ وَجَائَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَ أَبِي طَالِبٍ مَجْلِسُ رَجُلٍ فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ کَيْ يَمْنَعَهُ وَشَکَوْهُ إِلَی أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي مَا تُرِيدُ مِنْ قَوْمِکَ قَالَ إِنِّي أُرِيدُ مِنْهُمْ کَلِمَةً وَاحِدَةً تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ قَالَ کَلِمَةً وَاحِدَةً قَالَ کَلِمَةً وَاحِدَةً قَالَ يَا عَمِّ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالُوا إِلَهًا وَاحِدًا مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ قَالَ فَنَزَلَ فِيهِمْ الْقُرْآنُ ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّکْرِ بَلْ الَّذِينَ کَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ إِلَی قَوْلِهِ مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ و قَالَ يَحْيَی بْنُ عِمَارَةَ
محمود بن غیلان وعبد بن حمید، ابواحمد، سفیان، اعمش، یحیی، عبد بن عباد، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ جب ابوطالب بیمار ہوئے تو قریش اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے۔ ابوطالب کے پاس ایک ہی آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ ابوجہل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں بیٹھنے سے منع کرنے کے لئے اٹھا اور لوگوں نے ابوطالب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت کی، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا بھتیجے ! اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ یہ لوگ ایک کلمہ کہنے لگیں اگر یہ لوگ میری اس دعوت کو قبول کرلیں گے تو عرب پر حاکم ہو جائیں گے اور عجمیوں سے جزیہ وصول کریں گے۔ ابوطالب نے پوچھا ایک ہی کلمہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ایک ہی کلمہ۔ چچا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہہ لیجئے۔ وہ سب کہنے لگے کیا ہم ایک ہی اللہ کی عبادت کرنے لگیں ہم نے تو کسی پچھلے دین میں یہ بات نہیں سنی (بس یہ من گھڑت ہے) راوی کہتے ہیں کہ پھر ان کے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں (ص وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ) 38۔ص : 1-2) (قرآن کی قسم ! جو سراسر نصیحت ہے بلکہ جو لگ منکر ہیں وہ محض تکبر اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے انسے پہلے کتنی قومیں ہلاک کر دیں ہیں، سو انہوں نے بڑی ہائے پکار کی اور وہ وقت خلاصی کا نہ تھا اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ڈرانے ولاء آیا اور منکروں نے کہا کہ یہ تو ایک بڑا جادوگر ہے، کیا اس نے کئی معبودوں کو صرف ایک معبود بنادیا۔ بے شک یہ بڑی عجیب بات ہے اور ان میں سے سردار یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو۔ بے شک اس میں کچھ غرض ہے۔ ہم نے یہ بات اپنے پچھلے دین میں نہیں سنی۔ یہ تو ایک بنائی ہوئی بات ہے۔) ۔ یہ حدیث حسن ہے۔ بندار، یحیی بن سعید، سفیان، اعمش، یحیی بن عمارة،
*جامع ترمذی ۔ جلد دوم ۔ قرآن کی تفسیر کا بیان ۔ حدیث 1180*
ابو داؤد شریف اور عدم ایمان ابو طالب
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ کَعْبٍ عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَمَّکَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ قَالَ اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاکَ ثُمَّ لَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّی تَأْتِيَنِي فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ وَجِئْتُهُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي
مسدد، یحیی، سفیان، ابواسحاق ، ناجیہ بن کعب، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ (جب میرے والد ابوطالب کا انتقال ہوا تو) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کے بوڑھے اور گمراہ چچا کا انتقال ہو گیا ہے آپ نے فرمایا جا اور اپنے باپ کو دفن کر آ اور اس کے علاوہ کوئی اور کام نہ کرنا یہاں تک کہ تو میرے پاس لوٹ آئے لہذا میں گیا اور ان کو دفن کر کے آ گیا۔ پس آپ نے مجھے غسل کرنے کا حکم فرمایا پس میں نے غسل کیا اور اپنے میرے لئے دعا فرمائی۔
*سنن ابوداؤد ۔ جلد دوم ۔ جنازوں کا بیان ۔ حدیث 1446*
مسند امام احمد اور عدم ایمان ابو طالب
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ فَقَالَ انْطَلِقْ فَوَارِهِ وَلَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي قَالَ فَانْطَلَقْتُ فَوَارَيْتُهُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ دَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِنَّ مَا عَرُضَ مِنْ شَيْءٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ابو طالب کا انتقال ہوگیا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا اور گمراہ چچا مر گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے کسی گڑھے میں چھپا دو اور میرے پاس آنے سے پہلے کسی سے کوئی بات نہ کرنا، چنانچہ میں گیا اور اسے ایک گڑھے میں چھپا دیا، نبی صلی اللہ علیہ نے اس کے بعد مجھے غسل کرنے کا حکم دیا اور مجھے اتنی دعائیں دیں کہ ان کے مقابلے میں کسی وسیع و عریض چیز کی میری نگاہوں میں کوئی حیثیت نہیں ۔
*مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1039*
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَهُوَ مُنْتَعِلٌ نَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جہنم میں سب سے ہلکاعذاب ابو طالب کو ہوگا، انہوں نے آگ کی دو جوتیاں پہن رکھی ہوں گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابلتا ہوگا۔
*مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 764*
مزید اور کتب حدیث میں روایات موجود ہیں جس سے ابو طالب کے ایمان نہ لانے اور کفر پر فوت ہونے کی صحیح روایات موجود ہیں
*وہ کتب جن میں ابو طالب کے کفر پر خاتمہ کا ذکر آیا ہے*
*مسند احمد مشکوہ شریف کنزالعمال حاکم مستدرک جامع صغیر مسند ابوداود طیالسی طبقات ابن سعد اسد الغابہ معجم طبرانی مصنف عبدالرزاق مصنف ابن ابی شیبہ مسند اسحق راہویہ مسند بزار مدارج النبوہ الوفاء ابن جوزی کتاب الشفاء حلیہ الاولیاء تاریخ ابن عساکر سیرت حلبیہ وغیرہ کتب دیکھی جاسکتی ہیں*
*کیا اعلی حضرت کے پیر گھرانہ کی کتاب سبع سنابل شریف میں ابو طالب کو مسلمان کہا گیا ہے*
سبع سنابل کے حوالے سے رافضی نے یہ دھوکا دینے کی کوشش کی ہے کہ حضرت میر عبدالواحید بلگرامی علیہ الرحمہ ابو طالب کو مسلمان سمجھتے تھے؟ جب یہ اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ رافضی کو بولنے سے پہلے لکھنے سے پہلے یہ سوچنا چاہئے تھا کہ سبع سنابل شریف اب بھی چھپ رہی ہے جو چاہے وہ پڑھ کر خود ہی اندازہ لگا سکتا ہے کہ حضرت میر عبدلواحید بلگرامی علیہ الرحمہ کا وہی موقف ہے جو چودھویں صدی کے مجدد کا موقف ہے جمع اہل سنت وجماعت کے اکابرین کا موقف ہے یعنی ابو طالب کا خاتمہ کفر پر ہوا
اب آئیے سبع سنابل شریف کی عبارت آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں آپ خود فیصلہ کر لیجئے گا
حضرت میر عبدالواحید بلگرامی سبع سنابل شریف میں فرماتے ہیں
*میرے بھائ اگر چہ مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و شرف کے کمالات اہل معرفت کے دلوں میں نہیں سماں سکتے اور ان کے سچے دوستوں کے نہاں خانوں میں منزل نہیں بنا سکتے* *_اس کے با وجود ان کے ان نسب عالوں میں اپنا کامل اثر نہیں دکھا سکتے خواہ وہ آباؤ اجداد ہوں یا اولاد در اولاد چنانچہ ابو طالب میں اس نسب نے کوئی اثر نہیں کیا حالانکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں بلیغ کوشش فرماتے رہے لیکن چونکہ خدائے قدوس جل و علا نے ان کے دل پر روز اول ہی سے مہر لگا دی تھی لہذا جواب دیا اخرت النار على العار میں عار پر نار کو ترجیح دیتا ہوں_* *جیسا کہ مشہور ہے منقول ہے کہ جب ابو طالب کا انتقال ہوا مولی علی کرم اللہ وجہہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچائی کہ مات عمك الضال حضور کے گمراہ چچا کا انتقال ہوگیا بیت-کبھی ایسے گوہر پیدا کرنے والے گھرانہ میں ابو طالب جیسے کو (خالق بے نیاز) پتھر پھینکنے والا بنا دیتا ہے*
سبع سنابل شریف صفحہ ۸۹





یہ آیت کریمہ بالاتفاق ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جیسا کہ حافظ نووی رحمہ اللہ (631-676ھ) فرماتے ہیں :
فقد أَجمع المفسرون علي انھا نزلت في ابي طالب، وكذا نقل إجماعھم علي ھذا الزجاج وغيره، وھي عامه فانه لا يھدي الا يضل الا الله تعاليٰ.
”مفسرین کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت کریمہ ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ زجاج وغیرہ نے مفسرین کا اجماع اسی طرح نقل کیا ہے۔ یہ آیت عام ( بھی ) ہے۔ ہدایت دینا اور گمراہ کرنا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔“ ( شرح صحیح مسلم للنووی : 41/1)


حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (773-852ھ) لکھتے ہیں :
”بیان کرنے والے اس بات میں اختلاف نہیں کرتے کہ یہ آیت ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔“ ( فتح الباری لا بن حجر 506/8)


حا فظ سہیلی رحمہ اللہ (ھ581-508) فرماتے ہیں :
وظاھر الحديث يقتضي أن عبدالمطلب مات علي الشرك
”اس حدیث کے ظاہری الفاظ اس بات کے متقاضى ہیں کہ عبدالمطلب شرک پر فوت ہوئے تھے۔“ (الروض الانف : 19/4)

یہ حدیث اس بات پر نص ہے کہ ابوطالب کافر تھے۔ وہ ملت عبدالمطلب پر فوت ہوئے۔ انہوں نے مرتے وقت کلمہ پڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کے حق میں دعا کرنے سے منع کر دیا تھا۔ 


حا فظ ابنِ حجر رحمہ اللہ (733-853ھ) اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :
فھذا شان من مات علي الكفر، فلو كان مات علي التوحيد لنجا من النار أصلا والاحاديث الصححة والاخبار المتكاثرة طاقحة بذلك ”یہ صورتحال تو اس شخص کی ہوتی ہےجو کفر پر فوت ہوا ہو۔ اگر ابوطالب توحید پر فوت ہوتے تو آگ سے مکمل طور پر نجات پا جاتے۔ لیکن بہت سی احادیث و اخبار اس (کفر ابو طالب) سے لبریز ہیں-“ (الاصابته في تميز الصحابته لابن حجر : 241/7)

  خلیفہ راشد سیدنا علی بن طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : 
لَمَّا تُوُفِّيَ أَبِي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : إِنَّ عَمَّكَ قَدْ تُوُفِّيَ قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ ، قُلْتُ : إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا، قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ وَلَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي ، فَفَعَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ 
”جب میرے والد فوت ہوئے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خد مت میں حا ضر ہوا اور عرض کی : آپ کے چچا فوت ہو گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جا کر انہیں دفنا دیں۔“ میں نے عرض کی : یقیناً وہ تو مشرک ہونے کی حالت میں فوت ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جائیں اور انہیں دفنا دیں، لیکن جب تک میرے پاس واپس نہ آئیں کوئی نیا کام نہ کریں۔“ میں ایسا ہی کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم فرمایا۔“ (مسند الطيالسي : ص : 19، ح، 120، وسنده‘ حسن متصل )

حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ (700-774ھ) ابو طالب کے کفر پر فوت ہونے کے بعد لکھتے ہیں:
وَلَوْلَا مَا نَهَانَا اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ لِلْمُشْرِكِينَ، لَاسْتَغْفَرْنَا لابي طَالب وترحمنا عَلَيْهِ ”اگر اللہ تعالیٰ نی ہمیں مشرکین کے لیے استغفار کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو ہم ابوطالب کے 
   لیے استغفار کر تے اور اُن کے لیے رحم کی دعا بھی کرتے!“ (سیرةالرسول ابن کثیر:132/2)

مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں
آنحضرت ﷺ کے چچے اور پھوپھیاں حارث, قثم, حمزہ, عباس, ابوطالب, عبدالکعبہ, جحل, ضرّار, غیداق, ابولہب, صفیہ, عاتکہ, اروی, اُمّ حکیم, بّرہ, امیمہ اس جماعت میں سے حضرت حمزہ و عباس و حضرت صفیہ رضوان اللّٰہ علیھم اجمعین وعلیھن ایمان لائے (تحقیق الحق فی کلمة الحق ص:١٥٣) کیا خیال ہے تفضیلی صاحب؟؟؟
مکمل تحریر >>

Wednesday, 21 April 2021

حضورنبی کریم ﷺ نے متعدد نکاح کیوں کیے؟* 💫

💫 *حضورنبی کریم ﷺ نے متعدد نکاح کیوں کیے؟* 💫
 ایک پروفیسر صاحب لکھتے ہیں کہ کافی عرصہ کی بات ہے کہ جب میں لیاقت میڈیکل کا لج جامشورو میں سروس کررہا تھا تو وہاں لڑکوں نے سیرت النبی ﷺ کانفرس منعقد کرائی اورتمام اساتذہ کرام کو مدعو کیا ۔ 
چنانچہ میں نے ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو ( جو ہڈی جوڑ کے ماہر تھے) کے ہمراہ اس کانفرنس میں شرکت کی۔ اس نشست میں اسلامیات کے ایک لیکچرار نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم  کی پرائیویٹ زندگی پر مفصل بیان کیا اور آپ کی ایک ایک شادی کی تفصیل بتائی کہ یہ شادی کیوں کی اور اس سے امت کو کیا فائدہ ھوا۔ 
 یہ بیان اتنا موثر تھا کہ حاضرین مجلس نے اس کو بہت سراہا ۔ کانفرس کے اختتام پر ہم دونوں جب جامشورو سے حیدر آباد بذریعہ کار آرہے تھے تو ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو نے عجیب بات کی...
  اس نے کہا کہ ۔۔۔۔۔۔ آج رات میں دوبارہ مسلمان ھوا ھوں 
میں نے تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ آٹھ سال قبل جب وہ FRCS کے لیے انگلستان گئے تو کراچی سے انگلستان کا سفر کافی لمبا تھا  ہوائی جہاز میں ایک ائیر ہوسٹس میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئی ۔
ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی کے بعد اس عورت نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟  
میں نے بتایا اسلام ۔ ہمارے نبی ﷺ کا نام پوچھا میں نے حضرت محمد ﷺ بتایا ، پھر اس لڑکی نے سوال کیا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ تمہارے نبی ﷺ نے گیارہ شادیاں کی تھیں؟ 
میں نے لاعلمی ظاہر کی تو اس لڑکی نے کہا یہ بات حق اور سچ ہے ۔ اس کے بعد اس لڑکی نے حضور ﷺ کے بارے میں (معاذاللہ ) نفسانی خواہشات کے غلبے کے علاوہ  دو تین دیگر الزامات لگائے، جس کے سننے کے بعد میرے دل میں (نعوذ بااللہ) حضور  ﷺکے بارے میں نفرت پیدا ہوگئی اور جب میں لندن کے ہوائی اڈے  پر اترا تو میں مسلمان نہیں تھا۔
 آٹھ سال انگلستان میں قیام کے دوران میں کسی مسلمان کو نہیں ملتا تھا، حتیٰ کہ عید کی نماز تک میں نے ترک کر دی۔ اتوار کو میں گرجوں میں جاتا اور وہاں کے مسلمان مجھے عیسائی کہتے تھے۔
 جب میں آٹھ سال بعد واپس پاکستان آیا تو ہڈی جوڑ کا ماہر بن کر لیاقت میڈیکل کالج میں کام شروع کیا ۔ یہاں بھی میری وہی عادت رہی ۔ آج رات اس لیکچرار کا بیان سن کر میرا دل صاف ہو گیا اور میں نے پھر سے کلمہ پڑھا ہے۔ 
غور کیجئے ایک عورت کے چند کلمات نے مسلمان کو کتنا گمراہ کیا اور اگر آج ڈاکٹر عنایت اللہ کا یہ بیان نہ سنتا تو پتہ نہیں میرا کیا بنتا؟ 
اس کی وجہ ہم مسلمانوں کی کم علمی ہے۔ ہم حضور  ﷺ کی زندگی کے متعلق نہ پڑھتے ہیں اور نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ 
کئی میٹنگز میں جب کوئی ایسی بات کرتا ہے تو مسلمان کوئی جواب نہیں دیتے، ٹال دیتے ہیں۔ جس سے اعتراض کرنے والوں کےحوصلے بلند ہوجاتے ہیں ۔ 
اس لئیے بہت اہم ہے کہ ہم اس موضوع کا مطالعہ کریں اور موقع پر حقیقت لوگوں کو بتائیں ۔ 
میں ایک دفعہ بہاولپور سے ملتان بذریعہ بس سفر کر رہا تھا کہ ایک آدمی لوگوں کو حضور ﷺ کی شادیوں کے بارے میں گمراہ کر رہا تھا۔ میں نے اس سے بات شروع کی تو وہ چپ ہوگیا اور باقی لوگ بھی ادھر ادھر ہوگئے۔
لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی خاطر جانیں قربان کی ہیں۔ کیا ہما رے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہم اس موضوع کے چیدہ چیدہ نکات کو یاد کر لیں اور موقع پر لوگوں کو بتائیں ۔
 اس بات کا احساس مجھے ایک دوست ڈاکٹر نے دلایا جو انگلستان میں ہوتے ہیں اور یہاں ایک جماعت کے ساتھ آئے تھے ۔ انگلستان میں ڈاکٹر صاحب کے کافی دوست دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے تھے ، وہ ان کو اس موضوع پر صحیح معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں ۔
 انہوں نے چیدہ چیدہ نکات بتائے، جو میں پیش خدمت کررہا ہوں۔  اتوار کے دن ڈاکٹر صاحب اپنے دوستو ں کے ذریعے ”گرجا گھر“ چلے جاتے ہیں ، وہاں اپنا تعارف اور نبی کریم  ﷺکا تعارف کراتے ہیں ۔ عیسائی لوگ خاص کر مستورات آپ کی شادیوں پر اعتراض کرتی ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب جو جوابات دیتے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
◀️ (1) میرے پیارے نبی ﷺ نے عالم شباب میں (25 سال کی عمر میں) ایک سن رسیدہ بیوہ خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر 40 سال تھی اور جب تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا زندہ رہیں آپ نے دوسری شادی نہیں کی۔
  50 سال کی عمر تک آپ نے ایک بیوی پر قناعت کیا ۔ (اگر کسی شخص میں نفسانی خواہشات کا غلبہ ہو تو وہ عالم ِ شباب کے 25 سال ایک بیوہ خاتون کے ساتھ گزارنے پر اکتفا نہیں کرتا ) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد مختلف وجوہات کی بناء پر آپ ﷺنے نکا ح کئے ۔
 پھر اسی مجمع سے ڈاکٹر صاحب نے سوال پوچھا کہ یہاں بہت سے نوجوان بیٹھے ہیں ...... آپ میں سے کون جوان ہے جو 40 سال کی بیوہ سے شادی کرے گا....؟
 سب خاموش رھے ۔  ڈاکٹر صاحب نے ان کو بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے یہ کیا ہے ، پھر ڈاکٹر صاحب نے سب کو بتایا کہ جو گیارہ شادیاں آپ ﷺنے کی ہیں سوائے ایک کے، باقی سب بیوگان تھیں ۔ یہ سن کر سب حیران ہوئے ۔ 
پھر مجمع کو بتایا کہ جنگ اُحد میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے ۔ نصف سے زیادہ گھرانے بے آسرا ہوگئے ، بیوگان اور یتیموں کا کوئی سہارا نہ رہا۔
 اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے نبی کریم  ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بیوگان سے شادی کرنے کو کہا ، لوگوں کو ترغیب دینے کے لئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔۔۔
 ◀️ (2) حضرت سودہ رضی اللہ عنہا 
 ◀️ (3) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور
  ◀️ (4)حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا سے مختلف اوقات میں نکاح کئے ۔ آپ کو دیکھا دیکھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیوگان سے شادیاں کیں جس کی وجہ سے بے آسرا خواتین کے گھر آباد ہوگئے - 
 ◀️ (5) عربوں میں کثرت ازواج کا رواج تھا۔ دوسرے شادی کے ذریعے قبائل کو قریب لانا اور اسلام کے فروغ کا مقصد آپ ﷺ کے  پیش نظر تھا۔  
  ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ عربوں میں دستور تھا کہ جو شخص ان کا داماد بن جاتا اس کے خلاف جنگ کرنا اپنی عزت کے خلاف سمجھتے۔ 
 ابوسفیان رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پہلے حضور ﷺکے شدید ترین مخالف تھے ۔ مگر جب ان کی بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے حضور  ﷺ کا نکاح ہوا تو یہ دشمنی کم ہو گئی۔ ہوا یہ کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا شروع میں مسلمان ہو کر اپنے مسلمان شوہر کے ساتھ حبشہ ہجرت کر گئیں ، وہاں ان کا خاوند نصرانی ہو گیا ۔
 حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اس سے علیحدگی اختیار کی اور بہت مشکلات سے گھر پہنچیں ۔ حضور ﷺ  نے ان کی دل جوئی فرمائی اور بادشاہ حبشہ کے ذریعے ان سے نکاح کیا.
◀️  (6) حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا والد قبیلہ مصطلق کا سردار تھا۔ یہ قبیلہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان رہتا تھا ۔ حضور ﷺ نے اس قبیلہ سے جہاد کیا ، ان کا سردار مارا گیا ۔ 
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا قید ہوکر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مشورہ کر کے سر دار کی بیٹی کا نکاح حضور ﷺ سے کر دیا اور اس نکاح کی برکت سے اس قبیلہ کے سو گھرانے آزاد ہوئے اور سب مسلمان ہو گئے ۔
◀️ (7) خیبر کی لڑائی میں یہودی سردار کی بیٹی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا قید ہو کر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مشورے سے ا ن کا نکاح حضور اکرم  ﷺ سے کرا دیا ۔ 
◀️ (8)  اسی طر ح میمونہ رضی الله عنہا سے نکاح کی وجہ سے نجد کے علاقہ میں اسلام پھیلا ۔ ان شادیوں کا مقصد یہ بھی تھا کہ لوگ حضور ﷺکے قریب آسکیں ، اخلاقِ نبی کا مشاہدہ کر سکیں تاکہ انہیں راہ ہدایت نصیب ہو ۔
 ◀️ (9) حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھا۔ آپ پہلے مسیحی تھیں اور ان کا تعلق ایک شاہی خاندان سے تھا۔ ان کو بازنطینی بادشاہ شاہ مقوقس نے بطور ہدیہ کے آپ ﷺکی خدمت اقدس میں بھیجا تھا۔
◀️ (10) حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح متبنی کی رسم توڑنے کے لیے کیا ۔ حضرت زید رضی الله عنہ حضور ﷺ کے متبنی(منہ بولے بیٹے) کہلائے تھے، ان کا نکاح حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے ہوا ۔ مناسبت نہ ہونے پر حضرت زید رضی الله عنہ نے انہیں طلاق دے دی تو حضور ﷺنے نکاح کر لیا اور ثابت کردیا کہ متبنی ہرگز حقیقی بیٹے کے ذیل میں نہیں آتا.
 ◀️ (11)  اپنا کلام جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ علوم اسلامیہ کا سرچشمہ قرآنِ پاک اور حضور اقدس ﷺ کی سیرت پاک ہے۔ 
آپ  ﷺکی سیرت پاک کا ہر ایک پہلو محفوظ کرنے کے لیے مردوں میں خاص کر اصحاب ِ صفہ رضی الله عنہم نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ عورتوں میں اس کام کے لئیے ایک جماعت کی ضرورت تھی۔ 
ایک صحابیہ سے کام کرنا مشکل تھا ۔ اس کام کی تکمیل کے لئیے آپ ﷺ نے کئی نکاح کیے ۔ آپ نے حکما ً ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو ارشاد فرمایا تھا کہ ہر اس بات کو نوٹ کریں جو رات کے اندھیرے میں دیکھیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو بہت ذہین، زیرک اور فہیم تھیں، حضور ﷺ نے نسوانی احکام و مسائل کے متعلق آپ کو خاص طور پر تعلیم دی ۔
 حضور اقدس ﷺ کی وفات کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا 48 سال تک زندہ رہیں اور 2210 احادیث آپ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں ۔
 صحابہ کرام رضی اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں کہ جب کسی مسئلے میں شک ہوتا ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کا علم ہوتا ۔
 اسی طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایات کی تعداد 368 ہے ۔ 
ان حالا ت سے ظاہر ہوا کہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے گھر، عورتوں کی دینی درسگاہیں تھیں کیونکہ یہ تعلیم قیامت تک کے لئیے تھیں اور سار ی دنیا کے لیے  تھیں اور ذرائع ابلاغ محدود تھے، اس لیے کتنا جانفشانی سے یہ کام کیا گیا ہو گا، اس کا اندازہ آج نہیں لگایا جاسکتا۔ 
آخر میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ مذکورہ بالا بیان میں گرجوں میں لوگوں کو سناتا  ہوں اور وہ سنتے ہیں ۔ باقی ہدایت دینا تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔
 اگر پڑھے لکھے مسلمان ان نکات کو یاد کرلیں اور کوئی بدبخت حضور  ﷺ کی ذات پر حملہ کرے تو ہم سب اس کا دفاع کریں ۔
*🌹جزی الله عنا سيدنا محمدا صلی اللہ علیہ وسلم بما هو اهله🌹* 
کم سے کم اسکو اپنے ہر گروپ وہاٹساپ فیس بک اور تمام  کونٹیکٹ بک پر شیر کرکے اپنی ذمہ داری نبھائیں 
 اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے اور عمل کرنے والا بنائے ۔ (آمین )
مکمل تحریر >>

