Pages

Thursday, 1 June 2017

حضرت علی کرّم اللہ وجہہ الکریم کو مشکل کشاء کہنا

حضرت علی کرّم اللہ وجہہ الکریم کو مشکل کشاء کہنا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہر مسلمان کو مصیبت زدہ انسانوں کا مشکل کشا اور حاجت روا ہونا چاہیے بھوکے کو کھانا کھلانا، پیاسے کو پانی پلانا، بیمار کو دوا دینا، ننگے کو لباس دینا، بے گھر کو گھر مہیا کرنا، غریب کی ضرورت پوری کرنا، غریب، یتیم، مسکین، بچوں کی ضروریات پوری کرنا، ان کی اچھی تعلیم و تربیت کرنا، ان کی خوراک، پوشاک، تعلیم کا بندوبست کرنا، زخمی کو ہسپتال پہنچانا، حادثات، سیلاب، وباؤں، زلزلوں اور طوفانوں کے متاثرین کی مدد کرنا حسب توفیق ہر ایک پر فرض ہے۔ جب ہر مسلمان کو مشکل کشا اور حسب توفیق حاجت روا ہونا لازم ہے تو مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مشکل کشا کہنا کیونکر غلط ہوگیا؟ جب ہم کسی بھی دنیا دار سے کچھ طلب کرتے ہیں تو معترضین اسے غلط نہیں کہتے مگر جونہی کوئی شخص اللہ کے نیک اور صالح بندوں سے مجازی طور پر مدد طلب کرتا ہے استعانت کرتا ہے تو اسے شرک قرار دیا جاتا ہے۔ یہ سوچ جہالت پر مبنی ہے۔

قرآن پاک کی روشنی میں : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَا نَقَمُواْ إِلاَّ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ ۔ ( التوبة 9 : 74 )
ترجمہ :۔ اور کسی چیز کو ناپسند نہ کر سکے سوائے اس کے کہ انہیں اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے اپنے فضل سے غنی کر دیا تھا۔‘‘

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوْاْ مَا آتَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّهُ سَيُؤْتِينَا اللّهُ مِن فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللّهِ رَاغِبُونَo(التوبة 9 : 59)
ترجمہ : ۔ اور کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ لوگ اس پر راضی ہو جاتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے عطا فرمایا تھا اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے۔ عنقریب ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اس کا رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید) عطا فرمائے گا۔ بے شک ہم اللہ ہی کی طرف راغب ہیں (اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کا واسطہ اور وسیلہ ہے، اس کا دینا بھی اللہ ہی کا دینا ہے۔ اگر یہ عقیدہ رکھتے اور طعنہ زنی نہ کرتے تو یہ بہتر ہوتاo)‘‘(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ تَعَاوَنُواْ عَلَى الْـبِـرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۔ (المائدة 5 : 2)
ترجمہ : ۔ نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔

یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اچھے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور برے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔

من قضی لأحد من أمتی حاجة يريد أن يسره بها فقد سرني ومن سرني فقد سر اﷲ ومن سر اﷲ أدخله اﷲ الجنة.(ديلمی، مسند الفردوس، 3 : 546، رقم : 5702)
ترجمہ : ۔ جس کسی نے میرے کسی امتی کو خوش کرنے کے لیے اس کی حاجت پوری کی اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے اللہ کو خوش کیا اور جس نے اللہ تعالیٰ کو خوش کیا اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔

حضرت انس ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :من أغاث ملهوفا کتب اﷲ له ثلاثا وسبعين مغفرة واحدة فيها صلاح أمره کله وثنتان وسبعون له درجات يوم القيمه ۔ (بيهقی، شعب الايمان، 6 : 120، رقم : 7670)
’’جس نے کسی مظلوم و بے بس بیچارے کی فریادرسی کی اللہ تعالیٰ اس کے لیے 73 مغفرتیں لکھ دیتا ہے جن میں سے ایک کے عوض اس کے سارے معاملات درست ہوجائیں اور بہتر درجات اسے قیامت کے دن ملیں گے۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے۔أنه إذا أتاه السائل أوصاحب الحاجة قال اشفعوا فلتؤجرو اوليقض اﷲ علی لسان رسوله ماشاء ۔ (بخاری، الصحيح، 5 : 2243، رقم : 5681)
ترجمہ : ۔ جب رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں جب کوئی منگتا یا حاجت مند آتا آپ فرماتے اس کی سفارش کرو اور ثواب حاصل کرو اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی زبان پر جو چاہے فیصلہ کرے۔

