Pages

Monday, 29 January 2018

کیا بریلوی کا لقب اہلسنت کو وہابیوں نے دیا ہے؟

کیا بریلوی کا لقب اہلسنت کو وہابیوں نے دیا ہے؟
کچھ سنی نما صلح کلی اور انکے ہمنواؤں نے کچھ دنوں سےشوسل میڈیا پر ادھم مچایا ہوا ہے یہ لوگ مسلمہ و معتمد اکابر و اعاظم علماء و مشائخ اہلسنت و مشائخ طریقت کی واضح تصریحات کے برعکس محض وہمی خیالی مفروضوں اور ڈھکوسلوں کی بنیاد پر لفظ ’’بریلوی‘‘ اور اصطلاح اصلاح مسلک اعلیٰ حضرت کے خلاف ایک منظم مہم چلا رہے ہیں۔ محض خدشات کی بنیاد پر مختلف النوع شوشے چھوڑ رہے ہیں کہ ’’بریلوی‘‘ نام ہمیں دیوبندیوں وہابیوں نے دیا۔ مسلک اعلیٰ حضرت کی اصطلاح اور بریلوی کے اطلاق و استعمال سے دوسری خانقاہوں اور دوسرے اکابرین کے عقیدت مندوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ مولوی ظہیر غیر مقلد وہابی نے کتاب البریلویہ لکھ کر دنیا بھر میں ہمیں بریلوی ایک نیا فرقہ ظاہر کردیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ آوارگی فکرونظر کے حامل ان جدت پسندوں کو اتنی توفیق تو ہوئی نہیں کتاب ’’البریلویہ‘‘ جیسی رسوائے زمانہ مبنی برکذب و افتراء بوگس کتاب کا علمی تحقیقی محاسبہ کرکے مدلل و متحقق جواب دیتے جبکہ بحمدللہ اس کتاب کے تین چار معرکۃ الآرا و مسکت جوابات چھپ کر شائع ہوچکے ہیں۔ غیر مقلدین کی صفوں میں تو سناٹا چھایا ہوا ہے
یہ لوگ اتنا بھی نہیں بتاسکے کہ بریلوی بے شک نیا فرقہ نہیں۔ یہ تو سچے پکے خالص حقیقی واقعی اصلی اہلسنت کی علامت و نشان، شناخت و پہچان ہے۔ اس فتنوں کے دور میں دیوبندی وہابی بھی اہلسنت کہلا رہے ہیں۔ غیر مقلد وہابی بھی اہلسنت کہلا رہے ہیں۔ سعودی نجدی علماء بھی حنبلی بن کر اہلسنت کہلا رہے ہیں۔ ندوی اور مودودی بھی اہلسنت کہلا رہے ہیں۔ شیعہ رافضی بھی اہلسنت ہونے کے دعویدار ہیں۔ کچھ سجدہ تعظیمی والے جہلاء اور گمراہ گر بھی اہلسنت کا لیبل لگائے پھرتے ہیں۔ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے اور اس بیسوں کتب کے معتبر حوالہ جات نقد موجود ہیں۔
،،  ہم تو بریلوی کہلائے اور دیوبندی خود کو سنی کہہ کر متعارف کروانے لگے،، ۔ احسان الٰہی ظہیر اور کتاب البریلویہ کا رونا تسلسل و تواتر کے ساتھ بار بار رویا جارہا ہے

ان کو کچھ معلوم نہیں بریلوی… نام ہے، لفظ ہے، لقب ہے، امتیازی نشان و علامت ہے، خطاب ہے، حقیقت ہے کہ بریلوی کی حیثیت و حقیقت و معنویت کا معترضین کو کچھ پتہ نہیں۔ وہ تو اپنی افتاد طبع سے مجبور ہوکر بریلوی سے الرجک ہے اور بزعم خود عقل شکن وہمی خیالی من مانی دلیلوں سے بریلوی کا اطلاق و استعمال ترک کرانا چاہتا ہے ورنہ اس کے خیال خام میں دیوبندی، وہابی کتاب ’’البریلویہ‘‘ دکھا دکھا کر حقیقی سنیت حنفیت بریلویت کو صفحہ ہستی سے مٹادیں گے۔حالانکہ بارہا ہمارے علمائے اعلام کی طرف سے اسکا مسکت ومفصل جواب چھپ چکا ہے
انکو تو کو چاہئے تھا کہ اپنے قائم کردہ عنوان ’’بے شک بریلوی کوئی فرقہ نہیں‘‘ پر دلائل و شواہد قائم کرتے، نیا فرقہ کہنے کے لایعنی الزامات واثرات کا علمی تحقیقی انداز میں ازالہ کرتے اور یہ کہ بریلوی نیا فرقہ نہیں بلکہ خالص ومخلص مستند ومعتمد سچے پکے حقیقی واقعی سنی حنفی کی علامت و نشانی ہے۔  خالص سنیت کی سند اور ضمانت بریلوی ہے

