Pages

Sunday, 23 May 2021

انہدام جنت البقیع پرایک مفصل تحقیق: ”آلِ سعود نسلِ یہود“ پیش کردہ ازمحمد عثمان صدیقی (بشکریہ محققِ عرب محمدساخراورنیوز ایجنسی TNA)

انہدام جنت البقیع پرایک مفصل تحقیق:
”آلِ سعود نسلِ یہود“
پیش کردہ ازمحمد عثمان صدیقی
(بشکریہ محققِ عرب محمدساخراورنیوز ایجنسی TNA)
احباب سعودی عرب دنیا کی وہ واحد مملکت ہے جس کا نام کسی خاندان کے نام پر ہے، سعودی عرب پر فرمانروا خاندان آل سعود کا پس منظر کیا ہے؟
 اس خاندان کے آباء و اجداد کون ہیں؟
اس خاندان کا تعلق کیا واقعی عرب کے مشہور خاندان عنزہ سے ہے جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے؟
کیا آل سعود حقیقت میں عربی النسل ہیں؟ یا یہ کسی اور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور کیا ان کے آباء و اجداد مسلمان تھے یا ان کا تعلق کسی دوسرے مذہب سے تھا؟
یہ وہ تمام سوالات تھے جو تحقیق طلب تھے، چنانچہ اس تحقیق کا بیڑاایک محقق محمد ساخر نے اٹھایا،(محمد ساخر کی یہ ریسرچ اس کے لیے موت کا پروانہ لے کر آئی اور سعودی حکام نے اپنی اصل حقیقت سامنے آنے پر اس شخص کو سزائے موت دے دی)۔
اب مفصل انداز میں ہم آپ کو کوبتاتے ہیں کہ عرب شریف پر قابض ہزاروں بے بےگناہ مسلمانوں کو شہید کرنے والا قاتل جنت البقیع کو منہدم کرنے والا درندہ ڈاکو لٹیرا  بدبخت سعود اصل میں ایک منافق یہودی ”مردخائی“ کا پوتاتھا۔
851 ہجری میں قبیلہ عنزہ کی ایک شاخ آل مسالیخ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے ایک تجارتی کارواں تشکیل دیا جس کا مقصد عراق سے غذائی اجناس خرید کر انہیں نجد لانا تھا، اس قافلے کا سالار سامی بن مثلول تھا، اس قافلے کا گزر جب بصرہ کے بازار سے ہوا تو قافلے کے کچھ لوگوں نے اشیائے خورد و نوش خریدنے کے لیے بصرہ کے بازار کا رخ کیا، وہاں وہ ایک تاجر کے پاس پہنچے، یہ تاجر یہودی تھا، اس کا نام مردخائی بن ابراہیم بن موسیٰ تھا،خرید و فروخت کے دوران اس تاجر نے ان لوگوں سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ان کا تعلق عنزہ قبیلے کی ایک شاخ المسالیخ سے ہے، یہ نام سننا تھا کہ یہودی کھڑا ہوا اور وہ ان میں سے ہر فرد سے بڑے تپاک کے ساتھ گلے ملا، اس نے بتایا کہ وہ خود اس قبیلے کی شاخ سے تعلق رکھتا ہے لیکن اپنے والد کے عنزہ قبیلے کے بعض افراد سے ایک خاندانی جھگڑے کی وجہ سے اس نے بصرہ میں آکر رہائش اختیار کر لی، اس نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ قافلے والوں کے تمام اونٹوں پر گندم، کھجور اور چاول کی بوریاں لاد دی جائیں، یہودی تاجر کے اس رویے نے قافلے والوں کو حیران کر دیا، وہ انتہائی خوش ہوئے کہ عراق میں ان کے ایک خاندان کا فرد مل گیا ہے، جو ان کے رزق کا وسیلہ ہے، انہوں نے اس کی ہر بات پر من و عن یقین کر لیا، اگرچہ وہ تاجر یہودی تھا لیکن چونکہ المسالیخ قبیلے کے لوگوں کو اناج کی شدید ضرورت تھی لہٰذا انہوں نے اس کی مہمان نوازی کو اپنے لیے غنیمت جانا، جب قافلہ اپنا واپسی کا رخت سفر باندھ رہا تھا تو اس نے اہل قافلہ سے درخواست کی کہ وہ اگر اسے بھی اپنے ہمراہ لے چلیں تو یہ اس کے لیے بڑی خوش بختی ہوگی، کیونکہ اس کی عرصہ دراز سے خواہش ہے کہ وہ اپنے آباء و اجداد کے وطن کو دیکھے، نجد پہنچ کر اس نے لوگوں سے راہ و رسم بڑھانا شروع کر دی اور کئی افراد کو اپنی چرب زبانی کی بنا پر، اپنے حلقہ اثر میں لانے میں کامیاب ہوگیا، لیکن غیر متوقع طور پر اسے وہاں القسیم سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما شیخ صالح السلمان عبد اللہ رحمہ اللہ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، ان مذہبی عالم کی تبلیغ کا دائرہ نجد، یمن اور حجاز تک پھیلا ہوا تھا، یہودی کو اس شخص کی مخالفت کی وجہ سے مجبوراً یہ علاقہ چھوڑنا پڑا اور وہ القسیم سے الاحصاء آگیا، یہاں آکر اس نے اپنا نام تبدیل کر دیا اور مردخائی سے مرخان بن ابراہیم موسیٰ بن گیا، پھر وہ یہاں سے القطیف کے قریب ایک علاقہ دراعیہ میں قیام پذیر ہوگیا، یہاں اس نے مقامی باشندوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ایک من گھڑت کہانی کا سہارا لیا، کہانی یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمانوں اور کفار کے مابین لڑی جانے والی جنگ احد میں ایک کافر کے ہاتھ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈھال لگ گئی، اس کافر نے یہ ڈھال بنو قنیقہ کے ہاتھ فروخت کر دی، بنو قنیقہ نے اسے ایک بیش بہا خزانہ سمجھتے ہوئے اپنے پاس محفوظ رکھا، یہودی تاجر نے اس علاقے کے بدؤوں کے درمیان اس طرح کی کہانیاں پھیلانا شروع کر دیں، ان من گھڑت کہانیوں کے ذریعے وہ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ عربوں میں یہودی قبائل کا کتنا اثر ہے اور وہ کس قدر لائق احترام ہیں، اس نے اس طریقے سے عرب دیہاتیوں، خانہ بدوشوں، بدو قبائل اور سادہ لوح افراد میں اپنا ایک مقام و مرتبہ بنا لیا، آخر اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ مستقل طور پر القطیف کے قریب درعیہ قصبے میں قیام کرے گا اور اسے اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنائے گا، اس کے خیال میں یہ علاقہ عرب میں بڑی یہودی سلطنت کے قیام کے لیے راہ ہموار کرے گا، اپنے ان مقاصد کی تکمیل کے لیے اس نے عرب کے صحرائی بدؤوں سے روابط شروع کر دیے، اس نے اپنے آپ کو ان لوگوں کا ملک یعنی بادشاہ کہلوانا شروع کردیا، اس موقع پر دو قبائل قبیلہ عجمان اور قبیلہ بنو خالد اس یہودی کی اصلیت کو جان گئے اور فیصلہ کیا کہ اس فتنے کو یہیں ختم کر دیا جائے، دونوں قبائل نے باہم اس کے مرکز درعیہ پر حملہ کردیا اور اس قصبے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، جبکہ مردخائی جان بچا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا اور العارض کے نزدیک المالی بید غثیبہ کے نام سے ایک فارم میں پناہ لی۔ یہی العارض آج ریاض کے نام سے جانا جاتا ہے، جو سعودی عرب کا دارالخلافہ ہے، مرد خائی نے اس فارم کے مالک ۔۔ کہ جو بہت بڑا زمیندار تھا ۔۔ سے درخواست کی کہ وہ اسے پناہ دے، فارم کا مالک اتنا مہمان نواز تھا کہ اس نے مرد خائی کی درخواست قبول کرلی اور اسے اپنے یہاں پناہ دے دی لیکن مردخائی کو اپنے میزبان کے پاس ٹھہرے ہوئے ایک ماہ ہی گزرا تھا کہ اس نے اپنے محسن اور اس کے اہل خانہ کو قتل کردیا اور بہانہ یہ کیا کہ ان تمام کو چوروں کے ایک گروہ نے قتل کیا ہے، اس کے ساتھ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس افسوس ناک واقعہ سے قبل اس نے اس زمیندار سے اس کی تمام جائیداد خرید لی تھی، لہٰذا اب اس کا حق بنتا ہے کہ اب وہ یہاں ایک بڑے زمیندار کی حیثیت سے رہے، مرد خائی نے اس جگہ پر قبضہ جمالینے کے بعد اس کا نام تبدیل کر کے اپنے پرانے کھوئے ہوئے علاقے کے نام پر آل درعیہ رکھا اور اس غصب شدہ زمین پر فوراً ہی ایک بڑا مہمان خانہ تعمیر کروایا جس کا نام اس نے مضافہ رکھا، یہاں رہتے ہوئے اس نے آہستہ آہستہ اپنے مریدین کا ایک حلقہ بنا لیا جنہوں نے لوگوں کے درمیان یہ غلط طور پر مشہور کرنا شروع کردیا کہ مرد خائی ایک مشہور عرب شیخ ہے، کچھ عرصے بعد اس نے اپنے اصل دشمن شیخ صالح سلمان عبداللہ التمیمی کو ایک منصوبے کے تحت قصبہ آل زلافی کی مسجد میں قتل کروادیا، اس اقدام کے بعد وہ ہر طرف سے مطمئن ہوگیا اور درعیہ کو اپنا مستقل ٹھکانابنا لیا، درعیہ میں اس نے کئی شادیاں کیں، جن کے نتیجے میں وہ درجنوں بچوں کا باپ بنا، اس نے اپنے ان تمام بیٹے بیٹیوں کے نام خالص عرب ناموں پر رکھے، یہودی مرد خائی کی یہ اولاد ایک بڑے عرب خاندان کی شکل اختیار کر گئی، اس خاندان کے لوگوں نے مرد خائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غیر قانونی طریقوں سے لوگوں کی زمینیں ہتھیانا شروع کردیں اور ان کے فارموں پر قبضہ کرنا شروع کردیا، اب یہ اس قدر طاقتور ہوگئے کہ جو کوئی بھی ان کی شر انگیزیوں کے خلاف آواز اٹھاتا اسے قتل کروا دیتے، یہ اپنے مخالف کو زیر کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے، اپنے اثر و رسوخ کو مزید بڑھانے کے لئے انہوں نے رابعہ عنزہ اور المسالیخ جیسے مشہور عرب قبائل کو اپنی بیٹیاں دیں، مرد خائی کے لاتعداد بیٹوں میں سے ایک بیٹے کا نام المقارن تھا، المقارن کے ہاں پہلا بیٹا پیدا ہوا جس کا نام محمد رکھا گیا تھا، محمد کے بعد القارن کے ہاں اس کے دوسرے بیٹے نے جنم لیا جس کا نام سعود رکھا گیا، یہودی مردخائی کے اسی بیٹے کی نسل بعد میں آل سعود کہلائی اس وقت کہ جب میں یہ تحقیق پیش کررہا ہوں آل سعود کی تعداد 200 شہزادوں اور 25000 نفوس تک پہنچ چکی ہے
انیسویں صدی عیسوی میں آل سعود کو کیسے انگریزوں نے استعمال کرکے سلطنت عثمانیہ ختم کروائی یہ ایک الگ موضوع ہے مگرفی الوقت انہدام جنت البقیع کے حوالے سے معروضات پرہی اکتفاکررہاہوں
تو احباب ”بقیع“ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں جنگلی پیڑ پودے بکثرت پائے جاتے ہوں اور چونکہ بقیع قبرستان کی جگہ میں پہلے جھاڑ جھنکاڑ اور کانٹے عوسج یعنی غرقد کے پیڑ بکثرت تھے اس لیے اس قبرستان کا نام بھی بقیع غرقد پڑ گیا، اس کا محل وقوع یہ ہے کہ یہ قبرستان مدینہ منورہ کی آبادی سے باہر مسجد نبوی شریف کے مشرقی سمت میں واقع ہے، اس کے ارد گرد مکانات اور باغات تھے اور تیسری صدی میں جو مدینہ منورہ کی فصیلی دیوار تعمیر ہوئی اس سے یہ ملا ہوا تھا، اس فصیل کی تجدیدات متعددبار ہوئی ہے، جن میں آخری تجدید عثمانی ترکی دور میں سلطان سلیمان قانونی کے زمانہ میں ہوئی، پھر اس ملک میں امن قائم ہوجانے کے بعد اس فصیلی دیوار کو منہدم کر دیا گیا، پھر مسجد نبوی شریف کی آخری توسیع میں اس قبرستان اور مسجد نبوی شریف کے درمیان جو مکانات تھے ان سب کو منہدم کر دیا گیا، ان دنوں کے درمیان جو محلہ آباد تھا، وہ اغوات کے نام سے مشہور تھا، مسجد نبوی شریف کے مشرقی سمت میں اب یہ بقیع قبرستان مسجد نبوی شریف کے خارجی صحن سے مل چکا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرات مہاجرین رضوان اللہ اجمعین نے جب مدینہ منورہ کو ہجرت کر کے اپنا مسکن و وطن بنایا، تو اس شہر مبارک میں مزید تعمیری و تمدنی ترقی ہونے لگی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ کوئی مناسب جگہ مسلمانوں کی اموات کی تدفین کے لیے متعین ہو جائے،اسی مقصد کے پیش نظر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس(بقیع کی)جگہ تشریف لائے،تو ارشاد فرمایا: مجھے اس جگہ(یعنی بقیع) کا حکم(قبرستان کے لیے)دیا گیا ہے۔(مستدرک امام حاکم 11/193)اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس (بقیع کی)جگہ مسلمانوں کا قبرستان بنانے کا حکم فرمایا تھا اور یہیں سے اس جگہ یعنی بقیع قبرستان کی فضیلت کی ابتدا ہوتی ہےجنت البقیع میں تقریباً دس ہزار صحابہ، کئی امہات المؤمنین، ہلبیت آل محمدصلی اللہ علیہ وسلم،سینکڑوں اولیاء اللہ، صوفیا، علماء، محدثین اورسلطنت عثمانیہ کے خلفاو دیگر مدفون ہیں۔
دوررسالت میں سب سے پہلے انصار مدینہ میں اسعد بن زرارہ اور عثمان بن مظعون رضوان علیہ اجمعین اس قبرستان میں دفن کیے گئے،سلطنت عثمانیہ میں مؤرخین نے تحقیق کی روشنی میں کئی اہم شخصیات کی قبروں کی نشان دہی کی اور وقت گزرنے کے بعد جب زیادہ قبریں ہوتی گئیں تو بہت سے مزارات اور گنبد مخصوص شخصیات کی عزت وتوقیر کے طورتعمیر کیے گئے جو پچھلی صدی میں انہدام سے سےقبل باقی تھے۔ اور آل سعود نے یوم الہدم کے تاریخی سیاہ واقعے میں سب اجاڑ دیے۔
جنت البقیع میں مدفون دس ہزارسے زائد اللہ کی نیک ہستیوں میں اولادِ سیدی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
 حضرت خاتون جنت سیدہ فاطمہ بنت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت ام کلثوم بنت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت رقیہ بنت سیدنامحمد صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت زینب بنت محمدصلی اللہ علیہ وسلم
ازواج مطہرات میں حضرت عائشہ بنت ابی بکررضی اللہ عنہا، حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالی
حضرت حفصہ بنت عمررضی اللہ عنہ
حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہ
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ
حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہ
حضرت ام حبیبہ رملہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہ
حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہ
حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہ
صحابہ و دیگر شخصیات :
حضرت عثمان بن مظعون،رضی اللہ عنہ صحابی پہلے مدفون بقیع
حضرت اسعد بن زرارہ، صحابی رضی اللہ عنہ دوسرے مدفون بقیع
حضرت عثمان بن عفان، داماد رسول و تیسرے خلیفہ راشد
رضی اللہ عنہ حضرت اروی بنت کریزرضی اللہ عنہ خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان کی والدہ ہرضی اللہ عنہ
حضرت عبدالرحمن بن عوف، صحابی رضی اللہ عنہ  عشرہ مبشرہ میں سے ایک۔
حضرت سعید بن زیدرضی اللہ عنہ، صحابی عشرہ مبشرہ میں سے ایک۔
حضرت سعد بن معاذ، صحابی رضی اللہ عنہ۔
حضرت ابو سفیان بن حرب صحابی رضی اللہ عنہ
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ، تابعی
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعودرضی اللہ عنہ، تابعی
حضرت عروہ بن زبیررضی اللہ عنہ تابعی
حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکررضی اللہ عنہ تابعی
ابوبکر بن عبدالرحمان رضی اللہ عنہ، تابعی مذکورہ پانچ فقہا سات معروف فقہائے مدینہ میں سے ہیں
حضرت ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ، تابعی فقیہ مدینہ منورہ۔
حضرت سالم بن عبد اللہ، رضی اللہ عنہ تابعی
حضرت خارجہ بن زید بن ثابت، تابعی رضی اللہ عنہ 
حضرت سلیمان بن یسار، رضی اللہ عنہ تابعی
حضرت ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف، تابعی فقیہ مدینہ منورہ۔رضی اللہ عنہ
حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ، آپ فقہ مالکی کے بانی و فقيہ مسلم۔
حضرت شمس الدین سخاوی، محدث ومؤرخ مؤرخ مصري۔
امام شامل، قفقاز۔رحمتہ اللہ علیہ
شیخ محمد غزالی سقا عالم ومفكر اسلام رحمتہ اللہ علیہ
حضرت محمد سید طنطاوی ، شيخ الأزهر۔رحمتہ اللہ علیہ
جناب محمد ادریس سنوسی، ملك لیبیا رحمتہ اللہ علیہ۔
حضرت سلطان عبد المجید ثانی، خلیفہ سلطنت عثمانیہ۔رحمتہ اللہ علیہ یہ نام تو کچھ ہی ہیں مگر ہزاروں کی تعداد میں جید ہستیاں اس سرکارصلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے مختص کردہ قبرستان میں پردہ فرماہیں
8 شوال 1344 ہجری بمطابق 21 اپریل 1926ء بدبخت سعودی دہشت گردوں نے ہلہ بول دیا اورمکمل طور پرصحابہ و اہلبیت آئمہ اربعہ تابعین تبع تابعین آئمہ مجتہدین کے مزارات بلڈوزروں سے منہدم کرکے تمام قیمتی سامان غارت کرکے چوری کرلیا۔ ان جنگجودہشت گردوں کا اگلا ٹارگٹ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ مبارک کامعاذاللہ انہدام تھا جو دنیا بھرسے مسلمانان عالم کے غصے کی وجہ سےیہ نہ کرسکےمگر آل سعودعبدالوہاب نجدی کی فکرکوبدمعاشی کےزور پرحرمین شریفین پر مسلط کردیا گیا 1932 سے جدید انداز میں ملک سعودی عرب کی بنیاد پڑی تب سے سرکاری سرپرستی میں جنت البقیع کو چٹیل میدان کی صورت ہی رکھاہواہےوہاں دوران عمرہ وحج دنیابھرسےآئے سادہ لوح مسلمانان عالم کوجنت البقیع شریف کابلڈوزکیاگیا چٹیل میدان دکھاکرکہا جاتاہے یہ دیکھویہاں تو کوئی مزار نہیں تم لوگ ہی اللہ کے ولیوں کے بڑے بڑے مزارات بناتے ہو۔اس بلڈوزر سے پھیری گئی سیاہی سے پٌر تاریخ کو نہ جاننے والا یہ سادہ لوح حاجی ان مکاروہابیوں کی باتوں میں آکرگمراہ ہوجاتاہے۔اس مفصل تحریر میں آپ کو بتایاگیاکہ آل سعود مردخائی نامی منافق یہودی کی نسل سے ہیں اور اب ان کی شرانگیزیوں فتنہ گری اور یہود وہنودسے میل ملاپ صلیبیوں کے مفادات کا تحفظ بھی یہی ثابت کرتاہے کہ انکی اصل یہود ہی ہے۔
استاد قمرجلالوی کیا خوب فرماگئے
پڑھتا ہوں تو کہتی ہے یہ خالق کی کتاب
بے مثل یہودی بھی سعودی ہے عذاب
اس قوم کےبارے میں قمر کوئی کیا لکھے
کعبے کی کمائی سے جو پیتی ہے شراب
مکمل تحریر >>

