Pages

Thursday, 28 September 2017

حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب اور ان پر اعتراضات کے جوابات

حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب اور ان پر اعتراضات کے جوابات

فاتح عرب و عجم، کاتب وحی، برادر نسبتی پیغمبر، ہم زلف نبی، راز دار نبوت، امام تدبر و سیاست، خال المومنین، امیر المومنین،سیدالرسل امام الانبیاءخاتم المعصومین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک نہایت ممتاز و جلیل القدر صحابی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ آسمان نبوت کے وہ ستارے اور چمنستان محمدی ﷺ کے وہ پھول ہیں کہ جن کے بارے میں لوگ شک و شبہات میں مبتلا رہتے ہیں اور بعض اوقات امیر المومنین حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شان میں گستاخی بھی کر بیٹھتے ہیں(معاذاللہ)

امام ربّانی مجدد الف ثانی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی محبت اہلسنت و جماعت کی شرط ہے اور جو شخص یہ محبت نہیں رکھتا اہلسنت سے خارج ہے، اس کا نام خارجی ہے اور جس شخص نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی محبت میں افراط کی طرف کو اختیار کیا اور جس قدر کہ محبت مناسب ہے،اس سے زیادہ اس سے وقوع میں آتی ہے، اور محبت میں غلو کرتا ہے اور حضرت خیر البشر علیہ الصلاۃ و السلام کے اصحاب کو سب و طعن کرتا ہے اور صحابہ و تابعین اور سلف صالحین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طریق کے برخلاف چلتا ہے وہ رافضی ہے (مکتوبات امام ربانی اردو ترجمہ/دفتر ٢ صفحہ ٩٤)

(1) ایک روایت میں ہے کہ حضورﷺ نے اپنے ہاں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کو کسی کام مشورے کے لئے طلب فرمایا مگر دونوں حضرات کوئی مشورہ نہ دے سکے تو آپ نے فرمایا ادعوا معاویہ احضرروہ امرکم فانہ قوی امین۔ یعنی معاویہ رضی اﷲ عنہ کو بلائو اور معاملہ کو ان کے سامنے رکھو کیونکہ وہ قوی اور امین ہے۔
(2) یبعث اﷲ تعالیٰ معاویۃ یوم القیمۃ و علیہ
(3) اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن معاویہ رضی اﷲ عنہ کو اٹھائے گا تو ان پرنور کی چادر ہوگی۔
اہلم من امتی (تطہیر الجنان)
ترجمہ: میری امت میں سے معاویہ رضی اﷲ عنہ سب سے زیادہ بردبار ہے
اللھم املاہ علماء (ابن حجر الاصابہ ج 3ص 413)
اے اﷲ معاویہ رضی اﷲ عنہ کو علم سے بھر دے
یامعاویہ ان ولیت الامر فاتق اﷲ (بخاری جلد 1ص 409)
اے معاویہ رضی اﷲ عنہ تمہارے سپرد امارت کی جائے تو تم اﷲ سے ڈرتے رہنا
اول جیش من امتی یغزو البحر فقد اوجیو (بحوالہ بخاری)
میری امت کا سب سے بڑا لشکر جو بحری لڑائیوں کا آغاز کرے گا اس پر جنت واجب ہے۔ ابن اثیر اور تمام تاریخوں کے مطابق حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ واحد شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے بحری بیڑے کا آغاز کیا اور مسلمان قوم سب سے پہلی مرتبہ بحری جہاد سے سرفراز ہوئی۔
وعن ابی الدرداء قال مرائیت احد لعبد رسول اﷲ اشبہ صلاہ برسول من احدکم ہذا یعنی معاویہ (مجمع الزوائد للعلامہ نورالدین)
حضرت ابو درداء رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کے بعد حضورﷺ سے زیادہ سے زیادہ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھانے والا امیر معاویہ کے سوا کوئی نہیں دیکھا۔
ون عبداﷲ بن عمران معاویہ کان یکتب بین یدی رسول اﷲ (منبع الفوائد)
ترجمہ: حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ حضورﷺ کے سامنے بیٹھ کر لکھا کرتے تھے۔
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کی قیام گاہ یعنی آپ کے والد حضرت سیدنا ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کا مکان آنحضرتﷺ کے لئے مشرکین مکہ کی ایذا رسانی سے پناہ گاہ ثابت ہوتا تھا چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے طبقات ابن سعد کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔
(الاصابہ ج 2ص 179‘ المتقی ص 253)
اور نبی کو جب مشرکین مکہ اذیت و تکلیف پہنچاتے تو آپ حضرت ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کے گر پناہ لیا کرتے تھے اسی احسان کا بدلہ اور شکریہ حضورﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر یہ اعلان فرمایا ’’من دخل دار ابی فہو امن‘‘ یعنی ابتدائے اسلام کی عسرتوں اور پریشانیوں میں جو مکان پناہ گاہ رسولﷺ بنا‘ آج جو شخص بھی اس میں پناہ حاصل کرے گا اسے امان دے دی جائے گی (مسلم شریف)
رسول کریمﷺ نے فرمایا معاویہ میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو (لسان المیزان) لوگوں کو خبر دی جائے کہ امیر معاویہ جنتی ہیں (بحوالہ طبرانی)
حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ بارہ خلفاء میں شامل ہیں جن کی بشارت رسول کریمﷺ نے دی (تطہیر الجنان ص 15)
خود امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں رسول کریمﷺ نے فرمایا۔ وضو کرو جب ہم وضو کرچکے تو آپ نے فرمایا اے معاویہ! اگر تو خلیفہ بنایا جائے تو اﷲ تعالیٰ سے ڈرنا عدل کرنا (تطہیر الجنان)
رسول کریمﷺ نے حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو نصیحت فرمائی‘ اے معاویہ جب تو ملک کا والی ہوجائے تو رعایا سے حسن سلوک کرنا (تطہیر علی العواصم ص208)
حضرت شاہ ولی اﷲ رحمتہ اﷲ علیہ نے لکھا ہے کہ رسول کریمﷺ نے حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو ہدایت یافتہ اور ذریعہ ہدایت فرمایا اس لئے کہ انہوں نے مسلمانوں کا خلیفہ بننا تھا اور نبی امت پر شفیق ہے (از الۃ الخلفاء ‘ ج 1ص 573)
نبی کریمﷺ نے فرمایا ! اے اﷲ معاویہ کو ملکوں کی حکومت عطا فرما۔
(کنز العمال‘ ج 1‘ ص 19)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اور رسول خداﷺ کی ملاقات جنت کے دروازہ پر ہوگی (لسان المیزان ص  25)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ پر جبرئیل امین علیہ السلام نے سلام بھیجا (البدایہ والنہایہ)
سیدنا امیر معاویہ کے بارے میں جبرئیل امین نے خیر کی وصیت کی (البدایہ والنہایہ)
معاویہ کے لشکر کو بشارت جنت خود رسول خدا نے دی (مجمع الزوائد‘ ج 9 ص 357)
حاصل کلام
ان احادیث سے ظاہر ہے کہ نبی کریمﷺ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو جنت کی بشارت دے رہے ہیں کبھی ان کے حق میں دعا کررہے ہیں۔
مگر پروپیگنڈہ سے متاثر سنی نادان لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے حکومت چھین لی۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اور امیر معاویہ کے (لشکر کے) مقتول جنتی ہیں مگر یار لوگ کہتے ہیں کہ یہ کفر اور اسلام کی جنگ تھی۔ حضورﷺ دعا فرما رہے ہیں اے اﷲ معاویہ کو ہدایت پر رکھ‘ ہلاکت سے بچا اور دنیا اور آخرت میں اس کے گناہ بخش دے۔ پھر بھی بدبخت لوگ شبہ کرتے ہیں کہ معاویہ کے حق میں دعا بھلا کیسے قبول ہوتی ہے۔ حضورﷺ فرماتے ہیں معاویہ جنتی ہیں اور یار لوگ یہ بات ناپسند کرتے ہیں۔ خدا جانے یہ نادان لوگ غیر شعوری طور پر حضورﷺ کی مخالفت پر کیوں اتر آئے ہیں۔

حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اجمعین کی نظرمیں

حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں جب امت میں تفرقہ اور فتنہ برپا دیکھو تو سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کی اتباع کرو (بحوالہ البدایہ)
حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیںکہ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کا ذکر کرو تو خیر سے کرو (ترمذی)
حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ یقینا فقیہہ ہیں (البدایہ)
حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ملکی حکومت کو زینت دینے والا حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ کوئی نہیں دیکھا (بحوالہ تاریخ بخاری)
فاتح عراق و ایران حضرت سیدنا عمرو بن العاص رضی اﷲ عنہ نے فرمایا میں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے بعد اس دروازے والے (معاویہ) سے زیادہ حق فیصلہ کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا (البدایہ والنہایہ‘ ج 7‘ص 123)
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ نے خدا کی قسم کھا کر فرمایا‘ حضرات خلفائے راشدین معاویہ رضی اﷲ عنہ سے افضل تھے اور معاویہ رضی اﷲ عنہ سرداری کی صفت میں ان حضرات سے بڑھ کر تھے (استعیاب ج 2‘ ص 263)
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ نے کہا رسول کریمﷺ کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ سردار کوئی نہیںد یکھا (استعیاب ج 2‘ ص 262)

حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ

حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا میرا حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے اختلاف صرف حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کے قصاص کے مسئلہ میں ہے اور اگر وہ خون عثمان رضی اﷲ عنہ کا قصاص لے لیں تو اہل شام میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا سب سے پہلے میں ہوں گا (البدایہ و النہایہ ج 7‘ص 259)
حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا۔ میرے لشکر کے مقتول اور حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے مقتول دونوں جنتی ہیں (مجمع الزوائد ‘ ج 9‘ ص 258)
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے جنگ صفین سے واپسی پر فرمایا۔ امارات معاویہ رضی اﷲعنہ کو بھی خزانہ سمجھو کیونکہ جس وقت وہ نہ ہوں گے تم سروں کو گردنوں سے اڑتا ہوا دیکھو گے (بحوالہ شرح عقیدہ واسطیہ)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو جب شہادت حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو خبر ملی تو سخت افسردہ ہوگئے اور رونے لگے (البدایہ ج 8 ص 130)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے حضرت المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو صاحب فضل کہا (البدایہ‘ ج 8ص 131)
حضرت ابو امامہ رضی اﷲ عنہ سے سوال کیا گیا حضرت امیر معاویہ و عمر بن عبدالعزیز میں سے افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا ہم اصحاب مسجد کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے‘ افضل ہونا تو کجا ہے (بحوالہ الروضہ الندیہ‘ شرح العقیدہ الواسطیہ ص 406)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے ایک قتل کے مسئلہ پر حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے رجوع کیا (بحوالہ موطا امام مالک)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے روم کے بادشاہ کو جوابی خط لکھا تو اس میں یہ لکھا حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ میرے ساتھی ہیں اگر تو ان کی طرف غلط نظر اٹھائے گا تو تیری حکومت کو گاجر مولی کی طرح اکھاڑ دوں گا (تاج العروس ص 221)
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ’’اے نصرانی کتے اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا لشکر تیرے خلاف روانہ ہوا تو سب سے پہلے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے لشکر کا سپاہی بن کر تیری آنکھیں پھوڑ دینے والا معاویہ ہوگا۔(بحوالہ مکتوب امیر معاویہ البدایہ)

حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ

حضرت امام باقر نے کہا کہ امام حسن رضی اﷲ عنہ نے جو کچھ کیا وہ اس امت کے لئے ہر اس چیز سی بہتر تھا جس پر کبھی سورج طلوع ہوا (بحارا الانوار‘ ج 10ص 1641)

حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ مشاہیر اسلام کی نظر میں

حضرت امام مالک رضی اﷲ عنہ نے کہا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو برا کہنا اتنا بڑا جرم  ہے جتنا بڑا جرم حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہم کو برا کہنا ہے۔
(صواعق محرقہ ص 102)
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ اگر جنت میں ابتدا کی تو صلح میں بھی ابتدا کی۔
(صواعق محرقہ ص 105)

حضرت امام شافعی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اسلامی حکومت کے بہت بڑے سردار ہیں (صواعق محرقہ ص 105)

امام احمد بن حنبل رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں تم لوگ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے کردار کو دیکھتے تو بے ساختہ کہہ اٹھتے بے شک یہی مہدی ہیں۔(صواعق محرقہ ص 106)

حضرت امام اعمش رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر تم معاویہ رضی اﷲ عنہ کا زمانہ دیکھ لیتے تو تم کو معلوم ہوتا کہ حکمرانی اور انصاف کیا چیز ہے‘ لوگوں نے پوچھا کیا آپ ان کے حلم کی بات کررہے ہیں تو آپ نے فرمایا نہیں! خدا کی قسم ان کے عدل کی بات کہہ رہاہوں (العواصم ص 333‘ اور المتقی ص 233)