خدا جانے معترضین کیوں احساس کمتری میں مبتلا ہیں؟ چلو میں خود سوال کرتا ہوں اور معترضین سے پوچھتا ہوں کہ اگر بالفرض ہم بریلوی کہلانا چھوڑ دیں تو کیا ہمیں نجدی وہابی حکومت بحیثیت صرف اور صرف اہلسنت ہمیں ہمارے عقائد نورانیت مصطفیﷺ علم غیب، حاضر وناظر، مختار کل امداد و اعانت و استعانت انبیاء و اولیائ، عید میلاد جلسہ و جلوس اور گیارہویں شریف، عرس بزرگان دین کرنے، انبیاء و رسل محبوبان خدا کو خدا تعالیٰ کی عطا سے حاجت روا مشکل ماننے پر کچھ قدغن نہ ہوگا؟ اس کی کیا گارنٹی اور کیا ضمانت ہے کہ دیابنہ وہابییہ کے ہم عقیدہ وہم مسلک ہمیں ان عقائد و معمولات کی بناء پر ہمیں مشرک بدعتی قرار نہ دیں گے۔ سوچ سمجھ کر اور سنبھل کر جواب دیں۔ آپ نے اپنی اندرونی حالت و کیفیت سے مجبور ہوکر یہ شوشہ چھوڑ دیا کہ ہمیں بریلوی کہلانے کے جرم میں نیا فرقہ قرار دیا گیا ۔ میں معترضین سے پھر سوال کرتا ہوں کہ وہ بتائیں کہ جب جنت المعلی اور جنت البقیع شریف میں سیدہ فاطمہ سیدہ عاشہ، سیدہ خدیجۃ الکبری، سیدنا عثمان غنی، سیدنا امام حسن و دیگر ازواج ومطہرات و ابنات مقدسہ و اہل بیت اطہر اور جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مزارات مقدسہ کو گرایا اور ڈھایا گیا اور بلڈوز کیا گیا۔ ہم اس وقت بریلوی کہلاتے تھے؟ حرمین شریفین مکہ معظمہ، مدینہ منورہ میں ہزاروں علماء اہلسنت کو معزول اور پریشان کیاگیا۔ کیا اس وقت وہ بریلوی کہلاتے تھے؟ کتاب التوحید اور تقویۃ الایمان وغیرہ کتب میں ہمارے عقیدہ ومسلک اور معمولات پر جو بار بار شرک و بدعت کے فتاویٰ صادق ہوئے، اس وقت ہم بریلوی کہلاتے تھے؟. کیا بنے بات جہاں بات بنائی نہ بنے

اب آیئے آپ کی بلا دلیل وثبوت ہوائی باتوں، خیالی وسوسوں کی طرف
آپ لوگ کہتے ہیں کہ ’’لفظ دیوبندی وہابی کے جواب میں وہابیہ کی طرف سے لفظ بریلوی سواداعظم اہلسنت کو دیا جانے والا نام ہے‘

آپ کی یہ دونوں باتیں سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہیں۔ نہ آپ نے اس کا کوئی ثبوت و حوالہ دیا۔ مودبانہ عرض ہے کہ پڑھ لکھ کر دیکھ بھال کر بات فرمایا کریں۔

سنو غور کرو اور حوالہ جات ملاتے جائو، وہابیوں کو وہابی علامہ ابن عابدین شامی نے کہا دیکھو ردالمحتار حاشیہ و صاحب تفسیر صاوی علی الجلالین علامہ جمیل آفندی عاقی الفجر الصادق ص 17-18، علامہ احمدین زینی دحلان مکی (الفتوحات الاسلامیہ جلد 2 ص 268، والدر السنیہ ص 49، مولوی عبید اﷲ سندھی ابجد العلوم ص 87 بحوالہ تاریخ وہابیہ ص 83، بلکہ وہابی اپنی وہابیت پر اس قدر نازاں تھے کہ نواب الوہابیہ نواب صدیق حسن بھوپالی نے اپنے رسالہ کا نام ہی ’’ترجمان وہابیہ‘‘ رکھ لیا تھا اور وہابیوں کی ایک کتاب ’’تحفہ وہابیہ‘‘ ہے۔

