Pages

Thursday, 30 November 2017

میلاد النبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کے متعلق کچھ سوالوں کے مختصر جواب

میلاد النبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کے متعلق کچھ سوالوں کے مختصر جواب
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میلاد کسے کہتے ہیں  اور عید میلاد النبی کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟

میلاد  ایک خوشی کا موقع ہے جو مسلمان اپنے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وعلیٰ وآلہ و صحبہ وسلم کی یاد میں مناتے ہیں ،حالانکہ خصوصی طور پر یہ 12 ربیع الاول کو منایا جاتا ہے جس میں مسلمان بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں یہ ایک قدیم مسلم روایت ہے جو کہ شروع سے ہی جاری و ساری ہے شرعی طور پر اس میں کوئی قباحت نہیں کیونکہ یہ کسی بھی تاریخ کو منایا جاسکتا ہے لیکن چونکہ جمہور آئمہ حدیث اور سلف صالحین علیہم الرّحمہ کا اس پر اجماع رہا ہے کہ معتبر شہادت بہ ولادت ِ رسول صلی اللہ تعالی علیہ وعلیٰ وآلہ و صحبہ وسلم 12 ربیع الاوّل ہی ہے (مدارج النبوت) اسی لیئے خصوصی طور پر سال میں ایک بار اور عمومی طور پر کسی بھی نیک کام کے شروعات میں برکت ڈالنےکے لیئے کیا جاسکتا ہے ۔ جیسے شادیوں کے موقع پر بجائے غیر شرعی کاموں کے میلا د کی محافل رکھنا بہتر ہے اور مستحب عمل ہے ۔ اسی طرح کوئی نیا کاروبار شروع کرتے وقت جیسے قرآن کریم کا ختم رکھا جاتا ہے ویسے ہی ذکرِ رسول صلی اللہ تعالی علیہ وعلیٰ وآلہ و صحبہ وسلم کی محافل بھی کی جاتی ہیں ۔

میلاد کی محافل میں آخر ہوتا کیا ہے ؟

اس میں تلاوت ِ قرآن ،نعت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وعلیٰ وآلہ و صحبہ وسلم کے ساتھ ساتھ علماء کی تقاریر بھی سیرت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وعلیٰ وآلہ و صحبہ وسلم اور دیگر اہم اسلامی تعلیمات پر ہوتی ہیں جن سے ہر خاص و عام مستفید ہوتا ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ اللہ کا ذکر بھی ہوتا ہے حمد و ثناء اور اسکے پاک محبوب کی زندگی اور تعلیمات پر روشنی ڈالنے کے لیئے ۔ آخر میں صلاۃ وسلام کی محفل ہوتی ہے جس میں بھرپور طریقے سے مسلمان اپنے آقا پر درود و سلام کے نذرانے بھیجتے ہیں اللہ کی نعمت کو ہم مسلمانوں پر جاری کرنے پر اللہ کی نعمت کی خوشی آخر کس قانون کے تحت بدمذہبوں نے بدعت قرار دی ہے ؟ اولاََ تو یہ بدعت نہیں دوسرا یہ کہ ایک لمحے کو اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ بدعت ہے تو پھر یہ بدعت ِ حسنہ کے زمرے میں آتی ہے اور ہزارہا بدعات ِ حسنہ و قبیحہ دونوں کے مرتکب خود میلاد کے منکر بھی ہوئے ہیں یہ صرف عامۃ الناس کو گمراہ کرنے اپنی مذہبی دکانداری چمکانے اور جہالت کے سبب اس کے منکر ہوتے ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ آخر عید کہاں سے آئی ؟

تفصیلی جواب ہم دے چکے ہیں مختصرا عرض پے کہ : یہ سوال بذات ِ خود ایک جہالت ہے اور عربی زبان سے مکمل طور پر لاعلمی اور یا پھر منافقت کی وجہ سے حق کو نہ ماننا ہوا ۔ کیونکہ (عید میلاد) کا مطلب قاموس اور لغات العرب میں (سالگرہ) کے معنوں میں آیا ہے ۔ یعنی مثال کے طور پر اگر عبدالرحمٰن کی سالگرہ کا دن ہے تو وہ عیدِ میلاد عبدالرحمٰن کہلائی گی عربی زبان میں اس میں یہ کوئی سوال نہیں بنتا کہ ایک عید ہے یا دو ہے یا تین ہیں اور عید فرحت یعنی خوشی کے دن کو کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے یوم ولادت سے بڑھ کر اور کون سا خوشی کا لمحہ یا دن ہے ۔ یاد رہے یہ عید شرعی نہیں عید فرحت ہے (یعنی خوشی کا دن) ۔