حضرت فراس بن غنم سے روایت ہے : أسال يا رسول اﷲ، فقال النبی لا وإن کنت لا بد فسئل الصالحين ۔ ( بيهقی، شعب الايمان، 3 : 270، رقم : 3512 )
ترجمہ : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی یا رسول اللہ میں کسی سے سوال کرو ں ؟ فرمایا نہیں۔ اگر مانگے بغیر چارہ نہ ہو تو نیک لوگوں سے مانگ۔

پس اسلام دوسروں کی مدد کا حکم دیتا ہے دوسروں کی حاجت روائی کرنا ہر مسلمان کا مشن بتاتا ہے اور اس پر اجر عظیم اور ثواب دارین کا وعدہ بھی کرتا ہے، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اپنے صحابہ کو نیک اور صالح افراد سے مانگنے کی ترغیب دیتے۔

’الفتاح‘ اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفت ہے جیسے عالم، علیم، حلیم، روف، رحیم، سمیع، بصیر، شہید، حاکم، حکم، شکور، مالک، ملک، مولی، ولی، نور، ھادی، ذارع وغیرہ وغیرہ یہ تمام اسماء حسنی قرآن پاک میں ذات باری تعالیٰ کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ اس حقیقت میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔

اب ذرا دیکھیے یہی اسماء حسنی بندوں کے لیے بھی قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں مثلاً ۔ الْعَالِمُوْنَ ۔(العنکبوت، 29 : 43)’’علم والے بندے‘‘ ۔ آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا ۔ (يوسف 12 : 22)’’ہم نے اسے حکمِ (نبوت) اور علم (تعبیر)عطا فرمایا‘‘ ۔ قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّـکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی ۔ (طه 20 : 68) ’’ہم نے (موسیٰ علیہ السلام سے) فرمایا : خوف مت کرو بے شک تم ہی غالب رہوگے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام قرآن کریم میں متعدد نام جہاں اپنے لیے استعمال فرمائے ہیں بعینہ وہی اسمائے وصفی اپنے بندوں کے لیے بھی استعمال فرمائے ہیں اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر شرک کا دشمن اور توحید کا حامی کون ہو سکتا ہے ؟ ایسا کرنا ہرگز ہرگز شرک نہیں شرک برائی ہے اور اللہ تعالیٰ برائی کا نہ مرتکب ہو سکتا ہے نہ اپنے بندوں کو اس کی تعلیم دے سکتا ہے۔ إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَo(النحل، 16 : 90)
’’بے شک اللہ (ہر ایک کے ساتھ) عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے اور قرابت داروں کو دیتے رہنے کا اور بے حیائی اور برے کاموں اور سرکشی و نافرمانی سے منع فرماتا ہے، وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم خوب یاد رکھوo‘‘

اللہ تعالیٰ حاکم ہے حاکموں کا حاکم ہے مگر اس نے اپنے بندوں کو بھی حکومت دی ہے وہ بھی حاکم ہیں بس اتنا فرق ملحوظ رکھیں کہ اللہ اپنی شان کے مطابق حاکم ہے بالذات و بالاستقلال۔ بندے اس کی عطا سے اور اس کے بنانے سے حاکم ہیں بندوں کے تمام کمالات اس کی عطا اور خیرات ہے جبکہ اس کے تمام کمالات ذاتی ہیں کسی کی عطا سے نہیں۔(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مولا کا مطلب : اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا : فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌo(التحريم 66 : 4)
’’سو بے شک اللہ ہی اُن کا دوست و مددگار ہے، اور جبریل اور صالح مومنین بھی اور اس کے بعد (سارے) فرشتے بھی (اُن کے) مددگار ہیں۔‘‘

