Pages

Monday, 22 March 2021

غیراللہ سے مدد طلب کرنا درست ہے تو پھر ہم ہر نماز میں *وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْن* (ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں) کیوں کہتے ہیں ؟

*استفتاء نمبر 344:*
اگر غیراللہ سے مدد طلب کرنا درست ہے تو پھر ہم ہر نماز میں *وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْن* (ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں) کیوں کہتے ہیں ؟
سائل : فہیم میانوالی 
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ پاک ہم حقیقی طور پر تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں اور انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء عظام رحمہم اللہ سے جو مدد طلب کی جاتی ہے تو چونکہ وہ اللہ پاک کی عطا سے مدد کرتے ہیں اور خود اللہ پاک ان کو مدد کرنے کا اختیار دیتا ہے تو اس عطا اور اختیار کی بناء پر ان کی مدد اللہ پاک کی مدد ہی ہوتی ہے جیسا کہ غزوہ بدر میں فرشتوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی مدد کی لیکن ان کی مدد کو اللہ پاک نے اپنی مدد قرار دیا۔ 
چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے : 
*"وَلَقَدْنَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّۃ"*
ترجمہ : اور بےشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی، جب تم بالکل بےسروسامان تھے.
 *(پارہ : 4، سورہ : الِ عمران، آیت :123)*
فرشتوں کی مدد کو اپنی مدد اس لیے قرار دیا کہ فرشتوں کو مدد کرنے کا اختیار خود دیا، یہی معاملہ انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء عظام رحمہم اللہ کا ہے کہ وہ بھی اللہ پاک کی عطا اور اختیار سے مدد کرتے ہیں تو ان کی مدد بھی درحقیقت اللہ پاک کی مدد ہوتی ہے لہذا ان مقدس ہستیوں سے مدد طلب کرنا، سورہ فاتحہ کی آیتِ مبارکہ کے اس جز *"وایاک نستعین"* کے خلاف نہیں.
چنانچہ خلیفہ اعلی حضرت حضرت علامہ مولانا حشمت علی رضوی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
استعانت کے معنی مدد چاہنے کے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ مدد اسی سے چاہی جاتی ہے جو مدد کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور وہ حقیقۃً اللہ تبارک و تعالی ہی ہے، اسی کے قبضہ قدرت میں ہر قسم کی مدد کرنا اور دوسروں کو مدد کرنے کی توفیق و طاقت بخشنا ہے، اسی کا اقرار بندے کی زبان سے ان آیات میں کرایا گیا ہے، انبیاء و اولیاء وغیرہ محبوبان خدا اس کے وسائل ہیں، تو ان سے جو امداد چاہی جاتی ہے وہ حقیقۃً خدا ہی سے مدد چاہنا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے : *"وابتغوا الیہ الوسیلۃ"* (المائدۃ : 35) اللہ کی طرف پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو۔ اور وہ وسیلہ یہی انبیاء و اولیاء و صلحاء اور نماز وغیرہ اعمال صالحہ ہیں، جن کے ذریعہ سے بندے کی دعا دربار الہی تک پہنچتی ہے اور اس کا مدعا بر آتا ہے، اسی لیے بندے کو گناہ کرنے کے بعد اپنے محبوب کے دربار میں حاضر ہو کر ان کے وسیلہ سے استغفار کرنے اور گناہ کی معافی چاہنے کا حکم دیا ہے کما قال اللہ تعالی : *"ولو انھم اذظلموا انفسھم جاؤوک الخ"* (النساء : 64) یعنی اگر وہ لوگ جب اپنے نفس پر ظلم کریں یعنی گناہ کریں تو اے نبی تیری بارگاہ میں حاضر ہو کر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول بھی ان کے لیے معافی چاہے تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا پائیں گے۔ ابو جعفر نے مسجد نبوی میں حضرت امام مالک رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے دریافت کیا کہ کیا میں قبلہ کی طرف منہ کر کے دعا مانگوں یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جانب، تو امام مالک رحمۃ اللہ تعالی نے فرمایا : تم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جانب سے کیوں منہ پھیرتے ہو وہ تو تمہارے اور تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام کے قیامت تک اللہ تبارک و تعالیٰ کی جناب میں وسیلہ ہیں، انہیں کی طرف توجہ کرو اور ان سے اپنی حاجت و مراد میں شفاعت چاہو، پس اللہ تبارک و تعالی تمہارے لئے ان کی شفاعت قبول فرمائے گا۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم (شرح شفا لعلی القاری) اور اسی لئے صبر و صلوۃ سے استعانت کرنے کا حکم دیا گیا *"واستعینوا بالصبر والصلاۃ"* (البقرة : 45) فرمایا گیا ہے بلکہ مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے تعاون کرنے اور مدد لینے کا حکم دیا گیا *" وتعاونوا علی البر و التقوی"* (المائدۃ : 2) فرمایا گیا ہے، تو اگر کسی سے مدد چاہنا اور کسی کی مدد کرنا مطلقاً ممنوع یا ناجائز ہوتا تو آیتِ مذکورہ میں نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کو وسیلہ بنانے اور وسیلہ تلاش کرنے اور استعانت کرنے اور آپس میں ایک دوسرے کا تعاون کرنے اور مدد کرنے کا حکم نہ فرمایا جاتا، اور طبرانی وغیرہ کی احادیث میں *"اعینونی یاعباداللہ"* وارد نہ ہوتا اور سرورِ عالم صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم ایک نابینا کو دعا میں یہ الفاظ تعلیم نہ فرماتے : *"اللھم انی اسئلک و اتوجہ الیک بنبیک محمد الخ"* یعنی اے اللہ میں تجھ سے تیرے نبی کے توسل سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں. (ترمذی و نسائی و ابن ماجہ وغیرہ) بلکہ بندوں تک اپنے احکام پہنچانے کے لیے حضرت جبرائیل اور انبیاء علیھم السلام کو واسطہ و ذریعہ نہ بناتا، گویا اسی نے ہمیں وسیلہ اور ذریعہ بنانا سکھایا، اس سے معلوم ہوا کہ دراصل استعانت حقیقی اللہ عزوجل ہی سے ہے اور انبیاء و اولیاء اس سے مدد چاہنے کا وسیلہ ہیں، ان کی طرف استعانت کی نسبت مجازاً کی جاتی ہے،اس قدر کے تو وہابیہ بھی قائل ہیں تو اصاغر کو بھی اس پر ایمان لانا چاہیے۔"
*(تفسیر جوہر الایقان المعروف تفسیرِ رضعی، جلد 1، صفحہ 5، مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور)*
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ایک شعر میں کیا خوب فرمایا : 
حاکم حکیم داد و دوا دیں، یہ کچھ نہ دیں 
مردود یہ مراد کس آیت خبر کی ہے۔ 
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
22/03/2021
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
انبیاء و اولیاء سے مدد چاہنے کے حوالے سے جو آپ کا تحقیقی فتویٰ ہے، بندہ ناچیز اس کی مکمل تائید و توثیق کرتا ہے، اہل اللہ سے مدد مانگنا درحقیقت اللہ ہی سے مدد مانگنا ہے، اللہ ہی ان کو یہ توفیق بخشتا ہے کہ وہ آگے کسی کی مدد کر سکیں، ایک سڑیل وہابی نے یہ کہا تھا :
وہ کیا ہے جو ملتا نہیں خدا سے جسے مانگتے ہو تم اولیاء سے
تو اسے یہ جواب دیا گیا :
وہ چندہ ہے جو نہیں ملتا خدا سے
جسے مانگتے ہو تم اغنیاء سے۔
اہل اللہ کا در چھوڑ کر پھر یہ اہل الدنیا کے در پر گرتے پڑتے ہیں، اللہ تعالیٰ عقلِ سلیم نصیب فرمائے۔
اس حوالہ سے اعلیٰ حضرت عظیم المرتبت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب مستطاب *"برکات الامداد لاہل الاستمداد"* کافی اور وافی ہے۔ 
اور آسان لفظوں میں مختصر دلائل کے ساتھ فقیر معطر قادری گدائے رضوی کا مطبوعہ سولہ صفحات کا فتویٰ *"الاستمداد"* بھی سالہا سال سے شائع ذائع ہے، الله تعالیٰ سمجھ کی توفیق نصیب فرمائے۔
وماتوفیقی الا بالله العلی العظيم۔
*مفتی و حکیم محمد عارف محمود خان معطر قادری، مرکزی دارالافتاء اہلسنت میانوالی۔*
مکمل تحریر >>

گمراہ فرقوں کے نام :

گمراہ فرقوں کے نام :

❶ معتزلہ (قدریہ )
معتزلہ کے کل بیس 20 فرقے ہیں ۔
❶ واصلیہ                   ❷ عمریہ 
❸ ہذیلیہ                    ❹ نظامیہ
❺ اسواریہ                  ❻ اِ سکافیہ 
❼ جعفریہ                  ❽ بِشریہ
❾ مُزداریہ                 ❿ ہشامیہ 
❶ ❶ صالحیہ              ❷ ❶ حابطیہ 
❸ ❶ حدبیہ             ❹❶ مَعمریہ 
❺ ❶ ثمامیہ             ❻ ❶ خیّاطیّہ 
❼ ❶ جاحظیہ            ❽ ❶کعبیہ 
❾ ❶ جبائیہ              ⑳  بہشمیہ

❷ شیعہ       
(فتنوں کاظہور ص ۳۶ )
ان میں بنیادی فرقے تین ہیں ۔
❶ غلاۃ     ❷ زیدیہ      ❸ امامیہ 

غلاۃ سے اٹھارہ 18 فرقے پیدا ہوئے ۔
❶ سبائیہ                 ❷ کاملیہ نم
❸ بنانیہ یابیانیہ       ن    ❹ مغیریہ 
❺ جناحیہ                ❻ منصوریہ 
❼ خطابیہ                ❽ غرابیہ اورذبابیہ 
❾ ذمّیہ                  ❿ ہشامیہ 
❶ ❶ زُراریہ           ❷ ❶ یونسیہ 
❸ ❶ شیطانیہ           ❹ ❶ رزامیہ 
❺ ❶ مفوّضہ            ❻ ❶ بدئیہ 
❼ ❶ نُصیریہ اوراسحاقیہ ❽ ❶ اِ سماعلیہ 

اسماعلیہ کے سات 7 القاب ہیں ۔
❶ باطنیہ                 ❷ قرامطہ 
❸ حِرمیہ                ❹ سبعیہ 
❺ بابکیہ                  ❻ مُحمرہ 
❼ اسماعلیہ 

اسماعلیہ کے چند فرقے ہیں ۔
❶ مبارکیہ                 ❷ میمونیہ 
❸ شمیطیہ                  ❹ برقیہ 
❺ جنابیہ                   ❻ مہدویہ 
❼ مستعلیہ                 ❽ نزاریہ 

زیدیہ کے تین فرقے ہیں ۔
❶ جارودیہ   ❷ سلیمانیہ    ❸ تبیریہ 

فرقہ امامیہ
امامیہ کی بہت شاخیں ہیں ۔
❶ افطحیہ                    ❷ مفضلیہ 
❸ ممطوریہ                   ❹ موسویہ 
❺ رجعیہ                     ❻ احمدیہ 
❼ اثناعشریہ                  ❽ جعفریہ 

