Pages

Wednesday, 11 April 2018

{•••• *تاریخ اسلام کی ایک عظیم خاتـون* ••••} *شہزادئ صدرالشریعہ* ( *عالمہ فقیہہ، مفتیہ، حضرت، سعیدہ خاتون* ) (( *علیہا الرحمہ*))

{•••• *تاریخ اسلام کی ایک عظیم خاتـون* ••••}
                 *شہزادئ صدرالشریعہ*
( *عالمہ فقیہہ، مفتیہ، حضرت، سعیدہ خاتون* )
                   (( *علیہا الرحمہ*))

*ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
*ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*

اسلام کی آبیاری، شریعت مصطفوی ﷺ کی پاسداری اور تعلیم و تعلم، درس و تدریس، ارشاد و اصلاح کے میدان میں جہاں مرد حضرات نے اہم کردار ادا کیاھے وہیں  خواتین اسلام نے بھی ہردور میں عظیم تاریخ مرتب کی ہے

حضرات صحابہ کرام کے دور میں ایسی باعظمت مفتیہ خواتین موجود تھیں جو باقاعدہ فتویٰ دیا کرتی تھیں
اور ان کا فتویٰ نافذ بھی ہوتا تھا
*ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا*، ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین *حضرت حفصہ* رضی اللہ عنہا "بطور خاص" قابل ذکر ہیں

ام المومنین حضرت عائشہ کا شمارصحابہ کرام کے ان سات بڑے مجتہدین میں ہوتا ہے جو اجتہاد و افتاء میں سب سے نمایاں تھے حضرت عائشہ مستقل فتویٰ دیتی تھیں۔ اس پر امام جلال الدین سیوطی نے ’’عین الاصابہ کے نام سے ایک رسالہ تحریر فرمایا ھے

*حضرت عائشہ* کےبعد ان کی شاگردہ اور علمی جانشین حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن اور *حضرت طلحہ کی بیٹی "عائشہ"* (ہم نام) علم و فضل میں معروف تھیں بڑے بڑے "اہل علم" مسائل میں رہنمائی کے لیے ان سے رجوع کیا کرتے تھے،

ان کےبعد ان کی شاگردات نے یہ سلسلہ جاری رکھا
امام محمد بن سیرین کی ہمشیرہ حفصہ بنت سیرین *عالمہ فاضلہ خاتون تھیں،* احادیث روایت کرتی تھیں اور تجوید و قراءت میں خصوصی مہارت رکھتی تھیں۔ خود امام محمد بن سیرین کو قراءت کے حوالہ سے کسی مقام پر شبہ ہوتا تو اپنے شاگردوں سے فرماتے کہ ذرا ٹھہرو میں حفصہ سے دریافت کرکے آتاھوں

فقہ حنفی کے معروف امام، *امام جعفر* کی دختر کے بارے میں مؤرخین نے لکھا ہے کہ وہ بڑی عالمہ اور فقیہہ تھیں اور علمی کاموں میں اپنے والد محترم کے ساتھ شریک ہوا کرتی تھیں۔ چھٹی صدی کے حنفی فقیہ *شیخ علاؤ الدین سمرقندی* بڑے فقہاء میں شمار ہوتے ہیں ان کی بیٹی فاطمہ فقیہہ بھی اپنے دور کی بڑی فقیہہ اور مفتیہ تھیں اور ان کے شوہر امام کاسانی ہیں جو فقہ حنفی کی معروف کتاب البدائع والصنائع کے مصنف تھے۔ فقیہہ فاطمہ فتویٰ دیا کرتی تھیں اور اہم نوعیت کے فتوؤں پر میاں بیوی اور ان کے والد تینوں مفتیوں کے دستخط ہوا کرتے تھے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کی ہمشیرہ شہزادی ربعیہ کے بارے میں مؤرخین لکھے ہیں کہ بڑی عالمہ تھیں، انہوں نے شام میں ایک بڑا مدرسہ بھی بنایا تھا جس کے صحن میں وہ وفات کے بعد مدفون ہوئیں۔ آٹھویں صدی ہجری کی ایک خاتون
*ستّ الفقہاء* کے نام سے معروف تھیں، محدثہ اور فقیہہ تھیں، اہل علم ان سے سنن ابن ماجہ کا بطور خاص درس لیا کرتے تھے، علم فقہ میں بھی پوری دسترس رکھتی تھیں۔ انہوں نے اپنا مدرسہ قائم کیا تھا جس سے ہزاروں افراد نے استفادہ کیا۔

*بی بی حنیفہ* کا شمار نویں صدی کی نامور محدثات میں ہوتا ہے اور امام جلال الدین سیوطی نے اپنے شیوخ اور اساتذہ میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ *بی بی ملیکہ* آٹھویں صدی کی محدثات میں سے ہیں جن کی خدمت میں حاضر ہو کر حافظ ابن حجر عسقلانی نے روایت حدیث کی اجازت حاصل کی اور وہ انہیں اپنے شیوخ میں شمار کرتے ہیں۔ حضرت امام مالک کے شاگردوں میں حضرت *آمنہ رملیہ* کا تذکرہ ہوتا ہے، انہوں نے امام مالک کے علاوہ امام شافعی کی شاگردی کا شرف حاصل کیا اور کوفہ کے بڑے علماء سےبھی استفادہ کیا۔ انہوں نے بھی اپنا علمی حلقہ قائم کیا تھا جس سے اس دور کے بڑے بڑے علماء کرام نے فیض حاصل کیا.