Wednesday, 14 April 2021

راستے بند

احتجاج کرنا اور راستے میں بیٹھنا ، اے اہلِ ایمان کب جاگو گے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم قارٸینِ کرام : اگر ضمیر زندہ ہے تو ایک بار مکمل ضرور پڑھیں اور اپنے ضمیرِ ایمانی سے پوچھ کر فیصلہ کریں ۔ ہو سکے تو آگے شیٸر بھی کریں ۔

حدثنا علي بن عبد الله ، قال‏ :‏ حدثنا صفوان بن عيسى، قال‏ :‏ حدثنا محمد بن عجلان ، قال‏ :‏ حدثنا ابي ، عن ابي هريرة قال‏ :‏ قال رجل‏ :‏ يا رسول الله ، إن لي جارا يؤذيني ، فقال‏ :‏ ”انطلق فاخرج متاعك إلى الطريق“، فانطلق فاخرج متاعه، فاجتمع الناس عليه، فقالوا‏:‏ ما شانك‏؟‏ قال‏:‏ لي جار يؤذيني، فذكرت للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال‏:‏ ”انطلق فاخرج متاعك إلى الطريق“، فجعلوا يقولون‏:‏ اللهم العنه، اللهم اخزه‏.‏ فبلغه، فاتاه فقال‏:‏ ارجع إلى منزلك، فوالله لا اؤذيك‏ ۔
ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میرا ایک پڑوسی ہے جو مجھے ایذا دیتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اپنا سامان (گھر سے) نکال کر راستے پر رکھ دو ۔ وہ گیا اور اپنا سامان نکال کر راستے پر رکھ دیا ۔ لوگ اس کے پاس آئے اور پوچھا تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا میرا پڑوسی مجھے تکلیف دیتا ہے میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مجھے حکم دیا کہ جاؤ اور اپنا سامان (گھر سے) نکال کر راستے پر رکھ دو ۔ (لوگوں نے یہ سنا) تو کہنے لگے اللہ اس پر لعنت کرے ، اللہ اسے رسوا کرے ۔ یہ بات جب ہمسائے تک پہنچی تو وہ اس کے پاس آیا اور کہا اپنے گھر میں لوٹ آو اللہ کی قسم میں تمہیں کبھی تکلیف نہیں دوں گا ۔ (الادب المفرد للبخاری كتاب الجار 68. بَابُ شِكَايَةِ الْجَارِ 124،چشتی)،(أخرجه أبوداؤد، الأدب، باب فى حق الجوار: 5153)(ابن حبان: 520)(أبويعلي: 6630)(الحاكم: 160 /4)(البيهقي فى شعب الإيمان: 9547)

اے سارے اہلِ ایمان اس وقت بات ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی گستاخی اور اذیت کی ہے اس لیۓ :

جماعتِ اھلسنت والو ،
ساری جمعیت علماۓ پاکستان والو ،
سنی تحریک والو ،
المصطفی پارٹی والو ،
سنی اتحاد کونسل والو ۔

تنظیم السعید والو ،
دعوتِ اسلامی والو ،
ساری سیاسی و مذھبی پارٹی والو ، مجلس علماۓ اھلسنت والو ، بزم حسان ، بزم چشتیہ ، بزم محمد علیہ السلام سمیت ساری بزم و انجمن والو ۔

سارے خطیبو ، امامو ، مؤذنو ، حافظو ، قاریو ، نعت خوانو ، مساجدکمیٹیوں والو ۔

اے سارے اہلِ ایمان قادریو ، چشتیو ، سھروردیو ، نقشبندیو ، رضویو ، نورانیو ، سعیدیو ، وارثیو ، امینیو ، مدنیو ، نوریو ، شاذلیو ، رفاعیو ، عطاریو ۔

اے سارے اہلِ ایمان مدرسوں والو ، اسکولوں والو ، کالجوں والو ، یونیورسٹیوں والو ۔

اے سارے اہلِ ایمان عدالتوں والو ، بینکوں والو ، کمپنیوں والو ، ایجنسیو والو ، اداروں والو ۔

اے سارے اہلِ ایمان تاجرو ، گاہکو ، دکاندارو ، ہوٹلوں والو ، دیہاڑی دارو ، ریڑھی والو ، ٹھیلے والو ۔

اے سارے اہلِ ایمان اینکرو ، وکیلو ، ٹیچرو ، پروفیسرو ، ڈاکٹرو ، مُدَرِّسو ۔

فرانس کے صدر نے صرف لبیک والوں کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی گستاخی نہیں کی ہم سب کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی گستاخی کی ہے اس لیۓ فرانس کا سفیر نکلوانا صرف لبیک والوں کا کام نہیں ہے بلکہ ہر کلمہ پڑھنے والے کی ذمہ داری ہے کیوں کہ جن کا کھاتے ہیں ان سے وفا بھی ضروری ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی) ۔ ⬇⬇
مکمل تحریر >>

Monday, 22 March 2021

غیراللہ سے مدد طلب کرنا درست ہے تو پھر ہم ہر نماز میں *وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْن* (ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں) کیوں کہتے ہیں ؟

*استفتاء نمبر 344:*
اگر غیراللہ سے مدد طلب کرنا درست ہے تو پھر ہم ہر نماز میں *وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْن* (ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں) کیوں کہتے ہیں ؟
سائل : فہیم میانوالی 
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ پاک ہم حقیقی طور پر تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں اور انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء عظام رحمہم اللہ سے جو مدد طلب کی جاتی ہے تو چونکہ وہ اللہ پاک کی عطا سے مدد کرتے ہیں اور خود اللہ پاک ان کو مدد کرنے کا اختیار دیتا ہے تو اس عطا اور اختیار کی بناء پر ان کی مدد اللہ پاک کی مدد ہی ہوتی ہے جیسا کہ غزوہ بدر میں فرشتوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی مدد کی لیکن ان کی مدد کو اللہ پاک نے اپنی مدد قرار دیا۔ 
چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے : 
*"وَلَقَدْنَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّۃ"*
ترجمہ : اور بےشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی، جب تم بالکل بےسروسامان تھے.
 *(پارہ : 4، سورہ : الِ عمران، آیت :123)*
فرشتوں کی مدد کو اپنی مدد اس لیے قرار دیا کہ فرشتوں کو مدد کرنے کا اختیار خود دیا، یہی معاملہ انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء عظام رحمہم اللہ کا ہے کہ وہ بھی اللہ پاک کی عطا اور اختیار سے مدد کرتے ہیں تو ان کی مدد بھی درحقیقت اللہ پاک کی مدد ہوتی ہے لہذا ان مقدس ہستیوں سے مدد طلب کرنا، سورہ فاتحہ کی آیتِ مبارکہ کے اس جز *"وایاک نستعین"* کے خلاف نہیں.
چنانچہ خلیفہ اعلی حضرت حضرت علامہ مولانا حشمت علی رضوی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
استعانت کے معنی مدد چاہنے کے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ مدد اسی سے چاہی جاتی ہے جو مدد کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور وہ حقیقۃً اللہ تبارک و تعالی ہی ہے، اسی کے قبضہ قدرت میں ہر قسم کی مدد کرنا اور دوسروں کو مدد کرنے کی توفیق و طاقت بخشنا ہے، اسی کا اقرار بندے کی زبان سے ان آیات میں کرایا گیا ہے، انبیاء و اولیاء وغیرہ محبوبان خدا اس کے وسائل ہیں، تو ان سے جو امداد چاہی جاتی ہے وہ حقیقۃً خدا ہی سے مدد چاہنا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے : *"وابتغوا الیہ الوسیلۃ"* (المائدۃ : 35) اللہ کی طرف پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو۔ اور وہ وسیلہ یہی انبیاء و اولیاء و صلحاء اور نماز وغیرہ اعمال صالحہ ہیں، جن کے ذریعہ سے بندے کی دعا دربار الہی تک پہنچتی ہے اور اس کا مدعا بر آتا ہے، اسی لیے بندے کو گناہ کرنے کے بعد اپنے محبوب کے دربار میں حاضر ہو کر ان کے وسیلہ سے استغفار کرنے اور گناہ کی معافی چاہنے کا حکم دیا ہے کما قال اللہ تعالی : *"ولو انھم اذظلموا انفسھم جاؤوک الخ"* (النساء : 64) یعنی اگر وہ لوگ جب اپنے نفس پر ظلم کریں یعنی گناہ کریں تو اے نبی تیری بارگاہ میں حاضر ہو کر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول بھی ان کے لیے معافی چاہے تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا پائیں گے۔ ابو جعفر نے مسجد نبوی میں حضرت امام مالک رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے دریافت کیا کہ کیا میں قبلہ کی طرف منہ کر کے دعا مانگوں یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جانب، تو امام مالک رحمۃ اللہ تعالی نے فرمایا : تم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جانب سے کیوں منہ پھیرتے ہو وہ تو تمہارے اور تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام کے قیامت تک اللہ تبارک و تعالیٰ کی جناب میں وسیلہ ہیں، انہیں کی طرف توجہ کرو اور ان سے اپنی حاجت و مراد میں شفاعت چاہو، پس اللہ تبارک و تعالی تمہارے لئے ان کی شفاعت قبول فرمائے گا۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم (شرح شفا لعلی القاری) اور اسی لئے صبر و صلوۃ سے استعانت کرنے کا حکم دیا گیا *"واستعینوا بالصبر والصلاۃ"* (البقرة : 45) فرمایا گیا ہے بلکہ مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے تعاون کرنے اور مدد لینے کا حکم دیا گیا *" وتعاونوا علی البر و التقوی"* (المائدۃ : 2) فرمایا گیا ہے، تو اگر کسی سے مدد چاہنا اور کسی کی مدد کرنا مطلقاً ممنوع یا ناجائز ہوتا تو آیتِ مذکورہ میں نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کو وسیلہ بنانے اور وسیلہ تلاش کرنے اور استعانت کرنے اور آپس میں ایک دوسرے کا تعاون کرنے اور مدد کرنے کا حکم نہ فرمایا جاتا، اور طبرانی وغیرہ کی احادیث میں *"اعینونی یاعباداللہ"* وارد نہ ہوتا اور سرورِ عالم صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم ایک نابینا کو دعا میں یہ الفاظ تعلیم نہ فرماتے : *"اللھم انی اسئلک و اتوجہ الیک بنبیک محمد الخ"* یعنی اے اللہ میں تجھ سے تیرے نبی کے توسل سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں. (ترمذی و نسائی و ابن ماجہ وغیرہ) بلکہ بندوں تک اپنے احکام پہنچانے کے لیے حضرت جبرائیل اور انبیاء علیھم السلام کو واسطہ و ذریعہ نہ بناتا، گویا اسی نے ہمیں وسیلہ اور ذریعہ بنانا سکھایا، اس سے معلوم ہوا کہ دراصل استعانت حقیقی اللہ عزوجل ہی سے ہے اور انبیاء و اولیاء اس سے مدد چاہنے کا وسیلہ ہیں، ان کی طرف استعانت کی نسبت مجازاً کی جاتی ہے،اس قدر کے تو وہابیہ بھی قائل ہیں تو اصاغر کو بھی اس پر ایمان لانا چاہیے۔"
*(تفسیر جوہر الایقان المعروف تفسیرِ رضعی، جلد 1، صفحہ 5، مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور)*
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ایک شعر میں کیا خوب فرمایا : 
حاکم حکیم داد و دوا دیں، یہ کچھ نہ دیں 
مردود یہ مراد کس آیت خبر کی ہے۔ 
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
22/03/2021
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
انبیاء و اولیاء سے مدد چاہنے کے حوالے سے جو آپ کا تحقیقی فتویٰ ہے، بندہ ناچیز اس کی مکمل تائید و توثیق کرتا ہے، اہل اللہ سے مدد مانگنا درحقیقت اللہ ہی سے مدد مانگنا ہے، اللہ ہی ان کو یہ توفیق بخشتا ہے کہ وہ آگے کسی کی مدد کر سکیں، ایک سڑیل وہابی نے یہ کہا تھا :
وہ کیا ہے جو ملتا نہیں خدا سے جسے مانگتے ہو تم اولیاء سے
تو اسے یہ جواب دیا گیا :
وہ چندہ ہے جو نہیں ملتا خدا سے
جسے مانگتے ہو تم اغنیاء سے۔
اہل اللہ کا در چھوڑ کر پھر یہ اہل الدنیا کے در پر گرتے پڑتے ہیں، اللہ تعالیٰ عقلِ سلیم نصیب فرمائے۔
اس حوالہ سے اعلیٰ حضرت عظیم المرتبت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب مستطاب *"برکات الامداد لاہل الاستمداد"* کافی اور وافی ہے۔ 
اور آسان لفظوں میں مختصر دلائل کے ساتھ فقیر معطر قادری گدائے رضوی کا مطبوعہ سولہ صفحات کا فتویٰ *"الاستمداد"* بھی سالہا سال سے شائع ذائع ہے، الله تعالیٰ سمجھ کی توفیق نصیب فرمائے۔
وماتوفیقی الا بالله العلی العظيم۔
*مفتی و حکیم محمد عارف محمود خان معطر قادری، مرکزی دارالافتاء اہلسنت میانوالی۔*
مکمل تحریر >>