حضرت عوف بن مالک مسجد میں قیلولہ فرما رہے تھے کہ خواب میں ایک شیر کی زبانی آواز آئی جو منجانب اﷲ تھی کہ حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کو جنتی ہونے کی بشارت دے دی جائے (بحوالہ طبرانی)
حضرت مجاہد نے کہا کہ اگر تم حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کو دیکھتے تو کہتے یہ مہدی ہیں (البدایہ)
قاضی عیاض رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ آنحضرتﷺ کے صحابی‘ برادر نسبتی‘ اور کاتب وحی ہیں جو آپ کو برا کہے اس پر لعنت ہو (البدایہ)

امام ابن خلدون نے فرمایا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے حالات زندگی کو خلفائے اربعہ کی ساتھ ذکر کرنا ہی مناسب ہے کیونکہ آپ بھی خلیفہ راشد ہیں۔(تاریخ ابن خلدون‘ ج 2‘ص 1141)

حضرت ملا علی قاری رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے امام برحق ہیں ان کی برائی میں جو روایتیں لکھی گئی ہیں سب کی سب جعلی اور بے بنیاد ہیں (موضوعات کبیر ص 129)

امام ربیع بن نافع فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اصحاب رسول کے درمیان پردہ ہیں جو یہ پردہ چاک کرے گا وہ تمام صحابہ رضی اﷲ عنہما پر طعن کی جرات کرسکے گا (البدایہ ج 8‘ ص 139)

علامہ خطیب بغدادی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ مرتبے میں حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ سے افضل ہیں لیکن دونوں رسول اﷲﷺ کے صحابی ہیں بلکہ مملکت اسلامیہ کے دوستوں میں سے ہیں ان کے باہمی اختلافات کے فتنہ کا تمام گناہ سبائی فرقہ پر ہے (البدایہ)

ابن کثیر نے لکھا ہے کہ آپ کی سیرت نہایت عمدہ تھی اور آپ بہترین عفو کرنے والے تھے اور آپ سب سے بہتر درگزر کرنے والے تھے اور آپ بہت زیادہ پردہ پوشی کرنے والے تھے (البدایہ ج 8‘ ص 126)

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خود اس شخص کو کوڑے مارے تھے جو حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ پر سبو شتم کیا کرتا تھا (الصارم المسلول)

حضرت معانی بن عمران سے سوال کیا گیا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ افضل ہیں یا حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ؟ انہوں نے کہا کیا تم ایک تابعی کا صحابی سے مقابلہ کرتے ہو (البدایہ)

حضرت ابن عمران نے کہا کہ جو حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو برا بھلا کہے اس پر اﷲ تعالیٰ کے فرشتوں کی لعنت ہو اور اس پر تمام مخلوقات کی لعنت ہو (البدایہ)

حضرت قیصہ بن جابر اسدی فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے بڑھ کر محبوب دوست اور ظاہر اور باطن کو یکساں رکھنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔(تاریخ طبریٰ مترجم ج 5ص 175)

حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ حقوق اﷲ اور حقوق العباد کے پورا کرنے میں خلیفہ عادل ہیں (مکتوبات دفتر اول ص 441)

حضرت شاہ ولی اﷲ علیہ الرحمہ نے لکھا حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے حق میں کبھی بدظنی نہ کرنا اسی طرح حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کی بدگوئی کرکے ضلالت کا ورطہ نہ لینا۔

جو شخص حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ پر طعن کرے‘ وہ جہنمی کتا ہے ایسے خنزیر شخص کے پیچھے نماز حرام ہے (ملفوظات اعلیٰ حضرت بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ)

سوال: بعض لوگ جھوٹی بات گھڑتے ہیں کہ ایک دفعہ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اپنے کندھوں پر یزید کو لے جارہے تھے تو حضورﷺ نے فرمایا کہ جہنمی پر جہنمی سوار ہے (معاذ اﷲ)
معلوم ہوا کہ یزید بھی دوزخی اور امیر معاویہ بھی دوزخی (نعوذ باﷲ)؟
جواب: ماشاء اﷲ یہ ہے دشمن صحابہ کی تاریخ پر نظر اور یہ ہے ان کی نادانی کا حال۔
دلیل: یزید کی پیدائش حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور حکومت میں ہوئی۔ دیکھو کتاب جامع ابن اثیر اور کتاب الناہیہ وغیرہ۔
آپ نے تو حضورﷺ کے زمانہ میں یزید کو پیدا کردیا‘ کیا یزید عالم ارواح سے حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے کندھے پر کود کر آگیا (لاحول ولاقوۃ) (کتاب امیر معاویہ صفحہ 88)

سوال: بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو حضورﷺ نے بددعا دی‘ چنانچہ مسلم شریف کی حدیث لاتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار مجھے حضورﷺ نے حکم دیا کہ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو بلائو‘ میں بلانے گیا تو وہ کھانا کھا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا یارسول اﷲﷺ وہ کھا رہے ہیں تو فرمایا ان کا پیٹ نہ بھرے اور حضورﷺ کی دعا بھی قبول ہے اور خلاف دعا بھی چنانچہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو حضورﷺ نے حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے خلاف دعا کی۔ اس کا جواب دیں؟
جواب: اعتراض کرنے والے نے اس حدیث کو سمجھنے میں غلطی کی‘ کم از کم اتنی ہی بات سمجھ لی ہوتی کہ جو حضورﷺ گالیاں دینے والوں کو معاف کردیتے وہ حضورﷺ اس موقع پر حضرت امیر معاویہ کے خلاف کیوں دعا کرتے۔
دوسری بات یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما نے حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ سے یہ کہا بھی نہیں کہ آپ کو سرکارﷺ بلا رہے ہیں۔ صرف دیکھ کر خاموش واپس آئے اور حضورﷺ سے واقعہ عرض کیا۔
تیسری بات یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کا نہ کوئی قصور تھا نہ کوئی خطا اور حضورﷺ ان کے خلاف دعا کریں ‘ یہ ناممکن ہے۔
اب اعتراضات کے جوابات سنتے ہیں کہ عرب میں محاورۃ اس قسم کے الفاظ پیارو محبت کے موقع پر بھی بولے جاتے ہیں ان سے بددعا مقصود نہیں ہوتی۔
مثلا: تیرا پیٹ نہ بھرے‘ تجھے تیری ماں روئے‘ وغیرہ کلمات غضب کے لئے نہیں بلکہ کرم کے لئے ارشاد ہوئے ہیں اور اگر مان بھی لیا جائے کہ سرکار علیہ السلام نے حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کے خلاف بددعا کی تو بھی یہ بددعا حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے حق میں رحمت بنی‘ اﷲ تعالیٰ نے حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو اتنا بھرا اور اتنا مال دیا کہ انہوں نے سینکڑوں کا پیٹ بھر دیا۔ ایک ایک شخص کو بات بات پر لاکھوں لاکھوں … انعام دیتے کیونکہ حضورﷺ نے اپنے رب عزوجل سے عہد لیا تھا کہ اے اﷲ تعالیٰ اگر میں کسی مسلمان کو بلاوجہ لعنت یا اس کے خلاف دعا کروں تو اسے رحمت اجر اور پاکی کا ذریعہ بنا دینا۔
حدیث: حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا‘ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کتاب الدعوات میں حدیث ہے کہ فرمایا‘ حضورﷺ نے کہ اے اﷲ تعالیٰ جس کسی کو برا کہہ دوں تو قیامت میں اس کے لئے اس بد دعا کو قرب کاذریعہ بنا (بحوالہ مسلم شریف)
اب سمجھ میں آگیا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ پر لگائے گئے سارے الزامات بے بنیاد ہیں اور حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کاتب وحی‘ عاشق رسو ل ﷺ اور جید صحابی ہیں۔