یہاں پر مولا مدد گار کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدد گار (مولا ) کون کون ہیں : اللہ تعالیٰ ، جبریل علیہ السلام ، نیک مسلمان ، تمام فرشتے ۔

یہ کہنا جہالت ہے کہ اللہ ہی مولا ہے جب صالح مومنین نبی پاک کے مدد گار ہیں جبریل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدد گار ہیں تو یہ نیک مسلمان اور جبریل علیہ السلام اللہ تو نہیں اہل ایمان ہیں مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں : مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللّهِ. قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اﷲِ ۔
اس نے کہا: اﷲ کی طرف کون لوگ میرے مددگار ہیں؟ تو اس کے مخلص ساتھیوں نے عرض کیا: ہم اﷲ (کے دین) کے مددگار ہیں،(آل عمران، 3 : 52)
اسی طرح النھایہ میں لفظ مولا کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں۔
رب (پرورش کرنیوالا) ، مالک۔ سردار ، انعام کرنیوالا ، آزاد کرنیوالا ، مدد گار ، محبت کرنیوالا ، تابع (پیروی کرنے والا ، پڑوسی ،ابن العم (چچا زاد ، حلیف (دوستی کا معاہدہ کرنیوالا ) ، عقید (معاہدہ کرنے والا ) ، صھر (داماد، سسر ) ، غلام ، آزاد شدہ غلام ، جس پر انعام ہوا ۔
جو کسی چیز کا مختار ہو۔ کسی کام کا ذمہ دار ہو۔ اسے مولا اور ولی کہا جاتا ہے۔
جس کے ہاتھ پر کوئی اسلام قبول کرے وہ اس کا مولا ہے یعنی اس کا وارث ہوگا وغیرہ۔ (ابن اثير، النهايه، 5 : 228)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہی نہیں ہر مسلمان کو مشکل کشا ہونا فرض ہے تاکہ بوقت ضرورت وہ مظلوم، مجبور، مسکین، مسافر، بیوہ، یتیم، فقیر کی حسب توفیق مشکل حل کرسکے کیا بھوکے پیاسے کو کھانا پانی نہ دو گے اور اسے بھوک و پیاس سے یہ کہہ کے مار و گے کہ کھلانے پلانے والا وہی رزاق ہے اسی سے مانگو۔ هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِo(الشعراء، 26 : 79)’’جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے‘‘

کیا مریض کی عیادت نہ کرو گے۔ ہسپتال نہ پہنچاؤگے دوا لے کر نہ دو گے یہ کہہ کر کہ :وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِo(الشعراء، 26 : 80)’’جب بیمار پڑتا ہوں وہی شفا دیتا ہے۔‘‘

مومن حاجت روا مشکل کشا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : من قضی لأحد من أمتي حاجة يريد أن يسره بها فقد سرني ومن سرني فقد سر اﷲ ومن سر اﷲ أدخله اﷲ الجنه ۔ (ديلمی، مسند الفردوس بمأثور الخطاب، 3 : 546، رقم : 5702)
’’ جو میرے کسی امتی کو خوش کرنے کے لیے اس کی حاجت پوری کرے اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے اللہ تعالیٰ کو خوش کیا اور جس نے اللہ تعالیٰ کو خوش کیا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا ‘‘

پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : ’’من أغاث ملهوفا کتب اﷲ له ثلاثا و سبعين مغفرة واحدة فيها صلاح أمره کله وثنتان وسبعون له درجات يوم القيمة‘‘(بيهقی، شعب الايمان، 6 : 120، رقم : 7670)
’’جس نے کسی بیچارے مظلوم کی فریاد رسی کی اللہ پاک اس کے لیے تہتر بخششیں لکھتا ہے جن میں ایک کے سبب اس کے تمام معاملات سدھر جاتے ہیں اور بہتر درجے اس کو قیامت کے دن ملیں گے۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : ’’من نفس عن مؤمن کربة من کرب الدنيا نفس اﷲ عنه کربة من کرب يوم القيمة ومن يسر علی معسر يسر اﷲ عليه فی الدنيا والآخرة ومن ستر مسلما ستره اﷲ فی الدنيا والآخرة واﷲ فی عون العبد ما کان العبد في عون أخيه و من سلک طريقا يلتمس فيه علما سهل اﷲ له به طريقا إلی الجنة وما اجتمع قوم في بيت من بيوت اﷲ يتلون کتاب اﷲ ويتدا رسونه بينهم إلا نزلت عليهم السکينة وغشيتهم الرحمة وحفتهم الملآئکة و ذکر هم اﷲ فيمن عنده ومن بطأ به عمله لم يسرع به نسبه.‘‘(مسلم، الصحيح، 4 : 2074، رقم : 2699)
’’جس نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیف دور کی اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی مشکل حل فرمائے گا اور جس نے تنگ دست پر آسانی کی اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی ستر پوشی فرمائے گا اور اللہ پاک اس وقت تک بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرنے میں مصروف رہتا ہے اور جو علم حاصل کرنے کے رستے پر چل نکلتا ہے اللہ پاک اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے اور جب بھی کوئی قوم اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھنے پڑھانے کے لیے جمع ہوتی ہے ان پر سکینہ (سکون و راحت) نازل ہوتی ہے رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے فرشتے اس پر چھا جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے حضور حاضر فرشتوں کی مجلس میں ان بندوں کا فخریہ انداز میں ذکر فرماتا ہے اور جس کو عمل نے بلند تر مقام و مرتبہ پر پہنچنے میں ڈھیلا و موخر رکھا اسے نام و نسب جلد نہیں پہنچا سکتا۔(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : ’’من ولا ه اﷲ شيأ من أمر المسلمين فاحتجب دون حاجتهم وخلتهم وفقرهم احتجب اﷲ دون حاجته و خلته و فقره فجعل معاوية رجلا علی حوائج الناس‘‘(ابوداؤد، السنن، 3 : 135، رقم : 2948)
’’اللہ تعالیٰ نے جس آدمی کو مسلمانوں کے کسی عمل کا ولی (ذمہ دار، عہدیدار) بنایا اور اس نے ان کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے آگے پردے لٹکادئیے (اور حاجت مندوں کو اپنے تک پہنچنے نہ دیا) اللہ پاک اس کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے آگے پردے لٹکادے گا (اس کی مدد نہیں فرمائے گا) امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی حاجت روائی کے لیے ایک شخص مقر ر فرمایا تھا۔‘‘

نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’من ولي من امر الناس شيا ثم اغلق بابه دون المسکين اوالمظلوم أوذی الحاجة اغلق اﷲ دونه أبواب رحمته عند حاجته و فقره أفقر ما يکون إليها‘‘(احمد بن حنبل، المسند، 3 : 441، رقم : 15689)
’’جو لوگوں کے کسی درجہ کے معاملات کا حاکم بنایا گیا پھر اپنا دروازہ مسلمانوں کے آگے یا مظلوم یا حاجت مند کے آگے بند رکھا اللہ تعالیٰ اس کے سامنے اس کی حاجت اور طویل محتاجی کے وقت (قیامت کو) اپنی رحمت کے دروازے بند کردے گا۔‘‘

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ عامل بناتے وقت عامل (حاکم) پر شرط رکھتے کہ

