Pages

Saturday, 1 July 2017

احکام صدقہ اور صدقہ کیا ہے

احکام صدقہ اور صدقہ کیا ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اﷲ ورسول کی رضا کے لئے ہر نیک کام سرانجام دینا صدقہ ہے، لیکن اﷲ کی راہ میں مال خرچ کرنا صدقہ کے لئے زیادہ مشہور ومعروف ہو گیا ہے۔ صدقہ کی تین اقسام ہیں:

فرض: صاحب نصاب پر زکوٰۃ اور زمین میں فصل کی پیداوار پر عشر فرض ہیں۔
واجب: نذر، صدقہ فطر اور قربانی وغیرہ
نفل: عام خیرات وصدقات جو کوئی بھی مسلمان اﷲ و رسول کی رضا کی خاطر مال خرچ کرے یا کوئی بھی نیک کام کرے، نفل صدقات میں شامل ہے۔

فرض اور واجب صدقات کے مصارف قرآن وحدیث میں بیان کر دئیے گئے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اﷲِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ط فَرِيْضَةً مِّنَ اﷲِ ط وَاﷲُ عَلِيْمٌ حَکِيْمٌo
ترجمہ : بے شک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کیے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لیے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرضداروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔( سورہ توبة، 9: 60)

زکوٰۃ والے ہی مصارف عشر اور صدقہ فطر کے ہیں، لہٰذا جہاں جہاں پر زکوٰۃ کا مال خرچ ہو سکتا ہے وہاں پر عشر اور صدقات فطر کا مال بھی خرچ کر سکتے ہیں۔ صدقہ فطر کے بارے میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے:عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم زَکَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَی الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی وَالصَّغِيرِ وَالْکَبِيرِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّی قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَی الصَّلَاةِ.
ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فطرانے کی زکوٰۃ فرض فرمائی ہے کہ ایک صاع کھجوریں یا ایک صاع جو ہر غلام اور آزاد مرد او رعورت، چھوٹے اور بڑے مسلمان کی طرف سے اور حکم فرمایا کہ اسے لوگوں کے نماز عید کے لیے نکلنے سے پہلے ہی ادا کر دیا جائے۔
(صحيح بخاری ، 2: 547، رقم: 1432، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة)( صحيح مسلم،، 2: 678، رقم: 984، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي)

قربانی کے گوشت کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَيَذْکُرُوا اسْمَ اﷲِ فِيْٓ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰی مَارَزَقَهُمْ مِّنْم بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ ج فَکُلُوْا مِنْهَا وَاَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِيْرَo
ترجمہ : اور (قربانی کے) مقررہ دنوں کے اندر اﷲ نے جو مویشی چوپائے ان کو بخشے ہیں ان پر (ذبح کے وقت) اﷲ کے نام کا ذکر بھی کریں، پس تم اس میں سے خود (بھی) کھاؤ اور خستہ حال محتاج کو (بھی) کھلاؤ۔( سورہ حج، 22: 28)
اور مزید فرمایا:فَکُلُوْا مِنْهَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ط کَذٰلِکَ سَخَّرْنٰهَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَo
ترجمہ : تم خود (بھی) اس (قربانی کے گوشت) میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھے رہنے والوں کو اور سوال کرنے والے (محتاجوں) کو (بھی) کھلاؤ۔ اس طرح ہم نے انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم شکر بجا لاؤ۔( سورہ حج، 22: 36)