گمراہ فرقوں کے نام :

گمراہ فرقوں کے نام :

❶ معتزلہ (قدریہ )
معتزلہ کے کل بیس 20 فرقے ہیں ۔
❶ واصلیہ                   ❷ عمریہ 
❸ ہذیلیہ                    ❹ نظامیہ
❺ اسواریہ                  ❻ اِ سکافیہ 
❼ جعفریہ                  ❽ بِشریہ
❾ مُزداریہ                 ❿ ہشامیہ 
❶ ❶ صالحیہ              ❷ ❶ حابطیہ 
❸ ❶ حدبیہ             ❹❶ مَعمریہ 
❺ ❶ ثمامیہ             ❻ ❶ خیّاطیّہ 
❼ ❶ جاحظیہ            ❽ ❶کعبیہ 
❾ ❶ جبائیہ              ⑳  بہشمیہ

❷ شیعہ       
(فتنوں کاظہور ص ۳۶ )
ان میں بنیادی فرقے تین ہیں ۔
❶ غلاۃ     ❷ زیدیہ      ❸ امامیہ 

غلاۃ سے اٹھارہ 18 فرقے پیدا ہوئے ۔
❶ سبائیہ                 ❷ کاملیہ نم
❸ بنانیہ یابیانیہ       ن    ❹ مغیریہ 
❺ جناحیہ                ❻ منصوریہ 
❼ خطابیہ                ❽ غرابیہ اورذبابیہ 
❾ ذمّیہ                  ❿ ہشامیہ 
❶ ❶ زُراریہ           ❷ ❶ یونسیہ 
❸ ❶ شیطانیہ           ❹ ❶ رزامیہ 
❺ ❶ مفوّضہ            ❻ ❶ بدئیہ 
❼ ❶ نُصیریہ اوراسحاقیہ ❽ ❶ اِ سماعلیہ 

اسماعلیہ کے سات 7 القاب ہیں ۔
❶ باطنیہ                 ❷ قرامطہ 
❸ حِرمیہ                ❹ سبعیہ 
❺ بابکیہ                  ❻ مُحمرہ 
❼ اسماعلیہ 

اسماعلیہ کے چند فرقے ہیں ۔
❶ مبارکیہ                 ❷ میمونیہ 
❸ شمیطیہ                  ❹ برقیہ 
❺ جنابیہ                   ❻ مہدویہ 
❼ مستعلیہ                 ❽ نزاریہ 

زیدیہ کے تین فرقے ہیں ۔
❶ جارودیہ   ❷ سلیمانیہ    ❸ تبیریہ 

فرقہ امامیہ
امامیہ کی بہت شاخیں ہیں ۔
❶ افطحیہ                    ❷ مفضلیہ 
❸ ممطوریہ                   ❹ موسویہ 
❺ رجعیہ                     ❻ احمدیہ 
❼ اثناعشریہ                  ❽ جعفریہ 

❸ خوارج
خارجیوں کےسات 7 فرقے ہیں ۔
❶ محکمہ                    ❷ بیہسیہ 
❸ ازارقہ                  ❹نجدات 
❺ صُفریہ یااصفریہ          ❻ اباضیہ 
❼ عجاردہ 

عجاردہ کےدس فرقے ہیں ۔
❶ میمونیہ                  ❷ حمزیہ 
❸ شعیبیہ                  ❹ حازمیہ 
❺ خلفیہ                   ❻ اطرافیہ 
❼ معلومیہ                 ❽ مجہولیہ 
❾ صلتیہ                   ❿ ثعالبہ 

ثعالبہ کے چار فرقے ہوگئے
❶ اخنسیہ                 ❷ معبدیہ 
❸ شیبانیہ                 ❹ مکرّمیہ 

خوارج میں سے چند فرقوں کےنام مندرجہ ذیل ہیں ۔
❶ ضحاکیہ                ❷ شبیبیہ 
❸ کوزیہ                 ❹ کنزیہ 
❺ شمراخیہ               ❻ بدعیہ 
❼ اصومیہ               ❽ یعقوبیہ 
❾ فضلیہ 

❹ مرجئہ
مرجئہ کے پانچ 5 فرقے ہیں ۔
❶ یونسیہ                 ❷ عبیدیہ 
❸ غسّانیہ                 ❹ ثوبانیہ 
❺ ثومنیہ

❺ نجاریہ 
نجاریہ کے تین 3 فرقے ہیں ۔
❶ بُرغوثیہ                ❷ زعفرانیہ 
❸ مستدرکیہ   
           
❻ جبریہ 
جبریہ کی دو قسمیں ہیں ۔
❶ متوسطہ               ❷ خالصہ

❼ مشبہہ 
❶ مشبہہ غلاۃ شیعہ مثلا سبائیہ بیانیہ اور مغیریہ وغیرہ کی طرح ہیں ۔
❷ مشبہہ حشویہ جیسے مضر ۔کہمش اور ہجیمی 
❸ مشبہہ کرامیہ

👈 وہ فرقے جو ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔
❶ قادیانی 
❷ نیچریہ 
❸ اہلِ قرآن یا چکڑالوی 
❹ وہابیہ یا نجدیہ 

ہندوستان کے وہابی دو فرقوں میں بٹ گئے ۔
❶ اہلِ حدیث 
❷ دیوبندی

دیوبندی فرقے کی دو قسمی
❶ حیاتی
❷  مَماتی

(فتنوں کا ظہور اور اہلِ حق کا جہاد ص ۲۱ تا ۹۵)

📍یاد رہے کہ 
بدمذہب و بدعقیدہ نجدی وہابی دیوبندی خوارج کے روپ میں منافق فرقوں کا اہلسنت وجماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے یعنی یہ اہلسنت نہیں ہیں ❌

📍مزید معلومات کے لئے ان کتب کا مطالعہ کریں 👇🏿

*1* وہابیت کے بطلان کا انکشاف
*2* دیوبندیت کے بطلان کا انکشاف
*3* فیصلہ کیجئے
*4* حق پر کون؟
*5* جاء الحق
*6* تہتر 73 فرقے 
*7* دین کس نے بگاڑا
*8* تاریخ نجد و حجاز
*9* شرح احادیث نجد
*20* وہابی تحریک
*21* والیان نجد و حجاز کا تاریخی جائزہ

الله تعالیٰ ہمیں اور ہماری نسلوں کو انبیاء کرام و صحابہ کرام اور اولیاء الله کو ماننے والا
 مزارات مقدسہ کی تعظیم کرنے والا
یارسول اللہ کہنے والا بنائے اور حقیقی مسلمان سواد اعظم اہلسنت وجماعت میں استقامت عطا فرمائے
اور گمراہیت اور اہلسنت وجماعت سے خارج تمام گمراہ فرقوں سے محفوظ فرمائے
آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم 🤲
مکمل تحریر >>

Monday, 22 February 2021

سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےعادل ہونےاور گمراہ فاسق منافق نہ ہونے پے40سےزائدحوالہ جات

*سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےعادل ہونےاور گمراہ فاسق منافق نہ ہونے پے40سےزائدحوالہ جات
نیز
صحابہ و سیدنا معاویہ رضی اللہ عنھم اجمعین کے متعلق سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کے چند اقوال و حکم، شیعہ کتب سے...........!!*
.
تعدیل صحابہ , تعدیل سیدنا معاویہ پے سینکڑوں حوالہ جات نقل کیے جاسکتے ہیں مگر ہم ان میں سےتقریبا چالیس کو ذکر کر رہے ہیں کیونکہ یہاں اختصار مقصود اور عدد چالیس اسلاف کو محبوب
.
الحدیث: 
لَا تَذْكُرُوا مُعَاوِيَةَ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اهْدِ بِهِ»
حضرت معاویہ کا تذکرہ خیر کےساتھ ہی کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی وعلیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! اسے(ہدایت یافتہ بنا کر اسے)ذریعہ ہدایت بنا۔
(سنن الترمذي ت شاكر ,5/687حدیث3843)
اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا رد نہیں ہوتی لہذا سیدنا معاویہ اور ان کا گروہ فاسق منافق نہ تھےہدایت یافتہ تھے اگرچہ اجتہادی خطا پر تھے کیونکہ اجتہادی خطا پر بھی ایک ثواب ملتا ہے 
.
الحدیث:
جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، اسْتَوْصِ مُعَاوِيَةَ ; فَإِنَّهُ أَمِينٌ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ، وَنِعْمَ الْأَمِينُ هُوَ
جناب جبریل رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے محمد! معاویہ سے خیر خواہی کرو کیونکہ وہ اللہ کی کتاب پر امین ہیں اور وہ کیا ہی اچھے امین ہیں۔
(الطبراني ,المعجم الأوسط ,4/175حدیث3902)
(جامع الأحاديث ,1/200حدیث321)
حضرت جبرائیل علیہ السلام کا حضرت معاویہ کو امین کہنا  اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا انکار نا فرمانا بلکہ سیدنا معاویہ کو کاتب رکھ لینا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ آمین ایماندار تھے فاسق منافق نہ تھے 
.
.
 أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِمُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ «اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ، وَالْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ»
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت معاویہ بن سفیان کیلئے دعا فرمائی،اے اللہ اسے لکھنا اور حساب سکھا اور اسے عذاب سے محفوظ فرما۔
(السنة لأبي بكر بن الخلال ,2/459 حدیث712)
(فضائل الصحابة لاحمد بن حنبل حدیث1749)۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اللہ تعالی سیدنا معاویہ کو عذاب سے بچائے اور نبی پاک کی دعا رد نہیں ہوتی لہذا سیدنا امیر معاویہ جنتی ہیں فاسق منافق نہیں, انہیں عذاب نہ ہوگا جب کہ فاسق منافق کو عذاب ہوتا ہے 
.
النبي صلى الله عليه وسلم انه قال لمعاوية: " اللهم اجعله هاديا مهديا واهد به
صحابی رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے
(ترمذی حدیث3842)
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا رد نہیں ہوتی لہذا حضرت امیر معاویہ ہدایت یافتہ تھے فاسق منافق نہیں۔۔۔بلکہ اکثر معاملات میں ہدایت دینے والے مجتہد تھے اکا دکا معاملات میں اجتہادی خطا ان سے ہوئی جس پر ایک اجر ملے گا  
.
۔
رباح بن الجراح الموصلي قال : سمعت رجلاً يسأل المعافى بن عمران فقال : يا أبا مسعود، أين عمر بن عبد العزيز من معاوية بن أبي سفيان ؟ فغضب من ذلك غضباً شديداً وقال : لا يقاس بأصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أحد، معاوية صاحبه وصهره وكاتبه وأمينه على وحي الله عز وجل
سیدنا ابومسعود سے کسی نے پوچھا کہ عمر بن عبدالعزیز بہتر ہیں یا معاویہ ابو مسعود شدید غصے میں آ گئے اور فرمایا کہ صحابہ کرام کے ساتھ کسی کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا معاویہ صحابی ہیں نبی پاک کے رشتے دار ہیں ان کے کاتب ہیں اور امین ہیں(فاسق و منافق نہیں ہیں )
(تاريخ بغداد ( 1/2099 )
.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ: أَنَّ أَصْحَابَ عَلِيٍّ سَأَلُوهُ عَمَّنْ قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاوِيَةَ مَا هُمْ؟ قَالَ: هُمْ مُؤْمِنُونَ
ترجمہ:
اصحاب علی نے سیدنا علی سے سوال کیا گیا مقتولینِ گروہ معاویہ کے متعلق تو سیدنا علی نے فرمایا کہ وہ سب مومن ہیں(فاسق منافق نہیں)
(5/245منہاج السنۃ)
.
.
سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ نےجب سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت کی اس وقت سے سیدنا معاویہ برحق "امیر المومنین" قرار پائے، اور آپکی حکومت اچھی(برحق.و.عادلہ)قرار پائی
(دیکھیے بخاری روایت3765, بدایہ نہایہ11/143، تاریخ الخلفاء ص256وغیرہ)
حکومت عادلہ وہ ہوتی ہے جو فاسق منافق ظالم کی نہ ہو 
.
قَالَ الْجُمْهُورُ: إِنَّ الصَّحَابَةَ كُلُّهُمْ عُدُولٌ
جمہور اکثریت نے کہا ہے تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ١٠٢/١]
.
الصحابة زكاهم النبي صلى الله عليه وسلم، ولأجل ذلك عدلهم أئمة الحديث، فكلهم عدول
صحابہ کرام کی پاکیزگی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی اسی وجہ سے ائمہ حدیث نے صحابہ کرام کو عادل قرار دیا ہے تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
[ اعتقاد أهل السنة، ٦/١]

قال حجة الإسلام الغزالي رحمه الله يحرم على الواعظ وغيره......وما جرى بين الصحابة من التشاجر والتخاصم فانه يهيج بغض الصحابة والطعن فيهم وهم اعلام الدين وما وقع بينهم من المنازعات فيحمل على محامل صحيحة فلعل ذالك لخطأ في الاجتهاد لا لطلب الرياسة او الدنيا كما لا يخفى وقال في شرح الترغيب والترهيب المسمى بفتح القريب والحذر ثم الحذر من التعرض لما شجر بين الصحابة فانهم كلهم عدول خير القرون مجتهدون مصيبهم له أجران ومخطئهم له أجر واحد
۔
حجة الاسلام امام غزالی نے فرمایا کہ صحابہ کرام کے درمیان جو مشاجرات ہوئےان کو بیان کرنا حرام ہے کیونکہ اس سے خدشہ ہے کہ صحابہ کرام کے متعلق بغض بغض اور طعن پیدا ہو۔ ۔۔۔۔۔صحابہ کرام میں جو مشاجرات ہوئے ان کی اچھی تاویل کی جائے گی کہا جائے گا کہ ان سے اجتہادی خطا ہوئی انہیں حکومت و دنیا کی طلب نہ تھی
ترغیب وترہیب کی شرح میں ہے کہ
مشاجرات صحابہ میں پڑنے سے بچو بے شک تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)تمام صحابہ کرام خیرالقرون ہیں مجتہد ہیں مجتہد میں سے جو درستگی کو پہنچا اس کے لئے دو اجر اور جس نے خطا کی اس کے لیے ایک اجر 
[روح البيان، ٤٣٧/٩]
۔

الَّذِي عَلَيْهِ سلف  الْأمة وَجُمْهُور الْخلف أَن الصَّحَابَة - رَضِي الله
 عَنْهُم - عدُول بتعديل الله تَعَالَى لَهُم
جمہوریت متقدمین علماء و اسلاف اور جمہور متاخرین علماء  و اسلاف کا اتفاق ہے کہ  تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)اللہ نے صحابہ کرام کو عادل قرار دیا ہے 
(تحبير4/1990)
.
الصحابة كلهم عدول
تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
[عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ١٧٨/١٠]
۔
صحابة رسول الله صلى الله عليه وسلم كلهم عدول بتعديل الله تعالى لهم وثنائه عليهم وثناء رسوله صلى  الله عليه وسلم.
اللہ عزوجل نے صحابہ کرام کی تعدیل کی ہے اللہ عزوجل نے صحابہ کرام کی تعریف و ثنا کی ہے اور نبی پاک نے تعریف و ثنا کی ہے لیھذا تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
عقيدة أهل السنة ص14
.
والصحابة رضي الله عنهم كلهم عدول؛ سواء من لابس الفتن منهم أم لا، وهذا بإجماع من يعتدُّ به،
تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
وہ صحابہ بھی عادل ہیں جو فتنوں جنگوں میں پڑے اور جو نہ پڑے سب صحابہ عادل ہیں اور اس پر سب کا اجماع ہے 
[ تيسير مصطلح الحديث، صفحة ٢٤٤]

الصحابة، وهم كلهم عدول.
تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
[ابن حجر العسقلاني، النكت على كتاب ابن الصلاح لابن حجر، ١٥٤/١]
.
واعلم أن الصحابة رضي اللَّه عنهم كلهم عدول
جان لو کہ تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
(لوائح الأنوار السنية ولواقح الأفكار السنية، ٩٠/٢]
.
قَالَ الخَطِيْبُ البَغْدَادِيُّ رَحِمَهُ اللهُ (463) بَعْدَ أنْ ذَكَرَ الأدِلَّةَ مِنْ كِتَابِ اللهِ، وسُنَّةِ رَسُوْلِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -، الَّتِي دَلَّتْ على عَدَالَةِ الصَّحَابَةِ وأنَّهُم كُلُّهُم عُدُوْلٌ، قَالَ: «هَذَا مَذْهَبُ كَافَّةِ العُلَمَاءِ، ومَنْ يَعْتَدُّ بِقَوْلِهِم مِنَ الفُقَهَاءِ
خطیب بغدادی نے قرآن سے دلاءل ذکر کیے، رسول اللہ کی سنت سے دلائل ذکر کیے اور پھر فرمایا کہ ان سب دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام صحابہ کرام عادل ہیں(فاسق و فاجر ظالم  منافق نہیں)اور یہی مذہب ہے تمام علماء کا اور یہی مذہب ہے معتد فقہاء کا 
الكفاية ص67

الصحابة كلهم عدول
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
[شرح أبي داود للعيني، ٥٠٩/٤]
.

أجْمَعَ أهْلُ السُّنَّةِ والجَمَاعَةِ على: أنَّ الصَّحَابَةَ جَمِيْعَهُم عُدُوْلٌ بِلاَ اسْتِثْنَاءٍ
اہل سنت و الجماعت کا اجماع ہے کہ بغیر کسی استثناء کےتمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
[تسديد الإصابة فيما شجر بين الصحابة، صفحة ١١٩]
.

جَمِيعَ الصَّحَابَةِ عُدُولٌ بِتَعْدِيلِ اللَّهِ إِيَّاهُمْ
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
اللہ نے ان کو عادل قرار دیا ہے 
[اشرح الزرقاني على الموطأ، ١٠/٤]
.

الصحابة كلهم عدول من لابس الفتن وغيرهم بإجماع من يعتد به
 تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
وہ صحابہ کرام بھی عادل ہیں جو جنگوں فتنوں میں پڑے اور دوسرے بھی عادل ہیں اور اس پر معتدبہ امت کا اجماع ہے 
التدريب (204)

[مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ٢١١/١]
.
والصحابة كلهم ثقات عدول بإجماع أهل السنة،
تمام صحابہ کرام عادل ہیں ثقہ ہیں ( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)اس پر اہل سنت کا اجماع ہے 
[شرح نخبة الفكر، ٣١/٢]
.
قال ابن الصّلاح: «ثم إن الأمة مجمعة على تعديل جميع الصّحابة ومن لابس الفتن منهم، فكذلك بإجماع العلماء الذين يعتدّ بهم في الإجماع
قال الخطيب البغداديّ في الكفاية» مبوبا على عدالتهم:
 عدالة الصحابة ثابتة معلومة بتعديل اللَّه لهم، وإخباره عن طهارتهم واختياره لهم في نص القرآن.
محقق عظیم علامہ ابن صلاح فرماتے ہیں تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
وہ صحابہ کرام بھی عدل ہیں جو جنگوں فتنوں میں پڑے اس پر معتدبہ علماء کا اجماع ہے
محقق عظیم واعظ اور علامہ خطیب بغدادی فرماتے ہیں تمام صحابہ کرام عادل ہیں(فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)صحابہ کرام کی تعدیل اللہ نے فرمائی ہے اور اللہ نے ان کی پاکیزگی کی خبر دی ہے 
[ابن حجر العسقلاني، الإصابة في تمييز الصحابة، ٢٢/١]
.
۔
فالصحابة جميعاً عدول بتعديل الله
 تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
اللہ تعالی نے انہیں عادل قرار دیا ہے 
[التنوير شرح الجامع الصغير، ٩٠/١]

وَالصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُولٌ
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
[ابن حجر العسقلاني، فتح الباري لابن حجر، ١٨١/٢]
.
.
وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهُوَ مِنَ الْعُدُولِ الْفُضَلَاءِ وَالصَّحَابَةِ النُّجَبَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَمَّا الْحُرُوبُ الَّتِي جَرَتْ فَكَانَتْ لِكُلِّ طَائِفَةٍ شُبْهَةٌ اعْتَقَدَتْ تَصْوِيبَ أَنْفُسِهَا بِسَبَبِهَا وَكُلُّهُمْ عُدُولٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَمُتَأَوِّلُونَ فِي حُرُوبِهِمْ وَغَيْرِهَا وَلَمْ يُخْرِجْ شئ مِنْ ذَلِكَ أَحَدًا مِنْهُمْ عَنِ الْعَدَالَةِ لِأَنَّهُمْ مُجْتَهِدُونَ اخْتَلَفُوا فِي مَسَائِلَ مِنْ مَحَلِّ الِاجْتِهَادِ كَمَا يَخْتَلِفُ الْمُجْتَهِدُونَ بَعْدَهُمْ فِي مَسَائِلَ مِنَ الدِّمَاءِ وَغَيْرِهَا وَلَا يَلْزَمُ مِنْ ذَلِكَ نَقْصُ أَحَدٍ مِنْهُمْ
سیدنا معاویہ عادل فضیلت والے نجباء صحابہ میں سے ہیں باقی جو ان میں جنگ ہوئی تو ان میں سے ہر ایک کے پاس شبہات تھے اجتہاد جس کی وجہ سے ان میں سے کوئی بھی عادل ہونے کی صفت سے باہر نہیں نکلتا اور ان میں کوئی نقص و عیب نہیں بنتا
[النووي ,شرح النووي على مسلم ,15/149]
.
.
كلهم عدول رضي الله تعالى عنهم
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
[الملا على القاري، شرح الشفا، ٥٤٤/١]
.

