Pages

Monday, 1 May 2023

جناب احمد رضا خاں صاحب پر اعترضات



جناب احمد رضا خاں صاحب پر اعترضات

دیوبندی کو کہا جائے کہ بریلوی علماء کی خوبیوں اسطرح بیان کرو جیسے تم دیوبندی علماء کی کرتے ہو اور بریلوی علماء کو کہا جائے کہ دیوبندی علماء کی کچھ خوبیاں بیان کرو تو ہر گز نہیں کریں گے۔ البتہ اس پوسٹ کے کمنٹ سیکشن میں اہلسنت عالم جناب احمد رضا خاں صاحب اور اشرف علی تھانوی کی خوبیان جو ان کے اپنے اپنے علماء نے لکھیں اس کا لنک موجود ہے۔

دیوبندی اور بریلوی علماء کا اصولی اختلاف دیوبندی علماء کی چار کفریہ عبارتوں کا ہے جس پر فتاوی موجود ہیں اور دیوبندی خود ان عبارتوں کا دفاع بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ عبارتیں کفر یہ نہیں ہیں اور بریلوی پر دیوبندی جب یہ الزام لگاتے ہیں تو وہ اس کا دفاع کرتے ہی نہیں تو فتوی بنتا ہی نہیں بلکہ الزام لگانے والے گناہ گار ہیں۔

1۔ جناب احمد رضا خان کا استاد مرزا غلام قادر بیگ تھا جو مرزا قادیانی کا بھائی تھا۔
جواب: ہم نام ضرور تھا مگر قادیانی کا بھائی تھانیدار تھا جو1300ھ میں مر گیا اور ان کے استاد کی وفات 1314ھ میں ہوئی۔ البتہ حسام الحرمین میں سب سے پہلے قاد یانی مر تد قرار پائے، بریلوی فاضل نے قاد یا نیوں کے خلاف ”قاد یانی مر تد پر قہر خداوندی (فتاوی رضویہ جلد 15 صفحہ 595) اور دوسرا رسالہ ”قاد یانی مر تد پر اللہ تعالی کی شمشیر براں (جلد15صفحہ 611) لکھا۔

2۔ احمد رضا ابن نقی علی ابن رضا علی ابن کاظم علی، اسلئے جناب احمد رضا خاں اہلتشیع تھے۔

جواب: اہلبیت کی محبت کی وجہ سے یہ نام تھے ورنہ مسلمانوں کے نام ایسے رکھنا منع نہیں۔ البتہ جناب احمد رضا خاں صاحب نے تبرائی رافضیوں کا رد بلیغ (جلد14صفحہ 249) لکھ کر انہیں غیر مسلم کہا۔

 3۔ جناب احمد رضا خاں صاحب نے ہندوستان کو دارالسلام قرار دیا جبکہ وہ دارالحرب ہے۔ اسلئے وہ انگریزوں کے ساتھ تھا اور جہ ا د کا مُنکر تھا۔

جواب: کرامت علی جونپوری، نواب صدیق حسن، محمد حسین بٹالوی، نذیر حسین، نذیر احمد تھانوی ان سب کی کتابوں میں ہے کہ ہندوستان دارالحرب نہیں۔ قاسم نانوتوی اور اشرف علی تھانوی صاحبان بھی ہندوستان کودارالسلام کہتے تھے۔

4۔ احمد رضا خاں صاحب نے حدائق بخشش میں سیدہ عائشہ کی توہین کی ہے۔

جواب: جناب احمد رضا خاں صاحب کا وصال 1921ھ میں ہوا اور اس وقت تک حدائق بخشش کے دو حصے شائع ہوئے تھے۔ اپ کے وصال کے بعد آپ کا کلام جناب محبوب علی صاحب نے حدائق بخشش حصہ سوم کے نام سے چھاپ دیا۔ پریس میں ایک رافضی تھا اس نے وہ اشعار اُم ذرع مشرکہ عورتوں کے بارے میں تھے وہ اشعار ام المومنین کے نام پر شائع کر دئے تاکہ بدنام کیا جا سکے۔ اس کی نشاندہی علامہ مشتاق احمد نظامی نے کی تو محبوب علی صاحب نے 9 ذی قعد 1374ھ بمبئی کے ہفتہ وار اخبار میں اعلانیہ توبہ شائع کی۔ اسلئے یہ الزام جناب احمد رضا خاں صاحب پر نہیں لگتا۔

5۔ احمد رضا کا رضا خانی مذہب ہے، اس نے ایک نیا فرقہ بنایا ہے۔

جواب: دیوبندی اور بریلوی دونوں ملک حجاز کے چار مصلے والے اہلسنت ہیں، دیوبندی اور بریلوی دونوں کو سعودی عرب کے وہابی علماء نے بدعتی و مُشرک کہا۔ دیوبندی علماء نے ”المہند اور شہاب ثاقب“ میں سعودی عرب کے وہابی علماء کو خارجی لکھا ہے۔ رضا خانی کا پراپیگنڈہ دیوبندی عالم سعید احمد نے کیا جو بعد میں بریلوی اہلسنت ہو گیا مگردیوبندی عوام اب تک پراپیگنڈہ کیوں کر رہی ہے۔

6۔ بریلویوں کی کتاب تجانب اہلسنت، نغمہ روح، باغ فردوس میں گستاخی ہے۔

جواب:بریلوی علماء کہتے ہیں کہ یہ کتابیں ہمارے عقائد کی نہیں۔ ہم اُس پر فتوی لگا دیتے ہیں۔ البتہ تم حفظ الایمان، تحذیر الناس، براہین قاطعیہ، فتاوی رشیدیہ کی کفر یہ عبارتوں کو تو کفر یہ مانو۔

7۔ بریلوی کلمے لا الہ الا اللہ چشتی رسول اللہ یا شبلی رسول اللہ

جواب: فوائد فریدیہ اور تذکرہ غوثیہ جیسی کتابیں پڑھنا جائز نہیں ہے۔ یہ کتابیں کسی بریلوی بزرگ کی نہیں ہیں، البتہ جناب اشرف علی تھانوی صاحب نے بھی رسالہ امداد میں ایسا ہی غلط کلمہ کہا ہے۔

8۔ انبیاء اور صحابہ کو حضرت اور احمد رضا خاں کو اعلیحضرت یعنی صحابہ اور انبیاء سے بڑا بنایا۔

جواب: اعلی حضرت کہنے میں نیت یہ ہوتی ہے کہ اپنے زمانے میں علماء حق کے اعلی حضرت نہ کہ انبیاء و صحابہ سے اعلی۔ دیوبندی عاشق الہی میرٹھی نے کتاب تذکرۃ الرشید میں گیارہ جگہ حاجی صاحب کو اعلیحضرت لکھا اور تھانوی صاحب نے تین جگہ اعلی حضرت لکھا ہے۔

9۔ احمد رضا خاں صاحب نے قبر میں ازواج مطہرات کا آنا اور حضورﷺ کا شب باشی فرمانا لکھا۔

جواب: فتوی تو علامہ زرقانی رحمتہ اللہ علیہ پر لگنا چاہئے جن کا حوالہ جناب احمد رضا خاں صاحب نے دیا۔ دوسرا جب دیوبندی المہند میں حضور کی قبر والی زندگی کو دنیاوی زندگی سے بہتر حیات کہتے ہیں تو کیسے؟ شب باشی کو غلط مفہوم سے نہیں بلکہ ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرنے کے مفہوم میں پڑھیں۔

10۔ بریلوی امام نے انبیاء کرام کی بشریت کا انکار کیا۔
جواب: فتاوی رضویہ میں لکھا ہے کہ جو مطلقاً حضورﷺ کی بشریت کی نفی کرے وہ کا فر ہے۔

11۔ بریلوی علماء حضورﷺ کو خدا کے نور کا ٹکڑا مانتے ہیں۔
جواب: نور من نور اللہ کا مطلب ہے حضورﷺ کی اس حدیث پر ایمان لانا جس میں حضورﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے اللہ نے میرا نور بنایا اور نور من نور اللہ تسلیم کیا۔ تھانوی، گنگوہی، دہلوی اور نانوتوی دیوبندی علماء نے بھی نور تسلیم کیا ہے۔

12۔ بریلوی حضورﷺ کا علم اللہ کریم کے برابر مانتے ہیں، اُن کو عالم الغیب کہتے ہیں۔

جواب:اللہ کریم کے مقابلے میں نبی کریمﷺ کے علم’’ ما کان و ما یکون‘‘ ایک ’’حد‘‘ ہے اور اللہ کریم کے علم کا ایک’’قطرہ‘‘ بھی نبی کریمﷺ کے علم سے زیادہ ہے ۔(فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 433)  نبی کریم کو عالم الغیب کسی اہلسنت عالم نے نہیں کہا۔

13۔ جناب احمد رضا خاں صاحب نے حضورﷺ کو مُختار کُل بنایا۔
جواب: حضورﷺ اللہ کریم کے برابر نہیں ہیں۔ البتہ یہ عقیدہ قرآن و احادیث کے مطابق مفسرین و محدثین و بزرگان دین کا لکھا ہوا موجود ہے۔ اگر اس پر کسی دیوبندی عالم نے فتوی کی شرائط پوری کر کے فتوی لگایا ہے تو دکھاؤ۔ ایسے ہی بریلوی حضورﷺ کو شاہد (اردو ترجمہ حاضر ناظر) مانتے ہیں، اگر اہلسنت عقائد کے خلاف ہے کیونکہ جسمانی طور پرکوئی نہیں مانتا تو کوئی فتوی ہے تو دکھاؤ۔

14۔ بریلوی جماعت انگوٹھے چومتی ہے۔ 
جواب:دیوبندی علماء کا فتوی بھی موجود ہے کہ انگوٹھے چومنا مستحب ہے۔

15۔ یا رسول اللہ، یا محمد، یا علی، یا شیخ عبدالقادر جیلانی وغیرہ ایاک نعبد و ایاک نستعین کے خلاف ہے۔ اسلئے شرک ہے۔

جواب: اس کی تفسیر دیوبندی علماء نے بھی کی ہے کہ اگر مقبول بندے کو محض واسطہ رحمت الہی، اور غیر مستقل سمجھ کر (مدد) ظاہری اس سے کی جائے تو یہ جائز ہے ورنہ مدد تو چوبیس گھنٹے ہر وقت اللہ کریم ہر مسلمان کی ہر نیک کام پر کرتا ہے۔
 
16۔ بریلوی حج کرتے ہیں اور امام کعبہ کے پیچھے نماز ادا نہیں کرتے۔
جواب: دیوبندی حنفی یہ بتا دیں کہ تقلید کے قانون کے مطابق کیا حنفی عوام کی حنبلی امام کے پیچھے حنبلی اصول و فروع پر نماز ہو جاتی ہے تو پھر مقلد کہاں رہے؟
 
17۔ جناب احمد رضا خان کی وصیت میں کھانے پینے کی فہرست ہے۔
جواب: جی ہاں!اپنے گھر والوں کے لئے نہیں کیونکہ قل و چہلم و برسی کا کھانا امیرآدمی کو کھانے سے جناب احمد رضا خاں صاحب نے منع کیا ہے، البتہ جس کو زکوۃ لگتی ہے وہ کھا سکتا ہے۔

18۔ احمد رضا خاں نے لکھا کہ میرا دین و مذہب جو میری کتاب سے ظاہر ہے اس پر مضبوطی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے۔

جواب: جناب احمد رضا خاں صاحب کا توکل ہے کیونکہ انہوں نے اہلسنت عقائد کے خلاف کبھی لکھا ہی نہیں۔ اگر لکھا ہے تو ضرور بتائیں۔ اُن کی کسی عبارت پر آج تک کسی نے کفر کا فتوی نہیں دیا۔ اس طرح دیوبندی اکابر نے لکھا ہے کہ ہر شخص کا دین اس کے ساتھ ہوتا ہے۔

19۔ مولانا ظفر علی خاں نے بریلویوں کی اشعار میں مذمت کی۔
جواب: مولانا ظفر علی خاں جناب احمد رضا خاں صاحب کے صاحبزادے کے مرید عبدالغفور ہزاروی صاحب کے مرید تھے۔

20۔ احمد رضا خاں صاحب نے اسماعیل دہلوی کے 70 کفر یات بتائے، لیکن کافر نہ کہا کیوں؟
جواب: اسلئے کہ ان کی توبہ مشہور تھی البتہ عبارتیں کفر یہ ہی ہیں۔

21۔ جناب احمد رضا خاں صاحب کا ترجمہ عرب میں بین ہے؟
جواب: یہ پابندی دیوبندی اور اہلحدیث علماء نے البریلویہ کتاب لکھ کر لگوائی ہے اور یہ پری پلاننڈ کام ہوا ہے ورنہ دیوبندی اور بریلوی ایک عقائد کے ہیں۔ دیوبندی وہابی علماء کو حنبلی اور اہلحدیث ان کو غیر مقلد کہتے ہیں۔ کیا دونوں سعودی عرب سے فتوی لے سکتے ہیں کہ وہابی علماء کون ہیں؟؟ ماں مر جائے یہ لے کر دکھائیں اور وہ دے کر دکھائیں ۔ رافضیوں کی طرف اہلسنت پر ہی اٹیک کر سکتے ہیں، فتوی نہیں لے دے سکتے۔

22۔ بریلوی نے سب پر ک ف ر کے فتوی لگائے۔
جواب: اگر فتوی غلط بات پر دیا ہے وہ بتایا جائے۔

23۔ احمد رضا خاں صاحب نے ک ف ر کی مشین گن چلا رکھی ہے؟ 
جواب: ساری دنیا کے اہلسنت مسلمانوں کو بدعتی و مشرک سعودی عرب کے وہابی علماء نے کہا تو یہ کونسی مشین گن تھی؟

24۔ جناب احمد رضا خان بریلوی اوراشرف علی تھانوی مدرسہ دیوبند سے پڑھے ہیں۔
جواب: دیوبندی علماء کا خود فتوی موجود ہے کہ انہوں نے تعلیم اپنے گھر میں والدین سے حاصل کی۔

25۔ جناب احمد رضا خان صاحب نے دیوبندیوں کو کا فر بنایا۔
جواب: مسلمان کو کا فر نہیں بنایا جاتا بلکہ توبہ کرنے کے لئے فتوی دیا جاتا ہے تاکہ غلطی پر توبہ کریں۔

