Pages

Saturday, 31 March 2018

لاثانی_فتنہ_کی_عوام__* *اس_تحریر__کو_لازمی_پڑھے*✍

*#لاثانی_فتنہ_کی_عوام__*
*اس_تحریر__کو_لازمی_پڑھے*✍

*شریعت ، طریقت ، حقیقت ، معرفت اور امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ تعالیٰ علیہ....................*

*آج کل فتنوں کا دور ہے جہاں تصوف ، پیری مریدی کے نام پر فتنے ہیں تو وہاں جہلاء کی روپ میں شریعت کے دشمن جعلی پیروں کا فتنہ عروج پر ہے جن کا مشن لوگوں کو علم اور شریعت سے دور کرنا ہے کیونکہ وہ خود جاہل ہوتے ہیں تو ایسے نام نہاد جعلی پیر اپنے مریدوں کو علماء کے خلاف بھڑکاتے ہیں اور کہتے ہیں او جی شریعت و طریقت الگ الگ ہیں یہ مولوی کیا جانیں طریقت کیا ہوتی ہے ۔ در اصل یہ جعلی اور جاہل پیر اپنی جہالت چھپانے کےلیئے ایسا کرتے ہیں ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ علماء کے روپ جعلی عالم جنہیں علمائے سو کہا گیا بھی موجود ہیں جن کی فرعونیت کسی فرعون سے کم نہیں ہے ایسے جعلی علماء سادہ لوح عوام کو اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ سے بد ظن کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام فتنوں اور ان کے شر سے محفوظ فرمائے آمین ۔*

*(1) شریعت ۔ (2) طریقت ۔ (3) حقیقت ۔ (4) معرفت*

*شریعت : قرآن و سنت کے ظاہری احکام کو ’’شریعت‘‘ کہا جاتا ہے ۔*
اور
*’’طریقت‘‘ ان کے باطن کا نام ہے۔*
*مثال کے طور پر طہارتِ شرعی یہ ہے کہ بدن کو پاک کرلیا جائے لیکن ’’ طریقت‘‘کی طہارت یہ ہے کہ دل کو تمام برائیوں سے پاک کیا جائے ۔*

*شریعت کے احکام پر عمل کرنے سے جو اثرات ذہن و قلب پر مکمل طور پر چھا جائیں اور یقین کی دولت حاصل ہو جائے تو اِسے ’’حقیقت‘‘ کہا جاتا ہے ۔*

*معرفت سے مراد ہے:*
*اللہ تعالیٰ کی پہچان۔اس کا دوسرا نام ’’عرفان‘‘ ہے۔ جب صوفی پر حقائق کھلتے ہیں تو وہ حق الیقین کی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔یہی عرفان ہے اور یہی معرفت ہے ۔*

*حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء قدس سرہ فرماتے ہیں کہ :*
*جب سالک سے کوئی غلَطی ہو جاتی ہے تو ’’معرفت‘‘ سے ’’حقیقت‘‘ کی منزل پر آجاتا ہے۔*
*جب حقیقت کی منزل پر اس سے غلطی ہوتی ہے وہ ’’طریقت‘‘ کی منزل پر آجاتا ہے۔*
*جب طریقت کی منزل پر اس سے غلطی ہوتی ہے تو’’شریعت‘‘ کی منزل پر آجاتا ہے۔*
*اس لئے ’’شریعت‘‘ کی پابندی ضروری ہے ۔ (فوائد الفواد)*

*اعلی حضرت ، امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :*
*حاشا نہ شریعت و طریقت دو راہیں ہیں نہ اولیاء کبھی غیر علماء ہو سکتے ہیں، علامہ مناوی شرح جامع صغیر  پھر عارف باللہ سیدی عبدالفنی نابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں :*
*حضرت سیدنا امام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : علم باطن نہ جانے گا مگر وہ جو علم ظاہر جانتا ہے ،*
*حضرت سیدنا امام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہ بنایا یعنی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دے دیا اسکے بعد ولی کیا ۔ (فتاوی رضویہ شریف، ج 21 ، ص 530)*

*اعلی حضرت فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں :*
*شریعت ، طریقت ، حقیقت معرفت میں باہم اصلا کوئی اختلاف نہیں اس کا مدعی اگر بے سمجھے کہے تو نرا جاہل ہے اور سمجھ کر کہے تو گمراہ ، بد دین ۔ شریعت، حضور اقدس سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال ہیں ، اور طریقت ، حضور کے افعال ، اور حقیقت، حضور کے احوال ، اور معرفت ، حضور کے علوم بے مثال . (فتاوی رضویہ شریف ، ج 21 ص 460)*