 الصحابة وهم عدول
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
[منهج الإمام أحمد في إعلال الأحاديث، ١١٠/١]
.

وَمن خَصَائِصه أَن أَصْحَابه كلهم عدُول بِإِجْمَاع من يعْتد بِهِ
اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے خصائص میں سے ہے کہ آپ کےتمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)اس پر معتد بہ علماء و امت کا اجماع ہے 
[السيوطي، الخصائص الكبرى، ٤٦٨/٢]
.

- أن الصحابة كلهم عدول من لابس منهم الفتنة ومن لم يلابس
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
وہ بھی عدل ہیں جو فتنوں جنگوں میں پڑے اور وہ بھی عادل ہیں جو نہ پڑے 
[تفسير الألوسي = روح المعاني، ١٤٠/٦]

إنهم كلهم عدول، كبيرهم وصغيرهم، من لابس الفتن وغيرهم بإجماع من يعتد بهم.
چھوٹے بڑے تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)وہ بھی عادل ہیں جو جنگوں فتنوں میں پڑے اور وہ بھی عادل ہیں جو جنگوں میں نہ پڑے اس پر معتدبہ علماء اور امت کا اجماع ہے 
[مجمع بحار الأنوار، ٢٧٦/٥]
.
وأنَّ لَهُ أجْرَيْنِ أجْرَ الاجْتِهَادِ، وأجْرَ الإصَابَةِ، وقَطَعْنا أنَّ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ومَنْ مَعَهُ مُخْطِئُوْنَ مُجْتَهِدُوْنَ مَأجُوْرُوْنَ أجْرًا واحِدًا
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے اجتہاد میں درستگی پر تھے اس لیے انہیں دو اجر ملیں گے اور یہ بات بھی قطعی ہے کہ معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کا گروہ اجتہادی خطا پر تھا اس لیے انہیں ایک اجر ملے گا 
الفِصَلُ في المِلَلِ والنِّحَلِ» لابنِ حَزْمٍ (4/ 159 - 161)
 «تَفْسِيْرُ بنِ كَثِيْرٍ (4/ 306)
[تسديد الإصابة فيما شجر بين الصحابة، صفحة ٧٠]
.
 وَإِنْ كَانُوا بُغَاةً فِي نَفْسِ الْأَمْرِ فَإِنَّهُمْ كَانُوا مُجْتَهِدِينَ فِيمَا تَعَاطَوْهُ مِنَ الْقِتَالِ، وَلَيْسَ كُلُّ مُجْتَهِدٍ مُصِيبًا، بَلِ الْمُصِيب لَهُ أَجْرَانِ والمخطئ لَهُ أجر.
سیدنا معاویہ کا گروہ باغی تھا لیکن وہ مجتہد تھے لہذا انہیں ایک اجر ملے گا اور جو درستگی پر ہوگا اسے دو اجر ملے گے 
[ابن كثير، السيرة النبوية لابن كثير، ٣٠٨/٢]
.
«إذا حكم الحاكم فاجتهد فاصاب فله أجران وإذا حكم فاجتهد فاخطأ فله أجر واحد» رواه البخاري ومسلم وأحمد وأبو داود والنسائي والترمذي عن أبي هريرة، والبخاري وأحمد والنسائي وأبو داود وابن ماجة عن عبد الله بن عمرو بن العاص، والبخاري عن أبي سلمة..فالأجران للاجتهاد والإصابة والأجر الواحد للاجتهاد وحده. والصحابة الأربعة مجتهدون في الحرب مخطئون فيه وعلي رضي الله عنه مجتهد مصيب. وقد تقرر في الأصول أنه يجب على المجتهد أن يعمل بما ادى إليه اجتهاده ولا لوم عليه ولا على مقلده. فالقاتل والمقتول من الفريقين في الجنة
بخاری مسلم احمد ابو داؤد نسائی ترمذی وغیرہ کی حدیث ہیں کہ مجتہد اگر درستگی پالے تو اسے دو اجر اور مجتہد خطا کرے تو اسے ایک اجر ملے گا صحابہ کرام نے جو جنگیں ہوئیں وہ اسی اجتہاد کی وجہ سے ہوئی تو ان میں سے جو درستگی کو تھا اس کو دو اجر ملیں گے اور جو خطاء پر تھا اسے ایک اجر ملے گا لہذا سیدنا معاویہ اور سیدنا علی و غیرہ دونوں گروہ جنتی ہیں 
[الناهية عن طعن أمير المؤمنين معاوية، صفحة ٢٧]
.
أن أصحاب علي أدنى الطائفتين إلى الحق وهذا هو مذهب أهل السنة والجماعة أن علياً هو المصيب وإن كان معاوية مجتهداً وهو مأجور إن شاء الله ولكن علي هو الإمام فله أجران كما ثبت في صحيح البخاري من حديث عمرو بن العاص أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إذا اجتهد الحاكم فأصاب فله أجران وإذا اجتهد فأخطأ فله أجر
حدیث بات میں ہے کہ مجتہد درستگی کو پالے تو اسے دو اجر اور اگر خطا کرے تو اسے ایک اجر اس کے مطابق حضرت علی کا گروہ درستگی پر تھا اسے دو اجر ملے گے اور معاویہ اجتہاد میں خطا پر تھے اس لیے اسے ایک اجر ملے گا یہی اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے 
(عقيدة أهل السنة في الصحابة لناصر بن علي، ٧٢٨/٢]
.
.

أجمعت الأمة على وجوب الكف عن الكلام في الفتن التي حدثت بين الصحابة..ونقول: كل الصحابة عدول، وكل منهم اجتهد، فمنهم من اجتهد فأصاب كـ علي فله أجران، ومنهم من اجتهد فأخطأ كـ معاوية فله أجر، فكل منهم مأجور، القاتل والمقتول، حتى الطائفة الباغية لها أجر واحد لا أجران، يعني: ليس فيهم مأزور بفضل الله سبحانه وتعالى.

امت کا اجماع ہے کہ صحابہ کرام میں جو فتنے جنگ ہوئی ان میں نہ پڑنا واجب ہے تمام صحابہ کرام عادل ہیں(فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)ان میں سے ہر ایک مجتہد ہے اور جو مجتہد حق کو پا لے جیسے کہ سیدنا علی تو اسے دو اجر ہیں اور جو مجتہد خطاء پر ہو جیسے سیدنا معاویہ تو اسے ایک اجر ملے گا لہذا سیدنا علی اور معاویہ کے قاتل مقتول سب جنتی ہیں حتیٰ کہ سیدنا معاویہ کا باغی گروہ بھی جنتی ہے اسے بھی ایک اجر ملے گایعنی تمام صحابہ میں سے کوئی بھی گناہ گار و فاسق نہیں  
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة للالكائي ١٣/٦٢]
.

وأما ما شجر بينهم بعده عليه الصلاة والسلام، فمنه ما وقع عن غير قصد، كيوم الجمل، ومنه ما كان عن اجتهاد، كيوم صفين. والاجتهار يخطئ ويصيب، ولكن صاحبه معذور وإن أخطأ، ومأجور أيضاً، وأما المصيب فله أجران اثنان، وكان علي وأصحابه أقرب إلى الحق من معاوية وأصحابه رضي الله عنهم أجمعين
صحابہ کرام میں کچھ جنگی تو ایسی ہیں جو بغیر قصد کے ہوئیں جیسے کہ جنگ جمل اور کچھ جنگیں ایسی ہیں جو اجتہاد کی بنیاد پر ہوئی جیسے کہ صفین....جس نے درستگی کو پایا جیسے کہ سیدنا علی تو ان کو دو اجر ملیں گے اور جس نے اجتہاد میں خطا کی جیسے کہ سیدنا معاویہ تو اسے ایک اجر ملے گا 
[ابن كثير، الباعث الحثيث إلى اختصار علوم الحديث، صفحة ١٨٢]
.
وَالْجَوَاب الصَّحِيح فِي هَذَا أَنهم كَانُوا مجتهدين ظانين أَنهم يَدعُونَهُ إِلَى الْجنَّة، وَإِن كَانَ فِي نفس الْأَمر خلاف ذَلِك، فَلَا لوم عَلَيْهِم فِي اتِّبَاع ظنونهم، فَإِن قلت: الْمُجْتَهد إِذا أصَاب فَلهُ أَجْرَانِ، وَإِذا أَخطَأ فَلهُ أجر، فَكيف الْأَمر هَهُنَا. قلت: الَّذِي قُلْنَا جَوَاب إقناعي فَلَا يَلِيق أَن يُذكر فِي حق الصَّحَابَة خلاف ذَلِك، لِأَن اتعالى أثنى عَلَيْهِم وَشهد لَهُم بِالْفَضْلِ
اللہ تعالی نے صحابہ کرام پر تعریف کی ہے اور ان کی فضیلت بیان کی ہے تو یہ سب مجتہد تھے جنگوں اور فتنوں میں اجتہاد کیا جس نے درستگی کو پایا اس کے لئے دو اجر اور جس نے خطا کی اس کے لیے ایک اجر یہی جواب صحیح ہے اور یہی جواب صحابہ کرام کے لائق ہے 
[بدر الدين العيني، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ٢٠٩/٤]
 