26۔ گیارھویں کیا ہے اور بریلوی مولویوں کے نزدیک سوئم چہلم عرس واجب ہے۔
جواب: ہم تو اس پیج پر کہہ رہے ہیں کہ دیوبندی اور بریلوی علماء عوام کو بتا دیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے اور یہ معمولات اہلسنت یا اذان سے پہلے درود، نماز کے بعد کلمہ، جمعہ کے بعد سلام وغیرہ کو جاہل مسلمانوں نے فرض کر رکھا ہے اور یہ تب تک رہے گا جب تک دیوبندی اور بریلوی ملکر عوام کو شعور نہ دیں۔

27۔ جناب احمد رضا خاں نے عطائی اور ذاتی کا چور دروازہ کھولا ہے۔
جواب: ذاتی اور عطائی کا فرق قرآن و احادیث میں موجود ہے جس کا منکر کوئی نہیں ہو سکتا۔

28۔ احمد رضا خاں صاحب نے علمائے دیوبند سے پوچھے بغیر فتاوی لگوائے۔
جواب: یہ سب کچھ ریکارڈ میں بریلی شریف میں موجود ہے کہ رجسٹریاں کی گئیں اور وصول کی گئیں۔

29۔ یہ شعر کفر یہ ہے وہ خدا تھا عرش پر مستوی ہو کر ۔۔اتر پڑا وہ محمد مصطفی بن کر حالانکہ یہ شعر جناب احمد رضا خاں صاحب کا نہیں ہے، اسلئے یہ ایک اہلسنت عالم پر بہتان ہے۔

30۔ احمد رضا خاں نے اذان سے پہلے اور بعد صلوۃ و سلام رائج کیا۔
جواب: یہ ایک مستحب عمل ہے، کوئی نہ درود و سلام پڑھے کوئی گناہ نہیں۔ البتہ یہ سلسلہ سات سو سال پہلے شروع ہوا۔ حرمین طیبین میں بھی ترکوں کی حکومت میں صلوۃ و سلم پڑھایا جاتا تھا۔ جامعہ اشرفیہ کا فتوی بھی ہے کہ جائز ہے۔

31۔ تھانوی صاحب نے اپنی عبارت بدل لی تو ک ف ر کا فتوی واپس ہونا چاہئے تھا۔
جواب: اس کا مطلب ہے کہ عبارت کفر یہ تھی تو پھر توبہ کر لیتے، توبہ کس کتاب میں لکھی ہے تو وہ بتا دیں۔ آج بھی پھر جو کہتے ہیں کہ عبارتیں ک ف ریہ نہیں ہیں وہ تو پھر ک ا فر ہوئے۔
32۔ احمد رضا خاں صاحب نے اپنے آپ کو سگ لکھا۔
جواب: مشبہ اور مشبہ بہ سے برابری سمجھان عقلمندی نہیں ہے۔ دیوبندی عالم قاسم ناوتوی نے بھی لکھا، تو ساتھ سگانِ حرم کے تیرے ساتھ پھروں۔ اس کے اور بھی دلائل ہیں۔

33۔ ہم دیوبندی اتحاد امت کرنا چاہتے ہیں مگر بریلوی علماء نہیں کرتے۔
جواب: بریلوی علماء نے تو صاف کہا ہے کہ چار عبارتیں ک ف ریہ ہی، جو آج بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ عبارتیں ک ف ریہ نہیں ہیں وہ مناظرے، تاویلیں وغیرہ نہ دیں بلکہ توبہ کریں۔

اس پیج پر علماء اور جماعتوں کا دفاع نہیں کیا جاتا بلکہ قرآن و سنت کے مطابق اجماع امت، عثمانیہ خلافت، مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ، اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) نے ساری دنیا کے لئے جو عقائد منظور کئے اُس کا دفاع  کیا جاتا ہے۔ اس کے لئے بریلوی کو فتاوی رضویہ اور دیوبندی کو المہند کتاب اور دیگر کتب سے ریفرنس دیا جاتا ہے تاکہ عوام کو شعور ملے اور ایک عقائد پر سب اکٹھے ہوں۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0yguyecTP2ir3nFfzaQJSatE1cZQjWW9L5xZtgG2CUWSYTM7EJrDR2oxdB5krTgxul&id=100151635959130&mibextid=ZbWKwL
مکمل تحریر >>

Saturday, 4 March 2023

ذکری مذہب

ذکری مکران میں رہتے ہیں، لیکن وہ جھالان اور لس بیلہ کے علاوہ بلوچستان کے ساحلی علاقے میں بھی آباد ہیں۔ براہوئی ذکریوں کو وائی، واہ بمعنی پیغام سے ماخوذ ہے۔ ذکری قران کو داعی کہتے ہیں۔ یہ قابل ذکر ہے کہ داعی، سگتائی اور ساکی سب قدیم سیٹھی قبائل تھے اور یہ بموجب دلچسپی ہے کہ براہوئی قبیلہ ساجدی کے بہت سے طائفے داعی یا ذکری ہیں۔ یہ نکتہ مزید تحقیق کا طالب ہے کہ گو ذکری خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ تاہم ان کے عقائد توہمات اور غیر مسلم اصحاب کے خیالات سے ملتے جلتے ہیں۔ صرف قران ذکریوں اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان قدر مشترک ہے۔ عملی طور پر ذکریوں اور مسلمانوں میں بہت فرق ہے اور ذکریوں کے عقائد اسلام کے اہم اصولوں پر نظریات سراسر مختلف ہیں ۔

تاریخ
ذکریوں کا نام ذکر سے ماخوذ ہے جو دوران عبادت کرتے ہیں۔ ان کے مخالفین اور معتصب مبصرین نے ان کے خلاف بہت کچھ لکھا ہے۔ تاہم یہ فرقہ ہندی ماخذ ہے اور دانا پور ( جون پور ) کے محمد نے اس کی بنیاد رکھی تھی۔ جسے کوئی افغان اور کوئی سید بتاتا ہے۔ اس نے مہدیت کا دعویٰ کیا تھا۔ اسے جون پور سے نکالا گیا، دکن گیا وہاں کے حکمرانوں نے اس کی آؤ بھگت کی لیکن اس کی شدید مخالفت کی وجہ سے وہاں سے نکالا گیا۔ ہو چند پیروں کے ساتھ گجرات، صحرائے بیکانیر اور جسلمیر سے سندھ آیا۔ یہاں ٹھٹھ سے بھی نکالا گیا تو وہ قندھار گیا۔ جہاں شاہ بیگ ارغون اس کا مرید بنا۔ لیکن ملا اور عوام اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے فرح �( وادی ہلمند ) میں ڈھکیل دیا گیا۔ جہاں وہ مرگیا۔ مکران کے ذکریوں کا کہنا ہے کہ وہ یہاں سے غائب ہوا اور مکہ، مدینہ، حلب وغیرہ سے ہوکر ایران آیا اور لار �( لارستان �) کے راستے کیچ آیا۔ اس نے کوہ مراد پر ڈیرہ جمالیا اور دس سال تبلیغ کے بعد پورے علاقے کو ذکری بنا کر فوت ہوا ۔

یوں ذکری فرقہ مہدویت کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ جس نے پندرویں صدی کے اواخر میں ایک واضح شکل اختیار کرلی تھی اور اس تحریک کا آخری ذکر 1628 میں ملتا ہے۔ اغلباً یہ مذہب اس علاقے میں مہدی کے مریدان باصفا کے ذریعے آیا ہو۔ بہر کیف مکران میں بلیدی حکومت کی آمد اور ذکری مذہب کا آغاز بیک وقت ہوا۔ اس سے پہلے اس سے پہلے مکران میں اس کی موجودگی کی کوئی تاریخی یا روایتی شہادت موجود نہیں ہے۔ بلیدیوں کے ساتھ اس کی آمد ہوئی۔ شاید اس لیے پہلا بلیدی حکمران بو سعید وادی ہلمند کے علاقہ گرم سیل نزد فرح کا رہنے والا تھا اور جس کا دور بھی مہدی کا دور تھا ۔

بلیدیوں کے وقت اسے خوب عروج حاصل ہوا اور یہ علاقہ بھر میں پھیل گیا۔ بلیدیوں کو ملا مراد گچگی نے اٹھارویں صدی کے اوائل میں نکال باہر کیا۔ اس نے کوشش کی کہ اس کو مذہب کا درجہ حاصل ہو جائے۔ ملا مراد نے اس فرقے کو نئے خطوط پر ڈھالا۔ ذکری کیلنڈر کا آغاز کیا۔ زمین پیرو کاروں میں تقسیم کی اور ان کی اقتصادی حالت بہتر بنانے پوری پوری کوشش کی۔ اس نے اعلان کیا کہ کوہ مراہ ذکریوں کا کعبہ ہے اور حج کی رسومات ادا یہاں ادا کی جائیں۔ قلعہ تربت کے سامنے اس نے ایک کنواں کھدایا اور اس کو اس نے چاہ زم زم کا نام دیا۔ اس کا شمار ذکری اولیا میں ہوتا ہے۔ لیکن ایسے اسلام آزار مذہب کے پھیلاؤ نے بالآخر میر نصیر خان اول والی قلات کو متوجہ کیا۔ خان قلات نے ذکریوں کے خلاف مکران میں خوب کشت و خون کیا اور ملک دینار بن ملا مراد کو اذیت کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارہ ۔

عقائد
ذکریوں کے اہم عقائد مندرجہ ذیل ہیں ۔

( 1 ) دستور محمدی ختم ہوچکا ہے اور مہدی نے اس کی جگہ لے لی ہے ۔

( 2 ) آنحصور کا مقصد قران کریم کے لفظی معافی کی تبلیغ تھی، لیکن مہدی کے سپرد اس کی تاویل تھی اور وہ صاحب تاویل ہے ۔

( 3 ) نماز مترک ہے اور اس کی جگہ ذکر نافذ ہوا ہے ۔

( 4 ) روزہ رکھنا فرض نہیں ہے ۔

( 5 ) کلمہ شہادت لا الہٰ الا اللہ محمد مہدی رسول اللہ نافذ ہونا چاہیے ۔

( 6 ) زکوۃ کی بجائے 1/10 عشر دینا چاہیے ۔

( 7 ) اس دنیا اور اس کی چیزوں سے گریز کرنا چاہیے ۔

قابل اہم یہ ہے ان کے اکثر عقائد باطنیوں سے اخذ کیے گئے ہیں ۔

عمل
ان کی عبادات عمل کہلاتی ہیں، یہ ذکر اور کشتی مشتمل ہیں۔ ان ہاں نماز کی جگہ ذکر لے لی اور یہ روزانہ مقرر وقفوں پر ہوتا ہے اور کشتی مخصوص تواریخ پر ہوتی ہیں

ذکر
ذکر دو طرح کے ہیں یعنی ذکر جلی ہو ذکر جو زبان سے کیا جائے اور ذکر خفی جو صرف دل میں کیا جائے۔ ذکر بہت سے ہیں اور ہر ذکر دس بارہ سطور کا ہے۔ ذکر چھ دفعہ روزانہ مندرجہ ذیل طریقہ پر ہونا چاہیے ۔

( 1 ) لا الہٰ الا اللہ کا ذکر۔ ذکر خفی جو ہر ایک صبح کاذب سے پہلے گھر پر تیرہ دفعہ دہرائے۔ یاد رہے ہر ذکر اسی کلمہ سے شروع ہوتا ہے ۔

( 2 ) گو رہام یا صبح سویرے کا ذکر۔ سبحان اللہ جو ذکر جلی ہے اور سجدہ پر ختم ہوتا ہے۔ سجدے کے بعد ذکر خفی لا الہٰ حسبی اللہ اور جل اللہ جل اللہ دہرائے جاتے تھے اور طلوع پر ایک اور سجدہ کیا جاتا ہے ۔

( 3 ) نمروجئ ذکر۔ یعنی دوپہر کا ذکر ایک دفعہ ذکر جلی اس میں سبحان اللہ دہرائے جاتے ہیں۔ کوئی سجدہ نہیں ہے، صرف سبحان اللہ کلمہ سے ہی مخصوص ہے ۔

( 4 ) روچ زرہئ ذکر۔ یعنی قبل غروب آفتاب کا ذکر خفی جو کلمہ سبحان اللہ پر ختم ہوتا ہے، غروب آفتاب کے بعد سجدہ ۔

( 5 ) سر شبئ ذکر یعنی آغاز شب کا ذکر ایک ذکر جلی قریباً قریباً دس بجے رات جس میں تمام ذکر دہرائے جاتے ہیں، سوائے سبحان اللہ کے ۔

( 6 ) نیم ہنگامئ ذکر۔ یعنی ذکر نیم شبی، ایک ذکر خفی جسے افراد دہراتے ہیں، اس ذکر کے لیے لا الہٰ ایک ہزار دفعہ ہونا چاہیے اور ہر سو کے بعد ایک سجدہ ۔

کشتی
کشتی جمعہ کی کسی رات کو ہوسکتی ہے۔ جو مہینہ کی چودویں تاریخ کو آئے اور ماہ ذی الحج کی پہلی دس راتوں میں بھی اور عید الاضحیٰ کے اگلے دن بھی۔ بڑی کشتی ذی الحج کی نویں رات کو ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پیدائش، خطنہ اور شادی کے مواقع پر اور قسمیں اتارنے کے لیے بھی منائی جاتی ہے۔ کشتی منانے والے عام لوگ ناچ کی طرح دائرے میں کھڑے ہوتے ہیں۔ ڈھول وغیرہ استعمال نہیں ہوتے ہیں لیکن ایک یا زیادہ عورتیں دائرے کے وسط میں کھڑی ہوجاتی ہیں اور مہدی کی تعریف میں منظوم تعریفیں گاتی ہیں۔ جب کہ آدمی گھومتے ہیں اور کورس کو دہراتے ہیں، گانے والی گاتی جاتی ہیں اور آدمی کورس پڑھتے جاتے ہیں۔ جب گانے والیاں لفط ہادیا پر آتی ہیں تو آدمی پکارتے ’ گل مہدیا ‘ گویا ’ سیدھے راستے کا رہنما کون ہے؟ ‘ جواب ہوتا ہے کہ ’ ہمارا پھول مہدی ‘۔ جب سب ٹھک جاتے ہیں تو کشتی ختم ہوجاتی ہے۔ دیہات اور قبضات میں عورتیں اور مرد علحیدہ علحیدہ ذکر اور کشی منعقد ہوتی ہیں۔ لیکن پہاڑی بلوچوں کے ہاں مرد و عورتیں بلا امتیاز حصہ لیتے ہیں۔ یہ کہنا کہ ان اجتماعات میں غیر اخلاقی بلکہ مباشرت جیے افعال رائج ہیں بے بنیاد ہیں۔ یہ کہنایاں ان متعصب لوگوں کی تراشیدہ ہیں جو ان کشتیوں میں عورتوں کی موجودگی سے یقناً متاثر ہوتے ہیں۔