امت مسلمہ میں ہر دور میں خواتین نے قرآن و حدیث اور فقہ و اجتہاد میں نمایاں مقام حاصل کیا اور وہ قرآن و سنت کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ دینی مسائل پر رائے اور فتویٰ بھی دیا کرتی تھیں۔ انہیں مقدس خواتین میں ایک عظیم خاتون، علم و فن کی مجمع اتم، رموز و اسرار کی بحربیکراں، عمدۃ العالمات، سیّدۃ الفاضلات، تلمیذ و شہزادی حضور صدرالشریعہ، مفکرہ، مدبرہ، ناشرۂ مسلک اعلیٰ حضرت، عالمہ، فاضلہ، *سعیدہ خاتون* صاحبہ صدیقہ، حامی دین مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثنا علیہا بھی ہیں جن کے اعلیٰ تخلیقات اوج ثریہ کی پیمائش اور بنت حوا کی زیبائش میں منفردالمثال تھیں ـــــ موصوفہ کی علومی خدمات کا احاطہ کر لینا یہ مجھ ناچیز کی عقل و فہم سے وراء ہے ــــ بلا شبہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو صاحبۂ فضل و کمال بنایا ــــــ آپ نہایت درجہ متبع شریعت تھیں ـــــ اخلاص و احسان اور تقویٰ آپکا شعار تھا ــــ عزم و استقلال اور توکل و قناعت کی عظیم دولت سے آپ سرفراز کی گئیں ـــــــ آپ اخلاق کریمانہ کی پیکر اور مروت و محبت کی چلتی پھرتی تصویر تھیں ـــــــ آپ کی ذات والا صفات خلوت اور جلوت ہر مقام پر  مجموعۂ کمالات تھی ـــــ آج موصوفہ بظاہر تو ہمارے درمیان نہیں ہیں، مگر ان کا نام نامی اس گرامی ان کے عشق خداوندی و محبت نبوی صَلیَّ اللہ عَلَیہ وَسَلَّم کی وجہ سے باقی ہے اور باقی رہےگا ـــــ رئیسۃ المحدثین، تاجدار کشور علم و فضل، پیکر ہدایت و ولایت عالمہ سعیدہ خاتون علیہا الرحمۃ  ساری زندگی عالمات و خواتین کو کردار و عمل کے ٹھوس پیغام سے سرشار کرتی رہیں ــــــ وہ ظلم و ستم کو سہ کر مسکرانے کا ہنر جانتی تھیں ــــــ آلام و مصائب کی شدتوں کو خندہ پیشانی کےساتھ برداشت کرلینا ان کی فطرت تھی ـــــ

    آپ جیسی بابرکت ہستیاں فرش گیتی پر شاذو نادر ہی نظر آتی ہیں ــــــــ آپ کتنی اہم خصوصیتوں کی مالکہ تھیں، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ـــــ بس یوں کہا جائے تو بجا ہے کہ خصائص عالیہ کی آپ مرقعہ تھیں ـــــــــ علم و عمل کی سنگم تھیں ــــــــــ بفیضان سید صدیقہ رضی اللہ عنہا معارف و عرفان کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اس ایک کوزے میں سمٹ آیا تھا ــــــــ
          *وَ لَـیـــــــسَ عَـــــلَی اللہِ بِمُستَنکِــــــــر*
           *اَن یَجمَـــــــــــعُ العاَلِمُ فِــــــــی وَاحـــــــد*

تعلیم آپ نے اپنے والد بزرگوار فقیہہ اعظم حضور صدرالشریعہ علامہ *امجد علی* اعظمی علیہ الرحمۃ و الرضوان سے حاصل کی ....  آپ ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں آپ کی والدہ ماجدہ معظمہ مکرمہ *ہاجرہ خاتون* علیہا الرحمہ صوم و صلوۃ کی پابند شریعت مطہرہ پر شلنے والی خاتون تھیں ـــ  باقی عورتوں کی طرح گفتگو کرنے کے بجائے اذکار و صلوۃ نوافل میں گزارتیں ـــــ