کیا میلاد منانے کا حکم قرآن ِ مجید یا احادیث میں موجود ہے ؟

آیئے قرآنی آیات اور احادیث کا بغور مطالعہ کرتے ہیں جس سے یہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجائے گا کہ عیدِ میلاد منانا نہ صرف قرآن کی نص سے ثابت ہے بلکہ اس کے حق میں سلف صالحین اور ائمہ محدیثین علیہم الرّحمہ کے اقوال کے علاوہ امت کا اجماع بھی رہا ہے اور آج تک اکثریت اسکو مناتی ہے ۔ لہٰذا اسکا انکار کرنا اسلام کا انکار کرنا ہے اور یہ صریحاََ گناہ عظیم ہے جو انسان کو ایمان سے خارج کردیتا ہے ۔

قرآن مجید میں اللہ فرماتا ہے : ترجمہ: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں (ف۱۲) دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیریوں سے (ف۱۳) اجالے میں لا، اور انھیں اللہ کے دن یاد دلا (ف۱٤) بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبرے والے شکر گزار کرو۔
آخر یہ (اللہ کے دن) ہیں کونسے؟ امام بیہقی رحیمہم اللہ اپنی مشہور تصنیف شعب الایمان میں رقم طراز ہیں کہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے دن اُس کے انعامات اور نشانیاں ہیں ۔ (تفسیر روح المعانی زیر تحت آیت 14:5
ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے: (ترجمہ معارف القرآن) :  یہ (رسول کے ذریعہ سے گمراہی سے نکل کرہدایت کی طرف آنا ) خدا کا فضل ہے وہ فضل جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔
ترجمہ (کنز الایمان) ۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا [٨] ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
اس آیت کی تفسیر میں تفاسیر القرآن الحکیم میں آیا ہے کہ : قاموس (یعنی لغات) میں (اللہ کے دن) سے مراد نعمت ِ خداوندی ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ابی بن کعب، مجاہد اور قتادہ (رضوان اللہ تعالیٰ علہیم اجمعین) کا بھی اپنی اپنی تفاسیر میں یہی معنیٰ مندرج ہے۔مقتل کے مطابق (اللہ کے دنوں) سے مراد ہر وہ اہم واقعہ ہے جو اللہ کی طرف سے ظاہر ہوا۔کچھ مفسرین کرام کا فرمانا ہے کہ (ایام اللہ) سے مراد اس طرح کے دن ہیں جن میں اللہ نےا پنی نعمت (یعنی انعامات اور فضل) اپنے عبد یعنی بندوں پر بھیجے ہوں جیسے مثال کے طور پر وہ دن جب بنی اسرائیل پر (من و سلوٰی) کی نعمت نازل ہوئی، یا وہ دن جب دریائے نیل دو حصوں میں منقسم ہوا (یعنی جب موسیٰ علیہ الصلوٰہ والسلام) بنی اسرائیل کو فرعون سے بچا کر اللہ کے حکم سے چل پڑے)۔ جیسا کہ (خازن ، تفسیر مدارک اور مفرداتِ غیب) میں منقول ہے۔ ان تمام دنوں میں افضل ترین نعمت جو اللہ کی طرف سے انسانوں کو عنایت ہوئی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دنیا میں تشریف آوری (یعنی میلاد) کا دن ، آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کا معراج  شریف اور دیگر اسی قرآنی آیت کی نص سے ثابت ہوتے ہیں۔ اسی طرح کے اور دن جیسے کہ 10 ویں محرم کا روزہ ، واقعہ ہائلہ وغیرہ سب انہیں (ایام اللہ) میں شامل ہیں۔

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ (واللہ ذو فضل العظیم) کے معنی بیان فرماتے ہیں کہ : اسکے معنی یہ ہیں کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم پر اسلام اور نبوت کی جو نعمت عطا فرمائی ہے۔ اور یہ معنی بھی بیان فرمائے ہیں کہ مسلمانوں پر اسلام کی نعمت،اور یہ بھی فرمایا کہ (یعنی یہ نعمت یہ بھی ہے) کہ آپ علیہ السلام کو نازل فرمایااور (انکے ) ذریعے قرآن مجید عطا فرمایا ۔ (تنویر المقباس من تفسیر ابن العباس)

قرآن کریم کی قدیم ترین تفاسیر اور سلف صالحین کے اقوال تو آپ پڑھ ہی لیں گے اس آرٹیکل میں ساتھ ساتھ یہ کہ اس کے ہی آخر میں تجزیہ بھی دیا جائے گا جس سے اپ کو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ دیوبندی وہابی منکرین کس طرح اپنی مرضی کی قرآنی تشریحات کرتے ہیں اور غلط معنی اخذ کرتے ہیں جس کی سب سے بڑی مثال تفسیر ِ مدنی کبیر ہے۔جو کہ وہابی دارالسلام اشاعتی ادارہ چھاپتا ہےاور اسی طرح کے دیگر سلفی دیوبندی مکتبہ یہی نسخہ چھاپتے اور تقسیم کرتے ہیں ۔ پھر فیصلہ آپ کے ایمان پر چھوڑتے ہیں کہ آیا آپ کو پرانی تفاسیر قرآن اور سلف صالحین کی مستند تفاسیر اور تراجم منظور ہین یا یہ جدید دھرم کے خودساختہ ۔ یہ واضح ثبوت ہے کہ دیوبندی وہابی نہ صرف اسلام سے خارج ہیں بلکہ پرلے درجے کے منافق بھی ہیں ۔