Saturday, 22 May 2021

نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کا روضہ اقدس سارے جہان سے افضل ہے*

*نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام کا روضہ اقدس سارے جہان سے افضل ہے*

نبی اکرم، نور مجسم صلی اللہ علیہ والہ و سلم افضل الخلق ہیں، کوئی مخلوق بھی آپ سے افضل نہیں. ایک حدیث میں ہے کہ آدمی جس مٹی سے پیدا ہوتا ہے، اسی میں دفن کیا جاتا ہے، لہذا جس پاک مٹی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے جسد اطہر کی تدفین ہوئی اسی سے آپ کی تخلیق ہوئی، اور جب آپ افضل الخلق ہوئے،، تو وہ پاک مٹی بھی تمام مخلوق سے افضل ہوئی
علاوہ ازیں زمین کے جن اجزاء کو افضل الرسل، افضل البشر، افضل الخلق صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے جسد اطہر سے مس ہونے کا شرف حاصل ہے، وہ باقی تمام مخلوقات سے اس لیے بھی افضل ہیں کہ یہ شرف عظیم ان کے سوا کسی مخلوق کو حاصل نہیں. 
زیر بحث مسئلے میں خدانخواستہ اللہ تعالی کے درمیان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے درمیان تقابل نہیں کیا جا رہا، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے درمیان اور دوسری مخلوقات کے درمیان تقابل ہے، کعبہ ہو، عرش ہو، کرسی ہو، یہ سب مخلوق ہے، اور آنحضرت تمام مخلوق سے افضل ہیں، اور قبر مبارک کی جسد اطہر سے لگی ہوئی مٹی اس اعتبار سے اشرف و افضل ہے کہ جس اطہر سے ہم آغوش ہونے کی جو سعادت اسے حاصل ہے، وہ نہ کعبہ کو حاصل ہے، نہ عرش و کرسی کو۔ آئیے اس مسئلہ کو احادیث اور اکابرین امت کی آراء کی روشنی میں دیکھتے ہیں 

*عظمت مدینہ بذریعہ عظمت نبوی*

عبد الرزاق عن بن جريج قال أخبرني عمر بن عطاء بن وراز عن عكرمة مولى بن عباس أنه قال يدفن كل إنسان في . التربة التي خلق منها. [مصنف عبد الرزاق : باب يدفن في التربة التي منها خلق ، 6531 ، 3/515]؛
ترجمہ : عبدالرزاق ابن جریج سے، وہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر دی عمر بن عطاء بن وراز نے، ان سے عکرمہ ابن عباس کے غلام نے کہ انہوں (حضرت ابن عباس) نے فرمایا:  دفن کیا جاتا ہے ہر انسان اسی مٹی میں جس سے وہ پیدا کیا گیا؛

یہ بات (مضمون و معنی) حدیث رسول سے بھی ظاہر ہے؛

أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ ، قَالا : ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيرِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى الأَسْلَمِيِّينَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ : " قَبْرُ مَنْ هَذَا ؟ " , فَقَالُوا : فُلانٌ الْحَبَشِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ سِيقَ مِنْ أَرْضِهِ وَسَمَائِهِ إِلَى تُرْبَتِهِ الَّتِي مِنْهَا خُلِقَ " . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الإِسْنَادِ. [المستدرك على الصحيحين، للحاکم :رقم الحديث: 1289 - 1/521 ، رقم 1356،.شعب الایمان بیہقی ؒ ،طبع مکتبہ رشد الریاض (جلد 12 ص297 ،رقم 9425)]؛
سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان میں ایک جنازے پر ایک قبر کے پاس سے گزرے ، آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے پوچھا یہ کس کی قبر ہے ؟ وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ فلاں حبشی کی ہے (جو ہمارے شہر مدینہ میں فوت ہوگیا ہے ) آپ نے " لا إله إلا الله " پڑھا اور فرمایا : یہ آدمی اپنی زمین و آسمان یعنی اپنے علاقے سے(اللہ کے حکم سے ) یہاں اس مٹی میں لایا گیا جس مٹی سے اسے پیدا کیا گیا تھا ۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي " . رواه البخاري

ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے

’’حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي ضَمْرَةَ، نَصْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحِمْصِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ النَّصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ وَيَقُولُ "‏مَا أَطْيَبَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكِ مَالِهِ وَدَمِهِ وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلاَّ خَيْرًا"‘‘۔ ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: " (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے"‘‘۔ (سنن ابن ماجه: کتاب الفتن، باب حُرْمَةِ دَمِ الْمُؤْمِنِ وَمَالِهِ، ج5، رقم الحدیث 3931)

امام زرکشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعضاء مقدسہ کے ساتھ جو جگہ ملی ہوئی ہے وہ " مجاورت " کیوجہ سے افضل ہے اسی وجہ سے محدث کا قرآن پاک کی جلد کو چھونا جائز نہیں ہے.

پھر فرماتے ہیں : جو رحمتیں اور برکتیں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر نازل ہوتی ہیں ان کا فیض امت پر بھی عام ہے اور غیر متناہی ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ہمیشہ عروج ہی آتا رہتا ہے اور امت کو بھی جو کچھ توسل سے ملتا ہے وہ بھی سب سے افضل ہے اور چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انبیاء کرام علی نبینا و علیہم الصلاۃ والسلام میں سب سے افضل ہیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ساری امتوں سے افضل ہے  تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور جو ہر فضیلت اور خیر کا سر چشمہ ہے ساری زمین سے کیوں افضل نہ ہو.

 پھر فرماتے پیں: علامہ جوزی رحمہ اللہ نے " الوفاء " میں أمّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا سے حدیث مبارکہ روایت کی ہے کہ آپ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں : جب آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تولوگوں میں اختلاف رائے ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تدفین کہاں کی جائے حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجھہ نے فرمایا : اللہ تعالی کے نزدیک سب سے مکرم جگہ وہی ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا ہے.

امام یحیی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب  رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن کی جگہ پر لوگوں میں اختلاف رائے ہوا تو حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجھہ نے فرمایا : اللہ تعالی کے نزدیک سب سے مکرم جگہ وہی ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا ہے تو اس بات پر سب راضی ہو گئے. میں کہتا ہوں یہی قول قبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تفضیل کی دلیل ہے کیونکہ سب صحابی اس پر خاموش رہے اوروہیں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دفن کرنے میں مشغول ہو گئے.

سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا اے یار غار رسول بتائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہاں دفن کیا جائےتو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا جہاں آپ نے وصال فرمایا بے شک اللہ تعالی نے سب پاکیزہ جگہ پر ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی روح مبارکہ قبض کی ہے.

" مسند ابو یعلی " میں حدیث کے یہ الفاظ ہیں : " میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے " اللہ تعالی ہر نبی کی روح وہیں قبض کرتا ہے جو جگہ اسےسب سے زیادہ محبوب ہو "

تو میں یہ کہتا ہوں کہ رسول کو بھی وہی جگہ زیادہ پسند ہو گی جو اللہ تعالی کو زیادہ پسند ہو گی کیونکہ حب رسول حب الٰہی کے تابع ہوتی ہے اور جو جگہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ پسند ہو وہ سب سے افضل کیوں نہیں ہو گی ؟" 
( الشفاء بتعریف حقوق مصطفی صلی اللہ علیہ والہ و سلم 2/91 دار الكتب العلميۃ) 

*اکابرین اہل السنت کا مذہب :*

روضۂ اقدس میں جہاں آپ رونق افروز ہیں اور جو مٹی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اقدس کے نیچے ہے اس کی قدر اہل السنت کے مذہب میں عرش بریں سے بھی زیادہ ہے اس لئے کہ عرش خدا تعالیٰ کا مكان نہیں ہے کیونکہ وہ مكان سے وراء الوراء ہے اور جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے ہیں وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آرام گاہ ہے وہی ریاض الجنۃ کہلاتا ہے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں ہیں ،ورنہ اور مقامات کو بھی ایسا شرف حاصل ہونا چاہیئے 

الإجماع على أن مكان جسد النبي صلى الله عليه وسلم أفضل من الکونين

اکابرین کے نزدیک اس بات میں تو اختلاف ہے کہ مکہ زیادہ افضل ہے یا مدینہ کیونکہ دونوں کی فضیلت اپنی جگہ احادیث میں آئی ہے لیکن یہ اختلاف روضۃ الرسول کے ٹکڑے کو مستثنی کرکے ہے کیونکہ اجماع سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ ٹکڑا دنیا کی ہر چیز سے افضل ہے حتی کہ عرش، کرسی، قلم، عرش تھامنے والے فرشتے اور کعبہ سے بھی اور اس پر کسی نے اختلاف نہیں کیا سوائے چند متاخرین کے۔ اور یہ مسئلہ جمہور میں متفق علیہ ہے۔ اسی طرح کی عبارات اکابرین اہلسنت سے منقول ہیں جو آپ عنقریب ملاحظہ کریں گے۔

  ابن عقیل حنبلی رحمہ للہ کے نزدیک:
ابن القیم نے اپنی کتاب بدائع الفوائد میں لکھا

قال ابن عقيل: سألني سائل أيما أفضل حجرة النبي أم الكعبة؟ 

فقلت: إن أردت مجرد الحجرة فالكعبة أفضل ، 

وإن أردت وهو فيها فلا والله ولا العرش وحملته ولا جنه عدن ولا الأفلاك الدائرة 

لأن بالحجرة جسدا لو وزن بالكونين لرجح
ترجمہ:"ابن عقیل حنبلی رحمہ للہ  نے کہا کہ سائل نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حجرہ افضل ہے یا کعبہ؟ جواب دیا اگر تمہارا ارادہ خالی حجرہ ہے تو تو پھر کعبہ افضل ہے اور اگر تمہاری مراد وہ ہے جو اس میں ہے [یعنی روضۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم جہاں پر مدفون ہیں] تو پھر اللہ کی قسم نہ عرش افضل ہے نہ اس کے تھامنے والے فرشتے نہ جنت عدن اور نہ ہی پوری دنیا۔ اگر حجرے کا وزن جسد کے ساتھ کیا جائے تو وہ تمام کائنات اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بھی افضل ہوگا۔[بدائع الفوائد ج3 ص655]

ابن القیم نے اس کو عنوان ھل حجرۃ النبی افضل ام کعبه کے عنوان کے تحت لکھا ہے جس سے معلوم ہوا کہ ابن القیم بھی اس کے قائل ہیں اور یہ لکھ کر رد نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کے منکر نہیں۔