*سوال:❓*
*بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں تو باطنی علم اور معرفت حاصل ہے۔ اس لئے ہمیں شریعت پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ فرمایئے کہ کیا طریقت شریعت سے جدا کوئی راستہ ہے ۔*
*جواب :*
*اعلیٰ حضرت مجدد برحق امام احمد رضا خاں قادری بریلوی علیہ الرحمہ القوی اپنی تصنیف مقال عرفاء باعزاز شرع و علماء میں فرماتے ہیں کہ ’’شریعت منبع ہے اور طریقت اس میں سے نکلا ہوا ایک دریا‘ عموما کسی منبع سیدریا بہتا ہو تو اسے زمینوں کو سیراب کرنے میں منبع کی حاجت نہیں ہوتی لیکن شریعت وہ منبع ہے کہ اسے سے نکلے ہوئے دریا یعنی طریقت کو ہر آن اس کی حاجت ہے۔ اگر شریعت کے منبع سے طریقت کے دریا کا تعلق ٹوٹ جائے تو صرف یہی نہیں کہ آئندہ کے لئے اس میں پانی نہیں آئے گا بلکہ یہ تعلق ٹوٹتے ہی دریائے طریقت فورا فنا ہوجائے گا ۔*
*پھر فرماتے ہیں کہ شریعت و طریقت تو منبع و دریا کی مثال سے بھی اعلیٰ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شریعت مطہرہ ربانی نور کا ایک فانوس ہے کہ دین کی دنیا میں اس کے سوا کوئی روشنی نہیں اور اس کی روشنی بڑھنے کی کوئی حد نہیں۔ اس روشنی کی زیادتی و افزائش چاہنے کا نام طریقت ہے یہ روشنی بڑھ کر صبح اور پھر آفتاب اور پھر اس سے بھی غیر متناہی درجوں تک ترقی کرتی ہے‘ جس سے حقائق اشیاء کا انکشاف ہوتا ہے اور نور الٰہی تجلی فرماتا ہے۔ یہ مرتبہ علم میں معرفت اور مرتبہ تحقیق میں حقیقت ہے درحقیقت شریعت ہی ہے کہ مختلف مراتب کے لحاظ سے اس کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں۔ جب یہ نور بڑھ کر صبح روشن کی مثل ہوجاتا ہے تو ابلیس لعین خیر خواہ بن کر آتا ہے اور اس سے کہتا ہے‘ چراغ بجھا دے اب تو صبح خوب روشن ہوگئی ہے۔ آدمی دھوکے میں نہ آئے اور نور بڑھ کر دن کی مثل ہوجائے تو شیطان پھر کہتا ہے دن اتنا روشن ہے کیا اب بھی چراغ نہیں بجھائے گا۔ اﷲ تعالیٰ بندہ کی مدد فرمائے تو بندہ لاحول پڑھتا ہے اور کہتا ہے اے لعین! یہ اس فانوس ہی کا تو نور ہے‘ اسے بجھا دیا تو روشنی کہاں سے آئے گی پس وہ ملعون دفع ہوجاتا ہے اور بندہ نور حقیقی تک پہنچ جاتا ہے جیسا کہ سورہ نور میں فرمایا گیا ہے۔ نور علی نور یعنی ’’نور پر نور‘‘ ہے۔ اﷲ اپنے نور کی راہ بتاتا ہے جسے چاہتا ہے‘‘ (النور ۳۵)*
*اگر آدمی شیطان کے دھوکے میں آگیا اور سمجھا کہ دن تو ہوگیا اب مجھے چراغ کی کیا حاجت‘ پھر جیسے ہی اس نے چراغ بجھایا‘ گھپ اندھیرا ہوگیا کہ ہاتھ سے ہاتھ سوجھائی نہیںدیتا جیسا کہ قرآن عظیم میں ارشاد ہوا ’’ایک پر ایک اندھیرے ہیں‘ جب اپنا ہاتھ نکالے تو کچھ نہ سوجھائی دے اور جسے اﷲ نور نہ دے اس کے لئے کہیں نور نہیں‘‘ (النور ۴۰)*

