Pages

Wednesday, 24 January 2018

جانور بھی مانتے ہیں وسیلہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں

جانور بھی مانتے ہیں وسیلہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت عبد اﷲ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک انصاری شخص کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک اُونٹ تھا۔ جب اس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ رو پڑا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس کے سر پر دست شفقت پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس اُونٹ کا مالک کون ہے اور یہ کس کا اونٹ ہے؟ انصار کا ایک نوجوان حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! یہ میرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس بے زبان جانور کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں مالک بنایا ہے۔ اس نے مجھے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے بہت زیادہ کام لیتے ہو۔اس حدیث کو امام ابوداود، احمد، ابویعلی، حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس کی سند میں عبد الحکیم بن سفیان نامی راوی ہیں امام ابن ابی حاتم نے ان کا بغیر کسی جرح کے ذکر کیا ہے اور ان کے علاوہ بھی تمام رجال ثقہ ہیں۔
(أخرجه أبو داود في السنن، کتاب : الجهاد، باب : ما يؤمر به من القيام علی الدواب والبهائم، 3 / 23، الرقم : 2549، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 205، الرقم : 1754، وأبو يعلی في المسند، 12 / 157، الرقم : 6787، والحاکم في المستدرک، 2 / 109، الرقم : 2485، والبيهقي في السنن الکبری، 8 / 13، الرقم : 15592، والطبراني في المعجم الأوسط، 9 / 54، والشيباني في الآحاد والمثاني، 1 / 314، الرقم : 437، والأصبهاني في دلائل النبوة، 1 / 159، الرقم : 186، وأبو عوانة في المسند، 1 / 197، 168، الرقم : 497، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 9 / 158. 160، الرقم : 1330. 1336، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 4 / 374، 27 / 374، والوادياشي في تحفة المحتاج، 2 / 238، الرقم : 1536، والنووي في رياض الصالحين، 1 / 243، الرقم : 243، والمزي في تهذيب الکمال، 6 / 165، وأبو المحاسن في معتصر المختصر، 2 / 19، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 8.)

حضرت شمر بن عطیہ رضی اللہ عنہ، مزینہ یا جہینہ کے ایک آدمی سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ فجر ادا فرمائی تو اچانک ایک سو کے لگ بھگ بھیڑئیے پچھلی ٹانگوں کو زمین پر پھیلا کر اور اگلی ٹانگوں کو اٹھائے اپنی سرینوں پر بیٹھے ہوئے (باقی) بھیڑیوں کے قاصد بن کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (اے گروہ صحابہ!) تم اپنے کھانے پینے کی اشیاء میں سے تھوڑا بہت ان کا حصہ بھی نکالا کرو اور باقی ماندہ کھانے کو (ان بھیڑیوں سے) محفوظ کر لیا کرو۔ پھر اُن بھیڑیوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی کسی حاجت کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انہیں اجازت دو۔ راوی بیان کرتے ہیں انہوں نے ان (بھیڑیوں) کو اجازت دی پھر وہ اپنی مخصوص آواز نکالتے ہوئے چل دیے۔
(أخرجه الدارمي في السنن، 1 / 25، الرقم : 22، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 4 / 376.)

حضرت یعلی بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم (ایک سفر میں) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے تو میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین اُمور (معجزات) دیکھے۔ ہمارا گزر ایک اونٹ کے پاس سے ہوا جس پر پانی رکھا جا رہا تھا۔ اس اونٹ نے جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ بلبلانے لگا اور اپنی گردن (از راہِ تعظیم) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جھکا دی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس کھڑے ہو گئے اور فرمایا : اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ اس کا مالک حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا : یہ اونٹ مجھے بیچتے ہو؟ اس نے عرض کیا : نہیں، حضور! بلکہ یہ آپ کے لیے تحفہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں، بلکہ اسے مجھے بیچ دو۔ اس نے دوبارہ عرض کیا : نہیں، بلکہ یہ آپ کے لیے تحفہ ہے، اور بے شک یہ ایسے گھرانے کی ملکیت ہے کہ جن کا ذریعہ معاش اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اب تمہارے ذہن میں یہ بات آئی ہے کہ اس اونٹ نے ایسا کیوں کیا ہے۔ اس نے شکایت کی ہے کہ تم اس سے کام زیادہ لیتے ہو اور چارہ کم ڈالتے ہو۔ اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ حضرت یعلی بن مروہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر ہم روانہ ہوئے اور ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں محوِ استراحت ہو گئے۔ اتنے میں ایک درخت زمین کو چیرتا ہوا آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ فگن ہو گیا پھر کچھ دیر بعد وہ واپس اپنی جگہ پر چلا گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس درخت نے اپنے رب سے اجازت طلب کی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی بارگاہ میں سلام عرض کرے، پس اس نے اسے اجازت دے دی۔ پھر ہم وہاں سے آگے چلے اور ہمارا گزر پانی کے پاس سے ہوا۔ وہاں ایک عورت تھی اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا جسے جن چمٹے ہوئے تھے۔ وہ اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لڑکے کی ناک کا نتھنا پکڑ کر فرمایا : نکل جاؤ میں محمد، اللہ کا رسول ہوں۔ حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر ہم آگے بڑھے۔ جب ہم اپنے سفر سے واپس لوٹے تو ہم دوبارہ اسی پانی کے پاس سے گزرے۔ پس وہی عورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھنا ہوا گوشت اور دودھ لے کر حاضرِ خدمت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھنا ہوا گوشت واپس کر دیا اور اپنے صحابہ سے فرمایا تو انہوں نے دودھ میں سے کچھ پی لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بچے کے متعلق پوچھا تو اس نے جواب دیا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! اس کے بعد ہم نے اس میں کبھی اس بیماری کا شائبہ تک نہیں پایا۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد، ابونعیم اور ابن حمید نے روایت کیا ہے ۔ امام منذری نے فرمایا کہ اس کی سند جید ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اسے امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے اور طبرانی نے بھی اسی کی مثل روایت کیا ہے اور امام احمد کی ایک سند کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں ۔
(أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 170، 173، وأبو نعيم في دلائل النبوة، 1 / 158، الرقم : 184، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 154، الرقم : 405، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 144، الرقم : 3430، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 4 / 368، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 5.)

حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے ہم ایک درخت کے پاس سے گزرے جس میں چَنڈُول (ایک خوش آواز چڑیا) کے دو بچے تھے، تو ہم نے وہ دوبچے اٹھا لئے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ چَنڈُول حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں شکایت کرتے ہوئے حاضر ہوئی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کس نے اس چَنڈُول کو اس کے بچوں کی وجہ سے تکلیف دی ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ تو ہم نے عرض کیا : ہم نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کے بچے اسے لوٹا دو ۔ امام حاکم نے فرمایا کہ اس کی حدیث کی سند صحیح ہے۔
(أخرجه الحاکم في المستدرک، 4 / 267، الرقم : 7599، والبيهقي في دلائل النبوة، 1 / 321، والهناد في الزهد، 2 / 620، الرقم : 1337، والجزري في النهاية، 4 / 121.)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گروہ کے پاس سے گزرے۔ انہوں نے ایک ہرنی کو شکار کر کے ایک بانس کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔ اس ہرنی نے عرض کیا : یارسول اﷲ! میرے دو چھوٹے بچے ہیں جنہیں میں نے حال ہی میں جنا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ان سے اجازت دلوا دیں کہ میں اپنے بچوں کو دودھ پلا کر واپس آ جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کا مالک کہاں ہے؟ اس گروہ نے کہا : یارسول اﷲ، ہم اس کے مالک ہیں۔ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنے بچوں کو دودھ پلا کر تمہارے پاس واپس آ جائے۔ انہوں نے عرض کیا : یارسول اﷲ! اس کی واپسی کی ہمیں کون ضمانت دے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں۔ انہوں نے ہرنی کو چھوڑ دیا پس وہ گئی اور اپنے بچوں کو دودھ پلا کر واپس لوٹ آئی۔ انہوں نے اسے پھر باندھ دیا۔ جب حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ ان لوگوں کے پاس سے گزرے اور ان سے پوچھا : اس کا مالک کہاں ہے؟ اس گروہ نے عرض کیا : یارسول اﷲ! وہ ہم ہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس ہرنی کو مجھے فروخت کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا : یارسول اﷲ! یہ آپ ہی کی ہے۔ پس انہوں نے اسے کھول کر آزاد کر دیا اور وہ چلی گئی ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 358، الرقم : 5547، وأبو نعيم في دلائل النبوة، 376، الرقم : 274، وابن کثير في شمائل الرسول : 347)

حضرت اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک دفعہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک صحراء میں سے گزر رہے تھے۔ کسی ندا دینے والے نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’یارسول اﷲ‘ کہہ کر پکارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آواز کی طرف متوجہ ہوئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سامنے کوئی نظر نہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ غور سے دیکھا تو وہاں ایک ہرنی بندھی ہوئی تھی۔ اس نے عرض کیا : یارسول اﷲ، میرے نزدیک تشریف لائیے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے قریب ہوئے اور اس سے پوچھا : تمہاری کیا حاجت ہے؟ اس نے عرض کیا : اس پہاڑ میں میرے دو چھوٹے چھوٹے نومولود بچے ہیں۔ پس آپ مجھے آزاد کر دیجئے کہ میں جا کر انہیں دودھ پلا سکو پھرمیں واپس لوٹ آؤں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : کیا تم ایسا ہی کرو گی؟ اس نے عرض کیا : اگر میں ایسا نہ کروں تو اﷲتعالیٰ مجھے سخت عذاب دے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے آزاد کر دیا۔ وہ چلی گئی اس نے اپنے بچوں کو دودھ پلایا اور پھر واپس لوٹ آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دوبارہ باندھ دیا۔ پھر اچانک وہ اعرابی (جس نے اس ہرنی کو باندھ رکھا تھا) متوجہ ہوا اور اس نے عرض کیا : یارسول اﷲ! میں آپ کی کوئی خدمت کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں، اس ہرنی کو آزاد کر دو۔ پس اس اعرابی نے اسے فوراً آزاد کر دیا۔ وہ وہاں سے دوڑتی ہوئی نکلی اور وہ یہ کہتی جا رہی تھی : میں گواہی دیتی ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اﷲتعالیٰ کے رسول ہیں ۔
(أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 23 / 331، الرقم : 763، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 321، الرقم : 1176، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 295)