سوال: شہدائے کربلا کے سلسلے میں حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ پر اہل بیت کی دشمنی کا الزام لگایا جاتا ہے حالانکہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ محب اہل بیت تھے؟
جواب: اس سوال کا جواب مسلک اہل سنت کی سینکڑوں کتابوں میں موجود ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اہل بیت سے سچی محبت کرتے تھے لیکن اس کا جواب ہم شیعہ حضرات کی معتبر کتابوں سے دیتے ہیں۔
شیعہ مولوی ملا باقر مجلسی کتاب جلاء العیون میں لکھتا ہے:حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ وصال کے وقت یزید کو یہ وصیت فرماگئے کہ امام حسین رضی اﷲ عنہ پس ان کی نسبت حضورﷺ سے ہے۔ تجھے معلوم ہے کہ حضورﷺ کے بدن کے ٹکڑے ہیں۔ حضورﷺ کے گوشت و خون سے انہوں نے پرورش پائی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ عراق والے ان کو اپنی طرف بلائیں گے اور ان کی مدد نہ کریں گے۔ تنہا چھوڑ دیں گے اگر ان پر قابو پالے تو ان کے حقوق کو پہچاننا‘ ان کا مرتبہ جو حضورﷺ سے ہے اس کو یاد رکھنا‘ خبردار ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ دینا‘‘ (جلاء العیون جلد دوم ص 421,422)
صاحب ناسخ التواریخ لکھتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ نے مزید کو یہ وصیت فرمائی۔
’’کہ اے بیٹا! ہوس نہ کرنا اور خبردار جب اﷲ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو تو تیری گردن میں حسین بن علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کا خون نہ ہو۔ ورنہ کبھی آسائش نہ دیکھے گا اور ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہے گا‘‘
غور کیجئے! حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ‘ یزید کو یہ وصیت کررہے ہیں کہ ان کی تعظیم کرنا بوقت مصیبت ان کی مدد کرنا۔ اب اگر یزید پلید اپنے والد کی وصیت پر عمل نہ کرے تو اس میں حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کا کیا قصور؟
حضرت امام مالک علیہ الرحمہ نے یزید پلید کو کافر لکھا ہے اور اہل سنت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ یزید پلید‘ شرابی‘ ظالم اور امام حسین رضی اﷲ عنہ کے خون کا ذمہ دار ہے‘ لیکن اس کے بدلے میں حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو بدنام کرنا یہ کون سی دیانت ہے؟
الحمدﷲ! ان تمام دلائل سے معلوم ہوا کہ شان حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کتنی بلند ہے۔ ان دلائل سے ان لوگوں کو عقل کے ناخن لینے چاہئے جو علم نہ ہونے کی وجہ سے بکواس کرتے ہیں۔
ہمیں چاہئے کہ ہم حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے بارے میں اپنی زبان کو بند رکھیں‘ خصوصا واعظین اور خطباء جو جوشِ خطابت میں حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو باغی کہہ دیتے ہیں اور ذرا بھی ادب و لحاظ نہیں کرتے۔ ایسے لوگ احتیاط کریں۔ اگر کوئی حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے مابین جنگ سے متعلق سوال بھی کرے تو حکمت عملی سے یہ کہہ کر عوام اہلسنت کو مطمئن کردیں کہ ہمارے لئے دونوں ہستیاں لائق احترام و تعظیم ہیں لہذا ہمیں اپنی زبانوں کو بند رکھنا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ ہمارا ایک جاہلانہ بول بروز قیامت ہمیں مہنگا نہ پڑ جائے۔
حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا فرمان ہمارے لئے کافی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کا ذکر کرو تو خیر سے کرو
سادات کرام بھی حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے متعلق اپنی زبان کو لگام دیں اور اپنی نسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کی شان میں گستاخی سے بچیں ۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں اپنے پیاروں کی شان میں گستاخی سے محفوظ فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

مکمل تحریر >>

آیئے واقعہ کربلا کی حقیقت کو سمجھیں

آیئے واقعہ کربلا کی حقیقت کو سمجھیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آج کل کے یزیدی سادہ لوح مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ واقعہ کربلا دو شہزادوں کی جنگ تھی آیئے واقعہ کربلا کی حقیقت کو تعصب کی عینک اتار کر حقائق و دلائل کی روشنی میں سمجھیں:عام نظریہ یہ ہے کہ کربلائے معلی میں امام حسین رضی اﷲ عنہ اور یزیدیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی جنگ ہی نہیں تھی کیونکہ جنگ کے لئے جس طرح کی سروسامانی، قوت و طاقت اور فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ایک طرف تو تھی مگر امام حسین رضی اﷲ عنہ کی طرف ان کے اہل وعیال کے علاوہ چند وفا پیشہ جاں نثار رفقاء تھے، کیا کوئی شوق میں اپنی اہل وعیال کو قتل کے بھینٹ چڑھانا گوارا کرے گا؟ دراصل کربلا کی تاریخ کا پورا پس منظر اس محور پر گردش کررہا ہے کہ دور یزید میں ایک ناقابل درست نظریہ (یعنی بیعت یزید) کو امام حسین رضی اﷲ عنہ پر تھوپنے کی کوشش کی گئی اور امام نے اس نظریہ کا سختی سے انکار کیا اور ہر موقع پر دانش مندی کا مظاہرہ کیا۔ اس لئے کربلا کے حادثے کو فکرونظر کی جنگ کا نتیجہ تو کہا جاسکتا ہے مگر اسے حقیقی جنگ نہیں قرار دیا جاسکتا۔