ترجمہ بقلم مولوی اسماعیل غزنوی وہابی یہ جملہ کتب اور ان کے مصنفین سیدنا اعلیٰحضرت فاضل بریلوی قدس سرہ کی ولادت باسعادت سے پہلے کے ہیں، لہذا ثابت ہوا کہ وہابیوں نے نام وہابی اور وہابیہ خود پسند کیا اور رکھا۔ ہم مندرجہ بالا قسم کے پچاس حوالہ جات اور نقل کرسکتے ہیں کہ وہابی بقلم خود وبیدہ خود وہابی ہیں۔
وہابیوں کو وہابی کا لقب ہم نے نہیں دیا۔ سیدنا اعلیٰحضرت قدس سرہ نے نہیں دیا، بلکہ لفظ وہابی کے معنی کی وضاحت میں اہل لغت متفق البیان ہیں اور سب نے یہی لکھا ہے۔ (وہابی (ع) عبدالوہاب نجدی کا پیروکار فرقہ (جو صوفیوں کے مدمقابل خیال کیا جاتا ہے )دیکھو حسن اللغات، فیروز اللغات، امیر اللغات وغیرہم زیر و۔ہ)
معترضین کے محدود مطالعہ اور عدم واقفیت و لاعلمی پر رہ رہ کر افسوس ہوتا ہے اور کچھ نہیں تو وہ اکابر علماء بدایوں شریف کی سیدنا مجدد اعظم اعلیٰحضرت علیہ الرحمہ سے بہت پہلے کی کتاب سیف الجبار اور مجاہد جلیل وعظیم شیر حق علامہ فضل حق خیرآبادی علیہ الرحمہ کی کتاب برد وہابیہ تحقیق الفتویٰ لسلب الطغویٰ اور بوارق محمدیہ وغیرہ ملاحظہ فرماتے اور تو اور مقالات سرسید میں خود مولوی اسماعیل پانی پتی وہابی فخریہ طور پر اپنی اور اپنے فرقہ کی وہابیت کا برملا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں اور ’’انگلش گورنمنٹ ہندوستان میں خود اس فرقہ کے لئے جو وہابی کہلاتا ہے، ایک رحمت ہے جو سلطنتیں اسلامی کہلاتی ہیں ان میں بھی وہابیوں کو ایسی آزادی مذہب ملنا دشوار بلکہ ناممکن ہے (مسلم) سلطان کی عمل داری میں وہابی کا رہنا مشکل ہے‘‘ (مقالات سرسید حصہ نہم ص 211-212، از مولوی اسماعیل پانی پتی وہابی و علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ بابت 2 فروری 1889ئ)

دیوبندیت وہابیت ہند کے امام دوم بانی ثانی مدرسہ دیوبند مولوی رشید احمد گنگوہی وہابیت اور بانی وہابیت عبدالوہاب شیخ نجدی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’محمد بن عبدالوہاب کے مقتدیوں کو وہابی کہتے ہیں۔ ان کے عقائد عمدہ تھے، وہ عامل بالحدیث تھا۔ شرک و بدعت سے روکتا تھا‘‘ (ملحضاً از فتاویٰ رشیدیہ جلد 1ص 111 و ص 551)

دیوبندی حکیم الامت مولوی اشرف علی تھانوی بدیں الفاظ اپنی وہابیت کا اقرار و اعتراف کرتے ہیں ’’بھائی یہاں وہابی رہتے ہیں، یہاں فاتحہ نیاز کیلئے کچھ مت لایا کرو‘‘ (اشرف السوانح جلد 1ص 45)

یہی تھانوی صاحب کہتے ہیں ’’اگر میرے پاس دس ہزار روپیہ ہو تو سب کی تنخواہ کردوں پھر لوگ خود ہی وہابی بن جائیں‘‘ (الاضافات الیومیہ جلد 5ص 67)

مولانا فیض الحسن صاحب سہارنپوری بڑے ظریف تھے۔ کسی نے ان سے بدعتی اور وہابی کے معنی پوچھے تو عجیب تفسیر کی، فرمایا ’’بدعتی کے معنی ہیں باداب، بے ایمان اور وہابی کے معنی ہیں بے ادب باایمان‘‘ (ملفوظات حکیم الامت جلد 2ص 326)