عالمہ فاضلہ سعیدہ خاتون ایک ایسی عالمۂ با عمل اخلاص و عزیمت، تقویٰ و طہارت پابند شریعت اور نہایت ہی معزز خاتون تھیں ــــــــ  پردہ کا تو یہ عالم تھا کہ مرد تو مرد کافرہ عورتوں سے بھی احتیاط فرماتیں ـــــــ

آپکا وصال *۲۱ رجب المرجب شب یکشنبہ سن ۱۳۸۳ھ* کو ہوا ـــ اور اپنے والد بزرگوار کے پہلو میں مدفون ہوئیں ـــــــ

  
                ہم عالمات کے  پاس آج جو کچھ بھی ہے، وہ سب عالمہ فاضلہ سعیدہ خاتون علیہالرحمۃ کا صدقہ و عطیہ اور انہیں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے

====_______====_____=====_____====

*ابر رحمت  ان کی  مرقد  پر گہر  باری  کرے*
      *حشرتک شان کریمی ناز برداری کرے*

•••••••••°°°°°°°°••••••••°°°°°°°••••••••°°°°°°

⚫  *کنیز تاج الشریعہ ــ ماریہ، رضوی، امجدی، گھوسی*

مکمل تحریر >>

Sunday, 8 April 2018

قصیدہ اصمعیہ فی مدح وہابیہ

فن شاعری کی" الف ب"کا بھی نہیں پتہ ، بس کچھ الفاظ ذہن میں آئے اور اِنہیں قلم بند کردیا

قصیدہ اصمعیہ فی مدح  وہابیہ 😊

کہاں ہے اب وہ  تمہارا   مقالہ
کل بدعة ضلالة ،کل بدعة ضلالة

ہر نجدی نے سُنی پہ غصہ نکالا
کل بدعة ضلالة ،کل بدعة ضلالة

شرک وبدعت کے فتووں کو تم نے اُچھالا
کل  بدعة  ضلالة ،  کل  بدعة  ضلالة

ہمیں بھی ہے علم  اور حدیث کا حوالہ
کل  بدعة  ضلالة ، کل  بدعة ضلالة

یہ لال رومال اور اُوپر سے  رسّی
کل بدعة ضلالة   کل بدعة ضلالة

سُنتِ نبی کو تم نے پُشت  پہ ہے ڈالا
کل بدعة ضلالة ، کل بدعة ضلالة

مزاروں کو  تم  نے ہے شہید  کر ڈالا
کل بدعة ضلالة   کل بدعة ضلالة

قبروں کو صالحین کی تم نے روند ڈالا
کل بدعة  ضلالة     کل  بدعة  ضلالة

سونے کا ہار گورے کی گردن میں ڈالا
کل  بدعة  ضلالة    کل  بدعة  ضلالة

کرکے تعظیمِ کافر اسلام کو ذلیل کر ڈالا
کل  بدعة  ضلالة    کل  بدعة  ضلالة

اہل شام کو تم نے کیا ہے  بے نوالہ
کل بدعة ضلالة کل بدعة ضلالة

بوجہ تمہاری نہیں ہوتا اسلام کا بول بالا
کل بدعة  ضلالة      کل  بدعة  ضلالة

بے پردگی اور ویلنٹائن کو جائز کہہ ڈالا
کل بدعة  ضلالة    کل  بدعة  ضلالة

تاش و شطرنج  پہ اب نہیں کہنے والا
کل بدعة ضلالة    کل بدعة  ضلالة

زیارتِ نبی  شرک اور سینما ٹھہرا جائز
کل بدعة ضلالة    کل بدعة  ضلالة

تم ہی ہو مستحق تم پہ ہے اطلاق اُجالا
کل بدعة ضلالة    کل بدعة  ضلالة

کیسے ہوگا اصمعی اب نجدیوں کا اِزالہ
کل بدعة  ضلالة    کل بدعة  ضلالة

ابوالحسن محمدناصرحسین قادری عطاری

مکمل تحریر >>

Saturday, 31 March 2018

لاثانی_فتنہ_کی_عوام__* *اس_تحریر__کو_لازمی_پڑھے*✍

*#لاثانی_فتنہ_کی_عوام__*
*اس_تحریر__کو_لازمی_پڑھے*✍

*شریعت ، طریقت ، حقیقت ، معرفت اور امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ تعالیٰ علیہ....................*

