Pages

Friday, 26 January 2018

تبرکات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم احادیث مبارکہ کی روشنی میں

تبرکات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم احادیث مبارکہ کی روشنی میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کچھ لوگ ان تمام چیزوں کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں جس سے امت کا رشتہ ان کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم سے جڑتا ہے ۔ مقصد انہیں کو معلوم ہے۔چنانچہ کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے تبر کات سے بر کت حاصل کرنے کو ناجائز کہتے ہیں اور کچھ لوگ اعتراضات سے دامن بچانے کے لئے سید ھاکہتے ہیں کہ جائز تو ہے مگر آج دنیا میں کوئی تبر ک ہے ہی نہیں سب فنا ہو گئے۔ مقصد وہی ہے کہ لوگ بر کت حاصل نہ کریں ۔بہر حال صحیح احادیث طیبہ کی روشنی میں تبر کات کی شر عی حیثیت کیا ہے ؟ پر ھئے اور خود فیصلہ کیجئے ۔

جملہ علمائے اہلسنت و جماعت کے نز دیک رسول اکرم نور مجسم سید عالم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے تبرکات سے برکت حاصل کر نا جائز اور باعث سعادت ہے ۔ کیونکہ اس سلسلے میں صاف اور صریح احادیث طیبہ مو جود ہیں ۔ان میں سے کچھ یہ ہیں ۔

حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کو چمڑے کے ایک سرخ خیمے میں دیکھا ۔ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کا استعمال کیا ہوا پا نی لیتے دیکھا ۔میں نے دیکھا کہ صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے استعمال شدہ پانی کو حاصل کرنے کی کو شش کر رہے تھے،جسے جوکچھ مِل گیا اس نے اپنے اوپر مَل لیا اور جسے اس میں سے ذرا بھی نہ ملا اس نے اپنے ساتھی کے ہاتھ سے تری حاصل کی ۔ (صحیح بخاری،کتاب الصلاۃ،باب الصلوٰۃ فی الثوب الاحمر، حدیث:۳۷۶)

سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ایک ’طیالسی کسروانی‘جبہ نکا لا جس کے گریبان اور آستینوں پر دیباج سے نقش ونگار بنے ہوئے تھے ،اور (حضرت عبداللہ سے)کہا :یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کا جبہ ہے ۔جو حضرت عائشہ کے پاس تھا ۔جب ان کا وصال ہو گیا تو اسے میں نے حاصل کر لیا ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم اسے پہنا کرتے تھے اور ہم اسے دھو کر پانی بیماروں کو پلایا کرتے تھے تا کہ وہ شفا یاب ہو جائیں ۔ (صحیح مسلم ،کتاب اللباس والزینۃ ، باب تحریم استعمال اِناء الذھب والفضۃعلی الرجال والنساء الخ ،حدیث : ۲۰۶۹)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم حضرت ام سُلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور وہیں آرام فر مایا ۔ جب وہ باہر سے آئیں تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کو پسینہ مبارک آیا ہواہے جو چمڑے کے بستر پر جمع ہو گیا ہے۔حضرت ام سلیم پسینہ مبارک پونچھ پونھ کر ایک بو تل میں جمع کر نے لگیں ۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں :حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم اچانک اٹھ بیٹھے اور فر مایا:ائے ام سلیم !کیا کر رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم !ہم اس سے اپنے بچوں کے لئے بر کت حاصل کر یں گے۔آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے فر مایا:تو نے ٹھیک کیا۔(صحیح مسلم ،کتاب الفضائل ،باب طیب عرق النبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم والتبرک بہ ،حدیث : ۲۳۳۱)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کی رمی کرلی اور قربانی بھی کرلی تو آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے اپنے سر کے دائیں حصے کو حجام کے آگے کیا ،اس نے اس حصے کے بال کو صاف کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں وہ بال عطا کر دئیے پھر آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے اپنے سر مبارک کا با یا ں حصہ حجام کے آگے کیا اور اسے حکم دیا ، اسے صاف کر دو ،اس نے صاف کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے وہ بال حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو دئے اور انہیں حکم دیا کہ انہیں لوگوں میںتقسیم کر دو ۔ (صحیح مسلم ،کتاب الحج ،باب بیان انَّ السنۃ یوم النحر ان یرمی ثم ینحر ثم یحلق الخ، حدیث :۱۳۰۵)