1 : عمدہ ترکی نسل کے گھوڑے پر سواری نہیں کرے گا۔

2 : چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائے گا۔

3 : باریک کپڑا نہیں پہنے گا۔

(ولا تغلقوا أبوابکم دون حوائج الناس فإن فعلتم شيئا من ذلک فقد حلت بکم العقوبة ثم يشيعهم ۔ (بيهقی، شعب الايمان، 6 : 24، رقم : 7394)
’’لوگوں کی حاجت برداری کے آگے اپنے دروازے بند نہ کرنا اگر تم نے ان میں سے کوئی کام کیا تو سزا پاؤ گے پھر ان کے ہمراہ چل کر انہیں رخصت فرماتے۔‘‘
خلاصہ کلام : اللہ تعالیٰ کے اکثر صفاتی نام در حقیقت اس کی صفات ہیں جو اس کی ذاتی مستقل اور دائمی ہیں کسی کی عطا کردہ نہیں۔ حادث نہیں۔ عارضی نہیں وقتی نہیں مگر وہ ذات با برکات کریم ہے جواد ہے، سخی ہے، عطا کرنے والی ہے اسی نے اپنے بندوں کو سننے دیکھنے، کرم، سخاوت، عطا، علم، قدرت اور حسن وغیرہ صفات عالیہ کا صدقہ عطا فرمایا ہے لہذا بندے صاحبان قدرت، صاحبان سمع و بصر، صاحبان کرم و سخاوت، عالم، حلیم، حکیم، علیم، رؤف، (شفیق) ہیں مگر سب کچھ اس کی عطاسے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات مستقل اور ذاتی ہیں مخلوق کی صفات عارضی اور عطائی ہیں تمام صفات میں یہی اصول پیش رہے بادشاہی حکم (حاکم) گواہ وغیرہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ اللہ ہے نبی ولی اور دیگر مخلوق اپنی حیثیت رکھتی ہیں ایک کی جگہ دوسرے کو بٹھانا ظلم ہے۔ بندہ کو بندہ کی حیثیت میں مانو اللہ تعالیٰ کو اس کی حیثیت و شان کے مطابق۔(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