احادیث مبارکہ میں قربانی کے گوشت کے بارے میں ہے: حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تم میں سے قربانی کرے تو تیسرے روز کی صبح اس کے گھر میں قربانی کا گوشت نہیں ہونا چاہئے جب اگلا سال آیا تو لوگ عرض گزار ہوئے۔ یا رسول اﷲ! کیا ہم اسی طرح کریں جیسے پچھلے سال کیا تھا؟ ارشاد فرمایا:کُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا فَإِنَّ ذَلِکَ الْعَامَ کَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهَا.
ترجمہ : کھاؤ، کھلاؤ اور جمع بھی کرلو کیونکہ وہ سال لوگوں پر تنگی کا تھا تو میرا ارادہ ہوا کہ اس میں تم ایک دوسرے کی مدد کرو۔(صحيح بخاری ، 5: 2115، رقم: 5249)(صحيح مسلم ، 3: 1563، رقم: 1974)(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن واقد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین (دن) کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا، عبد اللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کا ذکر کیا، عمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا انہوں نے سچ کہا میں نے حضرت عائشہj کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں عید الاضحی کے موقع پر دیہات سے کچھ لوگ آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم تین دن تک گوشت کو جمع کرو اس کے بعد جو باقی بچے اس کو صدقہ کر دو، اس کے بعد صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگ اپنی قربانی (کی کھالوں) سے مشکیں بناتے تھے اور اس (قربانی) کی چربی رکھتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اب کیا ہوا؟ صحابہ کرامl عرض گزار ہوئے، آپ نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:إِنَّمَا نَهَيْتُکُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ فَکُلُوا وَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُوا.
ترجمہ : میں نے تم کو ان محتاجوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو اس وقت آئے تھے، اب قربانیوں کو کھاو، جمع کرو اور صدقہ کرو۔
لہٰذا عید الاضحی کے موقع پر قربانی کرنا ایسا صدقہ ہے جس کو امیر وغریب سب کھا سکتے ہیں۔ اسی طرح عقیقے کا گوشت بھی سب کھا سکتے ہیں۔ اگر کوئی نذر مانے اور وہ نذر شرعاً جائز ہو تو اُسی طرح پوری کرنا واجب ہوتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَلْيُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ. ترجمہ : اور اپنی نذریں پوری کریں۔ ( سورہ حج، 22: 29)

اگر کوئی غیر شرعی نذر مانے تو اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے لیکن اُس کے متبادل قسم کا کفارہ ادا کرنا ہو گا جو دس غرباء و مساکین کو کھانا کھلانا، کپڑے پہنانا یا پھر تین دن مسلسل روزے رکھنا ہے۔

تیسری قسم نفلی صدقات کی ہے جو فرض اور واجب صدقات کے علاوہ اﷲ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے اور ہر نیکی کے کام پر مشتمل ہے۔ انسانیت کی بھلائی کی خاطر کسی بھی مہم کو سرانجام دینے کے لئے چندہ جمع کروانا بھی صدقہ ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت عطاء بن ابی رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں یا عطائ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما پر گواہی دیتا ہوں۔أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم خَرَجَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ وَبِلَالٌ يَأْخُذُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهِ.
ترجمہ : حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف فرما ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیال فرمایا کہ عورتوں نے خطبہ نہیں سنا۔ لہٰذا انہیں نصیحت فرمائی اور صدقہ کا حکم دیا تو کوئی بالی اور کوئی انگوٹھی ڈالنے لگی جنہیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کے پلو میں لینے لگے۔ (صحيح بخاری ، 1: 49، رقم: 98)