حضرت حمزہ بن ابی عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار میں سے کسی آدمی کے جنازہ کے لیے جنت البقیع کی طرف تشریف لے گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اچانک دیکھا کہ ایک بھیڑیا اپنے بازو پھیلائے راستے میں بیٹھا ہوا ہے۔ (اسے دیکھ کر) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ بھیڑیا (تم سے اپنا) حصہ مانگ رہا ہے پس اسے اس کا حصہ دو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ! (اس کے حصہ کے بارے میں) ہم آپ کی رائے جاننا چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر سال ہر چرنے والے جانور کے بدلہ میں ایک بھیڑ۔ صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ! یہ زیادہ ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھیڑئیے کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ ان سے اپنا حصہ چھین لیا کرے۔ پس (یہ سننے کے بعد) بھیڑیا چل دیا ۔ حافظ ابن عدی کہتے ہیں : ہمیں ابو بکر بن ابی داود نے بتایا کہ اس چرواہے کی اولاد کو ’’مکلم الذئب (بھیڑیے سے کلام کرنے والا) کی اولاد کہا جاتا تھا۔ ان کے پاس بہت سا مال و اسباب تھا۔ اور ان کا تعلق خزاعہ قبیلہ سے تھا اور بھیڑئیے سے کلام کرنے والے شخص کا نام اہْبَان تھا۔ اور انہوں نے کہا کہ محمد بن اشعث خزاعی ان کی اولاد میں سے تھے ۔
( أخرجه البيهقي في دلائل النبوة، 6 / 40، وابن کثير في البداية والنهاية، 6 / 146، وفي شمائل الرسول : 343، 344، والسيوطي في الخصائص الکبری، 2 / 62)

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھے کہ ایک اُونٹ بھاگتا ہوا آیا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سرِ انور کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا (جیسے کان میں کوئی بات کہہ رہا ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اُونٹ! پرسکون ہو جا۔ اگر تو سچا ہے تو تیرا سچ تجھے فائدہ دے گا اور اگر تو جھوٹا ہے تو تجھے اس جھوٹ کی سزا ملے گی۔ بے شک جو ہماری پناہ میں آ جاتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اسے امان دے دیتا ہے اور ہمارے دامن میں پناہ لینے والا کبھی نامراد نہیں ہوتا۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ! یہ اونٹ کیا کہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس اونٹ کے مالکوں نے اسے ذبح کر کے اس کا گوشت کھانے کا ارادہ کر لیا تھا۔ سو یہ ان کے پاس سے بھاگ آیا ہے اور اس نے تمہارے نبی کی بارگاہ میں استغاثہ کیا ہے۔ ہم ابھی باہم اسی گفتگو میں مشغول تھے کہ اس اونٹ کے مالک بھاگتے ہوئے آئے۔ جب اونٹ نے ان کو آتے دیکھا تو وہ دوبارہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک کے قریب ہوگیااور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چھپنے لگا۔ ان مالکوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ہمارا یہ اونٹ تین دن سے ہمارے پاس سے بھاگا ہوا ہے اور آج یہ ہمیں آپ کی خدمت میں ملا ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ میرے سامنے شکایت کر رہا ہے اور یہ شکایت بہت ہی بری ہے۔ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! یہ کیا کہہ رہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ کہتا ہے کہ یہ تمہاری پاس کئی سال تک پلا بڑھا۔ جب موسم گرما آتا تو تم گھاس اور چارے والے علاقوں کی طرف اس پر سوار ہو کر جاتے اور جب موسم سرما آتا تو اسی پر سوار ہو کر گرم علاقوں کی جانب کوچ کرتے۔ پھر جب اس کی عمر زیادہ ہو گئی تو تم نے اسے اپنی اونٹنیوں میں افزائش نسل کے لئے چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے کئی صحت مند اونٹ عطا کئے۔ اب جبکہ یہ اس خستہ حالی کی عمر کو پہنچ گیا ہے تو تم نے اسے ذبح کر کے اس کا گوشت کھا لینے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا : خدا کی قسم، یا رسول اللہ! یہ بات من وعن اسی طرح ہے جیسے آپ نے بیان فرمائی۔ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک اچھے خدمت گزار کی اس کے مالکوں کی طرف سے کیا یہی جزا ہوتی ہے؟! انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! اب ہم نہ اسے بیچیں گے اور نہ ہی اسے ذبح کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم جھوٹ کہتے ہو۔ اس نے پہلے تم سے فریاد کی تھی مگر تم نے اس کی داد رسی نہیں کی اور میں تم سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہوں۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے دلوں سے رحمت نکال لی ہے اور اسے مومنین کے دلوں میں رکھ دیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اونٹ کو ان سے ایک سو درہم میں خرید لیا اور پھر فرمایا : اے اونٹ! جا، تو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر آزاد ہے۔ اس اونٹ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک کے پاس اپنا منہ لے جا کر کوئی آواز نکالی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آمین۔ اس نے پھر دعا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا : آمین۔ اس نے پھر دعا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا : آمین۔ اس نے جب چوتھی مرتبہ دعا کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آبدیدہ ہو گئے۔ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ! یہ اونٹ کیا کہہ رہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے پہلی دفعہ کہا : اے نبی مکرم! اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام اور قرآن کی طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے۔ میں نے کہا : آمین۔ پھر اس نے کہا : اللہ تعالیٰ قیامت کے روز آپ کی امت سے اسی طرح خوف کو دور فرمائے جس طرح آپ نے مجھ سے خوف کو دور فرمایا ہے۔ میں نے کہا : آمین۔ پھر اس نے دعا کی : اللہ تعالیٰ دشمنوں سے آپ کی اُمت کے خون کو اسی طرح محفوظ رکھے جس طرح آپ نے میرا خون محفوظ فرمایا ہے۔ اس پر بھی میں نے آمین کہا۔ پھر اس نے کہا : اللہ تعالیٰ ان کے درمیان جنگ وجدال پیدا نہ ہونے دے یہ سن کر مجھے رونا آ گیا کیونکہ یہی دعائیں میں نے بھی اپنے رب سے مانگی تھیں تو اس نے پہلی تین تو قبول فرما لیں لیکن اس آخری دعا سے منع فرما دیا۔ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی ہے کہ میری یہ امت آپس میں تلوار زنی سے فنا ہو گی۔ جو کچھ ہونے والا ہے قلم اسے لکھ چکا ہے ۔ (أخرجه المنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 144، 145، الرقم : 3431)۔(طالب دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مکمل تحریر >>