ہر دور کے مسلمان خواہ وہ علماء ہوں یا عوام حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے تبرکات کو ساری دنیا کی نعمتوں سے زیادہ محبو ب رکھتے ہیں ۔ چنانچہ ابن سیر ین کہتے ہیں کہ میں نے عبیدہ بن عمر و سلمانی سے کہا : ہمارے پاس حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے کچھ مو ئے مبارک ہیں ۔ ہم نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ یا ان کے گھر والوں کے پاس سے حاصل کیا ہے۔ تو عبیدہ نے کہا اگر ان بالوں میں سے ایک بال بھی میر ے پاس ہوتا تو وہ بال مجھے ساری کائنات سے زیادہ محبوب اور پیارا ہوتا ۔ (صحیح بخاری ،کتاب الوضوئ، باب الماء الذی یغسل بہ شعر الانسان، حدیث :۱۶۹)

اس کے علاوہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا واقعہ مشہور ہے کہ دوران جنگ جب آپ کی ٹو پی گر پڑی۔ تو آپ نے اس کو حاصل کرنے کے لئے اپنی جان پر کھیل کر اس کو اٹھا یا ۔اس پر کچھ لو گوں نے اعتراض کیا تو آپ نے ارشاد فر مایا کہ میں نے اس ٹوپی کےلئے ایسا نہیں کیا بلکہ اس ٹو پی میں حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے موئے مبارک تھے ۔اور مجھے خوف ہوا کہ کہیں میں اس کی بر کت سے محروم نہ ہوجائوں ۔ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ،۲:۶۱۹)
اس واقعے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ کرام اور ان کے بعد کے مسلمان کس طرح سر کا ر صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے تبر کات کو اہمیت دیتے تھے ۔ اور کس درجہ ادب واحترام کے ساتھ سنبھا ل کر رکھتے تھے ۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ سارے تبرکات فنا ہو گئے آج دنیا میں ان میں سے کو ئی موجود نہیں ۔ (التوسل ،مصنفہ شیخ ناصر البانی وہابی ، ص : ۱۴۷)
جواب : آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے خود اپنے تبر کات کو اپنے صحابہ کے درمیان تقسیم فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان تبرکات کو نہایت درجہ ادب و احترام کے ساتھ سنبھا ل کر رکھا۔پھر سلسلہ بہ سلسلہ نسلا بعد نسل یہ سارے تبرکات ہم تک پہونچے۔ جو آج دنیا کے مختلف گوشوں میں موجود ہیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی طرف منسوب اشیاء سے ہر دور کے مسلمانوں کے جو جذبات وابستہ رہے ہیں اورجس طرح ان پاکبازلوگوں نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے ہر قول و فعل بلکہ سفر و حضر کے تمام احوال و کوائف کو محفوظ رکھتے ہو ئے اپنے بعد آنے والی نسلوں تک پہونچانے کا عظیم الشان فر یضہ انجام دیا ۔ ان حالات کو مد نظر رکھتے ہو ئے ایک مسلمان آسانی کے ساتھ فیصلہ کر سکتا ہے کہ تبر کات کے فنا ہو نے کی بات بکواس ہے جس کی طرف کو ئی تو جہ نہیں دینی چا ہئے ۔ اور آخر جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ سب تبر کات فنا ہو گئے ان کے پاس کونسی دلیل ہے جس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا جائے ؟ ۔ (طالب دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مکمل تحریر >>

