Pages

Saturday, 14 October 2017

خاتم النبیین کا معنیٰ اور تحذیر النّاس کا جواب حصّہ سوم

خاتم النبیین کا معنیٰ اور تحذیر النّاس کا جواب حصّہ سوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
علمائے اہلسنت کی تصانیف سے ماخوذ یہ تیسرا مضمون قدرے تفصیل سے نذر قارئین ہے۔ اس مضمون میں مولوی قاسم نانوتوی کی کتاب تحذیر الناس کے متعلق انہی کے پیر بھائی مگر مسلک کے لحاظ سے جلیل القدر سنی بزرگ حضرت شیخ الاسلام علامہ انوار اللہ فاروقی کی شہرہء آفاق کتاب انوار احمدی سے اقتباس پیش کئے جائیں گے جو کہ تنبیہات کے عنوان کے تحت بیان کئے گئے ہیں۔

''مو لو ی محمد قا سم نانو تو ی د یو بند کے ا کا بر ین میں شا مل ہیں ،مو لو ی قا سم نا نو تو ی نے اپنی کتا ب تحذ یر النا س میں خاتم النبیین کے غلط معا نی پیش کر نے کی کو شش کر کے عقیدہ ختم نبوت میں ر خنہ اندا ز ی کی نا کا م کو شش کی ،جس کی علما ئے اہلسنت ہمیشہ مذمت فرما تے رہے ،ز یر نظر بحث میں بھی اس کے با طل عقید ہ کو د لا ئل کے سا تھ در کیا گیا ہے ''۔

عقید ہ خا تم النبیین پر حضرت مو لا نا محمد انوا ر اللہ رحمۃ اللہ علیہ مصنف کتا ب'' انوا ر احمد ی'' کے علمی د لا ئل ، ایمانی شوا ہد ،اور بصیرت افرو ز تنبیہا ت کی شا ندا ر بحث پڑھنے سے پہلے جا معہ نظا میہ حید ر آبا د کے محتر م مو لا نا عبدالحمید صا حب کا یہ حا شیہ پڑھیے تا کہ بحث کے بنیاد ی گو شو ں سے آپ پو ر ی طر ح با خبر ہو جا ئیں ۔شیخ الجا معہ تحریر فرماتے ہیں ! ''تحذ یر النا س نا می کتا ب میں خا تم النبیین کے مسئلے پر(مو لو ی محمد قا سم صا حب نانو تو ی بانی دار لعلو م دیوبند)نے ایک فلسفیانہ بحث فر ما ئی جس کا خلا صہ یہ ہے کہ خا تم النبیین ہو نا فضلیت کی با ت نہیں ۔کسی کا مقد م زمانے یا متا خر زمانے یعنی اگلے ز ما نے یا پچھلے ز ما نے میں پا یا جا نا فضلیت سے تعلق نہیں ر کھتا ۔ اور اگر با لفر ض آپ کے بعد کو ئی نبی آجا ئے تو آپ کی فضلیت پر اس کا کو ئی اثر مرتب نہیں ہو گا ۔کیو نکہ خا تم النبیین ہو نے میں امکا ن ذاتی کی نفی نہیں یعنی آپ کے بعد کسی نبی کا ہو نا ممکن ہے ۔

اس شبہ کا از الہ حضرت مو لا نا مر حو م نے اپنے اس مضمو ن میں نہا یت و ضا حت کے سا تھ کیا ہے کہ:
خا تم النبیین کا و صف آنحضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ؐ کا خا صہ ہے جو آپ کی ذا ت گرا می کے سا تھ مختص ہے کسی اور میں پا یا نہیں جا سکتا۔ خا تم النبیین کا لقب از ل ہی سے آپ کے لیے مقر ر ہے اس کا اطلا ق آپ کے سوا کسی اور پر نہیں ہو سکتا کیو نکہ خاتم النبیین کا مفہو م جز ئی حقیقی ہے ۔ جز ئی حقیقی وہ ہے جس کا اطلا ق ایک سے زائد پر عقلاً ممتنع ہے لہٰذا ایسی صو رت میں کسی اور خا تم النبیین کا ذا تی امکا ن با قی نہ ر ہا ۔