❸ خوارج
خارجیوں کےسات 7 فرقے ہیں ۔
❶ محکمہ                    ❷ بیہسیہ 
❸ ازارقہ                  ❹نجدات 
❺ صُفریہ یااصفریہ          ❻ اباضیہ 
❼ عجاردہ 

عجاردہ کےدس فرقے ہیں ۔
❶ میمونیہ                  ❷ حمزیہ 
❸ شعیبیہ                  ❹ حازمیہ 
❺ خلفیہ                   ❻ اطرافیہ 
❼ معلومیہ                 ❽ مجہولیہ 
❾ صلتیہ                   ❿ ثعالبہ 

ثعالبہ کے چار فرقے ہوگئے
❶ اخنسیہ                 ❷ معبدیہ 
❸ شیبانیہ                 ❹ مکرّمیہ 

خوارج میں سے چند فرقوں کےنام مندرجہ ذیل ہیں ۔
❶ ضحاکیہ                ❷ شبیبیہ 
❸ کوزیہ                 ❹ کنزیہ 
❺ شمراخیہ               ❻ بدعیہ 
❼ اصومیہ               ❽ یعقوبیہ 
❾ فضلیہ 

❹ مرجئہ
مرجئہ کے پانچ 5 فرقے ہیں ۔
❶ یونسیہ                 ❷ عبیدیہ 
❸ غسّانیہ                 ❹ ثوبانیہ 
❺ ثومنیہ

❺ نجاریہ 
نجاریہ کے تین 3 فرقے ہیں ۔
❶ بُرغوثیہ                ❷ زعفرانیہ 
❸ مستدرکیہ   
           
❻ جبریہ 
جبریہ کی دو قسمیں ہیں ۔
❶ متوسطہ               ❷ خالصہ

❼ مشبہہ 
❶ مشبہہ غلاۃ شیعہ مثلا سبائیہ بیانیہ اور مغیریہ وغیرہ کی طرح ہیں ۔
❷ مشبہہ حشویہ جیسے مضر ۔کہمش اور ہجیمی 
❸ مشبہہ کرامیہ

👈 وہ فرقے جو ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔
❶ قادیانی 
❷ نیچریہ 
❸ اہلِ قرآن یا چکڑالوی 
❹ وہابیہ یا نجدیہ 

ہندوستان کے وہابی دو فرقوں میں بٹ گئے ۔
❶ اہلِ حدیث 
❷ دیوبندی

دیوبندی فرقے کی دو قسمی
❶ حیاتی
❷  مَماتی

(فتنوں کا ظہور اور اہلِ حق کا جہاد ص ۲۱ تا ۹۵)

📍یاد رہے کہ 
بدمذہب و بدعقیدہ نجدی وہابی دیوبندی خوارج کے روپ میں منافق فرقوں کا اہلسنت وجماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے یعنی یہ اہلسنت نہیں ہیں ❌

📍مزید معلومات کے لئے ان کتب کا مطالعہ کریں 👇🏿

*1* وہابیت کے بطلان کا انکشاف
*2* دیوبندیت کے بطلان کا انکشاف
*3* فیصلہ کیجئے
*4* حق پر کون؟
*5* جاء الحق
*6* تہتر 73 فرقے 
*7* دین کس نے بگاڑا
*8* تاریخ نجد و حجاز
*9* شرح احادیث نجد
*20* وہابی تحریک
*21* والیان نجد و حجاز کا تاریخی جائزہ

الله تعالیٰ ہمیں اور ہماری نسلوں کو انبیاء کرام و صحابہ کرام اور اولیاء الله کو ماننے والا
 مزارات مقدسہ کی تعظیم کرنے والا
یارسول اللہ کہنے والا بنائے اور حقیقی مسلمان سواد اعظم اہلسنت وجماعت میں استقامت عطا فرمائے
اور گمراہیت اور اہلسنت وجماعت سے خارج تمام گمراہ فرقوں سے محفوظ فرمائے
آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم 🤲
مکمل تحریر >>

Monday, 22 February 2021

سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےعادل ہونےاور گمراہ فاسق منافق نہ ہونے پے40سےزائدحوالہ جات

*سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےعادل ہونےاور گمراہ فاسق منافق نہ ہونے پے40سےزائدحوالہ جات
نیز
صحابہ و سیدنا معاویہ رضی اللہ عنھم اجمعین کے متعلق سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کے چند اقوال و حکم، شیعہ کتب سے...........!!*
.
تعدیل صحابہ , تعدیل سیدنا معاویہ پے سینکڑوں حوالہ جات نقل کیے جاسکتے ہیں مگر ہم ان میں سےتقریبا چالیس کو ذکر کر رہے ہیں کیونکہ یہاں اختصار مقصود اور عدد چالیس اسلاف کو محبوب
.
الحدیث: 
لَا تَذْكُرُوا مُعَاوِيَةَ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اهْدِ بِهِ»
حضرت معاویہ کا تذکرہ خیر کےساتھ ہی کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی وعلیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! اسے(ہدایت یافتہ بنا کر اسے)ذریعہ ہدایت بنا۔
(سنن الترمذي ت شاكر ,5/687حدیث3843)
اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا رد نہیں ہوتی لہذا سیدنا معاویہ اور ان کا گروہ فاسق منافق نہ تھےہدایت یافتہ تھے اگرچہ اجتہادی خطا پر تھے کیونکہ اجتہادی خطا پر بھی ایک ثواب ملتا ہے 
.
الحدیث:
جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، اسْتَوْصِ مُعَاوِيَةَ ; فَإِنَّهُ أَمِينٌ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ، وَنِعْمَ الْأَمِينُ هُوَ
جناب جبریل رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے محمد! معاویہ سے خیر خواہی کرو کیونکہ وہ اللہ کی کتاب پر امین ہیں اور وہ کیا ہی اچھے امین ہیں۔
(الطبراني ,المعجم الأوسط ,4/175حدیث3902)
(جامع الأحاديث ,1/200حدیث321)
حضرت جبرائیل علیہ السلام کا حضرت معاویہ کو امین کہنا  اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا انکار نا فرمانا بلکہ سیدنا معاویہ کو کاتب رکھ لینا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ آمین ایماندار تھے فاسق منافق نہ تھے 
.
.
 أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِمُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ «اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ، وَالْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ»
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت معاویہ بن سفیان کیلئے دعا فرمائی،اے اللہ اسے لکھنا اور حساب سکھا اور اسے عذاب سے محفوظ فرما۔
(السنة لأبي بكر بن الخلال ,2/459 حدیث712)
(فضائل الصحابة لاحمد بن حنبل حدیث1749)۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اللہ تعالی سیدنا معاویہ کو عذاب سے بچائے اور نبی پاک کی دعا رد نہیں ہوتی لہذا سیدنا امیر معاویہ جنتی ہیں فاسق منافق نہیں, انہیں عذاب نہ ہوگا جب کہ فاسق منافق کو عذاب ہوتا ہے 
.
النبي صلى الله عليه وسلم انه قال لمعاوية: " اللهم اجعله هاديا مهديا واهد به
صحابی رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے
(ترمذی حدیث3842)
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا رد نہیں ہوتی لہذا حضرت امیر معاویہ ہدایت یافتہ تھے فاسق منافق نہیں۔۔۔بلکہ اکثر معاملات میں ہدایت دینے والے مجتہد تھے اکا دکا معاملات میں اجتہادی خطا ان سے ہوئی جس پر ایک اجر ملے گا  
.
۔
رباح بن الجراح الموصلي قال : سمعت رجلاً يسأل المعافى بن عمران فقال : يا أبا مسعود، أين عمر بن عبد العزيز من معاوية بن أبي سفيان ؟ فغضب من ذلك غضباً شديداً وقال : لا يقاس بأصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أحد، معاوية صاحبه وصهره وكاتبه وأمينه على وحي الله عز وجل
سیدنا ابومسعود سے کسی نے پوچھا کہ عمر بن عبدالعزیز بہتر ہیں یا معاویہ ابو مسعود شدید غصے میں آ گئے اور فرمایا کہ صحابہ کرام کے ساتھ کسی کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا معاویہ صحابی ہیں نبی پاک کے رشتے دار ہیں ان کے کاتب ہیں اور امین ہیں(فاسق و منافق نہیں ہیں )
(تاريخ بغداد ( 1/2099 )
.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ: أَنَّ أَصْحَابَ عَلِيٍّ سَأَلُوهُ عَمَّنْ قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاوِيَةَ مَا هُمْ؟ قَالَ: هُمْ مُؤْمِنُونَ
ترجمہ:
اصحاب علی نے سیدنا علی سے سوال کیا گیا مقتولینِ گروہ معاویہ کے متعلق تو سیدنا علی نے فرمایا کہ وہ سب مومن ہیں(فاسق منافق نہیں)
(5/245منہاج السنۃ)
.
.
سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ نےجب سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت کی اس وقت سے سیدنا معاویہ برحق "امیر المومنین" قرار پائے، اور آپکی حکومت اچھی(برحق.و.عادلہ)قرار پائی
(دیکھیے بخاری روایت3765, بدایہ نہایہ11/143، تاریخ الخلفاء ص256وغیرہ)
حکومت عادلہ وہ ہوتی ہے جو فاسق منافق ظالم کی نہ ہو 
.
قَالَ الْجُمْهُورُ: إِنَّ الصَّحَابَةَ كُلُّهُمْ عُدُولٌ
جمہور اکثریت نے کہا ہے تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ١٠٢/١]
.
الصحابة زكاهم النبي صلى الله عليه وسلم، ولأجل ذلك عدلهم أئمة الحديث، فكلهم عدول
صحابہ کرام کی پاکیزگی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی اسی وجہ سے ائمہ حدیث نے صحابہ کرام کو عادل قرار دیا ہے تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
[ اعتقاد أهل السنة، ٦/١]

قال حجة الإسلام الغزالي رحمه الله يحرم على الواعظ وغيره......وما جرى بين الصحابة من التشاجر والتخاصم فانه يهيج بغض الصحابة والطعن فيهم وهم اعلام الدين وما وقع بينهم من المنازعات فيحمل على محامل صحيحة فلعل ذالك لخطأ في الاجتهاد لا لطلب الرياسة او الدنيا كما لا يخفى وقال في شرح الترغيب والترهيب المسمى بفتح القريب والحذر ثم الحذر من التعرض لما شجر بين الصحابة فانهم كلهم عدول خير القرون مجتهدون مصيبهم له أجران ومخطئهم له أجر واحد
۔
حجة الاسلام امام غزالی نے فرمایا کہ صحابہ کرام کے درمیان جو مشاجرات ہوئےان کو بیان کرنا حرام ہے کیونکہ اس سے خدشہ ہے کہ صحابہ کرام کے متعلق بغض بغض اور طعن پیدا ہو۔ ۔۔۔۔۔صحابہ کرام میں جو مشاجرات ہوئے ان کی اچھی تاویل کی جائے گی کہا جائے گا کہ ان سے اجتہادی خطا ہوئی انہیں حکومت و دنیا کی طلب نہ تھی
ترغیب وترہیب کی شرح میں ہے کہ
مشاجرات صحابہ میں پڑنے سے بچو بے شک تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)تمام صحابہ کرام خیرالقرون ہیں مجتہد ہیں مجتہد میں سے جو درستگی کو پہنچا اس کے لئے دو اجر اور جس نے خطا کی اس کے لیے ایک اجر 
[روح البيان، ٤٣٧/٩]
۔