اب اس غلط ترجمے اور معنی (جو کہ اس اوپر دیئے گئے سکین ) میں آپ نے پڑھا ہے ۔ اس کا رد ہم نہ صرف سنی تراجم بلکہ خود انکے ہی دیوبندی اور وہابی پرانے تراجم سے نیچے دے رہے ہیں ملاحظہ کیجیئے کہ یہ نیچے دیئے گئے تراجم انکے (مخالفین) کے دھرم کا پول کھولنے کے لیئے کافی ہیں۔ انصاف کا تقاضہ بڑھنے والے پر۔ ہمارا کام صرف محنت سے آپ تک یہ ساری معلومات پہنچانا ہے ۔

ترجمہ: ہم اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیج چکے ہیں ۔ اسے بھی ہم نے حکم دیا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لا اور انہیں تاریخِ الٰہی 8 کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کر ۔ ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں 9 ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو ۔ 10
اور بھیجا تھا ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دیکر کہ نکال اپنی قوم کو اندھیروں سے اجالے کی طرف اور یاد دلا ان کو دن اللہ کے ، البتہ اس میں نشانیاں ہیں اس کو جو صبر کرنے والا ہے شکر گزار ۔ اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو یہ حکم دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو (کفر کی) تاریکیوں سے (ایمان کی) روشنی کی طرف لاؤ اور ان کو الله تعالیٰ کے معاملات (نعمت اور نقمت کے) یاد دلاؤ بلاشبہ ان معاملات میں عبرتیں ہیں ہر صابر شاکر کے لیے ۔ (تراجم محمود الحسن ، معارف القرآن و تھانوی)
تفسير تفسير الجلالين/ المحلي و السيوطي (ت المحلي 864 هـ)۔ {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِئَايَٰتِنَا } التسع وقلنا له { أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ } بني إسرائيل { مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ } الكفر { إِلَى ٱلنُّورِ } الإِيمان { وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ ٱللَّهِ } بنعمه { إِنَّ فِى ذَلِكَ } التذكير { لأَٰتٍ لّكُلِّ صَبَّارٍ } على الطاعة { شَكُورٍ } للنعم.
یہ تفسیرات کھلا ثبوت ہیں کہ مخالفین کی مخالفت محظ لاعلمی ، بے دینی، اور منافقت پر مبی ہے جس کا صحیح اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم کو مسلمانوں کو یہ بتانا پڑ رہا ہے کہ بھائی اپنے آقا کریم صلی اللہ تعالی علیہ وعلیٰ وآلہ و صحبہ وسلم  سے محبت کرو، انکی دنیا میں تشریف آوری پر قرآنی حکم کے مطابق شکر ادا کرو اس نعمت ِ عظیمہ کا ۔ (طالب دعا : ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مکمل تحریر >>

جشنِ عید میلاد النبیﷺ پر کئے جانے والے اعتراضات کے جوابات

جشنِ عید میلاد النبیﷺ پر کئے جانے والے اعتراضات کے جوابات

سوال: کیا علمائے امت کے اقوال و افعال سے جشن عیدمیلاد النبیﷺ کا ثبوت ملتا ہے؟

جواب: اس امت کے بڑے بڑے مفتیان کرام، علماء کرام، مفسرین، محدثین، شارحین اور فقہاء نے اپنی اپنی کتابوں میں جشن عید میلاد النبیﷺ منانے کو باعث اجر وثواب لکھا ہے، چنانچہ علمائے امت کے اقوال ملاحظہ ہوں۔

1۔ حضرت امام اعظم علیہ الرحمہ (المتوفی 150ھ) آپ رحمتہ اﷲ علیہ کا نام تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ کی دینی خدمات اس قدر ہیں کہ ساری دنیا کے مسلمان ان شاء اﷲ عزوجل تا قیامت کے علم سے مستفید رہیں گے۔ آپ رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ اپنے ’’قصیدہ نعمانیہ‘‘ میں حضور نبی اکرمﷺ کا میلاد شریف یوں بیان کرتے ہیں:

