Pages

Thursday, 15 November 2018

انبیاء کرام علیہم السّلام کو اپنے جیسا بشر کہنا کفار کا طریقہ ہے*

*انبیاء کرام علیہم السّلام کو اپنے جیسا بشر کہنا کفار کا طریقہ ہے*
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اگر کوئی شخص اپنی ماں کو باپ کی بیوی یا باپ کو ماں کا شوہر کہے تو اگر چہ یہ بات سچی ہے مگر بے ادب و گستاخ کہا جائے گا ۔اسی طرح آقائے دو جہاںصلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی عظمت والے القاب کے ہوتے ہوئے محض بشر یا بھائی کہنے والوں کو یقینا بے ادب و گستاخ کہا جائے گا اور نبی کو بشر کہنا مومنین کا طریقہ ہر گز نہیں رہا ہے بلکہ کفار کا طریقہ رہا ہے ۔
سب سے پہلے شیطان نے نبی کو بشر کہا تھا شیطان کے بعد اور کفار نے اپنے نبی کو بشر کہا ۔
قرآن کریم پڑھئے،
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے ان سے کہا تھا ۔
مَا نَرَاکَ اِلَّا بَشَرًا مِّث لَنَا ۔”
نہیں دیکھتے ہم تم کو مگر اپنی مثل ایک بشر ۔
حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے ان سے کہا تھا :
مَا اَن تَ اِلَّا بَشَر مِّثلُنَا ۔”
اور تو یہی ایک بشر ہے ہماری مثل ۔
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم نے ان سے کہا تھا :
وَمَا اَن تَ اِلَّا بَشَر مِّثلُنَا۔
اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی قوم نے آپ کے بارے میں کہا :ھَل ھٰذَا اِلَّا بَشَر مِّث لُکُم ۔”
یہ محض تم جیسے ایک معمولی آدمی ہیں ۔

مذکورہ آیات سے یہ حقیقت خوب آشکارا ہو جاتی ہے کہ انبیاء علیہم السّلام کو محض اپنے جیسا بشر کہنا کفار کا طریقہ رہا ہے ۔ تو یہ کتنی بڑی عاقبت نا اندیشی ہو گی کہ کفار کا طریقہ اپنایا جائے اور سرکار کائنات صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے اعلیٰ القاب کے ہوتے ہوئے بشر یا بھائی کہا جائے اور قرآن کریم کے ارشاد : اِنَّمَاالمُومِنُونَ اِخوَة ۔ سے دلیل پکڑ کر حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کو بھائی کہنا اعلیٰ درجہ کی حماقت ہے ۔ اس لئے کہ آیت کریمہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی امت کے حق میں ہے نہ کہ ہر قسم کے مومن کے بارے میں ۔ کیونکہ اگر ہر مومن بھائی ہو تو خدا بھی مسلمانوں کا بھائی ہو جائے گا ،کہ وہ بھی مومن ہے تو جب ہر مومن بھائی نہیں ،تو پھر حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم ہمارے بھائی کیسے ہو سکتے ہیں ؟
جبکہ ہم میں اور حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم میں صرف لفظ مومن میں اشتراک ہے ،حقیقت مومن میں نہیں ۔کہ ہم مومن ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم عین ایمان ۔ حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کا ایمان دیکھی ہوئی چیزوں پر ہے، اور ہمارا ایمان ایسا نہیں ۔
حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کا کلمہ ہے ”
اَنَا رَسُو لُ اللّٰہ “ اگر ہم کہیں تو کافر ہو جائیں ،ہمارے لئے ارکان اسلام پانچ ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے لئے چار ،کہ آپ پر زکوٰة فرض نہیں ۔
معلوم ہوا کہ ہم میں اور حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم میں حقیقت مومن میں اشتراک نہیں تو آپ
”اِنَّمَا المُومِنُو نَ اِخوَة“
میں شامل نہیں ہو سکتے ،تو پھر آپ ہمارے بھائی کیسے ہو سکتے ہیں ؟
اور جب آپ ہمارے بھائی نہیں تو پھر آپ کو بھائی کہنے کی اجازت کیسے مل سکتی ہے ؟
کہ جب کوئی اپنے باپ کو بھائی نہیں کہتا کہ اس میں ان کی بے ادبی اور گستاخی ہے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کو بھائی کہنا کیسے درست ہو سکتا ہے ؟

قرآن کریم نے کفار کا یہ طریقہ بتایا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کو بشر کہتے تھے۔

*سورہ یسین آیت 15 :*
قَالُوا۟ مَآ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُنَا وَمَآ أَنزَلَ ٱلرَّحْمَنُ مِن شَىْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَكْذِبُونَ ۔
*ترجمہ : بولے تم تو نہیں مگر ہم جیسے آدمی اور رحمٰن نے کچھ نہیں اتارا تم نِرے جھوٹے ہو ۔*