دیوبندی وہابیوں کے منظور مضرور مناظر اعظم مدیر الفرقان کہتے ہیں ’’ہم خود اپنے بارے میں بڑی صفائی سے عرض کرتے ہیں کہ ہم بڑے سخت وہابی ہیں‘‘ (سوانح مولانا محمد یوسف کاندھلوی تبلیغی وہابی ص 192)

مولوی محمد ذکریا امیر تبلیغی جماعت کہتے ہیں ’’مولوی صاحب! میں خود تم سے بڑا وہابی ہوں‘‘ (سوانح مولانا محمد یوسف تبلیغی وہابی ص 193)

فقیر انہی چند حوالہ جات پر اکتفا کرتا ہے، ورنہ بحمدہ تعالیٰ ایسے بیسیوں حوالے مزید پیش کئے جاسکتے ہیں۔ ان حوالہ جات سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ وہابی دیوبندی اکابر اپنے آپ کو فخریہ وہابی کہتے ہیں اور اسی طرح وہابی دیوبندی خود کو دیوبندی اور دیوبندی مسلک و مسلک دیوبندی کہتے اور لکھتے ہیں، ملاحظہ ہوں… مکمل تاریخ دارالعلوم دیوبند جس کا مقدمہ قاری محمد طیب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے لکھا ہے، میں صاف صاف لکھا ہے، مسلک دیوبند ص 424و ص 428 و ص 431 و ص 476 بیسوں صفحات پر مسلک دیوبند، دیوبندی مسلک لکھا ہوا ہے۔

کتب خانہ مجیدیہ ملتان کے شائع کردہ المہند عقائد علماء دیوبند کے مصنفہ مولوی خلیل انبیٹھوی کے صفحہ 20 صفحہ 21، صفحہ 164، صفحہ 165، صفحہ 187 پر بار بار مسلک دیوبند مسلک حق دیوبند، دیوبندی مسلک لکھا ہے۔ انجمن ارشاد المسلمین کے پاکستانی ایڈیشن حفظ الایمان کے متعدد صفحات پر دیوبندی، بریلوی، دیوبندی لکھا ہے۔ پاکستان دیوبندیوں کے مصنف اعظم مولوی سرفراز صفدر گکھڑوی نے اپنی کتاب عبارات اکابر کے صفحات 143,115,58,18,15 پر بار بار دیوبندی مسلک دیوبندی مسلک لکھا ہے۔

مولوی منظور سنبھلی مولوی رفاقت حسین دیوبندی کی کتاب بریلی کا دلکش نظارہ کے پاکستانی ایڈیشن شائع کردہ مکتبہ مدینہ صفحہ 35، صفحہ 181وغیرہ پر متعدد صفحات پر دیوبندی بریلوی دیوبندی دیوبندی لکھا ہے۔

مولوی خلیل بجنوری بدایونی کی کتاب انکساف حق کی پاکستانی ایڈیشن کے صفحہ 6 صفحہ 7 پر دیوبندی، بریلوی، بریلوی دیوبندی ہر دو اہلسنت لکھا ہے۔

مولوی عارف سنبھلی ندوۃ العلماء کی کتاب بریلوی فتنہ کا نیا روپ صفحہ 121، صفحہ 124پر مسلک دیوبندی، علماء دیوبند کا مسلک لکھا ہے۔

دیوبندیوں کے خر دماغ ذہنی مریض کذاب مصنف پروفیسر خالد محمود مانچسٹروی اپنی تردید شدہ کتاب مطالعہ بریلویت جلد اول کے صفحہ 401، صفحہ 402 پر دیوبندی مسلک دیوبندی دیوبندی لکھتا ہے۔ اسی کتاب کی جلد 3 کے صفحہ 202 پر اہلسنت بریلوی دیوبندی لکھا ہے۔

مطالعہ بریلویت جلد دوم صفحہ 16 پر دیوبندی بریلوی، مطالعہ بریلویت صفحہ 234 پر دیوبندی بریلوی، صفحہ 235 جلد 4 دیوبندیوں، بریلویوں دیوبندیوں جلد 4 صفحہ 237، دیوبندیوں صفحہ 238 جلد 4 دیوبندیوں بریلیوں، بار بار دیوبندیوں بریلویوں صفحہ 239، دیوبندیوں، دیوبندی بار بار دیوبندی صفحہ 240، جلد 4 دیوبندیوں صفحہ 316، اہلسنت والجماعۃ دیوبند مسلک، دیوبندی بریلوی، صفحہ 317، دیوبندی، دیوبندیوں، دیوبندی مسلک، مسلک دیوبند وغیرہ وغیرہ، بکثرت مقامات پر دیوبندیوں نے خود کو بقلم خود دیوبندی لکھا ہے۔

مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی الاقاضات الیومیہ جلد 5 صفحہ 220، دیوبندیوں اور بریلیوں، مولوی انور کاشمیری صدر مدرس و شیخ الحدیث مدرسہ دیوبند کتاب حیات انور صفحہ 333، مضمون وقت کی پکار نوائے وقت لاہور، 8 مارچ 1976، جماعت دیوبندی
دیوبندی امیر شریعت عطاء اﷲ بخاری احراری دیوبندی لکھتے ہیں… مولانا غلام اﷲ خان دیوبندی بھی اہلسنت و الجماعت ہین، وہ ابن تیمیہ کے پیروکار ہیں (مکتوب بنام فقیر محمد حسن علی قادری رضوی)  دیوبندی جمعیت العلماء اسلام کے ناظم اعلیٰ مولوی غلام غوث ہزاروی لکھتے ہیں … اہلسنت و جماعت مسلمانوں کی تمام شاخیں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث سب مسلمان ہیں (خدام الدین لاہور)

قصص الاکبر ص 205 میں تھانوی لکھتے ہیں ’’میرا مسلک شیخ الہند کا مسلک‘‘  (دیوبندی مسلک، الافاضات الیومیہ جلد 5 صفحہ 135) میرا مسلک تھانوی (اشرف السوانح جلد 3ص 153 وصفحہ 164، تھانوی مسلک۔

ایک کتاب ’’آئینہ بریلویت‘‘ مولوی عبدالرحیم رائے پوری دیوبندی اور مولوی حسن احمد ٹانڈوی وغیرہ اکابر دیوبند کے پڑپوتے مرید مولوی عبدالرحمن شاہ عالمی مظفر گڑھ کی ہے ۔اس کے صفحہ 24، 27، 30، 34، 40، 42، 43، 45، 54، 57، 61، 63، چالیس صفحات پر بار بار دیوبندی مسلک، مسلک دیوبند، دیوبندیوں، دیوبندی اہلسنت دیوبندی لکھا ہے اور فخریہ طور پر اپنے دیوبندی ہونے کا اقرار کیا ہے۔

ایک کتاب تسکین الاتقیاء فی حیاۃ الانبیاء مرتبہ مولوی محمد مکی دیوبندی صفحہ 79 مسلک اکابر دیوبند، صفحہ 99، اکابر دیوبند کا مسلک صفحہ 100اکابردیوبند کا مسلک، صفحہ 01 مسلک دیوبند، صفحہ  102 علماء دیوبند کا مسلک، صفحہ 103، علماء دیوبند کا مسلک، صفحہ 106، صفحہ 107 بار دیوبندی دیوبندی… اس کتاب پر پاکستان کے صف اول کے اکابردیوبند مولوی محمد یوسف بنوری شیخ الجامعہ مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی، مولوی شمس الحق افغانی، صدر وفاق المدرس العربیہ دیوبند، مفتی محمد حسن مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور، مفتی محمد شفیع سابق مفتی دیوبند مہتمم دارالعلوم کراچی، مولوی عبدالحق دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، مولوی ظفر احمد عثمانی شیخ الحدیث دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈو الہ یار سندھ، مولوی محمد ادریس کاندھلوی شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاوہر، مولوی محمد رسول خان جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد لاہور، مولوی احمد علی امیر خدام الدین وامیر جمعیت العلماء اسلام، مولوی محمد صادق، ناظم محکمہ امور مولوی حامد میاں جامعہ مدینہ، مولوی مسعود احمد سجادہ نشین درگاہ دین پور وغیرہ اٹھارہ اکابر دیوبند کی تصدیقات ہیں۔ اس قسم کے حوالے اگر فقیر چاہے تو پچاسوں نقل کرسکتا ہے۔

رضوی ہے کرم مجھ پہ میرے غوث ورضا

ہر بحر سخن سہل تریں میرے لئے ہے

مکمل تحریر >>

Friday, 26 January 2018

تبرکات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم احادیث مبارکہ کی روشنی میں