ذکرانہ
ترميم
ذکر کے لیے علحیدہ جگہیں مخصوص ہیں جنہیں ذکرانہ کہتے ہیں۔ ذکرانہ کی کوئی خاص وضح نہیں ہوتی ہے۔ یہ دیہات میں پیش کی ایک جھوپڑی ہوتی ہے۔ اب تو پکے ذکرانہ تعمیر ہوچکے ہیں۔ خانہ بدوشوں کی بستی میں ایک علحیدہ گدان اس مقصد کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ ذکرانہ کے دروازے کا کوئی خاص رخ نہیں ہوتا ہے ۔

ذکریوں اور عام مسلمانوں کی تدفین میں فرق نماز جنازہ کا ہے۔ ذکری نماز جنازہ نہیں پڑھاتے ہیں اس کے سوا اور کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ ذکری ملا بہت با اثر ہوتا ہے اور مذہبی پیشوایت کی حثیت سے وہ ماضی میں وہ اپنے اہل فرقہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ موجودہ دور میں ذکریوں پر کئی پابندیاں عائد ہیں۔ ان کی اکثر رسمیں خاموشی سے ادا ہوتی ہیں۔ ذکری ملا اگرچہ اپنے پیرو کاروں پر پرانے رسم و رواج کو قائم رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔ تعویز گنڈے بھی رائج ہیں۔ منت پوری ہونے پر خاص نذذرانہ وصول کرتے ہیں۔ ذکری ملا پڑھے لکھے بھی نہیں ہیں۔ ان کی مذہبی تصنیفاف بھی محدود ہیں۔ وہ صرف روایات پر چل رہے ہیں جو سینہ بہ سینہ ان تک پہنچی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں علم بڑھ رہا ہے اور ملاؤں کا اثر کم ہو رہا اور اسلامی اصولوں کے ساتھ رابطہ ہو رہا ہے۔ اس لیے یہ فرقہ انحاط پزیر ہے اور آثار بتا رہے ہیں یہ فرقہ جلد ہی فنا ہو جائے گا ۔

ماخذ
مکمل تحریر >>

Monday, 30 January 2023

اعلی حضرت امام احمد رضاعلیہ الرحمہ کے سائنسی افکارو تحقیقات بار

اعلی حضرت امام احمد رضاعلیہ الرحمہ کے سائنسی افکارو تحقیقات 
بارگاہِ اعلیٰ حضرت میں علمائے کرام موجود ہیں، دنیا کی مَشِینوں کی اِیجاد(Invention) کا تذکرہ ہو رہا ہے، اعلیٰ حضرت نے ارشاد فرمایا: بِفَضْلہٖ تعالیٰ بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے فقیر کو ایسی مشین عطا ہوئی جس میں کسی بھی علم کا سوال کسی زبان میں ڈال دیجئے چند منٹ کے بعد اس کا صحیح جواب حاصل کرلیجئے۔(خلیفۂ اعلیٰ حضرت) مولانا ہدایت رسول صاحب نے عرض کی: حضور! وہ مشین مجھے بھی دکھایئے، فرمایا: پھرکبھی دیکھ لیجئے گا۔ لیکن انہوں نے اِصْرار کیا تو اعلیٰ حضرت نے اپنے کُرتے کے بٹن کھول کر سینۂ انور کی زیارت کروائی اور فرمایا: یہ ہے وہ مشین جس کا فقیر نے کہا۔ شاہ ہدایت رسول صاحب آپ کے سینۂ پُرنور کو چومتے اور کہتے جاتے: صَدَقْتَ یَاوَارِثَ عُلُوْمِ رَسُوْلِ اللہِ وَیَانَائِبَ رَسُوْلِ اللہِ یعنی اے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علوم کے وارث اور اُن کے نائب ! آپ نے سچ کہا۔(تجلیاتِ امام احمد رضا،ص78 ملخصاً)

20ویں صدی کی عَبْقَری شخصیت، زبردست مُفَکِّرِ اسلام (Great Islamic Thinker) اور سائنسی علوم کے ماہر امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کا یہ فرمانا کہ ”کسی بھی علم کا سوال ،جس زبان میں ہوچند منٹ میں صحیح جواب مل جائے گا“ یقیناً آپ پرفضلِ خدا اور عنایتِ مصطفےٰ ہے اور یہ مُبالَغہ یا محض زبانی دعویٰ نہیں بلکہ یہ ایسی حقیقت ہے جس کی دلیل آپ کی لکھی ہوئی تحقیقی ایک ہزار کتب ہیں جن میں صرف علم ِحدیث میں 240 کتابیں، علمِ فقہ میں 90سے زائد اور سائنسی علوم میں 100سے زیادہ کتب ہیں اور سائنسی علوم پر اس قدر کتابیں آپ کے عظیم سائنسدان ہونے کا واضح اور منہ بولتا ثبوت ہیں، زیرِ نظر مضمون میں اسی حوالے سے ایک مختصر جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔

چودہویں صدی عیسوی کے بعد والے زمانے کو عہدِجدید (Modern age) سے تعبیر کیا جاتا ہے، مغربی دنیا اِسی دور میں علم وفن سے آشنا ہوئی جبکہ مسلمان سائنسدان اس سے کئی صدیاں پہلے ہر طرح کے علوم سے نہ صرف آراستہ تھے بلکہ کائنات(Universe) کے بہت سے سَر بستہ راز کھول چکے تھے، خیر وقت کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے سائنٹسٹ پیدا ہوئے اور ایک آدھ نظریہ (Theory) یا کسی ایجاد کا سہرا اپنے سر سجاتے رہے پھر ربِِّ کریم نے مسلمانوں میں امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کو پیدا فرمایا جن کی پرورش خالص دینی ماحول میں ہوئی اور آپ نے دین ہی کو اپنا نصبُ العین بنایا مگر آپ اسلامیات کی جملہ شاخوں پر عُبُور کے ساتھ ساتھ حیاتیات (Biology)، حیوانیات (Zoology)، نباتات (Botany) ، جغرافیہ (Geography)، طبقات الارض (Geology)، ہیئت (Astronomy)، ارثماطیقی (Arithmetic)، شماریات (Statistics)، ریاضی (Mathematics)، لوگارتھم (Logarithm)، اُقْلِیْدَس (Geometry)، طبیعیات (Physics)، کیمیا (Chemistry)، صوتیات (Acoustics)، اشعیات (Radiology)، مناظرومَرایا (Optics)، توقیت، موسمیات (Metrology)، موجودات (Natural Science) وغیرہ سائنسی علوم پر بھی کامل دَسْتْرَس رکھتے تھے۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی سائنسی تحقیقات سے پہلے آپ کا سائنس کے متعلق نظریہ پڑھ لیجئے، چنانچہ زمین ساکن ہونے کے متعلق اپنے رسالے ”نُزُوْلِ آیَاتِ فُرْقَان بَسُکُوْنِ زَمِیْن و آسْمَان“ میں فرماتے ہیں:سائنس یوں مسلمان نہ ہوگی کہ اسلامی مسائل کو آیات و نُصُوص میں تاویلات دُوراَزکار (یعنی بے سروپا اور لاتعلق تاویلات) کرکے سائنس کے مطابق کرلیا جائے۔ یوں تو مَعَاذَ اللہ اسلام نے سائنس قبول کی نہ کہ سائنس نے اسلام۔ وہ مسلمان ہوگی تو یوں کہ جتنے اسلامی مسائل سے اُسے خلاف ہے سب میں مسئلۂ اسلامی کو روشن کیا جائے دلائلِ سائنس کو مَرْدُود و پامال کردیا جائے جا بجا سائنس ہی کے اقوال سے اسلامی مسئلہ کا اِثْبات ہو، سائنس کا اِبْطال و اِسْکات ہو، یوں قابو میں آئے گی۔(فتاویٰ رضویہ،27/227)

اب آتے ہیں اُن تحقیقات کی جانب جن میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ایک طرف اسلامی نظریہ اور احکامِ شریعت کی توضیح وتشریح فرمائی اور دوسری طرف قوانینِ سائنس کا تَجْزِیَہ فرمایا۔ موافقِ اسلام قوانین کو تَوْثِیْق و تائید کے طور پر لیا اور خلافِ اسلام سائنسی نظریات کا قراٰن و سنّت کے ساتھ ساتھ خود سائنسی قواعد و ضوابط کے ذریعے ردّ و اِبْطال فرمایا اور دورِ جدید کے بعض سائنسی اَفکارکوعَقْلی و نَقْلی دلائل و بَراہِیْن کی روشنی میں باطل قرار دیا چنانچہ

1338ہجری میں حرکتِ زمین کے متعلق عقلی و سائنسی دلائل پر مشتمل کتاب ”فَوْزِ مُبِیْن دَرْ رَدِّ حَرَکَتِ زَمِیْن“ تحریر فرمائی جو ایک مقدمہ، چار فصلوں اور ایک خاتِمہ پر مُحِیْط ہے، اس میں زمین کے ساکن ہونے پر 105دلیلیں قائم کیں، خود فرماتے ہیں: فصلِ اوّل میں نافریت پر بحث اور اُس سے اِبْطالِ حرکتِ زمین پر بارہ دلیلیں۔ فصلِ دوم میں جاذبیت پر کلام اور ا س سے بُطْلانِ حرکتِ زمین پر پچاس دلیلیں۔ فصلِ سوم میں خود حرکتِ زمین کے اِبْطال پر اور تینتالیس دلیلیں۔ یہ بحمدہٖ تعالیٰ بُطْلانِ حرکتِ زمین پر ایک سو پانچ دلیلیں ہوئیں جن میں پندرہ اگلی کتابوں کی ہیں جن کی ہم نے اِصلاح و تصحیح کی اور پورے نوّے دلائل نہایت روشن و کامل بِفَضْلِہٖ تعالیٰ خاص ہمارے ایجاد ہیں۔ فصلِ چہارم میں ان شبہات کا رد جو ہیأتِ جدیدہ اثِبْاتِ حرکتِ زمین میں پیش کرتی ہے۔(فتاویٰ رضویہ،27/245)

آپ کی سائنسی تحقیقات پر کوئی اور تصنیف نہ بھی ہوتی تو 139صفحات پر پھیلی یہی ایک کتاب آپ کے عظیم سائنسدان (Great Scientist) ہونے کی کافی و وَافی دلیل تھی۔ سائنس کا کوئی پروفیسر جب یہ کتاب دیکھے گا تو امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی سائنسی تحقیقات اور علومِ جدید میں گہرائی و گِیْرائی پر رَشْک کرے گا اور سائنس کا اسٹوڈنٹ اسے پڑھے گا توحیران و شَشْدَر رہ جائے گا کہ چٹائی پر بیٹھ کر لوگوں کی شرعی راہنمائی کرنے والی یہ بزرگ ہستی قدیم و جدید تمام سائنسی علوم و فنون میں بھی کامل مہارت رکھتی تھی۔ انگریزی میں اس کتاب کا ترجمہ:”A fair success refuting motion of Earth “ کے نام سے ہوچکا ہے۔

اکتوبر 1919عیسوی میں ایک امریکی سائنٹسٹ البرٹ ایف۔ پورٹا نے پیشین گوئی کی کہ ”بعض سیاروں کے اجتماع سے 17دسمبر کو طوفان، بجلیاں، سخت بارش اور بڑے زلزلے ہوں گے۔“ جب یہ ہولناک پیشین گوئی اعلیٰ حضرت کے سامنے پہنچی تو آپ نے اس کی تَرْدِیْد میں ایک رسالہ بَنام ”مُعِیْنِ مُبِیْن بَہْرِ دَوْرِ شَمْس و سُکُوْنِ زَمِیْن“ لکھا جس میں 17دلیلوں سے اس پیشین گوئی کا رد فرمایا جس میں 16دلائل جدید سائنس سے دئیے ہیں۔ آخر میں فرماتے ہیں: بیانِ مُنْجِم (امریکی سائنٹسٹ) پر اور مُواخَذَات بھی ہیں مگر 17دسمبر کے لئے 17پر ہی اِکْتِفا کریں۔(فتاویٰ رضویہ،27/242 ملخصاً)

علمِ ارضیات (Geology) کی ایک شاخ علمِ اَحْجَار (Petrology) بھی ہے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ جیولوجیGeology)) کی دیگر اَصْناف کی طرح علمُ الاَحْجَار پر بھی عبور رکھتے تھے۔ آپ سے تیمم کے متعلق مسئلہ دریافت کیا گیا کہ کس شَے سے تیمم جائز ہے اور کس سے نہیں؟ چونکہ اس کا تعلق مٹی سے ہے اور مٹی کا تعلق علمِ ارضیات (Geology) سے ہے۔ جب آپ نے اس حوالے سے قلم اُٹھایا تو تحقیق کے دریا بہا دئیے۔ چنانچہ مٹی اور پتھر کی جن اقسام سے تیمم جائز ہے اگلے فقہائے کرام کی سینکڑوں کُتُب میں ان کی اقسام کی کل تعداد 84تک پہنچتی ہے اور یہ ہزاروں علما کی صَدْہا سالوں کی محنت کا نتیجہ ہے مگر اِمامُ الفُقَہاء اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی علمُ الاَحْجار میں مہارت دیکھئے کہ آپ نے تحقیق سے اس تعداد پر 107 اَقسام کا اضافہ کردیا۔ یوں ہی جن اقسام سے تیمم ناجائز ہے فقہائے اُمت کی تحقیقات سے اُن کی تعداد 58 تک پہنچتی ہے اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ان اقسام پر 72 قسموں کا اضافہ فرما دیا۔ تفصیل کے لئے فتاویٰ رضویہ جلد 3 میں شامل کتاب”اَلْمَطْرُالسَّعِیْد عَلٰی نَبْتِ جِنْسِ الصَّعِیْد“ کا مطالعہ فرمائیے۔

پانی کے رنگ کے متعلق سائنسدانوں میں اختلاف پایا جاتا ہے، کسی نے کہا: پانی کا کوئی رنگ نہیں۔ کسی نے پانی کو سفید کہا تو کسی نے اس کا رنگ سیاہ قرار دیا مگر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے ان تینوں آراء کا عَقْلی ونَقْلی دلائل سے رَد کرتے ہوئے شرعی اور سائنسی دلائل سے پانی کے رنگ کو ”ہلکا سیاہی مائل“ ثابت کیا۔(فتاویٰ رضویہ ،3/235تا245 ملخصاً)