مال خرچ کرنے کے علاوہ بھی ہر نیک عمل صدقہ ہے حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت سعید بن ابو بُردہ، ان کے والد ماجد، ان کے جد امجد سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ. فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اﷲِ! فَمَنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ: يَعْمَلُ بِيَدِهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ. قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ: يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ. قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ: فَلْيَعْمَلْ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيُمْسِکْ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا لَهُ صَدَقَةٌ.
ترجمہ : ہر مسلمان پر صدقہ کرنا لازم ہے۔ صحابہ کرامl عرض گزار ہوئے: یا نبی اللہ! جس میں اِستطاعت ہی نہ ہو (تو وہ کیا کرے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے ہاتھ سے کام کر کے خود نفع حاصل کرے اور صدقہ بھی دے۔ صحابہ کرامl عرض گزار ہوئے: اگر یہ نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مظلوم حاجت مند کی مدد کرے۔ صحابہ کرامl عرض گزار ہوئے: اگر یہ بھی نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیکی کے کام کرے اور برے کاموں سے رُکے تو اس کے لیے یہی صدقہ ہو گا۔ (صحيح بخاری ، 2: 524، رقم: 1376)(صحيح مسلم ، 2: 699، رقم: 1008)
اور ایک حدیث مبارکہ میں ہے:عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی الله عنه قَالَ، قَالَ رَسُولُ اﷲِ: تَبَسُّمُکَ فِي وَجْهِ أَخِيکَ لَکَ صَدَقَةٌ وَأَمْرُکَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيُکَ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَةٌ وَإِرْشَادُکَ الرَّجُلَ فِي أَرْضِ الضَّلَالِ لَکَ صَدَقَةٌ وَبَصَرُکَ لِلرَّجُلِ الرَّدِيئِ الْبَصَرِ لَکَ صَدَقَةٌ وَإِمَاطَتُکَ الْحَجَرَ وَالشَّوْکَةَ وَالْعَظْمَ عَنِ الطَّرِيقِ لَکَ صَدَقَةٌ وَإِفْرَاغُکَ مِنْ دَلْوِکَ فِي دَلْوِ أَخِیکَ لَکَ صَدَقَةٌ.
ترجمہ : حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے، تمہارا نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے، تمہارا کسی بھٹکے ہوئے کو راستہ بتانا بھی صدقہ ہے اور کسی اندھے کو راستہ دکھانا بھی صدقہ ہے، راستے سے پتھر، کانٹا اور ہڈی (وغیرہ) ہٹانا بھی صدقہ ہے، اور اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کے ڈول میں پانی ڈالنا بھی صدقہ ہے۔ (سنن ترمذی ، 4: 339، رقم: 1956، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي)(ابن حبان، الصحيح، 2: 287، رقم: 529، بيروت: مؤسسة الرسالة)

مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ صرف بکرا ذبح کر کے تقسیم کرنا ہی صدقہ نہیں ہے بلکہ ہر نیک عمل صدقہ ہے۔ لہٰذا جو مسلمان جس قدر استطاعت رکھتا ہو اُسی کے مطابق جو چیز میسر ہو وہی صدقہ کرے گا، بکرا ذبح کرنا لازم نہیں ہے۔ صدقہ کی ہوئی شئے غرباء ومساکین میں خود بھی تقسیم کر سکتے ہیں اور کسی رفاہی ادارے کے سپرد بھی کر سکتے ہیں ۔(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مکمل تحریر >>

عورتوں کا گھر میں نماز پڑھنا افضل

عورتوں کا گھر میں نماز پڑھنا افضل : جمعہ، جماعت اور عیدین کی نماز عورتوں پر واجب نہیں ہے، نبی کریم ﷺ کا بابرکت زمانہ چونکہ شر و فساد سے خالی تھا، ادھر عورتوں کو نبی کریم ﷺسے اَحکام سیکھنے کی ضرورت تھی، اس لئے عورتوں کو مساجد میں حاضری کی اجازت تھی، اور اس میں بھی یہ قیود تھیں کہ باپردہ جائیں، میلی کچیلی جائیں، زینت نہ لگائیں، اس کے باوجود عورتوں کو ترغیب دی جاتی تھی کہ وہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”لا تمنعوا نسائکم المساجد، وبیوتھن خیر لھن۔ترجمہ۔”اپنی عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکو، اور ان کے گھر ان کے لئے زیادہ بہتر ہیں۔“(رواہ ابوداوٴد، مشکوٰة ص:۹۶)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :نبی کریم اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا:صلٰوة المرأة فی بیتھا افضل من صلٰوتھا فی حجرتھا، وصلٰوتھا فی مخدعھا افضل من صلٰوتھا فی بیتھا۔ترجمہ:عورت کا اپنے کمرے میں نماز پڑھنا، اپنے گھر کی چاردیواری میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور اس کا پچھلے کمرے میں نماز پڑھنا اگلے کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔(رواہ ابوداوٴد، مشکوٰة ص:۹۶)