الَّذِي عَلَيْهِ سلف  الْأمة وَجُمْهُور الْخلف أَن الصَّحَابَة - رَضِي الله
 عَنْهُم - عدُول بتعديل الله تَعَالَى لَهُم
جمہوریت متقدمین علماء و اسلاف اور جمہور متاخرین علماء  و اسلاف کا اتفاق ہے کہ  تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)اللہ نے صحابہ کرام کو عادل قرار دیا ہے 
(تحبير4/1990)
.
الصحابة كلهم عدول
تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
[عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ١٧٨/١٠]
۔
صحابة رسول الله صلى الله عليه وسلم كلهم عدول بتعديل الله تعالى لهم وثنائه عليهم وثناء رسوله صلى  الله عليه وسلم.
اللہ عزوجل نے صحابہ کرام کی تعدیل کی ہے اللہ عزوجل نے صحابہ کرام کی تعریف و ثنا کی ہے اور نبی پاک نے تعریف و ثنا کی ہے لیھذا تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
عقيدة أهل السنة ص14
.
والصحابة رضي الله عنهم كلهم عدول؛ سواء من لابس الفتن منهم أم لا، وهذا بإجماع من يعتدُّ به،
تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
وہ صحابہ بھی عادل ہیں جو فتنوں جنگوں میں پڑے اور جو نہ پڑے سب صحابہ عادل ہیں اور اس پر سب کا اجماع ہے 
[ تيسير مصطلح الحديث، صفحة ٢٤٤]

الصحابة، وهم كلهم عدول.
تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
[ابن حجر العسقلاني، النكت على كتاب ابن الصلاح لابن حجر، ١٥٤/١]
.
واعلم أن الصحابة رضي اللَّه عنهم كلهم عدول
جان لو کہ تمام صحابہ عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
(لوائح الأنوار السنية ولواقح الأفكار السنية، ٩٠/٢]
.
قَالَ الخَطِيْبُ البَغْدَادِيُّ رَحِمَهُ اللهُ (463) بَعْدَ أنْ ذَكَرَ الأدِلَّةَ مِنْ كِتَابِ اللهِ، وسُنَّةِ رَسُوْلِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -، الَّتِي دَلَّتْ على عَدَالَةِ الصَّحَابَةِ وأنَّهُم كُلُّهُم عُدُوْلٌ، قَالَ: «هَذَا مَذْهَبُ كَافَّةِ العُلَمَاءِ، ومَنْ يَعْتَدُّ بِقَوْلِهِم مِنَ الفُقَهَاءِ
خطیب بغدادی نے قرآن سے دلاءل ذکر کیے، رسول اللہ کی سنت سے دلائل ذکر کیے اور پھر فرمایا کہ ان سب دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام صحابہ کرام عادل ہیں(فاسق و فاجر ظالم  منافق نہیں)اور یہی مذہب ہے تمام علماء کا اور یہی مذہب ہے معتد فقہاء کا 
الكفاية ص67

الصحابة كلهم عدول
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
[شرح أبي داود للعيني، ٥٠٩/٤]
.

أجْمَعَ أهْلُ السُّنَّةِ والجَمَاعَةِ على: أنَّ الصَّحَابَةَ جَمِيْعَهُم عُدُوْلٌ بِلاَ اسْتِثْنَاءٍ
اہل سنت و الجماعت کا اجماع ہے کہ بغیر کسی استثناء کےتمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
[تسديد الإصابة فيما شجر بين الصحابة، صفحة ١١٩]
.

جَمِيعَ الصَّحَابَةِ عُدُولٌ بِتَعْدِيلِ اللَّهِ إِيَّاهُمْ
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
اللہ نے ان کو عادل قرار دیا ہے 
[اشرح الزرقاني على الموطأ، ١٠/٤]
.

الصحابة كلهم عدول من لابس الفتن وغيرهم بإجماع من يعتد به
 تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
وہ صحابہ کرام بھی عادل ہیں جو جنگوں فتنوں میں پڑے اور دوسرے بھی عادل ہیں اور اس پر معتدبہ امت کا اجماع ہے 
التدريب (204)

[مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ٢١١/١]
.
والصحابة كلهم ثقات عدول بإجماع أهل السنة،
تمام صحابہ کرام عادل ہیں ثقہ ہیں ( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)اس پر اہل سنت کا اجماع ہے 
[شرح نخبة الفكر، ٣١/٢]
.
قال ابن الصّلاح: «ثم إن الأمة مجمعة على تعديل جميع الصّحابة ومن لابس الفتن منهم، فكذلك بإجماع العلماء الذين يعتدّ بهم في الإجماع
قال الخطيب البغداديّ في الكفاية» مبوبا على عدالتهم:
 عدالة الصحابة ثابتة معلومة بتعديل اللَّه لهم، وإخباره عن طهارتهم واختياره لهم في نص القرآن.
محقق عظیم علامہ ابن صلاح فرماتے ہیں تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
وہ صحابہ کرام بھی عدل ہیں جو جنگوں فتنوں میں پڑے اس پر معتدبہ علماء کا اجماع ہے
محقق عظیم واعظ اور علامہ خطیب بغدادی فرماتے ہیں تمام صحابہ کرام عادل ہیں(فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)صحابہ کرام کی تعدیل اللہ نے فرمائی ہے اور اللہ نے ان کی پاکیزگی کی خبر دی ہے 
[ابن حجر العسقلاني، الإصابة في تمييز الصحابة، ٢٢/١]
.
۔
فالصحابة جميعاً عدول بتعديل الله
 تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
اللہ تعالی نے انہیں عادل قرار دیا ہے 
[التنوير شرح الجامع الصغير، ٩٠/١]

وَالصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُولٌ
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)
[ابن حجر العسقلاني، فتح الباري لابن حجر، ١٨١/٢]
.
.
وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهُوَ مِنَ الْعُدُولِ الْفُضَلَاءِ وَالصَّحَابَةِ النُّجَبَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَمَّا الْحُرُوبُ الَّتِي جَرَتْ فَكَانَتْ لِكُلِّ طَائِفَةٍ شُبْهَةٌ اعْتَقَدَتْ تَصْوِيبَ أَنْفُسِهَا بِسَبَبِهَا وَكُلُّهُمْ عُدُولٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَمُتَأَوِّلُونَ فِي حُرُوبِهِمْ وَغَيْرِهَا وَلَمْ يُخْرِجْ شئ مِنْ ذَلِكَ أَحَدًا مِنْهُمْ عَنِ الْعَدَالَةِ لِأَنَّهُمْ مُجْتَهِدُونَ اخْتَلَفُوا فِي مَسَائِلَ مِنْ مَحَلِّ الِاجْتِهَادِ كَمَا يَخْتَلِفُ الْمُجْتَهِدُونَ بَعْدَهُمْ فِي مَسَائِلَ مِنَ الدِّمَاءِ وَغَيْرِهَا وَلَا يَلْزَمُ مِنْ ذَلِكَ نَقْصُ أَحَدٍ مِنْهُمْ
سیدنا معاویہ عادل فضیلت والے نجباء صحابہ میں سے ہیں باقی جو ان میں جنگ ہوئی تو ان میں سے ہر ایک کے پاس شبہات تھے اجتہاد جس کی وجہ سے ان میں سے کوئی بھی عادل ہونے کی صفت سے باہر نہیں نکلتا اور ان میں کوئی نقص و عیب نہیں بنتا
[النووي ,شرح النووي على مسلم ,15/149]
.
.
كلهم عدول رضي الله تعالى عنهم
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
[الملا على القاري، شرح الشفا، ٥٤٤/١]
.

 الصحابة وهم عدول
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
[منهج الإمام أحمد في إعلال الأحاديث، ١١٠/١]
.

وَمن خَصَائِصه أَن أَصْحَابه كلهم عدُول بِإِجْمَاع من يعْتد بِهِ
اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے خصائص میں سے ہے کہ آپ کےتمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)اس پر معتد بہ علماء و امت کا اجماع ہے 
[السيوطي، الخصائص الكبرى، ٤٦٨/٢]
.

- أن الصحابة كلهم عدول من لابس منهم الفتنة ومن لم يلابس
تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں) 
وہ بھی عدل ہیں جو فتنوں جنگوں میں پڑے اور وہ بھی عادل ہیں جو نہ پڑے 
[تفسير الألوسي = روح المعاني، ١٤٠/٦]

إنهم كلهم عدول، كبيرهم وصغيرهم، من لابس الفتن وغيرهم بإجماع من يعتد بهم.
چھوٹے بڑے تمام صحابہ کرام عادل ہیں( فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)وہ بھی عادل ہیں جو جنگوں فتنوں میں پڑے اور وہ بھی عادل ہیں جو جنگوں میں نہ پڑے اس پر معتدبہ علماء اور امت کا اجماع ہے 
[مجمع بحار الأنوار، ٢٧٦/٥]
.
وأنَّ لَهُ أجْرَيْنِ أجْرَ الاجْتِهَادِ، وأجْرَ الإصَابَةِ، وقَطَعْنا أنَّ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ومَنْ مَعَهُ مُخْطِئُوْنَ مُجْتَهِدُوْنَ مَأجُوْرُوْنَ أجْرًا واحِدًا
سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے اجتہاد میں درستگی پر تھے اس لیے انہیں دو اجر ملیں گے اور یہ بات بھی قطعی ہے کہ معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کا گروہ اجتہادی خطا پر تھا اس لیے انہیں ایک اجر ملے گا 
الفِصَلُ في المِلَلِ والنِّحَلِ» لابنِ حَزْمٍ (4/ 159 - 161)
 «تَفْسِيْرُ بنِ كَثِيْرٍ (4/ 306)
[تسديد الإصابة فيما شجر بين الصحابة، صفحة ٧٠]
.
 وَإِنْ كَانُوا بُغَاةً فِي نَفْسِ الْأَمْرِ فَإِنَّهُمْ كَانُوا مُجْتَهِدِينَ فِيمَا تَعَاطَوْهُ مِنَ الْقِتَالِ، وَلَيْسَ كُلُّ مُجْتَهِدٍ مُصِيبًا، بَلِ الْمُصِيب لَهُ أَجْرَانِ والمخطئ لَهُ أجر.
سیدنا معاویہ کا گروہ باغی تھا لیکن وہ مجتہد تھے لہذا انہیں ایک اجر ملے گا اور جو درستگی پر ہوگا اسے دو اجر ملے گے 
[ابن كثير، السيرة النبوية لابن كثير، ٣٠٨/٢]
.
«إذا حكم الحاكم فاجتهد فاصاب فله أجران وإذا حكم فاجتهد فاخطأ فله أجر واحد» رواه البخاري ومسلم وأحمد وأبو داود والنسائي والترمذي عن أبي هريرة، والبخاري وأحمد والنسائي وأبو داود وابن ماجة عن عبد الله بن عمرو بن العاص، والبخاري عن أبي سلمة..فالأجران للاجتهاد والإصابة والأجر الواحد للاجتهاد وحده. والصحابة الأربعة مجتهدون في الحرب مخطئون فيه وعلي رضي الله عنه مجتهد مصيب. وقد تقرر في الأصول أنه يجب على المجتهد أن يعمل بما ادى إليه اجتهاده ولا لوم عليه ولا على مقلده. فالقاتل والمقتول من الفريقين في الجنة
بخاری مسلم احمد ابو داؤد نسائی ترمذی وغیرہ کی حدیث ہیں کہ مجتہد اگر درستگی پالے تو اسے دو اجر اور مجتہد خطا کرے تو اسے ایک اجر ملے گا صحابہ کرام نے جو جنگیں ہوئیں وہ اسی اجتہاد کی وجہ سے ہوئی تو ان میں سے جو درستگی کو تھا اس کو دو اجر ملیں گے اور جو خطاء پر تھا اسے ایک اجر ملے گا لہذا سیدنا معاویہ اور سیدنا علی و غیرہ دونوں گروہ جنتی ہیں 
[الناهية عن طعن أمير المؤمنين معاوية، صفحة ٢٧]
.
أن أصحاب علي أدنى الطائفتين إلى الحق وهذا هو مذهب أهل السنة والجماعة أن علياً هو المصيب وإن كان معاوية مجتهداً وهو مأجور إن شاء الله ولكن علي هو الإمام فله أجران كما ثبت في صحيح البخاري من حديث عمرو بن العاص أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إذا اجتهد الحاكم فأصاب فله أجران وإذا اجتهد فأخطأ فله أجر
حدیث بات میں ہے کہ مجتہد درستگی کو پالے تو اسے دو اجر اور اگر خطا کرے تو اسے ایک اجر اس کے مطابق حضرت علی کا گروہ درستگی پر تھا اسے دو اجر ملے گے اور معاویہ اجتہاد میں خطا پر تھے اس لیے اسے ایک اجر ملے گا یہی اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے 
(عقيدة أهل السنة في الصحابة لناصر بن علي، ٧٢٨/٢]
.
.

