Pages

Tuesday, 27 December 2016

سلسلہ اصطلاحات قرآنیہ

🔷🔷(سلسلہ اصطلاحات قرآنیہ)🔷🔷
 الحمدﷲ رب العالمین  والصّلٰوۃ والسلام علی سید الانبیا و المرسلین امابعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم
قرآن شریف میں بعض الفاظ کسی خاص معنی میں استعمال فرمائے گئے ہیں کہ اگر اس کے علاوہ ان کے دوسرے معنی کیے جائیں تو قرآن کا مقصد بدل جاتا ہے یا فوت ہوجا تا ہے ان اصطلاحوں کو بہت یاد رکھنا چاہئے تا کہ ترجمہ میں دھوکا نہ ہو ۔
🔷🔷👈(اصطلاح نمبر 7)👉🔷🔷
اس اہم ترین موضوع کو ضرور پڑھیں تاکہ بدعت کا حقیقی مفہوم واضح ہواور آگے بڑھا دیں شیطان آپکو پڑھنے سے روکے گا
    ⬇⬇⬇⬇⬇⬇⬇⬇⬇
         🌱🌱🌱بدعت🌱🌱🌱

    بدعت کے لغوی معنی ہیں نئی چیزاصطلاح شریعت میں بدعت کہتے ہیں دین میں نیا کام جو ثواب کیلئے ایجاد کیا جائے اگر یہ کام خلاف دین ہو تو حرام ہے اور اگر اس کے خلاف نہ ہو تودرست یہ دونوں معنی قرآن شریف میں استعمال ہوئے ہیں۔
رب تعالیٰ فرماتا ہے۔

(1) بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ ؕ

وہ اللہ آسمانوں اور زمین کا ایجاد فرمانے والا ہے ۔(پ1،البقرۃ:117)

(2)قُلْ مَا کُنۡتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ

فرمادو کہ میں انوکھا رسول نہیں ہوں۔ (پ26،الاحقاف:9)
    ان دونوں آیتو ں میں بدعت لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی انوکھا نیا رب تعالیٰ فرماتا ہے :
 

وَ جَعَلْنَا فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ رَاۡفَۃً وَّ رَحْمَۃً ؕ وَ رَہۡبَانِیَّۃَۨ ابْتَدَعُوۡہَا مَا کَتَبْنٰہَا عَلَیۡہِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللہِ فَمَا رَعَوْہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا ۚ فَاٰتَیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنْہُمْ اَجْرَہُمْ ۚ وَکَثِیۡرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوۡنَ ﴿۲۷﴾

اور عیسیٰ علیہ السلام کے پیروؤں کے دل میں ہم نے نرمی اور رحمت رکھی اور ترک دنیا یہ بات جو انہوں نے دین میں اپنی طر ف سے نکالی ۔ ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انہوں نے اللہ کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اسے نہ نباہا جیسا اس کے نباہنے کا حق تھا تو ان کے مومنوں کو ہم نے ان کا ثواب عطا کیا اور ان میں سے بہت سے فاسق ہیں۔(پ27،الحدید:27)
    اس آیت سے معلوم ہوا کہ عیسائیوں نے رہبانیت اور تارک الدنیا ہونا اپنی طر ف سے ایجاد کیا ۔ رب تعالیٰ نے ان کو اس کا حکم نہ دیا ۔ بد عت حسنہ کے طور پر انہوں نے یہ عبادت ایجاد کی اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بدعت کا ثواب دیا مگر جو اسے نباہ نہ سکے یا جو ایمان سے پھر گئے وہ عذاب کے مستحق ہوگئے معلوم ہوا کہ دین میں نئی بدعتیں ایجاد کرنا جو دین کے خلاف نہ ہوں ثواب کا با عث ہیں مگر انہیں ہمیشہ کرنا چاہیے جیسے چھ کلمے ، نماز میں زبان سے نیت ،قرآن کے رکوع وغیرہ ،علم حدیث، محفل میلا د شریف ،اور ختم بزرگان، کہ یہ دینی چیزیں اگر چہ حضور صلی ا للہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کے بعد ایجاد ہوئیں مگر چونکہ دین کے خلاف نہیں اور ان سے دینی فائدہ ہے لہٰذا باعث ثواب ہیں جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ جو اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرے اسے بہت ثواب ہوگا ۔ یہاں مفتی صاحب کا کلام ختم ہوا