اُمّ الموٴمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ  عنہا کا ارشاد ہے:لو ادرک رسول الله صلی الله علیہ وسلم ما احدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بنی اسرائیل۔ترجمہ:عورتوں نے جو نئی رَوش اختراع کرلی ہے، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھ لیتے تو عورتوں کو مسجد سے روک دیتے، جس طرح بنواسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔(صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۲۰، صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۸۳، موٴطا امام مالک ص:۱۸۴)( بقیہ پوسٹ نمبر 3 میں پڑھیں )

عن أم حمید امرأة أبي حمید الساعدي عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال لھا: قد علمتُ أنّکِ تحبّین الصلاة معي، وصلاتُکِ في بیتکِ خیر من صلاتِکِ في حجرتِکِ، وصلاتُکِ في حجرتکِ خیر من صلاتِکِ في دارکِ، وصلاتکِ في دارکِ خیر من صلاتکِ في مسجد قومکِ، وصلاتکِ في مسجد قومِکِ خیر من صلاتکِ في مسجدي ۔
ترجمہ:حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بیوی حضرت ام حمید ساعدی رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ''اے اللہ کے رسول! میرا جی چاہتا ہے کہ آپ کے ساتھ (مسجد نبوی میں) نماز پڑھوں''آپ ﷺنے ارشاد فرمایا''مجھے معلوم ہے کہ تو میرے ساتھ نمازپڑھنا چاہتی ہے لیکن تیرا ایک گوشے میں نماز پڑھنا اپنے کمرے میں نماز پڑھنے سے افضل ہے اور تیرا کمرے میں نماز پڑھنا گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے افضل ہے اور تیرا گھر کے صحن میں نماز پڑھنا محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے اور تیرا محلہ کی مسجد میں نماز ادا کرنا میری مسجد میں نماز ادا کرنے سے افضل ہے راوی کہتے ہیں کہ حضرت ام حمید ساعدی رضی اللہ عنہا نے(اپنے گھر میں ایک چھوٹی سی مسجد بنانے کا) حکم دیا چنانچہ ان کے لئے گھر کے آخری حصہ میں مسجد بنائی گئی جسے تاریک رکھا گیا (یعنی اس میں روشندان وغیرہ نہ بناگیا) اور وہ ہمیشہ اس میں نماز پڑھتی رہیں یہاں تک کہ اللہ رب العالمین سے جا ملیں۔(رواہ الإمام أحمد وابن حبان، کذا في کنز العمال و صحیح الترغیب والترہیب حدیث:٣٣٨)(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے پر برپا ہونے والے فتنہ کے متعلق:یہ حديث صحيح ہے، اسے ترمذی نے اس لفظ کے ساتھہ ذکر کیا ہے:عورت پوشیدہ رکھنے کی چیز ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے جھانکتا ہے ۔
(سنن ترمذی، جلد 3، صفحہ 476، حدیث نمبر 1173)(صحیح ابنِ خزیمہ، جلد 3، صفحہ 93،94 حدیث نمبر 1687-1685)(صحیح ابنِ حبان، جلد 12، صفحہ 412،413، حدیث نمبر 5599-5598)(طبرانی نے اسے المعجم الکبیر کی جلد 8، صفحہ 101، حدیث نمبر 10115 )(المعجم الاوسط میں جلد 8، صفحہ 101 حدیث نمبر 8096)(مسند بزار، البحر الزخار، جلد 5، صفحہ 428-427، حدیث نمبر 2061،2062،2065 )(ابنِ عدی نے کتاب الکامل، جلد 3، صفحہ 423 سوید بن ابراہم کی سوانح عمری میں نقل کیا)