*سورہ مومنون آیت 34:*
ولئن اطعتم بشرا مثلكم انكم اذا لخاسرون ۔
*ترجمہ : اور اگر تم کسی اپنے جیسے آدمی کی اطاعت کرو جب تو تم ضرور گھاٹے میں ہو۔*

اس قسم کی بہت سی آیات ہیں۔ اسی طرح مساوات بتانا انبیاء کرام علیہم السلام کی شان گھٹانا طریقہ ابلیس ھے کہ اس نے کہا۔

*سورہ اعراف آیت 12 :*
قال مامنعك الا تسجد اذ امرتك قال انا خير منه خلقتني من نار وخلقته من طين ۔
*ترجمہ : فرمایا کس چیز نے تجھے روکا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے تجھے حکم دیا تھا۔ بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا۔*

شیطان کا مطلب تھا کہ میں ان سے افضل ہوں۔ اسی طرح یہ کہنا کہ ہم میں اور پیغمبروں میں کیا فرق ہے۔ ھم بھی بشر وہ بھی بشر بلکہ ہم زندہ وہ مردے، یہ سب ابلیسی کام ہے۔
اللہ کریم جل شانہ ایسے گمراہ خیالات سے ہم سب مسلمانوں کو اپنی پناہ عطا فرمائے۔ آمین۔

*قرآن پاک میں فرمان ہے ۔*
*سورہ کہف آیت 110 :*
قل انما انا بشر مثلكم يوحى الي انما الهاكم اله واحدا فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولايشرك بعبادة ربه احدا

*ترجمہ : تم فرماؤ ظاہر صورت بشری میں تو میں تم جیسا ہوں*
(222) مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے (223) تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہئے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے (224)
تفسیر : (222 ) کہ مجھ پر بشری اعراض و امراض طاری ہوتے ہیں اور صورتِ خاصّہ میں کوئی بھی آپ کا مثل نہیں کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو حسن و صورت میں بھی سب سے اعلٰی و بالا کیا اور حقیقت و روح و باطن کے اعتبار سے تو تمام انبیاء اوصافِ بشر سے اعلٰی ہیں

*جیسا کہ شفاءِ قاضی عیاض میں ہے اور شیخ عبدالحق محدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح مشکوٰۃ میں فرمایا کہ* انبیاء علیہم السلام کے اجسام و ظواہر تو حدِّ بشریت پر چھوڑے گئے اور ان کے ارواح و بواطن بشریت سے بالا اور ملاءِ اعلٰی سے متعلق ہیں ۔
*شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے سورۂ والضحٰی کی تفسیر میں فرمایا کہ*
آپ کی بشریت کا وجود اصلاً نہ رہے اور غلبۂ انوارِحق آپ پر علی الدوام حاصل ہو بہرحال آپ کی ذات و کمالات میں آ پ کا کوئی بھی مثل نہیں ۔ اس آیتِ کریمہ میں آپ کو اپنی ظاہری صورتِ بشریّہ کے بیان کا اظہار تواضع کے لئے حکم فرمایا گیا ،
*یہی فرمایا ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے ۔*

(تفسیر خازن،چشتی)

*مسئلہ :* کسی کو جائز نہیں کہ حضور کو اپنے مثل بشر کہے کیونکہ جو کلمات اصحابِ عزّت و عظمت بہ طریقِ تواضع فرماتے ہیں ان کا کہنا دوسروں کے لئے روا نہیں ہوتا ، دوئم یہ کہ جس کو اللہ تعالٰی نے فضائلِ جلیلہ و مراتبِ رفیعہ عطا فرمائے ہوں اس کے ان فضائل و مراتب کا ذکر چھوڑ کر ایسے وصفِ عام سے ذکر کرنا جو ہر کہ و مِہ میں پایا جائے ان کمالات کے نہ ماننے کا مُشعِر ہے ، سویم یہ کہ قرآنِ کریم میں جا بجا کُفّار کا طریقہ بتایا گیا ہے کہ وہ انبیاء کو اپنے مثل بشر کہتے تھے اور اسی سے گمراہی میں مبتلا ہوئے پھر اس کے بعد آیت یُوْحٰۤی اِلَیَّ میں حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخصوص بالعلم اور مکرّم عنداللہ ہونے کا بیان ہے ۔(223 )اس کا کوئی شریک نہیں ۔ (224 )شرکِ اکبر سے بھی بچے اور ریاء سے بھی جس کو شرکِ اصغر کہتے ہیں ۔

*مسلم شریف میں ہے کہ* جو شخص سورۂ کہف کی پہلی دس آیتیں حفظ کرے اللہ تعالٰی اس کو *فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا ۔*
یہ بھی حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص سورۂ کہف کو پڑھے وہ آٹھ روز تک ہر فتنہ سے محفوظ رہے گا۔