*یہ ہیں وہ کہ طریقت بلکہ حقیقت تک پہنچ کر اپنے آپ کو مستثنیٰ سمجھے اور ابلیس کے فریب میں آکر اس ربانی فانوس کو بجھا بیٹھے۔ کاش ان کو اس کی خبر ہوتی تو شاید توبہ کرتے لیکن ستم تو یہ ہے کہ شیطان ملعون نے جہاں فانوس بجھوایا۔ اس کے ساتھ ہی فورا اپنی سازشی بتی جلا کر ان کے ہاتھ میں دے دی۔ یہ اسے نور سمجھ رہے ہیں اور وہ حقیقتا نار ہے۔ یہ مگن ہیں کہ شریعت والوں کے پاس کیا ہے۔ ایک چراغ ہے ہمارا نور تو آفتاب کو شرما رہا ہے لیکن انہیں خبر نہیں کہ اہل شریعت کے پاس ہی اصل نور ہے اور ان کے پاس صرف دھوکا۔*
*مزید فرمایا‘*
*شریعت کی حاجت ہر مسلمان کو ایک ایک سانس ایک ایک پل ایک ایک لمحہ پر مرتے دم تک ہے اور طریقت میں قدم رکھنے والوں کو اور زیادہ کہ راہ جس قدر باریک اسی قدر ہادی کی زیادہ حاجت۔*
*نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ’’*
*بغیر فقہ کے عبادت کرنے والا ایسا ہے جیسا چکی کھینچنے والا گدھا کہ مشقت جھیلے اور نفع کچھ نہیں‘‘ (ابو نعیم فی الحلیہ)*
*پھر عارف باﷲ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمتہ طریقت و شریعت کے درمیان تعلق کو ایک اور مثال کے ذریعے یوں واضح کرتے ہیں کہ شریعت ایک عمارت ہے اس کا اعتقاد بنیاد اور عمل چنائی ہے پھر ظاہری اعمال وہ دیوار ہیں کہ اس بنیاد پر ہوا میں چنے گئے اور جب یہ تعمیر اوپر بڑھ کر آسمان تک پہنچی وہ طریقت ہے۔ دیوار جتنی اونچی ہوگی نیو (یعنی بنیاد) کی زیادہ محتاج ہوگی اور نہ صرف بنیاد بلکہ اعلیٰ حصہ نچلے حصے کا بھی محتاج ہے اگر دیوار نیچے سے خالی کردی جائے اوپر سے بھی گر پڑے گی۔*
*احمق وہ ہے جس پر شیطان نے نظربندی کرکے اس کی چنائی آسمانوں تک دکھائی اور دل میں ڈالا کہ اب تو ہم زمین کے دائرے سے اونچے گزر گئے۔ ہمیں اس سے تعلق کی کیا حاجت ہے۔ پس بنیاد سے دیوار جدا کرلی اور نتیجہ وہ ہوا جو قرآن عظیم نے فرمایا کہ ’’اس کی عمارت اسے لے کر جہنم میں گر پڑی‘‘*
*اسی لئے اولیاء کرام فرماتے ہیں ’’جاہل صوفی شیطان کا مسخرہ ہے‘‘*
*اور حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا فرمان عالی شان ہے کہ*
*’’ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے‘‘ (ترمذی ابن ماجہ)*

*امام اہلسنت نے اپنی اس تصنیف میں چالیس اولیاء کرام کے اسی ۸۰ ارشادات عالیہ بھی بیان فرمائے ہیں جن میں سے چند اقوال پیش خدمت ہیں تاکہ اس مسئلہ میں اولیاء کرام کا مسلک واضح ہوجائے۔*
*حضرت سیدنا امام مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ*
*’’علم باطن نہ جانے گا مگر وہ علم ظاہر جانتا ہے‘‘*
*حضرت سیدنا امام شافعی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ’’اﷲ تعالیٰ نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہ بنایا‘‘ یعنی ولی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دے دیا۔ اس کے بعد ولی کیا۔*
*حضور غوث اعظم قطب الاقطاب سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ’’*
*اگر حدود شریعت میں سے کسی حد میں خلل آئے تو جان لے کہ تو فتنہ میں مبتلا ہے (طریقت میں نہیں) بے شک شیطان تیرے ساتھ کھیل رہا ہے تو فورا حکم شریعت کی طرف پلٹ آ اور اس سے لپٹ جا اور اپنی نفسانی خواہش چھوڑ اس لئے کہ جس حقیقت کی شریعت تصدیق نہ فرمائے وہ حقیقت باطل ہے‘‘ (طبقات اولیاء از امام شعرانی)*

*امام الاولیاء حضرت سیدنا جنید بغدادی رضی اﷲ عنہ سے عرض کی گئی کہ کچھ لوگ زعم کرتے ہیں کہ احکام شریعت تو وصول کا وسیلہ تھے اور ہم واصل ہوگئے یعنی اب ہمیں شریعت کی کیا حاجت___؟*
*فرمایا‘ وہ سچ کہتے ہیں وہ واصل ضرور ہوئے مگر کہاں تک جہنم تک۔*