اسی مضمون کو حضرت نے تحذ یر النا س کے جوا ب میں پھیلا کر تحر یر فر ما یا ہے اور اس کی و ضا حت فر ما ئی ہے کہ جب اللہ جل شانہ نے آنحضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ؐ کو اپنے کلا م قد یم میں خا تم النبیین فر ما یا ہے تو حضور از ل ہی سے اس صفت خاص کے ساتھ متصف ہیں ۔ایسا کوئی ز ما نہ نہیں جو با ر ی تعا لیٰ کے علم اور کلا م پر مقد م ہو ۔اور اس میں کو ئی اور شخص اس و صف سے متصف ہو سکے ۔پس خا تم النبیین کی صفت مختصہ آنحضرت ؐ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی ذا ت گر امی میں منحصر ہے کسی دوسرے کا اس صفت کے سا تھ اتصا ف محا ل ہے ۔

مو لو ی محمد قا سم نانو تو ی کی فلسفیا نہ بحث بد عت ہے : اس کے بعد حضرت مو لا نا نے اس با ت پر تنبیہ فر ما ئی کہ جو لو گ کل بد عۃ ضلا لۃ پڑھ کر ہر نئی با ت کو خو اہ حسنہ ہو یا سیہ مستوجب دوزخ قر ار د یا کر تے ہیں وہ اس سوا ل کا جو اب د یں کہ کیا خا تم النبیین کی فلسفی بحث بد عت نہیں ہے ۔جو نہ قرآ ن میں ہے اور نہ اس کے با ر ے میں کو ئی حد یث وا رد ہے ،نہ قرو ن ثلا ثہ میں ،صحابہ ،تا بعین اور تبع تا بعین نے خا تم النبین پر ایسی کو ئی بحث کی ہے ؟

مو لو ی محمد قا سم نانو تو ی کی فلسفیا نہ بحث کا نتیجہ: مز ید برا ں اس بد عت قبیحہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ قا د یا نی نے اس فلسفیا نہ استد لا ل سے اپنی نبو ت پر د لیل پیش کی ہے اور شہاد ت میں مصنف تحذ یر النا س کا نا م پیش کیا ہے ۔اب یہ مد عی اور گوا ہ کے سا تھ اسی با ر گا ہ میں پیش ہو گا جس نے امت کو تعلیم د ی ہے کہ اپنی آوازوں کو نبی کی آوا ز پر بلند مت کر و۔بلند کر و گے تو تمہا ر ے سا ر ے اعما ل ضبط کر دئیے جا ئیں گے ۔( محمدعبدا لحمید شیخ جا معہ نظا میہ، انوا ر احمد ی ،ص٤۴۲٢)

مو لو ی محمد قا سم نانو تو ی کے انکا ر ختم نبو ت پر تنبیہا ت: اس حا شیہ کے بعد حضرت مصنف کی وہ ز لزلہ فگن تنبیہا ت ملا حظہ فر ما ئیں جو لفظ خا تم النبیین کے سلسلے میں تحذیر النا س کے مصنف کے خلاف انہو ں نے صا در فر ما ئی ہیں۔

پہلی تنبیہ:بعض لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ا گر چہ دو سر ے کا خا تم النبیین ہو نا محا ل و ممتنع ہے مگر یہ امتنا ع لغیرہ ہو گا نہ بالذات جس سے امکان ذا تی کی نفی نہیں ہو سکتی ۔سو اس کا جوا ب یہ ہے کہ و صف خا تم النبیین خا صہ آنحضر ت ؐ کا ہے جو دو سر ے پر صادق نہیں آسکتا۔ اور مو ضو علہ ،اس لقب کا ذات آنحضر ت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ؐہے کہ عند الاطلاق کو ئی دو سرا اس مفہو م میں شر یک نہیں ہو سکتا پس یہ مفہو م جز ئی حقیقی ہے۔(انوا ر احمد ی ،صفحہ٤۴۲٢)

دو سری تنبیہ:پھر جب عقل نے بہ تبعیت نقل خا تم النبیین کی صفت کے سا تھ ایک ذا ت کو متصف ما ن لیا تو اس کے نزدیک محا ل ہو گیا کہ کوئی دو سر ی ذا ت اس صفت کے سا تھ متصف ہو ۔اور بحسب منطوق لا ز م الو ثو ق ما یبد ل القول لدیابدالآبا د تک کے لیے یہ لقب مختص آنحضر ت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ؐہی کے لیے ٹھہرا تو جز ئیت اس مفہو م کی ابد الا ۤ با د تک کے لیے ہو گئی ۔کیو نکہ یہ لقب قرآن شر یف سے ثا بت ہے جو بلا شک قد یم ہے ۔(انوا ر احمد ی ،صفحہ۴۳٤٣)

