Pages

Sunday, 25 September 2016

دیوبندیوں اور وھابیوں کے اکابرین کےلیئے علم غیب حاصل مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کےلیئے شرک آخر یہ دھرا معیار کیوں ؟

دیوبندیوں اور وھابیوں کے اکابرین کےلیئے علم غیب حاصل مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کےلیئے شرک آخر یہ دھرا معیار کیوں ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دیوبندی، وہابی علماء نے اپنے اکابرین کے علم غیب کو ثابت کرنے کے لئے بھر پور کوشش کی ہے، اور انبیاء و اولیاء کے تعلق سے علم غیب کا انکار کیا ہے، جو انبیاء و اولیاء کو علم غیب مانے وہ مشرک ہے، یہ بات انتہائی ناقابل فہم ہے کہ ان ظالموں نے اپنے نبی برحق غیب داں پیغمبر صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کی ذات والا صفات کو تنقید و تنقیص کا ہدف بنایا جب کہ سچ تو یہ ہے کہ بغیر حبّ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم دین و اسلام کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا، آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کی ذات و صفات کو ہر عیب و نقص سے صاف و شفاف تسلیم کرنے والا ہی مومن ہوگا،
اے وہابیوں دیوبندیوں : تمہیں کیا ہو گیا ہے ؟
تم نے لکھنے سے پہلے اپنے دماغ کا علاج کیوں نہ کیا، گندے اور غلیظ لوگوں کے مراتب اور درجات اس قدر بڑھا دئیے اور وہاں ذات گرامی جو کائنات میں سب سے معظم اور محترم ہے، جس کے ذکر کو رب نے اپنا ذکر فرمایا، جس کی اطاعت کو اللہ تعالٰی نے اپنی اطاعت فرمائ جو شافع یوم النشور ہیں، مالک کل کائنات ہیں، تاجدارِ دو عالم ہیں، جب جب موذن صدائے توحید بلند کرے گا اللہ کی کبریائی کے ساتھ رسول کی رسالت کا ذکر ہوگا، ان کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کر کے رسول دشمنی مول لینے والو!!
کچھ تو سوچا ہوتا تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ ہی کیا ہوتا، کیا تم نے نہیں پڑھا کہ جنگ بدر میں آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم رات ہی میں چند جاں نثاروں کے ہمراہ میدان جنگ کا معائنہ کرنے کے بعد اپنی مبارک چھڑی سے زمین پر لکیر بناتے ہوئے ارشاد فرمایا، کہ یہاں فلاں کافر قتل ہوگا یہاں کافر قتل ہوگا، یہاں ابوجہل کی لاش تڑپے گی، یہاں عتبہ ہلاک ہوگا، یہاں شیبہ کو ہی اپنے خون میں نہانا ہوگا، چنانچہ ایسا ہی ہوا آپ نے جن جن جگہوں پر جس جس کافر کی قتل گاہ بتائ اس کافر کی لاش اسی جگہ پائی گئی_
ان میں سے کسی کافر نے بال برابر بھی تجاوز نہ کیا، رسول خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے مرنے والے کافر اور اس کی قتل گاہ سے میدان جنگ میں جو خبر دی، کیا وہابیوں کے پیشواؤں کو اس سے انکار ہے؟؟
اگر انکار نہیں ہے تو پھر علم مصطفٰے پر تنقیص و توہین کس لئے کیا جارہا ہے،

اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :

کرے مصطفٰی کی اہانتیں کھے بندوں اس پہ یہ جرائتیں
کہ میں کیا نہیں ہوں محمدی ارے ہاں نہیں ارے ہاں نہیں

بانی دیوبند جناب قاسم نانوتوی لکھتے ہیں کہ: ایک مرتبہ میں گنگوہ کی خانقاہ میں رکھے ہوئے بدھنا میں کنویں سے پانی بھر کر پیا تو پانی کڑوا پایا_ میں نے رشید احمد گنگوہی سے کہا تو انہوں نے کہا کہ کنویں کا پانی تو میٹھا ہے لیکن انہوں نے چکھا تو پانی کڑوا تھا بعد نماز ظہر سب نمازیوں سے اور خود نے کلمہ طیبہ پڑھا پھر دعا کی پھر پانی پیا تو پانی میٹھا تھا تب گنگوہی نے کہا کہ اس بدھنے کی مٹی اس قبر کی ہے جس پر عذاب ہورہا تھا، الحمدللہ کلمہ کی برکت سے عذاب رفع ہوگیا ۔ ( تذکرۃ الرشید جلد٢،صفحہ ٢٠٢)