*چور اور زانی ایسے برے عقیدے والوں سے بہتر ہیں۔ میں اگر ہزار برس جیوں تو فرائض و واجبات تو بڑی چیز ہیں جو نوافل و مستحباب مقرر کرلئے ہیں بے عزر شرعی ان میں سے کچھ کم نہ کروں (الیواقیت والجواہر فی بیان عقائد الاکابر)*

*حضرت سیدنا ابو یزید بسطامی رضی اﷲ عنہ ایک شخص سے ملنے گئے جو زہد و ولایت کا مدعی تھا۔*
*آپ کے سامنے اس نے قبلہ کی طرف تھوکا۔ آپ اس سے ملے بغیر واپس آگئے اور فرمایا ’’یہ شخص شریعت کے ایک ادب پر تو امین ہے نہیں‘ اسرار الٰہی پر کیونکر امین ہوگا‘‘ (رسالہ قشیریہ)*

*حضرت ابو قاسم نصرآبادی فرماتے ہیں کہ*
*تصوف کی جڑ یہ ہے کہ کتاب و سنت کو لازم پکڑے رہے (طبقات کبریٰ)*

*حضرت سیدنا شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں…*
*جس حقیقت کو شریعت رد فرمائے وہ حقیقت نہیں بے دینی ہے*
*(عوارف المعارف)*

*حضرت سیدنا امام عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ فرماتے ہیں ’’*
*تصوف کیا ہے بس احکام شریعت پر بندہ کے عمل کا خلاصہ ہے‘‘*
*مزید فرمایا ’’*
*علم تصوف شریعت کے چشمہ سے نکلی ہوئی جھیل ہے‘‘*
*(طبقات کبریٰ)*

*ان دلائل سے ثابت ہوگیا کہ شریعت اور طریقت لازم و ملزوم ہیں۔*
*آج کل بعض جہلا طریقت کو شریعت سے الگ راہ اس لئے بتاتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنے عقیدت مندوں کو اپنے غیر اسلامی افعال کے جواز کا اطمینان دلا سکیں۔*

*حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رضی اﷲ عنہ کشف المحجوب میں تصوف کے باب میں فرماتے ہیں کہ ’’*
*صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ اور سلف رحمہم اﷲ کے زمانے میں تصوف کا نام نہیں تھا بلکہ ایک حقیقت تھی جو سب پر طاری تھی۔ آج کل صرف نام باقی ہے اور حقیقت غائب۔ یعنی پہلے معاملہ معروف تھا اور ظاہر داری غائب اور اب معاملہ یعنی تصوف کی حقیقت غائب ہے اور ظاہر داری معروف ۔*
*مزید فرمایا کہ جب عام لوگ ظاہر پرستوں کو ناچتے گاتے دیکھتے ہیں جوکہ صوفیہ ہونے کے مدعی ہیں تو وہ تمام اولیاء سے بدظن ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں ’’یہ ہے تصوف اور اس کے اصول ؟ پہلے زمانے کے صوفیا بھی اسی قسم کے ہوں گے‘‘ حالانکہ ان کہنے والوں نے یہ سمجھنے کی کوشش نہ کی کہ وقت فتنہ ہے اور فتنوں کی کثرت ہے۔ حرص بادشاہ کو ظلم پرآمادہ کرتا ہے لالچ عالم کو بدکاری میں مبتلا کردیتا ہے اور ریاکاری زاہد کو منافقت کی طرف لے جاتی ہے۔ اسی طرح ہوائے نفس اور لالچ بعض صوفیا کو رقص و سرور میں مبتلا کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے اہل طریقت برباد ہوجاتے ہیں۔ طریقت برباد نہیں ہوتی۔ اسی طرح اگر کچھ لوگ لغویات و خرافات کو پاک و صاف چیزوں میں شامل کردیں تو پاک و صاف چیزیں خرافات نہیں بن جاتیں البتہ ایسے لوگ ضرور دنیاوآخرت میں نقصان اٹھاتے ہیں ۔*

*اب میں اس تمام گفتگو کاخلاصہ حضرت سیدنا امام مالک رضی اﷲ عنہ کے الفاظ میں پیش کردیتا ہوں جسے محدث علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں :*
*جس نے علم فقہ حاصل کیا اور تصوف کو نظر انداز کردیا وہ فاسق ہوا اور جس نے تصوف کو اپنالیا مگر فقہ کو چھوڑ دیا وہ زندیق ہوا اور جس نے شریعت و تصوف دونوں کو جمع کیا اس نے حق کو پالیا۔*

*مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے دعوت_اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے کتاب بنام ⏬*

*شریعت و طریقت📚*

*آدابِ مرشدِ کامل📚*

*ضرور ضرور ضرور لے کر پڑھ لیں ان شاء اللہ بے شمار معلومات کا خزانہ ہاتھ آئے گا👌🏿*

*آگے شیئر کر کے صدقہ جاریہ کی سعادت حاصل کیجئے ✅*

مکمل تحریر >>

Monday, 29 January 2018

تقلید کیوں ضروری ھے ؟

تقلید کیوں ضروری ھے ؟

:
بہت سے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جب ہم خود قرآن و حدیث پڑھ سکتے ہیں اور احادیث کی کتابوں سے اور قرآن سے اپنے مسائل کا حل دریافت کر سکتے ہیں تو پھر ہمیں مجتہدین کی تقلید کی کیا ضرورت ہے؟

جواب

اگر کسی کو علوم قرآن اور علوم حدیث میں اتنی ہی نظر ہو تو پھر وہ شخص خود مجتہد ہے اور اسے واقعی کسی کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اگر کوئی قرآن میں ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہ، مطلق و مشروط آیات، لغات عرب کا عالم ہو اور حدیث کے مندرجہ ذیل علوم کا ماہر ہوتو پھر واقعا اس پر سے تقلید ساقط ہی ہو جائے گی اور وہ علوم احادیث درج ذیل ہیں جن کو مجتہد بننے کے لئے حاصل کرنا ضروری ہے۔
1 محدث کی صداقت کا علم
2 اسناد حدیث کا علم
3 حدیث عالی کا علم
4 حدیث نازل کا علم
5 روایات موقوفہ کا علم
6 ان اسناد کا علم جس کی سند پیغمبر اسلام سے ذکر نہ ہو
7 صحابہ کے مراتب کا علم
8 احادیث مرسلہ اور ان کے سلسلے میں پیش کی جانے والی دلیلوں کی معرفت
9 تابعین سے نقل کی گئی احادیث کا علم
10 اسناد مسلسل کا علم
11 احادیث معنعنہ کا علم
12 روایات معضل کا علم
13 احادیث مدرج کی پہچان کا علم
14 تابعین کی شناخت کا علم
15 تباع تابعین کی معرفت
16 اکابر و اصاغر کی معرفت
17 اولاد اصحاب کی معرفت
18 علم جرح و تعدیل کی معرفت
19 صحیح و سقیم کی پہچان
20 فقہ الحدیث کا علم
21 ناسخ و منسوخ احادیث کا علم
22 متن میں جو غریب (نامانوس) الفاظ استعمال ہوں ان کا علم
23 احادیث مشہور کا علم
24 غریب اور نامانوس احادیث کا علم
25 احادیث مفرد کی پہچان کا علم
26 ان لوگوں کی معرفت جو حدیث میں تدلیس کر دیتے ہیں
27 حدیث کی علتوں کا پہچاننا
28 شاذ روایات کا علم
29 پیغمبر کی ان حدیثوں کا جانچنا جو دوسری احادیث سے معارض نہ ہو
30 ان حدیثوں کی معرفت جن کا کوئی رخ کسی رخ سے معارض نہ ہو
31 احادیث میں الفاظ زائد کی معرفت
32 محدیثین کے مذہب کی اطلاع
33 متون کی تحری غلطیوں سے آگاہی
34 مذاکرہ حدیث کا جانچنا اور مذاکرہ کرتے ہوئے راستگو کی معرفت
35 اسناد میں محدثین کی تحریری غلطیوں کی اطلاع
36 صحابہ، تابعین اور ان کے بھائیوں،بہنوں  کی عصر حاضر تک معرفت
37 ان صحابہ، تابعین،تباع تابعین کی معرفت جن میں سے بس ایک راوی نے روایت کی ہو
38 ان صحابہ تابعین اور ان کے پیرئووں میں سے جو راوی ہیں عصر حاضر تک ان کے قبائل کی معرفت
39 صحابہ سے عصر حاضر تک کے محدثین کے انساب کا علم
40 محدثین کے ناموں کا علم
41 صحابہ، تابعین، تباع تابعین اور عصر حاضر تک ان کے پیرئوں کی نیت کا جاننا
42 روایان حدیث کے وطن کی پہچان
43 صحابہ، تابعین، تباع تابعین کی اولاد اور ان کے غلاموں کی معرفت
44 محدثین کی عمر کی اطلاع۔ولادت سے وفات تک
45 حدثین کے القابات کی معرفت
46 ان راویوں کی معرفت جو ایک دوسرے سے قریب ہیں
47 راویوں کے قبائل، وطن، نام، کنیت اور ان کے پیشوں میں متشابہات کی پہچان
48 غزوات پیغمبر ان کے ان خطوط وغیرہ کا علم جو انہوں نے بادشاہوں کو تحریر فرمائے
49 اصحاب حدیث نے جن ابواب کو جمع کیا ہے ان کی معرفت اور اس بات کی جستجو کہ ان میں سے کون سا حصہ ضائع ہو گیا ہے
50 اس کے علاوہ احادیث کی مندرجہ ذیل اقسام کا علم بھی ہونا چاہئیے۔