تبرکات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم احادیث مبارکہ کی روشنی میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کچھ لوگ ان تمام چیزوں کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں جس سے امت کا رشتہ ان کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم سے جڑتا ہے ۔ مقصد انہیں کو معلوم ہے۔چنانچہ کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے تبر کات سے بر کت حاصل کرنے کو ناجائز کہتے ہیں اور کچھ لوگ اعتراضات سے دامن بچانے کے لئے سید ھاکہتے ہیں کہ جائز تو ہے مگر آج دنیا میں کوئی تبر ک ہے ہی نہیں سب فنا ہو گئے۔ مقصد وہی ہے کہ لوگ بر کت حاصل نہ کریں ۔بہر حال صحیح احادیث طیبہ کی روشنی میں تبر کات کی شر عی حیثیت کیا ہے ؟ پر ھئے اور خود فیصلہ کیجئے ۔

جملہ علمائے اہلسنت و جماعت کے نز دیک رسول اکرم نور مجسم سید عالم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے تبرکات سے برکت حاصل کر نا جائز اور باعث سعادت ہے ۔ کیونکہ اس سلسلے میں صاف اور صریح احادیث طیبہ مو جود ہیں ۔ان میں سے کچھ یہ ہیں ۔

حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کو چمڑے کے ایک سرخ خیمے میں دیکھا ۔ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کا استعمال کیا ہوا پا نی لیتے دیکھا ۔میں نے دیکھا کہ صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے استعمال شدہ پانی کو حاصل کرنے کی کو شش کر رہے تھے،جسے جوکچھ مِل گیا اس نے اپنے اوپر مَل لیا اور جسے اس میں سے ذرا بھی نہ ملا اس نے اپنے ساتھی کے ہاتھ سے تری حاصل کی ۔ (صحیح بخاری،کتاب الصلاۃ،باب الصلوٰۃ فی الثوب الاحمر، حدیث:۳۷۶)

سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ایک ’طیالسی کسروانی‘جبہ نکا لا جس کے گریبان اور آستینوں پر دیباج سے نقش ونگار بنے ہوئے تھے ،اور (حضرت عبداللہ سے)کہا :یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کا جبہ ہے ۔جو حضرت عائشہ کے پاس تھا ۔جب ان کا وصال ہو گیا تو اسے میں نے حاصل کر لیا ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم اسے پہنا کرتے تھے اور ہم اسے دھو کر پانی بیماروں کو پلایا کرتے تھے تا کہ وہ شفا یاب ہو جائیں ۔ (صحیح مسلم ،کتاب اللباس والزینۃ ، باب تحریم استعمال اِناء الذھب والفضۃعلی الرجال والنساء الخ ،حدیث : ۲۰۶۹)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم حضرت ام سُلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور وہیں آرام فر مایا ۔ جب وہ باہر سے آئیں تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کو پسینہ مبارک آیا ہواہے جو چمڑے کے بستر پر جمع ہو گیا ہے۔حضرت ام سلیم پسینہ مبارک پونچھ پونھ کر ایک بو تل میں جمع کر نے لگیں ۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں :حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم اچانک اٹھ بیٹھے اور فر مایا:ائے ام سلیم !کیا کر رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم !ہم اس سے اپنے بچوں کے لئے بر کت حاصل کر یں گے۔آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے فر مایا:تو نے ٹھیک کیا۔(صحیح مسلم ،کتاب الفضائل ،باب طیب عرق النبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم والتبرک بہ ،حدیث : ۲۳۳۱)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کی رمی کرلی اور قربانی بھی کرلی تو آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے اپنے سر کے دائیں حصے کو حجام کے آگے کیا ،اس نے اس حصے کے بال کو صاف کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں وہ بال عطا کر دئیے پھر آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے اپنے سر مبارک کا با یا ں حصہ حجام کے آگے کیا اور اسے حکم دیا ، اسے صاف کر دو ،اس نے صاف کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے وہ بال حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو دئے اور انہیں حکم دیا کہ انہیں لوگوں میںتقسیم کر دو ۔ (صحیح مسلم ،کتاب الحج ،باب بیان انَّ السنۃ یوم النحر ان یرمی ثم ینحر ثم یحلق الخ، حدیث :۱۳۰۵)

ہر دور کے مسلمان خواہ وہ علماء ہوں یا عوام حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے تبرکات کو ساری دنیا کی نعمتوں سے زیادہ محبو ب رکھتے ہیں ۔ چنانچہ ابن سیر ین کہتے ہیں کہ میں نے عبیدہ بن عمر و سلمانی سے کہا : ہمارے پاس حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے کچھ مو ئے مبارک ہیں ۔ ہم نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ یا ان کے گھر والوں کے پاس سے حاصل کیا ہے۔ تو عبیدہ نے کہا اگر ان بالوں میں سے ایک بال بھی میر ے پاس ہوتا تو وہ بال مجھے ساری کائنات سے زیادہ محبوب اور پیارا ہوتا ۔ (صحیح بخاری ،کتاب الوضوئ، باب الماء الذی یغسل بہ شعر الانسان، حدیث :۱۶۹)