*ہمارا عقیدہ :* ہمارے پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم اللہ کریم جل شانہ کے بندے ہیں ، اللہ کریم جل شانہ کا نور ہیں لیکن اللہ کریم جل شانہ کے نور کا حصہ نہیں ہیں ۔ اللہ کریم جل شانہ وہ ہے جس کا کوئی شریک نہیں، ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ کریم جل شانہ کے کرم سے اللہ کریم جل شانہ کی تمام مخلوقات میں سب سے بلند مقام نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کا ہے اور کوئی ان جیسا نہیں ہے، ان کی کوئی مثال نہیں ہے۔ ان سے کوئی نہ ہوا نہ ہو گا ۔

(طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مکمل تحریر >>

Tuesday, 13 November 2018

عیدِمیلاد پراعتراضات کا جواب

🌹عیدِمیلاد پر پہلا اعتراض🌹

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

🌷اعتراض🌷

آپ لوگ جو بارہ ربیع الاول کو حضورﷺ کا یوم ولادت مناتے ہیں، یہ اصل میں ولادت کی تاریخ ہے ہی نہیں؟

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

🌷الجواب🌷

🌴جواب: اس کا جواب آپ کو صحابہ کرام علیہم الرضوان، تابعین، محدثین اور جمہور علماء کے اقوال کی روشنی میں دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ سرور کائناتﷺ کی تاریخ ولادت میں محققین کا اختلاف ہے مگر جس تاریخ پر جمہور علماء متفق ہیں، وہ تاریخ بارہ ربیع الاول ہے۔

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

1⃣حضرت جابر اور حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں:

روایت: رواہ ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ عن عفان عن سعید بن میناء عن جابر و ابن عباس انہما قال ولد رسول ﷲﷺ عام الفیل یوم الاثنین الثانی عشر من شہر ربیع الاول وفیہ بعث و فیہ عرج بہ الی السماء و فیہ ہاجرو فیہ مات و ہذا المشہور عند الجمہور وﷲ اعلم بالصواب
ترجمہ: حضرت جابر اور حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما دونوں سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اﷲﷺ عام الفیل روز دوشنبہ بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے اور اسی روز حضورﷺ کی بعثت ہوئی۔ اسی روز معراج ہوئی اور اسی روز ہجرت کی اور جمہور اہل اسلام کے نزدیک یہی تاریخ بارہ ربیع الاول مشہور ہے۔ واﷲ اعلم بالصواب

📕(سیرت ابن کثیر، جلد اول، ص 199)

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

2⃣ امام ابن جریر طبری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

ولد رسول ﷲﷺ یوم الاثنین عام الفیل لاثنتی عشرۃ لیلۃ مضت من شہر ربیع الاول
ترجمہ: رسول اﷲﷺ کی ولادت سوموار کے دن ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کو عام الفیل میں ہوئی

📕(تاریخ طبری، جلد دوم، ص 125)

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

3⃣ علامہ ابن خلدون علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
ولد رسول ﷲﷺ عام الفیل لاثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من ربیع الاول لاربعین سنۃ من ملک کسریٰ انو شیرواں

ترجمہ: رسول اﷲﷺ کی ولادت باسعادت عام الفیل ميں ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو ہوئی۔ نوشیرواں کی حکمرانی کا چالیسواں سال تھا

📕(تاریخ ابن خلدون، جلد دوم، ص 710)

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

4⃣علامہ ابن ہشام علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
ولد رسول ﷲﷺ یوم الاثنین لاثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من شہر ربیع الاول عام الفیل
ترجمہ: رسول اﷲﷺ سوموار بارہ ربیع الاول کو عام الفیل میں پیدا ہوئے

📕(السیرۃ النبوۃ ابن ہشام، جلد اول، ص 171)

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

5⃣علامہ ابوالحسن علی بن محمد الماوردی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
لانہ ولد بعد خمسین یوما من الفیل وبعد موت ابیہ فی یوم الاثنین الثانی عشر من شہر ربیع الاول
ترجمہ: واقعہ اصحاب فیل کے پچاس روز بعد اور آپ کے والد کے انتقال کے بعد حضورﷺ بروز سوموار بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے

📕(اعلام النبوۃ ص 192)

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

6⃣ علامہ ابن جوزی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

ولدﷺ یوم الاثنین لعشر خلون من ربیع الاول عام الفیل وقیل للیلتین خلتامنہ قال ابن اسحاق ولد رسول ﷲﷺ یوم الاثنین عام الفیل لاثنتی عشرۃ لیلۃ مضت من شہر ربیع الاول
ترجمہ: رسول اﷲﷺ کی ولادت باسعادت بروز سوموار دس ربیع الاول کو عام الفیل میں ہوئی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ربیع الاول کی دوسری تاریخ تھی اور امام ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کی ولادت مبارکہ روز دوشنبہ بارہ ربیع الاول عام الفیل میں ہوئی

📕(الوفا لابن جوزی ص 90)

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

7⃣ امام ابو الفتح محمد بن محمد بن عبداﷲ بن محمد یحیی بن سید الناس الشافعی الاندلسی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