🌻🌻اس کی اقسام و پہچان 🌻🌻

بدعت کا لغوی معنی

نیا کام، نئی ایجاد، نئی بات

بدعت کاشرعی معنی

ہر وہ کام جو سرکار اعظمﷺ کی ظاہری حیات مبارکہ میں نہ ہو بلکہ بعد میں ایجاد ہوا ہو۔

بدعت کی دو قسمیں ہیں

(1) بدعت حسنہ (2) بدعت سیہ

اب ان دو اقسام پر روشنی ڈالتے ہیں

(1) بدعت حسنہ کی تعریف

ہر وہ طریقہ جو سرکار اعظمﷺ کے زمانہ میں نہ ہو ، بعد میں ایجاد ہوا ہو اور وہ کام شریعت کے خلاف نہ ہو جیسے نماز تراویح، جماعت کے ساتھ ادا کرنا، قرآن وحدیث کو سمجھنے کے لئے بہت سے دوسرے علوم و فنون پڑھنا اور سیکھنا، دینی مدارس قائم کرنا، قرآن مجید کے اعراب کا لگایا جانا، قرآن مجید پر غلاف چڑھانا، قرآن مجید کی اعلیٰ طباعت کے ساتھ شائع کرنا، مساجد میں محرابیں بنانا، مساجد کے بلند مینار تعمیر کروانا، جمعہ کے دن دو اذانیں دینا، دانے والی تسبیح پڑھنا وغیرہ وغیرہ

کتاب کشاف اصطلاحات الفنون جلد اول صفحہ 122 میں حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ کے حوالے سے ہے کہ وہ بدعت جو کتاب اﷲ، سنت، اجماع یا اثر صحابہ کے خلاف نہ ہو تو یہ بدعت حسنہ ہے۔

بدعت حسنہ پر عمل کرنا باعث اجروثواب ہے

الحدیث۔۔۔ من سنن فی الاسلام سنۃ حسنۃ فلہ اجرہا واجرمن عمل بہا من غیر ان ینقص من اجورہم شئ

ترجمہ: جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اس کا ثواب ملے گا اور اس کا بھی جو اس پر عمل کریں گے اور ان کے ثواب میں کچھ کمی نہیں ہوگی (ابو داؤد شریف)

فائدہ: یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ہر وہ اچھا کام جو سرکار اعظمﷺ کے زمانہ اقدس میں نہ ہو، بعد میں ایجاد ہوا ہو اور شریعت کے مخالف نہ ہو تو ایسے کام کو اپنانا اور ایجاد کرنا دونوں باعث اجر ہیں۔

الحدیث: عن ابی سلمہ ان النبیﷺ عن الامر یحدث لیس فی کتاب ولا سنۃ فقال ینظر فیہ العابدون من المومنین

ترجمہ: حضرت ابو سلمہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار اعظمﷺ سے ایسے نئے کام جس کی وضاحت کتاب وسنت میں ہو کے متعلق پوچھا گیا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس امر محدث کے بارے میں عابدین مومنین کو غوروفکر کرنا چاہئے (سنن دارمی باب النورع عن الجواب فی مالیس فیہ کتاب ولا سنتہ جلد اول ص 54)

فائدہ: اس حدیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہر نئے کام کو برا سمجھ کر رد نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کے لئے یہ واضح حکم موجود ہے کہ مجتہدین اور اہل اﷲ اس کے بارے میں فیصلہ کریں۔

اسی بناء پر حضرت امام نووی علیہ الرحمہ اور دوسرے بہت سے ائمہ نے بدعت کی پانچ اقسام بیان کی ہیں۔

(1) بدعت واجب، (2) بدعت مندوبہ، (3) بدعت مباحہ، (4) بدعت مکروہہ، (5) بدعت حرام

الحدیث: ماراہ المسلمون حسنا فہو عنداﷲ حسن

ترجمہ: جس کام کو مسلمان اچھا جانیں وہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک اچھا ہے (موطا امام محمد باب قیام شہر رمضان ص 144)

(1) امام کاسانی علیہ الرحمہ بدائع الصنائع میں فرماتے ہیں:

اتباع مااشتہر العمل بہ فی الناس واجب

ترجمہ: جو عمل لوگوں میں مشہور ہوجائے جبکہ شریعت کے مطابق ہو، اس کی اتباع ضروری ہے (بحوالہ: بدائع الصنائع فصل فی بیان یامستحب فی یوم العید، جلد اول)