أجمعت الأمة على وجوب الكف عن الكلام في الفتن التي حدثت بين الصحابة..ونقول: كل الصحابة عدول، وكل منهم اجتهد، فمنهم من اجتهد فأصاب كـ علي فله أجران، ومنهم من اجتهد فأخطأ كـ معاوية فله أجر، فكل منهم مأجور، القاتل والمقتول، حتى الطائفة الباغية لها أجر واحد لا أجران، يعني: ليس فيهم مأزور بفضل الله سبحانه وتعالى.

امت کا اجماع ہے کہ صحابہ کرام میں جو فتنے جنگ ہوئی ان میں نہ پڑنا واجب ہے تمام صحابہ کرام عادل ہیں(فاسق و فاجر ظالم منافق نہیں)ان میں سے ہر ایک مجتہد ہے اور جو مجتہد حق کو پا لے جیسے کہ سیدنا علی تو اسے دو اجر ہیں اور جو مجتہد خطاء پر ہو جیسے سیدنا معاویہ تو اسے ایک اجر ملے گا لہذا سیدنا علی اور معاویہ کے قاتل مقتول سب جنتی ہیں حتیٰ کہ سیدنا معاویہ کا باغی گروہ بھی جنتی ہے اسے بھی ایک اجر ملے گایعنی تمام صحابہ میں سے کوئی بھی گناہ گار و فاسق نہیں  
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة للالكائي ١٣/٦٢]
.

وأما ما شجر بينهم بعده عليه الصلاة والسلام، فمنه ما وقع عن غير قصد، كيوم الجمل، ومنه ما كان عن اجتهاد، كيوم صفين. والاجتهار يخطئ ويصيب، ولكن صاحبه معذور وإن أخطأ، ومأجور أيضاً، وأما المصيب فله أجران اثنان، وكان علي وأصحابه أقرب إلى الحق من معاوية وأصحابه رضي الله عنهم أجمعين
صحابہ کرام میں کچھ جنگی تو ایسی ہیں جو بغیر قصد کے ہوئیں جیسے کہ جنگ جمل اور کچھ جنگیں ایسی ہیں جو اجتہاد کی بنیاد پر ہوئی جیسے کہ صفین....جس نے درستگی کو پایا جیسے کہ سیدنا علی تو ان کو دو اجر ملیں گے اور جس نے اجتہاد میں خطا کی جیسے کہ سیدنا معاویہ تو اسے ایک اجر ملے گا 
[ابن كثير، الباعث الحثيث إلى اختصار علوم الحديث، صفحة ١٨٢]
.
وَالْجَوَاب الصَّحِيح فِي هَذَا أَنهم كَانُوا مجتهدين ظانين أَنهم يَدعُونَهُ إِلَى الْجنَّة، وَإِن كَانَ فِي نفس الْأَمر خلاف ذَلِك، فَلَا لوم عَلَيْهِم فِي اتِّبَاع ظنونهم، فَإِن قلت: الْمُجْتَهد إِذا أصَاب فَلهُ أَجْرَانِ، وَإِذا أَخطَأ فَلهُ أجر، فَكيف الْأَمر هَهُنَا. قلت: الَّذِي قُلْنَا جَوَاب إقناعي فَلَا يَلِيق أَن يُذكر فِي حق الصَّحَابَة خلاف ذَلِك، لِأَن اتعالى أثنى عَلَيْهِم وَشهد لَهُم بِالْفَضْلِ
اللہ تعالی نے صحابہ کرام پر تعریف کی ہے اور ان کی فضیلت بیان کی ہے تو یہ سب مجتہد تھے جنگوں اور فتنوں میں اجتہاد کیا جس نے درستگی کو پایا اس کے لئے دو اجر اور جس نے خطا کی اس کے لیے ایک اجر یہی جواب صحیح ہے اور یہی جواب صحابہ کرام کے لائق ہے 
[بدر الدين العيني، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ٢٠٩/٤]
 
.
 وَغَايَة اجْتِهَاده أَنه كَانَ لَهُ أجر وَاحِد علىاجْتِهَاده وَأما عَليّ رَضِي الله عَنهُ فَكَانَ لَهُ أَجْرَان
زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ سیدنا معاویہ کو ایک اجر ملے گا اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دو اجر ملے گے 
[ابن حجر الهيتمي، الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة، ٦٢٤/٢]
۔
.
امام ربانی مجدد الف ثانی فرماتے ہیں:
فان معاویة واحزابه بغوا عن طاعته مع اعترافهم بانه افضل اھل زمانه وانه الاحق بالامامة بشبهه هی ترک القصاص عن قتله عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنه ونقل فی حاشیة کمال القری عن علی کرم اللہ تعالیٰ وجهه انہ قال اخواننا بغوا علینا ولیسوا کفرة ولا فسقة لما لھم من التاویل وشک نیست کہ خطاء اجتہادی از ملامت دور است واز طعن وتشنیع مرفوع ." 
ترجمہ:
بے شک معاویہ اور اس کے لشکر نے اس(حضرت علی  سے)بغاوت کی، باوجودیکہ کہ وہ مانتے تھے کہ وہ یعنی سیدنا علی تمام اہل زمانہ سے افضل ہے اور وہ اس سے زیادہ امامت کا مستحق ہے ازروئے شبہ کے اور وہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے قصاص کا ترک کرنا ہے ۔ اور حاشیہ کمال القری میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا ہمارے بھائیوں نے ہم پر بغاوت کی حالانکہ نہ ہی وہ کافر ہیں اور نہ ہی فاسق کیونکہ ان کے لیے تاویل ہے
اور شک نہیں کہ خطائے اجتہادی ملامت سے دور ہے اور طعن وتشنیع سے مرفوع ہے
(مکتوبات امام ربانی 331:1) 
.
عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ هُوَ الْمُصِيبَ الْمُحِقَّ وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى أَصْحَابُ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانُوا بُغَاةً مُتَأَوِّلِينَ وَفِيهِ التَّصْرِيحُ بِأَنَّ الطَّائِفَتَيْنِ مُؤْمِنُونَ لَا يَخْرُجُونَ بِالْقِتَالِ عَنِ الْإِيمَانِ وَلَا يَفْسُقُونَ وَهَذَا مَذْهَبُنَا وَمَذْهَبُ مُوَافِقِينَا
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ درستگی پر تھے حق پر تھے اور دوسرا گروہ یعنی سیدنا معاویہ کا گروہ وہ باغی تھے لیکن تاویل کرنے والے تھے دونوں گروہ مومنین ہیں دونوں گروہ ایمان سے نہیں نکلتے اور دونوں گروہ فاسق نہیں ہیں یہی ہمارا مذہب ہے اور یہی مذہب ہمارے(عقائد میں)موافقین(حنفی حنبلی مالکی وغیرہ تمام اہل سنت)کا مذہب ہے 
(شرح مسلم للنووی7/168)
.
.=======================
شیعوں کی معتبر ترین کتاب نہج البلاغۃ میں سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حکم موجود ہے کہ:
ومن كلام له عليه السلام وقد سمع قوما من أصحابه يسبون أهل الشام أيام حربهم بصفين إني أكره لكم أن  تكونوا سبابين، ولكنكم لو وصفتم أعمالهم وذكرتم حالهم كان أصوب في القول
ترجمہ:
جنگ صفین کے موقعے پر اصحابِ علی میں سے ایک قوم اہل الشام (سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرھما رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین) کو برا کہہ رہے تھے، لعن طعن کر رہے تھے
تو
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا:
تمہارا (اہل شام، معاویہ ، عائشہ صحابہ وغیرہ کو) برا کہنا لعن طعن کرنا مجھے سخت ناپسند ہے ، درست یہ ہے تم ان کے اعمال کی صفت بیان کرو...(شیعہ کتاب نہج البلاغۃ ص437)
.
ثابت ہوا سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرہ صحابہ کرام کی تعریف و توصیف کی جائے، شان بیان کی جائے....یہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پسند ہے....ثابت ہوا کہ سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرہھما صحابہ کرام پر لعن طعن گالی و مذمت کرنے والے شیعہ ذاکرین ماکرین  رافضی نیم راضی محبانِ اہلِ بیت نہیں بلکہ نافرمان و مردود ہیں،انکےکردار کرتوت حضرت علی کو ناپسند ہیں..سخت ناپسند
.
ان عليا لم يكن ينسب أحدا من أهل حربه إلى الشرك ولا إلى النفاق ولكنه كان يقول: هم إخواننا بغوا علينا
ترجمہ:
بےشک سیدنا علی اپنےاہل حرب(سیدنا معاویہ،سیدہ عائشہ اور انکےگروہ)کو نہ تو مشرک کہتےتھےنہ منافق…بلکہ فرمایا کرتےتھےکہ وہ سب ہمارےبھائی ہیں مگر(مجتہد)باغی ہیں(شیعہ کتاب بحارالانوار32/324)
(شیعہ کتاب وسائل الشیعۃ15/83)
(شیعہ کتاب قرب الاسناد ص94)
سیدنا ابوبکر و عمر، سیدنا معاویہ وغیرہ صحابہ کرام کو کھلےعام یا ڈھکے چھپے الفاظ میں منافق بلکہ کافر تک بکنے والے،توہین و گستاخی کرنےوالےرافضی نیم رافضی اپنےایمان کی فکر کریں…یہ محبانِ علی و اہلبیت نہیں بلکہ نافرمانِ علی ہیں،نافرمانِ اہلبیت ہیں
.
شیعہ کتب جھوٹ و تضاد سے بھری ہوئی ہوتی ہیں،کہتے ہیں کہ اسلام کے نام پر بننے والے فرقوں میں سب سے زیادہ جھوٹے مکار شیعہ ہیں
مگر
جھوٹے مکار شیعہ طبرسی کے قلم سے کیا ہی عمدہ سچ نکل ہی گیا، لکھتا ہے
أن رسول الله صلى الله عليه وآله قال: ما  وجدتم في كتاب الله عز وجل فالعمل لكم به، ولا عذر لكم في تركه، وما لم يكن في كتاب الله عز وجل وكانت في سنة مني فلا عذر لكم في ترك سنتي، وما لم يكن فيه سنة مني فما قال أصحابي فقولوا، إنما مثل أصحابي فيكم كمثل النجوم، بأيها أخذ اهتدي، وبأي أقاويل أصحابي أخذتم اهتديتم، واختلاف أصحابي لكم رحمة.
ترجمہ:
بےشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کہ جو کچھ قرآن میں ہے اس پر عمل لازم ، اس کے ترک پر کوئی عذر مقبول نہیں…پس اگر کتاب اللہ میں نہ ملے تو میرے سنت میں ڈھنڈو سنت میں مل جائے تو عمل لازم ، جس کے ترک پر کوئی عذر مسموع نہ ہوگا
اور
اگر قرآن و سنت میں نہ پاؤ تو میرے صحابہ کے اقوال میں تلاش کرو، میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جس کے قول کو بھی اختیار کرو گے ہدایت پاؤ گے اور سنو میرے اصحاب(صحابہ اہلبیت) کا اختلاف رحمت ہے
(احتجاج طبرسی2/105)
.
وقال عليه السلام:يهلك في رجلان: محب مفرط، وباهت مفتر.
قال الرضى رحمه الله تعالى: وهذا مثل قوله عليه السلام: يهلك في اثنان:محب غال، ومبغض قال.الشرح:قد تقدم شرح مثل هذا الكلام، وخلاصة هذا القول: إن الهالك فيه المفرط، والمفرط أما المفرط فالغلاة، ومن قال بتكفير أعيان الصحابة ونفاقهم أو فسقهم
یعنی
حضرت علی نے فرمایا کہ میرے متعلق دو قسم کے لوگ ہلاکت میں ہیں ایک وہ جو مجھ سے حد سے زیادہ محبت کرے دوسرا وہ جو مجھ سے بغض رکھے مجھ پر بہتان باندھے
یعنی
جو اعیان صحابہ کو کافر کہے یا منافق کہے یا فاسق کہے وہ ہلاکت میں ہے
(شرح نہج البلاغۃ 20/220)
شیعہ رافضی نیم رافضی میں یہ دونوں بری عادتیں بھری پڑی ہیں کوٹ کوٹ کے....اللہ ہدایت دے، مکاروں گمراہوں کے مکر و گمراہی عیاری مکاری سے بچائے....ضدی فسادی کو تباہ و برباد فرمائے
.
بأصحاب نبيكم لا تسبوهم الذين لم يحدثوا بعده حدثا ولم يؤووا محدثا، فإن رسول الله (صلى الله عليه وآله) أوصى بهم
ترجمہ:
حضرت علی وصیت و نصیحت فرماتے ہیں کہ تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے متعلق میں تمھیں نصیحت و وصیت کرتا ہوں کہ انکی برائی نہ کرنا ، گالی لعن طعن نہ کرنا(کفر منافقت تو دور کی بات) انہوں نے نہ کوئی بدعت نکالی نہ بدعتی کو جگہ دی،بےشک رسول کریم نے بھی صحابہ کرام کے متعلق ایسی نصیحت و وصیت کی ہے.(بحار الانوار22/306)
.