ولد سیدنا ونبینا محمد رسول ﷲﷺ یوم الاثنین لاثنین لاثنتی عشرۃ لیلۃ مضت من شہر ربیع الاول عام الفیل قیل بعد الفیل بخمیس یوما
ترجمہ: ہمارے آقا اور ہمارے نبی محمد رسول ﷲﷺ سوموار کے روز بارہ ربیع الاول شریف کو عام الفیل میں پیدا ہوئے۔ بعض نے کہا ہے کہ واقعہ فیل کے پچاس روز بعد حضورﷺ کی ولادت ہوئی

📕(عیون الاثر، جلد اول، ص 26)

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

8⃣ امام محمد بن زہرہ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

الجمہرۃ العظمیٰ من علماء الروایۃ علی ان مولدہ علیہ الصلوٰۃ والسلام فی ربیع الاول من عام الفیل فی لیلۃ الثانی عشر منہ و قد وافق میلادہ بالسنۃ الشمیمۃ نسیان

ترجمہ: علماء روایت کی ایک عظیم کثرت اس بات پر متفق ہے کہ یوم میلاد عام الفیل، ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ ہے

(خاتم النبیين، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، ص 115)

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

9⃣گیارہویں صدی کے مجدد شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

بداں کہ جمہور اہل سیر وتواریخ برآنند کہ تولد آنحضرتﷺ درعام الفیل ابو دراز چہل روز یا پنجاہ وپنج روز وایں قول اصح اقوال است مشہور آنست کہ در ربیع الاول بدود و بعضے علماء دعویٰ اتفاق بریں قول نمودہ ودوازدہم ربیع الاول بود

📕(مدارج النبوۃ، جلد دوم، ص 15)

ترجمہ: خوب جان لو کہ جمہور اہل سیر و تواریخ کی یہ رائے ہے کہ آنحضرتﷺ کی پیدائش عام الفیل ہوئی اور واقعہ فیل کے چالیس روز یا پچپن روز بعد اور یہ دوسرا قول سب اقوال سے زیادہ

صحیح ہے کہ ربیع الاول کا مہینہ تھا اور بارہ تاریخ تھی۔ بعض علماء نے اس قول پر اتفاق کا دعویٰ کیا ہے یعنی سب علماء اس پر متفق ہیں۔

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

🔟 شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

جس سال واقعہ اصحاب فیل پیش آیا، اسی سال ماہ ربیع الاول میں دوشنبہ کے دن آنحضرتﷺ کی ولادت ہوئی۔ جمہور کے نزدیک یہی قول صحیح ہے۔ (البته تاريخ ولادت كي تعيين ميں اختلاف هے، بعض دوسري اور بعض نے تيسري اور بعض نےبارهويں تاريخ بيان كي هے)

📕(سیرت الرسولﷺ، ص 12، مطبوعہ دارالاشاعت اردو بازار، کراچی)

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

1⃣1⃣غیر مقلدین اہلحدیث فرقے کے پیشوا نواب سید محمد صدیق حسن خان لکھتے ہیں:
ولادت شریف مکہ مکرمہ میں وقت طلوع فجر کے روز دوشنبہ شب دوازدہم ربیع الاول عام الفیل کو ہوئی

📕(الشمامۃ العنبریہ مولد خیر البریہ، ص 7)

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

2⃣1⃣ دیوبندی مکتبہ فکر کے مفتی اعظم پاکستان
مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں:
الغرض جس سال اصحاب فیل کا حملہ ہوا، اس کے ماہ ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کے انقلاب کی اصل غرض ’’آدم‘‘ اولاد آدم کا فخر،کشتی نوح کی حفاظت کا راز، ابراہیم کی دعا۔ موسیٰ و عیسٰی کی پیش گوئیوں کا مصداق یعنی ہمارے آقائے نامدار محمد رسول اﷲﷺ رونق افزائے عالم ہوتے ہیں

📕(سیرت خاتم الانبیاء، ص 18، مطبوعہ مشتاق بک کارنر، اردو بازار، لاہور)

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

🌴ان تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان، تابعین، محدثین اور جمہور علماء کے نزدیک سرور کونین ﷺ کی ولادت کی تاریخ بارہ ربیع الاول ہے، لہذا اب تمام ماہر فلکیات کی تحقیق کو پس پشت ڈال کر فقط محدثین کی بات کو قبول کیا جائے گا۔

🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡🐡

مکمل تحریر >>

Sunday, 4 November 2018

_شرح لفظ وہابی و لفظ دیوبند تخریج کے ساتھ

*تخریج کیساتھ*

*⛔_شرح لفظ وہابی و لفظ دیوبند _⛔*

*1_ دیو کے معنی ہیں شیطان بھوت ارواح خبیثہ وغیرہ کتاب طبرالررویا صفحہ 243*

*ہندو چونکہ انہی چیزوں کی پوجاپاٹ کرتے ہیں اسی لئے ہندو مذہب کے مطابق دیوی دیوتا کے الفاظ بنیادی طور پر اسی لفظ دیو سے ماخوذ و منسوب ہے*
اور
*2_ بند کے معنی ہیں بندھا ہونا جڑا ہونا وابستگی تعلق وغیرہ مثلاً کمر بند وہ ڈوری یا دھاگہ جو کمر سے بندھا ہو جڑا ہو*