(اس جگہ کا متعلقہ پیرا گراف ساتھ دی گئی پوسٹ میں لکھا گیا ہے)

جب مروان کی دال نہیں گلی تو حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے شام، مصر، عراق اور دیگر شہروں میں یزید کی ولی عہدی کی زمین ہموار کرنے کے لئے امراء کو خفیہ احکام جاری فرمائے اور تقریبا ہر طرف سے زمین ہموار ہوچکی۔ لے دے کر حجاز مقدس کی زمین بچی ہوئی تھی، یہاں اسلام کی مقتدر ہستیاں تشریف فرما تھیں۔ چنانچہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ خود مدینہ آئے اور مدینہ کے باہر امام حسین، عبداﷲ بن عمر، عبداﷲ بن زبیر اور حضرت عبدالرحمن رضی اﷲ عنہم کو بلوایا، لیکن امیر معاویہ اور صحابہ کرام میں سخت کلامی ہوگئی اور یزید کی ولی عہد کا معاملہ حل نہ ہوسکا اور یہ چاروں حضرات دل برداشتہ ہوکر مدینہ چھوڑ کر مکہ آگئے۔ کچھ دنوں بعد پھر حضرت امیر معاویہ مکہ آئے۔ یہاں معاملہ بالکل برعکس نکلا، حضرت امیر معاویہ نے ان چاروں صحابہ کرام کے ساتھ انتہائی حسن سلوک کا مظاہرہ کیا۔ سب کو تنہائی میں بلاکر امیر معاویہ نے فرمایا تم بیعت کرلو۔ عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے تین تجویز رکھیں، مگر کوئی بھی منظور نہ ہوسکی۔ یہاں سے یہ بات بھی صاف طور پر واضح ہوگئی کہ یزید کی خلافت و امارت کے استصواب پر اکابر صحابہ کا اختلاف تھا، اس لئے یزید کی امارت متفق علیہ نہیں تھی۔

امام حسین رضی اﷲ عنہ کا سیاسی اور دینی تدبر

60ھ میں جب یزید تخت نشین ہوا تو اس نے ولید بن عتبہ بن ابی سفیان سے کہا! انہیں بیعت پر مجبور کرو اور پوری سختی کرو، ولید نے حکم پورا کیا مگر اسے اپنے منہ کی کھانی پڑی۔ امام حسین نے دانش مندی اور سیاسی تدبرسے جواب دیا کہ میرے ایسے شخص کی بیعت کو کافی نہ سمجھو گے، جب یہ معاملہ مجمع عام میں رکھو گے تو مجھ سے مطالبہ کرنا (الطبری 188/6، الکامل 264/3، بحوالہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ، پنجاب ص 326/8)

دوسرے دن امام حسین مدینہ سے مکہ تشریف لائے، مکے میں عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کا اثرورسوخ ہونے کے باوجود لوگوں کا ہجوم آپ کے پاس اکھٹا ہوگیا۔ حتی کہ لوگوں نے بیعت کے لئے پیشکش بھی کی مگر امام نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ کیونکہ وہ امت میں فساد نہیں چاہتے تھے۔ اگر آپ بیعت کرلیتے تو حضرت عبداﷲ بن زبیر کی جانب سے ردعمل سامنے آسکتا تھا۔ اس لئے آپ نے یہاں بھی حسن تدبیر سے کام لیا اور خاموشی میں بہتری سمجھی (البدایہ 143/8)

دوسری جانب کوفے میں یزید کے خلاف بدامنی پھیل گئی۔ اہل کوفہ کی جانب سے پیہم خطوط آنا شروع ہوگئے۔ انہوں نے آپ کو اپنا قائد، امام تسلیم کرنے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ امام حسین کے سامنے یہاں کئی چیزیں تھیں، ایک طرف قوم خود بخود ظالم و جابر حکمران کے ظلم و زیادتی سے تنگ آکر دوسری قیادت و خلافت کا مطالبہ کررہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف کوفیوں کی سابقہ بدعہدی اور بے وفائی کی داستان بھی امام کے پیش نظر تھی۔ اور ان کی بے وفائی کی وجہ سے صحابہ کرام بھی شدت کے ساتھ منع کررہے تھے۔ اس دوراہے پر امام حسین نے جس دانش مندی، دوربینی اور سیاسی تدبر کا مظاہرہ کیا ہے، دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ امام حسین کو نہ سیاسی اقتدار کی خواہش تھی اور نہ خلافت و بیعت کا شوق تھا، ورنہ آپ مکے ہی میں لوگوں کی پیشکش قبول کرچکے ہوتے مگر ایسا نہیں کیا۔ لیکن جب آپ کو یقین ہوگیا کہ امت فساد کا شکار ہوچکی ہے، ان پر ظلم و زیادتی کی ایسی انتہا ہوچکی ہے کہ اب وہ بہ زبان خود دوسری قیادت کا مطالبہ کررہی ہے، اس لئے اس وقت امت کو شروفساد سے محفوظ کرنے کے لئے کھڑا ہونا گویا واجب ہوچکا تھا اور تیسری طرف یزید کا کیا عالم تھا، مندرجہ ذیل تصریحات پڑھیئے
ظہر فسق یزید عندالکافۃ من اہل عصرہ… (مقدمہ ابن خلدون ص 180) یزید کا فسق وفجور تمام اہل زمانہ پر آشکارا ہوگیا۔

یعنی مروی ہے کہ یزید سرور ونغمہ، شراب نوشی اور سیروشکار کے لئے مشہور تھا۔ نوعمر لڑکوں، گانے والیوں اور کتوں کو اپنے گرد جمع رکھتا تھا۔ لڑاکا مینڈھوں، سانڈھوں اور بندروں کے درمیان لڑائی کا مقابلہ کرواتا تھا۔ ہر دن صبح کے وقت مخمور رہتا تھا۔ زین کسے ہوئے گھوڑوں پر بندروں کو اسی سے بندھوا دیتا تھا اور ادھر ادھر پھرواتا تھا، بندروں اور نوخیز لڑکوں کو سونے کی ٹوپیاں پہناتا تھا، گھوڑوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کرواتا تھا اور جب کوئی بندر مرجاتا تو اس کا سوگ مناتا تھا۔ (البدایہ والنہایہ، ابن کثیر)