1صحیح
2 حسن
3 ضعیف
4 مسند
5 متصل
6 مرفوع
7 موقوف
8 مقطوع
9 مرسل
10 معضل
11 تدلیس
12 شاذ
13 غریب
14 معنعن
15 معلق
16 مفرد
17 مدرج
18 مشہور
19 مصحف
20 عالی
21 نازل
22 مسلسل
23 معروف
24 منکر
25 مزید
26 ناسخ
27 منسوخ
28 مقبول
29 مشکل
30 مشترک
31 موتلف
32 مختلف
33 مطروح
34 متروک
35 مول
36 مبین
37 مجمل
38 معلل
39 مضطرب
40 مہمل
41مجہول
42 موضوع
43 مقلوب
44 حدیث ماثور
45 قدسی
46 عزیز
47 زائد الثقہ
48 موثوق
49 متواتر
اب اگر کوئی شخص تقلید نہ کرنا چاہے تو ٹھیک ہے وہ ان تمام علوم کوحاصل کرے اور احادیث و قرآن سے اپنے مسائل کا حل نکالے اور جو ایسا نہ کرسکے  یا اس کے پاس اتنا وقت نہ ہو تو اس کے پاس سوائے تقلید کرنے کا اور کونسا راستہ رہ جاتا ہے؟

مکمل تحریر >>

توسل بالذات : حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چچا کے وسیلہ سے دعا

توسل بالذات : حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام  کے چچا کے وسیلہ سے دعا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ دورِ فاروقی میں ایک مرتبہ قحط پڑ گیا ، بارش کی سخت ضرورت تھی اور لوگ جاں بلب تھے۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے صحابہ کرام اور دیگر حضرات کو ساتھ لیا اور بارگاہِ ربوبیت میں دستِ سوال دراز کیا۔ دعا میں حضرت عباس رضی اﷲعنہ (حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے چچا) کو وسیلہ بنایا اور مالک الملک کی بارگاہ میں عرض کیا ۔ اللھم انا کنا نتوسل الیک نبینا صلی اللّٰہ تعالی علیہ وآلہ وسلم فتسقینا وانا نتوسل الیک بعم نبینا فاسقنا قال فیسقون۔ اے اﷲ !ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کا وسیلہ پیش کیا کرتے تھے تو تو ہمیں سیراب فرماتا تھا اور اب ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی کے چچا کا وسیلہ لے کر آئے ہیں، ہمیں سیراب فرما ! حضرت انس فرماتے ہیں کہ انہیں سیراب کیا گیا ۔ (بخاری ، جلد اول کتاب الاستقاء حدیث نمبر:956) (اب کہہ دو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی ضعیف حدیثیں لکھتے تھے) صرف یہی نہیں بلکہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے لوگوں کو خطاب فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم حضرت عباس رضی اﷲ عنہ سے ویسا ہی سلوک کیا کرتے تھے، جیسا ایک بیٹا اپنے باپ سے کرتا ہے ۔ پس اے لوگو! تم بھی حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے طریقہ کو اپناتے ہوئے آپ سے ویسا ہی سلوک کرو ! واتخذوہ وسبیلۃ الی اللّٰہ ۔ اور حضرت عباس رضی اﷲ عنہ کا وسیلہ اﷲ کی بارگاہ میں پیش کرو ! (فتح الباری) دیکھ رہے ہیں آپ ! کس قدر محبت تھی حضرت عمر رضی اﷲعنہ کو محبوب دو جہاں ، تاجدارِ مرسلاں، رسول انس وجاں صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم سے کہ ان کے چچا کا وسیلہ پیش کر رہے ہیں ۔ معلوم ہوا نبیوں علیہم السّلام کے علاوہ دوسرے بزرگوں کا وسیلہ پیش کرنا بھی درست ہے ۔(تیسیر الباری شرح بخاری غیر مقلد وہابی علامہ نواب وحید الزّمان)