حکیم الامت دیوبند تھانوی صاحب نے بحوالہ مولوی عبداللہ روایت کیا ہے کہ : ایک مولوی کے انتقال کی خبر آئی اس پر مولوی رشید احمد گنگوہی نے کہا کہ "مولوی" کا منہ قبلہ سے پھرا ہوا ہوگا جس کا جی چاہے قبر کھول کر دیکھ لے میں دیکھ رہا ہوں کہ منہ قبلہ سے پھر گیا ہے ۔ (حسن العزیز جلد٤،حصہ ٢،قسط١٠،صفحہ ١٦٤،)

قطب العالم دیوبند رشید احمد گنگوہی کا ایک واقعہ علامہ عاشق الٰہی میرٹھی نے اس طرح لکھا ہے کہ : منشی نثار علی اور گوہر خاں ملازم پلٹن 65،رخصت لیکر با ارادہ بیعت لکھنؤ سے گنگوہ روانہ ہونے کو تیار ہوئے دروازہ پر سواری تک آ کھڑی ہوئی اتفاق سے کسی حاکم کی آمد کا تار آیا اور عین وقت پر ان کو افسر کے حکم سے رکنا پڑا اس دن کے بعد فارغ ہو کر گنگوہ پہنچے تو حضرت(رشید احمد) نے صاف ارشاد فرمایا کہ تم دونوں صاحب فلاں دن روانہ ہونا چاہتے تھے مگر روک لیے گئے تھے اور جب کھانا دستر خوان پر آیا تو فرمانے لگے آپ کے ساتھ دو ٹٹو بھی تو ہیں آخر وہ بھی میرے مہمان ہیں اول انہیں گھاس دانہ پہنچانا چاہئے حالانکہ دونوں کے ٹٹو پر سوار ہو کر آنے کی اطلاع آپ کو کسی آدمی نے نہیں دی تھے ۔ (تذکرہ الرشید جلد ٢،صف٢٢٤)

مکمل تحریر >>

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کو کب سے معلوم تھا کہ میں اللہ کا نبی ہوں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کو کب سے معلوم تھا کہ میں اللہ کا نبی ہوں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول (جب کہ آپ جھولے میں اور شیر خوار تھے) قرآن مجید نے نقل فرمایا،
“اٰتٰنی الکتاب وجعلنی نبیا”
“اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے نبی بنایا”
لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نبی پیدائشی نبی ہوتے ہیں البتہ وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے سبب اس کا اعلان و اظہار بعد میں کرتے ہیں.
بلاتشبیہہ و تمثیل پاکستان ایٹمی طاقت بہت پہلے بن چکا تھا مگر اس کا اعلان اس نے بہت بعد میں کیا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب اس نے اعلان کیا ہے تو اسی وقت سے وہ ایٹمی طاقت کا مالک ہے.
اس بارے میں امام ترمذی علیہ الرحمہ نے صحیح سند سے درج ذیل حدیث روایت کی ہے.
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا.

متٰی وجبت لک النبوۃ؟

یا رسول اﷲﷺ آپ کے لئے نبوت کب ثابت ہوئی؟
رحمت عالم نور مجسمﷺ نے ارشاد فرمایا:
“واٰدم بین الروح والجسد”

’’اس وقت جبکہ آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے‘‘
(ترمذی، مسند احمد، مستدرک للحاکم)

اسی لئے حضرت آدم علیہ السلام نے عرش پر آپ کا نام یوں لکھا دیکھا
محمد رسول اﷲ
محمدﷺ اﷲ کے رسول ہیں.
لہذا ضروری ہے کہ رسول کریمﷺ کی اس خصوصیت کو ثابت اور محقق مانا جائے اسی بناء پر حضورﷺ نے اپنی اُمّت کو اس خصوصیت سے آگاہ فرمادیا تاکہ اُمّت کو آپ کے اس مرتبہ کی معرفت حاصل ہو جو اﷲ کے نزدیک آپ کو حاصل ہے پھر انہیں اس معرفت کے ذریعے بھلائی ملے‘‘ (الخصائص الکبریٰ)
امام بخاری و امام مسلم کے استاذ الاستاذ اور امام احمد بن حنبل کے استاذ امام عبدالرزاق رحمہم اﷲ نے اپنی کتاب المصنف میں اس حدیث کو صحیح سند سے روایت کیا.
حضرت جابر رضی اﷲ عنہ نے بارگاہ نبوی میں عرض کی.
یا رسول اﷲﷺ اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے کسے پیدا فرمایا؟
نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’اے جابر! اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے تیرے نبی کے نور کو اپنے نور (کے فیض) سے پیدا فرمایا پھر وہ نور جہاں خدا نے چاہا سیر کرتا رہا.
اس وقت نہ لوح تھی، نہ قلم نہ جنت نہ دوزخ، نہ فرشتے نہ آسمان نہ زمین، نہ سورج نہ چاند، نہ جن نہ انسان…(مصنف عبد الرزاق ، نشرالطیب تھانوی ، مواھب الدنیہ وغیرہ )