حضرت علی رض اللہ عنہ نے شیعوں سے فرمایا:
رأيت أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فما أرى أحداً يشبههم منكم لقد كانوا يصبحون شعثاً غبراً وقد باتوا سجداً وقياماً
ترجمہ:
میں(علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)نے اصحاب محمد یعنی صحابہ کرام(صلی اللہ علیہ وسلم، و رضی اللہ عنھم) کو دیکھا ہے، وہ بہت عجر و انکساری والے، بہت نیک و عبادت گذار تھے
تم(شیعوں)میں سے کوئی بھی انکی مثل نہیں...
(تمام شیعوں کے مطابق صحیح و معتبر ترین کتاب نہج البلاغہ ص181)
.
نوٹ:
ویسے تو ہم کتب شیعہ کے متعلق کہتے ہیں کہ جھوٹ تضاد گستاخی سے بھری پڑی ہیں مگر کچھ سچ بھی لکھا ہے انہون نے لیھذا کتب شیعہ کی بات قرآن و سنت معتبر کتب اہلسنت کے موافق ہوگی تو وہی معتبر...مذکورہ حوالہ جات موافق قرآن و سنت ہیں، موافق کتب اہلسنت ہین لیھذا معتبر
کیونکہ
قَدْ يَصْدُقُ الْكَذُوبَ
ترجمہ:
بہت بڑا جھوٹا کبھی سچ بول دیتا ہے
(فتح الباری9/56، شیعہ کتاب شرح اصول کافی2/25)
اور
امام جعفر صادق نے فرمایا:
الناس ﺃﻭﻟﻌﻮﺍ ﺑﺎﻟﻜﺬﺏ ﻋﻠﻴﻨﺎ، ﻭﻻ ﺗﻘﺒﻠﻮﺍ ﻋﻠﻴﻨﺎ ﻣﺎ ﺧﺎﻟﻒ ﻗﻮﻝ ﺭﺑﻨﺎ ﻭﺳﻨﺔ ﻧﺒﻴﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ
ترجمہ:
امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ لوگ جو(بظاہر)ہم اہلبیت کے محب کہلاتے ہیں انہوں نے اپنی طرف سے باتیں، حدیثیں گھڑ لی ہیں اور ہم اہلبیت کی طرف منسوب کر دی ہیں جوکہ جھوٹ ہیں،
تو
ہم اہل بیت کی طرف نسبت کرکے جو کچھ کہا جائے تو اسے دیکھو کہ اگر وہ قرآن اور ہمارے نبی حضرت محمد کی سنت کے خلاف ہو تو اسے ہرگز قبول نہ کرو
(شیعہ کتاب رجال کشی ﺹ135, 195، بحار الانوار 2/246,....2/250)
.
دوستو، بھائیو ، اور احباب ذی وقار خاص کر سوشل میڈیا چلانے والے حضرات......خوب ذہن نشین کر لیجیے کہ کسی بھی کتاب یا تحریر یا تقریر یا پوسٹ میں کوئی بات کوئی حدیث لکھی اور اور اہلبیت بی بی فاطمہ ، حضرت علی یا امام جعفر صادق یا کسی بھی اہلبیت کا نام لکھا ہو یا کسی صحابی یا ولی صوفی کا نام لکھا ہو
تو
اسے فورا سچ مت تسلیم کیجیے،فورا جھوٹ بھی مت سمجھیے اگرچہ بظاہر اچھی بات ہو یا بظاہر نامعقول ہو
کیونکہ
اچھی بری بہت سی باتیں شیعوں نے، لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ لی ہیں اور نام اہلبیت و صحابہ اولیاء اسلاف میں سے کسی کا ڈال دیا ہے....اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے...لیھذا تحقیق کیجیے معتبر ذرائع سے تصدیق کراٰلئیے پھر سچ یا جھوٹ کہیے
ویسے تو ہربات کی تصدیق معتمد عالم سے کرائیے مگر بالخصوص جب اہلبیت کے نام سے لکھا ہوا ہو تو اب شدید لازم ہے کہ اسکی تصدیق کرائیے پھر بےشک پھیلائیے
کیونکہ
امام جعفر صادق نے متنبہ کر دیا تھا کہ نام نہاد جھوٹے محبانِ اہلبیت نے اہلبیت کی طرف ایسی باتیں منسوب کر رکھی ہیں جو اہلبیت نے ہرگز نہیں کہیں...رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین
.
نوٹ:
امت میں تفرقہ ڈالنےوالےایجنٹ…متعہ فحاشی حلال…دین کی بنیادصحابہ کو کافرکہنےوالےتحریف قرآن کےقائل،گستاخ مرتد شیعہ ہمدردی کےلائق نہیں ایسے کافر مرتد زندیق شیعہ کے کفر کی ایک جھلک...................!!
بایعوا ابابکر......أن الناس ارتدوا إلا ثلاثة
ترجمہ:
صحابہ نے ابوبکر کی بیعت کی.....بےشک سارے صحابہ مرتد ہوگئے سوائے تین کے
(شیعہ کتاب بحار الانوار28/255)
.
.
ارتد الناس بعد الرسول صلى الله عليه وآله إلا أربعة
ترجمہ:
رسول کی وفات کے بعد سارے لوگ(بشمول صحابہ) مرتد ہوگئے سوائے چار لوگوں کے
(شیعہ کتاب کتاب سلیم بن قیس ص162)
.
.
ارتد الناس إلا ثلاثة نفر: سلمان وأبو ذر، و المقداد. قال: فقلت: فعمار؟فقال: قد كان جاض جيضة ثم رجع
تمام لوگ(صحابہ)مرتد ہوگئے سوائے تین کے سلمان فارسی ابوذر اور مقداد، عمار کفر کی طرف مائل ہوئے پھر واپس مسلمان ہوئے(کل ملا کر مذکورہ چار صحابہ مسلمان بچے نعوذ باللہ)
(شیعہ کتاب الاختصاص ص10)
.
.
" إن الذين آمنوا ثم كفروا ثم آمنوا ثم كفروا ثم ازدادوا كفرا  لن تقبل توبتهم" قال: نزلت في فلان وفلان وفلان، آمنوا بالنبي صلى الله عليه وآله في أول الأمر وكفروا حيث عرضت عليهم الولاية، حين قال النبي صلى الله عليه وآله: من كنت مولاه فهذا علي مولاه، ثم آمنوا بالبيعة لأمير المؤمنين عليه السلام ثم كفروا حيث مضى رسول الله صلى الله عليه وآله، فلم يقروا بالبيعة، ثم ازدادوا كفرا بأخذهم من بايعه بالبيعة لهم فهؤلاء لم يبق فيهم من الايمان شئ.
خلاصہ:
آیت مین جو ہے کہ اسلام کے بعد مرتد ہوءے پھر مسلمان ہوءے پھر مرتد ہوئے پھر کفر پے ڈٹ گئے یہ
ایت صحابہ کے متعلق نازل ہوئی ان میں ایمان ذرا برابر بھی نہ بچا..(شیعہ کتاب الکافی 1/420)
.
✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
facebook,whatsApp,bip nmbr
00923468392475
03468392475
مکمل تحریر >>