اس کے علاوہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا واقعہ مشہور ہے کہ دوران جنگ جب آپ کی ٹو پی گر پڑی۔ تو آپ نے اس کو حاصل کرنے کے لئے اپنی جان پر کھیل کر اس کو اٹھا یا ۔اس پر کچھ لو گوں نے اعتراض کیا تو آپ نے ارشاد فر مایا کہ میں نے اس ٹوپی کےلئے ایسا نہیں کیا بلکہ اس ٹو پی میں حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے موئے مبارک تھے ۔اور مجھے خوف ہوا کہ کہیں میں اس کی بر کت سے محروم نہ ہوجائوں ۔ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ،۲:۶۱۹)
اس واقعے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ کرام اور ان کے بعد کے مسلمان کس طرح سر کا ر صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے تبر کات کو اہمیت دیتے تھے ۔ اور کس درجہ ادب واحترام کے ساتھ سنبھا ل کر رکھتے تھے ۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ سارے تبرکات فنا ہو گئے آج دنیا میں ان میں سے کو ئی موجود نہیں ۔ (التوسل ،مصنفہ شیخ ناصر البانی وہابی ، ص : ۱۴۷)
جواب : آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے خود اپنے تبر کات کو اپنے صحابہ کے درمیان تقسیم فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان تبرکات کو نہایت درجہ ادب و احترام کے ساتھ سنبھا ل کر رکھا۔پھر سلسلہ بہ سلسلہ نسلا بعد نسل یہ سارے تبرکات ہم تک پہونچے۔ جو آج دنیا کے مختلف گوشوں میں موجود ہیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی طرف منسوب اشیاء سے ہر دور کے مسلمانوں کے جو جذبات وابستہ رہے ہیں اورجس طرح ان پاکبازلوگوں نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے ہر قول و فعل بلکہ سفر و حضر کے تمام احوال و کوائف کو محفوظ رکھتے ہو ئے اپنے بعد آنے والی نسلوں تک پہونچانے کا عظیم الشان فر یضہ انجام دیا ۔ ان حالات کو مد نظر رکھتے ہو ئے ایک مسلمان آسانی کے ساتھ فیصلہ کر سکتا ہے کہ تبر کات کے فنا ہو نے کی بات بکواس ہے جس کی طرف کو ئی تو جہ نہیں دینی چا ہئے ۔ اور آخر جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ سب تبر کات فنا ہو گئے ان کے پاس کونسی دلیل ہے جس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا جائے ؟ ۔ (طالب دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مکمل تحریر >>