قاضی عیاض ، علامہ خفاجی اور امام سبکی رحمہم اللہ کے نزدیک:
قاضی عیاض نے کتاب الشفا میں لکھا
ولا خلاف أن موضع قبره صلى الله عليه وسلم أفضل بقاع الأرض
فعلَّق عليه الشيخ الخفَّاجي
بل أفضل من السموات والعرش والكعبة كما نقله السبكي رحمة الله
ترجمہ: اور اس کے خلاف کوئی نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تمام زمین سے افضل ہے اس پرعلامہ خفاجی رحمہ اللہ نے تعلیق لکھی کہ بلکہ [آپ کی قبر مبارک کی جگہ یا مٹی] آسمان، عرش، کعبہ سے بھی افضل ہے اور اس کے مثل امام سبکی رحمہ اللہ نے بھی نقل کیا۔[كتاب الشفا ج 2 ص 76 اور نسیم الریاض ج3 صفحہ 531]


علامہ حصفکی حنفی رحمہ اللہ کے نزدیک:
علامہ حصفکی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ

لا حرم للمدينة عندنا ومكة أفضل منها على الراجح

إلا ما ضم أعضاءه عليه الصلاة والسلام فإنه أفضل مطلقا حتى منالكعبة والعرش والكرسي .وزيارة قبره مندوبة , بل قيل واجبة لمن له سعة

ترجمہ: ہمارے نزدیک مدینہ سے بڑھ کر کوئی مقدس جگہ نہیں البتہ مکہ مدینے سے افضل ہے الا یہ کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضاء[ اس مٹی سے] مس ہوں تو مدینہ [کی مٹی ] بلکل افضل ہے حتی کہ کعبہ، عرش اور کرسی سے بھی اور ہمارے نزدیک روضۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم مندوب ہے۔ بلکہ واجب ہے جس کی استطاعت ہو ۔[الدر المختار ج2 ص 689]

علامہ سخاوی رحمہ اللہ کے نزدیک:
علامہ سخاوی رحمہ اللہ نے فرمایا:
مع الإجماع على أفضلية البقعة التي ضمته صلى الله عليه وسلم، حتى على الكعبة المفضلة على أصل المدينة، بل على العرش، فيما صرح به ابن عقيل من الحنابلة. ولا شك أن مواضع الأنبياء وأرواحهم أشرف مما سواها من الأرض والسماء، والقبر الشريف أفضلها،
وہ ٹکڑا جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر کے ساتھ ضم ہے اس کی افضلیت پر اجماع ہے حتی کہ اس کعبہ سے بھی افضل ہے جو اصل شہر مدینہ [سوائے اس حصے کے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ و سلم مدفون ہیں اس ] سے فضیلت میں زیادہ ہے۔ بلکہ عرش سے بھی زیادہ۔ اس کی تصریح علمائے حنابلہ میں سے ابن عقیل نے کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انبیاء کی مقیم گاہیں اور روح اشرف ہیں زمین و آسمان کی تمام چیزوں سے۔اور ان کی قبریں بھی افضل ہیں ۔ [التحفة اللطيفة في تاريخ المدينة الشريفة السخاوي الصفحة : 12]

ملاعلی قاری رحمہ اللہ کے نزدیک
ملا علی قاری رحمہ اللہ نے کہا
أجمعوا على أنّ أفضل البلاد مكّة والمدينة زادهما الله شرفًا وتعظيمًا ، ثم اختلفوا بينهما أي في الفضل بينهما ، فقيل : مكة أفضل من المدينة ، وهو مذهب الأئمة الثلاثة وهو المرويُّ عن بعض الصحابة ، وقيل : المدينة أفضل من مكة ، وهو قول بعض المالكية ومن تبعهم من الشافعية ، وقيل بالتسوية بينهما۔۔۔
إلى أن قال والخلاف أي الاختلاف المذكور محصورٌ فيما عدا موضع القبر المقدس ، قال الجمهور : فما ضمّ أعضاءه الشريفة فهو أفضل بقاع الأرض بالإجماع حتى من الكعبة ومن العرش
اس بات پر تو اتفاق اور اجماع ہے کہ اللہ نے مکہ اور مدینہ کوافضل بنایا اور شرف و تعظیم سے مالا مال کیا ہے۔ لیکن پھر اس میں اختلاف ہے کہ ان دونوں میں زیادہ افضل کون ہے۔ بعض نے کہا مکہ مدینے سے افضل ہے اور یہ آئمہ ثلاثہ کا مذہب ہے اور بعض صحابہ سے مروی ہے۔ اور بعض نے کہا مدینہ مکے سے افضل ہے اور یہ قول ہے بعض مالکی اور شافعی علماء کا اور بعض نے کہا دونوں کے درمیان توازن ہے۔۔۔۔۔ پھر فرمایا لیکن یہ اختلاف قبر مبارک کو خارج بحث کرکے ہے کیونکہ جمہور نے فرمایا جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضاء شریفہ ضم زمین ہیں وہ ٹکڑا اجماع کے مطابق تمام زمین سے افضل ہے حتی کہ کعبہ اور عرش سے بھی۔[المسلك المتقسط في المنسك المتوسط ص351 - ص352]

علامہ ابن عابدین حنفی، قاضی عیاض، ابن عقیل، علامہ تاج الدین فاکھی اور علامہ زکریا بن شرف نووی رحمہم اللہ کے نزدیک:
ابن عابدین حنفی رحمہ اللہ نے اس باب میں فرمایا کہ
والخلاف فيما عدا موضع القبر المقدس , فما ضم أعضاءه الشريفة فهو أفضل بقاع الأرض بالإجماع . قال شارحه : وكذا أي الخلاف في غير البيت : فإن الكعبة أفضل من المدينة ما عدا الضريح الأقدس وكذا الضريح أفضل من المسجد الحرام . وقد نقل القاضي عياضوغيره الإجماع على تفضيله حتى على الكعبة , وأن الخلاف فيما عداه . ونقل عن ابن عقيل الحنبلي أن تلك البقعة أفضل من العرش , وقد وافقه السادة البكريون على ذلك.وقد صرح التاج الفاكهي بتفضيل الأرض على السموات لحلوله صلى الله عليه وسلم بها , وحكاه بعضهم على الأكثرين لخلق الأنبياء منها ودفنهم فيها وقال النووي : الجمهور على تفضيل السماء على الأرض , فينبغي أن يستثنى منها مواضع ضم أعضاء الأنبياء للجمع بين أقوال العلماء

مکے اور مدینے میں افضلیت کی بحث قبر اقدس کو خارج از بحث رکھ کر ہے کیونکہ یہ اجماع سے ثابت ہے کہ جہاں آنحضرت کا جسد اطہر مس ہے وہ تمام زمین سے افضل ہے۔
شارح نے فرمایا کہ یہ اختلاف نبی کے آخری ٹھکانے کو چھوڑ کر ہے ۔ اسی لئے کعبہ مدینہ سے افضل ہے سوائے روضۃ الرسول صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو چھوڑ کر اور اسی طرح روضۃ الرسول مسجد حرام سے زیادہ افضل ہے۔ تحقیق کہ قاضی عیاض مالکی نے اس کی افضلیت پر اجماع نقل کیا ہےحتی کہ کعبہ پر بھی اور جو اختلاف ہے وہ اس [ٹکڑائے زمین ] کو چھوڑ کر ہے ۔ اور انہوں نے ابن عقیل جنبلی رحمہ اللہ سے نقل کیا کہ وہ ٹکڑا [جہاں نبی صلی اللہ علیہ والہ و سلم مدفون ہیں ] عرش سے بھی افضل ہے اور جمہور اس پر متفق ہیں۔ اور علامہ تاج فاکھی نے تصریح کی کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمین میں مدفون ہونے سے زمین آسمان سے افضل ہے۔ اور بعض نے کثیر تعداد سے روایت کیا کہ تمام انبیاءاسی سے ہیں [یعنی مٹی سے بنے ہیں] اور اسی میں مدفون ہیں [لہذا زمین افضل ہے آسمان سے] لیکن علامہ نووی رحمہ اللہ نے جمہور سے روایت کیا ہے کہ آسمان زمین سے افضل ہے البتہ اس میں نبی صلی للہ علیہ سلم کے مدفن کی استثناء ضرور ہے جیسا کہ جاننے والوں کے اقوال اس پر متفق ہیں۔[رد المختار ج 2 ص 688]


علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ کے نزدیک:
علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ نے لکھا
وهي كبقية الحرم أفضل الأرض عندنا وعند جمهور العلماء للأخبار الصحيحةالمصرحة بذلك وما عارضها بعضه ضعيف وبعضه موضوع كما بينته في الحاشية ومنه خبر { إنها أي المدينة أحب البلاد إلى الله تعالى } فهو موضوع اتفاقا ، وإنما صح ذلك منغير نزاع فيه في مكة إلا التربة التي ضمت أعضاءه الكريمة صلى الله عليه وسلم فهيأفضل إجماعا حتى من العرش
اور یہ کہ حرم کعبہ میرے اور اخبار صحیحہ صریحہ سے جمہور کے نزدیک تمام زمین سے افضل ہے اور جو چند دلیلیں اس کے معارض ہیں ان میں سے بعض ضعیف ہیں اور بعض موضوع مثلا حاشیہ میں جو دلیل ہے کہ إنها أي المدينة أحب البلاد إلى الله تعالى یہ بالاتفاق موضوع ہے ۔ لیکن اس طرح کی خبریں مکہ [کی فضیلت] کے بارے میں بلااختلاف درست ہیں سوائے اس مٹی کی فضیلت کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے اعضائے مقدسہ کے ساتھ مس ہے حتی کہ عرش سے بھی ۔ یہ فضیلت اجماع سے ثابت ہے[تحفة المحتاج ج 5 ص 167]

امام الوہابیہ  قاضی شوکانی کے نزدیک:
قاضی شوکانی نے نیل الاوطار میں نقل کیا ہے
قال القاضى عياض ، إن موضع قبره صلى الله عليه وسلم أفضل بقاع الأرض
قاضی عیاض نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر والا ٹکڑا تمام زمین سے افضل ہے۔[نيل الأوطار - الشوكاني ج 5 ص 99] اور اس پر رد بھی نہیں فرمایا جوکہ اس بات کی دلیل ہے کہ قاضی شوکانی  بھی اسی کے قائل ہیں۔

تُربت اطہر یعنی وہ زمین کہ جسم انور سے متصل ہے کعبہ معظمہ بلکہ عرش سے بھی افضل ہے [1]صرح بہ عقیل الحنبلی وتلقاہ العلماء بالقبول (اس پر ابو عقیل حنبلی نے تصریح کی اور تمام علماء نے اسے قبول کیا)

باقی مزار شریف کا بالائی حصہ اس میں داخل نہیں کعبہ معظمہ مدینہ طیبہ سے افضل ہے، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ مدینہ طیبہ سوائے موضع تربتِ اطہر اور مکہ معظمہ سوائے کعبہ مکرمہ ان دونوں میں کون افضل ہے، اکثر جانب ثانی ہیں اور اپنا مسلك اول اور یہی مذہب فاروق اعظم رضی الله تعالیٰ عنہ ہے، طبرانی کی حدیث میں تصریح ہے کہ المدینۃ افضل من مکۃ [2](مدینہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) مکہ سے افضل ہے۔ ت) والله تعالٰی اعلم۔
(فتاوی رضویہ) 

ان حوالوں سے یہ بات ثابت
 ہوگئی کہ وہ ٹکڑا جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدفون ہیں وہ تمام اشیاء سے افضل ہے حتی کہ عرش اور کعبہ سے بھی اور جمہور کا اس پر اجماع ہے۔ اور جمہور کے اجماء کے مقابلے میں کسی کا تفرد کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ممکن ہے کہ کوئی بزرگ ایسا ہو جس کا عقیدہ اس کے برخلاف ہو لیکن اس مسئلے میں ہم اس بزرگ کو نہیں مانیں گے کیونکہ جمہور کا اجماع ایک طرف ہے اور ان بزرگ کی شان میں گستاخی کئے بغیر یہ مانا جائے گا کہ ان سے اس مسئلے میں کوئی ذھول ہوگیا ہے اللہ ان کی خطا کو معاف فرمائے اور ان کو اچھی نیت کا ثواب عطا کرے۔
مکمل تحریر >>

Sunday, 9 May 2021

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر ہونےوالے اعتراضات کے جوابات

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر ہونےوالے اعتراضات کے جوابات
تحقیق:مفتی محمد ابراہیم القادری رضوی
سرکار دو عالم نور مجسم ؐکی زبان مبارک سے کئی بار جنت کی بشارت پانا،بیررومہ کا وقف ِ عام فرما کر جنتی چشمہ کا مالک بننا ۔غزوہ تبوک کے موقع پر عسر ت وتنگ دستی کے دور میں سب سے زیادہ فیاضی فرما کر لسانِ نبو ت سے دادِ تحسین حاصل کرنااو رسرکار کا اس موقع پر انکی نذر کردہ رقم کو اچھالتے ہوئے یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمانا '' ماعلی عثمان ماعمل بعد الیوم '' (آج کے بعد عثما ن پر کسی عمل کامواخذہ نہیں )۔

سرکار ؐصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی دو شہزادیوں کا یکے بعد دیگر ے ان کے عقد میں آکر ذوالنورین کا خطاب پانا ،بیعت ِرضوان کے موقع پر سرکا ر ؐ کااپنے دستِ کریم کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دے کر انہیں شاملِ بیعت فرمانا ،دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک مصحف پر جمع فرماکر ملتِ اسلامیہ کو بڑے افتراق وانتشار سے محفوظ فرمانا ،یہ وہ مناقبِ جلیلہ او ر اوصافِ حمیدہ ہیں جن کے لئے صرف حضر ت امیر المؤمنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی ذاتِ والا کو چنا گیا ہے ۔

ان اعلیٰ اوصاف کے تناظر میں کوئی مسلمان ان بیہودہ او ر خود ساختہ الزامات کا حضر ت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی ذات میں موجود گی کا تصور بھی نہیں کرسکتا جن کا انکی ذات کومورد ٹھہرایا گیا ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی زندگی کایہ پہلو بڑا درد ناک ہے کہ جوبے بنیاد الزامات ان پر عائد کئے جا تے ہیں ان میں بیشتر الزامات وہ ہیں جو ان کی حیاتِ طیبہ میں ان کے روبر ولگائے گئے اور ان کے تشفی بخش جوابات خود حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے دیئے ،چاہئے تو یہ تھا کہ سلسلہءِ اعتراضات ختم ہوجاتا مگر افسوس یہ سلسلہ آپ کی شہادت کے بعد بھی دورِ صحابہ کرام سے لے کرآج تک زوروشور سے جاری ہے۔ مشکوۃ شریف میں صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بابت حضر ت عبدا للہ بن عمر اور ایک صاحب کے درمیان مکالمہ مذکو رہے جس کاخلاصہ کچھ اس طرح ہے کہ ایامِ حج میں ایک صاحب نے حضرت عبداللہ بن عمر سے حضر ت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں تین سوال کئے ۔

پہلا یہ تھا کہ کیا عثما ن جنگِ احد میں بھاگے نہیں تھے ؟۔۔۔۔۔۔آپ نے فرمایا !ہاں ۔۔۔۔۔۔ دوسراسوال یہ کہ کیاعثمان غنی جنگِ بدر میں غیر حاضر نہیں تھے ؟۔۔۔۔۔۔آپ نے فرمایا !ہاں۔۔۔۔۔۔ اس کاتیسرا سوال یہ تھا کہ کیابیعتِ رضوان میں وہ غائب نہیں تھے ؟۔۔۔۔۔۔آپ نے فرمایا !ہاں ۔۔۔۔۔۔ پھر اس شخص نے یہ جان کرکہ میرے سوالات کا حضر ت ابنِ عمر نے اعتراف کیاہے ،خوش ہوکر اللہ اکبر کانعرہ لگایا ۔