جمعہ کے دن کی مبارک باد دینا کیسا ہے ؟

*سوال نمبر 19 :*
جمعہ کے دن کی مبارک باد دینا کیسا ہے ؟
سائل : محمدجنیدرضاعطاری عیسیٰ خیل میانوالی
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
جمعہ کے دن کی مبارک باد دینا بالکل جائز ہے کیونکہ :
*پہلی بات :*
تو یہ ہے کہ شریعت نے اس سے منع نہیں کیا اور جس کام سے شریعت منع نہ کرے، وہ کام بالکل جائز ہوتا ہے۔
چنانچہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
*"اَلْحَلاَلُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ فِیْ کِتَابِہٖ، وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فِیْ کِتَابِہٖ، و مَا سَکَتَ عَنْہُ فَھُوَ مِمَّا عَفَا عَنْہٗ"*
یعنی حلال وہ ہے جسے اللہ پاک نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ پاک نے اپنی کتاب میں حرام کیا اور جس سے خاموشی اختیار فرمائی (یعنی منع نہ فرمایا) تو وہ معاف ہے (یعنی اس کے کرنے پر کوئی گناہ نہیں ہے)۔
*(سنن ترمذی، کتاب اللباس، باب ماجاء فِی لُبْسِ الْفِرَاءِ، صفحہ 434، رقم الحدیث : 1726، دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)*
*دوسری بات :*
 یہ ہے کہ جمعہ کا دن ہمارے لیے  مبارک اور اچھا ہے اور مبارک و اچھی بات کی مبارک باد دینے کی اصل صحیح حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے.
چنانچہ معراج کی رات جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر آسمانوں سے ہوا تو انبیاءِ کرام علیٰ نبینا و عليهم الصلاة و السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج پر مبارک باد پیش کی۔
چنانچہ حضرت مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
*"أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدثهمْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِهِ... فَانْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ. قَالَ: نَعَمْ. قيل: مرْحَبًا بِهِ فَنعم الْمَجِيء جَاءَ ففُتح فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا فِيهَا آدَمُ فَقَالَ: هَذَا أَبُوكَ آدَمُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَام ثمَّ قَالَ: مرْحَبًا بالابن الصَّالح وَالنَّبِيّ الصَّالح ثمَّ صعد بِي حَتَّى السَّماءَ الثانيةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفُتِحَ. فَلَمَّا خَلَصْتُ إِذَا يَحْيَى وَعِيسَى وَهُمَا ابْنَا خَالَةٍ. قَالَ: هَذَا يَحْيَى وَهَذَا عِيسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِمَا فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا ثُمَّ قَالَا: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ففُتح فَلَمَّا خَلَصْتُ إِذَا يُوسُفُ قَالَ: هَذَا يُوسُفُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ. ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا إِدْرِيسُ فَقَالَ: هَذَا إِدْرِيسُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفتح فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا هَارُونُ قَالَ: هَذَا هَارُونُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءَ السَّادِسَةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَهل أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا مُوسَى قَالَ: هَذَا مُوسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالح فَلَمَّا جَاوَزت بَكَى قيل: مَا بيكيك؟ قَالَ: أَبْكِي لِأَنَّ غُلَامًا بُعِثَ بَعْدِي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهِ أَكْثَرَ مِمَّنْ يَدْخُلُهَا مِنْ أُمَّتِي ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرد السَّلَام ثمَّ قَالَ: مرْحَبًا بالابن الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ"* 
یعنی نبی صلی الله علیہ و سلم نے انہیں اس رات کے متعلق خبر دی جس میں حضور کو معراج کرائی گئی۔۔۔۔۔۔پھر مجھے جبرئیل علیہ السلام لے چلے حتی کہ وہ دنیا کے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا کہا گیا کون فرمایا جبریل، کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے، فرمایا حضور محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہےکہا ہاں ان کی خوش آمدید ہو وہ خوب آئے پھر دروازہ کھول دیا گیا،جب میں داخل ہوا تو وہاں جناب آدم علیہ السلام تھے کہا یہ تمہارے والد آدم علیہ السلام ہیں انہیں سلام کرو میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا،پھر فرمایا صالح فرزند صالح نبی تم خوب تشریف لائے پھر مجھے جبرئیل علیہ السلام اوپر لے گئے حتی کہ دوسرے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون بولے میں ہوں جبریل، کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہیں، کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم، کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں، کہا خوش آمدید تم بہت ہی اچھا آنا آئے، پھر دروازہ کھول دیا گیا تو جب میں اندر پہنچا تو ناگہاں وہاں حضرت یحیی علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام تھے وہ دونوں خالہ زاد ہیں جبریل علیہ السلام نے کہا یہ یحیی علیہ السلام ہیں یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں انہیں سلام کرو میں نے سلام کیا ان دونوں نے جواب دیا پھر کہا صالح بھائی صالح نبی آپ خوب آئے،پھر جبریل علیہ السلام مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے گئے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون وہ بولے جبریل علیہ السلام ہوں،کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے،کہا حضور محمد صلی اللہ  علیہ وسلم ہیں،کہا گیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں خوش آمدید تم خوب ہی آئے پھر دروازہ کھول دیا گیا جب میں داخل ہوا تو وہاں حضرت یوسف علیہ السلام تھے جبریل علیہ السلام نے کہا یہ یوسف علیہ السلام ہیں انہیں سلام کرو میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا صالح بھائی صالح نبی آپ خوب آئے پھر مجھے اوپر لے گئے حتی کہ چوتھے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا گیا، کہا گیا کون ہیں فرمایا میں جبریل ہوں، کہا گیا تمھارے ساتھ کون ہے کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم، کہا گیا کیا انہیں بولایا گیا ہے  کہا ہاں  کہا گیا خوش آمدید اچھا آنا  آپ آئےدروازہ کھو لا گیا جب ہم اندر داخل ہوئے تو وہاں حضرت ادریس علیہ السلام تھے جبریل علیہ السلام نے کہا یہ ادریس علیہ السلام ہیں آپ انہیں اسلام کریں میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا کہا خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی پھر مجھے اوپر چڑھایا گیا حتی کہ پانچویں آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا، کہا گیا کون ہے کہا میں جبریل علیہ السلام ہوں، کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں بلایا گیا ہے، کہا گیا خوش آمدید آپ اچھا آنا آئے دروازہ کھولا گیا جب میں اندر گیا تو وہاں حضرت ہارون علیہ السلام تھے جبریل علیہ السلام نے کہا یہ ہارون علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی پھر مجھے اوپر لے گئے حتی کہ چھٹے آسمان  پر پہنچے دروازہ کھلوایا، کہا گیا کون ہے کہا میں جبریل علیہ السلام ہوں، کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں، کہا گیا خوش آمدید آپ اچھا آنا آئے دروازہ کھولا گیا میں جب اندر پہنچا تو وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے جبریل علیہ السلام نے کہا یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا  پھر کہا خوش آمدید اے صالح بھائی  صالح نبی جب وہاں سے آگے بڑھے تو وہ رونے لگے ان سے کہا گیا کیا چیز آپ کو رُلا رہی ہے فرمایا اس لیے کہ ایک فرزند میرے بعد نبی بنائے گئے ان کی امت میری امت سے زیادہ جنت میں جائے گی پھر مجھے ساتویں آسمان کی طرف اٹھایا گیا جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا، کہا گیا کون ہے کہا میں جبریل علیہ السلام ہوں، کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے،کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں تو کہا گیا خوش آمدید آپ بہت اچھا آنا آئے، پھر جب میں وہاں داخل ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں تھے جبرئیل علیہ السلام نے کہا یہ آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام ہیں آپ انہیں سلام کریں میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا خوب آئے اے صالح فرزند صالح نبی۔
*(مشکوۃ المصابیح، کتاب الفضائل و الشمائل، باب فی المعراج، المجلد الثانی، صفحہ 423، 424، 425 رقم الحدیث : 5861، ملتقطاً المکتبۃ البشریٰ کراچی پاکستان، صحیح البخاری، کتاب الصلاۃ، باب کیف فرضت الصلوات فی الاسراء، صفحہ 81، رقم الحدیث : 349 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان، صحیح مسلم)*
*تیسری بات :*
یہ ہے کہ امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب *"وصول الامانی"* میں درج ذیل عبارت سے بھی اس کا جائز ہونا ثابت ہوتا ہے۔
چنانچہ امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا :
*"قال القمولي في الجواهر: لم أر لأصحابنا كلاما في التهنئة بالعيدين والأعوام والأشهر كما يفعله الناس ورأيت فيما نقل من فوائد الشيخ زكي الدين عبد العظيم المنذري أن الحافظ أبا الحسن المقدسي سئل عن التهنئة في أوائل الشهور والسنين أهو بدعة أم لا؟*
*فأجاب بأن الناس لم يزالوا مختلفين في ذلك.*
*قال: والذي أراه أنه مباح ليس بسنة ولا بدعة."*
*ونقلہ الشرف الغزی فی شرح المنھاج ولم یزد علیہ*
یعنی (احمد بن محمد) قمولی (شافعی) رحمۃ اللہ علیہ نے *"جواہر"* میں فرمایا :
میں نے عیدین، سالوں اور مہینوں کی مبارکباد دینے کے بارے میں اپنے اصحاب کا کوئی کلام نہیں دیکھا جیساکہ لوگ اسے کرتے ہیں (یعنی مبارکباد دیتے ہیں)  اور میں نے اس میں دیکھا جس میں شیخ زکی الدین عبدالعظیم منذری کے فوائد سے نقل کیا گیا کہ بیشک حافظ ابوالحسن مقدسی رحمۃ اللہ علیہ سے مہینوں اور سالوں کی مبارکباد دینے کے متعلق پوچھا گیا کہ کیا وہ بدعت ہے یا نہیں ؟
تو جواب دیا کہ لوگ ہمیشہ اس بارے میں مختلف رہیں ہیں، (اور) فرمایا : اور وہ جسے میں خیال کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ (مبارکباد دینا) مباح (جائز) ہے، نہ سنت ہے اور نہ بدعت ہے. 
اور اس کو شرف غزی نے *"شرح المنہاج"* نقل فرمایا ہے اور اس پر زیادتی نہیں کی.
*(وصول الامانی باصول التھانی صفحہ 51، 52)*
لہذا ثابت ہوا کہ جمعہ کے دن کی مبارک باد دینا بالکل درست و جائز ہے اور اس سے روکنے والا جاہل و احمق ہے۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
22/01/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحيح، 
*فقط محمد عطاء الله النعيمي غفرله خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (باكستان) كراتشي*
مکمل تحریر >>

کسی بھی خوشی کے موقع پر مبارک باد دینا کیسا ہے؟🌹*

*🌹کسی بھی خوشی کے موقع پر مبارک باد دینا کیسا ہے؟🌹* 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سوال- *جمعہ کی یا کسی بھی خوشی کے موقع پر مبارکباد دینا کیسا ہے؟*
عمدہ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں حضرت

*♥سائل، ناظم رضا♥*
ــــــــــــــــــــــــــــــ

*وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ* 

*📝الجواب بعون الملک الوہاب اللھم ہدایتہ الحق والصوابــــــــــــــ!!!*

*صورت مستفسرہ میں عرض ہے کہ ،  یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ:*
*" الاصل فی الاشیاء الاباحتہ "*
*یعنی،  " ہر چیزوں کی اصل یہ ہے کہ وہ مباح ہے،  جائز ہےاور حلال ہے - "*