مختصر شرح حدیث:عورت جب تک پردہ میں رہے گی یہ اس کے لئے زیادہ بہتر اور حفاظت کا باعث ہے، اور وہ اپنے فتنے اور اپنے ذریعہ دوسروں کو فتنے میں ڈالنے سے دور رہے گی، جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اس میں راغب ہوتا ہے تو وہ اسے گمراہ کرتا ہے، اور اس کے ذریعہ لوگوں کو بھی گمراہ کرتا ہے، مگر اللہ جس پر رحم کردے، اس لئے کہ اسی نے شیطان کو اپنے اوپر غالب آنے کے اسباب میں سے ایک سبب دیا، اور وہ اس کا اپنے گھر سے نکلنا ہے، مسلمان عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے حق میں مشروع ہے کہ وہ اپنے گھر کو لازم پکڑے رہے، اور گھر سے کسی ضرورت کی بنا پر اپنے پورے جسم کا مکمل پردہ کرکے نکلے، اور زینت اور خوشبو استعمال نہ کرے، تاکہ اللہ سبحانہ و تعالی کے اس فرمان:وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۔(الاحزاب، آیت 33)(ترجمہ: ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺍﺭ ﺳﮯ ﺭﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﯾﻢ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﻛﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻛﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺎؤکا ﺍﻇﮩﺎﺭ ﻧﮧ ﻛﺮﻭ۔  پر عمل ہوجائے: اور الله سبحانه و تعالى كا فرمان:وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ۔(الاحزاب آیت 53)ترجمہ: ﺟﺐ ﺗﻢ ﻧﺒﯽ ﻛﯽ ﺑﯿﻮﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﻛﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻃﻠﺐ ﻛﺮﻭ ﺗﻮ ﭘﺮﺩﮮ ﻛﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﮯ ﻃﻠﺐ ﻛﺮﻭ۔  ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻞ ﭘﺎﻛﯿﺰﮔﯽ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ الآيۃ ۔ورنہ وہ فاسق و فاجر لوگوں کے جال میں پھنس جائیگی، بالخصوص بازاروں اور پارکوں اور مخلوط جگہوں میں، اور اس زمانے میں تو ایسی جگہیں بہت ہیں:مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنْ النِّسَاءِ.
(صحيح البخاري ومسلم)میں نے اپنے بعد مرد حضرات کے لئے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی بیویاں  نماز عید کےلیئے عید گا نہیں جاتی تھیں :(مصنف ابن ابی شیبہ جلد 4 صفحہ 234 حدیث نمبر  5845 )

حضرت عروہ بن زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنی  گھر کی کسی عورت کو نماز عید کےلیئے عید گاہ نہیں جانے دیتے تھے ۔(مصنف ابن ابی شیبہ جلد 4 صفحہ 234 حدیث نمبر  5846 )

حضرت قاسم بن حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنی عورتوں کے بارے میں شدید پابندی فرماتے انہیں عیدین کی نماز کے لیئے عید گاہ نہیں جانے دیتے تجھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد 4 صفحہ 234 حدیث نمبر  5847 )

جلیل القدر تابعی حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں  عورتوں کو عیدین کی نماز کےلیئے جانا مکروہ ہے ۔
(مصنف ابن ابی شیبہ جلد 4 صفحہ 234 حدیث نمبر  5844 )

امتدادِ زمانہ کی وجہ سے جب حالات بدل گئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام  رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے مشورہ سے عورتوں کا مردوں کے ساتھ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنا بند کر دیا۔(یعنی اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم  ہے)

غور کیا جائے تو آج کا زمانہ نہ تو سیدنا عمرِ فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے عہد مبارک کے جیسا ہے اور نہ ہی احکامِ شریعت کی پابندی و پاسداری اُس عہد مبارک جیسی ہے۔ سیدنا عمرِ فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عورت کے گھر سے باہر نکلنے کے فتنہ کو اپنے عہد مبارک میں ہی جان لیا سو عورتوں کی مسجدوں میں نماز پر پابندی لگا دی۔(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