حضرت عبد اللہ بن عمر نے فرمایا ان تینوںسوالوں کاجواب بھی لیتاجا،پھر آپ نے اس کے سوالوں کاترتیب وار جواب دیا ۔فرمایا!۔۔۔۔۔۔جہاں تک جنگِ احد میں فرار کاتعلق ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں انکی معافی کااعلان کرچکا ہے (یعنی جب اللہ تعالیٰ نے معافی کااعلان فرمادیا تو اعتراض کیسا ۔۔۔۔۔۔؟)دوسرے سوال کے جواب میں فرمایا کہ وہ جنگِ بدر میں اسلئے حاضر نہیں ہوسکے تھے کہ رسول اللہ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  کی صاحبزادی او ر اپنی زوجہ محترمہ سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تیمارداری میں مصروف تھے جس پر سرکارؐ نے انہیں دو انعاموں سے نوازا ۔۔۔۔۔۔انہیں مجاہدینِ بدر میں شامل فرماکر ان کے لئے اجروثواب کااعلان فرمایا اور انہیں غنیمت میں دوسرے مجاہدین کی طرح حصہ بھی عطا فرمایا۔ 

او رتیسرے سوال کے جواب میں فرمایا کہ رسول اللہ ؐ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کواہلِ مکہ کی جانب اپنا سفیر اور نمائندہ بناکر ان کازبردست اعزازواکرام فرمایا انکے مکہ جانے کے بعدبیعت ِرضوان کامعاملہ پیش آیا پھر بھی رسول اللہ ؐ نے انہیں بیعتِ رضوان کے خوش بخت لوگوں میں شامل فرمایا ،اپنا دایاں ہاتھ بلند کرکے فرمایایہ عثمان کاہاتھ ہے پھر اس اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھ کر حضرت عثمان غنی کی بیعت لی ۔حضرت ابنِ عمر نے جوابات سے فارغ ہوکر اس معترض سے فرمایا''اذھب بھاالآن'' ان جوابات کو اپنے ساتھ لیتاجا،یعنی ان سوالات کے ذریعے تم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو نیچادکھانا چاہتے تھے مگر تم نے دیکھ لیاکہ تینوں واقعات ان کی عظمت کے چمکتے ہوئے نشانات ہیں ۔

(مشکوۃشریف مناقب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ)

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف اس طوفانِ بدتمیزی کااصل سبب یہ ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اسلام کابدخواہ ایک سازشی گروہ پیداہوچکا تھا جس کا قائد عبد اللہ بن سبا تھا جس نے بڑی تیزی کے ساتھ کوفہ ،بصرہ،مصر اور بعض دوسرے شہروں میں لوگوں کو اپنا ہم نوابنایا اورسادہ لوح عوام کواپنے دام تزویرمیں پھنساکرخلیفہءِ اسلام سے بد گمان کرکے ان کے خلاف ایک محاذقائم کیا یہ بے بنیاد الزامات و اتہامات اسی گروہ کے تراشے ہوئے ہیں۔ اس سبائی گروہ کی باقیات آج بھی ان خودساختہ الزامات کو بنیاد بناکرحضر ت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کوہدفِ تنقید بنارہے ہیں۔

اوراہلِ حق نے ہمیشہ ہر دور میں ان الزامات سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی براء ت ثابت کرکے ان کی پوزیشن واضح فرمائی ۔لہذا مناسب ہوگاکہ ان سطو رمیں چند ایسے الزامات کامع جوابات کے ذکر کیاجائے جو شہرت کے ساتھ آپ کی ذات پر عائد کئے گئے ہیں۔

(١) 

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بعض جلیل القدر صحابہ کرام ان کے مناصب سے معزول کرکے اپنے رشتہ داروں کو ان کی جگہ مقرر کیا ،چنا چہ حضر ت مغیرہ بن شعبہ کوفہ کی گورنری سے ہٹاکرحضرت سعد بن ابی وقاص کا تقرر کیا پھر انہیں معزول کیا اور انکی جگہ ولید بن عقبہ کو گورنر بنایا ،اسی طرح حضر ت ابو موسیٰ اشعری کوبصرہ کی گورنر ی ہٹاکر عبد اللہ بن عامر کو بطورگور نرمقرر کیا ،یونہی حضر ت عمر وبن العاص کو مصر کی گورنر ی معزول کرکے عبد اللہ بن ابی سرح کو اس منصب پر بٹھایا،ان تمام کاروائیوں کی اصل بنیا د اقربہ پروری ہے کیونکہ عبد اللہ بن ابنی سرح ،عبد اللہ بن عامر ،اور ولید بن عقبہ حضر ت عثما نِ غنی کے قریبی رشتہ دار تھے ۔

(٢)

بغیر کسی استحقاق کے اپنے اعزہ واقارب کو بیت المال سے بڑی بڑی رقمیں دلائیں ۔

(٣)

حکم بن ابی العاص کو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے افشاء راز کے جرم میں طائف کی طرف جلاوطن کردیا تھا ،سرکار ؐ کے وصال کے بعد شیخین نے اس سزاکو برقراررکھا ۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو حکم کو مدینہ طیبہ بلالیا اور یہ اس لئے تھا کہ وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچاتھے ۔ 

(٤)

باغیوں کا ایک وفد جو مصر ،کوفہ اور بصرہ کے لوگوں پر مشتمل تھامدینہ طیبہ میں حضر ت علی،حضر ت طلحہ اور حضرت زبیر وغیرہ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عزل کا مطالبہ کررہاتھا ،جب ان بزگوں نے انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر واپس کردیا تو بعد میں بصری وفد حضرت علی کے پاس آیا انہوں نے ان کی واپسی کی وجہ پوچھی توانہوں نے بتایا کہ ہم نے ایک خط پکڑاہے جو حضرت عثمان غنی نے گورنر مصر کے نام لکھاہے جس میں اسے حکم دیا گیاہے کہ جب وفد تمہارے پاس پہنچے تو اسے قتل کردینا ،اس خط پر حضرت عثما نِ غنی کی مہر لگی ہوئی تھی جب حضرت عثمان غنی سے اس خط کی بابت سوال کیا گیا۔ توآپ نے لاعلمی کا اظہارکیا ،اسلئے لوگوں نے نتیجہ نکالاکہ پھر یہ خط مروان نے لکھا ہوگاجوحضر ت عثمان کے چچازادبھائی ان کے سیکریٹری ہیں سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی سازش پکڑے جانے کے باوجود حضرت عثمان نے مروان کوسزاکیوں نہ دی او راسکے جرائم پرپردہ کیوں ڈالا گیا ۔

(٥)

رسول اللہ ؐنے حجۃالوداع میں منیٰ وعرفات میں نمازِ قصر ادافرمائی اورشیخین کاعمل بھی اسی پررہامگر حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ منیٰ وعرفات میںاتمام کرتے تھے جو سرکارؐاور طریقہ شیخین کے خلاف تھا ۔

ان تمام سوالات کے اختصارکے ساتھ جوابات ملاحظہ ہوں!

پہلے ،دوسرے اور پانچویں سوالوں اوربہت سے دیگرسوالات کے خودحضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جوابات دئیے جوھدیہ قارئین کئے جاتے ہیں،چنانچہ تاریخِ اسلام مؤلفہ مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی میں ہے ،ایک شخص نے اٹھ کر سوال کیاکہ آپ اپنے رشتہ داروں کو ناجائز طورپرمال دیتے ہیں مثلاًعبداللہ بن سعدکوآپ نے تمام مالِ غنیمت بخش دیا حضرت عثمانِ غنی نے جواب دیاکہ میں اسکو مالِ غنیمت کے خمس میں سے صرف پانچواں حصہ دیاہے مجھ سے پہلے خلافتِ صدیقی ،فاروقی میں بھی اسکی مثالیں موجود ہیں ۔ اسکے بعد ایک اورشخص اٹھا اس نے کہا کہ تم نے اپنے عزیزواقارب کو امارتیں اور حکومتیں دے رکھی ہیں مثلاًمعاویہ بن سفیان جن کو تمام ملک ِشام پر امیر بنا رکھاہے بصرہ کی امارت سے ابو موسیٰ اشعری کومعزول کرکے ان کی جگہ عبد اللہ بن عامر کو امیر بنایا ،کوفہ کی امارت سے مغیرہ بن شعبہ کوجداکرکے ولید بن عقبہ کواسکے بعد سعید بن العاص کوامیربنایا۔ یہ سن کر حضرت عثمانِ غنی نے فرمایاکہ جن لوگوں کومیں نے امارتیں دے رکھی ہیں وہ سارے میرے اقارب نہیں اور وہ اپنے عہدوں کے کام کو بحسن وخوبی انجام دینے کی قابلیت رکھتے ہیں ۔

اگرآپکی رائے کے مطابق امارت کے قابل نہیں ہیں اورمجھ پران کی بے جارعایت کاالزام عائد ہوتاہے تو میں ان لوگوں کی جگہ دوسروں کومقرر کرنے کےلئے تیارہوں ۔ چنانچہ میں نے سعید بن العاص کو انکی امارت سے الگ کرکے ابو موسیٰ اشعر ی کو کوفہ کاگورنربنایاہے ۔ اس کے بعد ایک شخص نے کہاتم نے بلا استحقاق اور ناقابلِ رشتہ داروں کوامارتیں دی جوان امارتوں کے اہل نہ تھے مثلاًعبد اللہ بن عامر ایک نوجوان شخص ہیں انکو والی نہیں بنانا چاہئے تھا حضرت عثمان نے جواب دیاکہ عبد اللہ بن عامر عقل وفراست ،دین داری اور قابلیت میں خاص طور پر ممتازہے محض نوجوان ہونا کوئی عیب کی بات نہیں ہے آنحضرت ؐ نے اسامہ بن زید کو صرف ١٧ سال کی عمر میں کیوں امیر بنایا تھا ۔

اس کے بعد ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا کہ آپ کو اپنے کنبے والوں سے بڑی محبت ہے آپ ان کو بڑے بڑے عطیا ت دیتے ہیں حضرت عثمانِ غنی نے جواب دیا کہ خاندان والوں سے محبت ہونا کوئی گناہ نہیں ہے میں اگر ان کو عطیا ت دیتا ہوں تو بیت المال سے نہیں بلکہ اپنے ذاتی مال سے دیتا ہوں بیت المال سے تو میں اپنے خرچ کیلئے بھی ایک کوڑی نہیں لی،اپنے رشتہ داروں کیلئے بلااستحقاق کیسے لے سکتاہوں اپنے ذاتی مال کا مجھے اختیا ر ہے چاہے جسکو بھی دوں ۔ اس کے بعد ایک شخص اٹھا او راس نے کہاکہ تم نے چراگاہ کو اپنے لئے مخصوص کرلیا ہے حضر ت عثما نِ غنی نے جواب دیا کہ میں جب خلیفہ نہ تھا تو مدینہ میں مجھ سے زیادہ نہ اونٹ کسی کے پاس نہ ہی بکریاں لیکن آج کل میرے پا س صرف دو اونٹ ہیں جو صرف حج کی سواری کے لیے ہیںمیں انکو چرائی پر بھی نہیں بھیجتا البتہ بیت المال کے اونٹوں کی چراگاہ مخصوص ضرور ہے اوروہ میرے زمانے میں نہیں بلکہ پہلے سے مخصوص چلی آ رہی ہے اسکا مجھ پر الزام نہیں لگایا جاسکتا ۔

پھر ایک شخص نے کہا کہ تم بتاؤکہ تم نے منیٰ میںپوری نمازکیوں پڑھی حالانکہ قصر کرنی چاہئے تھی حضرت عثمان نے جواب دیا کہ میرے اہل وعیال مکہ میں مقیم تھے لہذامیرے لئے نماز قصر نہ کرنا جائز تھا

تاریخ اسلام جلد اول ص٣٤١) 

گورنروں کے عزل ونصب کے سلسلے میںیہ با ت ذہن نشین ہونی چاہئے کہ تقرری اور برخاستگی کاسلسلہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِخلافت کے ساتھ مخصوص نہیں ۔شیخین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے دورمیں جہاں عزل ونصب کی ضرور ت محسوس کی گئی ، عزل ونصب کیاگیا ۔ چنانچہ حضر ت عمر نے

حضر ت ابو موسیٰ اشعری کوبصرہ کی گورنری سے علیحدہ کیا اسی طرح حضرت سعدبن ابی وقاص کوبھی بصرہ کی گورنری سے حضرت عمر نے معزول فرمایا تھا اورحضر ت خالد بن ولیدکی کمانڈر انچیف کی حیثیت سے برخاستگی مشہورومعروف ہے جس طرح حضرت عمر نے بعض حالات کے تحت بعض جلیل الشان صحابہ کو ان کے عہدوں سے الگ کیا اسی طرح حضر ت عثما نِ غنی رضی اللہ عنہ نے جن حضرات کوانکے عہدوں سے الگ کیا اسکے معقول اسبا ب ووجودہ تھے۔ اورجن حضر ت کا تقررفرمایا وہ باصلاحیت لوگ تھے ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو زمانہ سر کار ،عہدِشیخین میں کسی عہدہ پر فائز رہے تھے۔ مثلاً ولیدبن عقبہ فتح مکہ کے زور مسلمان ہوئے پھر انہیں سرکارؐ نے بنو مصطلق کے صدقات کاعامل مقرر فرمایا او ر حضرت عمر نے انہیں عرب الجزیرہ کاعامل بنایا اسی طرح عبد اللہ بن ابی سرح فاتح افریقہ اورعبد اللہ بن عامر فاتحِ ایر ان وخراسان ہیں حضر ت عثمانِ غنی کی مردم شناس نگاہوں نے جن عظیم افراد کاانتخاب فرمایا وہ رشتہ داری کی بناء پر نہیں بلکہ خداداد صلاحیتوں کی بناء پرچنے گئے اور وہ مستقبل میں قوم کے ہیرو بنے جن کے کارناموں پر اسلام واہلِ اسلام کو نازہے۔

جہاں تک تیسرے سوال کاتعلق ہے کہ حضر ت عثما نِ غنی نے حکم بن ابی العاص کو طائف سے مدینہ طیبہ میں بلالیا حضرت عثما نِ غنی نے انکی واپسی کی وجہ خود بیا ن فرمائی کہ میں نے حکم بن ابی العاص کے بارے میں سرکا رؐ سے سفارش کی جسے حضورؐ نے قبول فرماتے ہوئے انکی واپسی کامجھ سے وعدہ فرمایا ۔

چنانچہ(اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ )جلد دوم ص٥٣مطبوعہ المکتبہ اسلامیہ تہران میں ہے کہ۔۔۔۔۔۔! ''فلماولیٰ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ الخلافۃردہ وقال کنت قد شفعت فیہ الی رسول اللہؐ فوعدنی بردہ وتوفی فی خلافۃعثمان''

ترجمہ: پھرجب حضرت عثمان خلیفہ ہوئے تو آپ نے حکم بن ابی العاص کومدینہ طیبہ میں بلالیا او رفرمایا کہ میں نے ان کے بارے میں رسول اللہ ؐ سے سفارش کی تھی تو سرکارؐ نے مجھ سے انکی واپسی کاوعدہ فرمایا ۔