Wednesday, 17 January 2018

*فرقوں کا وجود کیسا ہوا ؟ ایک حقیقت*✍

*فرقوں کا وجود کیسا ہوا ؟ ایک حقیقت*✍

*کل تک جو لوگ دیوبندی اور وہابی کہلانے میں فخر محسوس کرتے تھے،*

*آج وہ لوگ اہلسنّت والجماعت ہونے کے دعویدار ہیں،*

یہ سب کیوں اور کیسے ہوا۔؟
یہ لوگ کون ہیں۔؟
کس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔؟
اور اِن کی پرورش و آبیاری کس نے کی۔؟آئیے ذیل میں اِن عوامل کا جائزہ لیتے ہیں۔

سابق وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی لکھتے ہیں

”سندھ میں جو عرب فاتح آئے وہ سنّی تھے۔(1)تاریخ کا مطالعہ بھی یہی بتاتا ہے کہ
” ہندوستان میں اسلام کی آمد کے بعد پانچویں چھٹی صدی ہجری تک
یہاں آنے والے
اور اسلام قبول کرنے والے
صرف اور صرف اہلسنّت و جماعت تھے،
اُس زمانے میں سنیت اور حنفیت کا دور دورہ تھا،

سارے علماء و مشائخ سنی حنفی تھے……پھر مغل سلاطین کی فوج میں
کچھ شیعہ یہاں آئے
اور رفتہ رفتہ انہوں نے قدم جمانا شروع کیا۔“

(2)حضرت امیر خسرو اپنے فارسی اشعار میں ہندوستان کے اسلامی احوال وکوالف کی منظر کشی کرتے ہیں ،
جسے نقل کرتے ہوئے حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی ارشاد فرماتے ہیں۔

”ہندوستان میں اسلام کی آمد کے بعد قریب پانچ سو برس تک اہلسنّت و جماعت کی بہاریں رہیں اور کوئی فرقہ بندی نہیں ہوئی“

(3) یہ صور تحال حضرت مجدد الف ثانی کے زمانے تک قائم رہی اور
”حضرت مجدد (الف ثانی) کے زمانے سے 1240ھ/ 1825ءتک ہندوستان کے مسلمان دو فرقوں میں بٹے رہے،
ایک اہلسنّت وجماعت ،
دوسرا شیعہ۔

اب اسمعٰیل دہلوی نے تقویة الایمان لکھی،
اِس کتاب سے مذہبی آزاد خیالی کا دور شروع ہوا،
کوئی غیر مقلد بنا،
کوئی وہابی بنا،
کوئی اہلحدیث کہلایا،
کسی نے اپنے آپ کو سلفی کہا،
آئمہ مجتہدین کی جو منزلت اور احترام دل میں تھا،
وہ ختم ہوا،
معمولی نوشت وخواند کے افراد امام بننے لگے
اور افسوس اِس بات کا ہے کہ
توحید کی حفاظت کے نام پر
بارگاہ نبوت کی تعظیم واحترام میں تقصیرات (یعنی بے ادبی وگستاخی) کا سلسلہ شروع کردیا،
یہ ساری قباحتیں 1240ھ/ 1825ءکے بعد ظاہر ہونا شروع ہوئی ہیں۔“

(4) تقویة ایمان کی اِس شرانگیزیری پر
اشک ندامت بہاتے ہوئے دیوبندی مکتبہ فکر کے مولوی احمد رضا بجنوری رقم طراز ہیںکہ”افسوس ہے کہ اِس کتاب”