ان احادیث مبارکہ سے صراحةً ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں کا نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں جماعتوں میں حاضر ہونا، محض رخصت واباحت کی بنا پر تھا، کسی تاکید یا فضیلت واستحباب کی بنا پر نہیں، اس رخصت واباحت کے باوجود نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور ارشاد، ان کے لیئے یہی تھا کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں، اور اسی کی ترغیب دیتے تھے اور فضیلت بیان فرماتے تھے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے، تو میں نماز عشاء قائم کرتا، اور اپنے جوانوں کو حکم دیتا کہ گھروں میں آگ لگادیں۔(رواہ أحمد، مشکواة)

غور کریں اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں کو جو جماعت عشاء میں حاضر نہ ہوتے تھے، آگ سے جلادینے کا ارادہ فرمایا مگر عورتوں، بچوں کا گھروں میں ہونا اس کی تکمیل سے مانع آیا، عورتوں کا اس حدیث میں ذکر فرمانا اس کی دلیل ہے کہ وہ جماعت میں حاضر ہونے کی مکلف نہ تھیں، اور جماعت ان کے ذمے موٴکد نہ تھی، ورنہ وہ بھی اسی جرم کی مجرم اوراسی سزا کی مستوجب ہوتیں۔

مندرجہ بالا احادیث میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عورت کی کوٹھری کے اندر کی نماز، دالان کی نماز سے افضل او ردالان کی نماز، صحن کی نماز سے افضل اور صحن کی نماز محلہ کی نماز سے افضل ہے، پس اس میں کیا شبہ رہا کہ عورتوں کو جماعت میں اورمسجد نبوی میں حاضر ہونا کسی استحباب وفضیلت کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ محض مباح تھا۔
کس قدر افسوس ہے ان لوگوں کے حال پر جو عورتوں کو مسجد میں بلاتے اور جماعتوں میں آنے کی ترغیب دیتے ہیں، اورغضب یہ کہ اسے سنت بتاتے ہیں اوراپنے اس فعل کو احیائے سنت سمجھتے ہیں۔اگر عورتوں کے لیے جماعتوں میں حاضر ہونا سنت ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسجد کی نماز سے مسجد محلہ کی نماز کو اور مسجد محلہ کی نماز سے گھر کی نماز کو افضل کیوں فرماتے۔ کیوں کہ اس صورت میں گھر میں تنہا نماز پڑھنا عورتوں کے لیئے ترک سنت ہوتا تو کیا ترک سنت میں ثواب زیادہ تھا، اور سنت پر عمل کرنے میں ثواب کم؟ اور کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو گھر میں نماز پڑھنے کی ترغیب دے کر گویا ترک سنت کی ترغیب دیتے تھے؟
شاید یہ لوگ اپنے آپ   کو نبی کریم صلی اللہ سے زیادہ بزرگ اور اپنی مسجدوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد شریف سے افضل سمجھتے ہیں۔ جن حدیثوں میں خاوندوں کو عورتوں کو مسجد میں جانے سے روکنے کی ممانعت ہے، ان حدیثوں سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ عورتوں کو مسجد میں جانا، مستحب یا سنت موٴکدہ ہے، عورتوں کو چونکہ آپ کے زمانہ میں مسجدوں میں جانا مباح تھا، تو اس اباحت ورخصت سے فائدہ اٹھانے کا حق انھیں حاصل تھا؛ اس لیے مردوں کو ان کے روکنے سے منع فرمایا کہ ان کا یہ حق زائل نہ ہو، دوسرے یہ کہ اس وقت عورتوں کے مسجد میں آنے کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ عورتوں کو تعلیم کی بہت حاجت تھی، اور اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ مسجد میں حاضر ہوکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال نماز کو دیکھیں اور سیکھیں۔ کوئی بات پوچھنی ہو تو خود پوچھ لیں۔