تیسر ی تنبیہ:اب دیکھا جا ئے کہ مصدا ق اس صفت کا کب سے معین ہوا ۔سو ہما را د عو ی ٰہے کہ ابتد ائے عا لم امکا ں سے جس قسم کا بھی و جو د فر ض کیا جا ئے ہر و قت آنحضر ت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ؐاس صفت مختصہ کے سا تھ متصف ہیں ۔کیو نکہ حق تعا لیٰ اپنے کلا م قد یم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ؐکو خا تم النبیین فر ما چکا ۔ اب کو ن سا ایسا ز ما نہ نکل سکے گا ۔جو اللہ کے و صف علم و کلام پر مقد م ہو ؟(انوا ر احمد ی ،صفحہ٤۴۷٧)

چو تھی تنبیہ:غیر ت عشق محمد ی بڑ ی چیز ہے ۔جب ا سے جلا ل آتا ہے تو ایک ز لز لہ کی سی کیفیت پیدا ہو جا تی ہے۔ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن اسے اپنے محبو ب کی تنقیص ذرا بھی بر دا شت نہیں ۔مصنف کتا ب با و جو د یکہ بہت نر م طبیعت کے آد می ہیں لیکن اس مو قعہ پر ان کے قلم کا جلا ل د یکھنے کے قا بل ہے ۔کسی اور خا تم النبیین کے امکا ن کے سوا ل پر ان کے ایما ن کی غیر ت اس در جہ بے قابو ہو گئی ہے کہ سطر سطر سے لہو کی بو ند ٹپک ر ہی ہے ۔میدا ن و فا میں عشق کوسر بکف د یکھنا ہو تو یہ سطر یں پڑ ھیے۔مصنف کتا ب ،تحذ یر النا س کے مبا حث کا محا سبہ کر تے ہو ئے تحر یر فرما تے ہیں !''اب ہم ذ را ان صا حبو ں سے پو چھتے ہیں کہ اب وہ خیا لا ت کہا ں ہیں جو کل بد عۃ ضلا لۃ پڑھ پڑ ھ کر ایک عا لم کو دو ز خ میں لے جا ر ہے تھے ۔کیا اس قسم کی بحث فلسفی بھی کہیں قر آ ن و حد یث میں وا رد ہے؟ یا قر و ن ثلاثہ میں کسی نے کی تھی ۔پھر ایسی بد عت قبیحہ کے مر تکب ہو کر کیا استحقا ق پیدا کیا اور اس مسئلہ میں جب تک بحث ہو تی ر ہے گی اس کا گنا ہ کس کی گر د ن پرہو گا ـ''؟

د یکھئے حضرت جر یر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی رو ایت سے حد یث شر یف میں وا رد ہے کہ حضور انور ؐ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ار شا د فر ما یا ہے کہ! جو شخص اسلام میں کوئی برا طر یقہ نکا لے تو اس پر جتنے لو گ عمل کر تے ر ہیں گے سب کا گنا ہ اس کے ذمے ہو گا اور عمل کر نے وا لو ں کے گنا ہ میں کچھ کمی نہ ہو گی۔(رواہ مسلم )

لکھتے لکھتے اس مقام پر عشق و ایما ن کی غیر ت نقطہ انتہا کو پہنچ گئی ہے ۔غیظ میں ڈوبے ہو ئے کلما ت کا ذ را تیو ر ملا حظہ فرمائیے! تحریر فر ما تے ہیں !''بھلا جس طر ح حق تعا لیٰ کے نز د یک صر ف آنحضر ت ؐ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم خا تم النبیین ہیں و یسا ہی اگر آپ کے نزدیک بھی رہتے ہیں تو اس میں آپ کا کیا نقصا ن تھا ۔کیا اس میں بھی کو ئی شر ک و بد عت ر کھی تھی جو طرح طر ح کے شا خسا نے نکا لے گئے'' یہ تو بتا ئیے کہ ہما ر ے حضرت نے آپ کے حق میں ایسی کو ن سی بد سلو کی کی تھی جو اس کا بد لہ اس طر ح لیا گیا کہ فضیلت خاصہ میں بھی مسلم ہو نا مطلقًا نا گوا ر ہے ۔یہا ں تک کے جب د یکھا کہ خود حق تعا لیٰ فر ما ر ہا ہے کہ آپ سب نبیو ں کے خاتم ہیں تو کما ل تشو یش ہو ئی کہ فضیلت خاصہ ثا بت ہو ئی جا تی ہے ۔جب اس کے ابطا ل کا کو ئی ذ ریعہ د ین اسلا م میں نہ ملا تو فلا سفہ معاند ین کی طر ف ر جو ع کیا اور امکا ن ذا تی کی شمشیر دودم(دودھار ی تلوا ر) ان سے لے کر میدا ن میں آکھڑ ے ہوئے ۔