*ہاں ..!!! اگر شریعت سے کسی چیز کی ممانعت ثابت ہو جائے ، تو وہ چیز منع ہے،  ناجائز ہے -*
*کسی بھی چیز سے روکنے کے لئے دلیل شرعی کی ضرورت ہے - کسی کے صرف منع کرنے سے وہ چیز ناجائز نہیں  ہو جائے گی -* 
*ماننے والوں کے لئے مذکورہ قاعدہ کلیہ ہی کافی ہے - نہ ماننے والوں کے دفتر کے دفتر بے کار -*

*یہ تو اسلامی تہذیب ہے کہ اگر کسی کو کوئی کامیابی حاصل ہوئی ،  کوئی نعمت ملی،  تو مبارک باد دو ..!!! کوئی نعمت چھن گئی ہے،  تعزیت کرو ..!!! بیمار ہو گیا ہے ،  تیمار داری کرو ..!!! وغیرہ،  وغیرہ -*
*ہمارے یہاں عادت عام ہو گئی ہے کہ خوشی کے موقع پر مثلا عید الفطر و قربانی اور عید  میلادالنبی و جشن معراج شریف و اعراس مشائخ عظام،  شب براءت مواقع خوشی پر ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرتے ہیں،  اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟*
 
*🌹حضرت امام سیوطی علیہ الرحمہ کا ایک رسالہ مسمی بہ " وصول الامافی باصول التہانی " ان سے اس کے متعلق سوال ہوا تو یہ رسالہ آپ نے تحریر فرمایا - چنانچہ خودفرماتےہیں:*
*" فقد طال السوال عن ما اعتادہ الناس من التھنئتہ بالعید والعام والشھر والولایات و نحو ذالک ھل لہ فی السنتہ الخ -"*

*یعنی،  " میرے سے سوال ہوا کہ عوام میں رواج ہے کہ عید اور نئے مہ و سال و دیگر مختلف مواقع پر ایک دوسرے کو مبارک باد کہتے ہیں ،  کیا اس کے متعلق  کسی حدیث  شریف میں تصریح ملتا ہے کہ نہیں؟  - "* 
*تواس کے جواز پر  اپ  نے دلائل شرعی سے خوب واضح فرمایا ہے -*
 
*اپنے موقف میں احباب کی تسلی و تشفی کے لئے مندرجہ ذیل کچھ دلائل نقل کرتا ہوں ملاحظہ ہوں...!!!*
https://chat.whatsapp.com/GxfFojhtjsqFl3Qb3sHVJ6
*۱- حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ،*
*حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایت :*
*" لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر "*
*( 📘پارہ ۲۶ سورہ فتح آیت ۲)*

*ترجمہ کنز الایمان شریف  " تاکہ اللہ تمھارے سبب سے گناہ بخشے تمھارے اگلوں کے اور تمھارےپچھلوں کے -"* 
*کا نزول ہوا جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حدیبیہ سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو اپ نے اس آیت کی خوشخبری سنائی ،  تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کو مبارک باد پیش کی -"*
 *(📘 رواہ البخاری و مسلم)*  

*۲- حضرت براء ابن عازب و زید ابن ارقم رضی اللہ تعالی عنہما فرماتےہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت علی المر تضی رضی اللہ تعالی عنہ کو " من کنت مولاہ فعلی مولاہ " فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو فرمایا کہ اے علی ..! رضی اللہ تعالی عنہ آپ ...!!! ہر مؤمن مرد اور عورت کے محبوب ہو گئے...!!! - آپ کو مبارک ہو..!!! -"*
*( 📘رواہ احمد)*
 
*۳- حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ:*
*" حضور صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے* *عبداللہ ..!!! تمھیں مبارک ہو ..!!! کہ تم میری طینت سے پیدا کئے گئے ہو اورتیرا باپ آسمان پر ملائکہ کے ساتھ اڑ رہا ہے -"*
*(📕 ابن عساکر)* 

*۴- حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےفرمایا :*
*"اے ابن کعب ..!!! کون سی سورہ اعظم ہے؟  انھوں نے عرض کیا آیتہ الکرسی - آپ نے فرمایا تمھیں علم کی فراوانی مبارک ہو ..!!! -"*
 *(📗 احمد و مسلم)* 

*حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالی عنہ کی جب تو بہ قبول ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم جوق در جوق آکر توبہ کی قبولیت کی مبارک باد دے رہے تھے -"*
*( 📙بخاری و مسلم)*
  
*'۵- حضرت خوات بن جبیر رضی اللہ تعالی جب بیماری سے صحتیاب ہو ئے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " صح جسمک یا خوات ..!!! -" اے*
 *خوات ...!!! خدا کرے تیرا جسم تندرست ہو -"*
*( 📙حاکم)*
 
*۶- حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ بدر سے بخیر و عافیت واپس تشریف لائے تو مدینہ منورہ کے لوگ روحاء مقام  پر پہنچ کر مبارک باد پیش کرتے رہے -"*
*(📕 اخرجہ الحاکم فی المستدرک مرسلا )*

*۷- حضور صلی اللہ تعالی جسے دیکھتے کہ اس کانکاح ہوا ہے تو اسے یوں دعا سے نوازتے " بارک اللہ و بارک علیک و جمع بینکما  فی خیر -"*
*(📗 رواہ الترمذی و ابو داؤد و ابن ماجہ)*
  
*۸- حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کی آمد آمد پر شعبان المعظم کے آخری جمعہ مبارک باد دینے کے طورپر فرمایا :*
*" اے لوگو..!!! وہ مہینہ آرہا ہےجو نہایت برکت والا ہے - اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار ماہ سے بہتر ہے -"*
*(📗 اخرجہ الاصبہانی فی الترغیب)*
https://chat.whatsapp.com/GxfFojhtjsqFl3Qb3sHVJ6
*۹- حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  نے فرمایا کہ:*
*" کیا تمھیں معلوم ہے کہ ہمسایہ کا حق کیا ہے؟  پھر فرمایا کہ کسی کام کی مدد چاہے تو اس کی مدد کرو..!!! اگر قرض مانگے تو قرض دو...!!! اگر اسے کوئی خیر و بھلائی حاصل ہو تو اسے مبارک باد دو ...!!! اگر اسے مصیبت پہنچے تو ا س سے مصیبت دفع کرنے کی کوشش کرو ..!!! -"*
*(📙 رواہ الطبرانی)*

*۱۰ - حضرت امام سیوطی علیہ الرحمہ  نے فرمایا کہ:*
*" قمولی الجواہر میں لکھتے ہیں کہ یہ جو لوگ عیدوں اور نئے سالوں اور نئے مہینوں پر مبارک باد دیتے ہیں میں نے ائمہ سے کسی کو منکر نہیں پایا -"*

*۱۱- حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ :*
*" جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے - اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے اور وہ اللہ کے نزدیک عید اضحی و عید الفطر سے بڑا ہے - -"*
*( 📕ابن ماجہ شریف )*

*جمعہ کا دن جب اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک  عیدین سے بھی عظمت والا ہے تو جمعہ کی مبارک باد دینے میں کون سی شرعی قباحت آرہی ہے.....؟؟؟ جمعہ کی مبارک باد دینا بالکل جائز ہے کوئی شرعی ممانعت و قباحت نہیں -"*

*🌹واللہ تعالیٰ اعلم۔۔۔!!!🌹*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 
 *📝کتبــــــــہ؛* 
 *حضرت علامہ مفتی محمد جعفر علی صدیقی رضوی صاحب قبلہ؛  (مدظلہ العالی و النورانی)؛ کرلوسکرواڑی سانگلی مہاراشٹر* 
 *تاریخ؛ 9 /فروری ؛ 2019ء*
 *رابطـہ؛📞 8530587825* 
ــــــــــــــــــــــــــــــ

 *🌴المشتہـــر محــــمد امتیــازالقــادری🌴* 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

https://chat.whatsapp.com/GxfFojhtjsqFl3Qb3sHVJ6

🌹 *توجہ فرمائیے*  ✍ 

*_دار المطالعہ مدنی  آپ عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دار الافتاء اھلسنت کے فتاوٰی جات ، علماء اھلسنت کا علمی ، ادبی ، فکری ، درسی ، تحقیقی مواد سینڈ کرنے ، علمِ فقہ و عقائد پر مشتمل کتب اور جدید مسائل سے آگاہ کرنے مذید شوقِ مطالعہ بڑھانے کیلئے بنایا گیا ہے لھذا ضرور جوئن کریں اور علم دین سے زندگی کو روشن کریں_*

*ثواب کی نیت سے لنک شیئر ضرور کریں*
مکمل تحریر >>

دیوبندیوں کے شرکیہ عقاٸد فتوے دوسروں پر اور کرتے خود ہیں آخر یہ منافقت کیوں؟*

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=108529197836564&id=100060384526365

*دیوبندیوں  کے شرکیہ عقاٸد فتوے دوسروں پر اور کرتے خود ہیں آخر یہ منافقت کیوں؟*
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

*محترم قارٸینِ کرام :*. 

دیوبندیوں کے نزدیک 👈 *ایصال ثواب جائز*

👈 دیوبندی پیروں کے *وسیلہ سے دعا بحرمت کہہ کر کرنا جائز*
*👈 دیوبندی پیر دستگیر بھی ہیں اور مشکل کشاء بھی ۔* 

(فیوضات حسینی صفحہ نمبر 68 دیوبندی علماء)

دیوبندیوں کا اقرار ہم بزرگوں کی ارواح سے امداد کے منکر نہیں ہیں

*محترم قارئین کرام :*

ہم سوانح قاسمی کے اصل اسکینز دونوں ایڈیشن کے دے رہے ہیں جن میں ایک واقعہ بیان ہوا کہ بانی دیوبند قبر سے آ کر ایک مولوی صاحب کی مدد کرتے ہیں اس طرح دیوبندی علماء اپنے خود ساختہ شرک کے فتوؤں میں جب پھنس گئے تو اپنے بڑوں کو شرک سے بچانے کےلیئے خود ہی اقرار کر لیا کہ ہم بزرگوں کی قبروں اور ان کی ارواح سے مدد کے منکر نہیں ہیں بلکہ یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور ہم اسے مانتے ہیں ہم پر انکار کا الزام لگانے والے جاہل ہیں پہلے یہ پڑھیئے :

*دیوبندی عالم جناب مناظر احسن گیلانی اپنے بڑوں کو شرک سے بچانے کےلیئے لکھتے ہیں مجبورا :*
پس بزرگوں کی ارواح سے مدد لینے کے ہم منکر نہیں ہمارا بھی ارواح صالحین سے مدد کے متعلق وہی عقیدہ ہے جو اہلسنت وجماعت کا ہے اور یہ سب قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔
(حاشیہ سوانح قاسمی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 332 قدیم ایڈیشن و صفحہ نمبر 211 جدید ایڈیشن مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور)