مکمل تحریر >>

مزارات اور قبور پر عمارت بنانے پر اعتراضات کے جوابات

مزارات اور قبور پر عمارت بنانے پر اعتراضات کے جوابات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مخالفین کے اس مسئلہ پر صرف دو ہی اعتراض ہیں اول تو یہ کہ مشکوٰۃ باب الدفن میں بروایت مسلم ہے۔
نھی رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم ان یجصص القبور وان یبنی علیہ وان یقعد علیہ
"حضور علیہ السلام نے منع فرمایا اس سے کہ قبروں پر گچ کی جاوے اور اس سے کہ اس پر عمارت بنائی جاوے اور اس سے کہ اس پر بیٹھا جاوے۔"
نیز عام فقہاء فرماتے ہیں کہ یکرۃ البناء علی القبور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تین کام حرام ہیں قبر کو پختہ بنانا۔ قبر پر عمارت بنانا، اور قبر پر مجاور بن کر بیٹھنا۔
جواب قبر کو پختہ کرنے سے منع ہونے کی تین صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ قبر کا اندرونی حصہ جو کہ میت کی طرف ہے اس کو پختہ کیا جاوے۔ اسی لیے حدیث میں فرمایا گیا۔ ان یجصص القبور یہ نہ فرمایا گیا۔ علی القبور دوسرے یہ کہ عامۃ المسلمین کی قبور پختہ کی جاویں کیونکہ یہ بے فائدہ ہے تو معنٰی یہ ہوئے کہ ہر قطر کو پختہ بنانے سے منع فرمایا۔ تیسرے یہ کہ قبر کی سجاوٹ، تکلف یا فخر کے لیے پختہ کیا۔ یہ تینوں صورتیں منع ہیں اور اگر نشان باقی رکھنے کے لیے کسی ولی اللہ کی قبر پختہ کی جاوے تو جائز ہے۔ کیونکہ حضور علیہ السلام نے عثمان ابن مغلعون کی قبر پختہ پتھر کی بنائی۔ جیسا کہ پہلے باب میں عرض کیا گیا۔ لمعات میں اسی ان یخصص القبور کے ماتحت ہے لما فیہ من الزینۃ والتکلف کیونکہ اس میں محض سجاوٹ اور تکلف ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ اگر اس لیے نہ ہو تو جائز ہے ان ینی علیہ یعنی قبر پر عمارت بنانا منع فرمایا۔ اس کے بھی چند معنٰی ہیں اولاً تو یہ کہ خود قبر پر عمارت بنائی جاوے اس طرح کہ قیر دیوار میں شامل ہو جاوے۔
چنانچہ شامی باب الدفن میں ہے۔
وتکرہ الزیادۃ علیہ لما فی المسلم نھی رسول اللہ علیہ السلام ان یجصص القبر وان یبنی علیہ
قبر کو ایک ہاتھ سے اونچا کرنا منع ہے کیونکہ مسلم میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے قبر کو پختہ کرنے اور اس پر کچھ بنانے سے منع فرمایا۔"
درمختار اسی باب میں ہے
وتکرہ الزیادۃ علیہ من التراب لانہ بمنزلۃ البناء [قبر پر مٹی زیادہ کرنا منع ہے کیونکہ یہ عمارت بنانے کی درجہ میں ہے- اس سے معلوم ہوا کہ قبر پر بنانا یہ ہے کہ قبر دیوار میں آجاوے اور گنبد نانا یہ حول القبر یعنی قبر کے اردگرد بنانا ہے یہ ممنوع نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ حکم عامۃ المسلمین کے لیے قبروں کے لیے ہے۔ تیسرے یہ کہ اس بنانے کی تفسیر خود دوسری حدیث نے کردی جوکہ مشکوٰۃ باب المساجد میں ہے۔
اللھم لا تجعل قبری ووثنا یعبد اشتد غضب اللہ علی قوم ن اتخذوا قبور انبیاءھم مسجد
"اے اللہ میری قبر کو بت نہ بنانا جس کی پوجا کی جاوے اس قوم پر خدا کا سخت غضب ہے جس نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔"
اس سے معلوم ہوا کہ کسی قبر کو مسجد بنانا اس پر عمارت بنا کر اس طرف نماز پڑھنا حرام ہے یہ ہی اس حدیث سے مراد ہے۔ قبروں پر کیا نہ بناؤ مسجد۔ قبر کو مسجد بنانے کے یہ معنٰی ہیں کہ اس کی عبادت کی جاوے۔ یا کم از کم اس کو قبلہ بناکر اس کی طرف سجدہ کیا جاوے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی فتح الباری شرح بخاری میں فرماتے ہیں۔
قال البیضاویلما کانت الیھود والنصری یسجدون لقبور الانبیاء تعظیما لشانھم ویجعلونھا قبلۃ یتوجھون فی الصلوٰۃ ونحوھا واتخذوھا اوثانا لعنھم ومنع المسلمون عن مثل ذلک