پا نچو یںتنبیہ:افسو س ہے اس د ھن میں یہ بھی نہ سو چا کہ معتقد ین سا دہ لو ح کو اس خاتم فر ضی کا انتظا ر کتنے کنو ئیں جھنکائے گا ۔ معتقد ین سادہ لو ح کے دلو ں پر اس تقر یر نا معقو ل کا ا تنا ا ثر تو ضرور ہوا کہ آنحضرت ؐ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خاتمیت میں کسی قدر شک پڑ گیا۔ چنا نچہ بعض اتبا ع نے اس بنا پر الف لا م خاتم النبیین سے یہ با ت بنا ئی کہ حضرت صرف ان نبیو ں کے خاتم ہیں جو گزر چکے ہیں جس کا مطلب یہ ہو ا کہ حضور کے بعد بھی انبیا ء پیدا ہو ں گے اور ان کا خا تم کو ئی اور ہو گا۔

معا ذاللہ اس تقر یر نے یہا ں تک پہنچا د یا کہ قر آن کا انکا ر ہو نے لگا ۔ذ را سو چئیے کہ حضو ر صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے خا تم النبیین ہو نے کے سلسلے میں یہ سا ر ے احتما لا ت حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے رو برو نکا لے جا تے تو حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر کس قد ر شا ق گز ر تا ۔

چھٹی تنبیہ:حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ؐ کے سا منے تو را ت کے مطا لعے کا ار اد ہ کیا تھا تو اس پر حضور کی حالت کس قد ر متغیر ہو گئی تھی کہ چہر ہ مبا ر ک سے غضب کے آثا ر پیدا تھے ۔اور با و جو د اس خلق عظیم کے ایسے جلیل القد ر صحا بی پر کتنا عتا ب فر ما یا تھا جس کا بیا ن نہیں ۔جو لو گ تقر ب و اخلا ص کے مذ اق سے وا قف ہیں و ہی اس کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ پھر یہ فر ما یا کہ اگر خود حضرت مو سیٰ میر ی نبوت کا ز ما نہ پا تے تو سو ائے میر ی اتبا ع کے ان کے لیے کو ئی چا رہ نہ ہو تا ۔

اب ہر شخص با آسا نی سمجھ سکتا ہے کہ جب حضر ت عمر رضی اللہ عنہ جیسے صحابی با اخلا ص کی صر ف اتنی حر کت اس قد ر ناگوار طبع غیور ہو ئی تو کسی ز ید و عمرو کی اس تقر یر سے جو خود خا تمیت محمد ی میں شک ڈا ل د یتی ہے ، حضور کو کیسی اذ یت پہنچتی ہو گی۔ کیا یہ ایذا ر سا نی خالی جا ئے گی؟ہر گز نہیں حق تعا لیٰ ار شا د فر ماتا ہے !اِنَّ الَّذِ یْنَ یُوْ ذُوْ نَ اللّٰہَ وَ رَسُوْ لَہ، لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فِیْ الدُّ نْیَا وَالْاٰخِرَ ۃِ وَاَعَدَّلَھُمْ عَذَابًامُھِیْنًا Oتر جمہ:جو لو گ ایذا د یتے ہیں اللہ کو اور اس کے اس کے ر سول کو ،لعنت کر ے گا اللہ ان پر د نیا میں بھی اور آخر ت میں بھی ۔اور تیا ر کر ر کھا ہے ان کے لیے ذلت کا عذاب ۔ (انوا ر احمد ی ،صفحہ٥۵۲٢)
الحمد للہ ہم نے تعصب سے ھٹ کر حقائق و دلائل کی روشنی میں علمی اور مہذب انداز میں تحذیر الناس میں خاتم النبیین کے کیئے گئے غلط معنیٰ کا رد پیش کیا ہے دعا اللہ تعالیٰ اسے ذریعہ نجات بنائے آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