Wednesday, 24 January 2018

وسیلہ کیا ہے ؟

بارگاہِ الٰہی میں نیک بندوں کا وسیلہ پیش کرنا دعاؤں کی قبولیت، مشکلات کے حل، مصائب و آلام سے چھٹکارے اور دینی و دُنیوی بھلائیوں کے حُصول کا آسان ذریعہ ہے۔ قراٰن و حدیث اور اَقوال و اَفعالِ بُزُرگانِ دین سے وسیلہ اِختیار کرنے کا ثُبوت ملتا ہے چنانچہ اللہ ربّ العزّت کا فرمان ہے: ( وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ)  ترجمۂ کنز الایمان:اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ (پ6، المآئدۃ:35) نیز ہمارے پیارے مدنی آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسلمان فقرا کے وسیلے سے دعا فرمایا کرتے تھے چنانچہ طَبرانی شریف میں ہے: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ وَيَسْتَنْصِرُ بِصَعَالِيکِ الْمُسْلِمِينَ ترجمہ:نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسلمان فقرا کے وسیلے سے فتح و نصرت طلب فرماتے تھے۔(معجم کبیر،ج 1،ص292، حدیث: 859) وسیلے سے دعا کرنا جائز و مستحسن ہے:علّامہ بدر الدین عینی حنفی (سالِ وفات855ھ) علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں:”مشکل گھڑی میں اپنے نیک اَعمال کے وسیلے سے دعا کرنا مستحب ہے۔(عمدۃ القاری،ج 8،ص529،تحت الحدیث:2215)امام تقِیُّ الدّین سُبْکی شافعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی (سالِ وفات 756ھ)  لکھتے ہیں:”نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وسیلے سے دعا کرنا جائز و مستحسن ہے، چاہے ولادتِ باسعادت سے قبل ہو، حیاتِ ظاہری میں ہو یا وِصال مبارک کے بعد ہو۔ اسی طرح آپ علیہ السَّلام سے خاص نسبت رکھنے والے بُزُرگوں کو وسیلہ بنانا بھی جائز و مستحسن ہے۔(شفاء السقام، ص358،376) حضرت آدم علیہ السَّلام نے کس کے وسیلے سے دعا کی؟: حضرت سیّدنا آدم علیہ  الصلاۃ وَ السَّلام نے حضرت محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وسیلے سے دعا کی تو ارشادِ باری تعالیٰ ہوا:بے شک! محمد(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) تمام مخلوق میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں اور اب کہ تو نے ان کے  حق کے  واسطے سے سوال کیا ہے تو تو میں نے تمہاری مغفرت کردی اور اگر محمد(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)  نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔‘‘(دلائل النبوۃ للبیہقی،ج5،ص489) امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بارگاہِ رسالت میں عرض کرتے ہیں: اَنْتَ الَّذِیْ لَمَّا تَوَسَّلَ اٰدَمُ مِنْ زَلَّۃٍ بِکَ فَازَوَھُوَ اَبَاکَ آپ ہی وہ ہستی ہیں کہ جب جَدِّاعلیٰ آدم علیہ السَّلام نے لَغْزِش کے سبب آپ کا وسیلہ پکڑا تو وہ کامیاب ہوئے۔(مجموعۂ قصائد، ص40) بنی اسرائیل  کا تابوتِ سکینہ کے وسیلے سے دعا کرنا: تابوتِ سکینہ میں انبیائے کرام علیہم السَّلام کے تبرکات تھے، بنی اسرائیل مشکل وقت میں اُس تابوت کے وسیلے سے دعا کرتے اور دشمنوں کے مقابلے میں فتح پاتے۔(جلالین، پ2، البقرۃ، تحت الآیۃ: 248،ج1،ص142) دعائے مصطفٰے: نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم کی والدہ کے لئے یوں دعا کی: اغْفِرْ لِاُمِّي فَاطِمَةَ بِنْتِ اَسَدٍ، ولَقِّنْهَا حُجَّتَها، وَوَسِّعْ عَلَيْهَا مَدْخَلَهَا، بِحَقِّ نَبِيِّكَ وَالْأَنْبِيَاءِ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِي۔ ترجمہ: (اےاللہ عَزَّوَجَلَّ!) میری ماں فاطمہ بنتِ اسد کی مغفرت فرما اور انہیں ان کی حجت سکھااور میرے اور مجھ سے پہلےنبیوں کے حق کے وسیلے سے اس  کی قبرکو وسیع فرما!(معجم کبیر،ج24،ص351، حدیث:871) بزرگانِ دین اور وسیلہ: بُزُرگانِ دین  بھی اپنی دعاؤں میں وسیلہ اِختیار کیا کرتے تھے، مثلاً (1)امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ قحط کے وقت یوں دعا کیا کرتے: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! پہلے ہم تیرے نبی کے وسیلے سے دعا کرتے تھے، اب اپنے نبی کے چچا عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں، ہمیں بارش عطا فرما! (بخاری،ج1،ص346، حدیث: 1010) (2)حضرت سیّدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت سیّدنا ابنِ اَسْوَد جُرَشی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے وسیلے سے بارش کی دعا مانگا کرتے تھے۔(طبقات ابن سعد،ج 7،ص309ملخصاً) (3)علّامہ ابنِ عابِدِین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نبیِّ کریم، رَءوفٌ رَّحیم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، امام اعظم اور دیگر صالحین علیہ رحمۃ اللہ المُبِین کے وسیلے سے دعا کرتے تھے۔ (ردالمحتار،ج 1،ص18ملخصاً)  فرمانِ غوثِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم: مَنْ تَوَسَّلَ بِیْ اِلَی اللہِ فِیْ حَاجَۃٍ قُضِیَتْ حَاجَتُہ جو مجھے وسیلہ بنا کر اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کوئی حاجت طَلَب کرے اس کی حاجت پوری کی جاتی ہے۔(نزہۃ  الخاطر  الفاتر، ص67(