*👈 دیوبند یعنی ایسی جماعت یا ٹولہ یا ایسا گروہ جو پوجاپاٹ کے حوالے سے یا نظریاتی و اعتقادی طور پر دیو یا دیوی دیوتاؤں سے وابستہ یا بندھا ہو*

*👈 ' بندی ' یہ بند کی نسبت بھی ہے اور بندے کی مؤنث (Female) بھی چنانچہ دیوبندی کے معنی ہوئے ایسی مؤنث یا بندی یا باندی یا ذات یا جماعت یا تحریک یا دعوت یا سوچ و نظریہ یا فکر وغیرہ جو اعتقادی و نظریاتی طور پر دیوی دیوتاؤں سے وابستہ ہو*

*مسلک علمائے دیوبند کا لفظی و بامحاورہ ترجمہ*✍

*مسلک _____  راستہ*
*علمائے _____علماء*
*دیو_______شیطان*
*بند ______قید*

*کیا بنا مطلب ایسا مسلک جو شیطان کی قید میں ہو نظریات و اعتقادی اعتبار سے شیطان کی پیروی کرنے والی جماعت*

*👹دیوبندی یعنی شیطانی گروہ👿*

*⛔انگریزوں کے پیسوں پر پلنے والی جماعت*

*اس ضمن میں مولانا حفظ الرحمن دیوبندی نے کہا کہ مولانا الیاس کی تبلیغی تحریک کو بھی ابتداء حکومت کی جانب سے بذریعہ رشید احمد گنگوہی کچھ روپیہ ملتا تھا پھر بند ہو گیا*

*⛔وہابی لقب کی وجہ تسمیہ⛔*

*وہابی مذہب محمد بن عبدالوہاب نجدی کی طرف منسوب ہے نجدیت اور وہابیت غیر مقلدیت سلفیت ایک ہی مذہب کے نام ہیں*

چنانچہ

*فتاویٰ علمائے اہل ہدیث جلد 10 میں ھے کہ*

*قاعدہ کی رو سے وہابی اس کو کہنا چاہئے جو محمد بن عبدالوہاب نجدی کا مقلد یعنی پیروکار ھو*

*مولوی ثناء اللہ امرتسری لکھتا ہے کہ*

*محمد بن عبدالوہاب کے اتباع اور گروہ کو لوگ وہابی کہتے ہیں*

*(فتوی ثنائیہ جلد 1 صفحہ 414) 📚*

*👈 شمارہ 📓 ہفت روزہ صفحہ 13 بمطابق 24 شوال 1432 ھ یہ لکھ کر تسلیم کیا کہ آج پتہ چلا وہابی اللہ کو ماننے والے کہتے ہیں یا محمد بن عبدالوہاب نجدی کے ماننے والے کو کہتے ہیں*

*قارئین کرام  :*

*اوپر پیش کردہ وہابی مولویوں کے اقوال سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ وہابی اسے کہتے ہیں جو محمد بن عبدالوہاب نجدی کا مقلد پیروکار ھو.... آج یہی لوگ عوام کو دھوکہ دینے کے لیے کہتے ہیں کہ وہاب اللہ کو کہتے ہیں جو اللہ کو ماننے والا ھو..........  یہ ان کا تقیہ کلام ھے اور دھوکہ و فریب*

*⛔وہابی نیا فرقہ ھے⛔*

*لفظ وہابی کی تعریف وہابی کی زبانی....*

*نواب صدیق حسن خان ترجمان وہابیہ کے صفحہ 58 پر لکھتا ہے*

*لفظ وہابی محمد بن عبدالوہاب نجدی کے وقت سے نکلا ہے اسلام کی کتابوں میں کہیں اس کا ذکر نہیں ؛*

*⛔وہابی لفظ ایک بدنام الفاظ ھے*

*کتاب 👈 سیرت شیخ عبدالوہاب پر لکھا ہوا ہے کہ ان کو بدنام کرنے کے لیے وہابی لقب دیا گیا*

*👈 سیرت ثنائیہ کے صفحہ نمبر 452 پر لکھا ہے کہ غیر مقلد وہابیہ کو اہل حدیث کا نام اللہ و رسول نے نہیں بلکہ انگریز نے دیا ہے*

*یعنی غیر مقلد مولوی بٹالوی نے انگریز دور میں وہابی نام پر پابندی لگوائی اور انگریز سے اپنی جماعت کا نام اہل حدیث رکھوایا*

*👈 ملکہ وکٹوریہ کی طرف سے بٹالوی کو اہلحدیث کے نام کی الاٹمنٹ کی اطلاع*

*لیفٹیننٹ گورنر پنجاب نے بذریعہ چٹھی نمبری 1758 مجریہ 3 دسمبر 1886 اس درخواست کی منظوری کی اطلاع مولوی محمد حسین بٹالوی کو فراہم کی گئی*