(2) علامہ بدرالدین عینی (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری) علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جو کام شریعت کے مخالف نہ ہو تو وہ ’’بدعت حسنہ‘‘ یعنی اچھی بدعت ہے۔

(3) علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ، شامی کے مقدمے میں فرماتے ہیں ’’یہ حدیث اسلام کے قوانین ہیں کہ جو شخص کوئی بری بدعت ایجاد کرے، اس پر تمام پیروی کرنے والوں کا گناہ ہے اور جو شخص اچھی بدعت نکالے، اسے قیامت تک اس عمل کی پیروی کرنے والوں کا ثواب ہوگا‘‘ اگر یہ کہا جائے کہ بدعت حسنہ یعنی اچھی بدعت کوئی چیز نہیں ہے تو یہ بات مسلم شریف کی حدیث کے خلاف بھی ہوسکتی ہے۔

(4) شیخ وحید الزماں جوغیر مقلدین اہلحدیث کے امام ہیں، حضرت شاہ ولی اﷲ علیہ الرحمہ کے حوالے سے اپنی کتاب ہدیۃ المہدی ص 117 میں لکھتے ہیں کہ بدعت حسنہ (اچھی بدعت) کو دانتوں سے (مضبوطی سے) پکڑ لینا چاہئے کیونکہ سرکار اعظمﷺ نے اس کو واجب کئے بغیر اس پر برانگیختہ کیا ہے جیسے نماز تراویح۔

(5) حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ماہ رمضان میں نماز تراویح کی جماعت کا اہتمام کیا تو کسی نے عرض کیا کہ یہ ’’بدعت‘‘ ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جواب میں فرمایا ’’نعمت البدعۃ ہذہ‘‘ یہ کتنی اچھی بدعت ہے

فائدہ: ان تمام احادیث اور علمائے امت کے اقوال سے یہ بات نہایت آسانی سے معلوم ہورہی ہے کہ ہر وہ ایسا عمل جو سرکار اعظمﷺ کے زمانہ میں نہیں تھا بلکہ بعد میں ایجاد ہوا، اگر وہ شریعت مطہرہ اور سنت رسولﷺ کے مخالف نہیں تو اس پر عمل کرنا مستحب اور بعض صورتوں میں ضروری ہے۔

الحدیث: سرکار اعظمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اسلام میں اچھا طریقہ نکالا اس کے لئے اس کا ثواب ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا ثواب بھی (بحوالہ مسلم شریف، جلد تیسری، ص 718)

فائدہ: مسلم شریف کی حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر وہ اچھا کام جو سرکار اعظمﷺ کے زمانہ میں نہ ہو بعد میں ایجاد ہوا اور شریعت کے مخالف نہ ہو تو ایسے کام کو اپنانا اور ایجاد کرنا دونوں باعث اجر ہیں۔

تفسیر روح البیان میں ہے کہ وہ کام جسے علماء اور عارفین ایجاد کریں اور وہ سنت کے خلاف نہ ہو تو یہ اچھا کام ہے۔

(2)بدعت سیۂ کی تعریف

ہر وہ کام جو سرکار اعظمﷺ کے7 زمانے میں نہ ہو بلکہ بعد میں ایجاد ہوا ہو اور وہ شریعت کے مخالف ہو۔

(1) کتاب اصطلاحات الفنون ص 133 جلد اول میں ہے کہ حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ وہ بدعت جو کتاب، سنت، اجماع یا اثر صحابہ کے خلاف ہو تو یہ بدعت سیۂ یعنی بری بدعت ہے۔

(2) کتاب نیل الادطارباب صلوٰۃ جلد سوم ص 57 میں ہے کہ اگر بدعت ایسے وصول کے تحت داخل ہے جو شریعت میں قبیح ہے تو یہ بدعت سیۂ ہے۔

(3) امام حجر عسقلانی علیہ الرحمہ فتح الباری میں فرماتے ہیں کہ دین میں کسی ایسی نئی چیز کا ایجاد کرنا جس کی اصل (دلیل) شریعت میں نہ ہو)

(4) علامہ ابن منظور افریقی فرماتے ہیں کہ وہ نئی بات جو قرآن و حدیث کے خلاف ہو، بدعت سیۂ ہے۔