میرے غوث کا وسیلہ رہے شاد سب قبیلہ

انہیں خُلد میں بسانا مدنی مدینے والے

                                       (وسائل بخشش(مرمّم)، ص 429

مکمل تحریر >>

جانور بھی مانتے ہیں وسیلہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں

جانور بھی مانتے ہیں وسیلہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت عبد اﷲ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک انصاری شخص کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک اُونٹ تھا۔ جب اس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ رو پڑا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس کے سر پر دست شفقت پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس اُونٹ کا مالک کون ہے اور یہ کس کا اونٹ ہے؟ انصار کا ایک نوجوان حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! یہ میرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس بے زبان جانور کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں مالک بنایا ہے۔ اس نے مجھے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے بہت زیادہ کام لیتے ہو۔اس حدیث کو امام ابوداود، احمد، ابویعلی، حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس کی سند میں عبد الحکیم بن سفیان نامی راوی ہیں امام ابن ابی حاتم نے ان کا بغیر کسی جرح کے ذکر کیا ہے اور ان کے علاوہ بھی تمام رجال ثقہ ہیں۔
(أخرجه أبو داود في السنن، کتاب : الجهاد، باب : ما يؤمر به من القيام علی الدواب والبهائم، 3 / 23، الرقم : 2549، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 205، الرقم : 1754، وأبو يعلی في المسند، 12 / 157، الرقم : 6787، والحاکم في المستدرک، 2 / 109، الرقم : 2485، والبيهقي في السنن الکبری، 8 / 13، الرقم : 15592، والطبراني في المعجم الأوسط، 9 / 54، والشيباني في الآحاد والمثاني، 1 / 314، الرقم : 437، والأصبهاني في دلائل النبوة، 1 / 159، الرقم : 186، وأبو عوانة في المسند، 1 / 197، 168، الرقم : 497، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 9 / 158. 160، الرقم : 1330. 1336، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 4 / 374، 27 / 374، والوادياشي في تحفة المحتاج، 2 / 238، الرقم : 1536، والنووي في رياض الصالحين، 1 / 243، الرقم : 243، والمزي في تهذيب الکمال، 6 / 165، وأبو المحاسن في معتصر المختصر، 2 / 19، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 8.)