*اشاعۃ السنہ شمارہ 2 جلد11 صفحہ نمبر 39 جنگ آزادی صفحہ 66*📚

*⛔ فرقہ جدید اہلحدیث وہابی سے اہل حدیث کیسے اور کب بنا ❓*

*💂‍♂ انگریز سرکار نے مہربانی فرمائی وہابی سے اہلحدیث نام جماعت کا منظور کیا ۔*

*(مآثر صدیقی حصّہ اول صفحہ نمبر 162 نواب صدیق حسن خان غیر مقلد)*📚

*⛔ نام نہاد اہل حدیث عالم ثناء اللہ امرتسری کا انکشاف⛔*

*فتاوی ثنائیہ کے صفحہ نمبر 414 / 415 پر لکھتا ہے کہ*

*وہابی اور دیوبندی ایک ہی چشمے کی دو شاخیں ہیں*

*یعنی وہابی دیوبندی خوارج کے روپ میں ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے منافق ہیں ان کا اھل_سنت جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے*❌

*⛔ وہابی کسے کہتے ہیں _؟ وہابی عالم کی زبانی👇*

*مشہور غیر مقلد وہابی ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں :*

*وہابی محمد بن عبد الوہاب نجدی کے پیروکاروں کو کہتے ہیں برِّصغیر میں اس کے دو گروہ ہوئے ایک اہلحدیث کہلایا اور دوسرا دیوبندی ان دونوں کا مخرج ایک ہی ہے*

*( فتاویٰ ثنائیہ جلد اول صفحہ 414) 📚*

*🌹 اصلی اہل حدیث 🌹*

*وہ لوگ جنہیں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ احادیث عربی میں مع سند کے یاد ہوں ان سے مراد عام طور پر خیر القرون کے محترم بزرگان دین اولیاء اللہ کی ہستیاں محدثین کرام ہوتے ہیں*

*یاد رہے کہ*
*مزارات مقدسہ و اولیاء کرام کے منکر یعنی وہابیوں دیوبندیوں میں اولیاء اللہ ولی نہیں ہوتے اور*
*چودہ 14 سو سالوں میں ہر صدی میں مثلاً حضرت سیدنا عثمان بن علی ہجویری داتا گنج بخش فیض عالم سرکار رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں کوئی ایک بابا وہابی دیوبندی کے نام مسلک و عقیدے کا دکھا دیں مگر کیسے ھے ہی نہیں ❌*
*اگر بات سمجھ گئے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہابی دیوبندی نیا بدعقیدہ بدمذہب فرقہ ہیں جو انگریزوں کا لگایا ہوا تیار کیا ہوا ہے اور منافق ہیں یعنی اندر سے یہود و نصارا ہندو مشرکین ہیں اور ان کفار کے ایجنٹ خوارج ہیں*

*💰 وکٹورین اہلحدیث 💰*

*اس سے مراد ہر ایرے غیرے نتھوں خیرے سبزی فروش ٹھیلے دار لفنگوں اور جاہلوں کو اہل حدیث نہیں کہتے بلکہ یہ ایک جدید فرقہ ظاہریہ ہے جو ملکہ وکٹوریہ کی سرپرستی میں برٹش انڈیا میں ظہور میں آیا ائمہ اربعہ اولیاء اللہ اور صحابہ کرام پر کتوں کی طرح بھونکنا ان کی خاص نشانی ہے دین میں جاہلوں کی تقلید کرنا اور تقلید کو شرک بھی کہنا ان کی جہالت و گمراہ کن سوچ کی واضح مثال ہے انہیں ایک لاکھ احادیث تو دور کی بات اپنا شجرہ نسب بھی یاد نہیں ہوتا*

*👈 حضرت سیدنا امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ*

*چاروں مذاہب ( حنفی مالکی شافعی حنبلی ) سے جو خارج ہے وہ گمراہ ھے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والا ہے اس لیے کہ قرآن و حدیث کے ( ظاہر ) سے کوئی مسئلہ اخذ کرنا کفر کے اصولوں میں سے ہے یعنی کفر کی حالت تک پہنچ جانا*

*(بحوالہ تفسیر صاوی) 📚*

*⛔ وہابی دیوبندی خوارج کے روپ میں ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے منافق ہیں دیکھ لیں 👇🏿*

*دیوبندی وہابی مکتبہ فکر کے حکیم الامت مولوی اشرفعلی تھانوی ڈنکے کی چوٹ پر اپنے وہابی ہونے کا خندہ پیشانی سے اقرار کرتے ہوئے لکھتے ہیں*

*اگر میرے پاس دس 10000 ہزار روپے ہوں تو سب کو تنخواہ کر دوں پھر سب لوگ خود ہی وہابی بن جائیں*

*( الافاضات الیومیہ جلد 2 صفحہ 75 )📚*

*👈 غور طلب بات یہ ہے کہ وہابی دیوبندی اپنی اس بات سے یہ اقرار کر رہے ہیں کہ ہمارا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہم ڈالروں نجد کے ریالوں و روپے پیسوں پر چلتے ہیں وہ جہاں سے بھی اور جیسے بھی مل جائیں*