"تقویة الایمان “
کی وجہ سے مسلمانان پاک وہند جن کی تعداد بیس کروڑ سے زیادہ ہے اور تقریباً نوے فیصد حنفی المسلک ہیں دو گروہوں میں بٹ گئے ۔

(5) یوں شیعیت کے بعد
نجد کا فتنہ وہابیت
(جو شیخ ابن تیمیہ حرانی اور محمد بن عبدالوہاب نجدی کے افکار ونظریات کا مجموعہ ہے)
اٹھارویں صدی عیسوی کے آغاز میں ہندوستان میں نمودار ہوا

اور اسمعٰیل دہلوی کی رسوائے زمانہ کتاب ”تقویة الایمان“ اِس فتنے کے فروغ کا ذریعہ بنی۔

” انگریز وں نے اتباع سنت اور عمل بالحدیث کے نام پر شروع ہونے والی ایک ایسی تحریک کی سرپرستی کی جو دراصل فقہ میں آزاد نہ روش کی خواہش رکھتی تھی ،

اُسے کسی ایک امام مجتہد کی فقہ کی پابندی میں جکڑا رہنا گوارا نہیں تھا۔

(6) درحقیقت تقویة ایمان
انگریزوں کے اشارے پر تفریق بین المسلمین کیلئے منظر عام پر آئی ،
جولڑاو ¿
اور حکومت کرو کے آزمودہ حربے کا شاخسانہ تھی،

انگریز کی ایماء پر مسلمانوں کے درمیان ہنگامہ
اور فتنہ وفساد پھیلانے والی
”اِس کتاب کو 1838ء میں رائل ایشیاٹک سوسائٹی کلکتہ (جس نے اِس سے قبل 1825ءمیں اِس کتاب کا انگریزی ترجمہ لندن کے رسالہ جلد 12 میں شائع کیا تھا)
نے ہزاروں کی تعداد میں چھپوا کر مفت تقسیم کیا ۔“

(7) پروفیسر محمد شجاع الدین صدر شعبہ تاریخ ،
دیال سنگھ کالج اِس بات کی تصدیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
”انگریزوں نے تقویة الایمان مفت تقسیم کی۔“

(8) آغا شورش کاشمیری اِس تاریخی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
”انگریز اپنی چال میں کامیاب رہا کہ
مسلمانوں کی ملی وحدت پارہ پارہ ہو،
اُس کی شکل یہ نکالی کہ بعض نئے فرقوں کو جنم دیا،
انہیں پروان چڑھایا،
اُن کا ہاتھ بٹایا۔

(9) اِس طرح تقویة الایمان کے بطن سے پیدا ہونے والی وہابیت نے
برصغیر میں
”اہلحدیث،
نیچریت،
چکڑالویت،
انکار حدیث اور قادیانیت سمیت اکثر و بیشتر فرقوں کی بنیاد رکھی ۔“

(10) شاعر مشرق
علامہ محمد اقبال
(اللہ کی آپ پر رحمت ہو)
اِس حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

”قادیان اور دیوبند اگرچہ ایک دوسرے کی ضد ہیں لیکن دونوں کا سرچشمہ ایک ہے اور دونوں اُس تحریک کی پیداوار ہیں
جسے عرف عام میں وہابیت کہا جاتا ہے۔“

(11) جامعہ ملیہ دہلی کے استاد ڈاکٹر سید جمال الدین اسلم کے بقول
”تقویة الایمان کے بعد اختلافات کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ
سوادِ اعظم اہلسنت و جماعت سنی حنفی
سے نکل نکل کر لوگ مختلف خیموں
مختلف فرقوں میں داخل ہونے لگے

اور اِس طرح سوادِ اعظم
اہلسنت و جماعت سنی حنفی کا شیرازہ
منتشر ہوگیا،
اِس انتشار کی روک تھام
اور اہلسنّت کی شیرازہ بندی کیلئے
روہیل کھنڈ کے شہر بریلی کے
ایک فاضل عالم نے عزم مصمم کیا،
یہ فاضل عالم تھے،
مولانا احمد رضا خاں،
جوامام اہلسنّت مجدد دین وملت
فاضل بریلوی کے نام سے معروف و مشہور ہوئے۔

(12) ڈاکٹر کے محمد عبدالحمید اکبر پونا یونیورسٹی سے ”مولانا محمد انوار اللہ فارقی حیدرآبادی “
پر پی ایچ ڈی کے مقالے میں لکھتے ہیں
”کئی ایسے مذہبی دانشور اور مفکر بھی آئے جنھوں نے مسلمانوں کی دینی اور مسلکی رہنمائی میں اپنی تصانیف کے ذریعہ مجددانہ اورمجاہدانہ کردار پیش کیا،
اِن مصلحین میں مولانا احمد رضا فاضل بریلوی نامور ہوئے۔

(13) اَمر واقعہ یہ ہے کہ فاضل بریلوی
مولانا احمد رضا خاں السواد اعظم
اہلسنّت وجماعت سنی حنفی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے ،