*آج کل فتنوں کا دور ہے جہاں تصوف ، پیری مریدی کے نام پر فتنے ہیں تو وہاں جہلاء کی روپ میں شریعت کے دشمن جعلی پیروں کا فتنہ عروج پر ہے جن کا مشن لوگوں کو علم اور شریعت سے دور کرنا ہے کیونکہ وہ خود جاہل ہوتے ہیں تو ایسے نام نہاد جعلی پیر اپنے مریدوں کو علماء کے خلاف بھڑکاتے ہیں اور کہتے ہیں او جی شریعت و طریقت الگ الگ ہیں یہ مولوی کیا جانیں طریقت کیا ہوتی ہے ۔ در اصل یہ جعلی اور جاہل پیر اپنی جہالت چھپانے کےلیئے ایسا کرتے ہیں ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ علماء کے روپ جعلی عالم جنہیں علمائے سو کہا گیا بھی موجود ہیں جن کی فرعونیت کسی فرعون سے کم نہیں ہے ایسے جعلی علماء سادہ لوح عوام کو اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ سے بد ظن کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام فتنوں اور ان کے شر سے محفوظ فرمائے آمین ۔*

*(1) شریعت ۔ (2) طریقت ۔ (3) حقیقت ۔ (4) معرفت*

*شریعت : قرآن و سنت کے ظاہری احکام کو ’’شریعت‘‘ کہا جاتا ہے ۔*
اور
*’’طریقت‘‘ ان کے باطن کا نام ہے۔*
*مثال کے طور پر طہارتِ شرعی یہ ہے کہ بدن کو پاک کرلیا جائے لیکن ’’ طریقت‘‘کی طہارت یہ ہے کہ دل کو تمام برائیوں سے پاک کیا جائے ۔*

*شریعت کے احکام پر عمل کرنے سے جو اثرات ذہن و قلب پر مکمل طور پر چھا جائیں اور یقین کی دولت حاصل ہو جائے تو اِسے ’’حقیقت‘‘ کہا جاتا ہے ۔*

*معرفت سے مراد ہے:*
*اللہ تعالیٰ کی پہچان۔اس کا دوسرا نام ’’عرفان‘‘ ہے۔ جب صوفی پر حقائق کھلتے ہیں تو وہ حق الیقین کی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔یہی عرفان ہے اور یہی معرفت ہے ۔*

*حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء قدس سرہ فرماتے ہیں کہ :*
*جب سالک سے کوئی غلَطی ہو جاتی ہے تو ’’معرفت‘‘ سے ’’حقیقت‘‘ کی منزل پر آجاتا ہے۔*
*جب حقیقت کی منزل پر اس سے غلطی ہوتی ہے وہ ’’طریقت‘‘ کی منزل پر آجاتا ہے۔*
*جب طریقت کی منزل پر اس سے غلطی ہوتی ہے تو’’شریعت‘‘ کی منزل پر آجاتا ہے۔*
*اس لئے ’’شریعت‘‘ کی پابندی ضروری ہے ۔ (فوائد الفواد)*

*اعلی حضرت ، امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :*
*حاشا نہ شریعت و طریقت دو راہیں ہیں نہ اولیاء کبھی غیر علماء ہو سکتے ہیں، علامہ مناوی شرح جامع صغیر  پھر عارف باللہ سیدی عبدالفنی نابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں :*
*حضرت سیدنا امام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : علم باطن نہ جانے گا مگر وہ جو علم ظاہر جانتا ہے ،*
*حضرت سیدنا امام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہ بنایا یعنی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دے دیا اسکے بعد ولی کیا ۔ (فتاوی رضویہ شریف، ج 21 ، ص 530)*

*اعلی حضرت فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں :*
*شریعت ، طریقت ، حقیقت معرفت میں باہم اصلا کوئی اختلاف نہیں اس کا مدعی اگر بے سمجھے کہے تو نرا جاہل ہے اور سمجھ کر کہے تو گمراہ ، بد دین ۔ شریعت، حضور اقدس سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال ہیں ، اور طریقت ، حضور کے افعال ، اور حقیقت، حضور کے احوال ، اور معرفت ، حضور کے علوم بے مثال . (فتاوی رضویہ شریف ، ج 21 ص 460)*