.
 وَغَايَة اجْتِهَاده أَنه كَانَ لَهُ أجر وَاحِد علىاجْتِهَاده وَأما عَليّ رَضِي الله عَنهُ فَكَانَ لَهُ أَجْرَان
زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ سیدنا معاویہ کو ایک اجر ملے گا اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دو اجر ملے گے 
[ابن حجر الهيتمي، الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة، ٦٢٤/٢]
۔
.
امام ربانی مجدد الف ثانی فرماتے ہیں:
فان معاویة واحزابه بغوا عن طاعته مع اعترافهم بانه افضل اھل زمانه وانه الاحق بالامامة بشبهه هی ترک القصاص عن قتله عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنه ونقل فی حاشیة کمال القری عن علی کرم اللہ تعالیٰ وجهه انہ قال اخواننا بغوا علینا ولیسوا کفرة ولا فسقة لما لھم من التاویل وشک نیست کہ خطاء اجتہادی از ملامت دور است واز طعن وتشنیع مرفوع ." 
ترجمہ:
بے شک معاویہ اور اس کے لشکر نے اس(حضرت علی  سے)بغاوت کی، باوجودیکہ کہ وہ مانتے تھے کہ وہ یعنی سیدنا علی تمام اہل زمانہ سے افضل ہے اور وہ اس سے زیادہ امامت کا مستحق ہے ازروئے شبہ کے اور وہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے قصاص کا ترک کرنا ہے ۔ اور حاشیہ کمال القری میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا ہمارے بھائیوں نے ہم پر بغاوت کی حالانکہ نہ ہی وہ کافر ہیں اور نہ ہی فاسق کیونکہ ان کے لیے تاویل ہے
اور شک نہیں کہ خطائے اجتہادی ملامت سے دور ہے اور طعن وتشنیع سے مرفوع ہے
(مکتوبات امام ربانی 331:1) 
.
عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ هُوَ الْمُصِيبَ الْمُحِقَّ وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى أَصْحَابُ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانُوا بُغَاةً مُتَأَوِّلِينَ وَفِيهِ التَّصْرِيحُ بِأَنَّ الطَّائِفَتَيْنِ مُؤْمِنُونَ لَا يَخْرُجُونَ بِالْقِتَالِ عَنِ الْإِيمَانِ وَلَا يَفْسُقُونَ وَهَذَا مَذْهَبُنَا وَمَذْهَبُ مُوَافِقِينَا
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ درستگی پر تھے حق پر تھے اور دوسرا گروہ یعنی سیدنا معاویہ کا گروہ وہ باغی تھے لیکن تاویل کرنے والے تھے دونوں گروہ مومنین ہیں دونوں گروہ ایمان سے نہیں نکلتے اور دونوں گروہ فاسق نہیں ہیں یہی ہمارا مذہب ہے اور یہی مذہب ہمارے(عقائد میں)موافقین(حنفی حنبلی مالکی وغیرہ تمام اہل سنت)کا مذہب ہے 
(شرح مسلم للنووی7/168)
.
.=======================
شیعوں کی معتبر ترین کتاب نہج البلاغۃ میں سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حکم موجود ہے کہ:
ومن كلام له عليه السلام وقد سمع قوما من أصحابه يسبون أهل الشام أيام حربهم بصفين إني أكره لكم أن  تكونوا سبابين، ولكنكم لو وصفتم أعمالهم وذكرتم حالهم كان أصوب في القول
ترجمہ:
جنگ صفین کے موقعے پر اصحابِ علی میں سے ایک قوم اہل الشام (سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرھما رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین) کو برا کہہ رہے تھے، لعن طعن کر رہے تھے
تو
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا:
تمہارا (اہل شام، معاویہ ، عائشہ صحابہ وغیرہ کو) برا کہنا لعن طعن کرنا مجھے سخت ناپسند ہے ، درست یہ ہے تم ان کے اعمال کی صفت بیان کرو...(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ ص437)
.
ثابت ہوا سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرہ صحابہ کرام کی تعریف و توصیف کی جائے، شان بیان کی جائے....یہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پسند ہے....ثابت ہوا کہ سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرہھما صحابہ کرام پر لعن طعن گالی و مذمت کرنے والے شیعہ ذاکرین ماکرین  رافضی نیم راضی محبانِ اہلِ بیت نہیں بلکہ نافرمان و مردود ہیں،انکےکردار کرتوت حضرت علی کو ناپسند ہیں..سخت ناپسند
.
ان عليا لم يكن ينسب أحدا من أهل حربه إلى الشرك ولا إلى النفاق ولكنه كان يقول: هم إخواننا بغوا علينا
ترجمہ:
بےشک سیدنا علی اپنےاہل حرب(سیدنا معاویہ،سیدہ عائشہ اور انکےگروہ)کو نہ تو مشرک کہتےتھےنہ منافق…بلکہ فرمایا کرتےتھےکہ وہ سب ہمارےبھائی ہیں مگر(مجتہد)باغی ہیں(شیعہ کتاب بحارالانوار32/324)
(شیعہ کتاب وسائل الشیعۃ15/83)
(شیعہ کتاب قرب الاسناد ص94)
سیدنا ابوبکر و عمر، سیدنا معاویہ وغیرہ صحابہ کرام کو کھلےعام یا ڈھکے چھپے الفاظ میں منافق بلکہ کافر تک بکنے والے،توہین و گستاخی کرنےوالےرافضی نیم رافضی اپنےایمان کی فکر کریں…یہ محبانِ علی و اہلبیت نہیں بلکہ نافرمانِ علی ہیں،نافرمانِ اہلبیت ہیں
.
شیعہ کتب جھوٹ و تضاد سے بھری ہوئی ہوتی ہیں،کہتے ہیں کہ اسلام کے نام پر بننے والے فرقوں میں سب سے زیادہ جھوٹے مکار شیعہ ہیں
مگر
جھوٹے مکار شیعہ طبرسی کے قلم سے کیا ہی عمدہ سچ نکل ہی گیا، لکھتا ہے
أن رسول الله صلى الله عليه وآله قال: ما  وجدتم في كتاب الله عز وجل فالعمل لكم به، ولا عذر لكم في تركه، وما لم يكن في كتاب الله عز وجل وكانت في سنة مني فلا عذر لكم في ترك سنتي، وما لم يكن فيه سنة مني فما قال أصحابي فقولوا، إنما مثل أصحابي فيكم كمثل النجوم، بأيها أخذ اهتدي، وبأي أقاويل أصحابي أخذتم اهتديتم، واختلاف أصحابي لكم رحمة.
ترجمہ:
بےشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کہ جو کچھ قرآن میں ہے اس پر عمل لازم ، اس کے ترک پر کوئی عذر مقبول نہیں…پس اگر کتاب اللہ میں نہ ملے تو میرے سنت میں ڈھنڈو سنت میں مل جائے تو عمل لازم ، جس کے ترک پر کوئی عذر مسموع نہ ہوگا
اور
اگر قرآن و سنت میں نہ پاؤ تو میرے صحابہ کے اقوال میں تلاش کرو، میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جس کے قول کو بھی اختیار کرو گے ہدایت پاؤ گے اور سنو میرے اصحاب(صحابہ اہلبیت) کا اختلاف رحمت ہے
(احتجاج طبرسی2/105)
.
وقال عليه السلام:يهلك في رجلان: محب مفرط، وباهت مفتر.
قال الرضى رحمه الله تعالى: وهذا مثل قوله عليه السلام: يهلك في اثنان:محب غال، ومبغض قال.الشرح:قد تقدم شرح مثل هذا الكلام، وخلاصة هذا القول: إن الهالك فيه المفرط، والمفرط أما المفرط فالغلاة، ومن قال بتكفير أعيان الصحابة ونفاقهم أو فسقهم
یعنی
حضرت علی نے فرمایا کہ میرے متعلق دو قسم کے لوگ ہلاکت میں ہیں ایک وہ جو مجھ سے حد سے زیادہ محبت کرے دوسرا وہ جو مجھ سے بغض رکھے مجھ پر بہتان باندھے
یعنی
جو اعیان صحابہ کو کافر کہے یا منافق کہے یا فاسق کہے وہ ہلاکت میں ہے
(شرح نہج البلاغۃ 20/220)
شیعہ رافضی نیم رافضی میں یہ دونوں بری عادتیں بھری پڑی ہیں کوٹ کوٹ کے....اللہ ہدایت دے، مکاروں گمراہوں کے مکر و گمراہی عیاری مکاری سے بچائے....ضدی فسادی کو تباہ و برباد فرمائے
.
بأصحاب نبيكم لا تسبوهم الذين لم يحدثوا بعده حدثا ولم يؤووا محدثا، فإن رسول الله (صلى الله عليه وآله) أوصى بهم
ترجمہ:
حضرت علی وصیت و نصیحت فرماتے ہیں کہ تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے متعلق میں تمھیں نصیحت و وصیت کرتا ہوں کہ انکی برائی نہ کرنا ، گالی لعن طعن نہ کرنا(کفر منافقت تو دور کی بات) انہوں نے نہ کوئی بدعت نکالی نہ بدعتی کو جگہ دی،بےشک رسول کریم نے بھی صحابہ کرام کے متعلق ایسی نصیحت و وصیت کی ہے.(بحار الانوار22/306)
.

حضرت علی رض اللہ عنہ نے شیعوں سے فرمایا:
رأيت أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فما أرى أحداً يشبههم منكم لقد كانوا يصبحون شعثاً غبراً وقد باتوا سجداً وقياماً
ترجمہ:
میں(علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)نے اصحاب محمد یعنی صحابہ کرام(صلی اللہ علیہ وسلم، و رضی اللہ عنھم) کو دیکھا ہے، وہ بہت عجر و انکساری والے، بہت نیک و عبادت گذار تھے
تم(شیعوں)میں سے کوئی بھی انکی مثل نہیں...
(تمام شیعوں کے مطابق صحیح و معتبر ترین کتاب نہج البلاغہ ص181)
.
نوٹ:
ویسے تو ہم کتب شیعہ کے متعلق کہتے ہیں کہ جھوٹ تضاد گستاخی سے بھری پڑی ہیں مگر کچھ سچ بھی لکھا ہے انہون نے لیھذا کتب شیعہ کی بات قرآن و سنت معتبر کتب اہلسنت کے موافق ہوگی تو وہی معتبر...مذکورہ حوالہ جات موافق قرآن و سنت ہیں، موافق کتب اہلسنت ہین لیھذا معتبر
کیونکہ
قَدْ يَصْدُقُ الْكَذُوبَ
ترجمہ:
بہت بڑا جھوٹا کبھی سچ بول دیتا ہے
(فتح الباری9/56، شیعہ کتاب شرح اصول کافی2/25)
اور
امام جعفر صادق نے فرمایا:
الناس ﺃﻭﻟﻌﻮﺍ ﺑﺎﻟﻜﺬﺏ ﻋﻠﻴﻨﺎ، ﻭﻻ ﺗﻘﺒﻠﻮﺍ ﻋﻠﻴﻨﺎ ﻣﺎ ﺧﺎﻟﻒ ﻗﻮﻝ ﺭﺑﻨﺎ ﻭﺳﻨﺔ ﻧﺒﻴﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ
ترجمہ:
امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ لوگ جو(بظاہر)ہم اہلبیت کے محب کہلاتے ہیں انہوں نے اپنی طرف سے باتیں، حدیثیں گھڑ لی ہیں اور ہم اہلبیت کی طرف منسوب کر دی ہیں جوکہ جھوٹ ہیں،
تو
ہم اہل بیت کی طرف نسبت کرکے جو کچھ کہا جائے تو اسے دیکھو کہ اگر وہ قرآن اور ہمارے نبی حضرت محمد کی سنت کے خلاف ہو تو اسے ہرگز قبول نہ کرو
(شیعہ کتاب رجال کشی ﺹ135, 195، بحار الانوار 2/246,....2/250)
.
دوستو، بھائیو ، اور احباب ذی وقار خاص کر سوشل میڈیا چلانے والے حضرات......خوب ذہن نشین کر لیجیے کہ کسی بھی کتاب یا تحریر یا تقریر یا پوسٹ میں کوئی بات کوئی حدیث لکھی اور اور اہلبیت بی بی فاطمہ ، حضرت علی یا امام جعفر صادق یا کسی بھی اہلبیت کا نام لکھا ہو یا کسی صحابی یا ولی صوفی کا نام لکھا ہو
تو
اسے فورا سچ مت تسلیم کیجیے،فورا جھوٹ بھی مت سمجھیے اگرچہ بظاہر اچھی بات ہو یا بظاہر نامعقول ہو
کیونکہ
اچھی بری بہت سی باتیں شیعوں نے، لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ لی ہیں اور نام اہلبیت و صحابہ اولیاء اسلاف میں سے کسی کا ڈال دیا ہے....اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے...لیھذا تحقیق کیجیے معتبر ذرائع سے تصدیق کراٰلئیے پھر سچ یا جھوٹ کہیے
ویسے تو ہربات کی تصدیق معتمد عالم سے کرائیے مگر بالخصوص جب اہلبیت کے نام سے لکھا ہوا ہو تو اب شدید لازم ہے کہ اسکی تصدیق کرائیے پھر بےشک پھیلائیے
کیونکہ
امام جعفر صادق نے متنبہ کر دیا تھا کہ نام نہاد جھوٹے محبانِ اہلبیت نے اہلبیت کی طرف ایسی باتیں منسوب کر رکھی ہیں جو اہلبیت نے ہرگز نہیں کہیں...رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین
.
نوٹ:
امت میں تفرقہ ڈالنےوالےایجنٹ…متعہ فحاشی حلال…دین کی بنیادصحابہ کو کافرکہنےوالےتحریف قرآن کےقائل،گستاخ مرتد شیعہ ہمدردی کےلائق نہیں ایسے کافر مرتد زندیق شیعہ کے کفر کی ایک جھلک...................!!
بایعوا ابابکر......أن الناس ارتدوا إلا ثلاثة
ترجمہ:
صحابہ نے ابوبکر کی بیعت کی.....بےشک سارے صحابہ مرتد ہوگئے سوائے تین کے
(شیعہ کتاب بحار الانوار28/255)
.
.
ارتد الناس بعد الرسول صلى الله عليه وآله إلا أربعة
ترجمہ:
رسول کی وفات کے بعد سارے لوگ(بشمول صحابہ) مرتد ہوگئے سوائے چار لوگوں کے
(شیعہ کتاب کتاب سلیم بن قیس ص162)
.
.
ارتد الناس إلا ثلاثة نفر: سلمان وأبو ذر، و المقداد. قال: فقلت: فعمار؟فقال: قد كان جاض جيضة ثم رجع
تمام لوگ(صحابہ)مرتد ہوگئے سوائے تین کے سلمان فارسی ابوذر اور مقداد، عمار کفر کی طرف مائل ہوئے پھر واپس مسلمان ہوئے(کل ملا کر مذکورہ چار صحابہ مسلمان بچے نعوذ باللہ)
(شیعہ کتاب الاختصاص ص10)
.
.
" إن الذين آمنوا ثم كفروا ثم آمنوا ثم كفروا ثم ازدادوا كفرا  لن تقبل توبتهم" قال: نزلت في فلان وفلان وفلان، آمنوا بالنبي صلى الله عليه وآله في أول الأمر وكفروا حيث عرضت عليهم الولاية، حين قال النبي صلى الله عليه وآله: من كنت مولاه فهذا علي مولاه، ثم آمنوا بالبيعة لأمير المؤمنين عليه السلام ثم كفروا حيث مضى رسول الله صلى الله عليه وآله، فلم يقروا بالبيعة، ثم ازدادوا كفرا بأخذهم من بايعه بالبيعة لهم فهؤلاء لم يبق فيهم من الايمان شئ.
خلاصہ:
آیت مین جو ہے کہ اسلام کے بعد مرتد ہوءے پھر مسلمان ہوءے پھر مرتد ہوئے پھر کفر پے ڈٹ گئے یہ
ایت صحابہ کے متعلق نازل ہوئی ان میں ایمان ذرا برابر بھی نہ بچا..(شیعہ کتاب الکافی 1/420)
.
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
facebook,whatsApp,bip nmbr
00923468392475
03468392475
مکمل تحریر >>