مکمل تحریر >>

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کب سے نبی ہیں اور آپ کو اپنی نبوت کا علم تھا

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کب سے نبی ہیں اور آپ کو اپنی نبوت کا علم  تھا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
عَنْ عُمَرَ رضي اﷲ عنه قاَلَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، مَتَی جُعِلْتَ نَبِيًّا؟ قَالَ : وَآدَمُ مُنْجَدِلٌ فِي الطِّيْنِ. رَوَاهُ أَبُوْ نُعَيْمٍ کَمَا ذَکَرَ السَّيُوْطِيُّ وَابْنُ کَثِيْرٍ.

ایک اور روایت میں حضرت عمر رضي اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ کو کب نبی بنایا گیا؟ آپ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (میں اس وقت بھی نبی تھا) جب حضرت آدم عليہ السلام (کا جسم ابھی) مٹی میں گندھا ہوا تھا۔

امام سیوطی اور ابن کثير نے فرمایا کہ اسے امام ابونعيم نے روایت کیا ہے۔

عَنْ عَامِرٍ رضي اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم : مَتَی اسْتُنْبِئْتَ؟ فَقَالَ : وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ حِيْنَ أُخِذَ مِنِّيَ الْمِيْثَاقُ.

رَوَاهُ ابْنُ سَعْدٍ.

اور ایک روایت میں حضرت عامر رضي اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضور نبی اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا : (یا رسول اللہ!) آپ کب شرفِ نبوت سے سرفراز کیے گئے؟ آپ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب مجھ سے میثاقِ نبوت لیا گیا تھا اس وقت حضرت آدم عليہ السلام روح اور جسم کے درمیانی مرحلہ میں تھے۔

اسے امام ابن سعد نے روایت کیا ہے۔

عَنْ أَبِي مَرْيَمَ (سَنَانَ)، قَالَ : أَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ حَتَّی أَتَی رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَهُوَ قَاعِدٌ وَعِنْدَهُ خَلْقٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ : أَلاَ تُعْطِيْنِي شَيْئًا أَتَعَلَّمُهُ وَأَحْمِلُهُ وَيَنْفَعُنِي وَلَا يَضُرُّکَ؟ فَقَالَ النَّاسُ : مَهْ، اِجْلِسْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : دَعَوْهُ، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ الرَّجُلُ لِيَعْلَمَ، قَالَ : فَأَفْرَجُوْا لَهُ، حَتَّی جَلَسَ، قَالَ : أَيُّ شَيئٍ کَانَ أَوَّلَ أَمْرِ نُبُوَّتِکَ؟ قَالَ : أَخَذَ اﷲُ مِنِّي الْمِيْثَاقَ، کَمَا أَخَذَ مِنَ النَّبِيِّيْنَ مِيْثَاقَهُمْ. ثُمَّ تَلاَ : {وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّيْنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْکَ وَمِنْ نُوْحٍ وَإِبْرَاهِيْمَ وَمُوْسَی وَعِيْسَی بْنِ مَرْيَمَ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيْثَاقًا غَلِيْظًا} الأحزاب، 33 : 7 وَبَشَّرَ بِيَ الْمَسِيْحُ بْنُ مَرْيَمَ، وَرَأَتْ أُمُّ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فِي مَنَامِهَا أَنَّهُ خَرَجَ مِنْ بَيْنَ رِجْلَيْهَا سِرَاجٌ أَضَاءَ تْ لَهُ قُصُوْرُ الشَّامِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالشَّيْبَانِيُّ.

طبراني في المعجم الکبير، 22 / 333، الرقم : 835، وفي مسند الشاميين، 2 / 98، الرقم : 984، والشيباني في الأحاد والمثاني، 4 / 397، الرقم : 2446، والسيوطي في الخصائص الکبری، 1 / 8، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 224، وابن کثير في البداية والنهاية، 2 / 323.