یعنی! ’’آپ ﷺ ہی وہ ہیں کہ اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا اور آپ پیدا نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ پیدا کیا جاتا۔ وہ ہیں جن کے نور سے چودھویں کا چاند منور ہے اور آپ ﷺ ہی کے نور سے یہ سورج روشن ہے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام آپ کی خوش خبری سنانے آئے اور آپ ﷺ کے حسن صفات کی خبر لے کر آئے‘‘ (قصیدۂ نعمانیہ، صفحہ 196، 195ء)

2۔ حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ (المتوفی 204ھ) آپ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’میلاد شریف منانے والا صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا‘‘ (النعمتہ الکبریٰ بحوالہ ’’برکات میلاد شریف‘‘ ص 6)

3۔ حضرت امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ (المتوفی 241ھ) آپ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں ’’شب جمعہ، شب قدر سے افضل ہے کیونکہ جمعہ کی رات سرکار علیہ السلام کا وہ نور پاک اپنی والدہ سیدہ آمنہ رضی اﷲ عنہا کے مبارک رحم میں منتقل ہوا جو دنیا و آخرت میں ایسی برکات و خیرات کا سبب ہے جوکسی گنتی و شمار میں نہیں آسکتا‘‘ (اشعتہ اللمعات)

4۔ امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ (المتوفی 606ھ) فرماتے ہیں کہ ’’جس شخص نے میلاد شریف کا انعقاد کیا۔ اگرچہ عدم گنجائش کے باعث صرف نمک یا گندم یا ایسی ہی کسی چیز سے زیادہ تبرک کا اہتمام نہ کرسکا تو ایسا شخص برکت نبوی سے محتاج نہ ہوگا اور نہ ہی اس کا ہاتھ خالی رہے گا‘‘ (النعمتہ الکبری، بحوالہ برکات میلاد شریف ص 5)

5۔ حضرت امام سبکی رحمتہ اﷲ علیہ (المتوفی 756ھ) آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے ’’قصیدہ تائیہ‘‘ کے آخر میں حضور نبی کریمﷺ کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے۔

ترجمہ ’’میں قسم اٹھاتا ہوں کہ اگر تمام دریا و سمندر میری سیاہی ہوتے اور درخت میرا قلم ہوتے اور میں آپ ﷺ کی عمر بھر نشانیاں لکھتا تو ان کا دسواں حصہ بھی نہ لکھ پاتا کیونکہ آپ کی آیات و صفات ان چمکتے ستاروں سے بھی کہیں زیادہ ہیں‘‘ (نثرالدرر علی مولد ابن حجر، ص 75)

6۔ حافظ ابن کثیر (المتوفی 774ھ) فرماتے ہیں ’’
رسول اﷲﷺ کی ولادت کی شب اہل ایمان کے لئے بڑی شرافت، عظمت، برکت اور سعادت کی شب ہے۔ یہ رات پاکی ونظافت رکھنے والی، انوار کو ظاہر کرنے والی، جلیل القدر رات ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس رات میں وہ محفوظ پوشیدہ جوہر ظاہر فرمایا جس کے انوار کبھی ختم ہونے والے نہیں‘‘

مولد رسول ﷺ، صفحہ 262)

7۔ امام حافظ بن حجر رحمتہ اﷲ علیہ (المتوفی 852ھ) نے ایک سوال کے جواب میں لکھا ’’میرے لئے اس (محفل میلاد) کی تخریج ایک اصل ثابت سے ظاہر ہوئی، دراصل وہ ہے جو بخاری و مسلم میں موجود ہے:

ترجمہ ’’حضور نبی کریمﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو دسویں محرم کا روزہ رکھتے دیکھا۔ ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے، جس دن اﷲ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی تھی، ہم اس دن کا روزہ شکرانے کے طور پر رکھتے تھے‘‘

(صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب صوم یوم عاشوراء ، رقم الحدیث 2004،

ص 321)

(صحیح المسلم، کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء رقم الحدیث 2656، ص 462)

علامہ ابن حجر فرماتے ہیں: اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ ﷲ تعالیٰ کے کسی معین دن میں احسان فرمانے پر عملی طور پر شکر ادا کرنا چاہئے۔ پھر فرماتے ہیں حضور سرور کائنات نبی رحمت ﷺ کی تشریف آوری سے بڑی نعمت اور کیا ہوسکتی ہے (نثرالدر علی مولد ابن حجر، ص 47)

8۔ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ (المتوفی 911ھ) آپ فرماتے ہیں کہ میلاد النبی ﷺ کے سلسلہ میں منعقد کی جانے والی یہ تقریب سعید (مروجہ محافل میلاد) بدعت حسنہ ہے جس کا اہتمام کرنے والے کو ثواب ملے گا۔ اس لئے کہ اس میں حضور نبی کریم ﷺ کی تعظیم، شان اور آپ کی ولادت باسعادت پر فرحت و مسرت کا اظہار پایا جاتا ہے (حسن المقصد فی عمل المولد، ص 173)