Wednesday, 24 January 2018

وسیلہ کیا ہے ؟

بارگاہِ الٰہی میں نیک بندوں کا وسیلہ پیش کرنا دعاؤں کی قبولیت، مشکلات کے حل، مصائب و آلام سے چھٹکارے اور دینی و دُنیوی بھلائیوں کے حُصول کا آسان ذریعہ ہے۔ قراٰن و حدیث اور اَقوال و اَفعالِ بُزُرگانِ دین سے وسیلہ اِختیار کرنے کا ثُبوت ملتا ہے چنانچہ اللہ ربّ العزّت کا فرمان ہے: ( وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ)  ترجمۂ کنز الایمان:اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ (پ6، المآئدۃ:35) نیز ہمارے پیارے مدنی آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسلمان فقرا کے وسیلے سے دعا فرمایا کرتے تھے چنانچہ طَبرانی شریف میں ہے: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ وَيَسْتَنْصِرُ بِصَعَالِيکِ الْمُسْلِمِينَ ترجمہ:نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسلمان فقرا کے وسیلے سے فتح و نصرت طلب فرماتے تھے۔(معجم کبیر،ج 1،ص292، حدیث: 859) وسیلے سے دعا کرنا جائز و مستحسن ہے:علّامہ بدر الدین عینی حنفی (سالِ وفات855ھ) علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں:”مشکل گھڑی میں اپنے نیک اَعمال کے وسیلے سے دعا کرنا مستحب ہے۔(عمدۃ القاری،ج 8،ص529،تحت الحدیث:2215)امام تقِیُّ الدّین سُبْکی شافعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی (سالِ وفات 756ھ)  لکھتے ہیں:”نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وسیلے سے دعا کرنا جائز و مستحسن ہے، چاہے ولادتِ باسعادت سے قبل ہو، حیاتِ ظاہری میں ہو یا وِصال مبارک کے بعد ہو۔ اسی طرح آپ علیہ السَّلام سے خاص نسبت رکھنے والے بُزُرگوں کو وسیلہ بنانا بھی جائز و مستحسن ہے۔(شفاء السقام، ص358،376) حضرت آدم علیہ السَّلام نے کس کے وسیلے سے دعا کی؟: حضرت سیّدنا آدم علیہ  الصلاۃ وَ السَّلام نے حضرت محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وسیلے سے دعا کی تو ارشادِ باری تعالیٰ ہوا:بے شک! محمد(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) تمام مخلوق میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں اور اب کہ تو نے ان کے  حق کے  واسطے سے سوال کیا ہے تو تو میں نے تمہاری مغفرت کردی اور اگر محمد(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)  نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔‘‘(دلائل النبوۃ للبیہقی،ج5،ص489) امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بارگاہِ رسالت میں عرض کرتے ہیں: اَنْتَ الَّذِیْ لَمَّا تَوَسَّلَ اٰدَمُ مِنْ زَلَّۃٍ بِکَ فَازَوَھُوَ اَبَاکَ آپ ہی وہ ہستی ہیں کہ جب جَدِّاعلیٰ آدم علیہ السَّلام نے لَغْزِش کے سبب آپ کا وسیلہ پکڑا تو وہ کامیاب ہوئے۔(مجموعۂ قصائد، ص40) بنی اسرائیل  کا تابوتِ سکینہ کے وسیلے سے دعا کرنا: تابوتِ سکینہ میں انبیائے کرام علیہم السَّلام کے تبرکات تھے، بنی اسرائیل مشکل وقت میں اُس تابوت کے وسیلے سے دعا کرتے اور دشمنوں کے مقابلے میں فتح پاتے۔(جلالین، پ2، البقرۃ، تحت الآیۃ: 248،ج1،ص142) دعائے مصطفٰے: نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم کی والدہ کے لئے یوں دعا کی: اغْفِرْ لِاُمِّي فَاطِمَةَ بِنْتِ اَسَدٍ، ولَقِّنْهَا حُجَّتَها، وَوَسِّعْ عَلَيْهَا مَدْخَلَهَا، بِحَقِّ نَبِيِّكَ وَالْأَنْبِيَاءِ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِي۔ ترجمہ: (اےاللہ عَزَّوَجَلَّ!) میری ماں فاطمہ بنتِ اسد کی مغفرت فرما اور انہیں ان کی حجت سکھااور میرے اور مجھ سے پہلےنبیوں کے حق کے وسیلے سے اس  کی قبرکو وسیع فرما!(معجم کبیر،ج24،ص351، حدیث:871) بزرگانِ دین اور وسیلہ: بُزُرگانِ دین  بھی اپنی دعاؤں میں وسیلہ اِختیار کیا کرتے تھے، مثلاً (1)امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ قحط کے وقت یوں دعا کیا کرتے: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! پہلے ہم تیرے نبی کے وسیلے سے دعا کرتے تھے، اب اپنے نبی کے چچا عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں، ہمیں بارش عطا فرما! (بخاری،ج1،ص346، حدیث: 1010) (2)حضرت سیّدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت سیّدنا ابنِ اَسْوَد جُرَشی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے وسیلے سے بارش کی دعا مانگا کرتے تھے۔(طبقات ابن سعد،ج 7،ص309ملخصاً) (3)علّامہ ابنِ عابِدِین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نبیِّ کریم، رَءوفٌ رَّحیم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، امام اعظم اور دیگر صالحین علیہ رحمۃ اللہ المُبِین کے وسیلے سے دعا کرتے تھے۔ (ردالمحتار،ج 1،ص18ملخصاً)  فرمانِ غوثِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم: مَنْ تَوَسَّلَ بِیْ اِلَی اللہِ فِیْ حَاجَۃٍ قُضِیَتْ حَاجَتُہ جو مجھے وسیلہ بنا کر اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کوئی حاجت طَلَب کرے اس کی حاجت پوری کی جاتی ہے۔(نزہۃ  الخاطر  الفاتر، ص67(

میرے غوث کا وسیلہ رہے شاد سب قبیلہ

انہیں خُلد میں بسانا مدنی مدینے والے

                                       (وسائل بخشش(مرمّم)، ص 429

مکمل تحریر >>