حضرت ابو مریم (سنان) رضي اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ کے پاس بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ تو اس نے عرض کیا : (یا رسول اﷲ!) کیا آپ مجھے کوئی ایسی شے نہیں دیں گے کہ میں جس سے سیکھوں اور اسے سنبھالے رکھوں اور جو مجھے فائدہ پہنچائے اور آپ کو کوئی نقصان نہ دے؟ تو لوگوں نے کہا : رک جاؤ، بیٹھ جاؤ، تو حضور نبی اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اسے چھوڑ دو، بے شک جب کوئی شخص کسی شے کے بارے میں سوال کرتا ہے تو اس لئے کرتا ہے کہ اسے اس شے کا علم ہو جائے، فرمایا : اس کے لئے (بیٹھنے کی) جگہ بناؤ، یہاں تک کہ وہ بیٹھ گیا۔ اس نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ کی علاماتِ نبوت میں سے پہلی چیز کیا تھی؟ آپ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھ سے میثاق (عہد) لیا جیسا کہ دیگر انبیاء کرام عليہم السلام سے ان کا میثاق لیا۔ پھر آپ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ پڑھی : ’’ اور (اے حبیب! یاد کیجئے) جب ہم نے انبیاء سے اُن (کی تبلیغِ رسالت) کا عہد لیا اور (خصوصاً) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور عیسی بن مریم (عليہ السلام ) سے اور ہم نے اُن سے نہایت پختہ عہد لیا۔‘‘ اور عیسیٰ بن مریم عليہ السلام نے میری بشارت دی اور رسول اللہ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کی والدہ محترمہ نے اپنے خواب میں دیکھا (کہ آپ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کے وقت) اُن کے بدن اطہر سے ایک ایسا چراغ روشن ہوا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔

اسے امام طبرانی اور شیبانی نے روایت کیا ہے۔

عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ رضي اﷲ عنه قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : إِنِّي عَبْدُ اﷲِ فِي أُمِّ الْکِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ، وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِيْنَتِهِ وَسَأُنَبِّئُکُمْ بِتَأْوِيْلِ ذَلِکَ، دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيْمَ، وَبِشَارَةُ عِيْسَی قَوْمَهُ، وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا نُوْرٌ أَضَاءَ تْ لَهُ قُصُوْرُ الشَّامِ، وَکَذَلِکَ تَرَی أُمَّهَاتُ النَّبِيِّيْنَ صلوات اﷲ عليهم أجمعين.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ.
وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

أحمد بن حنبل فی المسند، 4 / 127.128، الرقم : 17190، 17203، والحاکم في المستدرک، 2 / 656، الرقم : 4175، وأبونعيم في حلية الأولياء، 6 / 90، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 1 / 168، والطبری في جامع البيان، 28 / 87، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 185، 4 / 361، والسيوطي في الخصائص الکبری، 1 / 7، وفي الدر المنثور، 1 / 334.

حضرت عرباض بن ساریہ سلمی رضي اﷲ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : بے شک میں اللہ تعالیٰ کے ہاں، لوحِ محفوظ میں ہی خاتم الانبیاء ہوں، درآں حالیکہ حضرت آدم عليہ السلام اس وقت مٹی میں گندھے ہوئے تھے اور میں عنقریب تمھیں اس کی تاویل بتاؤں گا، میں اپنے والد حضرت ابراہیم عليہ السلام کی دعا، حضرت عیسیٰ عليہ السلام کی اپنی قوم کو دی گئی بشارت اور اپنی والدہ ماجدہ کا وہ خواب ہوں جس میں انہوں نے دیکھا کہ ان کے بدن سے ایک ایسا نور نکلا ہے جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے اور اسی طرح انبیائے کرام کی مائیں (مبارک خواب) دیکھا کرتی ہیں۔

اس حديث کو امام احمد اور حاکم نے روایت کیا ہے اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حديث صحيح الاسناد ہے۔

عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رضي اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنِّي عِنْدَ اﷲِ فِي أُمِّ الْکِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ، وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِيْنَتِهِ، وَسَأُحَدِّثُکُمْ تَأْوِيْلَ ذَلِکَ : دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيْمَ، دَعَا : {وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِنْهُمْ} ]البقرة، 2 : 129[، وَبِشَارَةُ عِيْسَی بْنِ مَرْيَمَ قَوْلُهُ : {وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ يَأْتِي مِنْم بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ}، الصف، 61 : 6. وَرُؤْيَا أُمِّي رَأَتْ فِي مَنَامِهَا أَنَّهَا وَضَعَتْ نُوْرًا أَضَاءَ تْ مِنْهُ قُصُوْرُ الشَّامِ.

رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالطَّبَرَانِيَُّ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ وَالْحَاکِمُ وَابْنُ سَعْدٍ.

ابن حبان فی الصحيح، 14 / 312، الرقم : 6404، والطبرانی في المعجم الکبير، 18 / 253، الرقم : 631، وأبو نعيم في حلية الأولياء، 6 / 40، وفي دلائل النبوة، 1 / 17، والحاکم في المستدرک، 2 / 656، الرقم : 4174، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 149، والعسقلاني في فتح الباري، 6 / 583، والطبري في جامع البيان، 6 / 583، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1 / 185، وفي البداية والنهاية، 2 / 321، والهيثمي في موارد الظمآن، 1 / 512، الرقم : 2093، وفي مجمع الزوائد، 8 / 223، وقال : واحد أسانيد أحمد رجاله رجال الصحيح غير سعيد بن سويد وقد وثّقه ابن حبان.