ابن کثیر مزید فرماتے ہیں

یزید کے اندر شہوتوں کی طرف میلان بھی زیادہ تھا اور بعض نمازیں ترک کرنے اور اکثر اوقات انہیں نذر غفلت کردینے کا عادی تھا۔ایسی رستہ خیز اور قیامت آشوب دور میں امام حسین کے لئے امت کو ایسی قیادت فراہم کرنا واجب ہوگیا تھا جو یزیدی عہد حکومت کے مفاسد کی اصلاح اور ملت کی تطہیر کا فریضہ انجام دیتی اور سلطان جائر (یزید) کے سامنے کلمہ حق کی آواز بلند کرتی اور اس قیادت کی سب سے زیادہ اہلیت آپ کے اندر تھی۔ابن کثیر لکھتے ہیں : لانہ السید الکبیر، وابن بنت رسول اﷲﷺ فلیس علی وجہ الارض یومئذ احد یسامیہ ولایساویہ، ولکن الدولۃ الیزیدیۃ کانت کلھا تناوئہ (البدایۃ 144/8)ابن خلدون رقم طراز ہیں : فاما الاہلیۃ فکانت کماظن وزیادۃ (ابن خلدون / مقدمہ 180)(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

یعنی جہاں تک اہلیت و صلاحیت کا تعلق ہے تو وہ بلاشک و شبہ ان میں تھی جیسا کہ ان کا گمان بلکہ اس سے بھی زیادہ تھی۔

خود امام حسین نے قادسیہ کے راستے سے کربلا کی طرف پلٹتے وقت جو تاریخی خطبہ دیا ہے، اقدام کا پس منظر سمجھنے کے لئے خطبے کا حرف حرف ضمانت ہے
ترجمہ: لوگو! رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی ظالم بادشاہ کو دیکھے کہ اس نے خدا کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرلیا ہے۔ پیمانہ الٰہی کو توڑ رہا ہے، سنت نبوی کی مخالفت کررہا ہے، اﷲ کے بندوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ کرتا ہے، ایسی صورت حال میں بھی وہ اپنے قول و عمل سے شر کو نہ مٹائے تو اﷲ کا حق ہے کہ وہ اس کو اس کے ٹھکانے تک پہنچادے۔ (ابن اثیر الکامل فی التاریخ 40/4)

خبردار ہوجائو! ان لوگوں (یزیدیوں) نے اپنے اوپر شیطان کی پیروی لازم کرلی ہے۔ خدا کی عبادت ترک کردی ہے ،ہر طرف فساد برپا کردیا ہے ،شرعی حدود کو معطل کردیا ہے ،سرکاری مال اپنے مفاد پر خرچ کررہے ہیں اور اﷲ کے حرام کو حلال اور اس کے حلال کوحرام کردیا ہے اور سن لو! ان مفاسد اور شر کو مٹانے کا میں سب سے زیادہ حق دار ہوں۔

گویا امام حسین کے سامنے پہلے نکتے کے تحت دوسری قیادت فراہم کرنے کے سارے شرعی و عصری تقاضے فراہم ہوچکے تھے، مگر دوسری طرف کوفے والوں کی بدعہدی بھی ایک زمینی حقیقت تھی، اسی وجہ سے صحابہ کرام منع بھی کررہے تھے اور بہت سے ان میں مجتہد بھی تھے۔ چنانچہ امام حسین نے اسی پورے معاملے کی انکوائری کرنے کے تجرباتی طور پر مسلم بن عقیل کو اپنا نائب بنا کر کوفہ روانہ کیا تاکہ صحابہ کا گمان بھی غلط نہ ہو اور اقدام کے لئے اتمام حجت بھی ہوجائے۔
چنانچہ امام مسلم بن عقیل کوفہ روانہ ہوگئے اور تقریبا 18 ہزار کوفیوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی، اس کے بعد امام مسلم بن عقیل نے کوفہ والوں کی وفائی کا توثیق نامہ لکھ کر امام حسین کو تشریف لانے کی دعوت دی (البدایہ والنہایہ 144/8)

امام مسلم کے خط سے گویا صحابہ کرام کو ظاہری اطمینان بھی ہوگیا اور امام حسین نے تجرباتی طور پر اتمام حجت بھی کرلی، اس لئے خط ملتے ہی آپ اہل وعیال کے ساتھ کوچ کرگئے۔ امام حسین کے پاس اہلیت تو تھی ہی ساتھ ہی طاقت و شوکت بھی ان کے پاس تھی، یہاں امام طبری نے ایک نہایت کچی بات کی ہے کہ امام حسین کے پاس دنیاوی شوکت نہیں تھی۔

امام حسین سے شرعی لغزش تو نہیں ہوئی، جہاں تک قوت و شوکت کا تعلق ہے، تو اس کے سمجھنے میں غلطی ہوئی، اﷲ ان پر رحم فرمائے‘‘ (مقدمہ ابن خلدون ص  181)
امام طبری کی بات کی ناپختگی کی وجہ یہ ہے کہ جن کوفیوں نے امام مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر بیعت کی تھی انہوں نے تو دراصل امام حسین کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور وہ پوری فوج امام کی فوج تھی۔ امام کے حکم پر کچھ بھی کرسکتی تھی، اس لئے امام کو دنیاوی شوکت بھی حاصل تھی۔ ممکن ہے طبری کو یہ غلط فہمی اس وجہ سے ہوئی ہو کہ جس وقت امام حسین خروج کررہے تھے، ان کے پاس کوئی دنیاوی شوکت و طاقت نہیں تھی تو پہلی بات تو یہ ہے کہ امام کسی جنگ کے ارادے سے نکل ہی نہیں رہے تھے کہ ان کے پاس لشکر جرار ہونا ضروری تھا ورنہ ان کے ساتھ چند نفوس قدسیہ مع اہل خانہ نہیں ہوتے اور تاریخ یہ ثبوت پیش کرنے سے بھی قاصر ہے کہ انہوں نے مکے اور مدینے والوں میں کسی فرد کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی تھی اور اگر مان لیا جائے کہ یزید کی طرف سے ان سے جنگ بھی ہوسکتی تھی، تو امام حسین کے 18 ہزار کوفی وفادار دفاع کرنے کے لئے کافی تھے۔ گویا امام کو اپنی دنیاوی شوکت کا بھرپور اندازہ تھا۔ یہاں یہ نکتہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ جنگ کے لئے قائد کا بذات خود وہاں موجود ہونا ضروری نہیں۔ صرف اس کا حکم ہونا ضروری ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ پوری فوجی طاقت تو دراصل قائد کی ہی ہوتی ہے۔ ان نکات کو پیش نظر رکھ کر امام طبری کے نظریئے کا تجزیہ کیجئے اور بے لاگ ہوکر فیصلہ کیجئے۔