او ر چوتھے سوال کاجواب یہ ہے کہ یہ خط نہ حضر ت عثمانِ غنی نے لکھا اور نہ اسکا حکم دیااورنہ یہ آپ کی مہرتھی او رنہ ہی اس میںمروان ملوث تھا بلکہ یہ عبد اللہ بن سبا کی جماعت کی سازش تھی جنہوں نے حضر ت عثمانِ غنی کوشہید کیااس جماعت نے صرف حضر ت عثمانِ غنی کے نام سے جعلی خط نہیں لکھابلکہ حضرت علی ،حضرت طلحہ ،حضر ت زبیرکے نام سے مختلف شہروںکے عوام کو جعلی خطوط لکھے گئے جن میں ان سے کہاگیا کہ تم لوگ مد ینہ طیبہ میں جمع ہوکرحضر ت عثمانِ غنی سے معزول ہونے کا مطالبہ کرو،

چنانچہ( علامہ حافظ ابن کثیر البدایہ والنہایہ ج٧ص١٧٥)میں اس خط کے بارے میں حضر ت عثمانِ غنی کے تاثرات ان الفاظ میں تحریر فرماتے ہیں ''فو اللہ لاکتبت ولااملیت ولادریت بشیء من ذالک والخاتم قد یزورعلی خاتم'' ترجمہ : بخدا میں نے یہ خط نہ لکھوایا نہ اسکے بارے میں کچھ علم ہے اور انگوٹھی ۔۔۔۔۔۔انگوٹھی توجعلی بھی بنائی جاسکتی ہے ۔ چند سطربعد حافظ ابن کثیر ،ابن جریر کے حوالے سے لکھتے ہیں

ان الصحابۃ کتبو االی الافاق من المدینۃ یامرون باالنا س بالقدوم علی عثما ن لیقاتلوہ .وھذاکذب علی الصحابۃ .وانما کتبت کتبا مزورۃ علیھم کماکتبو من جھۃ علی وطلحۃ والزبیرالی الخوارج کتبا مزورۃ علیھم انکروھا وھکذا زورھذالکتاب علی عثمان۔

ترجمہ: صحابہ کرام نے مدینہ طیبہ سے باہر رہنے والوں کو خطوط لکھے جس میںانہیں مدینہ طیبہ میں آکر حضر ت عثما ن سے لڑائی کرنے کوکہا گیا تھااو ریہ صحابہ کر ام پر جھوٹاالزام ہے ،ان بزرگوں کی طرف سے جھوٹے لکھے گئے جیسے علی وطلحہ وزبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی طرف سے جھوٹے خطوط لکھے گئے جس کا انہوں نے انکار کیا،اسی طرح حضرت عثمانِ غنی کی طرف سے یہ جھوٹاخط لکھاگیا۔

معاملاتِ صحابہ کرام میں راہ عافیت : حضر ت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اعداء دین کی طرف سے لگائے گئے الزام واتہامات کی ایک طویل فہر ست ہے جن میں سے چند ایسے مطاعن جنہیں بہت زیادہ اچھالاجاتاہے انتخاب کیا گیااو رپھراختصارکے ساتھ ان کاجواب دیا گیا حق کے متلاشی کے لئے یہ چند سطو رکافی وشافی ہیں مگراس کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ صحابہ کرام خصو صاًخلفاء راشدین علیھم الرضوان کی عدالت ایک مسلم امر ہے اور اپنی زبانوں کوان کے حق میں برائی سے روکنا عقائدِ اہلِسنت میں شامل ہے۔

شرح عقائد میں ہے ''ویکف عن ذکر الصحابۃ الابخیر ''یعنی ذکرِصحابہ سے زبان کو روکا جائے مگربھلائی کے ساتھ اوریہ حقیقت بھی ملحوظ رکھنی چاہئے کہ قرآن کریم ان کی عظمتوں کی گواہی دے رہاہے اوراحادیث انکے فضائل ومناقب سے مالامال ہیں ۔ یہ آیتیں ہمارے پیشِ نظر رہنی چاہییں۔۔۔۔۔۔! ٭

یداللّٰہ فوق ایدیھم،

ان کے ہاتھوں پر اللہ کاہاتھ ہے ۔

رضی اللّٰہ عنہ ورضو عنہ،

اللہ ان سے راضی اوروہ اللہ سے راضی ہیں۔

کلا وعداللّٰہ الحسنیٰ ،

سب صحابہ سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی (جنت )کاوعدہ فرمایا ہے ۔

اور یہ حدیثیں بھی ہمارے ذہن نشین رہنی چاہییں۔۔۔۔۔۔ 

لایمس النا رمسلماًرأنی

،جس مسلمان نے میرا دیدارکیااسے آگ نہیں چھوئے گی ۔

اکرموااصحابی فانھم خیارکم

میرے سارے صحابہ کی عزت کرو کیونکہ وہ تم سب میں بہترہیں۔

لاتسبوااصحابی،میرے صحابہ کو گالی نہ دو۔

اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی لاتتخذوھم غرضا،

میرے صحابہ کے معاملے میں اللہ سے ڈروانہیں طعن کانشانہ نہ بناؤ۔

من سب اصحابی فعلیہ لعنۃاللّٰہ،

جومیرے صحابہ کو گالی دے اس پراللہ کی لعنت ۔

اذارأیتم الذین یسبون اصحابی فقولوالعنۃاللّٰہ علی شرکم،

جب تم ایسے لوگوں کودیکھوجو میرے صحابہ کو گالیاں دیتے ہیں توکہوتمہارے شرپر اللہ کی لعنت ہو۔

خصوصاً حضر ت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں دربارِ رسالت سے جاری ہونے والاپروانہءِ بشارت کبھی لوحِ قلب سے محو نہ ہو۔

ماعلی عثمان ماعمل بعد الیوم،آج کے بعد عثمان پرکسی عمل کامؤاخذہ نہیں۔

اوریہ بات بھی ہردم ملحوظ ہوکہ وہ ان دس خوش بختوں میں شامل ہیں جنہیں انکی زندگی میں لسانِ رسالت سے نبوت سے نوید ِ جنت ملی ۔ ان نصوص کے مقابلہ میں ان تاریخی کتب کی کیا حیثیت ہے جوضعاف درکنارموضوعات سے بھری پڑی ہیں جب کتبِ احادیث موضو عات سے محفوظ نہ رہ سکیں تو کتبِ تاریخ کاکیا ٹھکانا،لہذاراہِ احتیاط قرآن وسنت کواپنا نے میں ہے تاریخی موضوعات ومہملات کو عقیدے کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا او رنہ ہی نصوصِ شرعیہ کے مقابلے میں تاریخی واقعات کواہمیت دی جاسکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ملتِ اسلامیہ کے قلوب واذہان میں صحابہ واہلِ بیت کی محبت بسائے او رانکی بارگاہ میں زبا ن درازی سے محفوظ فرمائے ۔آمین
مکمل تحریر >>

کون ہے قاتل حضرت امام حسین رضی الله تعالی عنہ کا شیعہ کتب سے حوالہ جات*

‎ *کون ہے قاتل حضرت امام حسین رضی الله تعالی عنہ کا شیعہ کتب سے حوالہ جات* =======================
شیعوں کی کتاب میں ہے کہ
‎نَبِى عَلَيْهِ السَّلَام نے اِرشَاد فرمایا:

‎*”اے عَلِی! اپنے بیٹوں کو اپنے شِیعوں سے بَچانا، کِیونکہ تیرے شِیعہ تیری اَولاد کو قَتل کر دیں گے.“*

‎بحوالہ شِیعہ کِتاب:
‎(الروضۃ الکافِی:260/8)

‎سَیَّده زَینَب بِنتِ عَلِىُ الْمُرتَضىٰ رَضِي اَللّٰهُ تَعٰالىٰ عَنہَا نے فرمايا:

‎*”اے کُوفِیو! اے غَدَّارو! تُم نے نَبِی عَلَيْهِ السَّلَام کے جِگَر کے ٹُکڑے کو قَتل کِیا ہے.“*

‎بحوالہ شِیعہ کِتاب:
‎(جَلَاءُ العُیُون:424)

‎*”سَيَّدنا حُسَين بِن عَلِىُ الْمُرتَضىٰ رَضِي اَللّٰهُ تَعٰالىٰ عَنهُ کے قَاتِلوں میں کوئی شَامِی یا حِجَازِی نہیں تها بلکہ وه سب کُوفِی تهے.“*

‎بحوالہ شِیعہ کِتاب:
‎(خُلاصَةُ المِصَائِب:201)

‎*”کُوفِی سب کے سب شِیعہ تهے.“*

‎بحوالہ شِیعہ کِتاب:
‎(مَجَالِسُ الْمُؤمِنِینَ:25)

‎*اِعتِرافِ جُرم:*

‎*مُعتَبَر شِيعہ عَالِم مُلّا بَاقِر مَجلِسى لِکهتا ہے:*

‎*”لوگ ہمیں غَدَّار اور قَاتِلانِ حُسَین کہتے ہیں. آج میں اِقرار كرتا ہُوں کہ ہاں! شِیعوں نے ہِی اَہلِ بَیت سے غَدَّاری کی اور اُن کو شَہِید کِیا. پَر قَسَم لے لو وه ہم نہیں تهے بلکہ ہمارے آبا و اَجداد تهے، ہم تو اُن کا کَفَّاره اَدا کر رہے ہیں مَاتَم کر کے.“*

‎بحوالہ شِیعہ کِتاب:
‎(بِحَارُ الْأَنوَار:34/55)


سیدہ زینب رضی اللہ عنھا نے کوفی شیعوں سے مخاطب ہوتے ہوئے ان کو یوں بدعا دی:
"أَمّا بَعْدُ يا أَهْلَ الْكُوفَةِ، يا اهْلَ الْخَتْلِ وَالْغَدْرِ أَتَبکُونَ فَلا رَقَأَتِ الدَّمْعَةُ وَ لا هَدَأَتِ الرّنّةُ"
"اما بعد، اے اہل کوفہ، اے دھوکہ کرنے والو اور عہد توڑ دینے والو کیا گریہ کرتے ہو؟ " تمہارے آنسو نہ رُکیں اور تمہاری آہ و فغان بند نہ ہو"۔
بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج45، ص109۔
(یہ شیعہ کی مستند کتاب ہے اور سیدہ کی بدعا کا اثر آج تک ہم دیکھ رہے ہیں. کیا پھر بھی ہم اس بدعائی قوم کی قربت سے خود کو برباد کرتے رہیں گے؟)
مکمل تحریر >>

Friday, 30 April 2021

ابو طالب کا ایمان

ابو طالب کا ایمان

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

فلما رأی حرص رسول اللہ ﷺ علیه قال :یا ابن أخي! والله، لو لا مخافة السبة علیك وعلی بني أبیک من بعدي، وأن تظن قریش أني إنما قلتھا جزعا من الموت لقلتھا، لا أقولھا إلا لإسرک بھا، قال: فلما تقارب من أبي طالب الموت قال: نظر العباس إلیه یحرک شفتیه، قال: فأصغی إلیه بأذنه، قال: فقال: یا ابن أخي ! واللہ، لقد قال أخي الکلمة التي أمرته أن یقولھا، قال: فقال رسول اللہ ﷺ : لم أسمع.
"جب ابو طالب نے اپنے( ایمان کے) بارے میں رسول اللہ ﷺ کی حرص دیکھی تو کہا: اے بھتیجے ! اللہ کی قسم، اگر مجھے اپنے بعد آپ اور آپ کے بھائیوں پر طعن و تشنیع کا خطرہ نہ ہوتا، نیز قریش یہ نہ سمجھتے کہ میں نے موت کے ڈر سے یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں کلمہ پڑھ لیتا۔ میں صرف آپ کو خوش کرنے کیلئے ایسا کروں گا۔ پھر جب ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو عباس نے ان کو ہونٹ ہلاتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے اپنا کان لگایا اور (رسول اللہ ﷺ سے ) کہا: اےبھتیجے ! یقیناً میرے بھائی نے وہ بات کہہ دی ہے جس کے کہنے  کا آپ نے اُنہیں حکم دیا تھا۔"

 (السیرۃ لابن ھشام: ۴۱۷/۱، ۴۱۸، المغازي لیونس بن بکیر: ص ۲۳۸، دلائل النبوۃ للبیھقي: ۳۴۶/۲)



سخت ضعیف:  یہ روایت سخت"ضعیف" ہے ،کیونکہ:

٭ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "اس حدیث کی سند کا ایک راوی نا معلوم ہے۔ اس کے برعکس صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو طالب کفر کی حالت میں فوت ہوئے۔" (تاریخ ابن عساکر: ۳۳/۶۶)

٭حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: " ھٰذا إسنادمنقطع ۔۔۔۔"الخ ،  یہ سند منقطع ہے۔۔۔۔۔ (تاریخ الاسلام: ۱۵۱/۲)

٭حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إن في السند مبھما لا یعرف حاله، وھو قول عن بعض أھله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد........ و الخبر عندي ما صح لضعف في سندہ"

اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے، جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے، نیز یہ اُس کے بعض اہل کی بات ہے جو کہ نام اور حالات دونوں میں ابہام ہے۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا

ہے۔۔۔ میرے نزدیک یہ روایت سند کے ضعیف ہونے کی بنا پر صحیح نہیں۔ (البدایة و النھایة لابن کثیر: ۱۲۳/۳ ۔ ۱۲۵)

٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "بسند فیه لم یسم...... و ھذا الحدیث لو کان طریقه صحیحا لعارضه ھذا الحدیث الذی ھو أصح منه فضلا عن أنه لا یصح."

یہ روایت ایسی سند  کے ساتھ مروی ہے جس میں ایک راوی کا نام ہی بیان نہیں کیا گیا.... اس حدیث کی سند اگر صحیح بھی ہو تو یہ اپنے سے زیادہ صحیح حدیث کے معارض ہے۔ اس کا صحیح نہ ہونا مستزاد ہے۔ (فتح الباری لابن حجر: ۱۸۴/۷)

٭علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "في سند ھذا الحدیث مبھم لا یعرف حاله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد."