9۔ امام ملا علی قاری علیہ رحمتہ الباری (المتوفی 1014ھ) آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’جب میں ظاہری دعوت وضیافت سے عاجز ہوا تو یہ اوراق میں نے لکھ دیئے تاکہ یہ معنوی ضیافت ہوجائے اور زمانہ کے صفحات پر ہمیشہ رہے، سال کے کسی مہینے سے مختص نہ ہو اور میں نے اس کا نام ’’الموردالروی فی مولد النبیﷺ‘‘ رکھا ہے (المورد الروی ص 34)

10۔ حضرت علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’ہمیشہ مسلمان ولادت پاک کے مہینے میں محفل میلاد منعقد کرتے آئے ہیں اور دعوتیں کرتے ہیں اور اس ماہ کی راتوں میں ہر قسم کا صدقہ کرتے ہیں، خوشی مناتے ہیں، نیکی زیادہ کرتے ہیں اور میلاد شریف پڑھنے کا بہت اہتمام کرتے ہیں‘‘ (انوار محمدیہ ص 29)

11۔ مفتی مکہ مکرمہ حضرت سید احمد زینی شافعی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’میلاد شریف کرنا اور لوگوں کا اس میں جمع ہونا بہت اچھا ہے‘‘ (سیرۃ نبوی ص 45)

ایک اور جگہ حضور مفتی مکہ مکرمہ فرماتے ہیں ’’محافل میلاد اور افکار اور اذکار جو ہمارے ہاں کئے جاتے ہیں ان میں سے اکثر بھلائی پر مشتمل ہیں جیسے صدقہ ذکر، صلوٰۃ و سلام، رسول خداﷺ پر اور آپ کی مدح پر‘‘ (فتاویٰ حدیثیہ ص 129)

12۔ محدث کبیر علامہ ابن جوزی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’یہ عمل حسن (محفل میلاد) ہمیشہ سے حرمین شریفین یعنی مکہ و مدینہ، مصر، یمن و شام تمام بلاد عرب اور مشرق و مغرب کے رہنے والے مسلمانوں میں جاری ہے اور وہ میلاد النبیﷺ کی محفلیں قائم کرتے اور لوگ جمع ہوتے ہیں‘‘ (المیلاد النبوی ص 35-34)

13۔ استاد مسجد حرام مکہ مکرمہ شیخ محمد بن علوی المالکی الحسنی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’حضورﷺ اپنی میلاد شریف کے دن کی اہمیت اور ضرورت کے پیش نظر اسے بہت بڑا اور عظیم واقعہ قرار دیتے ہیں اور اﷲ تبارک و تعالیٰ کا شکر ادا فرماتے کہ یہ آپ کے لئے بہت بڑا انعام و اکرام و نعمت ہے۔ نیز اس لئے کہ تمام کائنات پر آپ کے وجود مسعود کو فضیلت حاصل ہے‘‘ (حوال الامتفال بالمولد النبوی شریف ص 9,8)

14۔ علامہ شہاب الدین احمد بن محمد المعروف امام قسطلانی فرماتے ہیں ’’حضورﷺ کے پیدائش کے مہینے میں اہل اسلام ہمیشہ سے محفلیں منعقد کرتے آئے ہیں اور خوشی کے ساتھ کھانے پکاتے رہے اور دعوت طعام کرتے رہے ہیں۔ اور ان راتوں میں انواع و اقسام کی خیرات کرتے رہے اور سرور ظاہر کرتے چلے آئے ہیں‘‘ (مواہب لدنیہ جلد 1ص 27)

15۔ حضرت امام ابن جوزی رحمتہ اﷲ علیہ کے پوتے فرماتے ہیں ’’مجھے لوگوں نے بتایا کہ جو ملک مظفر (بادشاہ وقت) کے دسترخوان پر میلاد شریف کے موقع پر حاضر ہوئے کہ اس کے دسترخوان پر پانچ ہزار بکریوں کے بھنے ہوئے سر، دس ہزار مرغ، ایک لاکھ پیالی مکھن کی اور تیس طباق حلوے کئے تھے اور میلاد میں اس کے ہاں مشاہیر علماء اور صوفی حضرات حاضر تھے۔ ان سب کو خلعتیں عطا کرتا تھا۔ اور خوشبودار چیزیں سنگھاتا تھا اور میلاد پاک پر تین لاکھ دینار خرچ کرتا تھا (سیرۃ النبوی 45)

16۔ حضرت شاہ احمد سعید مجددی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’جس طرح آپ خود اپنی ذات پر درود وسلام بھیجا کرتے تھے، ہمیں چاہئے کہ ہم آپ کے میلاد کی خوشی میں جلسہ کریں، کھانا کھلائیں اور دیگر عبادات اور خوشی کے جو طریقے ہیں (ان کے) ذریعے شکر بجالائیں‘‘ (اثبات المولد والقیام ص 24)