(5) مشکوٰۃ المصابیح باب الاعتصام جلد اول میں ہے کہ جس شخص نے ہمارے دین میں کوئی نیا عقیدہ ایجاد کیا کہ جو دین کے خلاف ہو تو ہو مردود ہے۔

(6) علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں کہ ’’ہر نیا کام بدعت ہے‘‘ سے مراد وہ نیا کام ہے جو شریعت کے مخالف ہو اور سنت کے موافق نہ ہو۔

معلوم ہوا کہ جو چیز اسلام سے ٹکرائے وہ بدعت سیۂ یعنی بری بدعت ہے اور جو دین اسلام سے نہ ٹکرائے اور جن کاموں کو قرآن و سنت میں منع نہیں کیا گیا، وہ بدعت حسنہ یعنی اچھی بدعت ہے۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اہل بیت اطہار نے سرکار اعظمﷺ کے ظاہری زمانے میں اور بعد میں اپنے دل سے بہت سی ایسی اچھی بدعتیں یا نئے کام بھی کئے، جن کا حکم نہ قرآن مجید میں آیا، جو نہ سرکار اعظمﷺ نے خود کئے اور نہ کرنے کا حکم دیا۔

(1) حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے کاتب وحی حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کو قرآن مجید جمع کرنے کا حکم دیا تو حضرت زید رضی اﷲ عنہ نے عرض کیاکہ آپ رضی اﷲ عنہ وہ کام کیوں کرتے ہیں جو سرکار اعظمﷺ نے نہیں کیا؟ تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ یہ کام اچھا ہے (بخاری شریف)

(2) نماز تراویح ایک عبادت ہے جو سرکار اعظمﷺ کی ظاہری حیات میں ہر سال پورے رمضان جماعت سے نہیں ہوئی تھی مگر حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسے رائج کرتے ہوئے اس کے لئے ’’بدعت‘‘ کا لفظ استعمال کیا اور فرمایا ’’یہ کتنی اچھی بدعت ہے‘‘ (بخاری شریف)

(3) حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے جمعہ میں دو اذانوں کا طریقہ شروع کیا

(4) حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے ایک ہی شہر میں نماز عید کے دو اجتماعات شروع کئے

(5) حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے علم نحو ایجاد کیا

(6) حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے علم صرف ایجاد کیا

(7) حضرت حباب رضی اﷲ عنہ نے پہلی مرتبہ شہید کئے جانے سے پہلے دو رکعت نفل ادا کئے

(8) حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے وعظ کے لئے جمعرات کا دن متعین کیا (بخاری شریف)

(9) حضرت بلال رضی اﷲ عنہئ وضو کے بعد دو رکعت نماز ادا فرماتے تھے حالانکہ سرکار اعظمﷺ نے انہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا

(10) حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے قرآن مجید کو جمع کرکے ایک کتابی صورت تشکیل دی۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ایجاد کردہ کام ’’بدعت‘‘ ہیں یا ’’سنت‘‘؟ کچھ علماء کا خیال ہے کہ ’’سنت‘‘ ہے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے طریقوں پر چلنے کی ہدایت سرکار اعظمﷺ کے فرمان میں موجود ہے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ایجاد کردہ کام ’’بدعت حسنہ‘‘ ہیں۔ حدیث شریف میں خلفائے راشدین کی ’’سنت‘‘ کا مطلب ان کا طریقہ ہے اور یہ طریقہ ان معنوں میں ’’سنت‘‘ نہیں جس طرح کہ سرکار اعظمﷺ کی سنت ہے