*سوال:❓*
*بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں تو باطنی علم اور معرفت حاصل ہے۔ اس لئے ہمیں شریعت پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ فرمایئے کہ کیا طریقت شریعت سے جدا کوئی راستہ ہے ۔*
*جواب :*
*اعلیٰ حضرت مجدد برحق امام احمد رضا خاں قادری بریلوی علیہ الرحمہ القوی اپنی تصنیف مقال عرفاء باعزاز شرع و علماء میں فرماتے ہیں کہ ’’شریعت منبع ہے اور طریقت اس میں سے نکلا ہوا ایک دریا‘ عموما کسی منبع سیدریا بہتا ہو تو اسے زمینوں کو سیراب کرنے میں منبع کی حاجت نہیں ہوتی لیکن شریعت وہ منبع ہے کہ اسے سے نکلے ہوئے دریا یعنی طریقت کو ہر آن اس کی حاجت ہے۔ اگر شریعت کے منبع سے طریقت کے دریا کا تعلق ٹوٹ جائے تو صرف یہی نہیں کہ آئندہ کے لئے اس میں پانی نہیں آئے گا بلکہ یہ تعلق ٹوٹتے ہی دریائے طریقت فورا فنا ہوجائے گا ۔*
*پھر فرماتے ہیں کہ شریعت و طریقت تو منبع و دریا کی مثال سے بھی اعلیٰ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شریعت مطہرہ ربانی نور کا ایک فانوس ہے کہ دین کی دنیا میں اس کے سوا کوئی روشنی نہیں اور اس کی روشنی بڑھنے کی کوئی حد نہیں۔ اس روشنی کی زیادتی و افزائش چاہنے کا نام طریقت ہے یہ روشنی بڑھ کر صبح اور پھر آفتاب اور پھر اس سے بھی غیر متناہی درجوں تک ترقی کرتی ہے‘ جس سے حقائق اشیاء کا انکشاف ہوتا ہے اور نور الٰہی تجلی فرماتا ہے۔ یہ مرتبہ علم میں معرفت اور مرتبہ تحقیق میں حقیقت ہے درحقیقت شریعت ہی ہے کہ مختلف مراتب کے لحاظ سے اس کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں۔ جب یہ نور بڑھ کر صبح روشن کی مثل ہوجاتا ہے تو ابلیس لعین خیر خواہ بن کر آتا ہے اور اس سے کہتا ہے‘ چراغ بجھا دے اب تو صبح خوب روشن ہوگئی ہے۔ آدمی دھوکے میں نہ آئے اور نور بڑھ کر دن کی مثل ہوجائے تو شیطان پھر کہتا ہے دن اتنا روشن ہے کیا اب بھی چراغ نہیں بجھائے گا۔ اﷲ تعالیٰ بندہ کی مدد فرمائے تو بندہ لاحول پڑھتا ہے اور کہتا ہے اے لعین! یہ اس فانوس ہی کا تو نور ہے‘ اسے بجھا دیا تو روشنی کہاں سے آئے گی پس وہ ملعون دفع ہوجاتا ہے اور بندہ نور حقیقی تک پہنچ جاتا ہے جیسا کہ سورہ نور میں فرمایا گیا ہے۔ نور علی نور یعنی ’’نور پر نور‘‘ ہے۔ اﷲ اپنے نور کی راہ بتاتا ہے جسے چاہتا ہے‘‘ (النور ۳۵)*
*اگر آدمی شیطان کے دھوکے میں آگیا اور سمجھا کہ دن تو ہوگیا اب مجھے چراغ کی کیا حاجت‘ پھر جیسے ہی اس نے چراغ بجھایا‘ گھپ اندھیرا ہوگیا کہ ہاتھ سے ہاتھ سوجھائی نہیںدیتا جیسا کہ قرآن عظیم میں ارشاد ہوا ’’ایک پر ایک اندھیرے ہیں‘ جب اپنا ہاتھ نکالے تو کچھ نہ سوجھائی دے اور جسے اﷲ نور نہ دے اس کے لئے کہیں نور نہیں‘‘ (النور ۴۰)*

*یہ ہیں وہ کہ طریقت بلکہ حقیقت تک پہنچ کر اپنے آپ کو مستثنیٰ سمجھے اور ابلیس کے فریب میں آکر اس ربانی فانوس کو بجھا بیٹھے۔ کاش ان کو اس کی خبر ہوتی تو شاید توبہ کرتے لیکن ستم تو یہ ہے کہ شیطان ملعون نے جہاں فانوس بجھوایا۔ اس کے ساتھ ہی فورا اپنی سازشی بتی جلا کر ان کے ہاتھ میں دے دی۔ یہ اسے نور سمجھ رہے ہیں اور وہ حقیقتا نار ہے۔ یہ مگن ہیں کہ شریعت والوں کے پاس کیا ہے۔ ایک چراغ ہے ہمارا نور تو آفتاب کو شرما رہا ہے لیکن انہیں خبر نہیں کہ اہل شریعت کے پاس ہی اصل نور ہے اور ان کے پاس صرف دھوکا۔*
*مزید فرمایا‘*
*شریعت کی حاجت ہر مسلمان کو ایک ایک سانس ایک ایک پل ایک ایک لمحہ پر مرتے دم تک ہے اور طریقت میں قدم رکھنے والوں کو اور زیادہ کہ راہ جس قدر باریک اسی قدر ہادی کی زیادہ حاجت۔*
*نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ’’*
*بغیر فقہ کے عبادت کرنے والا ایسا ہے جیسا چکی کھینچنے والا گدھا کہ مشقت جھیلے اور نفع کچھ نہیں‘‘ (ابو نعیم فی الحلیہ)*
*پھر عارف باﷲ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ طریقت و شریعت کے درمیان تعلق کو ایک اور مثال کے ذریعے یوں واضح کرتے ہیں کہ شریعت ایک عمارت ہے اس کا اعتقاد بنیاد اور عمل چنائی ہے پھر ظاہری اعمال وہ دیوار ہیں کہ اس بنیاد پر ہوا میں چنے گئے اور جب یہ تعمیر اوپر بڑھ کر آسمان تک پہنچی وہ طریقت ہے۔ دیوار جتنی اونچی ہوگی نیو (یعنی بنیاد) کی زیادہ محتاج ہوگی اور نہ صرف بنیاد بلکہ اعلیٰ حصہ نچلے حصے کا بھی محتاج ہے اگر دیوار نیچے سے خالی کردی جائے اوپر سے بھی گر پڑے گی۔*
*احمق وہ ہے جس پر شیطان نے نظربندی کرکے اس کی چنائی آسمانوں تک دکھائی اور دل میں ڈالا کہ اب تو ہم زمین کے دائرے سے اونچے گزر گئے۔ ہمیں اس سے تعلق کی کیا حاجت ہے۔ پس بنیاد سے دیوار جدا کرلی اور نتیجہ وہ ہوا جو قرآن عظیم نے فرمایا کہ ’’اس کی عمارت اسے لے کر جہنم میں گر پڑی‘‘*
*اسی لئے اولیاء کرام فرماتے ہیں ’’جاہل صوفی شیطان کا مسخرہ ہے‘‘*
*اور حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا فرمان عالی شان ہے کہ*
*’’ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے‘‘ (ترمذی ابن ماجہ)*