مکمل تحریر >>

Wednesday, 11 October 2017

عقیدہ ختم نبوت کیا ہے اور قادیانی کافر کیوں ؟

عقیدہ ختم نبوت کیا ہے اور قادیانی کافر کیوں ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
الحمد للہ! ہم مسلمان ہیں، ختم نبوت پر ہمارا کامل ایمان ہے، عقیدئہ ختم نبوت ہر مسلمان کی پہچان ہے، حضور اکرم ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں، اس عقیدہ پر امت مسلمہ کے تمام افراد متفق ہیں، آپ ﷺ کے بعد جو بھی دعویٰ نبوت کرے، وہ کذاب ، دجال اورمفتری ہے۔ اس عقیدے پرسینکڑوں آیاتِ قرآنی اور احادیث مبارکہ دلالت کرتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب ، خاتم الکتب ، نبی کریمﷺ کا دین خاتم الادیان، نبی کریم ﷺ کی شریعت خاتم الشرائع، نبی کریم ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ آپ ﷺ کی آمد مبارکہ کے بعد نبوت و رسالت کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا، یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس جہا ں میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا ہے۔ اب آپﷺ کے بعد کو ئی نبی مبعوث نہیں ہو گا۔ ارشاد خداوندی ہے:۔
"محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ﷺہیں اور سب انبیا ء کے آخر میں (سلسلہ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے(الاحزاب33:40)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو خاتم النبین کہ کر یہ اعلان فرما دیاکہ آپﷺ ہی آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کسی کو نہ منصب رسالت پر فائز کیا جائے گااور نہ ہی منصب نبوت پر، خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا
ـمیں (قصر ِ نبوت کی) آخری اینٹ ہوں اور میر ے آنے کے بعد قصر ِ نبوت اپنی تکمیل کو پہنچ گیا اور میں آخری نبی اور رسول ہوں" (صحیح بخاری، باب خاتم النبین جلد :1،صفحہ : 501)
**ختم نبوت احادیث کی روشنی میں**
1۔ "اس میں کوئی شک نہیں کہ رسالت و نبوت منقطع ہو چکی ہے میر ے بعد اب نہ کوئی نبی ہے اور نہ رسول" (مسند امام احمد جلد 3صفحہ 267، ترمذی حدیث: 2272 ، ابن ابی شیبہ جلد 11، صفحہ 531)
2۔ "میر ی اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے حسین و جمیل گھر بنایا البتہ ایک کونے میں ایک اینٹ کہ جگہ چھوڑدی ، لوگ اس عمارت کے اردگرد گھومتے اور اس کی عمدگی پر اظہار حیرت کرتے رہے مگر یہ ضرور کہتے کہ اس اینٹ کہ جگہ کو پر کیوں نہ کر دیا گیا ؟ تو وہ اینٹ میں ہوں، اور میں خاتم النبین ہوں" (صحیح بخاری حدیث 3535، صحیح مسلم حدیث 5961)
3۔ "میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی ہوں کہ میر ے ذریعہ سے کفر کومٹایا جائے گا، میں حاشر ہوں کہ میر ے بعد حشر برپا ہوگا، میں عاقب ہوں ، عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو" (صحیح بخاری حدیث 3532، صحیح مسلم حدیث 2354، مستدرک حاکم حدیث 4238)
4۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تیس کے قریب جھوٹے فریبی پیدا نہ ہوں گے، ان میں سے ہر ایک رسالت کا دعویٰ کرے گا، حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں "(صحیح بخاری حدیث3609، صحیح مسلم حدیث 7342، ترمذی حدیث2218)
اسی طرح سینکڑوں احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے خاتم النبین ہونے کی وضاحت فرمائی۔
انکار ختم نبوت کا فتنہ نبی کریم ﷺ کے آخری ایام میں اور پھر وصال شریف کے فوراً بعد کھڑا ہو گیاتھا اور تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان نے تلوار کے ذریعے اس فتنے کو تہس نہس کر دیا۔ اس کے بعد آج تک امت میں کھڑے ہونے والے فتنوں میں سب سے زیادہ خطرناک فتنہ یہی قادیانیت کا فتنہ ہے ۔
سرزمین ہندوستان میں جب انگریزوں کے تاریک دورمیں کفر والحاد کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا اور اسلا م کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے سر توڑ کوششیں کی جارہی تھیں اس ملحدانہ دور میں اسلام پر کاری ضرب لگانے کے لیے جعلی نبوت کی بھیانک سازش تیار کی گئی اور انگریزوں کے اشارے پر ایک ضمیر فروش مرزا غلام احمد قادیانی نے۱۹۰۱ء میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا،