17۔ پیران پیر حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ ہر اسلامی مہینے کی گیارہ تاریخ کو سرکار دوعالمﷺ کے حضور نذرونیاز پیش فرماتے تھے (قرۃ الناظر ص 11)

18۔ حضرت شاہ ولی ﷲ محدث دہلوی رحمتہ ﷲ علیہ اپنے والد شاہ عبدالرحیم رحمتہ ﷲ علیہ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں ’’میرے والد نے مجھے خبر دی کہ میں عید میلاد النبی ﷺ کے روز کھانا پکوایا کرتا تھا۔ ایک سال تنگدست تھا کہ میرے پاس کچھ نہ تھا مگر صرف بھنے ہوئے چنے تھے۔ میں نے وہی چنے تقسیم کردیئے۔ رات کو سرکار دوعالم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوا اور کیا دیکھتا ہوں کہ حضورﷺ کے سامنے وہی چنے رکھے ہیں اور آپ خوش ہیں‘‘ (درثمین ص 8)

19۔ حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ اور ان کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ کا معمول تھا کہ 12 ربیع الاول کو ان کے ہاں لوگ جمع ہوتے، آپ ذکر ولادت فرماتے پھر کھانا اور مٹھائی تقسیم کرتے (الدرالمنظم ص 89)

20۔ مفتی اعظم شاہ محمد مظہر اﷲ دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ 12 ربیع الاول کو ہر سال بڑے تزک احتشام سے محفل میلاد منعقد کراتے، جو نماز عشاء سے نماز فجر تک جاری رہتی پھر کھڑے ہوکر صلوٰۃ و سلام پیش کیا جاتا اور مٹھائی تقسیم ہوتی، کھانا کھلایا جاتا (تذکرہ مظہر مسعود ص 176)

علامہ ابن جوزی مولد العروس کے ص 9 پر فرماتے ہیں:

وجعل لمن فرح بمولدہ حجابا من النار و سترا، ومن انفق فی مولدہ درہما کان المصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم لہ شافعا ومشفعا

(اور جو پیارے مصطفی ﷺ کے میلاد شریف کی خوشی کرے، وہ خوشی، دوزخ کی آگ کے لئے پردہ بن جائے اور جو میلاد رسول اﷲﷺ میں ایک درہم بھی خرچ کرے، حضورﷺ اس کی شفاعت فرمائیں گے اور ان کی شفاعت مقبول ہوگی)

اور ص 28پر محدث ابن جوزی یہ اشعار لکھتے ہیں

یا مولد المختار کم لک من ثنا۔۔۔ ومدائح تعلو وذکر یحمد

یالیت طول الدھر عندی ذکرہ۔۔۔ یالیت طول الدھر عندی مولد

(اے میلاد رسول ﷺ تیرے لئے بہت ہی تعریف ہے اور تعریف بھی ایسی جو بہت اعلیٰ اور ذکر ایسا جو بہت ہی اچھا ہے۔ اے کاش طویل عرصے تک میرے پاس نبی پاک ﷺ کا تذکرہ ہوتا، اے کاش طویل عرصے تک میرے پاس ان کا میلاد شریف بیان ہوتا)

اور ص 6 پر یہ شعر لکھتے ہیں

فلوانا عملنا کل یوم۔۔۔ لاحمد مولدا فدکان واجب

(اگر ہم رسول کریم ﷺ کا روزانہ میلاد شریف منائیں تو بلاشبہ یہ ہمارے لئے واجب ہے)

23۔محدث ابن جوزی اپنے رسالہ المولد کے آخر میں لکھتے ہیں

اہل حرمین شریفین اور مصرویمن اور شام اور عرب کے مشرق ومغربی شہروں کے لوگ نبی ﷺ کے میلاد کی محفلیں کرتے ہیں، ربیع الاول کا چاند دیکھ کر خوشیاں مناتے ہیں، غسل کرکے اچھے کپڑے پہنتے ہیں طرح طرح کی زینت کرتے ہیں اور خوشبو لگاتے ہیں اور نہایت خوشی سے فقراء پر صدقہ خیرات کرتے ہیں اور نبی ﷺ کے میلاد شریف کا ذکر سننے کے لئے اہتمام بلیغ کرتے ہیں اور یہ سب کچھ کرنے سے بے پناہ اجر اور عظیم کامیابی پہنچتی ہے جیسا کہ تجربہ ہوچکا کہ نبی ﷺ کے میلاد شریف منانے کی برکت سے اس سال میں خیروبرکت کی کثرت، سلامتی و عافیت، رزق میں کشادگی، اولاد میں مال میں زیادتی اور شہروں میں امن اور گھروں میں سکون و قرار پایا جاتا ہے (الدرالمنظم ص 101-100)