مکمل تحریر >>

حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے وسیلہ سے نمازیں کم ہوئیں

حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے وسیلہ سے نمازیں کم ہوئیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: (شبِ معراج) اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں تو میں ان (نمازوں) کے ساتھ واپس آیا یہاں تک کہ میں حضرت موسٰی کے پاس سے گزرا تو انہوں نے سوال کیا: اللہ تعالیٰ نے آپ پر آپ کی امت کے لئے کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: اﷲ تعالیٰ نے پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ انہوں نے کہا: اپنے رب کی طرف واپس جائیے کیونکہ آپ کی امت اس (کی ادائیگی) کی طاقت نہیں رکھتی۔ پس انہوں نے مجھے واپس لوٹا دیا۔ (میری درخواست پر) اﷲ تعالیٰ نے ان کا ایک حصہ کم کر دیا۔ میں حضرت موسیٰں کی طرف واپس گیا اور کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک حصہ کم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا: اپنے رب کی طرف (پھر) جائیے کیونکہ آپ کی امت میں ان کی (ادائیگی کی) طاقت نہیں ہے۔ پس میں واپس گیا تو اﷲ تعالیٰ نے ان کا ایک حصہ اور کم کر دیا۔ میں ان کی طرف آیا تو انہوں نے پھر کہا: اپنے رب کی طرف جائیے کیونکہ آپ کی امت میں ان کی طاقت بھی نہیں ہے۔ میں واپس لوٹا تو (اﷲ تعالیٰ نے) فرمایا: یہ (ہیں تو) پانچ (نمازیں) مگر (ثواب کے اعتبار سے) پچاس (کے برابر) ہیں۔ میرے نزدیک بات تبدیل نہیں ہوا کرتی۔ میں حضرت موسٰی کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: اپنے رب کی طرف جائیے (اور مزید کمی کے لئے درخواست کیجئے) میں نے کہا: مجھے اب اپنے رب سے حیا آتی ہے۔ پھر (جبرائیل) مجھے لے کر چلے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے جسے مختلف رنگوں نے ڈھانپ رکھا تھا، نہیں معلوم کہ وہ کیا ہیں؟ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا جس میں موتیوں کے ہار ہیں اور اس کی مٹی مشک ہے۔

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الصلاة، باب: کيف فرضت الصلاة في الإسراء، 1/ 136، الرقم: 342، وفيکتاب: الأنبياء، باب: ذکر إدريس وهو جد أبي نوح ويقال جد نوحعليهما السلام، 3/ 1217، الرقم: 3164، ومسلم في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: الإسراء برسول اﷲ صلی الله عليه واله وسلم إلی السماوات وفرض الصلوات، 1/ 148، الرقم:163، والنسائي في السنن، کتاب: الصلاة، باب: فرض الصلاة، 1/ 221، الرقم:449، وابن ماجة في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: ما جاء في فرض الصلوات الخمس والمحافظة عليها، 1/ 448، الرقم: 1399، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/ 143، الرقم: 21326، وابن حبان في الصحيح، 16/ 421، الرقم:7406، وابن منده في الإيمان، 2/ 721، الرقم: 714، وأبو عوانة في المسند، 1/ 119، الرقم:354، والبيهقي في السنن الصغری، 1/ 191، الرقم: 257.

مکمل تحریر >>

Monday, 26 December 2016

غزوہ بدراور نبی کریم رؤف الرّحیم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم غیب

غزوہ بدراور نبی کریم رؤف الرّحیم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم غیب
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غیب کی خبر دینے سے متاثر ہو کر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ مسلمان ہوئے اور آج کا نام نہاد مسلمان انکار کرتا ہے