اس حدیث کی سند میں ایک مبہم راوی ہے جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے۔ نام اور حالات دونوں مجہول ہیں۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا ہے۔ (شرح ابي داؤد للعیني الحنفي: ۱۷۲/۶)



ابو طالب کے  بارے میں صحیح روایات:
٭ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بیان کرتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا (ابو طالب) سے کہا: آپ لا اٰلہ الا اللہ کہہ دیں۔ میں قیامت کے روز اس کلمے کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔ اُنہوں نے جواب دیا:  اگر مجھے قریش طعنہ نہ دیتے کہ موت کی گھبراہٹ نے اسے آمادہ کردیا ہے تو میں یہ کلمہ پڑھ کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کردیتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی: ﴿یقینا جسے آپ چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، البتہ جسے اللہ چاہے ہدایت عطا فرمادیتا ہے۔ القصص: ۵۶﴾  "  (صحیح مسلم: ۲۵)


٭ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: "اے اللہ کے رسول ! کیا آپ نے جو ابو طالب کو کوئی فائدہ دیا ۔ وہ تو آپ کا دفاع کیا کرتے تھے اور آپ کے لیے دوسروں سے غصے ہوجایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ! (میں نے انہیں فائدہ پہنچایا ہے) وہ اب بالائی طبقے میں ہیں۔ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے نچلے حصے میں ہوتے۔" (صحیح البخاری:۳۸۸۳، صحیح مسلم: ۲۰۹)



٭سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "انہوں نے نبیٔ  اکرم ﷺ کو سنا۔ آپ کے پاس آپ کے چچا (ابو طالب) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: شاید کہ اُن کو میری سفارش قیامت کے دن فائدہ دے اور اُن کو جہنم کے بالائی طبقے میں رکھا جائے جہاں عذاب صر ف ٹخنوں تک ہو اور جس سے (صرف) اُن کا دماغ کھولے گا۔" (صحیح البخاری: ۳۸۸۵، صحیح مسلم: ۲۱۰)



٭سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جہنمیوں میں سے سب سے ہلکے عذاب والے شخص ابو طالب ہوں گے۔ وہ آگ کے دو جوتے پہنے ہوں گے جن کی وجہ سے اُن کا دماغ کھول رہا ہوگا۔" (صحیح مسلم: ۲۱۲)



٭خلیفہ راشد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنه بیان کرتے ہیں: "جب میرے والد فوت ہوئے تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: آپ کے چچا فوت ہوگئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جاکر دفنا دیں۔ میں نے عرض کی: یقینا وہ مشرک ہونے کی حالت میں فوت ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جائیں اور انہیں دفنا دیں، لیکن جب تک میرے پاس واپس نہ آئیں کوئی نیا کام نہ کریں۔ میں نے ایسا کیا، پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے غسل کرنے کا حکم فرمایا۔" (مسند الطیالسی: ص ۱۹،ح۱۲۰ وسندہ حسن متصل)

ایک روایت کے الفاظ ہیں: "سیدنا علی رضی اللہ نے عرض کی: آپ کے  گمراہ چچا فوت ہوگئے ہیں۔ ان کو کون دفنائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جائیں اور اپنے والد کو دفنا دیں۔" (مسند الامام احمد: ۹۷/۱، سنن ابی داؤد: ۳۲۱۴، سنن النسائی: ۱۹۰، ۲۰۰۸، واللفظ له، و سندہ حسن)

اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (کما في الاصابة لابن حجر: ۱۱۴/۷) اور امام ابن جارود رحمہما اللہ (۵۵۰) نے "صحیح" قرار دیا ہے۔

یہ حدیث نص قطعی ہے کہ ابو طالب مسلمان نہیں تھے۔ اس پر نبیٔ اکرم ﷺ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ تک نہیں پڑھی۔



٭سیدنا اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا انتہائی واضح بیان ملاحظہ ہو: "عقیل اور طالب دونوں ابو طالب کے وارث بنے تھے، لیکن (ابو طالب کے بیٹے) سیدنا جعفر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے اُن کی وراثت سے کچھ بھی نہیں لیا کیونکہ وہ دونوں مسلمان تھے جبکہ عقیل اور طالب دونوں کافر تھے۔ " (صحیح البخاری: ۱۵۸۸، صحیح مسلم: ۱۶۱۴ مختصراً)

یہ روایت بھی بیّن دلیل ہے کہ ابو طالب کفر کی حالت میں فوت ہوگئے تھے۔ اسی لیے عقیل اور طالب کے برعکس سیدنا جعفر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما  اُن کے وارث  نہیں نے کیونکہ نبیٔ اکرم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "نہ مسلمان کافر کا وارث بن سکتا ہے نہ کافر مسلمان کا۔" (صحیح البخاری: ۶۷۶۴، صحیح مسلم: ۱۶۱۴)

 ابو طالب کے ایمان لائے بغیر فوت ہونے پر رسول اللہ ﷺ کو بہت صدمہ  ہوا تھا۔  وہ یقیناً پوری زندگی اسلام دوست رہے۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے وہ ہمیشہ اپنے دل میں ایک نرم گوشہ رکھتے رہے لیکن اللہ کی مرضی کہ وہ اسلام کی دولت سے سرفراز نہ ہو پائے۔ اس لیے ہم اُن کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھنے کے باوجود دُعاگو نہیں ہوسکتے۔
٭حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ ابو طالب کے کفر پر فوت ہونے کا ذکر نے کے بعد لکھتے ہیں: "اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں مشرکین کے لیے استغفار کرنے سے منع  نہ فرمایا ہوتا تو ہم ابو طالب کیلئے استغفار کرتے اور اُن کیلئے رحم کی دُعا بھی کرتے!" (سیرۃ الرسول لابن کثیر: ۱۳۲/۲)

قرآن پاک اور مفسرین اور عدم ایمان ابو طالب
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے
آیت نمبر1
مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ یَّسْتَغْفِرُوۡا لِلْمُشْرِکِیۡنَ وَلَوْکَانُوۡۤا اُولِیۡ قُرْبٰی مِنۡۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیۡمِ ﴿۱۱۳﴾
*سورہ التوبة ۱۱۳*
امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ اس آیت کا شان نزول ذکر فرماتے ہیں کہ *اس آیت کے نزول کا تعلق نبی علیہ السلام کا اپنے چچا ابو طالب کے لئے استغفار اور بعض صحابہ کا اپنے والدین مشرکین کے لئے استغفار کرنے سے ہے*
تفسیر جلالین شریف
صرف حضرت امام سیوطی ہی نے اس کا شان نزول ابو طالب کے لئے کہا بلکہ کئ اور مفسرین نے بھی لکھا ہے جن میں *تفسیر بیضاوی تفسیر صاوی تفسیر مدارک تفسر معالم التنزیل تفسیر خازن تفسیر قرطبی تفسیر نیشاپوری تفسیر ابو سعود تفسیر کبیر تفسیر جریر طبری تفسیر در منثور تفسیر بحر المحیط تفسیر السراج المنیر تفسیر روح البیان تفسیر فرقان القرآن تفسیر روح المعانی تفسیر حسینی تفسیر ابن کثیر*
ان تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ آیت ابو طالب کے تعلق سے نازل ہوئی
آیت نمبر2
انك لا تهدى من احببت ولكن الله يهدى من يشآء
*سوره القصص 56*
اس آیت کے شان نزل کے تعلق سے مفسیر قرآن امام طبری فرماتے ہیں کہ
*ذکر کیا گیا ہےکہ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت نازل ہوئ جب آپ نے اپنے چچا ابو طالب کو ایمان لانے کی دعوت دی اور ابو طالب نے آپ کی دعوت کا انکار کردیا*
*ترجمہ:نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں*
ہندوستان کے مشہور بزرگ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ لکھتے ہیں
*” امام مسلم رحمہ اللہ نے حضرت ابوہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب سے کہا لا اللہ الہ الا اللہ پڑھ لو قیامت کے روز میں تمہاری گواہی دوں گا ابو طالب نے کہا اگر قریش مجھے یہ کہہ کر کہ عار نہ دلاتے کہ انہیں ڈر اور خوف نے لاالہ الا اللہ پڑھنے پر مجبور کیا ہے تو میں کلمہ طیبہ پڑھ کر ضرور تمہاری انکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا اس وقت اللہ نے یہ ارشاد فرمایا انك لا تهد ى من احببت ولكن الله يهدى من يشاء*
اس آیت کے شان نزول پر بھی تمام مفسرین یہی کہتے ہیں کہ آیت مذکورہ کا تعلق ابو طالب سے ہے
 
*احادیث کریمہ اور ایمان ابو طالب*
بخاری شریف اور عدم ایمان ابو طالب
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَغْنَيْتَ عَنْ عَمِّکَ فَإِنَّهُ کَانَ يَحُوطُکَ وَيَغْضَبُ لَکَ قَالَ هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ وَلَوْلَا أَنَا لَکَانَ فِي الدَّرَکِ الْأَسْفَلِ مِنْ النَّارِ
مسدد یحیی سفیان عبدالملک عبداللہ بن حارث حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابوطالب کو کچھ نفع پہنچایا کیونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف داری میں (مخالفوں پر) غصہ کیا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ صرف ٹخنوں تک آگ میں ہیں اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے نچلے طبقہ میں ہوتے۔
صحیح بخاری ۔ جلد دوم ۔ انبیاء علیہم السلام کا بیان ۔ حدیث 1116
صحیح بخاری ۔ جلد دوم ۔ انبیاء علیہم السلام کا بیان ۔ حدیث 1117
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذُکِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ فَقَالَ لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ النَّارِ يَبْلُغُ کَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ
عبداللہ بن یوسف لیث ابن ہاد عبداللہ بن خباب حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا (ابو طالب) کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امید ہے قیامت کے دن انہیں میری شفاعت کچھ نفع دے جائے گی کہ وہ آگ کے درمیان درجہ میں کردیئے جائیں گے کہ آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ کھولنے لگے گا۔
*صحیح بخاری ۔ جلد دوم ۔ انبیاء علیہم السلام کا بیان ۔ حدیث 1118*
مسلم شریف اور عدم ایمان ابو طالب
 
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَائَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَمِّ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کَلِمَةً أَشْهَدُ لَکَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدُ لَهُ تِلْکَ الْمَقَالَةَ حَتَّی قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا کَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَی مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَی أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا کَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِينَ وَلَوْ کَانُوا أُولِي قُرْبَی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی فِي أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَکِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَائُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
حرملة بن یحیی، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ بن مغیرہ کو ان کے پاس موجود پایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے چچا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا کلمہ کہہ دو میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی گواہی دوں گا ابوجہل اور ابن امیہ کہنے لگے کیا تم عبدالمطلب کے دین سے پھر رہے ہو؟ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باربار کلمہ تو حید اپنے چچا ابوطالب کے سامنے پیش کرتے رہے اور یہی بات دھراتے رہے بالآخر ابوطالب نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہنے سے انکار کردیا اور آخری الفاظ یہ کہے کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تک مجھے روکا نہیں جائے گا میں تو برابر دعائے مغفرت کرتا رہوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْ ا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْ ا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ) 9۔ التوبہ : 113) نازل فرمائی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مومنوں کے لئے یہ بات مناسب نہیں کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا کریں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ ان پر یہ ظاہر ہوگیا ہو کہ وہ دوزخی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ابوطالب کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطاب فرماتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ)
*صحیح مسلم ۔ جلد اول ۔ ایمان کا بیان ۔ حدیث 135*
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ عِنْدَ الْمَوْتِ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ لَکَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَبَی فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ الْآيَةَ
محمد بن عباد، ابن ابی عمر، مروان، یزید یعنی ابن کیسان، ابوکیسان، ابوحازم ، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا سے ان کی موت کے وقت فرمایا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہہ دو میں قیامت کے دن اس کی گواہی دے دوں گا ابوطالب نے انکار کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ) 28۔ القصص : 56) نازل فرمائی یعنی بے شک تو ہدایت نہیں کر سکتا جسے تو چاہے لیکن اللہ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے۔
*صحیح مسلم ۔ جلد اول ۔ ایمان کا بیان ۔ حدیث 137*
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ يَقُولُا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا طَالِبٍ کَانَ يَحُوطُکَ وَيَنْصُرُکَ فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِکَ قَالَ نَعَمْ وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنْ النَّارِ فَأَخْرَجْتُهُ إِلَی ضَحْضَاحٍ
ابن ابی عمر، سفیان، عبدالملک، بن عمیر، عبداللہ بن حارث، ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوطالب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لوگوں پر غصے ہوتے تھے تو کیا ان باتوں کی وجہ سے ان کو کوئی فائدہ ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے انہیں آگ کی ش’دت میں پایا تو میں انہیں ہلکی آگ میں نکال کر لے آیا۔
 