اس حدیث مبارک سے ثابت ہوا کہ طلب حاجات میں اللہ کے نیک بندوں کا وسیلہ پکڑنا جائز ہے۔ منکرین وسیلہ کی طرف سے اگر یہ کہا جائے کہ اس حدیث سے زندوں کا وسیلہ پکڑنا جائز ثابت ہوتا ہے مُردوں کا نہیں۔ اس لئے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ زندہ تھے۔ بلکہ اگر غور کیا جائے تو اسی حدیث سے فوت شدہ بزرگوں کے توسل کی نفی ہوتی ہے۔ کیوں کہ حدیث میں مذکور ہے کہ اے اللہ ! ہم تیرےنبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  کا وسیلہ پکڑا کرتے تھے۔ اب تیرے نبی کے چچا حضرت عباس کا وسیلہ پکڑتے ہیں صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  کی زندگی میں حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا وسیلہ پکڑتے تھے۔ اگر کسی بزرگ کے فوت ہو جانے کے بعد اس کا وسیلہ جائز ہوتا تو صحابہ کرام حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد بھی حضور ہی سے توسل کرتے۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بجائے حضرت عباس سے توسل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ کسی بزرگ کے فوت ہو جانے کے بعد اس سے توسل جائز نہیں۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ حدیث مبارک میں نہایت واضح اور غیر مبہم الفاظ میں توسل مذکور ہے۔ جس میں زندہ اور مردہ کاکوئی تفاوت نہیں اور نہ حدیث کا کوئی لفظ فوت شدہ بزرگوں سے توسل کی نفی پر دلالت کرتا ہے۔ رہا یہ امر کہ صحابہ کرام  نے حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  کا وسیلہ یہاں کیوں نہ پکڑا تو جواباً عرض ہے کہ کسی حدیث میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وسیلہ بنانے کی نفی نہیں بلکہ کثرت احادیث سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  کے وصال کے بعد بھی سرکار سے توسل کو جائز سمجھتے تھے۔ اس باب میں البتہ یہاں ایک شبہ باقی رہ جاتا ہے۔ وہ یہ کہ جب زندہ اور فوت شدہ دونوں قسم کے بزرگوں کا وسیلہ پکڑنا جائز ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس خاص موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  کی بجائے حضرت عباس سے توسل کیوں کیا تو اس کے جواب میں حدیث اعرابی جو شفاء السقام میں منقول ہے رفع شبہات کے لئے کافی ہے جس میں مذکور ہے کہ صحابہ کرام کی موجودگی میں وہ اعرابی سید عالم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  کے مزار مقدس پر حاضر ہوااور سرکار سے توسل کیا وہ اعرابی اپنے گناہوں کی مغفرت کی حاجت لے کر مزار پر انوار پر حاضر ہوا تھا ۔ سرکار ابد قرار صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے توسل کی برکت سے اس کی حاجت پوری ہوئی اور قبر انور سے آواز آئی ’’ان اللّٰہ قد غفرلک‘‘ بے شک اللہ تعالیٰ نے تیرے گناہوں کو معاف فرمادیا نیز مشکوٰۃ شریف ص۵۴۵ باب الکرامات میں بروایت دارمی ایک حدیث مرقوم ہے۔ وہو ہذا : عَنْ اَبِی الجَوْزَاء قَالَ قُحِطَ اَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ قَحْطًا شَدِیْداً فَشَکَوْا اِلٰی عَائِشَۃَ قَالَتْ اُنْظُرُوْا قَبْرَ النَّبِیّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاجْعَلُوْ ا مِنْہُ کُویً اِلَی السَّمَائِ حَتّٰی لَا یَکُوْنَ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ السَّمَائِ سَقْفٌ فَفَعَلُوْا فَمُطِرُوْا مَطَرًا حَتّٰی نَبَتَ الْعَشَبُ وَ سَمَنَتِ الْاِبِلُ حَتّٰی تَفَتَّقَتْ مِنَ الشحم فَسُمِّیَ عَامَ الْفَتَقِ رَوَاہ الدَارمی۔
ترجمہ : حضرت ابوالجوزاء سے روایت ہے کہ ایک سال اہلِ مدینہ سخت قحط میں مبتلا ہو گئے تو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس شکایت لائے۔ انہوں نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  کے مزار اقدس کو دیکھو اور مزار اقدس سے ایک روشن دان آسمان کی طرف کھول دو۔ یہاں تک کہ مزار انور اور آسمان کے درمیان چھت نہ ہو۔ اہل مدینہ نے ایسے ہی کیا۔ تو خوب بارش ہوئی حتیٰ کہ جانوروں کا چارہ بھی بکثرت پیدا ہوا اور اونٹ چربی سے خوب موٹے ہو گئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ چربی سے پھٹے جاتے ہیں تو اس سال کا نام عام الفتق رکھ دیا گیا۔ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے ۔

ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  کی حیاتِ ظاہری میں بھی قحط سالی اور خشک سالی میں بھی حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  سے توسل کیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وصالِ اقدس کے بعد بھی مزارِ انور سے توسل کیا اور حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  کے توسل کی برکت سے خلق اللہ اسی طرح خوشحال ہوئی، جس طرح پہلے ہوتی تھی۔ اس مبارک حدیث سے آفتاب عالمتاب سے زیادہ روشن اور واضح ہو گیا کہ صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  کے وصال کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  سے توسل کرتے تھے اور دونوں توسلوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ دیکھئے سرکار کی ظاہری حیات میں بھی بارانِ رحمت کی طلب اور قحط سالی دور ہونے کے لئے توسل کیا گیا اور وصال کے بعد بھی قبر انور سے خشک سالی دور ہونے اور بارانِ رحمت نازل ہونے کے لئے توسل کیا گیا۔ اب معترض کا یہ کہنا کہ فوت شدہ بزرگوں سے توسل جائز نہیں۔ نیز یہ کہ صحابہ کرام بعد از وصال حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  سے توسل نہ کرتے تھے کیونکر درست ہو سکتا ہے؟ دوسرے شبہ کا جواب یہ ہے کہ اگر غور کیا جائے تو اچھی طرح واضح ہو جائے گا کہ یہاں حضرت عباس کی ذات سے توسل نہیں۔ یہ توسل بھی حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  ہی سے ہے۔ کیوں کہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں ’’اِنَّا نتوسل الیک بِعَمِّ نَبِیِّکَ‘‘ اے اللہ! ہم تیرے نبی کے چچا کا وسیلہ اختیار کرتے ہیں۔ عم مضاف ہے نبی کی طرف یعنی حضرت عباس سے جو توسل کیا جا رہا ہے وہ اس نسبت اور اضافت کی بنا پر ہے جو انہیں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  کے ساتھ ہے۔ اس نسبت سے قطع نظر کر کے توسل نہیں۔ جب توسل کا دارومدار اس نسبت و اضافت پر ہوا تو ثابت ہوا کہ یہ توسل حضرت عباس سے نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  سے ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قبل الوصال حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  سے بلا واسطہ توسل ہوتا تھا اور یہ توسل بالواسطہ ہے۔
اور بالواسطہ توسل میں حکمت یہ ہے کہ اگر صحابہ کرام ہمیشہ بلا واسطہ توسل کرتے اور حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  کی ذاتِ گرامی کا بغیر واسطہ کے وسیلہ اختیار کرتے رہتے۔ نیز سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  کے کسی غلام کے واسطہ سے کبھی توسل نہ کرتے تو منکرین وسیلہ کہہ دیتے کہ حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  کے سوا کسی سے توسل جائز ہی نہیں۔ اگر جائز ہوتا تو صحابہ کرام کبھی تو کسی غیر نبی کا وسیلہ پکڑتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس کے واسطہ سے توسل کر کے اس دعویٰ پر دلیل قائم کر دی کہ جس طرح حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  سے بلا واسطہ توسل جائز ہے، اسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے غلاموں کے واسطہ سے بھی بلاشبہ توسل جائز اور صحیح ہے۔ اب قیامت تک ہر ولی اللہ اور بزرگ کے ساتھ وسیلہ پکڑنے کا جواز ظاہر ہو گیا ۔ مختصر یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے توسل فرما کر توسل کو آگے بڑھایا اور وسیلہ کو عام کیا اور اس امر پر نص فرما دی کہ یہ توسل حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم  کے ساتھ نسبت اور اضافت پر مبنی ہے۔ لہٰذا قیامت تک اللہ تعالیٰ کا جو نیک بندہ بھی اس نسبت اور اضافت کے شرف سے مشرف ہو، اس کے ساتھ وسیلہ اختیار کرنا شرعاً جائز اور درست ہے ۔ (طالب دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مکمل تحریر >>