امام احمد بن حنبل متوفی 241 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :امام محمد بن اسحاق نے بیان کیا کہ جس شخص نے عکرمہ سے سنا اس نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ جس شخص نے ( جنگ بدر میں) عباس بن عبد المطلب کو گرفتار کیا وہ ابو الیسر کعب بن عمرو تھے۔ ان کا تعلق بنو سلمہ سے تھا۔ ان سے رسول اللہ صللہ علیہ وسلم نے پوچھا : اے ابو الیسر ! تم نے اس کو کیسے گرفتار کیا تھا ؟ انہوں نے کہا اس معاملہ میں ایک ایسے شخص نے میری مدد کی تھی جس کو میں نے اس سے پہلے دیکھا تھا نہ اس کے بعد، اس کی ایسی ایسی ہیئت تھی۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری مدد ایک مکرم فرشتے نے کی تھی۔ اور عباس سے فرمایا اے عباس تم اپنا فدیہ بھی دو اور اپنے بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن الحارث کا فدیہ بھی دو اور اپنے حلیف عتبہ بن حجدم کا فدیہ بھی دو جن کا تعلق بنوالحارث بن فھر سے ہے۔ عباس نے ان کا فدیہ دینے سے انکار کیا اور کہا میں اس غزوہ سے پہلے اسلام قبول کرچکا تھا، یہ لوگ مجھے زبردستی اپنے ساتھ لائے ہیں۔ آپنے فرمایا اللہ تمہارے معاملہ کو خوب جاننے والا ہے اگر تمہارا دعویٰ بر حق ہے تو اللہ تم کو اس کی جزا دے گا۔ لیکن تمہارا ظاہر حال یہ ہے کہ تم ہم پر حملہ آور ہوے ہو سو تم اپنا فدیہ ادا کرو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بیس اوقیہ سونا (بطور مال غنیمت) وصول کرچکے تھے۔ عباس نے کہا یارسول اللہ اس بیس اوقیہ سو نے کو میرے فدیہ میں کاٹ لیجئے۔ آپ نے فرمایا نہیں ! یہ وہ مال ہے جو اللہ نے ہمیں تم سے لے کردیا ہے۔ عباس نے کہا میرے پاس ارمال تو نہیں ہے، آپ نے فرمایا وہ مال کہاں ہے جو تم نے مکہ سے روانگی کے وقت ام الفضل کے پاس رکھا تھا اس وقت تم دونوں کے پاس اور کو نہیں تھا۔ اور تم نے یہ کہا تھا کہ اگر میں اس مہم میں کام آگیا تو اس مال میں سے اتنا فضل کو دینا، اتنا قثم کو دینا اور اتنا عبداللہ کو دینا۔ تب عباس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کربھیجا ہے میرے اور ام الفضل کے سوا اس کو اور کو نہیں جانتا اور اب مجھے یقین ہوگیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔
(مسند احمد ج 1، ص 353، طبع قدیم، دار الفکر مسند احمد ج 1 رقم الحدیث :3310 طبع جدید، دارالفکر شیخ احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند ضعیف ہے کیونکہ امام محمد بن اسحاق اور عکرمہ کے درمیان راوی مجہول ہے،
مسند احمد ج 1، رقم الحدیث :3310، مطبوعہ دار الحدیث قاہرہ، 1416 ھ،
حافظ الہیثمی نے کہا اس کی سند میں ایک راوی کا نام مذکور نہیں ہے اور اس کے باقی تمام رجال ثقہ ہیں،
مجمع الزوائد ج 2، ص 86
امام محمد بن سعد متوفی 230 نے اس حدیث کو دو مختلف سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے اور یہ دونوں سندیں متصل ہیں -
طبقات کبری ج 4، ص 9-10، 10-11، مطبوعہ دارالکتب علمیہ بیروت، 1418 ھ،
طبقات کبری ج 13-14، 15، مطبوعہ دار صادر بیروت، 1388 ھ،
امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری نتوفی 405 ھ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عایشہ (رض) سے روایت ہے اور لکھا ہے کہ ے ہ حدیث امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو روایت نہیں کیا، حافظ ذہبی نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور اس پر کوئی جرح نہیں کی -
المستدرک ج 3، ڈ 324، مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ،
امام ابو نعیم الاصبہانی المتوفی 430 ھ نے بھی اس حدیث کو اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے،
دلائل انبوۃ ج 2، ص 476، رقم الحدیث :409، مطبوعہ دارالنفائس، بیروت،
حافظ ابوالقاسم علی بن الحسن المعروف بابن العساکر، المتوفی 571 ھ نے بھی اس کو روایت کیا ہے -
تہذیب تاریخ و مشق، ج 7، ص 233، مطبوعہ دار احیاء اتراث العربی، بیروت،
مختصر تاریخ ومشق، ج 11، ص 330-329،
علامہ ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبداللہ السہیلی المتوفی 571 ھ نے اس لا ذکر کیا ہے،
الروض الائف، ج 2، ص 93، مطبوہ ملتان،
امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی نے اس حدیث کو زہری اور ایک جماعت سے روات کیا ہے،
دلائل النبوۃ، ج 3، ص 143-142،
حافظ ابن کثیر، متوفی 774 ھ نے بھی اس کا از محمد بن اسحاق ازابی نجیح از عطا از ابن عباس ذکر کیا ہے اور یہ بھی سند متصل ہے
السیرۃ النبویہ، ج 3، ص 402، مطبوعہ دارالکتاب العربی، بیروت، 1417 ھ -
البدایہ والنہایہ، ج 3، ص 699، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1393 ھ،
تفسیر ابن کثیر، ج 3، ص 349، مطبوعہ ادارہ الاندلس بیروت 1375 ھ،
علامہ محمد بن یوسف شامی متوفی 942 ھ نے بھی اس کا اپنی سیرت میں ذکر کیا ہے سیل الھدیٰ والرشاد ج 4، ص 69،
نفسرین نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے، علامہ ابوالحسن بن محمد مادردی، متوفی 450 ھ نے اس کا ذکر کیا ہے،
النکت والعیون، ج 2، ص 334-333، موسسہ الکتب الثقافیہ، بیروت، امامالحسین بن مسعود الفراء البغوی، متوفی 516، نے اس حدیث کا ذکر کیا ہے، اس کے آخر میں ہے میں گواہی دیتا ہوں
کہ آپ سچے رسول ہیں، بے شک آپ

اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اس بات پر اللہ کے سوا اور کوئی نطلع نہیں تھا،
معالم التنزیل، ج 2، ص 220، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، 1414 ھ،
امام حاکم اور امام بیہقی کی روایت میں بھی یہی الفاظ میں،
علامہ جار اللہ محمود بن عمر زمحشری، متوفی 568 ھ نے اس کا ذکر کیا ہے،
الکشاف ج 2، ص 238، مطبوعہ ایران،
امام ابوالحسن علی بن احمد الواحدی 469 ھ نے کلبی کی روایت سے اس کا ذکر کیا ہے،
اسباب النزول، ص 245، رقم الحدیث 489، امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھنے اس کا ذکر کیا ہے،
تفسیر کبیر، ج 5، ص 513، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی،
بیروت 1415 ھ، علامہ ابوالفرج محمد بن علی جوزی متوفی 577 ھ نے اس کا ذکر کیا ہے،
زادالمسیر، ج 3، ص 383، مطبوعہ مکتب اسلانی بیروت، 1407 ھ،
علامہ ابوعبداللہ بن محمد قرطبی 668 ھ نے اس کا ذکر کیا ہے،
الجامع لا حکام القران جز 8، ص 409، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ،
علامہ عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی 685، نے اس کا ذکر کیا ہے،
انوارالتنزیل مع الکازرونی، ج 3 ص 123، مطبوعہ دارالفکربیروت،
علامہ علی بن محمد خازن متوفی 725 ھ نے اس کا ذکر کیا ھے، لباب التاویل، ج 2، ص 411، مطبوعہ پشاور،
علامہ نطام الدین حسین بن محمد قمی متوفی 728 ھ نے اس کا ذکر کیا ہے،
غرا ئب القرآن، ج 3، ص 421، دارالکتب العلمیہ، بیروت، 1416 ھ،
علامہ ابوالحیان محمد بن یوسف اندلسی متوفی 754 نے اس کا ذکر کیا ہے،
البحرالمحیط، ج 5، ص 355، مطبوعہ 1412 ھ، شیخ محمد بن علی شوکانی متوفی 1250 ھ نے اس کا ذکر کیا ہے،
فتح القدیر، ج 3 ص 421، مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت،
شیخ سلیمان بن عمرالمعروف بالجمل متوفی 1204 ھ نے اس کاذ کر کیا ہے،
المفتوحات الالھیہ، ج 2 ص 258، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کرا چی، علامہ سید محمودآلوسی نے اس کاذ کر کیا ہے، روح المعانی، ج 10، ص 37-36، مطبوعہ داراحیاءالتراث العربی، بیروت،
مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی 1396 ھ نے اس کا ذکر کیا ہے، معارف القرآن، ج 4 ص 290، مطبوعہ ادارت المعارف کراچی، 1397 ھ،
شیعہ مفسرین میں سے سید محمد حسین طباطبائ نے اس کا ذکر کیا ہے، المیزان، ج 9، ص 142، مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ، طہران، شیخ فضل بن حسن طبرسی متوفی اصاد قین، ج 4، ص 215، مطبوعہ ایران، غیر مقلدین میں سے نواب صدیق حسن خان بھوپالی نے بھی اس کا ذکر کیا ہے، فتح البیان، ج 5، ص 218۔ 217، مطبوعہ المکتبہ العصریہ، بیروت، 1412 ھ)(فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی کو دعاؤں میں یاد رکھیں جزاکم اللہ خیرا)
اس حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب کا ثبوت ہے، اور یہ علم غیب آپکو اللہ عزو جل کی عطا سے حاصل ہوا تھا۔ ہم نے اس کے ثبوت میں اسقدر حوالہ جات اس لیے ذکرکیے ہیں تا کے یہ ظاہر ہوجائے کہ ہر مکتب فکر کے قدیم اور جدید علما اسلام کے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علم ٖغیب مسلم اور غیرنزاعی ہے۔

مکمل تحریر >>