*صحیح مسلم ۔ جلد اول ۔ ایمان کا بیان ۔ حدیث 511*
نسائی شریف اور عدم ایمان ابو طالب
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ نَاجِيَةَ بْنَ کَعْبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبَا طَالِبٍ مَاتَ فَقَالَ اذْهَبْ فَوَارِهِ قَالَ إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِکًا قَالَ اذْهَبْ فَوَارِهِ فَلَمَّا وَارَيْتُهُ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ لِي اغْتَسِلْ
محمد بن مثنی، محمد، شعبہ، ابواسحاق، ناجیہ بن کعب، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ابوطالب گزر گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ جاؤ اور ان کو زمین میں دبا دو۔ میں نے کہا وہ تو کافر و مشرک ہونے کی حالت میں مرے ہیں پس ان کو دبا دینا کیا ضروری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جاؤ ان کو زمین میں دبا دو۔ میں جس وقت ان کو زمین میں دبا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا غسل کرو۔
*سنن نسائی ۔ جلد اول ۔ پاکی کا بیان ۔ حدیث 192*
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ کَعْبٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَمَّکَ الشَّيْخَ الضَّالَّ مَاتَ فَمَنْ يُوَارِيهِ قَالَ اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاکَ وَلَا تُحْدِثَنَّ حَدَثًا حَتَّی تَأْتِيَنِي فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي وَذَکَرَ دُعَائً لَمْ أَحْفَظْهُ
عبیداللہ بن سعید، یحیی، سفیان، ابواسحاق ، ناجیة بن کعب، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بوڑھا چچا ابوطالب مر گیا ہے۔ اب ان کو کون آدمی دفن کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ جاؤ اور اپنے والد کو دفن کر کے آجاؤ اور تم لوگ کسی قسم کی کوئی نئی بات نہ کرنا چنانچہ میں گیا اور میں ان کو زمین کے اندر چھپا کر واپس آگیا پھر میں خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو غسل کرنے کا حکم فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے واسطے دعا فرمائی اور ایک دعا اس قسم کی بیان فرمائی کہ جو مجھ کو یاد نہیں۔
*سنن نسائی ۔ جلد اول ۔ جنائز کے متعلق احادیث ۔ حدیث 2012*
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ فَقَالَ أَيْ عَمِّ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کَلِمَةً أُحَاجُّ لَکَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ يَزَالَا يُکَلِّمَانِهِ حَتَّی کَانَ آخِرُ شَيْئٍ کَلَّمَهُمْ بِهِ عَلَی مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْکَ فَنَزَلَتْ مَا کَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِينَ وَنَزَلَتْ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ
محمد بن عبدالاعلی، محمد و ابن ثور، معمر، زہری، سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد ماجد سے سنا کہ جس وقت (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا) ابوطالب کی وفات کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے وہاں پر ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے میرے چچا! تم لَا اِلٰہِ اِلَّا اللہ کہو اس جملہ کی وجہ سے میں تمہارے واسطے بارگاہ الٰہی میں حجت کروں گا (سفارش کی کوشش کروں گا) اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ نے کہا اے ابوطالب! کیا تم عبدالمطلب کے دین سے نفرت کرتے ہو؟ پھر وہ دونوں ان سے گفتگو کرنے لگے۔ یہاں تک کہ ابوطالب کی زبان سے آخری جملہ یہ نکلا کہ میں تو عبدالمطلب کے دین پر ہی قائم ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمہارے واسطے اس وقت تک دعا مانگوں گا جب تک مجھ کو ممانعت نہ ہوگی اس پر آیت کریمہ مَا کَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِينَ نازل ہوئی
*سنن نسائی ۔ جلد اول ۔ جنائز کے متعلق احادیث ۔ حدیث 2041*
ترمذی شریف اور عدم ایمان ابو طالب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ کَيْسَانَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ لَکَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي بِهَا قُرَيْشٌ أَنَّ مَا يَحْمِلُهُ عَلَيْهِ الْجَزَعُ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَکِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَائُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ کَيْسَانَ
محمد بن بشار، یحیی بن سعید، یزید بن کیسان، ابوحازم اشجعی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا (ابوطالب) سے فرمایا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہہ دیجئے تاکہ میں قیامت کے دن آپ کے متعلق ایمان کی گواہی دے سکوں۔ وہ کہنے لگے اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ قریش کہیں گے کہ (ابوطالب) نے موت کی گھبرا ہٹ کی وجہ سے کلمہ پڑھ لیا تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ ) 28۔ القصص : 56) (بے شک تو ہدایت نہیں کر سکتا جسے تو چاہے لیکن اللہ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے۔) یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو صرف یزید بن کیسان کی روایت سے جانتے ہیں۔
*جامع ترمذی ۔ جلد دوم ۔ قرآن کی تفسیر کا بیان ۔ حدیث 1136*
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَعْنَی وَاحِدٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ يَحْيَی قَالَ عَبْدٌ هُوَ ابْنُ عَبَّادٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ فَجَائَتْهُ قُرَيْشٌ وَجَائَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَ أَبِي طَالِبٍ مَجْلِسُ رَجُلٍ فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ کَيْ يَمْنَعَهُ وَشَکَوْهُ إِلَی أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي مَا تُرِيدُ مِنْ قَوْمِکَ قَالَ إِنِّي أُرِيدُ مِنْهُمْ کَلِمَةً وَاحِدَةً تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ قَالَ کَلِمَةً وَاحِدَةً قَالَ کَلِمَةً وَاحِدَةً قَالَ يَا عَمِّ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالُوا إِلَهًا وَاحِدًا مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ قَالَ فَنَزَلَ فِيهِمْ الْقُرْآنُ ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّکْرِ بَلْ الَّذِينَ کَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ إِلَی قَوْلِهِ مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ و قَالَ يَحْيَی بْنُ عِمَارَةَ
محمود بن غیلان وعبد بن حمید، ابواحمد، سفیان، اعمش، یحیی، عبد بن عباد، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ جب ابوطالب بیمار ہوئے تو قریش اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے۔ ابوطالب کے پاس ایک ہی آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ ابوجہل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں بیٹھنے سے منع کرنے کے لئے اٹھا اور لوگوں نے ابوطالب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت کی، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا بھتیجے ! اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ یہ لوگ ایک کلمہ کہنے لگیں اگر یہ لوگ میری اس دعوت کو قبول کرلیں گے تو عرب پر حاکم ہو جائیں گے اور عجمیوں سے جزیہ وصول کریں گے۔ ابوطالب نے پوچھا ایک ہی کلمہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ایک ہی کلمہ۔ چچا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہہ لیجئے۔ وہ سب کہنے لگے کیا ہم ایک ہی اللہ کی عبادت کرنے لگیں ہم نے تو کسی پچھلے دین میں یہ بات نہیں سنی (بس یہ من گھڑت ہے) راوی کہتے ہیں کہ پھر ان کے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں (ص وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ) 38۔ص : 1-2) (قرآن کی قسم ! جو سراسر نصیحت ہے بلکہ جو لگ منکر ہیں وہ محض تکبر اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے انسے پہلے کتنی قومیں ہلاک کر دیں ہیں، سو انہوں نے بڑی ہائے پکار کی اور وہ وقت خلاصی کا نہ تھا اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ڈرانے ولاء آیا اور منکروں نے کہا کہ یہ تو ایک بڑا جادوگر ہے، کیا اس نے کئی معبودوں کو صرف ایک معبود بنادیا۔ بے شک یہ بڑی عجیب بات ہے اور ان میں سے سردار یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو۔ بے شک اس میں کچھ غرض ہے۔ ہم نے یہ بات اپنے پچھلے دین میں نہیں سنی۔ یہ تو ایک بنائی ہوئی بات ہے۔) ۔ یہ حدیث حسن ہے۔ بندار، یحیی بن سعید، سفیان، اعمش، یحیی بن عمارة،
*جامع ترمذی ۔ جلد دوم ۔ قرآن کی تفسیر کا بیان ۔ حدیث 1180*
ابو داؤد شریف اور عدم ایمان ابو طالب
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ کَعْبٍ عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَمَّکَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ قَالَ اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاکَ ثُمَّ لَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّی تَأْتِيَنِي فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ وَجِئْتُهُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي
مسدد، یحیی، سفیان، ابواسحاق ، ناجیہ بن کعب، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ (جب میرے والد ابوطالب کا انتقال ہوا تو) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کے بوڑھے اور گمراہ چچا کا انتقال ہو گیا ہے آپ نے فرمایا جا اور اپنے باپ کو دفن کر آ اور اس کے علاوہ کوئی اور کام نہ کرنا یہاں تک کہ تو میرے پاس لوٹ آئے لہذا میں گیا اور ان کو دفن کر کے آ گیا۔ پس آپ نے مجھے غسل کرنے کا حکم فرمایا پس میں نے غسل کیا اور اپنے میرے لئے دعا فرمائی۔
*سنن ابوداؤد ۔ جلد دوم ۔ جنازوں کا بیان ۔ حدیث 1446*
مسند امام احمد اور عدم ایمان ابو طالب
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ فَقَالَ انْطَلِقْ فَوَارِهِ وَلَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي قَالَ فَانْطَلَقْتُ فَوَارَيْتُهُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ دَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِنَّ مَا عَرُضَ مِنْ شَيْءٍ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ابو طالب کا انتقال ہوگیا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا اور گمراہ چچا مر گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے کسی گڑھے میں چھپا دو اور میرے پاس آنے سے پہلے کسی سے کوئی بات نہ کرنا، چنانچہ میں گیا اور اسے ایک گڑھے میں چھپا دیا، نبی صلی اللہ علیہ نے اس کے بعد مجھے غسل کرنے کا حکم دیا اور مجھے اتنی دعائیں دیں کہ ان کے مقابلے میں کسی وسیع و عریض چیز کی میری نگاہوں میں کوئی حیثیت نہیں ۔
*مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 1039*
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَهُوَ مُنْتَعِلٌ نَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جہنم میں سب سے ہلکاعذاب ابو طالب کو ہوگا، انہوں نے آگ کی دو جوتیاں پہن رکھی ہوں گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابلتا ہوگا۔
*مسند احمد ۔ جلد دوم ۔ حدیث 764*
مزید اور کتب حدیث میں روایات موجود ہیں جس سے ابو طالب کے ایمان نہ لانے اور کفر پر فوت ہونے کی صحیح روایات موجود ہیں
*وہ کتب جن میں ابو طالب کے کفر پر خاتمہ کا ذکر آیا ہے*
*مسند احمد مشکوہ شریف کنزالعمال حاکم مستدرک جامع صغیر مسند ابوداود طیالسی طبقات ابن سعد اسد الغابہ معجم طبرانی مصنف عبدالرزاق مصنف ابن ابی شیبہ مسند اسحق راہویہ مسند بزار مدارج النبوہ الوفاء ابن جوزی کتاب الشفاء حلیہ الاولیاء تاریخ ابن عساکر سیرت حلبیہ وغیرہ کتب دیکھی جاسکتی ہیں*
*کیا اعلی حضرت کے پیر گھرانہ کی کتاب سبع سنابل شریف میں ابو طالب کو مسلمان کہا گیا ہے*
سبع سنابل کے حوالے سے رافضی نے یہ دھوکا دینے کی کوشش کی ہے کہ حضرت میر عبدالواحید بلگرامی علیہ الرحمہ ابو طالب کو مسلمان سمجھتے تھے؟ جب یہ اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ رافضی کو بولنے سے پہلے لکھنے سے پہلے یہ سوچنا چاہئے تھا کہ سبع سنابل شریف اب بھی چھپ رہی ہے جو چاہے وہ پڑھ کر خود ہی اندازہ لگا سکتا ہے کہ حضرت میر عبدلواحید بلگرامی علیہ الرحمہ کا وہی موقف ہے جو چودھویں صدی کے مجدد کا موقف ہے جمع اہل سنت وجماعت کے اکابرین کا موقف ہے یعنی ابو طالب کا خاتمہ کفر پر ہوا
اب آئیے سبع سنابل شریف کی عبارت آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں آپ خود فیصلہ کر لیجئے گا
حضرت میر عبدالواحید بلگرامی سبع سنابل شریف میں فرماتے ہیں
*میرے بھائ اگر چہ مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و شرف کے کمالات اہل معرفت کے دلوں میں نہیں سماں سکتے اور ان کے سچے دوستوں کے نہاں خانوں میں منزل نہیں بنا سکتے* *_اس کے با وجود ان کے ان نسب عالوں میں اپنا کامل اثر نہیں دکھا سکتے خواہ وہ آباؤ اجداد ہوں یا اولاد در اولاد چنانچہ ابو طالب میں اس نسب نے کوئی اثر نہیں کیا حالانکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں بلیغ کوشش فرماتے رہے لیکن چونکہ خدائے قدوس جل و علا نے ان کے دل پر روز اول ہی سے مہر لگا دی تھی لہذا جواب دیا اخرت النار على العار میں عار پر نار کو ترجیح دیتا ہوں_* *جیسا کہ مشہور ہے منقول ہے کہ جب ابو طالب کا انتقال ہوا مولی علی کرم اللہ وجہہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچائی کہ مات عمك الضال حضور کے گمراہ چچا کا انتقال ہوگیا بیت-کبھی ایسے گوہر پیدا کرنے والے گھرانہ میں ابو طالب جیسے کو (خالق بے نیاز) پتھر پھینکنے والا بنا دیتا ہے*
سبع سنابل شریف صفحہ ۸۹





یہ آیت کریمہ بالاتفاق ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جیسا کہ حافظ نووی رحمہ اللہ (631-676ھ) فرماتے ہیں :
فقد أَجمع المفسرون علي انھا نزلت في ابي طالب، وكذا نقل إجماعھم علي ھذا الزجاج وغيره، وھي عامه فانه لا يھدي الا يضل الا الله تعاليٰ.
”مفسرین کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت کریمہ ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ زجاج وغیرہ نے مفسرین کا اجماع اسی طرح نقل کیا ہے۔ یہ آیت عام ( بھی ) ہے۔ ہدایت دینا اور گمراہ کرنا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔“ ( شرح صحیح مسلم للنووی : 41/1)


حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (773-852ھ) لکھتے ہیں :
”بیان کرنے والے اس بات میں اختلاف نہیں کرتے کہ یہ آیت ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔“ ( فتح الباری لا بن حجر 506/8)


حا فظ سہیلی رحمہ اللہ (ھ581-508) فرماتے ہیں :
وظاھر الحديث يقتضي أن عبدالمطلب مات علي الشرك
”اس حدیث کے ظاہری الفاظ اس بات کے متقاضى ہیں کہ عبدالمطلب شرک پر فوت ہوئے تھے۔“ (الروض الانف : 19/4)

یہ حدیث اس بات پر نص ہے کہ ابوطالب کافر تھے۔ وہ ملت عبدالمطلب پر فوت ہوئے۔ انہوں نے مرتے وقت کلمہ پڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کے حق میں دعا کرنے سے منع کر دیا تھا۔ 


حا فظ ابنِ حجر رحمہ اللہ (733-853ھ) اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :
فھذا شان من مات علي الكفر، فلو كان مات علي التوحيد لنجا من النار أصلا والاحاديث الصححة والاخبار المتكاثرة طاقحة بذلك ”یہ صورتحال تو اس شخص کی ہوتی ہےجو کفر پر فوت ہوا ہو۔ اگر ابوطالب توحید پر فوت ہوتے تو آگ سے مکمل طور پر نجات پا جاتے۔ لیکن بہت سی احادیث و اخبار اس (کفر ابو طالب) سے لبریز ہیں-“ (الاصابته في تميز الصحابته لابن حجر : 241/7)

  خلیفہ راشد سیدنا علی بن طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : 
لَمَّا تُوُفِّيَ أَبِي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : إِنَّ عَمَّكَ قَدْ تُوُفِّيَ قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ ، قُلْتُ : إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا، قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ وَلَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي ، فَفَعَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ 
”جب میرے والد فوت ہوئے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خد مت میں حا ضر ہوا اور عرض کی : آپ کے چچا فوت ہو گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جا کر انہیں دفنا دیں۔“ میں نے عرض کی : یقیناً وہ تو مشرک ہونے کی حالت میں فوت ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جائیں اور انہیں دفنا دیں، لیکن جب تک میرے پاس واپس نہ آئیں کوئی نیا کام نہ کریں۔“ میں ایسا ہی کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم فرمایا۔“ (مسند الطيالسي : ص : 19، ح، 120، وسنده‘ حسن متصل )

حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ (700-774ھ) ابو طالب کے کفر پر فوت ہونے کے بعد لکھتے ہیں:
وَلَوْلَا مَا نَهَانَا اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ لِلْمُشْرِكِينَ، لَاسْتَغْفَرْنَا لابي طَالب وترحمنا عَلَيْهِ ”اگر اللہ تعالیٰ نی ہمیں مشرکین کے لیے استغفار کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو ہم ابوطالب کے 
   لیے استغفار کر تے اور اُن کے لیے رحم کی دعا بھی کرتے!“ (سیرةالرسول ابن کثیر:132/2)

مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں
آنحضرت ﷺ کے چچے اور پھوپھیاں حارث, قثم, حمزہ, عباس, ابوطالب, عبدالکعبہ, جحل, ضرّار, غیداق, ابولہب, صفیہ, عاتکہ, اروی, اُمّ حکیم, بّرہ, امیمہ اس جماعت میں سے حضرت حمزہ و عباس و حضرت صفیہ رضوان اللّٰہ علیھم اجمعین وعلیھن ایمان لائے (تحقیق الحق فی کلمة الحق ص:١٥٣) کیا خیال ہے تفضیلی صاحب؟؟؟
مکمل تحریر >>