طبیعیات (Physics) کے موضوع ”Acoustics “ اور نظریۂ تَمَوُّج (Wave Theory) یعنی ماڈرن کمیونیکیشن سسٹم کی بات کی جائے تو اس پراعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی کتاب ”اَلْکَشْفُ شَافِیَاحُکْمُ فَوْنُوْ جِرَافِیَا“ علمِ صوتیات کے ماہرین کو دعوتِ فکر دیتی ہے۔ ایٹم کے اِنْشِقاق(Nuclear Fission )کی بات ہو توآپ نے اپنی کتاب ”اَلْکَلِمَۃُ الْمُلْہَمَۃ فیِ الْحِکْمَۃِ الْمُحْکَمَۃ“ میں بڑی تفصیلی بحث فرمائی ہے۔ میڈیکل سائنس (Medical Science) کے تعلق سے نظر دوڑائیں تو آپ کی کتب، رسائل اور فتاویٰ میں جابجا طبّی اصطلاحات، طبّی اصول وقوانین اور بیش بہا طبّی معلومات ملتی ہیں بالخصوص آپ کا رسالہ ”تَیْسِیْرُالْمَاعُوْن لِلسَّکْنِ فِی الطَّاعُوْن“ جو بظاہر مرضِ طاعون کے بارے میں شرعی احکام پر مبنی ہے مگر مطالَعَہ کرنے والوں پر واضح کردیتا ہے کہ آپ میڈیکل سائنس کے بھی ایکسپرٹ ہیں اور آپ ہی وہ پہلے مسلمان سائنٹسٹ ہیں جنہوں نے 1896عیسوی میں اپنی کتاب ”اَلصَّمْصَام عَلَی مُشَکِّکٍ فِیْٓ اٰیَۃِ عُلُوْمِ الْاَرْحَام“ میں الٹرا ساؤنڈ مشین کا فارمولا بیان فرمایا ہے۔علمِ فلکیات (Astronomy) میں آپ کو اس قدر مہارت تھی کہ رات میں تارے دیکھ کر اور دن کو سورج دیکھ کر گھڑی مِلالیا کرتے تھے۔

الغرض تحقیقِ مرجان (Coral) ہو یا تحقیقِ اہرامِ مِصْر یا پھر زلزلہ(Earthquake) کی تحقیق، نظریۂ مَد و جَزْر (High tides/ Low tides and) ہو یا نظریۂ کششِ ثِقْل، الجبرا و ریاضی کی گُتِّھیاں ہوں یا سائنس کے دیگر جدید و قدیم مسائل، ہمیں کتبِ اعلیٰ حضرت میں جگہ جگہ ان کے متعلق تحقیقات نظر آتی ہیں کیونکہ احکام کی گہرائیوں تک پہنچنے کے لئے آپ متعلقہ مسئلے کی تحقیق نہ صرف قراٰن وسنّت اور عباراتِ فُقَہا سے فرماتے بلکہ اُسے دُنیاوی وسائنسی علوم نیز مُشاہَدات و تَجْربات کی روشنی میں بھی پَرَکْھتے تھے۔ مگر یاد رہے کہ آپ نے اپنے سائنسی اَفْکار اور تحقیقات کی بنیاد قراٰن وسنّت پر رکھی ہے کیونکہ آپ کانظریہ و عقیدہ یہ ہے کہ ”سائنس کو قرآن و سنّت کی روشنی میں پَرْکَھا جائے نہ کہ قرآن وسنّت کو سائنس کی روشنی میں جانچا جائے۔“
خاص بات یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سائنسی علوم پر تحقیقات کرتے وقت اِبتدا، انتہا یا جہاں مناسب سمجھتے ہیں مطالعہ کرنے والوں کو یہ عقیدہ ضرور سمجھاتے ہیں کہ سائنسی قوانین اپنی جگہ مگر اَصْل قدرت و طاقت اللہ پاک کی ہے، وہ ہی سب پر غالِب اور سب کا خالق و مالک ہے۔ چنانچہ ایک مقام پر پانی کے رنگ کی تحقیق کرتے ہوئے قدرتِ باری تعالیٰ پر اپنے ایمان ویقین کا اِظہار ان لفظوں سے فرماتے ہیں: مذکورہ بالا دلیل فَلاسِفَہ کے مذہب کے مطابق ہے اگر مان لیں تو فَبِہَا وگَرنہ ہماری ایمانی دلیل یہ ہے کہ نگاہیں اور تمام چیزیں اللہ تبارک وتعالیٰ کے ارادے کے تابع ہیں۔ اگر وہ چاہے تو ایک اندھا تاریک رات میں سیاہ چیونٹی کی آنکھ کو دیکھ سکتا ہے اور اگر وہ نہ چاہے تو دن کی روشنی میں فلک بوس پہاڑ سے نِیلگوں آسمان کو بھی نہیں دیکھا جاسکتا چونکہ اس نے چاہا کہ اَجْزاء انفرادی طور پر نظر نہ آئیں اور جب وہ مجتمع ہوجائیں تو نظر آنے لگیں لہٰذا جیسا اس نے چاہا ویسا ہی واقع ہوا۔ (فتاویٰ رضویہ، 2/174)

اور آخری بات یہ کہ جہاں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے یہ دیکھا کہ کسی دنیاوی و سائنسی علم کی وجہ سے بنیادی اسلامی عقیدے پر زَد پڑتی ہے، وہ علم خلافِ اسلام ہے، پڑھنے والے کے ذہن میں لادینیت پیدا ہوجائے گی اورایمان مُتَزَلزَل ہوگا تو آپ نے بِلاتَرَدُّد اِس کے خلاف حکمِ شریعت صادِر فرمایااور اُس کے پڑھنے سے مُمَانَعت فرمائی۔تفصیل کے لئےفتاویٰ رضویہ، جلد23،صفحہ706 ملاحظہ فرمایئے۔ پیشِ نظر مضمون میں امامِ اہلِ سنّت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کے سائنسی اَفْکارو تحقیقات کا مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے جو صرف ایک جھلک ہے لہٰذا جسے آپ کے سائنسی علوم کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھنا ہو اور اِن علوم کی فلک بوس چوٹیوں کا نظارہ کرنا ہو وہ آپ کی سائنس اور جدید علوم پر مشتمل کتب ورسائل کا مطالعہ کرے۔

اللہ کریم کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
مکمل تحریر >>

Wednesday, 2 November 2022

خواب میں دیدار الہٰی

*خواب میں دیدارِ الٰہی:*
جُمہور علما رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک دنیا میں خواب کی حالت میں دیدارِ الٰہی ممکن ہے ، محال نہیں ، بلکہ واقع ہے جیساکہ بہت سے اَسلاف سے منقول ہے۔چنانچہ

(1)شیخ عبدُ الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں خواب میں دیدارِ الٰہی ہوسکتا ہے بلکہ ہوا بھی ہے ، ہمارے امامِ اعظم بھی اس نعمت سے مشرف ہوئے ہیں۔ (اشعۃا للمعات ، 4 / 449)

(2)علّامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے حکیم ترمذی ، شمسُ الائمہ علامہ کردری اور حمزہ الزیات وغیرہ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ خواب میں اللہ پاک کے دیدار سے مشرف ہوئے ہیں۔ ([منح الروض الازھر ، ص151)

(3)امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں کہ حمزہ الزیات کہتے تھے : میں نے اپنے رب کے سامنے سورۂ یٰسٓ اور طٰہٰ کی قراءت کی ہے۔ ([الیواقیت و الجواہر ، ص162ماخوذاً)

(4)حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میں خواب میں دیدارِ الٰہی سے مشرف ہوا ، میں نے عرض کی : اے رب! تیرے نزدیک کون سا عمل افضل ہے جس کے ذریعے مقربین تیرا قرب حاصل کرتے ہیں؟ ارشاد فرمایا : اے احمد! وہ میرا پاک کلام(قراٰنِ پاک) ہے۔ میں نے عرض کی : اے رب! اسے سمجھ کر پڑھےیا بغیرسمجھے پڑھے۔ ارشاد فرمایا : سمجھ کر پڑھےیا بغیر سمجھے۔ ([احیاء العلوم ، 1 / 364)
مکمل تحریر >>

وحی کسے کہتے ہین

وَحی کسے کہتے ہیں لُغَت(Dictionary) کے مطابق وَحی کا معنی خفیہ طریقے سے خبر دینا، اشارہ کرنا، پیغام دینا وغیرہ ہے جبکہ شریعت کی اِصطلاح میں انبیائے کرام علیہمُ الصّلٰوۃ والسَّلام پر اللہ پاک کی طرف سے نازل ہونے والے کلام کو ”وَحی“ کہتے ہیں۔

وَحی کی اقسام انبیائے کرام علیہم الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کے حق میں وحی کی تین قسمیں ہیں: (1)فرشتے کے واسطے کے بغیر براہِ راست (Direct) اللہ کریم کا کلام سننا جیسے کوہِ طور پر حضرت موسیٰ علیہ السَّلام نے جبکہ شبِ معراج ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سنا (2)فرشتے کے واسطے سے اللہ کا پیغام آنا (3)انبیا کے دل میں کسی بات کا ڈالا جانا۔ نیز انبیاء کرام علیہم السلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں.

کشف کے معنیٰ ہیں کسی بات یا واقعہ کا کھل جانا یا کسی پر غیبی چیز کا منکشف ہو جانا۔
الہام کے معنی ہیں دل میں کسی بات کا القا ہوجانا اور وحی کہتےہیں اللہ تعالی کی جانب سے نبی کی طرف بھیجا جانے والا پیغام۔ الہام کی حقیقت یہ ہے کہ بغیر نظر واستدلال کے اﷲ تعالیٰ کوئی حقیقت بندے کے قلب میں القاء فرمادیں ، یا کسی غیبی مخلوق کے ذریعہ اطلاع بخش دیں جیسا کہ اس حدیث میں ہے :
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ انَّ اللّٰہ تَعَالٰی جَعَلَ الْحَقَّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِہٖ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَانَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ فَقَالُوْا فِیْہِ وَقَالَ فِیْہِ عُمَرُ الَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ فِیْہِ عَلٰی نَحْوِمَا قَالَ عُمَرُ (
جامع ترمذی - حدیث 3682 )
ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حق بات کو (الہام کے ذریعہ سے) عمر کی زبان اور قلب پر جاری کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب کبھی لوگوں کو کوئی (نئی) بات پیش آئی پھر اس کے بارے میں لوگوں نے بھی اپنی رائے دی اور حضرت عمر نے بھی اپنی رائے دی تو قرآن (ہمیشہ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے موافق ہی نازل ہوا۔
اسی طرح بخاری شریف میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل میں مرقوم ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ كَانَ فِيمَا قَبْلَكُمْ مِنْ الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ فَإِنْ يَكُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَإِنَّهُ عُمَرُ زَادَ زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ رِجَالٌ يُكَلَّمُونَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونُوا أَنْبِيَاءَ فَإِنْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَعُمَرُ
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلی امتوں میں محدث (صاحب الہام) ہواکرتے تھے ، اور اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہے تو وہ عمر ہیں ۔ زکریا بن زائدہ نے اپنی روایت میں سعد سے یہ بڑھایا ہے کہ ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلے بنی اسرائیل کی امتوں میں کچھ لوگ ایسے ہواکرتے تھے کہ نبی نہیں ہوتے تھے اور اس کے باوجود ان سے کلام کیا جاتا تھا اور اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہوسکتا ہے تو وہ حضرت عمر ہیں ۔
محدث وہ جس پر خدا کی طرف سے الہام ہو اور حق اس کی زبان پر جاری ہوجائے یا فرشتے اس سے بات کریں یا وہ جس کی رائے بالکل صحیح ثابت ہو، محدث وہ بھی ہوسکتا ہے جو صاحب کشف ہو جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت میں حضرت یوحنا حواری گزرے ہیں جن کے مکاشفات مشہور ہیں، یقینا حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں ۔


معلوم ہواکہ الہام اور کشف اور وحی تینوں چیزیں اللہ تعالی کے چاہنے سے ہی ہوتی ہیں ،انکا منبع ایک ہی ہےلیکن ان میں بنیادی فرق ہے کہ وحی نبی کے ساتھ خاص ہوتی ہے اور الہام اور کشف غیر بنی کو ہوتے ہیں۔ وحی تو نبوت کے ساتھ ختم ہو گئی ۔ اب اگرکوئی اس کادعوی کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔کشف والہام کا حکم یہ ہے کہ ان سے علم ظنی حاصل ہوتا ہے ، اگر شرعی قواعد کے مطابق ہے تو قابل عمل ہے ورنہ واجب الترک ہے۔ان دونوں کی رو اسے اگر کوئی حقائق ومعارف کادعوی کرے تو صرف وہی حقائق ومعارف مقبول ہیں جن کو شریعت مسترد نہ کرے.
مکمل تحریر >>

*قرآن و حدیث میں کشف و کرامات و تصرفات اولیاء اللہ کا بیان*

*قرآن و حدیث میں کشف و کرامات و تصرفات اولیاء اللہ کا بیان*

 اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی سورہ نمل  میں ارشاد فرماتا ہے. 
قَالَ يَآ اَيُّـهَا الْمَلَاُ اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِىْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ يَّاْتُوْنِىْ مُسْلِمِيْنَ (38) 
کہا اے دربار والو! تم میں کوئی ہے کہ میرے پاس اس کا تخت لے آئے اس سے پہلے کہ وہ میرے پاس فرمانبردار ہو کر آئیں۔

قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ ۖ وَاِنِّىْ عَلَيْهِ لَقَوِىٌّ اَمِيْنٌ (39) 
جنوں میں سے ایک دیو نے کہا میں تمہیں وہ لا دیتا ہوں اس سے پہلے کہ تو اپنی جگہ سے اٹھے، اور میں اس کے لیے طاقتور امانت دار ہوں۔

قَالَ الَّـذِىْ عِنْدَهٝ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٝ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْۖ لِيَبْلُوَنِـىٓ ءَاَشْكُـرُ اَمْ اَكْفُرُ ۖ وَمَنْ شَكَـرَ فَاِنَّمَا يَشْكُـرُ لِنَفْسِهٖ ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّىْ غَنِىٌّ كَرِيْـمٌ (40) 
اس شخص نے کہا جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے تیری آنکھ جھپکنے سے پہلے لا دیتا ہوں، پھر جب اسے اپنے روبرو رکھا دیکھا تو کہنے لگا یہ میرے رب کا ایک فضل ہے، تاکہ میری آزمائش کرے کیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری، اور جو شخص شکر کرتا ہے اپنے ہی نفع کے لیے شکر کرتا ہے، اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بھی بے پروا عزت والا ہے۔

قرآن کریم کے ایک ولی اللہ کے تصرف کو اس طرح واضح بیان کرنے کے بعد بھی کوئی تصرف ولی کو شرک کہے تو پھر یا عقل سے فارغ ہے یا ایمان سے یا شاید دونوں سے. 