جمعہ کے دن کی مبارک باد دینا کیسا ہے ؟

*سوال نمبر 19 :*
جمعہ کے دن کی مبارک باد دینا کیسا ہے ؟
سائل : محمدجنیدرضاعطاری عیسیٰ خیل میانوالی
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
جمعہ کے دن کی مبارک باد دینا بالکل جائز ہے کیونکہ :
*پہلی بات :*
تو یہ ہے کہ شریعت نے اس سے منع نہیں کیا اور جس کام سے شریعت منع نہ کرے، وہ کام بالکل جائز ہوتا ہے۔
چنانچہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
*"اَلْحَلاَلُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ فِیْ کِتَابِہٖ، وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فِیْ کِتَابِہٖ، و مَا سَکَتَ عَنْہُ فَھُوَ مِمَّا عَفَا عَنْہٗ"*
یعنی حلال وہ ہے جسے اللہ پاک نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ پاک نے اپنی کتاب میں حرام کیا اور جس سے خاموشی اختیار فرمائی (یعنی منع نہ فرمایا) تو وہ معاف ہے (یعنی اس کے کرنے پر کوئی گناہ نہیں ہے)۔
*(سنن ترمذی، کتاب اللباس، باب ماجاء فِی لُبْسِ الْفِرَاءِ، صفحہ 434، رقم الحدیث : 1726، دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)*
*دوسری بات :*
 یہ ہے کہ جمعہ کا دن ہمارے لیے  مبارک اور اچھا ہے اور مبارک و اچھی بات کی مبارک باد دینے کی اصل صحیح حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے.
چنانچہ معراج کی رات جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر آسمانوں سے ہوا تو انبیاءِ کرام علیٰ نبینا و عليهم الصلاة و السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج پر مبارک باد پیش کی۔
چنانچہ حضرت مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
*"أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدثهمْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِهِ... فَانْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ. قَالَ: نَعَمْ. قيل: مرْحَبًا بِهِ فَنعم الْمَجِيء جَاءَ ففُتح فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا فِيهَا آدَمُ فَقَالَ: هَذَا أَبُوكَ آدَمُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَام ثمَّ قَالَ: مرْحَبًا بالابن الصَّالح وَالنَّبِيّ الصَّالح ثمَّ صعد بِي حَتَّى السَّماءَ الثانيةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفُتِحَ. فَلَمَّا خَلَصْتُ إِذَا يَحْيَى وَعِيسَى وَهُمَا ابْنَا خَالَةٍ. قَالَ: هَذَا يَحْيَى وَهَذَا عِيسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِمَا فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا ثُمَّ قَالَا: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ففُتح فَلَمَّا خَلَصْتُ إِذَا يُوسُفُ قَالَ: هَذَا يُوسُفُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ. ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا إِدْرِيسُ فَقَالَ: هَذَا إِدْرِيسُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفتح فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا هَارُونُ قَالَ: هَذَا هَارُونُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءَ السَّادِسَةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَهل أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا مُوسَى قَالَ: هَذَا مُوسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالح فَلَمَّا جَاوَزت بَكَى قيل: مَا بيكيك؟ قَالَ: أَبْكِي لِأَنَّ غُلَامًا بُعِثَ بَعْدِي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهِ أَكْثَرَ مِمَّنْ يَدْخُلُهَا مِنْ أُمَّتِي ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرد السَّلَام ثمَّ قَالَ: مرْحَبًا بالابن الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ"* 
یعنی نبی صلی الله علیہ و سلم نے انہیں اس رات کے متعلق خبر دی جس میں حضور کو معراج کرائی گئی۔۔۔۔۔۔پھر مجھے جبرئیل علیہ السلام لے چلے حتی کہ وہ دنیا کے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا کہا گیا کون فرمایا جبریل، کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے، فرمایا حضور محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہےکہا ہاں ان کی خوش آمدید ہو وہ خوب آئے پھر دروازہ کھول دیا گیا،جب میں داخل ہوا تو وہاں جناب آدم علیہ السلام تھے کہا یہ تمہارے والد آدم علیہ السلام ہیں انہیں سلام کرو میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا،پھر فرمایا صالح فرزند صالح نبی تم خوب تشریف لائے پھر مجھے جبرئیل علیہ السلام اوپر لے گئے حتی کہ دوسرے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون بولے میں ہوں جبریل، کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہیں، کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم، کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں، کہا خوش آمدید تم بہت ہی اچھا آنا آئے، پھر دروازہ کھول دیا گیا تو جب میں اندر پہنچا تو ناگہاں وہاں حضرت یحیی علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام تھے وہ دونوں خالہ زاد ہیں جبریل علیہ السلام نے کہا یہ یحیی علیہ السلام ہیں یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں انہیں سلام کرو میں نے سلام کیا ان دونوں نے جواب دیا پھر کہا صالح بھائی صالح نبی آپ خوب آئے،پھر جبریل علیہ السلام مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے گئے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون وہ بولے جبریل علیہ السلام ہوں،کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے،کہا حضور محمد صلی اللہ  علیہ وسلم ہیں،کہا گیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں خوش آمدید تم خوب ہی آئے پھر دروازہ کھول دیا گیا جب میں داخل ہوا تو وہاں حضرت یوسف علیہ السلام تھے جبریل علیہ السلام نے کہا یہ یوسف علیہ السلام ہیں انہیں سلام کرو میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا صالح بھائی صالح نبی آپ خوب آئے پھر مجھے اوپر لے گئے حتی کہ چوتھے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا گیا، کہا گیا کون ہیں فرمایا میں جبریل ہوں، کہا گیا تمھارے ساتھ کون ہے کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم، کہا گیا کیا انہیں بولایا گیا ہے  کہا ہاں  کہا گیا خوش آمدید اچھا آنا  آپ آئےدروازہ کھو لا گیا جب ہم اندر داخل ہوئے تو وہاں حضرت ادریس علیہ السلام تھے جبریل علیہ السلام نے کہا یہ ادریس علیہ السلام ہیں آپ انہیں اسلام کریں میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا کہا خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی پھر مجھے اوپر چڑھایا گیا حتی کہ پانچویں آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا، کہا گیا کون ہے کہا میں جبریل علیہ السلام ہوں، کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں بلایا گیا ہے، کہا گیا خوش آمدید آپ اچھا آنا آئے دروازہ کھولا گیا جب میں اندر گیا تو وہاں حضرت ہارون علیہ السلام تھے جبریل علیہ السلام نے کہا یہ ہارون علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی پھر مجھے اوپر لے گئے حتی کہ چھٹے آسمان  پر پہنچے دروازہ کھلوایا، کہا گیا کون ہے کہا میں جبریل علیہ السلام ہوں، کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں، کہا گیا خوش آمدید آپ اچھا آنا آئے دروازہ کھولا گیا میں جب اندر پہنچا تو وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے جبریل علیہ السلام نے کہا یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا  پھر کہا خوش آمدید اے صالح بھائی  صالح نبی جب وہاں سے آگے بڑھے تو وہ رونے لگے ان سے کہا گیا کیا چیز آپ کو رُلا رہی ہے فرمایا اس لیے کہ ایک فرزند میرے بعد نبی بنائے گئے ان کی امت میری امت سے زیادہ جنت میں جائے گی پھر مجھے ساتویں آسمان کی طرف اٹھایا گیا جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا، کہا گیا کون ہے کہا میں جبریل علیہ السلام ہوں، کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے،کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں تو کہا گیا خوش آمدید آپ بہت اچھا آنا آئے، پھر جب میں وہاں داخل ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں تھے جبرئیل علیہ السلام نے کہا یہ آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام ہیں آپ انہیں سلام کریں میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا خوب آئے اے صالح فرزند صالح نبی۔
*(مشکوۃ المصابیح، کتاب الفضائل و الشمائل، باب فی المعراج، المجلد الثانی، صفحہ 423، 424، 425 رقم الحدیث : 5861، ملتقطاً المکتبۃ البشریٰ کراچی پاکستان، صحیح البخاری، کتاب الصلاۃ، باب کیف فرضت الصلوات فی الاسراء، صفحہ 81، رقم الحدیث : 349 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان، صحیح مسلم)*
*تیسری بات :*
یہ ہے کہ امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب *"وصول الامانی"* میں درج ذیل عبارت سے بھی اس کا جائز ہونا ثابت ہوتا ہے۔
چنانچہ امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا :
*"قال القمولي في الجواهر: لم أر لأصحابنا كلاما في التهنئة بالعيدين والأعوام والأشهر كما يفعله الناس ورأيت فيما نقل من فوائد الشيخ زكي الدين عبد العظيم المنذري أن الحافظ أبا الحسن المقدسي سئل عن التهنئة في أوائل الشهور والسنين أهو بدعة أم لا؟*
*فأجاب بأن الناس لم يزالوا مختلفين في ذلك.*
*قال: والذي أراه أنه مباح ليس بسنة ولا بدعة."*
*ونقلہ الشرف الغزی فی شرح المنھاج ولم یزد علیہ*
یعنی (احمد بن محمد) قمولی (شافعی) رحمۃ اللہ علیہ نے *"جواہر"* میں فرمایا :
میں نے عیدین، سالوں اور مہینوں کی مبارکباد دینے کے بارے میں اپنے اصحاب کا کوئی کلام نہیں دیکھا جیساکہ لوگ اسے کرتے ہیں (یعنی مبارکباد دیتے ہیں)  اور میں نے اس میں دیکھا جس میں شیخ زکی الدین عبدالعظیم منذری کے فوائد سے نقل کیا گیا کہ بیشک حافظ ابوالحسن مقدسی رحمۃ اللہ علیہ سے مہینوں اور سالوں کی مبارکباد دینے کے متعلق پوچھا گیا کہ کیا وہ بدعت ہے یا نہیں ؟
تو جواب دیا کہ لوگ ہمیشہ اس بارے میں مختلف رہیں ہیں، (اور) فرمایا : اور وہ جسے میں خیال کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ (مبارکباد دینا) مباح (جائز) ہے، نہ سنت ہے اور نہ بدعت ہے. 
اور اس کو شرف غزی نے *"شرح المنہاج"* نقل فرمایا ہے اور اس پر زیادتی نہیں کی.
*(وصول الامانی باصول التھانی صفحہ 51، 52)*
لہذا ثابت ہوا کہ جمعہ کے دن کی مبارک باد دینا بالکل درست و جائز ہے اور اس سے روکنے والا جاہل و احمق ہے۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
22/01/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحيح، 
*فقط محمد عطاء الله النعيمي غفرله خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (باكستان) كراتشي*
مکمل تحریر >>