حضرت شمر بن عطیہ رضی اللہ عنہ، مزینہ یا جہینہ کے ایک آدمی سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ فجر ادا فرمائی تو اچانک ایک سو کے لگ بھگ بھیڑئیے پچھلی ٹانگوں کو زمین پر پھیلا کر اور اگلی ٹانگوں کو اٹھائے اپنی سرینوں پر بیٹھے ہوئے (باقی) بھیڑیوں کے قاصد بن کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (اے گروہ صحابہ!) تم اپنے کھانے پینے کی اشیاء میں سے تھوڑا بہت ان کا حصہ بھی نکالا کرو اور باقی ماندہ کھانے کو (ان بھیڑیوں سے) محفوظ کر لیا کرو۔ پھر اُن بھیڑیوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی کسی حاجت کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انہیں اجازت دو۔ راوی بیان کرتے ہیں انہوں نے ان (بھیڑیوں) کو اجازت دی پھر وہ اپنی مخصوص آواز نکالتے ہوئے چل دیے۔
(أخرجه الدارمي في السنن، 1 / 25، الرقم : 22، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 4 / 376.)

حضرت یعلی بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم (ایک سفر میں) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے تو میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین اُمور (معجزات) دیکھے۔ ہمارا گزر ایک اونٹ کے پاس سے ہوا جس پر پانی رکھا جا رہا تھا۔ اس اونٹ نے جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ بلبلانے لگا اور اپنی گردن (از راہِ تعظیم) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جھکا دی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس کھڑے ہو گئے اور فرمایا : اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ اس کا مالک حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا : یہ اونٹ مجھے بیچتے ہو؟ اس نے عرض کیا : نہیں، حضور! بلکہ یہ آپ کے لیے تحفہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں، بلکہ اسے مجھے بیچ دو۔ اس نے دوبارہ عرض کیا : نہیں، بلکہ یہ آپ کے لیے تحفہ ہے، اور بے شک یہ ایسے گھرانے کی ملکیت ہے کہ جن کا ذریعہ معاش اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اب تمہارے ذہن میں یہ بات آئی ہے کہ اس اونٹ نے ایسا کیوں کیا ہے۔ اس نے شکایت کی ہے کہ تم اس سے کام زیادہ لیتے ہو اور چارہ کم ڈالتے ہو۔ اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ حضرت یعلی بن مروہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر ہم روانہ ہوئے اور ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں محوِ استراحت ہو گئے۔ اتنے میں ایک درخت زمین کو چیرتا ہوا آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ فگن ہو گیا پھر کچھ دیر بعد وہ واپس اپنی جگہ پر چلا گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس درخت نے اپنے رب سے اجازت طلب کی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی بارگاہ میں سلام عرض کرے، پس اس نے اسے اجازت دے دی۔ پھر ہم وہاں سے آگے چلے اور ہمارا گزر پانی کے پاس سے ہوا۔ وہاں ایک عورت تھی اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا جسے جن چمٹے ہوئے تھے۔ وہ اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لڑکے کی ناک کا نتھنا پکڑ کر فرمایا : نکل جاؤ میں محمد، اللہ کا رسول ہوں۔ حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر ہم آگے بڑھے۔ جب ہم اپنے سفر سے واپس لوٹے تو ہم دوبارہ اسی پانی کے پاس سے گزرے۔ پس وہی عورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھنا ہوا گوشت اور دودھ لے کر حاضرِ خدمت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھنا ہوا گوشت واپس کر دیا اور اپنے صحابہ سے فرمایا تو انہوں نے دودھ میں سے کچھ پی لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بچے کے متعلق پوچھا تو اس نے جواب دیا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! اس کے بعد ہم نے اس میں کبھی اس بیماری کا شائبہ تک نہیں پایا۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد، ابونعیم اور ابن حمید نے روایت کیا ہے ۔ امام منذری نے فرمایا کہ اس کی سند جید ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اسے امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے اور طبرانی نے بھی اسی کی مثل روایت کیا ہے اور امام احمد کی ایک سند کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں ۔
(أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 170، 173، وأبو نعيم في دلائل النبوة، 1 / 158، الرقم : 184، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 154، الرقم : 405، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 144، الرقم : 3430، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 4 / 368، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 5.)

حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے ہم ایک درخت کے پاس سے گزرے جس میں چَنڈُول (ایک خوش آواز چڑیا) کے دو بچے تھے، تو ہم نے وہ دوبچے اٹھا لئے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ چَنڈُول حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں شکایت کرتے ہوئے حاضر ہوئی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کس نے اس چَنڈُول کو اس کے بچوں کی وجہ سے تکلیف دی ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ تو ہم نے عرض کیا : ہم نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کے بچے اسے لوٹا دو ۔ امام حاکم نے فرمایا کہ اس کی حدیث کی سند صحیح ہے۔
(أخرجه الحاکم في المستدرک، 4 / 267، الرقم : 7599، والبيهقي في دلائل النبوة، 1 / 321، والهناد في الزهد، 2 / 620، الرقم : 1337، والجزري في النهاية، 4 / 121.)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گروہ کے پاس سے گزرے۔ انہوں نے ایک ہرنی کو شکار کر کے ایک بانس کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔ اس ہرنی نے عرض کیا : یارسول اﷲ! میرے دو چھوٹے بچے ہیں جنہیں میں نے حال ہی میں جنا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ان سے اجازت دلوا دیں کہ میں اپنے بچوں کو دودھ پلا کر واپس آ جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کا مالک کہاں ہے؟ اس گروہ نے کہا : یارسول اﷲ، ہم اس کے مالک ہیں۔ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنے بچوں کو دودھ پلا کر تمہارے پاس واپس آ جائے۔ انہوں نے عرض کیا : یارسول اﷲ! اس کی واپسی کی ہمیں کون ضمانت دے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں۔ انہوں نے ہرنی کو چھوڑ دیا پس وہ گئی اور اپنے بچوں کو دودھ پلا کر واپس لوٹ آئی۔ انہوں نے اسے پھر باندھ دیا۔ جب حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ ان لوگوں کے پاس سے گزرے اور ان سے پوچھا : اس کا مالک کہاں ہے؟ اس گروہ نے عرض کیا : یارسول اﷲ! وہ ہم ہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس ہرنی کو مجھے فروخت کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا : یارسول اﷲ! یہ آپ ہی کی ہے۔ پس انہوں نے اسے کھول کر آزاد کر دیا اور وہ چلی گئی ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 358، الرقم : 5547، وأبو نعيم في دلائل النبوة، 376، الرقم : 274، وابن کثير في شمائل الرسول : 347)