حضرت عرباض بن ساریہ رضي اﷲ عنہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک میں اللہ تعالیٰ کے ہاں لوحِ محفوظ میں اس وقت بھی خاتم الانبیاء تھا جبکہ حضرت آدم عليہ السلام ابھی اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔ میں تمہیں ان کی تاویل بتاتا ہوں کہ جب میرے جدِ امجد حضرت ابراہیم عليہ السلام نے دعا کی : ’’اے ہمارے رب! ان میں، انہی میں سے (وہ آخری اور برگزیدہ) رسول ( صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم ) مبعوث فرما۔‘‘ اور حضرت عیسی بن مریم عليہ السلام کی بشارت کے بارے میں بھی جبکہ انہوں نے کہا : ’’اور اُس رسولِ (معظم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم ) کی (آمد آمد کی) بشارت سنانے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لا رہے ہیں جن کا نام (آسمانوں میں اس وقت) احمد ( صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم ) ہے۔‘‘ اور میری والدہ محترمہ کے خواب کے بارے میں جبکہ انھوں نے میری ولادت کے وقت دیکھا کہ انہوں نے ایک ایسے نور کو جنم دیا جس سے شام کے محلات بھی روشن ہو گئے۔

مکمل تحریر >>

Saturday, 24 September 2016

نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مسلمانوں کی وحدت واجتماعیت کو ایک عمارت کی مانند قرار دیا۔

نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مسلمانوں کی وحدت واجتماعیت کو ایک عمارت کی مانند قرار دیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِى بُرْدَةَ عَنْ أَبِى مُوسَى- رضى الله عنه - عَنِ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا . وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ
البخاري المظالم والغصب 2314
رسول کریم کا ارشاد ہےکہ “مسلمان مسلمان کےلئے دیوار کی طرح ہیں کہ اس کا بعض سے بعض مضبوط ہوتا ہےاور اپنی انگلیوں کو گتھا دیا
دیکھو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا اچھی طرح سمجھا تے ہیں ہم کو متحد رہنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ گھر کی تعمیر کے لئے ایک اینٹ کا دوسری اینٹ سے ملکر رہنا ۔ ہم اپنی عبادت بھی اجتماعی کرتے ہیں جیساپانچ وقت نماز، عیدین کی نماز جمعہ کی نماز اور حج اور خوشی بھی ملکر مناتے ہیں جیسے شادی،عیدین وغیرہ۔جب ہم آپس میں ملاقات کریگے تو اخلاص بڑھے گا اور باہم محبت قائم ہوگی اور ایک دوسرے کے خیر خواہ رہنگے ۔

مکمل تحریر >>

ملت اسلامیہ کی بنیاد

جو شخص مسلمان ہو کر یہ کہتا ہے کہ ملت اسلامیہ کی بنیاد وطن ہے یا مسلمان غیرمسلموں کے ساتھ مل کر متحدہ قومیت بنا سکتے ہیں یا کافر اور مسلم دونوں مل کر ایک قوم بن سکتے ہیں وہ سرکار دو عالم صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات سے بلا شبہ بےخبر ہے .

اے مسلمان! تو وطنیت کا جدید نظریہ اختیار مت کر جس کی رو سے قومیت کی بنیاد وطن ہے، بلکہ سرکار دو عالم صلی الله علیہ وسلم کی تعلیم کو حزر جاں بنا اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی تعلیم یہ ہے کہ مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد وطن نہیں ہے بلکہ کلمہ توحید ہے یعنی ساری دنیا کے مسلمان ملت واحدہ ہیں اور اس لئے وہ کسی غیر مسلم قوم کے ساتھ مل کر متحدہ قومیت نہیں بنا سکتے.

اے مسلمان! اگر حضور صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات سے استفادہ نہ کر سکا یا ان کی روح سے آگاہ نہ ہو سکا تو پھر تیرا علم و فضل سب بیکار ہے بلکہ وہ تیری گمراہی کا باعث ہو جائے گا.