خود دیوبندی مکتبہ فکر کے مورخ سید سلیمان ندوی حیات شبلی صفحہ 8 پر تسلیم کرتے ہیں کہ
” تیسرا فریق وہ تھا جو شدت کے ساتھ اپنی روش پر قائم رہا اور اپنے آپ کو اہل السنة کہتا رہا،
اِس گروہ کے پیشوا زیادہ تر بریلی اور بدایوں کے علماء تھے۔“

شیخ محمد اکرام کے بقول
”انہوں (مولانا احمدرضا خاں)
نے نہایت شدت سے قدیم حنفی طریقوں کی حمایت کی۔“

(14) خود اہلحدیث مولوی احسان الٰہی ظہیر نے لکھا کہ

”یہ جماعت اپنی پیدائش اور نام کے لحاظ سے نئی ہے ،
لیکن افکار اور عقائد کے اعتبار سے قدیم ہے۔“

(15) جبکہ ثنا اللہ امرتسری کا کہنا ہے کہ ”اَسّی سال قبل پہلے سب مسلمان اِسی خیال کے تھے ،
جن کو آج بریلوی خیال کیا جاتا ہے۔“

(16) نواب صدیق حسن بھوپالی
اہلحدیث نے اقرار کیا کہ
”خلاصہ حال ہندوستان کے مسلمانوں کا یہ ہے کہ جب سے یہاں اسلام آیا ہے،
اُس وقت سے آج تک یہ لوگ حنفی مذہب پر قائم رہے اور ہیں۔“

(17) قارئین محترم !

درج بالا چند حوالہ جات جو زیادہ تر مخالف مکتبہ فکر وہابی ، اہلحدیث ، دیوبندی کے مشہور افراد کی کتابوں سے نقل کیے گئے ہیں
کو دیکھ کر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ
برصغیر پاک و ہند میں
السواداعظم اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی جسے مخالفین آج بریلوی کہتے ہیں،

وہ قدیم ترین جماعت ہے
جس کی ابتداء اسلام کی آمد سے
منسلک ہے ،
شیعیت کے بعد وہابیت سمیت باقی تمام مکتبہ فکر یعنی دیوبندی
اِس براعظیم میں بعد کی پیداوار ہیں،
جبکہ مولانا احمد رضا خاں کا تعلق
اُس مکتبہ فکر سے ہے
جو شدت کے ساتھ قدیم
سنی حنفی عقائد پر گامزن رہا،
حیرت کی بات یہ ہے کہ اِس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود

مخالفین مولانا احمد رضا خاں پر
الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے
ایک نئے مسلک کی بنیاد ڈالی ،
جبکہ احسان الٰہی ظہیر کی کتاب کے صاحب مقدمہ شیخ عطیہ محمد سالم تسلیم کرتے ہیں کہ
”دنیا کے ہر خطے میں پائے جانے والے تمام قادری،
سہروردی،
نقشبندی ،
چشتی،
رفاعی وہی عقائد رکھتے ہیں
جو بریلویوں کے ہیں“

(18) یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
دنیا کے سب خطوں میں رہنے والے تمام قادریوں،
سہروردیوں،
نقشبندیوں ،
چشتییوں اور
رفاعیوں کے اگر وہی عقائد ہیں
جو بریلویوں کے ہیں تو
کیا اِن سب کو مخالفین کے الزام کے مطابق بریلی کے نئے مسلک نے متاثر کیا
اور کیا اِن سب نے بریلوی تعلیمات سے متاثر ہوکر اپنے عقائد و نظریات کو تبدیل کرلیا،
یقینا عقل و شعور سے یہ تصور محال ہے
اور کوئی بھی ذی علم
اِس بات کی تائید
اس لیے نہیں کرسکتا کہ

مولانا احمد رضا خاں نے
برصغیر میں کسی نئے مسلک کی بنیاد نہیں ڈالی
بلکہ چودھویں صدی میں
قدیم سنی حنفی عقائد کا دفاع کرتے ہوئے سواد اعظم اہل سنت وجماعت کے خلاف اٹھنے والے نت نئے خارجی فتنوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا،

انہوں نے عظمت الوہیت،
ناموس رسالت،
مقام صحابہ و اہل بیت
اور حرمت ولایت کا پہرا دیا
اور اپنی بے پایاں علمی و قلمی خدمات
(جسے عرب و عجم کے علماء و ارباب علم ودانش نے بھی تسلیم کیا)
کی وجہ سے اِس خطے میں وقت کے
مجدد اور اہلسنّت وجماعت کا فخر و امتیاز قرار پائے۔

سید محمد مدنی میاں کچھوچھوی فرماتے ہیں
” فاضل بریلوی کسی نئے مذہب کے بانی نہ تھے ،
از اوّل تا آخر مقلد رہے،
اُن کی ہر تحریر کتاب و سنت
اور اجماع و قیاس کی صحیح ترجمان رہی، نیز سلف صالحین و ائمہ مجتہدین کے ارشادات اور مسلک اسلام کو واضح طور پر پیش کرتی رہی،
وہ زندگی کے کسی گوشہ میں ایک پل کیلئے بھی
”سبیل مومنین صالحین“ سے نہیں ہٹے،
اب اگر ایسے کے ارشادات حقانیہ اور توضیحات و تشریحات پر اعتماد کرنے والوں ،
انہیں سلف صالحین کی روش کے مطابق یقین کرنے والوں کو ”بریلوی“ کہہ دیا گیا
تو کیا ”بریلویت “و” سنیّت“ کو بالکل مترادف المعنی نہیں قرار دیا گیا۔؟