*دیکھ لو پھر نہ کہنا کہ بتایا نہیں تھا کہ🔍*
*وہابی دیوبندی اپنے باطل و گمراہ کن عقائد کی بنیاد پر ایک ہی ہیں ان کے نام علحدہ علحدہ ہیں مگر ہیں خارجی منافق*

*⛔وہابی دیوبندی خوارج کے روپ میں منافق ہیں اور ان کا اھل_سنت جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے ❌*

*احادیث نجد کا مفہوم 📚*

*وہابی دیوبندی خوارج کے روپ میں منافق ہیں اور بد ترین مخلوق اور جہنم کے کتے ہیں اور کفار یہود و نصارا ہندو مشرکین کے ایجنٹ دھشگرد اور ان کی آخری جماعت دجال کے ساتھ جا کر مل جائے گی یعنی ایلومیناٹی فریمیسن ایجنڈا درحقیقت دجال کے نظریات و شیطانی تسلط کے پیروکار خوارج وہابی دیوبندی گستاخان_رسول منافق فرقے*

*مزید احادیث نجد کی معلومات کے لئے اوپر دیئے گئے لنکس کو کلک کر کے ویڈیو ڈاکومنٹریز ملاحظہ کیجئے 📺*

*👈 مسلک حق سواد اعظم اھل_سنت جماعت حنفی بریلوی کی حقیقت منکرین یعنی خارجی نجدی وہابی غیر مقلد سلفی دیوبندی گستاخان_رسول منافق فرقوں کی نظر میں 👇🏿*

*زکریا شاہ بنوری دیوبندی لکھتے ہیں :*
*دیوبندی مولوی محمد یوسف بنوری آف کراچی کے والد زکریا شاہ بنوری دیوبندی نے کہا اگر اللہ تعالیٰ ہندوستان میں مولانا احمد رضا خان بریلوی کو پیدا نہ فرماتا تو ہندوستان میں حنفیت ختم ہو جاتی*

*( بحوالہ سفید و سیاہ) 📚*

*مولوی ابو الحسن دیوبندی لکھتے ہیں :*

*فقہ حنفی اور اس کی جزئیات پر جو ان ( یعنی اعلیحضرت امام احمد رضا خان بریلوی حنفی قادری رحمۃ اللہ علیہ) کو عبور حاصل تھا اس زمانہ میں اس کی نظیر نہیں ملتی*

*( نزہۃ الخواطر جلد 8 صفحہ 38) 📚*

*پیشوائے اہل حدیث وہابی مولوی ثناءاللہ امرتسری لکھتا ہے کہ :*
*اسی 80 سال قبل پہلے قریباً سب مسلمان اسی خیال (یعنی عقیدے ) کے تھے جن کو آجکل بریلوی کہا جاتا ہے*

*(شمع توحید صفحہ 40 مطبوعہ سرگودھا) 📚*

*یاد رہے کہ*
*( مولوی ثناء اللہ امرتسری وہابی غیر مقلد کی یہ تحریر آج سے پچاس 50 سال پہلے کی ھے )*

*قارئین کرام !*

*ہم نے مسلک_اعلیٰ حضرت کی حقانیت تاریخی اعتبار سے منکرینِ وہابیہ دیوبندیہ نجدیہ کے گھر سے ثابت کر دی ہے... ✔*
*مزید ہمارے پاس سینکڑوں شواہد و دلائل و حوالہ جات موجود ہیں مگر طوالت کے پیش نظر اسی پر اکتفا کر دیا ہے باقی مزید معلومات کے لئے ان کتب و رسائل کا مطالعہ فرمائیں 👇*

*1_ اعلی حضرت امام اہلسنت مخالفین کی نظر میں 📚*
*مصنف ✍*
*علامہ مولانا محمد حسن علی رضوی صاحب*

*2_ حق پر کون __؟ 📚*

*3_ کڑوا سچ 📚*

*4_ رشدالایمان 📚*

*5_ تمہید ایمان 📚*

*6_ فیصلہ کیجئے 📚*

*7_ کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب 📚*

*8_ زلزلہ 📚*

*دعوت فکر.............🙋‍♂*

*اولیاء اللہ چودہ سو سال سے جس جماعت میں پیدا ہوتے و چلتے آ رہے ہیں وہ مسلک حق سواد اعظم اھل_سنت جماعت حنفی بریلوی ہیں تمام لوگوں کو ہم دعوت فکر دیتے ہیں کہ اھل_سنت جماعت سے خارج خوارج وہابی دیوبندی گستاخان_رسول منافق فرقوں سے ہر طرح کا تعلق و رشتہ داری توڑ کر ان سے خود کو اور اپنی نسلوں کو بچا کر اھل_سنت جماعت سے منسلک ہو جائیں اور ہمیشہ منسلک رہیے کیونکہ تاریخی حقائق و عقائد و نظریات کی بنیاد پر یہی جماعت جنتی جماعت ہے جس کی پہچان لبیک یارسول اللہ ھے*