*امام اہلسنت نے اپنی اس تصنیف میں چالیس اولیاء کرام کے اسی ۸۰ ارشادات عالیہ بھی بیان فرمائے ہیں جن میں سے چند اقوال پیش خدمت ہیں تاکہ اس مسئلہ میں اولیاء کرام کا مسلک واضح ہوجائے۔*
*حضرت سیدنا امام مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ*
*’’علم باطن نہ جانے گا مگر وہ علم ظاہر جانتا ہے‘‘*
*حضرت سیدنا امام شافعی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ’’اﷲ تعالیٰ نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہ بنایا‘‘ یعنی ولی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دے دیا۔ اس کے بعد ولی کیا۔*
*حضور غوث اعظم قطب الاقطاب سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ’’*
*اگر حدود شریعت میں سے کسی حد میں خلل آئے تو جان لے کہ تو فتنہ میں مبتلا ہے (طریقت میں نہیں) بے شک شیطان تیرے ساتھ کھیل رہا ہے تو فورا حکم شریعت کی طرف پلٹ آ اور اس سے لپٹ جا اور اپنی نفسانی خواہش چھوڑ اس لئے کہ جس حقیقت کی شریعت تصدیق نہ فرمائے وہ حقیقت باطل ہے‘‘ (طبقات اولیاء از امام شعرانی)*

*امام الاولیاء حضرت سیدنا جنید بغدادی رضی اﷲ عنہ سے عرض کی گئی کہ کچھ لوگ زعم کرتے ہیں کہ احکام شریعت تو وصول کا وسیلہ تھے اور ہم واصل ہوگئے یعنی اب ہمیں شریعت کی کیا حاجت___؟*
*فرمایا‘ وہ سچ کہتے ہیں وہ واصل ضرور ہوئے مگر کہاں تک جہنم تک۔*

*چور اور زانی ایسے برے عقیدے والوں سے بہتر ہیں۔ میں اگر ہزار برس جیوں تو فرائض و واجبات تو بڑی چیز ہیں جو نوافل و مستحباب مقرر کرلئے ہیں بے عزر شرعی ان میں سے کچھ کم نہ کروں (الیواقیت والجواہر فی بیان عقائد الاکابر)*

*حضرت سیدنا ابو یزید بسطامی رضی اﷲ عنہ ایک شخص سے ملنے گئے جو زہد و ولایت کا مدعی تھا۔*
*آپ کے سامنے اس نے قبلہ کی طرف تھوکا۔ آپ اس سے ملے بغیر واپس آگئے اور فرمایا ’’یہ شخص شریعت کے ایک ادب پر تو امین ہے نہیں‘ اسرار الٰہی پر کیونکر امین ہوگا‘‘ (رسالہ قشیریہ)*

*حضرت ابو قاسم نصرآبادی فرماتے ہیں کہ*
*تصوف کی جڑ یہ ہے کہ کتاب و سنت کو لازم پکڑے رہے (طبقات کبریٰ)*

*حضرت سیدنا شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں…*
*جس حقیقت کو شریعت رد فرمائے وہ حقیقت نہیں بے دینی ہے*
*(عوارف المعارف)*