الحمد للہ! ہم مسلمان ہیں، ختم نبوت پر ہمارا کامل ایمان ہے، عقیدئہ ختم نبوت ہر مسلمان کی پہچان ہے، حضور اکرم ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں، اس عقیدہ پر امت مسلمہ کے تمام افراد متفق ہیں، آپ ﷺ کے بعد جو بھی دعویٰ نبوت کرے، وہ کذاب ، دجال اورمفتری ہے۔ اس عقیدے پرسینکڑوں آیاتِ قرآنی اور احادیث مبارکہ دلالت کرتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب ، خاتم الکتب ، نبی کریمﷺ کا دین خاتم الادیان، نبی کریم ﷺ کی شریعت خاتم الشرائع، نبی کریم ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ آپ ﷺ کی آمد مبارکہ کے بعد نبوت و رسالت کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا، یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس جہا ں میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا ہے۔ اب آپﷺ کے بعد کو ئی نبی مبعوث نہیں ہو گا۔ ارشاد خداوندی ہے:۔
"محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ﷺہیں اور سب انبیا ء کے آخر میں (سلسلہ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے(الاحزاب33:40)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو خاتم النبین کہ کر یہ اعلان فرما دیاکہ آپﷺ ہی آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کسی کو نہ منصب رسالت پر فائز کیا جائے گااور نہ ہی منصب نبوت پر، خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا
ـمیں (قصر ِ نبوت کی) آخری اینٹ ہوں اور میر ے آنے کے بعد قصر ِ نبوت اپنی تکمیل کو پہنچ گیا اور میں آخری نبی اور رسول ہوں" (صحیح بخاری، باب خاتم النبین جلد :1،صفحہ : 501)
**ختم نبوت احادیث کی روشنی میں**
1۔ "اس میں کوئی شک نہیں کہ رسالت و نبوت منقطع ہو چکی ہے میر ے بعد اب نہ کوئی نبی ہے اور نہ رسول" (مسند امام احمد جلد 3صفحہ 267، ترمذی حدیث: 2272 ، ابن ابی شیبہ جلد 11، صفحہ 531)
2۔ "میر ی اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے حسین و جمیل گھر بنایا البتہ ایک کونے میں ایک اینٹ کہ جگہ چھوڑدی ، لوگ اس عمارت کے اردگرد گھومتے اور اس کی عمدگی پر اظہار حیرت کرتے رہے مگر یہ ضرور کہتے کہ اس اینٹ کہ جگہ کو پر کیوں نہ کر دیا گیا ؟ تو وہ اینٹ میں ہوں، اور میں خاتم النبین ہوں" (صحیح بخاری حدیث 3535، صحیح مسلم حدیث 5961)
3۔ "میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی ہوں کہ میر ے ذریعہ سے کفر کومٹایا جائے گا، میں حاشر ہوں کہ میر ے بعد حشر برپا ہوگا، میں عاقب ہوں ، عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو" (صحیح بخاری حدیث 3532، صحیح مسلم حدیث 2354، مستدرک حاکم حدیث 4238)
4۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تیس کے قریب جھوٹے فریبی پیدا نہ ہوں گے، ان میں سے ہر ایک رسالت کا دعویٰ کرے گا، حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں "(صحیح بخاری حدیث3609، صحیح مسلم حدیث 7342، ترمذی حدیث2218)
اسی طرح سینکڑوں احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے خاتم النبین ہونے کی وضاحت فرمائی۔
انکار ختم نبوت کا فتنہ نبی کریم ﷺ کے آخری ایام میں اور پھر وصال شریف کے فوراً بعد کھڑا ہو گیاتھا اور تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان نے تلوار کے ذریعے اس فتنے کو تہس نہس کر دیا۔ اس کے بعد آج تک امت میں کھڑے ہونے والے فتنوں میں سب سے زیادہ خطرناک فتنہ یہی قادیانیت کا فتنہ ہے ۔
سرزمین ہندوستان میں جب انگریزوں کے تاریک دورمیں کفر والحاد کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا اور اسلا م کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے سر توڑ کوششیں کی جارہی تھیں اس ملحدانہ دور میں اسلام پر کاری ضرب لگانے کے لیے جعلی نبوت کی بھیانک سازش تیار کی گئی اور انگریزوں کے اشارے پر ایک ضمیر فروش مرزا غلام احمد قادیانی نے۱۹۰۱ء میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا،