حضرت مریم رضی اللہ عنھا کی کرامت
جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا موقع آیاتوآپ کی والدۂ ماجدہ حضرت مریم رضی اللہ عنھا ایک درخت کے تنے کے پاس آئیں، جوسوکھاتھا، اُس پر کھجورنہ تھے ، اللہ تعالی نے فرمایا:
وَهُزِّیْ إِلَيْکِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْکِ رُطَبًا جَنِيًّا-
ترجمہ:اور کھجور کے درخت کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ، یہ تم پر تازہ اور پکے کھجور گرادے گا۔(سورۃمریم ۔25)

     آیتِ مذکورہ میں بتایا گیا کہ حضرت مریم رضی اللہ عنھا نے کھجور کے درخت کو ہاتھ لگایا تو وہ اسی وقت تروتازہ کھجور آپ کی گود میں ڈالنے لگا ، ظاہر ہے سوکھا ہوا درخت تروتازہ ہوتاہے تواُس کے لئے وقت درکار ہے ، مختصر لمحات یا چند گھنٹوں میں بے پھل درخت پھلدار نہیں ہوتا‘ خشک درخت سرسبز نہیں ہوتا‘ سوکھے ہوئے درخت پر پھل نظر نہیں آتے ، سوکھے درخت کا لمحہ بھرمیں تروتازہ اور پھلدار ہوجانا اور وہ بھی مریم کے فرمان پر یقیناخداکی اس محبوب ولیہ کی کرامت ہے ۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ رضی اللہ عنھا کی کرامت
قرآن کریم میں بیان کی جا نیوالی غیر انبیاء کی کرامتو ں میں سے ایک حضرت مو سیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ رضی اللہ عنھا کو غیبی خبر کا الہام کیا جانا ہے :

وَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِيْهِۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَ لْقِيْهِ فِى الْيَمِّ وَلَا تَخَافِىْ وَلَا تَحْزَنِىْۚ اِنَّا رَاۤدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجٰعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ
سورہ القصص آيت 7
یعنی اللہ کی جانب سے موسیٰ علیہ السلام کی ماں کے پاس وحی (الہام) ہوئی کہ تم اس بچے کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا ئے نیل میں ڈال دو اور یہ خوش خبری بھی دیدی گئی کہ ہم اس کو پھر تمہارے پاس پہنچادیں گے اور اس کو (اپنا رسول )بنائیں گے۔
 یہ سب مستقبل اور غیب کی خبریں ہیں جو ام موسی علیہ السلام کو دی گئیں مگر کچھ بیوقوف انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ کسی کو کشف یا الہام کے ذریعے غیبی خبریں ملنے کو شرک تصور کرتے ہیں. 

*بخاری و مسلم میں کشف و کرامت اور تصرف ولی کا بیان*

 سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی لڑکا جھولے میں (یعنی شیرخوارگی میں) نہیں بولا: مگر تین لڑکے۔ ایک تو عیسی علیہ السلام، دوسرے جریج کا ساتھی۔ اور جریج کا قصہ یہ ہے کہ وہ ایک عابد شخص تھا سو اس نے ایک عبادت خانہ بنایا اسی میں رہتا تھا۔ اس کی ماں آئی وہ نماز پڑھ رہا تھا، ماں نے پکارا: اے جریج! وہ بولا: اے رب! میری ماں پکارتی ہے اور میں نماز میں ہوں، آخر وہ نماز ہی میں رہا اس کی ماں پھر گئی۔ پھر جب دوسرا دن ہو ا، پھر آئی اور پکارا: اے جریج! وہ بولا: یا اللہ! میری ماں پکارتی ہے اور میں نماز میں ہوں، آخر وہ نماز ہی میں رہا۔ اس کی ماں بولی: یا اللہ! اس کو مت مارنا جب تک بدکار عورتوں کا منہ نہ دیکھے۔ پھر بنی اسرائیل نے جریج کا اور اس کی عبادت کا چرچا شروع کیا۔ اور بنی اسرائیل میں ایک بدکار عورت تھی جس کی خوبصورتی سے مثال دیتے تھے۔ وہ بولی: اگر تم کہو تو میں جریج کو بلا میں ڈال دوں، پھر وہ عورت جریج کے سامنے گئی، لیکن جریج نے اس طرف خیال بھی نہ کیا۔ آخر وہ ایک چروا ہے کے پاس آئی جو جریج کے عبادت خانہ کے پاس ٹھہرا کرتا تھا اور اجازت دی اس کو اپنے سے صبحت کرنے کی، اس نے صبحت کی وہ پیٹ سے ہوئی اور جب بچہ جنا تو بولی: کہ یہ بچہ جریج کا ہے لوگ یہ سن کر جریج کے پاس آئے اور اس سے کہا: اتر اور اس کا عبادت خانہ گرا دیا اور اس کو مارنے لگے وہ بولا: کیا ہو ا تم کو؟ انہوں نے کہا: تو نے زنا کیا اس بدکار عورت سے، وہ ایک بچہ بھی جنی ہے تجھ سے۔ جریجنے کہا: وہ بچہ کہاں ہے؟ لوگ اس کو لائے،جریج نے کہا: ذرا مجھ کو چھوڑو میں نماز پڑھ لوں، پھر نماز پڑھی اور آیا اس بچہ کے پاس اور اس کے پیٹ کو ایک ٹھونسا دیا اور بولا: اے بچے! تیرا باپ کون ہے؟ وہ بولا: فلانا چرواہا ہے۔ یہ سن کر لوگ دوڑے جریج کی طرف اور اس کو چومنے چاٹنے لگے اور کہنے لگے تیرا عبادت خانہ ہم سونے سے بنا دیتے ہیں۔ وہ بولا: نہیں مٹی سے پھر بنا دو جیسا تھا۔ لوگوں نے بنا دیا۔ تیسرا ایک بچہ تھا جو اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا اتنے میں ایک سوار نکلا عمدہ جانور پر ستھری پوشاک والا۔ اس کی ماں نے کہا:: یا اللہ! میرے بیٹے کو ایسا کرنا۔ بچے نے یہ سن کر چھاتی چھوڑ دی اور اس سوار کی طرف دیکھا اور کہا: یا اللہ! مجھ کو ایسا نہ کرنا، پھر چھاتی میں جھکا اور دودھ پینے لگا۔“سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہو ں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کے دودھ پینے کی نقل کرتے تھے اس طرح پر کہ کلمہ کی انگلی اپنے منہ میں ڈال کر چوستے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر لوگ ایک لونڈی کو لے کر نکلےجس کو مارتے جاتے تھے اور کہتے تھے: تو نے زنا کرایا اور چوری کی۔ وہ کہتی تھی: اللہ مجھے کفایت کرتا ہے اور وہی میرا وکیل ہے۔ بچے کی ماں بولی: یا اللہ! میرے بچہ کو اس لونڈی کی طرح نہ کرنا۔ یہ سن کر بچے نے دودھ پینا چھوڑ دیا اور اس لونڈی کی طرف دیکھا اور کہنے لگا: یا اللہ! مجھ کو اس لونڈی کی طرح کرنا۔ اس وقت ماں اور بیٹے میں گفتگو ہوئی۔ ماں نے کہا: او سر منڈے! جب ایک شخص اچھی صورت والا نکلا اور میں نے کہا: یا اللہ! میرے بیٹے کو ایسا کرنا تو تو نے کہا: یا اللہ! مجھ کو ایسا نہ کرنا اور یہ لونڈی کو لوگ مارتے جاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں تو نے زنا کیا، چوری کی، تو میں نے کہا: یا اللہ! میرے بچے کو اس کی طرح نہ کرنا۔ تو کہتا ہے: یا اللہ! مجھ کو اس کی طرح کرنا (یہ کیا بات ہے؟)۔ بچہ بولا: وہ سوار ایک ظالم شخص تھا، میں نے دعا کی یا اللہ! مجھ کو اس کی طرح نہ کرنا اور لونڈی پر لوگ تہمت کرتے ہیں، کہتے ہیں تو نے زنا کیا، چوری کی، حالانکہ نہ اس نے زنا کیا ہے اور نہ چوری کی ہے، تو میں نے کہا: یا اللہ! مجھ کو اس کے مثل بنا۔“
(صحيح مسلم
كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ، باب تَقْدِيمِ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ عَلَى التَّطَوُّعِ بِالصَّلاَةِ وَغَيْرِهَا:
حدیث نمبر: 6509)
جریج کا یہ واقعہ بخاری شریف میں حدیث نمبر: 1206 میں بھی موجود ہے
 بخاری و مسلم کی اس روایت میں جریج نہ تو کوئی نبی تھا نہ فرشتہ.. نیک آدمی (اللہ کا ولی) تھا لیکن بچہ اسکے کہنے پر بولنے لگ گیا..
اور ایک دودھ پیتا بچہ اللہ کے حکم سے غیب کی باتیں جان  سکتا ہے تو اب اس طرح کی کرامات کا انکار کر کے اسے کفر و شرک کہنے والے کون سے دین یا بخاری مسلم کا درس دیتے ہیں ؟

اسی طرح صحیح مسلم میں اصحاب الاخدود کا واقعہ مرقوم ہے جس میں ایک راہب اور اسکے شاگرد کی کرامات، کشف، الہام اور مستقبل بینی کا تفصیلی تذکرہ ہے. حدیث کیونکہ طویل ہے اسکی ساری روایت بیان کرنا چھوٹے مضمون میں ممکن نہیں. جسے مکمل حدیث پڑھنی ہو وہ صحیح مسلم میں نے كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ کا باب اصحاب الاخدود کا قصہ
حدیث نمبر: 7511 تفصیل سے پڑھ سکتا ہے. 

بخاری کتاب التفسیر میں حضرت خضر علیہ السلام کا تصرف بیان کیا گیا ہے کہ 
"آپ نے گرتی دیوار کو فقط ہاتھ سے مس کر کے دوبارہ صحیح حالت میں لوٹا دیا" 
صحيح البخاري: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ (بَابُ قَوْلِهِ {وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ: لاَ أَبْرَحُ حَتَّى أَبْلُغَ مَجْمَعَ البَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُبًا)  حدیث نمبر 4725
فقط مس کر کے قابل تعمیر دیوار کو صحیح سالم کر دینا واضح  تصرف ہے. 
حضرت خضر علیہ السلام کے نبی یا غیر نبی ہونے میں علماء کرام کا اختلاف ہے اور کسی کے پاس بھی اپنی یا تفہیم کے علاوہ قطعی دلیل موجود نہیں. حضرت خضر علیہ السلام کے کشف و الہام، تصرفات کا بیان سورہ کہف میں تفصیل سے موجود ہے. 

 *کرامات ِ صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہم اللہ*

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور  تابعین رحمہم اللہ اور دیگر صالحین کی کرامات تو بہت زیادہ ملتی ہیں مگر اختصار سے چند ایک کا بیان کیا جاتا ہے تا کہ کرامات کو جھوٹی کہانیاں کہنے والوں کا جھوٹ و فریب آشکار ہو سکے. 

نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پیارے صحابی حضرت عبدُاللہ رضی اللہ عنہ کا کشف یعنی علمِ غیب دیکھئے کہ اپنی مَوت، نَوعِیَتِ مَوت، حُسنِ خاتِمَہ وغیرہ سب کی خبر پہلے سے دے دی۔ چنانچہ حضرت سیّدُنا جابِر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جب غَزْوَۂ اُحُد ہوا میرے والد نے مجھے رات میں بُلا کر فرمایا: میں اپنے متعلق خیال کرتا ہوں کہ نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صحابہ میں پہلا شہید میں ہوں گا۔میرے نزدیک رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد تم سب سے زیادہ پیارے ہو۔ مجھ پر قرض ہے تم ادا کردینا اور اپنی بہنوں کے لئے بھلائی کی وَصِیَّت قبول کرو۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ہم نے دیکھا صبح سب سے پہلے شہید وہی تھے۔(بخاری،ج1،ص454،حدیث:1351مختصراً)

اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سورۂ کہف پڑھ رہے تھے تو آسمان سے ایسی چیز اتری تھی جو بادل کا سیاہ سائبان معلوم ہوتا تھا اور جس میں گویا چراغ روشن تھے۔ یہ فرشتے تھے جو کہ ان کی قرأت سننے کے لیے آئے تھے۔
(بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، رقم: 3614، مسلم کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب نزول السکینۃ رقم: 1859، ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فی سورۃ الکہف، رقم: 2885، مسند احمد4؍281۔)

سیدناعمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو فرشتے سلام کیا کرتے تھے۔
(مسلم کتاب الحج، باب التمتع، رقم: 2974۔)

سیدناسلمان اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہما جس طشتری میں کھانا کھا رہے تھے کہ وہ طشتری یا وہ چیزیں جو کہ اس میں تھیں، تسبیح پڑھنے لگیں۔ سیدناعباد بن بشر رضی اللہ عنہ اور اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے پاس سے اندھیری رات میں نکلے تھے اور تازیانہ کے کنارے کی شکل کا ایک نور ان کے لیے روشنی کرتا تھا۔ جب وہ ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو وہ روشنی بھی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک حصہ ایک کے ساتھ اور ایک حصہ دوسرے کے ساتھ ہوگیا۔
(بخاری، 3805، کتاب مناقب الانصار، باب منقبہ، اُسید بن حضیر و عباد بن بشر، مسند احمد3؍131)

بخاری و مسلم میں سیدناصدیق رضی اللہ عنہ کا قصہ ہے کہ جب وہ تین مہمانوں کے ہمراہ اپنے گھر کی طرف گئے۔ جو لقمہ کھاتے تھے، اس کے نیچے کھانا بڑھ کر اس سے زیادہ ہو جاتا تھا چنانچہ سب نے پیٹ بھر کر کھا بھی لیا اور کھانا بھی پہلے کی نسبت زیادہ ہوگیا۔ سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی رضی اللہ عنہا نے جب دیکھا کہ کھانا پہلے سے زیادہ ہے تو سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ اس کھانے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے پاس لے گئے۔ وہاں بہت سے لوگ آئے سب نے کھانا کھایا اور سب سیر ہوگئے۔
(بخاری ، کتاب مواقیت الصلاۃ، باب السمر مع الضیف والاھل رقم: 602، مسلم کتاب الاشربہ، باب اکرام الضیف، رقم: 5365)