اب ہمارا سوال موجودہ وہابیت کی راہ پر چل کر مسلمانانِ اہلسنت پر یہی عقیدہ و نظریہ رکھنے کی وجہ سے شرک کے فتوے لگانے والے دیوبندی جواب دیں بانی دیوبند ، شیخ الہند دیوبند اور مناظر احسن گیلانی صاحبان مشرک ہوئے کہ نہیں ؟

اور وہ لکھ رہے ہیں ارواح صالحین سے مدد کے انکار کا ہم پر الزام لگانے والے جاہل ہیں اور بہتان لگانے والے ہیں اب بتایئے آپ لوگ بہتان تراش اور جاہل ہیں کہ نہیں جو ارواح صالحین علیہم الرّحمہ سے امداد کے منکر بن کر اسے دیوبند کی طرف منسوب کرتے ہیں ؟

*قطب العالم دیوبند غوث اعظم ہے (سب سے بڑا فریاد رس) قطب العام دیوبند نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ثانی ہے*
( مرثیہ گنگوہی صفحہ 4 از قلم شیخ الہند دیوبند محمود حسن )

دیوبندیوں کا سب سے بڑا مددگار غوث اعظم گنگوہی ہے،بانی اسلام کا ثانی گنگوہی ہے، اللہ کا فیض تقسیم کرنے والا،ابر رحمت،اللہ کا سایہ،قطب ہے گنگوہی،
*( مرثیہ گنگوہی صفحہ نمبر 4 )*

اے مسلمانو
دیوبندیوں نے اپنے گنگوہی کو پیغمبر اسلام رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا ثانی قرار دیا ھے سوال ھے آپ کی غیرت ایمانی سے کیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی نہیں ہے فرقہ واریت ست ھٹ کر ایک مسلمان کی حیثیت سے جواب دیجیئے ؟
اور یہ گنگوہی کو اللہ کا فیض تقسیم کرنے والا ، غوث اعظم ، اللہ کا سایہ اور اللہ کی رحمت کہیں تو کوئی شرک نہیں اور مسلمانان اہلسنت پر شرک کے فتوے کیوں جناب عالی کیوں ؟

*دیوبندیوں کا حاجت روا مشکل کشاء :*
اب ہم اپنی دین و دنیا کی حاجتیں کہاں لے جائیں وہ ہمارا قبلہ حاجات  روحانی و جسمانی  گیا۔
*(مرثیہ گنگوہی صفحہ 7 شیخ الہند دیوبند محمود حسن)*

دیوبندیوں کا قطب العالم ، غوث زماں گنج عرفاں دستگیر بیکساں مولوی رشید احمد گنگوہی ہے ۔ +
*(تذکرۃُ الرشید جلد دوم صفحہ 136۔چشتی)*

ہم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو غوث اعظم کہیں تو شرک کے فتوے اور دیوبندی اپنے گنگوہی کو غوث الاعظم لکھیں تو جائز۔ 
*(تذکرۃ الرشید جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 2)*

دیوبندیوں کا مشکل کشاء حاجت روا رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں گنگوہی صاحب کا ایسا مرتبہ تھا کہ گنگوہی کے نام کے وسیلے سے حاجتیں پوری ہوتی تھیں ۔ 
*(تذکرۃُ الرشید جلد دوم صفحہ297۔چشتی)*

دیوبندیوں کا غوث (یعنی فریاسننے والا) رشید احمد گنگوہی ہے جس کے وسیلے سے ہزاروں لوگوں کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں
*(تذکرۃُ الرّشید جلد دوم صفحہ نمبر 305)*

دیوبندیوں کا سب سے بڑا فریاد رس غوثُ الاعظم رشید احمد گنگوہی ہے

*عاشق الٰہی بلند شہری دیوبندی لکھتا ہے :*
 رشید احمد گنگوہی قُطبُ العالم اور غوثُ الاعظم ہیں
*(تذ کرۃُ الرّشید جلد اوّل قدیم ایڈیشن صفحہ نمبر 2)*

کوئی دیوبندی قطب العالم اور غوثُ الاعظم کے معنیٰ بتائے گا ؟

*مسلمانانِ اہلسنّت حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو غوثُ الاعظم کہیں تو شرک کے فتوے* اور تم اپنے مولوی کو غوثُ الاعظم کہو لکھو تو عین توحید اور ایمان ہو جائے کیوں جناب من یہاں شرک کے فتویٰ کہاں گیا ؟

یا مان لو کہ مسلمانانِ اہلسنت کے عقائد و نظریات حق ہیں یا اپنے مولویوں پر فتویٰ لگاؤ شرک ؟

اپنے لیئے شریعت اور دوسروں کےلیئے اور یہ دہرا معیار چھوڑ کر فتنہ فساد اور تفرقہ پھیلانا چھوڑ دو ۔

دیوبندیوں کا مولوی مظہرِ نورِ ذاتِ خدا ، رنج و غم ٹالنے والا اور چارہ ساز بھی ہے جو اٹھ گیا اب کون رنج و غم مٹائے گا اور چارہ سازی کرے گا چارہ ساز جو اٹھ گیا
*(مرثیہ شیخ مدنی صفحہ 24 مطبوعہ راشد کمپنی دیوبند یوپی)*

یہی الفاظ مسلمانانِ اہلسنّت کہیں تو شرک مگریہاں جائز ؟

*گنج بخش فیض عالم مظہرِ نورِ خدا پر شرک کے فتوے لگانے والے دیوبندی مفتیو اب لگاؤ نا یہاں شرک کے فتوے ؟*

جس نے اللہ کا دیدار کرنا ہو وہ دیوبندیوں کے مولوی کی قبر کی زیارت کرے

دیوبندیوں کے مولوی کی قبر کو دیکھنا اللہ کو دیکھنا ہے ، انوار و برکات ہیں ، دیوبندی مولوی دیوبندیوں کا مولا ہے ، دیوبندی مردہ مولوی کی قبر کی زیارت سے اسرار عیاں ہوتے ہیں ۔ دیوبندی مولوی کی قبر کی زیارت سے دیدار رب العالمین ہوگا ، قبر کو اونچا کرنا چاہا تو قبر والے دیوبندی مولوی کو علم ہو گیا کہا نہ کرو خلافِ سنت ہے  اور دیوبندی مولوی کا لوہاری عورت سے عشق ۔
*(تاریخ مشائخ چشت صفحہ  235 ، 236 علامہ محمد زکریا کاندھلویدیوبندی سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند)*

دیوبندیوں کا مولوی جانتا ہے کون حلال خرید کر لایا ہے اور کون حرام حلال کے پیسوں کے سیب الگ  کردیئے اور حرام کے پیسوں کے الگ کر دیئے ۔ 
*(خوشبو والا عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم صفحہ نمبر 87 ، 88۔چشتی)*

یہاں شرک نہیں ہوا جناب ؟

اگر یہی الفاظ مسلمانانِ اہلسنت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور اولیاء کرام علیہم الرّحمہ کےلیئے استعمال کرتے ہیں تو شرک کے فتوے مگر اہنے مردہ مٹی میں مل جانے اور گل سڑ جانے والے مولوی کےلیئے یہ سب کچھ جائز ہے آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے ؟
اور اب تک کسی دیوبندی عالم اور پر جوش موحد نے اس کتاب پر اور لکھنے والے پر نہ کوئی فتویٰ لگایا اور نہ ہی رد لکھا آخر یہ دہرا معیار کیوں جناب اور امت مسلمہ پر فتوے لگا کر وہی افعال خود اپنا کر منافقت دیکھا کر تفرقہ و انتشار کیوں پھیلایا جاتا ہے آخر کیوں ؟
اصل اسکن پیش خدمت ہیں فیصلہ اہل ایمان خود کریں مسلمانان اہلسنت یہ نظریات رکھیں اور کہیں تو شرک کے فتوے اور دیوبندی خود سب کچھ کریں تو جائز آخر یہ دہرا معیار و منافقت اپنا کر امت مسلمہ میں تفرقہ و انتشارکیوں پھیلایاجاتا ہے ؟ ۔ 

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
مکمل تحریر >>

کونڈے_اور_مختلف_رسومات

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=594875784576164&id=100021612426957

*#کونڈے_اور_مختلف_رسومات*

ہمارے یہاں کونڈوں کا بڑا مسئلہ بنا رہتا تھا اور بعض لوگ ایصال ثواب کی اس قسم پر یہ کہا کرتے تھے کہ یہ شیعہ روافض کی رسم ہے جو وہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کے بغض میں کرتے ہیں

اتنی بات انکی ٹھیک سمجھیں کہ روافض سے کچھ بعید نہیں

اس دور میں دعوتِ اسلامی کو یہ اعزاز ملا کہ اسنے کونڈے نامی ایصالِ ثواب کے معاملے کو سیدنا امام جعفر صادق رضی اللّٰہ عنہ ہی تک نہ رکھا بلکہ اس ایصالِ ثواب میں جَلی حروف سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کو بھی شامل فرمالیا تاکہ روافض سے تشبہ کا شبہ بھی زائل ہو اور رافضیوں کی نیندیں بھی حرام ہو
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس طریقہ کو دیکھ کونڈوں کے معاملے میں کون خوارج کا طریقہ اپناتا ہے اور حق بول کر باطل مراد لینا واضح کرتا ہے

اب آیئے کونڈوں میں رافضیانہ رسم پر کچھ مزیدار باتیں عرض کرتا ہوں

رافضی اپنے کونڈے چھپا کر کرتے ہیں اور یہ گھر کی چار دیواری ہی میں کرتے ہیں
توھم پرست رافضی کو چار دیواری میں چار کا لفظ دیکھ کر بخار آنا چاہیئے اور اسے سَرعام کرنا چاہیئے
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جنکا مذہب ہی تقیہ ہو اور جنکی قائم حجت ہی چھپی ہو تو پھر وہ اپنے سب سے بڑے دشمن سمجھے جانے والے کے وصال پر خوشی کیونکر چھپ کے نہ کریں
اس ہی چھپن چھپائی میں انہوں نے یہ وضع کررکھا ہے کہ کونڈے گھر سے باہر نہ جائیں بلکہ کونڈوں کا کھانا کھا کر ہاتھ بھی وہیں دھوئیں کہ کہیں کوئی ایسے ہی باہر نہ چلاجائے اور انکی رسمِ بد ظاہر نہ ہو

دیکھو رافضیوں ہم گج وج کر یہ لنگر کرتے ہیں اور سیدنا امام جعفر صادق کے ساتھ ان سے افضل سیدنا امیر معاویہ کا بھی نام لیتے ہیں
ہمارے خوف سے تم میں غیرت پیدا نہ ہوگی اور تم چھپ ہی کر کونڈے کروگے جیسے تم میں 313 غیرت مند پیدا نہیں ہوتے اور تمہارا امام غائب چھپے رہنے پر مجبور رہتا ہے

غلامانِ صحابہ کا خوف تمہارے اندر 313 تو دور 12/13 غیرت مند بھی پیدا نہیں ہونے دیگا

نوٹ: ان شاءاللّٰہ میرے گھر بھی لنگرِ جعفری و معاویائی کا سلسلہ جاری ہے، اطعام الطعام کا معاملہ ہوگیا اب دیگر صورتوں میں بھی ایصالِ ثواب ہوتا رہے گا

سڑ رافضی سڑ
جَل خارجی جَل

#نظام_امیر
مکمل تحریر >>