فریب ہی فریب

امام عالی مقام مکہ سے کوفے کے لئے نکلے تھے مگر ایک سچی سمجھی سازش کے تحت قادسیہ کے آگے مقام ذوحشم میں حربن یزید نے امام کو محاصرہ میں لے لیا اور کوفے کی بجائے کربلا تک پہنچادیا (اردو دائرہ معارف اسلامیہ 328/8)
مقام ذو حشم میں امام نے حر وغیرہ کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ میں تمہارے دعوتی خطوط پر آیا ہوں، مجھے تمہارے قول و قرار پر یقین ہے، اس لئے اطاعت کرلو، ورنہ میں جہاں سے آیا ہوں مجھے جانے دو، لیکن مجھے بیعت یزید ہرگز قبول نہیں (اردو دائرہ معارف اسلامیہ 328/8)(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

اسی طرح کربلا تک لوگوں سے ملاقات رہی، لوگوں نے سوالات کئے مگر امام نے یہی جواب دیا کہ میں تمہارے دعوتی خطوط کی بنیاد پر آیا ہوں۔ جب آپ میدان کربلا پہنچے تو کوفے کا سارا نقشہ بدل چکا تھا، جنہوں نے حسینی ہونے اور اپنی وفاداری کی قسمیں کھائی تھیں، اب وہ اپنے قسموں کے پیمانے توڑ چکے تھے اور سامنے یزیدیوں کا ایک لشکر جرار موجود تھا، عمر بن سعد کو ابن زیاد نے حکم دے دیا تھا کہ یا تو حسین سے بیعت کرلو یا انہیں قتل کردو۔ امام حسین کو صرف کربلا ہی میں نہیں راستے ہی میں یقین ہوچکا تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، لیکن آپ نے ہر موقع پر امت کو یزید کے ظلم و جور سے بچانے کے لئے ان کے عہد ناموں کی یاد دہانی کرائی اور عزیمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہاں تشریف لائے مگر قوم نے ساتھ نہ دیا۔ جب کربلا میں یہ امر واضح ہوگیا کہ ان پر جنگ مسلط کی جاچکی ہے اور عمرو بن سعد جبراً بیعت لینا چاہتا ہے تو آپ نے اولا بیعت سے انکار کیا اور پھر اصول جنگ کے مطابق دو بنیادی تجویزیں پیش کیں۔

(1) یا تو وہ جہاں سے آئے ہیں وہیں جانے دیا جائے۔

(2) یا انہیں چھوڑ دیا جائے کہ وہ وسیع و عریض زمین میں جہاں چاہیں نکل جائیں (البدایہ 166/8)

مگر ان کی کوئی تجویز منظور نہیں کی گئی اور یہ جبرواکراہ جنگ پر مجبور کیا گیا۔
بعض مورخین نے یہاں امام حسین کی تیسری تجویز یہ نقل کی ہے کہ آپ نے یہ کہا کہ مجھے یزید کے پاس جانے دیا جائے، تاکہ میں اس کے ہاتھ پر بیعت کرلوں، اس تجویز کی تردید و تضعیف کے لئے کربلا کے واقعات کے عینی شاہد، امام عالی مقام کے رفیق سفر اور تمام مورخین کے مستند راوی عقبہ بن سمعان کا صرف یہ قول نقل کردینا کافی ہے:لقد صحبت الحسین من مکۃ الی حین قتل، واﷲ مامن کلمۃ قالہا فی موطن الاوقد سمعتہا، وانہ لم یسال ان یذہب الی یزید فیضع یدہ الی یدہ ولا ان یذہب الی ثغرمن الشغور، ولکن طلب منہم احد امرین، امام ان یرجع من حیث جائ، وامام ان یدعوہ، یذہب فی  الارض العریضۃ حتی ینظر یایصیر امر الناس الیہ (البدایۃ لابن کثیر 166/8، دارالحدیث القاہرہ 1998)

کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں کہ امام نے ہمیشہ سے جن نظریئے کی تردید کی ہو، وہ کربلا میں جاکر اسی کو گلے لگالیا؟ اگر یہ تجویز سامنے آچکی تھی تو یزیدیوں کا جنگ کے لئے تیار ہونا، چہ معنی دارد؟ کیوں کہ وہ تو اسی کے لئے لڑنے آئے تھے۔

ایک طائرانہ نظر

آپ دور حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے آغاز سے لے کر شہادت امام عالی مقام تک نظر ڈالیں تو فکرونظر کی کشمکش ہر جگہ نظر آتی ہے، مگر امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے نظریاتی کشمکش صحیح ودرست تھے کیونکہ وہ خود مجتہد تھے۔ اس لئے ان کا اجتہاد بھی درست تھا مگر یزیدی دور میں یزید صالح و طاہر آدمی نہیں تھا بلکہ وہ فاسق معلن تھا اور امام عالی مقام کو اسی ظالم و جابر کی بیعت لینے پر مجبور کیا جاتا رہا، مگر انہوں نے بھی اس باطل نظریئے کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ کیوں کیا؟ گفتگو ہوچکی ہے اور اس نظریئے کے لئے وہ آخر تک جدوجہد کرتے رہے، اس کے لئے انہوں نے وفا پیشہ جاں نثاروں سمیت ریگزار کربلا پر اپنا آخری سجدہ کرنا گوارا تو کرلیا مگر ایک نادرست اور غیر اسلامی نظریئے کو باطل کے سامنے سجدہ ریز ہونے نہیں دیا۔ امام حسین کی یہ نظریاتی جیت دراصل اسلام، ایمان اور یقین کی ایک فکری جیت تھی اور باطل فکرکی ایک ناقابل تردید شکست فاش ۔

ولادت : امام حسین رضی اﷲ عنہ کی ولادت عام شہرت کے مطابق شعبان 4ھ / جنوری 26ء کو مدینہ طیبہ میں ہوئی (تاریخ طبری 39/3)(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
نبی کریمﷺ نے آپ کے کان میں اذان دی۔ منہ میں لعاب دہن ڈالا اور پھر آپ کے لئے بارگاہ خداوندی میں دعا فرمائی۔ ساتویں دن آپ کا نام حسین رکھا اور اسی دن عقیقہ کیا۔ آپ کی کنیت ’’ابوعبداﷲ‘‘ اور لقب ’’سبط الرسول‘‘ اور ’’ریحانتہ الرسول‘‘ ہے۔ آپ کی صحابیت پر امت کا اجماع ہے، اسی وجہ سے امام بخاری سمیت دیگر جمہور محدثین نے صحابیت کے لئے بلوغ کی قید کو مردود قرار دیا ہے، کیونکہ حسنین رضی اﷲ عنہما کی صحابیت مسلمات سے ہے اور دلیل و حجت مسلمات سے ہی قائم کی جاتی ہے۔