مکمل تحریر >>

Monday, 9 October 2017

خاتم النبیین کا معنیٰ اور تحذیر النّاس کا جواب حصّہ اوّل

خاتم النبیین کا معنیٰ اور تحذیر النّاس کا جواب حصّہ اوّل
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تحذیرالناس کے مصنف قاسم نانوتوی ہیں جن کو بانی دارالعلوم دیوبند بھی کہا جاتا ہے ان کی اس کتاب کا تعارف کروانا نہایت ضروری اس لئے بھی ہے کہ اس کتاب میں خاتم النبیین کے ایک نیا اور بالکل الگ تھلگ معنی پیش کیا گیا جس کا پوری تاریخ اسلام میں کہیں وجود ہی نہیں ملتا، اس کتاب کی وجہ سے کافی فتنہ بڑھا اور یہاں تک کہ اسی کتاب کے معانی کی آڑ میں قادیان سے مرزا غلام احمد قادیانی نے دعوی نبوت کردیا۔

قصہ مختصر اب جانیئے کہ آخر اس کتاب میں ہے کیا

اول تو میں قارئین کی معلومات کے لئے تحذیر الناس کی دو جھلکیاں پیش کر دوں

آغاز کتاب میں ہی یہ لکھا ہے

سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیا سابق کے زمانے کے بعد اور آپ سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم یا تاخر زمانہ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں و لکن رسول اللہ و خاتم النبیین فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔

اس کے بعد صفحہ نمبر ۲۵ پر لکھتے ہیں

اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا

یہ تحذیرالناس کی وہ عبارات ہیں جن کے رد میں برصغیر کے علماء نے بکثرت کتب تحریر فرمائیں ان عبارات پر علماء عرب و عجم نے حکم صادر فرمایا ۔ جس کی تفصیل حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

آئیے اس کتاب اور اس کے مصنف کا حال قاسم نانوتوی کے مکتب فکر ہی کے حکیم الامت اشرف علی تھانوی سے ملاحظہ فرمائیں

چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ جس وقت سے مولانا قاسم نانوتوی نے تحذیرالناس لکھی ہے کسی نے ہندوستان بھر میں مولانا کے ساتھ موافقت نہیں کی بجز مولانا عبدالحئی صاحب کے بحوالہ الاضافات الیومیہ جلد چہارم ص ۵۸۰ زیر ملفوظ ۹۲۷

یہاں یہ بھی ذکر کرتا چلوں کہ مولانا عبدالحئی لکھنوی بھی کتاب ابطال اغلاط قاسمیہ کی اشاعت کے بعد اس مسئلہ میں قاسم نانوتوی کے موافق نہ رہے اور تکفیر کے قائل ہو گئے۔ حوالہ کے لئے قاسم نانوتوی ہی کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر خالد محمود کی کتاب مطالعہ بریلویت ج ۳ ص ۳۰۰

تحذیرالناس کی اشاعت کے بعد قاسم نانوتوی کی حالت کیا تھی آئیے ان ہی کے ایک ہم مکتب کی تحریر کردو کتاب ارواح ثلاثہ کی حکایت نمبر ۲۶۵ کا یہ حصہ ملاحظہ کریں

اب مولانا نانوتوی گارڈ رکھتے چھپ کر رہتے سفر کرتے تو نام تک بتانے کا حوصلہ نہ رکھتے ، خورشید حسین بتاتے یہ کتاب مولانا نانوتوی کے لئے مصیبت بن گئی تھی۔

ایک اور حوالہ قاسم العلوم از نورالحسن راشد کاندھلوی ص ۵۵۰ سے ملاحظہ کریں چنانچہ تحریر ہے کہ
پر خدا جانے ان کو کیا سوجھی جو اس کو چھاپ ڈالا جو یہ باتیں سننا پڑیں۔

اگر تحذیرا لناس کی عبارات کفریہ نہیں تو پھر اس میں تحریف کیوں کی گئی لیجئے بطور نمونہ ایک حوالہ پیش ہے اصل قدیم تحذیرالناس مطبوعہ کتب خانہ رحیمیہ دیوبند ضلع سہارنپور کے صفحہ نمبر ۲۵ پر اصل عبارت یوں ہے۔

اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔

اب مکتبہ راشد کمپنی دیوبند یو پی کی شائع کردہ کتاب کی عبارت ملاحظہ فرمائیں۔

اگر بالفرض آپ کے زمانہ میں یا بالفرض آپ کے بعد بھی کوئی نبی فرض کیا جائے تو بھی خاتمیت محمدی میں فرق نہ آئے گا۔

یعنی عبارت میں نبی پیدا ہو کی جگہ نبی فرض کیا جائے کر دیا اس کارستانی سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے ہم فکر علما ء کے نزدیک بھی یہ عبارت کفریہ تھی جبھی تو اس میں تحریف کر دی۔