"بیضاوی نے فرمایا کہ جبکہ یہود و نصارٰی پیغمبروں کی قبروں کو تعظیماً سجدہ کرتے تھے اور اس کو قبلہ بناکر اس کی طرف نماز پڑھتے تھے اور ان قبور کر انہوں نے بت بنا کر رکھا تھا لٰہذا اس پر حضور علیہ السلام نے لعنت فرمائی اور مسلمانوں کو اس سے منع فرمایا گیا۔"
یہ حدیث معترض کی پیش کردہ حدیث کی تفسیر ہوگئی۔ معلوم ہوگیا کہ قبہ بنانے سے منع نہیں فرمایا بلکہ قبر کو سجدہ گاہ بنانے سے منع فرمایا۔ چوتھا یہ کہ یہ ممانعت حکم شرعی نہیں ہے۔ بلکہ زہد و تقوٰی کی تعلیم ہے جیسے کہ ہم پہلے باب میں عرض کرچکے کہ رہنے کے مکانات کو پختہ کرنے سے بھی روکا گیا۔ بلکہ گرا دئیے گئے پانچویں یہ کہ جب بنانے والے کا یہ اعتقاد ہو کہ اس عمارت سے میت کو راحت یا فائدہ پہنچتا ہے تو منع ہے کہ غلط خیال ہے اور اگر زائرین کی آسائش کے لیے عمارت بنائی جاوے تو جائز ہے۔
ہم نے توجہیں اس لیے کیں کہ بہت سے صحابہ کرام نے خاص خاص قبروں پر عمارت بنائی ہیں یہ فعل سنت صحابہ ہے چنانچہ حضرت فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور علیہ السلام کی قبر انور کے گرد عمارت بنائی۔ سیدنا ابن زبیر نے اس پر خوبصورت عمارت بنائی۔ حسن مثنی کی بیوی نے اپنے شوہر کی قبر پر قبہ ڈالا جس کو ہم بحوالہ مشکوٰۃ باب البکاء سے نقل کر چکے۔ زوجہ حسن مثنی کے اس فعل کے ماتحت ملا علی قاری شرح مشکوٰۃ باب البکاء میں فرماتے ہیں۔
الظاھر انہ لاجتماع الاحباب للذکر والقراءۃ وحضور بالمغفرۃ اما حمل فعلھا علی العبث المکروہ فغیر لائق لصنیع اھل البیت
"ظاہر یہ ہے کہ یہ قبہ دوستوں اور صحابہ کے جمع ہونے کے لیے تھا تاکہ ذکر اللہ اور تلاوت قراٰن کریں اور دعائے مغفرت کریں۔ لیکن ان بی بی کے اس کام کو معض بے فائدہ بنانا جو کہ مکروہ ہے یہ اہل بیت کی شان کے خلاف ہے۔"
صاف معلوم ہوا کہ بلا فائدہ عمارت بنانا منع اور زائرین کے آرام کے لیے جائز ہے۔ نیز حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا کی قبر پر قبہ بنایا۔
متقٰے شرح مؤطاء امام مالک میں ابو عبد سلیمان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔
وضربہ عمر علی قبر زینب جحش وضربۃ عائشۃ علے قبر اخیھا عبدالرحمٰن وضربہ محمد ابن الحنیفۃ علی قبر ابن عباس وانما کرھہ لمن ضربہ علی وجہ السمعۃ والمباھات
"حضرت عمر نے زینب حجش کی قبر پر قبہ بنایا حضرت عائشہ نے اپنے بھائی عبدالرحمٰن کی قبر پر قبہ بنایا محمد ابن حنیفہ (ابن حضرت علی) نے ابن عباس کی قبر پر قبہ بنایارضی اللہ عنہم اور جس نے قبہ بنانا مکروہ کہا ہے تو اس کے لیے جو کہ اس کو فخر دریا کے لیے بنائے۔"
بدائع الصنائع جلد اول 320 میں ہے۔
روی ان عباس لما مات بالطائف صلے علیہ محمد ابن الحنیفۃ وجعل قبرہ مسنما وضرب علیہ فساطا
"جبکہ طائف میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان پر محمد ابن حنیفہ نے نماز پڑھی اور ان کی قبر ٍڈھلوان بنائی اور قبر پر قبہ بنایا۔"
عینی شرح بخاری میں ہے ضربہ محمد ابن الحنیفۃ علی قبر ابن عباس ان صحابہ کرام نے یہ فعل کیے اور ساری اُمت روضۃ رسول علیہ السلام پر جاتی رہی۔ کسی محدث کسی فقیہ کسی عالم نے اس روضہ پر اعتراض نہ کیا لٰہذا اس حدیث کہ وہ ہی توجہیں کی جاویں جو کہ ہم نے کیں۔ قبر پر بیٹھنے کے معنٰے ہیں قبر پر چڑھ کر یہ منع ہے نہ کہ وہاں مجاور بننا۔ مجاور بننا تو جائز ہے۔ مجاور اسی کو تو کہتے ہیں جو قبر کا انتظام رکھے کھولنے بند کرنے کی چابی اپنے پاس رکھے وغیرہ وغیرہ یہ صحابہ کرام سے ثابت ہے، حضرت عائشہ صدیقہ مسلمانوں کی والدہ حضور علیہ السلام کی قبر انور کی منتظمہ اور چابی والی تھیں۔ جب صحابہ کرام کو زیارت کرنی ہوتی تو ان سے ہی کھلوا کر زیارت کرتے۔ دیکھو مشکوٰۃ باب لدفن۔ آج تک روضہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر مجاور رہتے ہیں کسی نے ان کو ناجائز نہ کہا۔