سیدناخبیب بن عدی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں مشرکین کے پاس قیدی تھے اور ان کے پاس انگور لائے جاتے تھے جنہیں آپ کھایا کرتے تھے، حالانکہ مکہ میں انگور نہیں ہوتے۔
(بخاری ، کتاب الجہاد باب ھل یستاثر الرجل ومن لم یستاثر، 3045)

سیدناعامربن فہیرہ رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے۔ لوگوں نے ان کی نعش کو ڈھونڈا لیکن نہ ملی۔ بات یوں ہوئی کہ نعش قتل ہوتے ہی اٹھا لی گئی تھی، عامر بن طفیل نے نعش کو ہوا میں اٹھتے ہوئے دیکھا۔ عروہ کہتے ہیں لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں فرشتوں نے اٹھا لیا تھا۔
سیدہ اُم ایمنrہجرت کر کے نکلیں تو ان کے پاس راستے کا خرچ تھا اور نہ پانی، قریب تھا کہ پیاس سے ہلاک ہو جاتیں۔ روزہ دار بھی تھیں، جب افطار کا وقت قریب آیا تو ان کو اپنے سر پر کوئی آہٹ سنائی دی۔ سر اٹھایا تو کیا دیکھتی ہیں کہ ایک ڈول لٹک رہا ہے۔ چنانچہ آپ نے اس ڈول سے خوب سیر ہو کر پانی پیا اور زندگی بھر ان کو کبھی پیاس نہیں لگی۔
(ابن سعد 8/224۔ الاصابہ۔ باسناد رجالہ ثقات ولکنہ منقطع)

حضرت سیّدُنا سفینہ رضی اللہ عنہ کی کرامت بھی بہت مشہور ہے کہ یہ رُوم کی سَرزمین میں دورانِ سفر اسلامی لشکر سے بِچَھڑ گئے۔ لشکر کی تلاش میں جارہے تھے کہ اچانک جنگل سے ایک شیر نکل کر ان کے سامنے آگیا۔حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نے شیر کو مخاطب کر کے کہا: اے شیر! اَنَامَولٰی رَسُولِ اللہِ صلَّی اللہ علیہ وسلَّم یعنی میں رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا غلام ہوں، میرا معاملہ اِس اِس طرح ہے۔ یہ سُن کر شیر دُم ہِلاتا ہُوا ان کے پہلو میں آکر کھڑا ہوگیا۔ جب کوئی آواز سنتا تو اُدھر چلا جاتا، پھر آپ کے بَرابَر چلنے لگتا حتّٰی کہ آپ لشکر تک پہنچ گئے پھر شیر واپس چلا گیا
(مستدرک حاکم3؍606، مجمع الزوائد9؍366، والبیہقی فی الدلائل6؍46)

براء بن مالک رضی اللہ عنہ جب اللہ کو قسم دیتے تھے تو ان کی قسم سچی کر دی جاتی تھی۔
(ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب براء بن مالک، رقم: 3854)

جب جہاد میں جنگ کا زور مسلمانوں پر آپڑتا تھا تو صحابہ رضی اللہ عنہم فرمایا کرتے تھے، اے براء رضی اللہ عنہ اپنے پروردگار کو قسم دو۔ آپ کہا کرتے تھے ''اے میرے پروردگار میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو ان لوگوں کے کندھے ہمیں بخش دے۔ (یعنی ان کی مشکیں باندھ کر ہمارے حوالے کر دے) تو پھر دشمن کو شکست ہوجاتی تھی چنانچہ جب یوم قادسیہ میں آپ نے کہا کہ اے میرے پروردگار! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو ان لوگوں کے کندھے ہمیں بخش دے اور مجھے پہلا شہید بنا تو کفار کو شکست ہوگئی اور سیدنابراء رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے۔
سیدناخالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جب ایک مستحکم قلعہ کا محاصرہ کر لیا، تو کفار سے کہاکہ اسلام قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک اسلام نہیں لائیں گے جب تک تو زہر نہ پی لے۔ سیدناخالد رضی اللہ عنہ نے زہر پی لیا لیکن انہیں کچھ نقصان نہ ہوا۔
(مجمع الزوائد، 9؍350، طبرانی)

سیدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس درجہ مستجاب الدعوات تھے کہ جو دعا بھی کرتے تھے، منظور ہوجاتی تھی۔ آپ ہی نے کسریٰ کی فوجوں کو ہزیمت دی اور عراق فتح کیا۔
(ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب سعد بن ابی وقاص، رقم: 3751)

امیرالمؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالاربنا کر نہاوند کی سرزمین میں جہاد کے لیے روانہ فرمادیا۔ آپ جہاد میں مصروف تھے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجدنبوی کے منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ناگہاں یہ ارشاد فرمایا کہ یَاسَارِیَۃُ الْجَبَل (یعنی اے ساریہ!پہاڑکی طرف اپنی پیٹھ کرلو) حاضرین مسجد حیران رہ گئے کہ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو سرزمین نہاوند میں مصروف جہاد ہیں اورمدینہ منورہ سے سینکڑوں میل کی دوری پر ہیں۔آج امیر المؤمنین نے انہیں کیونکر اورکیسے پکارا ؟ لیکن نہاوند سے جب حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قاصد آیا تو اس نے یہ خبر دی کہ میدان جنگ میں جب کفار سے مقابلہ ہوا تو ہم کو شکست ہونے لگی اتنے میں ناگہاں ایک چیخنے والے کی آواز آئی جو چلا چلا کریہ کہہ رہا تھا کہ اے ساریہ ! تم پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو ۔ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز ہے، یہ کہا اورفوراً ہی انہوں نے اپنے لشکر کو پہاڑ کی طرف پشت کر کے صف بندی کا حکم دیا اور اس کے بعد جو ہمارے لشکر کی کفار سے ٹکر ہوئی تو ایک دم اچانک جنگ کا پانسہ ہی پلٹ گیا اوردم زدن میں اسلامی لشکرنے کفار کی فوجوں کو روندڈالا اورعساکر اسلامیہ کے قاہرانہ حملوں کی تاب نہ لاکر کفار کا لشکر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور افواج اسلام نے فتح مبین کا پرچم لہرا دیا۔ (مشکوٰۃ باب الکرامات ، بیہقی دلائل النبوۃ6؍370  طبرانی ،ابو نعیم وتاریخ الخلاء,  الاصابہ لابن حجر قال الالبانی وقد خرجۃ فی الصحیحہ 1110۔)

حضرت امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سرزمین روم میں مجاہدین اسلام کا ایک لشکر بھیجا ۔ پھر کچھ دنوں کے بعد بالکل ہی اچانک مدینہ منورہ میں نہایت ہی بلندآواز سے آپ نے دو مرتبہ یہ فرمایا : یَالَبَّیْکَاہُ!یَالَبَّیْکَاہُ!  (یعنی اے شخص! میں تیری پکار پر حاضر ہوں)اہل مدینہ حیران رہ گئے اوران کی سمجھ میں کچھ بھی  آیا کہ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کس فریاد کرنے والے کی پکار کا جواب دے رہے ہیں؟ لیکن جب کچھ دنوں کے بعد وہ لشکر مدینہ منورہ واپس آیا اوراس لشکر کا سپہ سالاراپنی فتوحات اور اپنے جنگی کارناموں کاذکر کر نے لگا تو امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ان باتوں کو چھوڑدو! پہلے یہ بتاؤ کہ جس مجاہد کو تم نے زبردستی دریا میں اتاراتھا اوراس نے یَاعُمَرَاہُ! یَاعُمَرَاہُ!  (اے میرے عمر!میری خبرلیجئے ) پکارا تھا اس کا کیا واقعہ تھا. سپہ سالارنے فاروقی جلال سے سہم کر کانپتے ہوئے عرض کیا کہ امیر المؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے اپنی  دریا کے پار اتارنا تھا اس لئے میں نے پانی کی گہرائی کا اندازہ کرنے کے لیے اس کو دریا میں اترنے کا حکم دیا ،چونکہ موسم بہت ہی سرد تھا اور زور دار ہوائیں چل رہی تھیں اس لئے اس کو سردی لگ گئی اوراس نے دو مرتبہ زور زور سے  یَا عُمَرَاہُ! یَاعُمَرَاہُ! کہہ کر آپ کو پکارا،پھر یکایک اس کی روح پرواز کر گئی ۔ خدا گواہ ہے کہ میں نے ہرگز ہرگز اس کو ہلاک کرنے کے ارادہ سے دریا میں اترنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ جب اہل مدینہ نے سپہ سالارکی زبانی یہ قصہ سناتو ان لوگوں کی سمجھ میں آگیا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دن جو دو مرتبہ یَالَبَّیْکَاہُ! یَالَبَّیْکَاہُ! فرمایا تھا درحقیقت یہ اسی مظلوم مجاہد کی فریاد وپکارکا جواب تھا ۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سپہ سالارکا بیان سن کر غیظ وغضب میں بھر گئے اورفرمایاکہ سر دموسم اور ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں میں اس مجاہد کودریا کی گہرائی میں اتارنا یہ قتل خطا کے حکم میں ہے ،لہٰذا تم اپنے مال میں سے اس کے وارثوں کو اس کا خون بہا ادا کرواورخبردار! خبردار!آئندہ کسی سپاہی سے ہرگز ہرگز کبھی کوئی ایسا کام نہ لینا جس میں اس کی ہلاکت کا اندیشہ ہوکیونکہ میرے نزدیک ایک مسلمان کا ہلاک ہوجانا بڑی سے بڑی ہلاکتوں سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر ہلاکت ہے۔( ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء للشاہ ولی اللہ)۔

زنیرہ رضی اللہ عنہ کو اسلام لانے کی وجہ سے عذاب دیا گیا لیکن اس نے اسلام نہ چھوڑا اور اس کی بینائی جاتی رہی۔ مشرکوں نے کہا، اس کی بینائی لات و عزیٰ لے گئے۔ زنیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ''واللہ ہرگز نہیں'' اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی لوٹا دی۔
(الاصابہ: 6/312۔)

سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے ارویٰ بنت حکم کے خلاف بددعا کی اور وہ اندھی ہوگئی۔ واقعہ یوں ہے جب کہ ارویٰ نے سعید پر کوئی جھوٹا الزام لگایا تو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! اگر وہ جھوٹی ہے تو اسے آنکھ سے اندھی کر دے یا اسے اسی زمین میں ہلاک کر دے، چنانچہ وہ اندھی ہوگئی۔ اور اپنی زمین کے ایک گڑھے میں گر کر مر گئی۔
(مسلم کتاب المساقاۃ، باب تحریم الظلم، وغصب الارض وغیرھا، رقم: 1610)

علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی طرف سے بحرین کے حاکم تھے اور اپنی دعا میں کہا کرتے تھے۔ یاعلیم، یا حلیم، یا علی، یاعظیم، تو ان کی دعا قبول ہوجایا کرتی تھی۔ایک مرتبہ ان کے کچھ آدمیوں کو پینے اور وضو کرنے کے لیے پانی نہ ملا تو آپ نے دعا کی اور قبول ہوگئی۔ ایک دفعہ سمندر ان کے سامنے آگیا اور وہ گھوڑوں کے ذریعہ اسے عبور کرنے پر قادر نہ تھے۔ آپ نے دعا کی تو ساری جماعت پانی پر سے گزر گئی اور ان کے گھوڑوں کی زینیں بھی تر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے دعا کی کہ میں مرجائوں تو یہ لوگ میری نعش نہ دیکھنے پائیں۔ چنانچہ ان کی نعش لحد میں نہ پائی گئی۔
(الفرقان بین اولیاء الرحمان و اولیاء الشیطان- امام ابن تیمیہ)

 حضرتِ سیِّدُنا امام مالک بن اَنس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے مشہورِ زمانہ مجموعہ احادیث'' مُوَئطّاامام مالِک'' میں فرماتے ہیں،حضرتِ سیِّدُنا عُر وہ بن زُبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ا ُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا،خلیفۃُ الرَّسول حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہنے اپنے مرضِ وفات میں انہیں وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، میری پیاری بیٹی ! آج تک میرے پاس جو میرا مال تھا ، وہ آج مِیراث کا مال ہے تمہارے دو بھائی( عبدالرحمٰن ا ور محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما ) اور تمہاری دو بہنیں (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) ہیں لہٰذا تم لوگ میرے مال کو قراٰنِ مجید کے حکم کے مطابِق تقسیم کر لینا ۔ یہ سُن کر حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی، ابّا جان! میری توایک ہی بہن'' بی بی اَسمائ'' ہیں، یہ میری دوسری بہن کون ہے؟آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہنے ارشاد فرمایا ، وہ (تمہاری سَوتیلی والِدہ)'' حبیبہ بنتِ خَارِجَہ'' (رضی اللہ تعالیٰ عنہا)کے پیٹ میں ہے، میرے خیال میں وہ لڑکی ہے ۔
( المُؤطّالِلامامِ مالک ج 2 ص 270 حدیث 1503 )

اِس حدیث کے تَحت حضرتِ سیِّدُنا علّامہ محمد بن عبدُالْباقی زُرْقانی قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَّانی تحریر فرماتے ہیں ، چُنانچِہ ایسا ہی ہوا کہ لڑکی پیدا ہوئی جن کا نام'' اُمِّ کُلثُوم'' رکھا گیا۔( شرحُ الزُّرقانی علی المُؤَطّا ج4ص61)
محترم قارئین!ا ِس حدیث مبارَک کے بارے میں حضرتِ علّامہ تاجُ ا لدّین سُبکی علیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ القوی حجۃ اللہ علی العالمین میں بیان فرماتے ہیں کہ اس حدیث سےخلیفۃُ الرَّسول حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دو کرامتیں ثابِت ہوتی ہیں:
(1) آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قبل از وفات ہی یہ علم ہو گیا تھا کہ میں اِس مرض میں دنیا سے رِحلَت( یعنی کُوچ) کرجاؤں گا ، اسی لیے توبوقتِ وصیّت فرمایا، میرے پاس جو میرا مال تھا ، وہ آج میراث کا مال ہے'' (2) جو بچّہ پیدا ہوگا وہ لڑکی ہے۔
( حُجَّۃُاللّٰہِ علَی العالَمِین ص612)
 