Wednesday, 21 April 2021

حضورنبی کریم ﷺ نے متعدد نکاح کیوں کیے؟* 💫

💫 *حضورنبی کریم ﷺ نے متعدد نکاح کیوں کیے؟* 💫
 ایک پروفیسر صاحب لکھتے ہیں کہ کافی عرصہ کی بات ہے کہ جب میں لیاقت میڈیکل کا لج جامشورو میں سروس کررہا تھا تو وہاں لڑکوں نے سیرت النبی ﷺ کانفرس منعقد کرائی اورتمام اساتذہ کرام کو مدعو کیا ۔ 
چنانچہ میں نے ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو ( جو ہڈی جوڑ کے ماہر تھے) کے ہمراہ اس کانفرنس میں شرکت کی۔ اس نشست میں اسلامیات کے ایک لیکچرار نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم  کی پرائیویٹ زندگی پر مفصل بیان کیا اور آپ کی ایک ایک شادی کی تفصیل بتائی کہ یہ شادی کیوں کی اور اس سے امت کو کیا فائدہ ھوا۔ 
 یہ بیان اتنا موثر تھا کہ حاضرین مجلس نے اس کو بہت سراہا ۔ کانفرس کے اختتام پر ہم دونوں جب جامشورو سے حیدر آباد بذریعہ کار آرہے تھے تو ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو نے عجیب بات کی...
  اس نے کہا کہ ۔۔۔۔۔۔ آج رات میں دوبارہ مسلمان ھوا ھوں 
میں نے تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ آٹھ سال قبل جب وہ FRCS کے لیے انگلستان گئے تو کراچی سے انگلستان کا سفر کافی لمبا تھا  ہوائی جہاز میں ایک ائیر ہوسٹس میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئی ۔
ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی کے بعد اس عورت نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟  
میں نے بتایا اسلام ۔ ہمارے نبی ﷺ کا نام پوچھا میں نے حضرت محمد ﷺ بتایا ، پھر اس لڑکی نے سوال کیا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ تمہارے نبی ﷺ نے گیارہ شادیاں کی تھیں؟ 
میں نے لاعلمی ظاہر کی تو اس لڑکی نے کہا یہ بات حق اور سچ ہے ۔ اس کے بعد اس لڑکی نے حضور ﷺ کے بارے میں (معاذاللہ ) نفسانی خواہشات کے غلبے کے علاوہ  دو تین دیگر الزامات لگائے، جس کے سننے کے بعد میرے دل میں (نعوذ بااللہ) حضور  ﷺکے بارے میں نفرت پیدا ہوگئی اور جب میں لندن کے ہوائی اڈے  پر اترا تو میں مسلمان نہیں تھا۔
 آٹھ سال انگلستان میں قیام کے دوران میں کسی مسلمان کو نہیں ملتا تھا، حتیٰ کہ عید کی نماز تک میں نے ترک کر دی۔ اتوار کو میں گرجوں میں جاتا اور وہاں کے مسلمان مجھے عیسائی کہتے تھے۔
 جب میں آٹھ سال بعد واپس پاکستان آیا تو ہڈی جوڑ کا ماہر بن کر لیاقت میڈیکل کالج میں کام شروع کیا ۔ یہاں بھی میری وہی عادت رہی ۔ آج رات اس لیکچرار کا بیان سن کر میرا دل صاف ہو گیا اور میں نے پھر سے کلمہ پڑھا ہے۔ 
غور کیجئے ایک عورت کے چند کلمات نے مسلمان کو کتنا گمراہ کیا اور اگر آج ڈاکٹر عنایت اللہ کا یہ بیان نہ سنتا تو پتہ نہیں میرا کیا بنتا؟ 
اس کی وجہ ہم مسلمانوں کی کم علمی ہے۔ ہم حضور  ﷺ کی زندگی کے متعلق نہ پڑھتے ہیں اور نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ 
کئی میٹنگز میں جب کوئی ایسی بات کرتا ہے تو مسلمان کوئی جواب نہیں دیتے، ٹال دیتے ہیں۔ جس سے اعتراض کرنے والوں کےحوصلے بلند ہوجاتے ہیں ۔ 
اس لئیے بہت اہم ہے کہ ہم اس موضوع کا مطالعہ کریں اور موقع پر حقیقت لوگوں کو بتائیں ۔ 
میں ایک دفعہ بہاولپور سے ملتان بذریعہ بس سفر کر رہا تھا کہ ایک آدمی لوگوں کو حضور ﷺ کی شادیوں کے بارے میں گمراہ کر رہا تھا۔ میں نے اس سے بات شروع کی تو وہ چپ ہوگیا اور باقی لوگ بھی ادھر ادھر ہوگئے۔
لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی خاطر جانیں قربان کی ہیں۔ کیا ہما رے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہم اس موضوع کے چیدہ چیدہ نکات کو یاد کر لیں اور موقع پر لوگوں کو بتائیں ۔
 اس بات کا احساس مجھے ایک دوست ڈاکٹر نے دلایا جو انگلستان میں ہوتے ہیں اور یہاں ایک جماعت کے ساتھ آئے تھے ۔ انگلستان میں ڈاکٹر صاحب کے کافی دوست دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے تھے ، وہ ان کو اس موضوع پر صحیح معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں ۔
 انہوں نے چیدہ چیدہ نکات بتائے، جو میں پیش خدمت کررہا ہوں۔  اتوار کے دن ڈاکٹر صاحب اپنے دوستو ں کے ذریعے ”گرجا گھر“ چلے جاتے ہیں ، وہاں اپنا تعارف اور نبی کریم  ﷺکا تعارف کراتے ہیں ۔ عیسائی لوگ خاص کر مستورات آپ کی شادیوں پر اعتراض کرتی ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب جو جوابات دیتے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
◀️ (1) میرے پیارے نبی ﷺ نے عالم شباب میں (25 سال کی عمر میں) ایک سن رسیدہ بیوہ خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر 40 سال تھی اور جب تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا زندہ رہیں آپ نے دوسری شادی نہیں کی۔
  50 سال کی عمر تک آپ نے ایک بیوی پر قناعت کیا ۔ (اگر کسی شخص میں نفسانی خواہشات کا غلبہ ہو تو وہ عالم ِ شباب کے 25 سال ایک بیوہ خاتون کے ساتھ گزارنے پر اکتفا نہیں کرتا ) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد مختلف وجوہات کی بناء پر آپ ﷺنے نکا ح کئے ۔
 پھر اسی مجمع سے ڈاکٹر صاحب نے سوال پوچھا کہ یہاں بہت سے نوجوان بیٹھے ہیں ...... آپ میں سے کون جوان ہے جو 40 سال کی بیوہ سے شادی کرے گا....؟
 سب خاموش رھے ۔  ڈاکٹر صاحب نے ان کو بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے یہ کیا ہے ، پھر ڈاکٹر صاحب نے سب کو بتایا کہ جو گیارہ شادیاں آپ ﷺنے کی ہیں سوائے ایک کے، باقی سب بیوگان تھیں ۔ یہ سن کر سب حیران ہوئے ۔ 
پھر مجمع کو بتایا کہ جنگ اُحد میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے ۔ نصف سے زیادہ گھرانے بے آسرا ہوگئے ، بیوگان اور یتیموں کا کوئی سہارا نہ رہا۔
 اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے نبی کریم  ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بیوگان سے شادی کرنے کو کہا ، لوگوں کو ترغیب دینے کے لئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔۔۔
 ◀️ (2) حضرت سودہ رضی اللہ عنہا 
 ◀️ (3) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور
  ◀️ (4)حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا سے مختلف اوقات میں نکاح کئے ۔ آپ کو دیکھا دیکھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیوگان سے شادیاں کیں جس کی وجہ سے بے آسرا خواتین کے گھر آباد ہوگئے - 
 ◀️ (5) عربوں میں کثرت ازواج کا رواج تھا۔ دوسرے شادی کے ذریعے قبائل کو قریب لانا اور اسلام کے فروغ کا مقصد آپ ﷺ کے  پیش نظر تھا۔  
  ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ عربوں میں دستور تھا کہ جو شخص ان کا داماد بن جاتا اس کے خلاف جنگ کرنا اپنی عزت کے خلاف سمجھتے۔ 
 ابوسفیان رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پہلے حضور ﷺکے شدید ترین مخالف تھے ۔ مگر جب ان کی بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے حضور  ﷺ کا نکاح ہوا تو یہ دشمنی کم ہو گئی۔ ہوا یہ کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا شروع میں مسلمان ہو کر اپنے مسلمان شوہر کے ساتھ حبشہ ہجرت کر گئیں ، وہاں ان کا خاوند نصرانی ہو گیا ۔
 حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اس سے علیحدگی اختیار کی اور بہت مشکلات سے گھر پہنچیں ۔ حضور ﷺ  نے ان کی دل جوئی فرمائی اور بادشاہ حبشہ کے ذریعے ان سے نکاح کیا.
◀️  (6) حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا والد قبیلہ مصطلق کا سردار تھا۔ یہ قبیلہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان رہتا تھا ۔ حضور ﷺ نے اس قبیلہ سے جہاد کیا ، ان کا سردار مارا گیا ۔ 
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا قید ہوکر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مشورہ کر کے سر دار کی بیٹی کا نکاح حضور ﷺ سے کر دیا اور اس نکاح کی برکت سے اس قبیلہ کے سو گھرانے آزاد ہوئے اور سب مسلمان ہو گئے ۔
◀️ (7) خیبر کی لڑائی میں یہودی سردار کی بیٹی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا قید ہو کر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مشورے سے ا ن کا نکاح حضور اکرم  ﷺ سے کرا دیا ۔ 
◀️ (8)  اسی طر ح میمونہ رضی الله عنہا سے نکاح کی وجہ سے نجد کے علاقہ میں اسلام پھیلا ۔ ان شادیوں کا مقصد یہ بھی تھا کہ لوگ حضور ﷺکے قریب آسکیں ، اخلاقِ نبی کا مشاہدہ کر سکیں تاکہ انہیں راہ ہدایت نصیب ہو ۔
 ◀️ (9) حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھا۔ آپ پہلے مسیحی تھیں اور ان کا تعلق ایک شاہی خاندان سے تھا۔ ان کو بازنطینی بادشاہ شاہ مقوقس نے بطور ہدیہ کے آپ ﷺکی خدمت اقدس میں بھیجا تھا۔
◀️ (10) حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح متبنی کی رسم توڑنے کے لیے کیا ۔ حضرت زید رضی الله عنہ حضور ﷺ کے متبنی(منہ بولے بیٹے) کہلائے تھے، ان کا نکاح حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے ہوا ۔ مناسبت نہ ہونے پر حضرت زید رضی الله عنہ نے انہیں طلاق دے دی تو حضور ﷺنے نکاح کر لیا اور ثابت کردیا کہ متبنی ہرگز حقیقی بیٹے کے ذیل میں نہیں آتا.
 ◀️ (11)  اپنا کلام جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ علوم اسلامیہ کا سرچشمہ قرآنِ پاک اور حضور اقدس ﷺ کی سیرت پاک ہے۔ 
آپ  ﷺکی سیرت پاک کا ہر ایک پہلو محفوظ کرنے کے لیے مردوں میں خاص کر اصحاب ِ صفہ رضی الله عنہم نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ عورتوں میں اس کام کے لئیے ایک جماعت کی ضرورت تھی۔ 
ایک صحابیہ سے کام کرنا مشکل تھا ۔ اس کام کی تکمیل کے لئیے آپ ﷺ نے کئی نکاح کیے ۔ آپ نے حکما ً ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو ارشاد فرمایا تھا کہ ہر اس بات کو نوٹ کریں جو رات کے اندھیرے میں دیکھیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو بہت ذہین، زیرک اور فہیم تھیں، حضور ﷺ نے نسوانی احکام و مسائل کے متعلق آپ کو خاص طور پر تعلیم دی ۔
 حضور اقدس ﷺ کی وفات کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا 48 سال تک زندہ رہیں اور 2210 احادیث آپ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں ۔
 صحابہ کرام رضی اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں کہ جب کسی مسئلے میں شک ہوتا ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کا علم ہوتا ۔
 اسی طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایات کی تعداد 368 ہے ۔ 
ان حالا ت سے ظاہر ہوا کہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے گھر، عورتوں کی دینی درسگاہیں تھیں کیونکہ یہ تعلیم قیامت تک کے لئیے تھیں اور سار ی دنیا کے لیے  تھیں اور ذرائع ابلاغ محدود تھے، اس لیے کتنا جانفشانی سے یہ کام کیا گیا ہو گا، اس کا اندازہ آج نہیں لگایا جاسکتا۔ 
آخر میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ مذکورہ بالا بیان میں گرجوں میں لوگوں کو سناتا  ہوں اور وہ سنتے ہیں ۔ باقی ہدایت دینا تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔
 اگر پڑھے لکھے مسلمان ان نکات کو یاد کرلیں اور کوئی بدبخت حضور  ﷺ کی ذات پر حملہ کرے تو ہم سب اس کا دفاع کریں ۔
*🌹جزی الله عنا سيدنا محمدا صلی اللہ علیہ وسلم بما هو اهله🌹* 
کم سے کم اسکو اپنے ہر گروپ وہاٹساپ فیس بک اور تمام  کونٹیکٹ بک پر شیر کرکے اپنی ذمہ داری نبھائیں 
 اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے اور عمل کرنے والا بنائے ۔ (آمین )
مکمل تحریر >>

Wednesday, 14 April 2021

راستے بند

احتجاج کرنا اور راستے میں بیٹھنا ، اے اہلِ ایمان کب جاگو گے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم قارٸینِ کرام : اگر ضمیر زندہ ہے تو ایک بار مکمل ضرور پڑھیں اور اپنے ضمیرِ ایمانی سے پوچھ کر فیصلہ کریں ۔ ہو سکے تو آگے شیٸر بھی کریں ۔

حدثنا علي بن عبد الله ، قال‏ :‏ حدثنا صفوان بن عيسى، قال‏ :‏ حدثنا محمد بن عجلان ، قال‏ :‏ حدثنا ابي ، عن ابي هريرة قال‏ :‏ قال رجل‏ :‏ يا رسول الله ، إن لي جارا يؤذيني ، فقال‏ :‏ ”انطلق فاخرج متاعك إلى الطريق“، فانطلق فاخرج متاعه، فاجتمع الناس عليه، فقالوا‏:‏ ما شانك‏؟‏ قال‏:‏ لي جار يؤذيني، فذكرت للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال‏:‏ ”انطلق فاخرج متاعك إلى الطريق“، فجعلوا يقولون‏:‏ اللهم العنه، اللهم اخزه‏.‏ فبلغه، فاتاه فقال‏:‏ ارجع إلى منزلك، فوالله لا اؤذيك‏ ۔
ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میرا ایک پڑوسی ہے جو مجھے ایذا دیتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اپنا سامان (گھر سے) نکال کر راستے پر رکھ دو ۔ وہ گیا اور اپنا سامان نکال کر راستے پر رکھ دیا ۔ لوگ اس کے پاس آئے اور پوچھا تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا میرا پڑوسی مجھے تکلیف دیتا ہے میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مجھے حکم دیا کہ جاؤ اور اپنا سامان (گھر سے) نکال کر راستے پر رکھ دو ۔ (لوگوں نے یہ سنا) تو کہنے لگے اللہ اس پر لعنت کرے ، اللہ اسے رسوا کرے ۔ یہ بات جب ہمسائے تک پہنچی تو وہ اس کے پاس آیا اور کہا اپنے گھر میں لوٹ آو اللہ کی قسم میں تمہیں کبھی تکلیف نہیں دوں گا ۔ (الادب المفرد للبخاری كتاب الجار 68. بَابُ شِكَايَةِ الْجَارِ 124،چشتی)،(أخرجه أبوداؤد، الأدب، باب فى حق الجوار: 5153)(ابن حبان: 520)(أبويعلي: 6630)(الحاكم: 160 /4)(البيهقي فى شعب الإيمان: 9547)

اے سارے اہلِ ایمان اس وقت بات ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی گستاخی اور اذیت کی ہے اس لیۓ :

جماعتِ اھلسنت والو ،
ساری جمعیت علماۓ پاکستان والو ،
سنی تحریک والو ،
المصطفی پارٹی والو ،
سنی اتحاد کونسل والو ۔

تنظیم السعید والو ،
دعوتِ اسلامی والو ،
ساری سیاسی و مذھبی پارٹی والو ، مجلس علماۓ اھلسنت والو ، بزم حسان ، بزم چشتیہ ، بزم محمد علیہ السلام سمیت ساری بزم و انجمن والو ۔

سارے خطیبو ، امامو ، مؤذنو ، حافظو ، قاریو ، نعت خوانو ، مساجدکمیٹیوں والو ۔

اے سارے اہلِ ایمان قادریو ، چشتیو ، سھروردیو ، نقشبندیو ، رضویو ، نورانیو ، سعیدیو ، وارثیو ، امینیو ، مدنیو ، نوریو ، شاذلیو ، رفاعیو ، عطاریو ۔

اے سارے اہلِ ایمان مدرسوں والو ، اسکولوں والو ، کالجوں والو ، یونیورسٹیوں والو ۔

اے سارے اہلِ ایمان عدالتوں والو ، بینکوں والو ، کمپنیوں والو ، ایجنسیو والو ، اداروں والو ۔

اے سارے اہلِ ایمان تاجرو ، گاہکو ، دکاندارو ، ہوٹلوں والو ، دیہاڑی دارو ، ریڑھی والو ، ٹھیلے والو ۔

اے سارے اہلِ ایمان اینکرو ، وکیلو ، ٹیچرو ، پروفیسرو ، ڈاکٹرو ، مُدَرِّسو ۔

فرانس کے صدر نے صرف لبیک والوں کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی گستاخی نہیں کی ہم سب کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی گستاخی کی ہے اس لیۓ فرانس کا سفیر نکلوانا صرف لبیک والوں کا کام نہیں ہے بلکہ ہر کلمہ پڑھنے والے کی ذمہ داری ہے کیوں کہ جن کا کھاتے ہیں ان سے وفا بھی ضروری ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی) ۔ ⬇⬇
مکمل تحریر >>