مختصر یہ کہ شریعت نہیں بدلی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو شریعت کے بدلنے کا اختیار نہیں، لیکن جن قیود و شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مساجد میں جانے کی اجازت دی، جب عورتوں نے ان قیود و شرائط کو ملحوظ نہیں رکھا تو اجازت بھی باقی نہیں رہے گی، اس بنا پر فقہائے اُمت نے، جو درحقیقت حکمائے اُمت ہیں، عورتوں کی مساجد میں حاضری کو مکروہ قرار دیا، گویا یہ چیز اپنی اصل کے اعتبار سے جائز ہے، مگر کسی عارضے کی وجہ سے ممنوع ہوگئی ہے۔اور اس کی مثال ایسی ہے کہ وبا کے زمانے میں  کوئی طبیب امرود کھانے سے منع کردے،کھانے سے منع کردے، اب اس کے یہ معنی نہیں کہ اس نے شریعت کے حلال و حرام کو تبدیل کردیا، بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک چیز جو جائز و حلال ہے، وہ ایک خاص موسم اور ماحول کے لحاظ سے مضرِ صحت ہے، اسی لئے اس سے منع کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ احکام شرع کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مکمل تحریر >>

کیا عید کے دن مصافحہ و معانقہ کرنا بدعت ہے دیوبندی فتوے کا جواب

کیا عید کے دن مصافحہ و معانقہ کرنا بدعت ہے دیوبندی فتوے کا جواب
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کچھ لوگ اسلام کے نام پر اسلامی تعلیمات کو ہی بدعت اور شرک کا نام دے کر مسلمانوں کو اصل اسلام سے دور لے جانے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں جبکہ یہ ان کی شیطانی سوچ ہے۔ شاہد وہ چند لوگوں کو تو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں لیکن اللہ تعالی اپنے محبوب کی سنتوں کو امت کے سواد اعظم کے ذریعے قیامت تک زندہ رکھے گا۔
آئیے اب معانقہ (گلے ملنا) کے بارے میں جانتے ہیں کہ یہ بدعت ہے یا سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے؟
احادیث درج ذیل ہیں:
1۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے حجرہ میں تشریف فرما تھے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برہنہ (قمیض کے بغیر) کپڑے کھنچتے ہوئے ان کی طرف بڑھے۔ اللہ کی قسم میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے پہلے یا بعد کبھی برہنہ نہیں دیکھا۔
فاعتنقه وقبله.
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں گلے لگایا اور ان کا بوسہ لیا۔
امام ترمذی، السنن، 5 : 72، باب : ما جاء فی المعانقه والقبله، رقم : 2732، دارالفکر، بيروت
2۔ حضرت ایوب بن بشیر، عنزہ قبیلہ کے ایک شخص نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا جب وہ ملک شام سے رخصت ہونے لگے کہ میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثوں میں سے ایک حدیث پوچھنا چاہتا ہوں۔ فرمایا کہ اگر کوئی راز نہ ہوا تو میں تمہیں بتا دوں گا۔ میں عرض گزار ہوا کہ وہ راز نہیں ہے۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاقات کے وقت آپ حضرات سے مصافحہ کیا کرتے تھے؟ فرمایا کہ میں جب بھی ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے مصافحہ فرمایا اور ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلوایا لیکن میں گھر میں نہیں تھا۔ جب میں آیا تو مجھے بتایا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یاد فرمایا ہے۔ پس میں حاضر بارگاہ ہوا اور آپ اپنے تخت پر جلوہ افروز تھے۔
فالتز منی، فکانت تلک اجود واجود
تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے گلے لگا لیا۔ یہ منظر نہایت عمدہ تھا، نہایت عمدہ تھا۔
ابوداؤد، السنن، 4 : 395، باب فی المعانقة، رقم : 5214، دارالفکر بيروت.
3۔ شعبی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
تلقی جعفر بن ابو طالب فالتزمه وقبل ما بين عينيه.
حضرت جعفر بن ابو طالب سے ملے تو ان سے معانقہ فرمایا اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیاں بوسہ دیا۔
ابو داؤد، السنن، 4 : 397، باب فی قبلة ما بين العينين، رقم : 5220.
مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوا مصافحہ اور معانقہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے۔ جو اس کو بدعت کہے وہ لوگوں کو سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور کر رہا ہے۔ اگر معانقہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے تو پھر عید کے دن یا عام دنوں میں اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مکمل تحریر >>