اور بریلویت کے وجود کا آغاز فاضل بریلوی کے وجود سے پہلے ہی تسلیم نہیں کرلیا گیا ۔

(19) حقیقت واقعہ یہ ہے کہ برصغیر میں نئے مسلک و عقیدے کی بنیاد ڈالنے والے دراصل وہی لوگ ہیںجو آج
”اہلسنّت و جماعت “ کا نام اختیار کرکے اپنی وہابی و دیوبندی نسبت اور حوالوں کو چھپانا چاہتے ہیں
اور بڑی چابک دستی سے اپنے حکیم الامت اشرف علی تھانوی دیوبندی کا دکھایا ہوا تقیہ کا راستہ کہ
”اپنی جماعت کی مصلحت کیلئے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل بیان کیے جائیں تاکہ اپنے مجمع پر جو وہابیت کا شبہ ہے ،
وہ دور ہو اور موقع بھی اچھا ہے
کیونکہ اِس وقت مختلف طبقات کے لوگ موجود ہیں۔ “

(20) اختیار کرکے حنفیت واہلسنّت ہونے کا دھوکہ دیتے ہیں،
یہ وہی حکم الامت ہیں جو کہتے ہیں
”اگر میرے پاس دس ہزار روپیہ ہو تو سب کی تنخواہ کردوں ،
پھر لوگ خود ہی وہابی بن جائیں“

(21) جو اپنے عقیدے کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں
”بھائی یہاں تو وہابی رہتے ہیں،
یہاں نیاز فاتحہ کیلئے کچھ مت لایا کرو۔“

(22) اَمر واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں موجود چاروں فقہ
” حنفی،
شافعی،
مالکی
اور حنبلی“
کے ماننے والے لوگ جو کہ ہر خطے میں پائے جاتے ہیں،

اہلسنّت وجماعت ہیں،
اِن کے علاوہ باقی تمام مکتبہ فکر
وہابی،
اہلحدیث،
اہل قرآن
اور چکڑالوی وغیرہ
خارج اہلسنّت شمار ہوتے ہیں،

رہی دیوبندیت
تو بقول شاعر مشرق علامہ محمد اقبال
فرما چکے ہیں کہ
وہ (دیوبندیت) وہابیت کی ہی ایک شکل ہے جس نے بڑی چالاکی سے تقلید حنفی کا لبادہ اوڑھ کر سیدھے سادھے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کا وطیرہ اختیار کرلیا ہے،

قارئین محترم !
اِس مقام پر بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ
وہابی و خارجی عقائد کے رکھنے والے لوگ کون ہیں،
کب وجود میں آئے
اور اِن کے عزائم کیا ہیں،
اب دیکھتے ہیں
اہلسنّت وجماعت کی تعریف و پہچان کیا ہے،
دیوبندی مورخ سید سلیمان ندوی
اصل اہلسنّت وجماعت کی تعریف وپہچان بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
یہ وہ لوگ ہیں ” جن کے اعتقادات،
اعمال اور مسائل کا محور پیغمبر علیہ السلام کی سنت ِصحیح اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اثر ِمبارک ہے۔“

(23) رسول اللہ نے فرمایا یہ
”وہ راستہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔“
حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا،
”اللہ میری اُمت کو کبھی ضلالت پر جمع نہیں کرے گا
اور آپ نے فرمایا،
نظم اجتماعی پر اللہ کا ہاتھ ہے،
تو جو اُس سے الگ ہوا،
شیاطین اُسے اچک لے جائیں گے،
چنانچہ جب تم (اُس میں) اختلاف پاؤ تو
(اُس کے ساتھ وابستہ رہنے کیلئے)
سواد اعظم کی رائے کی پیروی کرو،

اِس لیے کہ جو الجماعۃ سے الگ ہوا،
وہ دوزخ میں پڑا۔
(مستدرک،کتاب العلم)،
حضرت انس سے روایت ہے
رسول اللہ نے فرمایا

”بیشک میری اُمت گمراہی پر متفق نہیں ہوگی،
پس جب تم دیکھو کہ لوگ اختلاف میں مبتلا ہیں تو سواد اعظم
(بڑی جماعت) کی پیروی کرو،

(ابن ماجہ ،کتاب الفتن ، باب السواد الاعظم
یعنی اہلسنّت و جماعت وہی ہے جو رسول ﷲکی سنت پر عمل پیرا رہے،
بدمذہبوں کی گمراہیوں سے کنارہ کش رہے اور جماعت سے وابستہ رہے
اور جماعت سے مراد صحابہ کرام ہیں
جن کے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا
”ماانا علیہ واصحابی علیہ الیوم“۔

مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے خلیفہ مولانا نعیم الدین مرادآبادی اِس حدیث مبارکہ کی روشنی میں اپنے عہد کے حالات کے پیش نظر اہلسنّت وجماعت کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں

”سنّی وہ ہے جو ماانا علیہ واصحابی کا مصداق ہو،
یہ وہ لوگ ہیں جو خلفائے راشدین،
ائمہ دین،
مسلم مشائخ طریقت
اور متاخر علمائے کرام میں سے
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی،
ملک العلما حضرت بحرالعلوم فرنگی محلی،
حضرت مولانا فضل حق خیرآبادی،
حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونی،
حضرت مولانا مفتی ارشاد حسین رامپوری
اور حضرت مفتی شاہ احمد رضا خاں بریلوی کے مسلک پر ہوں“

(24) اِن حوالوں سے ہمارا مدعا پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ
دیوبندی اور وہابی تحریکوں سے قبل ہندوستانی علماء ومشائخ
اور مسلمان اپنے قدیم دینی مذہب
اور متوارث روایات پر پوری سختی کے ساتھ کار بندرہے ،
مولانا احمد رضا فاضل بریلوی کا تعلق بھی اِسی طبقے سے ہے۔

اِس وقت برصغیر میں امام احمد رضا خاں اور اُن کے مرید ہزاروں علماء و مشائخ کے عقائد ونظریات ہی اصل اہلسنّت وجماعت کے عقائد و نظریات ہیں،

یہی جماعت سواد اعظم بھی ہے
اور ارشاد رسول
”ماانا علیہ واصحابی“
کی حقیقی مصداق بھی ہے،
یہی وہ جماعت ہے
جو ہردور میں راہ حق پر گامزن رہی
اورآج بھی مسلمانوں کی عام اکثریت اِسی روش پر قائم ہے،
مگر آج اغیار کے جھوٹ وفریب اور مکرو دجل کی وجہ سے
اصل اہلسنّت وجماعت کی شناخت و تشخص اور نظریاتی بقاء سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے

٭٭٭٭٭
حوالہ جات:۔
(1) برعظیم پاک وہند کی ملت اسلامیہ،ص 53۔از ڈاکٹر اشیاق حسین قریشی

(2) برصغیر میںافتراق بین المسلمین کے اسباب،ص 23۔از،مبارک حسین مصباحی

(3) ردروافض ،ص9-10 بحوالہ ،برصغیر میںافتراق بین المسلمین کے اسباب،ص 84-85۔از،مبارک حسین مصباحی

(4) مولانا اسمعٰیل دہلوی اور تقویة الایمان،ص 9۔از،مولانا ابوالحسن زید احمد فاروقی

(5) انوار الباری جلد نمبر11،ص 107۔از ،مولویاحمدرضا بجنوری

(6) مولوی ندیم الواجدی ،افکار ملی جون 2001،ص22

(7) مقالات سرسید جلد نہم،ص 187،سر سید احمد خان)

(8) العلامہ فضل الحق خیرآبادی،ص187-188،المکتبة القادریہ لاہور۔از،ڈاکٹر قمرالنسائ

(9) تحریک ختم نبوت،ص19۔از،آغا شورش کاشمیری

(10) سعید الرحمن علوی ،سابق مدیر ہفت روزہ خدام الدین لاہور، بحوالہ ،برصغیر میںافتراق بین المسلمین کے اسباب،ص 55۔از،مبارک حسین مصباحی

(11) اقبال کے حضور ،ص 262۔از،نذیر نیازی

(12) اہلسنّت کی آواز 1998،ص248-249مطبوعہ مارہرہ شریف

(13) مولانا انوار اللہ فاروقی،مقالہ پی ایچ ڈی ص 138،ڈاکٹر کے محمد عبدالحمید اکبر،مطبوعہ مجلس اشاعت العلوم جامعہ نظامیہ حیدرآباد

(14) موج کوثر ،طبع ہفتم 1966،ص 70،از۔شیخ محمد اکرام

(15) البریلویة ،ص7،از۔احسان الٰہی ظہیر

(16) شمع توحید مطبوعہ سرگودھا،ص 40،از۔ثنااللہ امرتسری

(17) ترجمان وہابیہ،ص10،از۔نواب صدیق حسن بھوپالی

(18) البریلویة ،ص 7۔از،احسان الٰہی ظہیر

(19) تقدیم، دور حاضر میں بریلوی اہل سنت کا علامتی نشان،ص 10-11 مکتبہ حبیبیہ لاہور

(20) اشرف السوانح ،حصہ اوّل،ص 76۔از،اشرف علی تھانوی

(21) الاضافات الیومیہ جلد 5ص 67۔از ،اشرف علی تھانوی

(22) اشرف السوانح،حصہ اوّل،ص 45۔از،اشرف علی تھانوی

(23) رسالہ اہلسنّت والجماعت ،ص8،دارالمصنفین اعظم گڑھ

(24) الفقیہ امرتسر 21اگست 1945ص 9(تاریخ آل انڈیا سنی کانفرنس ،ص 43۔از، محمد جلال الدین قادری

مکمل تحریر >>

Wednesday, 27 December 2017

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلّم پر آئمہ ،محدثین علیہم الرّحمہ کی کتابیں

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلّم پر آئمہ ،محدثین علیہم الرّحمہ کی کتابیں

مکمل تحریر >>