حضرت اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک دفعہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک صحراء میں سے گزر رہے تھے۔ کسی ندا دینے والے نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’یارسول اﷲ‘ کہہ کر پکارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آواز کی طرف متوجہ ہوئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سامنے کوئی نظر نہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ غور سے دیکھا تو وہاں ایک ہرنی بندھی ہوئی تھی۔ اس نے عرض کیا : یارسول اﷲ، میرے نزدیک تشریف لائیے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے قریب ہوئے اور اس سے پوچھا : تمہاری کیا حاجت ہے؟ اس نے عرض کیا : اس پہاڑ میں میرے دو چھوٹے چھوٹے نومولود بچے ہیں۔ پس آپ مجھے آزاد کر دیجئے کہ میں جا کر انہیں دودھ پلا سکو پھرمیں واپس لوٹ آؤں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : کیا تم ایسا ہی کرو گی؟ اس نے عرض کیا : اگر میں ایسا نہ کروں تو اﷲتعالیٰ مجھے سخت عذاب دے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے آزاد کر دیا۔ وہ چلی گئی اس نے اپنے بچوں کو دودھ پلایا اور پھر واپس لوٹ آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دوبارہ باندھ دیا۔ پھر اچانک وہ اعرابی (جس نے اس ہرنی کو باندھ رکھا تھا) متوجہ ہوا اور اس نے عرض کیا : یارسول اﷲ! میں آپ کی کوئی خدمت کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں، اس ہرنی کو آزاد کر دو۔ پس اس اعرابی نے اسے فوراً آزاد کر دیا۔ وہ وہاں سے دوڑتی ہوئی نکلی اور وہ یہ کہتی جا رہی تھی : میں گواہی دیتی ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اﷲتعالیٰ کے رسول ہیں ۔
(أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 23 / 331، الرقم : 763، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 321، الرقم : 1176، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 295)

حضرت حمزہ بن ابی عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار میں سے کسی آدمی کے جنازہ کے لیے جنت البقیع کی طرف تشریف لے گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اچانک دیکھا کہ ایک بھیڑیا اپنے بازو پھیلائے راستے میں بیٹھا ہوا ہے۔ (اسے دیکھ کر) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ بھیڑیا (تم سے اپنا) حصہ مانگ رہا ہے پس اسے اس کا حصہ دو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ! (اس کے حصہ کے بارے میں) ہم آپ کی رائے جاننا چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر سال ہر چرنے والے جانور کے بدلہ میں ایک بھیڑ۔ صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ! یہ زیادہ ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھیڑئیے کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ ان سے اپنا حصہ چھین لیا کرے۔ پس (یہ سننے کے بعد) بھیڑیا چل دیا ۔ حافظ ابن عدی کہتے ہیں : ہمیں ابو بکر بن ابی داود نے بتایا کہ اس چرواہے کی اولاد کو ’’مکلم الذئب (بھیڑیے سے کلام کرنے والا) کی اولاد کہا جاتا تھا۔ ان کے پاس بہت سا مال و اسباب تھا۔ اور ان کا تعلق خزاعہ قبیلہ سے تھا اور بھیڑئیے سے کلام کرنے والے شخص کا نام اہْبَان تھا۔ اور انہوں نے کہا کہ محمد بن اشعث خزاعی ان کی اولاد میں سے تھے ۔
( أخرجه البيهقي في دلائل النبوة، 6 / 40، وابن کثير في البداية والنهاية، 6 / 146، وفي شمائل الرسول : 343، 344، والسيوطي في الخصائص الکبری، 2 / 62)