فضائل و کمالات : امام حسین رضی اﷲ عنہ نے جس گھر اور جس ماحول میں آنکھ کھولی تھی، وہ گھرانہ علم وحکمت کا مخزن، فضل و کمال کا سرچشمہ اور پورا ماحول انوار نبوت سے روشن تھا۔ جہاں ہر وقت قال اﷲ وقال رسول اﷲ کی صدائیں بلند ہوئی تھیں، جہاں گرتوں کو اٹھانے، محتاجوں کی دستگیری کرنے اور دنیا سے غلامی کے خاتمے کا درس بھی دیا جاتا تھا اور اس کو عملی جامہ بھی پہنایا جاتا تھا اور پھر امام حسین تو اہل بیت نبوت کے خاص جوہر تھے، جن پر فیضان نبوت کی ہمیشہ بارش ہوا کرتی تھی، بیک وقت کئی پاکیزہ نفوس کی صحبت نے آپ کے ظاہر وباطن کو ایسا شفاف آئینہ بنادیا تھا کہ اس پر میل و کچیل تو کجا گردوغبار کا شائبہ بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ امام حسین رضی اﷲ عنہ کی پاکیزہ ذات و صفات کے لئے رسول اﷲﷺ نے فرمایا ’’حسین منی وانا من الحسین، احب اﷲ من احب حسینا، حسین سبط من الاسباط‘‘ (ترمذی ج 2،ص 218، ایچ ایم سعید کمپنی ادب منزل پاکستان)

حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں جو حسین کو محبوب رکھتا ہو وہ اﷲ کو محبوب رکھتا ہے، حسین فرزندوں میں ایک فرزند ہیں۔
ایک مرتبہ حضور اکرمﷺ، حضرت فاطمہ زہرا رضی اﷲ عنہا کے گھر تشریف لائے اور حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسین کریمین رضی اﷲ عنہم سب کو چادر میں لے کر فرمایا ۔ اللھم ہؤلاء اہل بیتی، اللھم اذہب عنہم الرجس وطہرم تطہیرا اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئیانما یرید اﷲ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہر کم تطہیرا (احزاب 33)اﷲ تو یہی چاہتا ہے اے (رسول کے) گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں خوب خوب کرکے صاف ستھرا رکھے۔
یہ آیت اہل بیت نبوت کے فضائل کا منبع ہے اور آیت میں متعدد کلمات حصر سے پتا چلتا ہے کہ اس سے معمولی طہارت مراد نہیں، بلکہ سب سے عہدہ اور نہایت اعلیٰ اور غیر معمولی قسم کی پاکیزگی مراد ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل بیت کو اﷲ تعالیٰ نے ہر طرح کی اعتقادی عملی، اخلاقی اور دیگر ناپاکیوں اور برائیوں سے پاک و منزہ فرماکر ان کے ظاہر و باطن کو وہ عظیم مقام عطا فرمایا جس کی وجہ سے وہ دوسروں سے ممتاز اور فائق ہیں، لہذا اس آیت قرآنی پر ایمان رکھتے ہوئے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ کا قلب مبارک حبُ جاہ و مال اور ہوس اقتدار اور تمام رذائل دنیا سے پاک اور مبرا تھا (امام پاک اور یزید پلید ص 236)
حضورﷺ نے حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر گفتگو کے لئے نجران کے وفد کے پاس مباہلے کے لئے حضرت حسنین کریمین حضرت فاطمہ، حضرت علی رضی اﷲ عنہم کو لے کر باہر تشریف لارہے تھے، یہ نورانی صورتیں دیکھ کر لاٹ پادری نے کہا! میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں جن کی دعا پہاڑوں کو ان کی جگہ سے سرکا سکتی ہے۔ ان سے مباہلہ کرکے ہلاک نہ ہو، چنانچہ یہودیوں نے اپنا ارادہ ترک کردیا (اردو دائرہ معارف اسلامیہ 325/8)

امام حسین قرآن کریم کے مطالب اور رسول اﷲﷺ کی احادیث بیان فرماتے تھے۔ عبادت و ریاضت آپ کا معمول تھا، بہ کثرت نوافل پڑھتے تھے، قیام اللیل آپ کا عام دستور تھا۔ روزے بہ کثرت رکھا کرتے تھے اور سادہ غذا سے افطار کیا کرتے تھے، پچیس حج کئے۔ رمضان المبارک میں کم از کم ایک مرتبہ قرآن مجید ضرور ختم کرتے (سیر اعلام النبلا للذہبی 196/3 بحوالہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ 325/8، دانش گاہ، پنجاب لاہور)

حضرت جابر بن عبداﷲ فرماتے ہیں کہ میں حجتہ الوداع میں عرفہ کے دن حضورﷺ کو ناقہ قصواء پر خطبہ فرماتے ہوئے سنا کہ
یاایھا الناس انی ترکت فیکم ما ان اخدتم بہ لن تضلوا کتاب اﷲ وعترتی اہل بیتی (ترمذی باب مناقب الحسن والحسین ج 218/2)
اے لوگو! بے شک میں نے تم میں دو چیز چھوڑی ہے اگر اس کو مضبوطی سے پکڑے رہو گی تو گمراہ نہیں ہوگے۔ وہ کتاب اﷲ (قرآن مجید) اور میری عترت میرے اہل بیت ہیں۔

حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے حضرت علی، فاطمہ، حسن و حسین رضی اﷲ عنہم کے متعلق فرمایا:انا حرب لمن حاربہم وسلم لمن سالہم
جو ان سے لڑے، میں ان سے لڑنے والا ہوں اور جو ان سے صلح رکھے، میں ان سے صلح رکھنے والا ہوں۔

حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا:من سرہ ان ینظر الی رجل من اہل الجنۃ فی لفظ الی سید شباب اہل الجنۃ فلینظر الی الحسین بن علی (ابن عساکر)
جو کسی جنتی مرد کو دیکھ کر خوش ہونا چاہے، اور ایک روایت کے الفاظ میں ہیں، جو کسی جنتی نوجوانوں کے سردار کو دیکھ کر خوش ہو تو وہ حسین بن علی کو دیکھ لے۔
اﷲ و رسول کے ارشادات سے ثابت ہوا کہ اہل بیت کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے، امام حسین رضی اﷲ عنہ خدا اور رسول کے محبوب و مقبول اور جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔ آپ سے محبت گویا ایمان کی پہچان ہے اور آپ سے بغض گمرہی کی نشانی۔ آپ کے فضائل و مناقب خیالی ہی نہیں بلکہ حقیقی ہیں، جن کے تذکرے سے اہل ایمان کے دلوں کو جلا اور روح کو تازگی ملتی ہے۔(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مکمل تحریر >>