24۔ حضرت شاہ ولی اﷲ دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:

’’حضرت ایشاں فرموند کہ دوازدہم ربیع الاول‘‘ بہ حسب دستور قدیم ’’قرآن واندم و چیزے نیاز آں حضرت ﷺ قسمت کردم وزیارت موئے شریف نمودم، در اثنائے تلاوت ملاء اعلیٰ حاضر شدند وروح پرفتوح آن حضرت ﷺ بہ جانب ایں فقیر و دست واران ایں فقیر بہ غایت التفات فرموداراں ساعت کہ ملاء اعلیٰ و جماعت مسلمین کہ بافقیر بود بہ ناز ونیائش صعودی کنندہ برکات ونفحات ازاں حال نزول می فرماید‘‘ (ص 74، القول الجلی)

(حضرت شاہ ولی اﷲ نے فرمایا کہ قدیم طریقہ کے موافق بارہ ربیع الاول (یوم میلاد مصطفی ﷺ) کو میں نے قرآن مجید کی تلاوت کی اور آن حضرت ﷺ کی نیاز کی چیز کھانا وغیرہ) تقسیم کی اور آپ ﷺ کے بال مبارک کی زیارت کروائی۔ تلاوت کے دوران (مقرب فرشتے) ملاء اعلیٰ (محفل میلاد میں) آئے اور رسول اﷲﷺ کی روح مبارک نے اس فقیر (شاہ ولی اﷲ) اور میرے دوستوں پر نہایت التفات فرمائی۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ ملاء اعلیٰ (مقرب فرشتے) اور ان کے ساتھ مسلمانوں کی جماعت (التفات نبوی ﷺ کی برکت سے) ناز ونیائش کے ساتھ بلند ہورہی ہے اور (محفل میلاد میں) اس کیفیت کی برکات نازل ہورہی ہیں)

فیوض الحرمین میں حضرت شاہ ولی اﷲ نے مکہ مکرمہ میں مولد رسول ﷺ میں اہل مکہ کا میلاد شریف منانا اور انوار وبرکات منانے کی برکتیں پانے کا تذکرہ حضرت شاہ ولی اﷲ دہلوی کی اپنی زبان سے ملاحظہ کرنے کے بعد خود کو ولی اللہی افکار و نظریات کے پیروکار کہلانے والے مزید ملاحظہ فرمائیں۔

شیخ الدلائل مولانا شیخ عبدالحق محدث الہ آبادی نے میلاد و قیام کے موضوع پر ایک تحقیقی کتاب لکھی جس کا نام ’’الدرالمنظم فی بیان حکم مولد النبی الاعظم‘‘ﷺ ہے۔ اس کتاب کے بارے میں علمائے دیوبند کے پیرحضرت حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی فرماتے ہیں:

’’مولف علامہ جامع الشریعہ والطریقہ نے جو کچھ رسالہ الدر المنظم فی بیان حکم مولد النبی الاعظم میں تحریر کیا، وہ عین صواب ہے، فقیر کا بھی یہی اعتقاد ہے اور اکثر مشائخ عظام کو اسی طریقہ پر پایا، خداوند تعالیٰ مولف کے علم و عمل میں برکت زیادہ عطا فرماوے‘‘ (الدرالمنظم ص 146)

یہ کتاب ’’الدرالمنظم‘‘ علمائے دیوبند کی مصدقہ ہے۔ جناب محمد رحمت اﷲ مہاجر مکی، جناب سید حمزہ شاگرد جناب رشید احمد گنگوہی، جناب عبداﷲ انصاری داماد جناب محمد قاسم نانوتوی، جناب محمد جمیل الرحمن خان ابن جناب عبدالرحیم خان علمائے دیوبند کی تعریف وتقاریظ اس کتاب میں شامل ہیں۔ جناب محمد قاسم نانوتوی کے داماد نے اپنی تحریر میں جناب احمد علی محدث، جناب عنایت احمد، جناب عبدالحئی، جناب محمد لطف اﷲ، جناب ارشاد حسین، جناب محمد ملا نواب، جناب محمد یعقوب مدرس، اکابر علمائے دیوبند کا محافل میلاد میں شریف ہونا، سلام وقیام اور مہتمم مدرسہ دیوبند حاجی سید محمد عابد کا اپنے گھر میں محفل میلاد کروانے کا تذکرہ کیا اور جناب محمد قاسم نانوتوی کے لئے اپنی اور پیر جی واجد علی صاحب کی گواہی دی ہے کہ نانوتوی صاحب محفل میلاد میں شریک ہوتے تھے۔