*حضرت سیدنا امام عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ فرماتے ہیں ’’*
*تصوف کیا ہے بس احکام شریعت پر بندہ کے عمل کا خلاصہ ہے‘‘*
*مزید فرمایا ’’*
*علم تصوف شریعت کے چشمہ سے نکلی ہوئی جھیل ہے‘‘*
*(طبقات کبریٰ)*

*ان دلائل سے ثابت ہوگیا کہ شریعت اور طریقت لازم و ملزوم ہیں۔*
*آج کل بعض جہلا طریقت کو شریعت سے الگ راہ اس لئے بتاتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنے عقیدت مندوں کو اپنے غیر اسلامی افعال کے جواز کا اطمینان دلا سکیں۔*

*حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رضی اﷲ عنہ کشف المحجوب میں تصوف کے باب میں فرماتے ہیں کہ ’’*
*صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ اور سلف رحمہم اﷲ کے زمانے میں تصوف کا نام نہیں تھا بلکہ ایک حقیقت تھی جو سب پر طاری تھی۔ آج کل صرف نام باقی ہے اور حقیقت غائب۔ یعنی پہلے معاملہ معروف تھا اور ظاہر داری غائب اور اب معاملہ یعنی تصوف کی حقیقت غائب ہے اور ظاہر داری معروف ۔*
*مزید فرمایا کہ جب عام لوگ ظاہر پرستوں کو ناچتے گاتے دیکھتے ہیں جوکہ صوفیہ ہونے کے مدعی ہیں تو وہ تمام اولیاء سے بدظن ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں ’’یہ ہے تصوف اور اس کے اصول ؟ پہلے زمانے کے صوفیا بھی اسی قسم کے ہوں گے‘‘ حالانکہ ان کہنے والوں نے یہ سمجھنے کی کوشش نہ کی کہ وقت فتنہ ہے اور فتنوں کی کثرت ہے۔ حرص بادشاہ کو ظلم پرآمادہ کرتا ہے لالچ عالم کو بدکاری میں مبتلا کردیتا ہے اور ریاکاری زاہد کو منافقت کی طرف لے جاتی ہے۔ اسی طرح ہوائے نفس اور لالچ بعض صوفیا کو رقص و سرور میں مبتلا کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے اہل طریقت برباد ہوجاتے ہیں۔ طریقت برباد نہیں ہوتی۔ اسی طرح اگر کچھ لوگ لغویات و خرافات کو پاک و صاف چیزوں میں شامل کردیں تو پاک و صاف چیزیں خرافات نہیں بن جاتیں البتہ ایسے لوگ ضرور دنیاوآخرت میں نقصان اٹھاتے ہیں ۔*

*اب میں اس تمام گفتگو کاخلاصہ حضرت سیدنا امام مالک رضی اﷲ عنہ کے الفاظ میں پیش کردیتا ہوں جسے محدث علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں :*
*جس نے علم فقہ حاصل کیا اور تصوف کو نظر انداز کردیا وہ فاسق ہوا اور جس نے تصوف کو اپنالیا مگر فقہ کو چھوڑ دیا وہ زندیق ہوا اور جس نے شریعت و تصوف دونوں کو جمع کیا اس نے حق کو پالیا۔*

*مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے دعوت_اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے کتاب بنام ⏬*

*شریعت و طریقت📚*

*آدابِ مرشدِ کامل📚*

*ضرور ضرور ضرور لے کر پڑھ لیں ان شاء اللہ بے شمار معلومات کا خزانہ ہاتھ آئے گا👌🏿*

*آگے شیئر کر کے صدقہ جاریہ کی سعادت حاصل کیجئے ✅*

مکمل تحریر >>

Monday, 29 January 2018

تقلید کیوں ضروری ھے ؟

تقلید کیوں ضروری ھے ؟

:
بہت سے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جب ہم خود قرآن و حدیث پڑھ سکتے ہیں اور احادیث کی کتابوں سے اور قرآن سے اپنے مسائل کا حل دریافت کر سکتے ہیں تو پھر ہمیں مجتہدین کی تقلید کی کیا ضرورت ہے؟