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھے کہ ایک اُونٹ بھاگتا ہوا آیا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سرِ انور کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا (جیسے کان میں کوئی بات کہہ رہا ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اُونٹ! پرسکون ہو جا۔ اگر تو سچا ہے تو تیرا سچ تجھے فائدہ دے گا اور اگر تو جھوٹا ہے تو تجھے اس جھوٹ کی سزا ملے گی۔ بے شک جو ہماری پناہ میں آ جاتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اسے امان دے دیتا ہے اور ہمارے دامن میں پناہ لینے والا کبھی نامراد نہیں ہوتا۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ! یہ اونٹ کیا کہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس اونٹ کے مالکوں نے اسے ذبح کر کے اس کا گوشت کھانے کا ارادہ کر لیا تھا۔ سو یہ ان کے پاس سے بھاگ آیا ہے اور اس نے تمہارے نبی کی بارگاہ میں استغاثہ کیا ہے۔ ہم ابھی باہم اسی گفتگو میں مشغول تھے کہ اس اونٹ کے مالک بھاگتے ہوئے آئے۔ جب اونٹ نے ان کو آتے دیکھا تو وہ دوبارہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک کے قریب ہوگیااور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چھپنے لگا۔ ان مالکوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ہمارا یہ اونٹ تین دن سے ہمارے پاس سے بھاگا ہوا ہے اور آج یہ ہمیں آپ کی خدمت میں ملا ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ میرے سامنے شکایت کر رہا ہے اور یہ شکایت بہت ہی بری ہے۔ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! یہ کیا کہہ رہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ کہتا ہے کہ یہ تمہاری پاس کئی سال تک پلا بڑھا۔ جب موسم گرما آتا تو تم گھاس اور چارے والے علاقوں کی طرف اس پر سوار ہو کر جاتے اور جب موسم سرما آتا تو اسی پر سوار ہو کر گرم علاقوں کی جانب کوچ کرتے۔ پھر جب اس کی عمر زیادہ ہو گئی تو تم نے اسے اپنی اونٹنیوں میں افزائش نسل کے لئے چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے کئی صحت مند اونٹ عطا کئے۔ اب جبکہ یہ اس خستہ حالی کی عمر کو پہنچ گیا ہے تو تم نے اسے ذبح کر کے اس کا گوشت کھا لینے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا : خدا کی قسم، یا رسول اللہ! یہ بات من وعن اسی طرح ہے جیسے آپ نے بیان فرمائی۔ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک اچھے خدمت گزار کی اس کے مالکوں کی طرف سے کیا یہی جزا ہوتی ہے؟! انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! اب ہم نہ اسے بیچیں گے اور نہ ہی اسے ذبح کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم جھوٹ کہتے ہو۔ اس نے پہلے تم سے فریاد کی تھی مگر تم نے اس کی داد رسی نہیں کی اور میں تم سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہوں۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے دلوں سے رحمت نکال لی ہے اور اسے مومنین کے دلوں میں رکھ دیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اونٹ کو ان سے ایک سو درہم میں خرید لیا اور پھر فرمایا : اے اونٹ! جا، تو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر آزاد ہے۔ اس اونٹ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک کے پاس اپنا منہ لے جا کر کوئی آواز نکالی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آمین۔ اس نے پھر دعا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا : آمین۔ اس نے پھر دعا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا : آمین۔ اس نے جب چوتھی مرتبہ دعا کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آبدیدہ ہو گئے۔ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ! یہ اونٹ کیا کہہ رہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے پہلی دفعہ کہا : اے نبی مکرم! اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام اور قرآن کی طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے۔ میں نے کہا : آمین۔ پھر اس نے کہا : اللہ تعالیٰ قیامت کے روز آپ کی امت سے اسی طرح خوف کو دور فرمائے جس طرح آپ نے مجھ سے خوف کو دور فرمایا ہے۔ میں نے کہا : آمین۔ پھر اس نے دعا کی : اللہ تعالیٰ دشمنوں سے آپ کی اُمت کے خون کو اسی طرح محفوظ رکھے جس طرح آپ نے میرا خون محفوظ فرمایا ہے۔ اس پر بھی میں نے آمین کہا۔ پھر اس نے کہا : اللہ تعالیٰ ان کے درمیان جنگ وجدال پیدا نہ ہونے دے یہ سن کر مجھے رونا آ گیا کیونکہ یہی دعائیں میں نے بھی اپنے رب سے مانگی تھیں تو اس نے پہلی تین تو قبول فرما لیں لیکن اس آخری دعا سے منع فرما دیا۔ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی ہے کہ میری یہ امت آپس میں تلوار زنی سے فنا ہو گی۔ جو کچھ ہونے والا ہے قلم اسے لکھ چکا ہے ۔ (أخرجه المنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 144، 145، الرقم : 3431)۔(طالب دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مکمل تحریر >>