الدر المنظم کتاب کا ساتواں باب ان اعتراضات کے جواب میں ہے جو میلاد شریف کے مخالفین کرتے ہیں یا کرسکتے ہیں۔ جی تو میرا یہی چاہتا ہے کہ یہ باب پورا ہی نقل کردوں تاہم مولانا عبدالحق محدث الہ آبادی نے اپنی کتاب کے ساتویں باب میں جن اہل علم ہستیوں کی تحریروں سے میلاد شریف کا جواز (جائز ہونا)پیش کیا ہے، ان تمام کے نام اور ان کی کتابوں کے نام اسی ترتیب سے نقل کررہا ہوں جس ترتیب سے مولانا عبدالحق نے نقل کئے ہیں۔ ملاحظہ ہوں:

1۔ مولانا محمد سلامت اﷲ مصنف اشباع الکلام فی اثبات المولد والقیام

2۔ امام ابو محمد عبدالرحمن بن اسمٰعیل المعروف ابی شامہ، المصنف الباعث علی انکار البدع والحوادث

3۔ علامہ محمد بن یوسف شامی، سبل الہدیٰ والرشاد فی سیرۃ خیر العباد (سیرۃ شامی)

4۔ علامہ امام جلال الدین سیوطی، مصباح الزجاجہ علی سنن ابن ماجہ، الرسالہ حسن المقصد فی عمل المولد

5۔ امام حافظ ابو الخیر شمس الدین الجزری، عرف التعریف بالمولد الشریف

6۔ شیخ ابوالخطاب بن عمر بن حسن کلبی المعروف ابن وجیہ اندلسی، سماہ التنویر فی مولد البشیر النذیر

7۔ امام ناصر الدین المبارک المعروف ابن بطاح، فی فتویٰ

8۔ امام جمال الدین بن عبدالرحمن بن عبدالملک

9۔ امام ظہیر الدین بن جعفر

10۔ علامہ شیخ نصیر الدین طیالسی

11۔ امام صدر الدین موہوب بن عمر الشافعی

12۔ امام محدث ابن جوزی، المولد العروس، المیلاد النبوی

13۔ امام ملا علی قاری حنفی، المورد الروی فی موالد النبوی

14۔ امام شمس الدین سخاوی

15۔ علامہ شیخ شاہ عبدالحق محدث دہلوی، ماثبت من السنہ ومدارج النبوۃ

16۔ شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی، الدر الثمین، فیوض الحرمین، الانبتاہ

17۔ شاہ اسماعیل دہلوی فی فتویٰ

18۔ علامہ شاہ محمد اسحق، فی فتویٰ

19۔ علامہ جمال الدین مرزا احسن علی لکھنؤی فی فتویٰ

20۔ مفتی محمد سعد اﷲ فی فتویٰ

21۔ علامہ شیخ جمال الفتنی حفنی، مفتی مکہ فی فتویٰ

22۔ علامہ شہاب الدین خفاجی، رسالہ عمل المولد

23۔ علامہ عبدالرحمن سراج بن عبداﷲ حنفی، مفتی مکہ فی فتویٰ

24۔ علامہ ابوبکر حجی بسیونی مالکی، مکہ فی فتویٰ

25۔ علامہ محمد رحمتہ اﷲ مفتی مکہ فی فتویٰ

26۔ علامہ محمد سعید بن محمد باصیل شافعی، مفتی مکہ فی فتویٰ

27۔ علامہ خلف بن ابراہیم حنبلی، مفتی مکہ فی فتویٰ

28۔ شاہ عبدالغنی نقشبندی فی فتویٰ

29۔ علامہ حافظ شمس الدین ابن ناصر الدین الد مشقی، مورد الصاوی فی مولد الہادی، جامع الاسرار فی مولد النبی المختار، اللفظ الرائق

30۔ علامہ ابو عبداﷲ محمد زرقانی، شرح مواہب لدنیہ

31۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی، فی فتویٰ

32۔ شاہ رفیع الدین دہلوی، فی فتویٰ

33۔ امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی،مکتوبات

34۔ مولانا محمد مظہر، مقامات سعیدیہ

35۔ مولانا کرامت علی جون پوری، رسالتہ الفیصلہ

36۔ امام بدرالدین عینی، عمدۃ القاری شرح بخاری

کتاب المدرالمنظم کا ساتواں باب ص 93 سے شروع ہوکر ص 136 تک چالیس صفحات کی ضخامت میں سمایا ہوا ہے۔ اہل علم شخصیات کے ناموں کی مذکورہ فہرست میں ان ہستیوں اور کتابوں کے نام نہیں لکھے گئے جن کی تحریروں سے دلائل کو ثابت کرنے کے لئے استفادہ کیا گیا ہے.

غیرمقلدین اہلحدیث فرقے کے پیشوا نواب محمد صدیق حسن خان لکھتا ہے کہ میلاد کا ذکر سن کر جس کے دل کو فرحت حاصل نہ ہو وہ مسلمان نہیں.

مکمل تحریر >>