*لبیک یا رسول اللہ🌹*

مکمل تحریر >>

Saturday, 27 October 2018

فرقہ ورایت پھیلانے والے کون ؟* *الزام اہلسنت پر لگاتے تھے قصور اپنا نکل آیا

*فرقہ ورایت پھیلانے والے کون ؟*
*الزام اہلسنت پر لگاتے تھے قصور اپنا نکل آیا*
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

برصغیر کے پر امن مسلمانان اہلسنت میں شورش و فتنہ کس نے برپا کیا ، کس نے مسلمانوں کو آپس میں لڑایا فسادی کون ہے ؟
*پڑھیئے حکیم الامت دیوبند اپنی کتاب ارواح ثلاثہ صفحہ نمبر 67 ، 68 ۔ پر لکھتے ہیں کہ :*
مولوی اسماعیل دہلوی نے کتاب تقویۃ الایمان لکھی اور خود اقرار کیا کہ اس میں سخت الفاظ لکھے گئے ہیں شرک خفی کو شرک جلی لکھ دیا ہے ( گویا شریعت ان کے گھر کی ہے جو مرضی آئے کریں) اس طرح مسلمانوں میں شورش ہوگی اور مجھے امید ہے کہ آپس میں لڑ بھڑ کر چپ ہو جائیں گے ۔

*(ارواح ثلاثہ صفحہ نمبر 67 ، 68 مطبوعہ مکتبہ عمر فاروق کراچی)*۔۔۔۔(اسی کتاب کا پھیلایا ہوا شر آج تک ختم نہ ہو سکا سوچئے )

اسماعیل دہلوی کی کتاب تقویۃ الایمان کے انداز و لہجہ گستاخانہ ہونے کا خود حکیم الامت دیوبند علامہ اشرف علی تھانوی کو بھی اقرار ہے پڑھیئے سوال و جواب

*سوال :*
وہابی کی کتاب تقویۃ الایمان میں لکھا ہے کہ کل مومن اخوۃ یعنی آپس میں سب مسلمان بھائی بھائی ہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ خدا کے آگے پیغمبر ایسے ہیں جیسے چماڑ چوڑھے تو آپ اس میں کیا فرماتے ہیں کہ (انبیاء کو )بھائی کہنا درست ہے کہ نہیں ؟ اور چمار چوڑھے کے بارے میں بھی لکھنا ضرور بالضرور تاکیدا لکھا جاتا ہے کیونکہ یہاں سب مسلمان مومن بھائی ہیں نفاق پڑا ہے ۔ کیونکہ وہابی لوگ کہتے ہیں کہ کہنا درست ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو بڑا بھائی کہتے ہیں اور سب جماعت کہتی ہیں کہ کہنا درست نہیں لہذا براہ مہربانی اس خط کا جواب بہت جلد لکھئے ۔

*الجواب :*

تقویۃ الایمان میں بعض الفاظ جو سخت واقع ہوگئے ہیں تو اس زمانے کی جہالت کا علاج تھا ۔۔۔ لیکن اب جو بعضوں کی عادت ہے کہ ان الفاظ کو بلا ضرورت بھی استعمال کرتے ہیں یہ بے شک بے ادبی و گستاخی ہے ۔۔۔ تقویۃ الایمان والوں کو بھی برا نہ کہا جائے اور تقویۃ الایمان کے ان الفاظ کا استعمال بھی نہ کیا جاوے گا ۔

*(امدادُالفتاویٰ جلد 5 صفحہ 389 تھانوی)*

*محترم قارئین غور کیجئے کہ*

تھانوی صاحب کی تقویۃ الایمان کے انداز کے گستاخانہ ہونے کا اقرار ہے مگر پھر اسے اس دور کی جہالت کا علاج قرار دے کر اپنے گرو اسمعیل کو بچانے کی فکر میں ہیں ذرا انصاف کیجئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کی بارگاہ اقدس میں تو راعنا کرنا بھی منع قرار دے دیا گیا مگر دیوبندی مذہب میں جہالت کا علاج گستاخی رسول ( صلی اللہ علیہ وسلّم ) سے کیا جاتا ہے فیا للعجب بحمدا للہ علمائے اہل سنت نے تقویۃ الایمان کے رد میں بقول سید محمد فاروق القادری اڑھائی سو کتب تحریر فرمائیں بلکہ خود حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان سے ہی متعدد کتب اس کے رد میں لکھی گئیں جن میں مولانا مخصوص اللہ بن شاہ رفیع الدین رحمۃ اللہ علیہ کی معید الایمان وغیرہ ۔

افسوس صد افسوس یہ پھیلائی ھوئی شورش و فتنہ آج تک ختم نہ ہو سکا کیا اب بھی فیصلہ کرنے میں کوئی اور ثبوت چاھیئے کہ مسلمانوں میں فتنہ فساد اور شورش پھیلانے والے مسلمانوں کو آپس میں لڑانے والے شرک خفی کو شرک جلی لکھنے والے کون لوگ ھیں ؟ فیصلہ خود کیجیئے اپنے ایمان و ضمیر سے تعصب کی عینک اتار کر ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مکمل تحریر >>