اب آئیے ایک لرزہ خیز انکشاف کی طرف جو کہ انھی کہ حکیم الامت اشرف علی تھانوی نے کیا ، چنانچہ لکھتے ہیں کہ تحذیرالناس کی وجہ سے جب مولانا پر کفر کے فتوے لگے تو جواب نہیں دیا بلکہ یہ فرمایا کہ کافر سے مسلمان ہونے کا طریقہ بڑوں سے یہ سنا ہے کہ کلمہ پڑھنے سے کوئی مسلمان ہو جاتا ہے تو میں کلمہ پڑھتا ہوں۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
حوالہ کے لئے ملاحظہ کریں الاضافات الیومیہ جلد ۴ ص ۲۹۳ زیر ملفوظ ۴۵۷

احسن نانوتوی جن کا قاسم نانوتوی کے مکتب فکر میں بڑا مقام ہے انھوں نے بھی مفتی نقی علی خان قادری برکاتی کی طرف سے فتوی کفر صادر ہونے کے بعد مفتی نقی علی خان کے ایک ساتھی رحمت حسین کو یہ لکھا جناب مخدوم و مکرم بندہ دام مجدیم پس از سلام مسنون التماس ہے مگر مولوی صاحب نے براہ مسافر نوازی غلطی تو ثابت نہ کی اور نہ مجھ کو اس کی اطلاع دی بلکہ اول ہی کفر کا حکم شائع فرما دیا اور تما م بریلی میں لوگ اس طرح کہتے پھرے ۔ خیر میں نے خدا کے حوالے کیا اگر اس تحریر سے میں عنداللہ کافر ہوں تو توبہ کرتا ہوں خدا تعالیٰ قبول کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عاصی محمد احسن
حوالہ کے لئے کتاب مولانا محمد احسن نانوتوی ص ۸۸ اور تنبیہ الجہال ص ۱۶

اب آئیے ذرا ذکر ان حضرات کا بھی ہو جائے جن پر یہ الزام دیا جاتا ہے کہ انھوں نے اس کتاب کی تائید کی تھی چنانچہ ان میں سے اول مولانا عبد الحئی کا ذکر اوپر گزر چکا اب کچھ دیگر حضرات کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں۔

مولانا عبدالباری فرنگی محلی نے الطاری الداری کی اشاعت کے بعد اپنے سابقہ موقف سے توبہ کی اور امام احمد رضا کے فتوائے تکفیر سے اتفاق کر لیا ۔ بحوالہ اخبار ہمدم لکھنو ۲۰ مئی ۱۹۲۱

مولانا معین الدین اجمیری نے ۱۹۱۹ میں مفتی حامد رضا خان سے خط و کتابت میں فتویٰ کفر کی حمایت کی بحوالہ کتاب محدث اعظم ج ۱ ص ۱۱۱

اسی طرح پیر کرم شاہ صاحب نے غلط فہمی کا شکار ہو کر کتاب کی تعریف اولاً کردی بعد میں ماہنامہ ضیائے حرم شمارہ اکتوبر ۱۹۸۶ کے ص ۴۹ پر ندامت و افسوس کا اظہار کیا اور ص ۴۴ پر نانوتوی کی عبارت کو خاتم النبیین کے اجماعی مفہوم کے مخالف قرار دیا ۔ مزید ۱۹۷۷ میں سورۃ طلاق کی تفسیر کرتے ہوئے اثر ابن عباس کو موضوع اور من گھڑت قرار دیا بحوالہ تفسیر ضیاء القرآن ص ۳۰۸۲

پیر کرم شاہ صاحب کے موقف میں آنے والی تبدیلی کی تصدیق ڈاکٹر خالد محمود نے اپنی کتاب مطالعہ بریلویت ج ۱ ص ۴۱۳ پر بھی کی ہے چنانچہ انھوں نے لکھا کہ آخر کار پیر کرم شاہ صاحب نے سابقہ موقف چھوڑ کر دیوبندی حضرات کو تکفیر کا صدمہ پہنچایا ہے۔

حضرت خواجہ قمرالدین سیالوی کے حوالہ سے بھی یہ مغالطہ پیش کیا جاتا ہے کہ وہ بھی قاسم نانوتوی کی کتاب کے مؤید تھے حالانکہ اس کے حوالے سے آپ کے تکفیری فتویٰ موجود ہیں مزید کتاب دعوت فکر ص ۱۱۰ پر تحریر ہے کہ آپ کو تحذیرالناس پیش کی گئی تو آپ نے قاسم نانوتوی کی تکفیر کر دی۔(اس کے متعلق ہم فوز المقال کے اسکن پیش کر چکے ہیں ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مکمل تحریر >>