جو لوگ یہ کہتے پھرتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور اولیاءاللہ رحمہم اللہ کی کرامات میں انکا اپنا کچھ عمل دخل نہیں ہوتا اور انہیں کوئی اختیار نہیں ہوتا وہ "سورہ ص" کی ان آیات مبارکہ کو بغور پڑھ کر اپنے عقیدہ کی اصلاح کر لیں۔
فَسَخَّرْنَا لَـهُ الرِّيْحَ تَجْرِىْ بِاَمْرِهٖ رُخَـآءً حَيْثُ اَصَابَ (36)
ترجمہ: پھر ہم نے ہوا کو اس کے تابع کر دیا کہ وہ اس کے حکم سے بڑی نرمی سے چلتی تھی جہاں اسے پہنچنا ہوتا
وَالشَّيَاطِيْنَ كُلَّ بَنَّـآءٍ وَّغَوَّاصٍ (37
اور شیطانوں کو جو سب معمار اور غوطہ زن تھے۔
وَاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِى الْاَصْفَادِ(38)
اور دوسروں کو جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔
هٰذَا عَطَـآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَيْـرِ حِسَابٍ (39)
یہ ہماری بخشش ہے پس احسان کر یا اپنے پاس رکھ کوئی حساب نہیں۔

*غیر مقلدین کے امام ابن تیمیہ کا کرامات و تصرفات کا اقرار*

علامہ ابن تیمیہ  فرماتے لکھتے ہیں کہ : بہت سے لوگ ولی اسے سمجھتے ہیں جس کے ہاتھ میں خوارقِ عادت چیزوں کا ظہور ہو، اور اس سے کشف کا ظہور ہو، اس سے بعض خارقِ عادت تصرفات کا ظہور ہو، مَثَلاً : وہ کسی کی طرف اشارہ کرے تو وہ مرجاۓ یا وہ ہوا میں اڑ کر مکہ یا دوسرے شہر پہنچ جاۓ یا وہ پانی پر چلے یا وہ ہوا سے لوٹا بھردے یا اس کے پاس کچھ نہیں مگر وہ غیب سے خرچ کرتا ہے، یا وہ نگاہوں سے غائب ہوجاتا ہے، یا جب کوئی اس سے مدد چاہتا ہے اور وہ اس کے پاس نہیں ہے، یا وہ اپنی قبر میں ہے تو وہ اس کے پاس آتا ہے اور وہ اس کی مدد کرتا ہے، یا چوری شدہ مال کی خبر دیتا ہے یا غائب آدمی کا حال بتلادیتا ہے، یا مریض کے احوال سے آگاہ کردیتا ہے ان خوارق عادت باتوں کا صدور اگرچہ کبھی الله کے ولی سے ہوتا ہے مگر کبھی اس طرح کی باتیں الله کے دشمنوں سے بھی ظاہر ہوتی ہیں  بلکہ ولی الله ہونے کا اعتبار ان کی صفات، افعال اور احوال سے ہوگا کہ وہ کتاب الله اور سنّت کے مطابق ہیں؟  (مجموع الفتاوى : 11 / 214)
مکمل تحریر >>

Wednesday, 7 September 2022

تحریک ختم ‏نبوت ‏اور ‏نورانی ‏ڈاکٹرائن

*تحریک ختم ‏نبوت ‏اور ‏نورانی ‏ڈاکٹرائن*


*تحریر: ‏ابو رفیع سید محمد احمد کاظمی*

اللہ رب العزت نے اپنی ربوبیت الوہیت اور وحدانیت کو ہمیشہ مخفی رکھا، اور جب اس کو ظاہر کرنا چاہا تو مکمل اور منظم تدبیر کے ساتھ اس عظیم کائنات کو شرف تخلیق بخشا، جہاں جنات اور انسان سب کو رہنے کا موقع عطاء فرمایا۔ اپنی ربوبیت براہ راست نہیں ظاہر کی کیونکہ دیدار الٰہی کے عتاب کی تاب لانا ہمارے بس کی بات نہیں۔ اللہ پاک نے اپنی ربوبیت کو ظاہر کرنا چاہا تو اپنے مظہر کو اس دنیا کے اندر بھیجا انسانیت کے پردے میں۔چاور اس رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنا شرف عظیمت بخشا کہ خود ہی "لو لاک کما خلقت الافلاک" فرماکر ثقلان وغلمات پر یہ آشکار کردیا کہ یہ اب کچھ جو تخلیق کیا گیا صرف اور صرف محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان دکھانے کے لئیے پیدا فرمایا۔ یہاں پر امام احمد رضا نے ترجمانی کی اور فرمایا:

زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لیے

چنین و چناں تمہارے لئے ، بنے دو جہاں تمہارے لیے

اصالتِ کُل امامتِ کُل سیادتِ کُل امارتِ کُل

حکومتِ کُل ولایتِ کُل خدا کے یہاں تمہارے لیے


تمہاری چمک تمہاری دمک تمہاری جھلک تمہاری مہک

زمین و فلک سماک و سمک میں سکہ نشاں تمہارے لیے


اللہ پاک نے اس عظیم رسول کو سب سے آخر میں مبعوث فرمایا تاکہ تاکہ اس کے بعد پھر اس مسند پر کوئی نا آئے تا قیامت پھر اگر نام رہے گا تو اس پاک عظیم ہستی ہی کا رہے گا۔ اسی لئیے قرآن پاک میں علی الاعلان فرمایا:

سورۃ الأحزاب
آیت نمبر 40

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمًا  ۞

ترجمہ:
محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ‘ لیکن وہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں ‘ اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔


اہل ایمان اس عقیدے کی ہمیشہ حفاظت کرتے آئے، چائے سیدنا ابوبکر صدیق کے دور میں اسود عنسی آیا تو قتل ہوا، مسلمہ کذاب آیا تو واصل جہنم ہوا. اس کے بعد جب بھی ختم نبوت پر کسی نے انگلی اٹھانے کا تصور بھی کیا تو اس کی انگلی ہی نہیں سر بھی دھڑ سے الگ کردیا گیا۔ جس کی ہزاروں مثالیں ملتی ہیں۔

امت مسلمہ ایک اتحاد میں یک جسم ہوکر اپنا عروج بڑھاتی جارہی تھی مگر افسوس کسی کالی نظر کو ۔ کفر اور طاغوتی قوتوں کو یہ کہاں گوار گزرتا اس نے امت محمدیہ کے اندر اس عشق کو عقیدے کو ختم کرنے کے لئیے "فتنئہ قادیانیت" کو داخل کردیا۔ ہندوستان کی سرزمین سے غلام احمد نامی شخص جو کم وبیش 20بیماروں میں مبتلا تھا، اس کو کئی انجیکشن لگائے جاتے اور دماغی طور پر اس کو متذبذب کیا جاتا جس کے نتیجے میں کم۔وبیش 50 بیماروں کا وجود اس سے ثابت ہے۔ اس کو دماغی مرض بھی تھا ایسا مرض تھا جس کی تشخیص ڈاکٹرز نے ایسے کی کہ اس مرض میں انسان کسی بڑی چیز کا دعویٰ کرتا ہے پوزیشن اور عہدے کا اور ایسا ہی ہوا کہ اس بدبخت نے 11مراحل ہے کرتے ہوئے بالآخر خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے خلاف علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ جیسی شخصیات۔ پیر مہر علی جیسی شخصیات اسی وقت میدان عمل میں آئیں تو امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی کیسے چپ رہتے لیکن ان کو امام اعظم کا فرمان یاد آگیا کہ جو شخص دعوی کرے نبوت کا اس سے دلیل مانگنا بھی کفر ہے۔ الغرض آپ نے اس ذلیل کے واصل جہنم ہونے کے بعد بتایا سب کو اور لکھا بھی۔ لیکن یہ فتنہ ختم نہیں ہوا چونکہ انگریز اس کو مکمل پال پوس رہے تھے تو پاکستان بننے کے فورا بعد ان جاسوسوں نے پاکستان کی سیاست کو (ہائی جیک) کرلیا، قائد اعظم جیسی شخصیات کو راتسے سے زہر دے کر ہٹادیا گیا اور پاکستان کو مکمل قادیانی ملک بنانے کے اپنے دیکھے جانے لگے۔ لیکن اس وقت قربان جاؤں لیاقت علی خان جیسے عظیم لیڈرز پر۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی جیسے لوگ، علامہ سید ابوالحسنات قادری جیسے لوگوں پر۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری جیسے علمائے کرام۔ جنہوں نے اس فتنے کے خلاف آواز اٹھائی اور قوم کو بیدار کیا۔ اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ ظفراللہ خان قادیانی اس فتنے کو پال رہے تھے۔ اس نے آہستہ آہستہ نشریات اطلاعات پر بھی قادیانی لوگوں کو طعینات کردیا۔ پاک فوج کے اندر پلید قادیانیوں کو بھارتی کیا جانے لگا۔


*تحریک ختم نبوت 1953ء*
بالآخر جب علمائے کرام نے محسوس کیا کہ اب پاکستان اپنی نظریاتی ساکھ ہی کھو رہا ہے۔ لیاقت علی خان جیسے راہنماؤں کو قتل کیا جارہا ہے۔ ملک کا وزیر اعظم ناظم الدین جیسے غدار آچکے ہیں۔ فوج کے اندر جنرل عاصم جیسے ڈاکو بیٹھے ہیں۔ اور حکومت کے اندر اسکندر مرزا جیسے ختم نبوت کے غدار بیٹھے ہیں۔ تو علمائے کرام نے اس "قادیانی انقلاب" کا راستہ روکنے کی مکمل تگ ودو کی۔ اور باقاعدہ "تحریک ختم نبوت" چلائی۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے لوگ اور علماء شامل تھے۔ عوام اہلسنت ہر ہر شہر میں جلوس کی شکل اختیار کرکے "ختم نبوت زندہ باد" کے نعرے لگاتی کوئی احتجاج کی شکل میں تحریک چلاتی۔ اور علمائے کرام کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہوتا "ختم نبوت پر جان بھی قربان" اس وقت ان تمام اکابرین اور علماء کے تین مطالبات تھے:

1__ ظفراللہ خان کو فی الفور وزارت خارجہ سے ہٹادیا جائے کیونکہ وہ سرے عام قادیانیت کی تبلیغ کررہا تھا،

2__ کوئی بھی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک ختم نبوت پر ایمان نا رکھے۔

3__ پاکستان میں حکومت اور بڑے عہدوں پر غیر مسلم نہیں آسکتا یہ قانون بنایا جائے۔


ان تین مطالبات پر جو نتیجے میں ضرورت پیش آئی وہ یہ تھی کہ:

1__ مسلمان کی تعریف کیا ہے
2__ قادیانیت کو اسلام سے خارج قرار دیا جائے
3__ ظفراللہ خان کو ہٹادیا جائے اور اہم عہدوں پر غیر مسلم کی تقرری پر پابندی لگائی جائے۔

یہ سارے وزراء اور حاکمان کو پیش کردئیے گئے اس وقت مولانا عبدالستار خان نیازی رحمۃ اللہ علیہ نے وفد کے ساتھ یہ مطالبات جا کر کراچی میں وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کے سامنے پیش کئیے تو اس نے کہا ہم آٹے اور دال تک کو ترس جائیں گے امریکہ ہمیں کچھ نہیں دے گا۔ اس کے بعد علمائے کرام نے وہی تحریک ختم نبوت شروع کی۔ مولانا عبدالستار خان ابھی تحریک چلا ہی رہے تھے کہ سارے قائدین کو گرفتار کرلیا گیا۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے بڑے بڑے علماء علامہ ابوالحسنات قادری صاحب، سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب۔ ماسٹر تاج الدین انصاری صاحب۔ مولانا عبد الحامد بدایونی صاحب اور کافی اکابرین وعلماء کو گرفتار کرلیا گیا۔ اور عوام کو اس وقت فوج پولیس کے حوالے چھوڑ دیا گیا۔ جو علماء گرفتار نا تھے ان کو مولانا خلیل، علامہ غوث ہزاروی، مولانا عبدالستار خان نیازی جیسے بہادر علماء نے جمع کرنا شروع کیا اور ایک بار پھر سے اسی زور سے شروع ہوئی۔ لیکن اس بار ہر ہر جگہ فوج اور پولیس تعینات تھی جس جگہ سے جلوس گزرتا کئی جنازے ببی ساتھ ملاتے جاتے کئی عنفوان شباب کے نوجوان اپنی سانسیں نعرہ ختم نبوت پر نچھاور کرتے جاتے۔ پاک فوج میں موجود قادیانی جنرل عاصم جیسے بدبخت لوگوں نے اسکندر مرزا سے مل کر خون کی ہولی کھیلنا شروع کی ہزاروں علماء کو شہید کیا اور عوام کو گرفتار کرکے جنگلوں میں چھوڑ دیا گیا۔ اور کئی ہزار کارکنان اور قائدین کو یا تو زنندہ درغور کردیا گیا بے نام ونشان اجتماعی قبروں میں یا غریق آب کردیا گیا یا ان کو آگ لگادی گئی زندہ جلا دیا گیا۔ سینکڑوں علماء پر مقدمات دائر کردئیے گئے اور مولانا مودودی جیسے غلامی کو سزائے موت تک کے آرڈر جاری ہوگئے۔ اس وقت آن رکارڈ بات ہے کہ ایک فقیر سا بندہ بھی گرفتار تھا جس کو گرفتار اسی وجہ سے کیا گیا کہ نعرہ لگا رہا تھا ختم نبوت زندہ باد پولیس نے پکڑ کر گاڑی میں ڈالا اس وقت بھی اس کی زبان پر وہی نعرہ جاری تھا۔ اس کو بولا گیا کہ اس کی سزا موت ہے لیکن اس نے اور تیزی لگانا شروع کردیا بالآخر اس کو عدالت میں پیش کیا گیا جج نے ایک سال کی سزا دی تو وہ درویش چلا کر نعرہ بلند کرنے لگا "ختم نبوت زندہ باد" اس کے بعد جج نے ایک سال اور بڑھادی اس نے پھر نعرہ لگایا تو جج نے مزید بڑھادی ۔ بالآخر یہی بنتا رہا تو جج نے آرڈر دیا اس کو اسی وقت باہر لے جا کر گولی مار دی جائے یہ سن کو وہ درویش خوشی سے چلا اٹھا "ختم نبوت پر جان بھی قربان ہے" جج نے بالآخر حکم دیا کہ اس کو رہا کرو اس کے بعد بھی اس نے نعرہ لگایا "ختم نبوت زندہ باد" جج نے آرڈر جاری کردیا یہ دیوانہ ہے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔

لاہور میں ایک جگہ جلوس نکلا تو اندھا دھند فائرنگ کردی گئی سینکڑوں شہادتیں ہوئیں لیکن ختم نبوت کے وہ نعرے جاری رہے۔ بالآخر جلوس اس ریڈ لائن تک پہنچ گیا جو پاک فوج نے لگائی تھی کہ اس سے آگے کوئی بڑھا تو گولی مار دی جائے گی۔ اس وقت ایک نوجوان آگے بڑھا اور جام شہادت نوش کرگیا۔ اسی کے بعد اس جیسا دوسرا آیا اس نے بھی اپنی جان قربان کردی۔ بعد میں پتہ چلا یہ دونوں سگے بھائی تھے۔ اسی طرح کئی لاشیں یہاں برتی گئیں بالآخر سارے مل کر نکلے اور ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگانے والی عوام اہلسنت کو بےدردی سے قتل کردیا گیا۔ لاہور اور کراچی کی سڑکیں کئی مہینوں تک خون سے لت پت رہیں بالآخر طاقت کے زور پر تمام علمائے کرام کو گرفتار کرلیا گیا۔ سید ابوالحسنات۔ عطاء اللہ شاہ بخاری۔ ماسٹر تاج الدین۔ شیخ حسان الدین۔ مولانا احمد لاہوری۔ سید نورالحسن شاہ۔ مولانا لال حسین۔ مولانا محمد حیات۔ خواجہ قمرالدین سیالوی۔ مولانا عبدالستار خان نیازی۔ مولانا غلام غوث ہزاروی۔ مولانا خلیل احمد۔ مولانا کفایت حسین نائب امیر تحریک شیعہ تھے اور گرفتار ہوئے۔ مولانا مظفر علی شمسی شیعہ گرفتار ہوئے۔ کافی کو شہید کردیا گیا۔ عوام کا منتشر کیا گیا۔ ہزاروں اکابرین اور مجاہدین اپنی کا۔ نچھاور کرگئے۔ لیکن یہ تحریک بالآخر دب گئی۔

*"امام احمد نورانی علیہ الرحمہ اور تحریک ختم نبوت"*

نواسہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ۔ صاحبزادہ شاہ عبد العلیم صدیقی نوراللہ مرقدہ امام انقلاب بصیرت کے سمندر سیاست کے شہنشاہ افق پر روشن ستارے نے اس تحریک میں دوبارہ جام ڈالی۔ سرے مکاتب فکر کو جمع کرنا شروع کیا۔ اور قادیانی انقلاب کا راستہ روکنے کی کوششیں تیز کردیں۔ "تحریک ختم نبوت" کای ابتداء ہوئی اور اس کا سربراہ دیوبندی عالم دین مولانا یوسف لدھیانوی کو مقرر کردیا گیا۔ یہ تحریک اس قلندر کی قیادت میں چل رہی تھی جس کے بابا نے اپنی خلافت میں اسود عنسی، سجاعہ اور مسلمہ کذاب جیسے بدبختوں کو واصل جہنم کردیا تھا۔ ان کا ہی خون شامل تھا نا کسی کی پرواہ کی نا خوف قید وبند، مولانا محمد شفیع اوکاڑوی جیسے علماء علامہ عبد المصطفیٰ ہزاروی جیسے علماء کو الیکشن میں کھڑا کروایا اور الیکشن میں کئی سیٹیں حاصل کیں۔ مولانا مفتی محمود بھی موجود تھے۔ بالآخر وہی پرانے مطالبات پیش کردئیے گئے کہ قادیانیت کا خارج از اسلام قرار دیا جائے۔ لیکن اس بار کے جو حالات تھے وہ بھی کم نہ تھے خون آشام حالات ہوچکے تھے ہر طرف شہادتیں ہوئیں۔ لیکن علمائے حق اتحاد پر ڈھٹے رہے بالآخر قادیانیت جیسے فتنے کو 7ستمبر 1974ء کو قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی گئی۔ اور اس انقلاب کا راستہ مکمل روک دیا گیا۔ پھر 1984ء میں ایک بار پھر قادیانیوں نے مذہبی آزادی کی اپیل کی لیکن علمائے کرام نے اس وقت بھی ان کو دلائل دے کر ہرا دیا اور عدالت نے ان کی اپیل خارج کردی۔ کم وبیش 10ہزار قربانیوں کے بعد پاکستان کا انظام ان قادیانی پلید کتوں سے پاک ہوگیا۔


*"نورانی ڈاکٹرائن ماضی اور حال"*

جس وقت کرام نے تحریک چلائی تو اس وقت کے غدار ختم نبوت جسٹس منیر نے ایک گناؤنی سازش کی۔ جو بھی علامہ دین جس مسلک کا جیل میں آتا اس سے سوال کرتا مسلمان کی تعریف کیا ہے؟؟ وہ اپنے نظریات کے مطابق جواب دیتا اس طرح اس کمبخت نے علمائے کرام ک مختلف تعریفات کو ملا کر "منیر انکوائری کمیشن رپورٹ" شائع کردی اور کہا کہ اگر صرف قادیانیوں کو کافر قرار دیا جائے تو بھی مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ ان میں سے ہر ایک مکتبہ فکر دوسرے کی تعریف کے مطابق کافر ٹھہرتا ہے۔ اسمبلی میں تقریر چل رہی تھی کہ اس نے چیلنج دے دی کہ آپ لوگ ایک متفقہ تعریف لے آئیں ان شاءاللہ تعالیٰ عزوجل اس پر عمل ہوگا۔ جمیعت علمائے پاکستان کے علماء (مولانا شجاعت علی) نے ترجمانی کرتے ہوئے چیلنج قبول کیا۔

سارے مکتبہ فکر کے علماء کو جمع کردیا گیا اور ایک متفقہ تعریف پر زور دیا گیا تاکہ قادیانیت کو کسی بھی طرح نکال دیا جائے ۔ اس پر سارے اختلافات عقائد نظریات کو دیکھنے سے پہلے دین کی اصل اور ماخذ قرآن پاک کی طرف رجوع کیا گیا اس کی چند آیات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تعریف کی گئی کہ:

*"مسلمان ہر وہ شخص ہے جو ضروریات دین اور قرآن وسنت پر یقین رکھتا ہو،اور حضور نبی اکرم علیہ السلام کو آخری نبی مانتا اور قرآن وسنت کی تعبیر جو سلف صالحین سے اجماعا منقول ہے صحیح جانتا ہو"۔*

اسی تعریف کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ اور پھر اس کو دیکھ آئین پاکستان کے باب:5، آرٹیکل:260 دفعہ:3 کے تحت مسلمان اور کافر کی تعریف شامل کردیا گئی۔

امام احمد نورانی نے اس وقت سیاسی پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے عظیم کارنہ انجام دیا۔ اور اس کے بعد گروپ وارانہ مواد میں کمی نظر آئی۔ کیونکہ جو مرتبہ اجماعی تعریف شائع کردی گئی اس کے مطابق کوئی فرقہ بنیادی طور پر کافر نہیں ٹھہرتا تھا۔ جس کے اندر کفر ہوگا وہ چائے کا جماعت کا ہو کافر ٹھہرے گا۔ اس پر اتفاق ہوا اور قادیانیت کو بالکل نامراد قرار دے دیا گیا۔ لیکن ان کو شک تھا کہ یہ لوگ گاؤں دیہاتوں میں حملہ آور یوں گے کیسے کی لالچ دے کر ان کو قادیانی بنادیں گے۔ تو آپ نے تبلیغ دین کے لئیے 8جماعتوں کے علاؤہ ایک جماعت بنائی اور فیصلہ کیا کہ یہ صرف اور صرف تبلیغ دین کا کام کرے گی اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ سیاست ہم سنبھال لیں گے۔ لہذا "دعوت اسلامی" کی بنیاد رکھی اور اس طرح قادیانی لابیوں کا مکمل راستہ بند کردیا۔

مولانا شاہ احمد نورانی مذہبی علماء کا اتحاد چاہتے تھے ۔ اور پاکستان میں ایک اسلامی حکومت کا خواب دیکھ رہے تھے جس پر انہوں نے پہلے جمیعت علمائے پاکستان کی بنیاد رکھی پھر متحدہ مجلس عمل بنائی گئی جس میں تمام مکاتب فکر نے حصہ لیا اور کافی سیٹیں حاصل کیں۔

اس ساری کوشش کے بعد ایک اور پھر سے امریکہ اور برطانیہ نے اسرائیل کے زریعے پاکستان میں قادیانیت کو مضبوط کرنا شروع کردیا۔ اور مشرف جیسے قادیانی جرنیلز آگئے جس نے پورے ملک میں فوجی طاقت کے بل بوتے پر قادیانیت لابیز کو شامل کردیا۔ علماء کو قتل کروادیا۔ آواز اٹھانے نہیں دیتا تھا کسی کو۔ اور پاکستان میں قادیانیت پھر جھنڈے گاڑنے لگی۔ علمائے کرام کے اندر پھر وہی پرانی بحث ومباحثہ شروع کروادیا گیا۔ ایک دوسر پر کفر کے فتوے آنا شروع ہوگئے۔ اور اس طرح پاکستان میں آج پھر سے 79-80٪ نظام مکمل قادیانیت کے حوالے ہے۔ آج اگر ہمارے اوپر فرض ہے تو وہی تعریف اور نورانی ڈاکٹرائن ہے۔ سب نے مل کر اس آئے ہوئے سیلاب اور فتنے کو روکنا ہے۔ مگر افسوس کہ آج دوسروں کو کیا ملاتے اپنوں کی ٹانگیں کھینچنے لگے پڑے ہیں۔ اگر پاکستان کو اس ناسور مرض سے بچانا ہے تو قادیانیت کے خلاف ایک پھر سے تحریک ختم نبوت چلانا ہوگی علماء کرام نے۔


اگر آج ہم نے اپنی ماضی کی قربانیوں کو یاد نہیں کیا۔ اپنی عوام اہلسنت کے خون علمائے کرام کی قربانیوں کو یاد نہیں کیا۔ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی گرفتاری کو یاد نہیں کیا۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادی کی کوششوں کو یاد نہیں کیا۔ مولانا جالندھری ہو ہونے والے ظلم کو یاد نہیں کیا۔ سید ابوالحسنات کی قید وبند کو یاد نہیں کیا۔ مولانا لال حسین اختر جیسے مرد سپاس کو یاد نہیں کیا۔ مولانا یوسف بنوری جیسے علماء کرام کی خدمات کو یاد نہیں کیا۔ علامہ صاحبزادہ افتخار الحان کی گرفتاری کو یاد نہیں کیا۔ مولانا عبدالستار خان نیازی کی درناک داستان کو یاد نہیں کیا جو جیل کے اندر ان پر ظلم وستم ہوا اس کو یاد نہیں کیا علامہ غلام غوث ہزاروی کی اولاد کی قربانیوں کو یاد نہیں کیا۔ مولانا یوسف لدھیانوی کی شہادت کو یاد نہیں کیا۔ علامہ انور شاہ کشمیری کو ہم نے بلا دیا۔ خواجہ محمد ابراہیم کی کوششوں کو پس پشت ڈال دیا۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر کی شہادت کی قدر نہیں کی۔ حضرت شاہ صافی سلیمان کو بلادیا۔ حضرت میاں میر شرقپوری کی خدمات کو نہیں پڑھا۔ مولانا سید شمس الدین کی شہادت کی قدر نا کی۔ خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی کی قربانیقں کو رائے گاں جانے دیا۔ مولانا عتیق الرحمن چنیوٹی کی عظیم قربانیوں کو اوراقوں میں دفن کردیا۔ لیاقت علی خان کی شہادت کو بلادیا۔ مولانا مودودی کی کاوشوں کو بلایا ۔۔مجاہد ختم نبوت آغا شورش کاشمیری کو بلادیا۔ مولانا تاج محمود پر ہونے والے ظلم وجبر کو بھول بیٹھے۔ محبوب علی شمسی (شیعہ) کی قربانیوں کو بھول گئے۔ مولانا کفایت حسین اور جعفر حسین شیعہ کو ہم نے کافر کہہ کر ٹھکرادیا۔ قائد انقلاب امام شاہ احمد نورانی کی عظیم قربانیوں کی قدر نہیں کی۔۔۔۔۔ تو یاد رکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دن نہ آئے کہ پھر آپ کو خون میں لت پت ہونا پڑے۔ شہروں کی دیواریں خون سے رنگین ہوجائیں۔ ملک خدادا د پر مکمل قادیانی قابض ہوجائیں۔ اپنے اپنے امیر اپنے اپنے قائد سب کو مبارک مگر اس وقت وہ وقت نہیں کہ ہر کوئی اپنا قائد لے کر نکلے اگر مولانا نورانی دیوبندی عالم کو تحریک تحفظ ختم نبوت کا امیر مقرر کرسکتا ہے۔ اگر مولانا نورانی شیعہ عالم مولانا شمسی کا نائب امیر مقرر کرسکتا ہے۔ اگر جنرل سیکریٹری علمائے اہلسنت اور علمائے اہلحدیث میں سے کسی کو رکھ سکتا ہے تو وہ جزبہ آپ کو پیدا کرنا ہوگا قربانی دینی ہوگی ورنہ اللہ نا کرے آگے علماء کرام کا مکمل کردار ختم کرنے کا منصوبہ چل رہا ہے۔ صدارتی نظام لایا جائے گا جس میں ووٹ جیتنا بہت مشکل کام ہے چھوٹی چھوٹی پارٹیاں بناکر۔ آپ کو اتحاد کرنا پڑے گا۔ شاہ احمد نورانی جیسا نا کوئی سیدہ عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیہا سے محبت کرنے والا ہوگا۔ نا ہی مولنا شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللّٰہ علیہ جیسا کوئی امیر معاویہ کا داعی ہوگا۔ نا ہی کوئی علمائے اہلسنت جیسا مولا علی کا محب ہوگا۔ نا ہی کوئی علمائے دیوبند جیسا کٹر حنفی ہوگا۔ وہ سب حالات کو سمجھ گئے اور متفقہ تعریف بھی شائع کروائی۔ آج پھر ہمیں ایک ہونا پڑے گا۔۔۔۔

اللہ پاک اس وطن عظیم کا حامی وناصر ہو۔ اللہ پاک تحریکی ختم نبوت کے مجاہدین کے درجات بلند فرمائے ۔ جس جس نے غداری کی کی آپ کے سامنے ذلیل ہوا۔ اور جلد ان شاءاللہ تعالیٰ عزوجل جو کو غدار ہے ذلیل اور رسوا ہوگا۔
مکمل تحریر >>