جواب

اگر کسی کو علوم قرآن اور علوم حدیث میں اتنی ہی نظر ہو تو پھر وہ شخص خود مجتہد ہے اور اسے واقعی کسی کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اگر کوئی قرآن میں ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہ، مطلق و مشروط آیات، لغات عرب کا عالم ہو اور حدیث کے مندرجہ ذیل علوم کا ماہر ہوتو پھر واقعا اس پر سے تقلید ساقط ہی ہو جائے گی اور وہ علوم احادیث درج ذیل ہیں جن کو مجتہد بننے کے لئے حاصل کرنا ضروری ہے۔
1 محدث کی صداقت کا علم
2 اسناد حدیث کا علم
3 حدیث عالی کا علم
4 حدیث نازل کا علم
5 روایات موقوفہ کا علم
6 ان اسناد کا علم جس کی سند پیغمبر اسلام سے ذکر نہ ہو
7 صحابہ کے مراتب کا علم
8 احادیث مرسلہ اور ان کے سلسلے میں پیش کی جانے والی دلیلوں کی معرفت
9 تابعین سے نقل کی گئی احادیث کا علم
10 اسناد مسلسل کا علم
11 احادیث معنعنہ کا علم
12 روایات معضل کا علم
13 احادیث مدرج کی پہچان کا علم
14 تابعین کی شناخت کا علم
15 تباع تابعین کی معرفت
16 اکابر و اصاغر کی معرفت
17 اولاد اصحاب کی معرفت
18 علم جرح و تعدیل کی معرفت
19 صحیح و سقیم کی پہچان
20 فقہ الحدیث کا علم
21 ناسخ و منسوخ احادیث کا علم
22 متن میں جو غریب (نامانوس) الفاظ استعمال ہوں ان کا علم
23 احادیث مشہور کا علم
24 غریب اور نامانوس احادیث کا علم
25 احادیث مفرد کی پہچان کا علم
26 ان لوگوں کی معرفت جو حدیث میں تدلیس کر دیتے ہیں
27 حدیث کی علتوں کا پہچاننا
28 شاذ روایات کا علم
29 پیغمبر کی ان حدیثوں کا جانچنا جو دوسری احادیث سے معارض نہ ہو
30 ان حدیثوں کی معرفت جن کا کوئی رخ کسی رخ سے معارض نہ ہو
31 احادیث میں الفاظ زائد کی معرفت
32 محدیثین کے مذہب کی اطلاع
33 متون کی تحری غلطیوں سے آگاہی
34 مذاکرہ حدیث کا جانچنا اور مذاکرہ کرتے ہوئے راستگو کی معرفت
35 اسناد میں محدثین کی تحریری غلطیوں کی اطلاع
36 صحابہ، تابعین اور ان کے بھائیوں،بہنوں  کی عصر حاضر تک معرفت
37 ان صحابہ، تابعین،تباع تابعین کی معرفت جن میں سے بس ایک راوی نے روایت کی ہو
38 ان صحابہ تابعین اور ان کے پیرئووں میں سے جو راوی ہیں عصر حاضر تک ان کے قبائل کی معرفت
39 صحابہ سے عصر حاضر تک کے محدثین کے انساب کا علم
40 محدثین کے ناموں کا علم
41 صحابہ، تابعین، تباع تابعین اور عصر حاضر تک ان کے پیرئوں کی نیت کا جاننا
42 روایان حدیث کے وطن کی پہچان
43 صحابہ، تابعین، تباع تابعین کی اولاد اور ان کے غلاموں کی معرفت
44 محدثین کی عمر کی اطلاع۔ولادت سے وفات تک
45 حدثین کے القابات کی معرفت
46 ان راویوں کی معرفت جو ایک دوسرے سے قریب ہیں
47 راویوں کے قبائل، وطن، نام، کنیت اور ان کے پیشوں میں متشابہات کی پہچان
48 غزوات پیغمبر ان کے ان خطوط وغیرہ کا علم جو انہوں نے بادشاہوں کو تحریر فرمائے
49 اصحاب حدیث نے جن ابواب کو جمع کیا ہے ان کی معرفت اور اس بات کی جستجو کہ ان میں سے کون سا حصہ ضائع ہو گیا ہے
50 اس کے علاوہ احادیث کی مندرجہ ذیل اقسام کا علم بھی ہونا چاہئیے۔

1صحیح
2 حسن
3 ضعیف
4 مسند
5 متصل
6 مرفوع
7 موقوف
8 مقطوع
9 مرسل
10 معضل
11 تدلیس
12 شاذ
13 غریب
14 معنعن
15 معلق
16 مفرد
17 مدرج
18 مشہور
19 مصحف
20 عالی
21 نازل
22 مسلسل
23 معروف
24 منکر
25 مزید
26 ناسخ
27 منسوخ
28 مقبول
29 مشکل
30 مشترک
31 موتلف
32 مختلف
33 مطروح
34 متروک
35 مول
36 مبین
37 مجمل
38 معلل
39 مضطرب
40 مہمل
41مجہول
42 موضوع
43 مقلوب
44 حدیث ماثور
45 قدسی
46 عزیز
47 زائد الثقہ
48 موثوق
49 متواتر
اب اگر کوئی شخص تقلید نہ کرنا چاہے تو ٹھیک ہے وہ ان تمام علوم کوحاصل کرے اور احادیث و قرآن سے اپنے مسائل کا حل نکالے اور جو ایسا نہ کرسکے  یا اس کے پاس اتنا وقت نہ ہو تو اس کے پاس سوائے تقلید کرنے کا اور کونسا راستہ رہ جاتا ہے؟

مکمل تحریر >>