مکمل تحریر >>

احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم براۓ غزوہ ہند

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ وَعَدْنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم غَزْوَةُ الْهِنْدِ فَاِنْ اَدْرَکْتُهَا أَنْفِقُ فِيْهَا نَفْسِي وَمَالِي فَاِنْ اُقْتَلُ کُنْتُ مِنْ أَفْضَلِ الشُّهَدَآءِ وَاِنْ أَرْجِعُ فَأَنَا اَبُوْهُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا کہ مسلمان ہندوستان میں جہاد کریں گے، اگر وہ جہاد میری موجودگی میں ہوا تو میں اپنی جان اور مال اﷲ تعالیٰ کی راہ میں قربان کروں گا۔ اگر میں شہید ہو جاؤں تو میں سب سے افضل ترین شہداء میں سے ہوں گا۔ اگر میں زندہ رہا تو میں وہ ابو ہرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ہوں گا جو عذاب جہنم سے آزاد کر دیا گیا ہے‘‘۔

نسائي، السنن، 3: 28، رقم: 4382، دار الکتب العلمية بيروت
بيهقي، السنن الکبری، 9: 176، رقم: 18380، مکتبة دار الباز مکة المکرمة

عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلیٰ الله عليه وآله وسلم قَالَ عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَحْرَزَهُمَا اﷲُ مِنْ النَّارِ عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ وَعِصَابَةٌ تَکُونُ مَعَ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام.

’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ جو کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام تھے، سے روایت ہے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے دو گروہوں کو اﷲ تعالیٰ دوزخ کے عذاب سے بچائے گا ان میں سے ایک ہندوستان میں جہاد کرے گا اور دوسرا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوگا‘‘۔

احمد بن حنبل، المسند، 5: 278، رقم: 22449
نسائي، السنن، 3: 28، رقم: 4384
بيهقي، السنن الکبری، 9: 176، رقم: 18381
طبراني، المعجم الاوسط، 7: 2423، رقم: 6741، دار الحرمين القاهرة

مسند اسحاق بن راہویہ کی حدیث یہ ہے:

أخبرنا يحيى بن يحيى أنا إسماعيل بن عياش عن صفوان بن عمرو السكسكي عن شيخ عن أبي هريرة رضي الله عنه قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما الهند فقال ليغزون جيش لكم الهند فيفتح الله عليهم حتى يأتوا بملوك السند مغلغلين في السلاسل فيغفر الله لهم ذنوبهم فينصرفون حين ينصرفون فيجدون المسيح بن مريم بالشام قال أبو هريرة رضي الله عنه فإن أنا أدركت تلك الغزوة بعت كل طارد وتالد لي وغزوتها فإذا فتح الله علينا انصرفنا فأنا أبو هريرة المحرر يقدم الشام فيلقى المسيح بن مريم فلأحرصن أن أدنوا منه (مسند اسحاق بن راہویہ نمبر 462)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہندوستان کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ ایک لشکر ہندوستان میں جہاد کرے گا اور اللہ انہیں فتح عطا فرمائے گا یہاں تک کہ ، سندھ کے بادشاہوں کو وہ زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے۔ اللہ ان کے گناہ معاف فرما دے گا، پھر وہ پلٹیں گے تو شام میں حضرت عیسی علیہ السلام کو پائیں گے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر میں اس وقت ہوا تو اپنا سب کچھ بیچ کر اس میں شریک ہوں گا۔ اگر اللہ نے ہمیں فتح دی اور ہم واپس آئے تو میں آزاد ابوہریرہ ہو کر شام آؤں گا۔ میں سب سے زیادہ خواہش مند ہوں کہ وہاں حضرت عیسی بن مریم علیہ الصلوۃ والسلام سے ملوں ۔

مکمل تحریر >>

دہشت گردوں کی طرف سے لفظِ جہاد کا غلط اِطلاق اور مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی آیاتِ جہاد کا درست مفہوم

دہشت گردوں کی طرف سے لفظِ جہاد کا غلط اِطلاق اور مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی آیاتِ جہاد کا درست مفہوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اِنتہا پسندوں اور دہشت گردوں نے قرآن و حدیث کے بعض اَلفاظ اور اِصطلاحات کو غلط طور پر اپنا رکھا ہے۔ وہ قرآن کریم کی چند آیات اور بعض اَحادیث مبارکہ کو ان کے شانِ نزول اور واقعاتی اور تاریخی سیاق و سباق سے کاٹ کر اِنتہا پسندانہ اور دہشت گردانہ تشریح و تعبیر کا جامہ پہنا دیتے ہیں۔ یہ لوگ جہالت اور خود غرضی کے پیشِ نظر جہاد، شہادت، خلافت، دارالحرب اور دارالاسلام جیسی اِصطلاحات کو بے محل اِستعمال کرکے عام مسلمانوں اور خصوصاً نوجوانوں (Muslim youth) کو گمراہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ قرآن و حدیث میں ہے۔ حالانکہ انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی طرف سے یہ اِسلام پر بہت بڑا اِلزام ہے۔ اُن کے اِس خطرناک نظریے کا قرآن، حدیث اور اِسلام کی بنیادی تعلیمات کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں کئی مذہبی سیاسی جماعتوں کا یہ مزاج بن چکا ہے کہ وہ اپنے خاص سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اِسلام، دین، جہاد، شہادت، یا اِسلامی نظام، نظامِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور نظامِ شریعت جیسی اِصطلاحات بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور سادہ لوح مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلتے ہیں۔ ان مذہبی سیاسی جماعتوں کے پاس عوام کو متاثر کرنے کے لیے کوئی باقاعدہ پروگرام نہیں ہوتا۔ لہٰذا وہ قرآن، حدیث، اِسلام اور شریعت جیسی اِصطلاحات اِستعمال کرکے عوام کے جذبات کو مشتعل کرتے ہیں اور اپنے خود ساختہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذیل میں ہم اِسی اِلتباس و اِبہام کو دور کرنے کے لیے مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی آیاتِ جہاد کے تحت جہاد کے صحیح معنی و مفہوم کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔

6۔ مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی آیاتِ جہاد کا درست مفہوم

جہاد کے اِس جامع اور وسیع مفہوم کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ قرآنِ حکیم میں جہاد کا حکم سب سے پہلے شہرِ مکہ میں اُس وقت نازل ہوا جب کہ ابھی جہاد بالسیف کی اجازت بھی نہیں ملی تھی۔ صحابہ کرام پر جبر و تشدد کے پہاڑ ڈھائے جاتے مگر انہیں اپنے ذاتی دفاع کے لیے بھی ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ اُنہیں اُس وقت تک صبر کرنے کی تلقین کی گئی جب تک اﷲ تعالیٰ نے اُن کے لیے ہجرت کی صورت میں نجات کی سبیل پیدا نہ فرما دی۔ دفاعی جنگ کی ممانعت کے لیے بھی مکہ معظمہ میں ستّر (70) آیات نازل ہوئیں۔ اس کے باوجود جہاد کے متعلق پانچ آیات مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں۔

امام رازی (م604ھ) سورۃ الحج کی آیت نمبر 39 - {اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰـتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا} - کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں:

وَهِيَ أَوَّلُ آيَةٍ أُذِنَ فِيهَا بِالْقِتَالِ بَعْدَ مَا نُهِيَ عَنْهُ فِي نَيِّفٍ وَسَبْعِيْنَ آيَةً.

رازی، التفسير الکبير، 23 : 35

اَمرِ قتال کے اِمتناع میں ستّر (70) سے زائد آیات کے نزول کے بعد یہ پہلی آیت تھی جس میں قتال کی اِجازت دی گئی۔

وہ لوگ جنہیں اِس بارے میں فکری واضحیت نہیں اور وہ ذہنی اُلجھن کا شکارہیں - مسلمان ہوں یا غیر مسلم، مغربی دنیا کے رہنے والے ہوں یا مشرقی ممالک کے - ان سب کو سمجھ لینا چاہیے کہ اگر جہاد کا معنی قتال اور مسلح تصادم (armed conflict) ہی ہوتا تو مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی درج ذیل آیات کی کیا توجیہ ہوگی جن میں صراحتاً ’جہاد‘ کا حکم دیا گیا ہے؟ یہ آیات ہجرت سے پہلے مکی دور میں نازل ہوئیں جب اپنے دفاع میں بھی ہتھیار اٹھانے کی سختی سے ممانعت تھی اور کسی لڑائی یا مزاحمت کی اِجازت بھی نہ تھی اور نہ اُس دور میں مسلمانوں نے عملاً کوئی جنگ لڑی۔ اگر جہاد کا معنی لڑنا ہی ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یقیناً ہتھیار اٹھاتے اور اپنی حفاظت اور دفاع میں کفار و مشرکینِ مکہ کے خلاف جنگ کرتے۔ لیکن ان میں سے کسی کو اس کی اجازت نہ تھی جب کہ جہاد کے لیے پانچ آیات بھی نازل ہو چکی تھیں۔

اس کا درست جواب یہ ہے کہ قرآن کی رُو سے جہاد کے لیے مسلح تصادم اور کشمکش کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر ہر حکمِ جہاد کے لیے مسلح تصادم ناگزیر ہوتا تو مکہ میں لفظ جہاد پر مشتمل پانچ آیات کے نزول کے بعد ذاتی دفاع کے لیے مسلح جنگ کی اِجازت مل چکی ہوتی حالانکہ ایسا نہیں ہوا تھا۔ اِس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لفظ جہاد کے مسلح لڑائی کے علاوہ کئی اور معانی و مفاہیم بھی ہیں جو کہ مکہ میں نازل ہونے والی درج ذیل آیات سے مستنبط ہوتے ہیں:

1. فَـلَا تُطِعِ الْکٰفِرِيْنَ وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا کَبِيْرًاo

الفرقان، 25 : 52

پس (اے مردِ مومن!) تو کافروں کا کہنا نہ مان اور تو اس (قرآن کی دعوت اور دلائل) کے ذریعے ان کے ساتھ بڑا جہاد کر (یعنی علمی طور پر انہیں توحید پر قائل کر)o

اِس آیت میں بڑے جہاد سے مراد علم و فکر اور فروغِ شعور کی جد و جہد (Jihad for promotion of knowledge and awareness) ہے۔

2. وَمَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِط اِنَّ اﷲَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰـلَمِيْنَo

العنکبوت، 29 : 6

جو شخص (راہِ حق میں) جدوجہد کرتا ہے وہ اپنے ہی (نفع کے) لیے تگ و دو کرتا ہے، بے شک اللہ تمام جہانوں (کی طاعتوں، کوششوں اور مجاہدوں) سے بے نیاز ہےo

یہاں پر جہاد سے مراد اَخلاقی اور روحانی ترقی (Moral and spiritul uplift) کے لیے جد و جہد ہے۔

3. وَاِنْ جَاهَدٰکَ لِتُشْرِکَ بِيْ مَا لَيْسَ لَکَ بِهِ عِلْمٌ فَـلَا تُطِعْهُمَا.

العنکبوت، 29 : 8

اور اگر وہ تجھ پر (یہ) کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کی اِطاعت مت کر۔

سورۃ العنکبوت کی اس آیت میں جہاد سے مراد کسی بھی قسم کی علمی، فکری، نظریاتی یا اعتقادی کوشش (intellectual or idealogical effort) ہے۔

4. وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَاط وَاِنَّ اﷲَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَo

العنکبوت، 29 : 69

اور جو لوگ ہمارے حق میں جہاد (یعنی مجاہدہ) کرتے ہیں تو ہم یقینا انہیںاپنی (طرف سَیر اور وصول کی) راہیں دکھا دیتے ہیں، اور بے شک اﷲ صاحبانِ اِحسان کو اپنی معیّت سے نوازتا ہےo

مکہ میں نازل ہونے والی اِس آیت مبارکہ میں اپنی زندگی میں اَخلاقی، روحانی اور اِنسانی اَقدار کو زندہ کرنے اور اُنہیں مزید ترقی و اِستحکام دینے کی جد و جہد کو جہاد کا نام دیا گیا ہے۔

5. وَاِنْ جَاهَدٰکَ عَلٰی اَنْ تُشْرِکَ بِيْ مَا لَيْسَ لَکَ بِهِ عِلْمٌلا فَـلَا تُطِعْهُمَا.

لقمان، 31 : 15

اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کی کوشش کریں (یعنی تیرا ذہن بدلنے کی کاوش کریں) کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس (کی حقیقت) کا تجھے کچھ علم نہیں ہے تو اُن کی اِطاعت نہ کرنا۔

اِس آیت مقدسہ میں بھی علمی، ذہنی، فکری اور اِعتقادی سطح پر کی جانے والی کوشش کو ’جہاد‘ کے نام سے بیان کیا گیا ہے۔

مذکورہ بالا پانچوں آیات - جن میں واضح طور پر جہاد کا ذکر یا حکم آیا ہے - ہجرت سے قبل مکہ معظمہ میں نازل ہوئیں، جبکہ دفاعی قتال کا حکم ہجرتِ مدینہ کے بعد نازل ہوا تھا۔ مکی دور میں اس کی اجازت ہی نہیں تھی۔ مکہ معظمہ میں حکمِ جہاد کے باوجود صحابہ رضی اللہ عنہم کو اپنے دفاع میں بھی اسلحہ اٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ اگر جہاد کا معنی مسلح جنگ یا آہنی اسلحہ کے ساتھ قتال ہی ہوتا تو مذکورہ آیات کے نزول کے بعد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاد بالسیف کا حکم فرما دیتے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مکہ میں ہی جہاد بالسیف شروع کردیتے۔ حالانکہ اِس اَمر پر سب کا اتفاق ہے کہ جہاد بالقتال کی اِجازت ہجرت کے بعد مدینہ میں ملی۔ کیوں؟ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ جہاد کا معنی قتال، جنگ یا لڑائی ہے ہی نہیں۔ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ انتہا پسندوں اور دہشت گردوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے قرآن و حدیث کے بعض الفاظ اور اِصطلاحات کو غلط معنی دے رکھا ہے۔ وہ قتل و غارت گری، دہشت گردی اور عسکریت پسندی کو ناجائز طور پر جہاد کا نام دیتے ہیں۔

مکمل تحریر >>