اعتراض2 :۔ مشکوٰۃ باب الدفن میں ہے۔
وعن ابی ھیاج ن الا سدی قال قال لی علی الا ابعثک علی ما بعثی رسول اللہ علیہ السلام ان لا تدع تمثالا الا طمسۃ ولا قبرا مشرفا الا سؤیتہ۔
"ابو ہیاج اسدی سے مروی ہے کہ مجھ سے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ کیا میں تم کو اس کام پر نہ بھیجوں جس پر مجھ کو حضور علیہ السلام نے بھیجا تھا وہ یہ کہ تم کوئی تصویر نہ چھوڑو مگر مٹادو اور نہ کوئی اونچی قبر مگر اس کو برابر کردو۔"
بخاری جلد اول کتاب الجنائز باب الجریر علی البقر میں ہے۔
ورای ابن قسطاطا علی قبر عبدالرحمٰن فقال انرعہ یا غلام فانما یظللہ عملہ
"ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عبدالرحمٰن کی قبر پر قبہ خیمہ دیکھا پس آپ نے فرمایا کہ اے لڑکے اس کو علیحدہ کردو کیونکہ ان پر ان کے عمل سایہ کر رہے ہیں۔"
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ اگر کسی قبر پر عمارت بنی ہو یا قبر اونچی ہو تو اس کو گرا دینا چاہئیے۔
نوٹ ضروری: اس حدیث کو آڑ بنا کر نجدی وہابیوں نے صحابہ کرام اور اہل بیت کے مزارات کو گرا کر زمین کے ہموار کر دیا۔
جواب: جن قبروں کو گرا دینے کا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا ہے وہ کفار کی قبریں تھیں۔ نہ کہ مسلمین کی۔ اس کی چند وجوہ ہیں۔ اولاً تو یہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم کو اس کام کے لیے بھیجتا ہوں۔ جس کے لیے مجھے حضور علیہ السلام نے بھیجا۔ حضور علیہ السلام کے زمانہ میں جن قبروں کو حضرت علی نے گرایا وہ مسلمانوں کی قبریں نہیں ہو سکتیں۔
کیونکہ ہر صحابی کے دفن میں حضور علیہ السلام شرکت فرماتے تھے۔ نیز صحابہ کرام کوئی کام بھی حضور علیہ السلام کے بغیر مشورہ کے نہ کرتے تھے لٰہذا اس وقت جس قدر قبور مسلمین بنیں۔ وہ یا تو حضور کی موجودگی میں یا آپ کی اجازت سے تو وہ کون سے مسلمانوں کی قبریں تھیں جو کہ ناجائز بن گئیں اور ان کو مٹانا پڑا۔ ہاں عیسائیوں کی قبور اونچی ہوتی تھیں۔
بخاری شریف صفحہ61 مسجد نبوی کی تعمیر کے بیان میں ہے۔
امر النبی علیہ السلام بقبور المشرکین فنبشت
"حضور علیہ السلام نے مشرکین کی قبروں کا حکم دیا پس اکھیڑ دی گئیں۔"
بخاری شریف جلد اولصفحہ61 میں ایک باب باندھا ھل ینبش قبور مشرکی الجاھلیۃ کیا مشرکین زمانہ جاہلیت کی قبریں اکھیڑ دی جاویں اسی کی شرح میں حافظ ابن حجر فتح الباری شرح بخاری جلد دوم صفحہ26 میں فرماتے ہیں۔
ای دون غیرھا من قبور الانبیاء واتباعھم لما فی ذلک اھانۃ لھم
"یعنی ماسوا انبیاء اور ان کے متبعین کے کیونکہ ان کی قبریں ڈھانے میں ان کی اہانت ہے۔"
دوسری جگہ فرماتے ہیں۔
وفی الحدیث جواز تصرف فی المقبرۃ المملوکۃ وجواز نبش قبور الدارسۃ اذالم یکن محرمۃ"اس حدیث میں اس پر دلیل ہے کہ جو قبرستان ملک میں آگیا اس میں تصرف کرنا جائز ہے اور پرانی قبریں اکھاڑ فی جاویں بشرطیکہ محترمہ نہ ہوں۔"
اس حدیث اور اس کی شرح نے مخالف کی پیش کردہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تفسیر کردی کہ مشرک کی قبریں گرائی جاویں۔ دوسرے اس لیے کہ اس میں قبر کے ساتھ فوٹو کا کیوں ذکر ہے۔ مسلمان کی قبر پر فوٹؤ کہاں ہوتا ہے؟ معلم ہوا کہ کفار کی قبریں ہی مراد ہیں۔ کیونکہ ان کی قبروں پت میت کا فوٹو بھی ہوتا ہے۔ تیسرے اس لیے کہ فرماتے ہیں کہ اونچی قبر کو زمین کے برابر کردو اور مسلمان کی قبر کے لیے سنت ہے کہ زمین سے ایک ہاتھ اونچی رہے۔ اس کو بالکل پیوند زمین کرنا خلاف سنت ہے۔ ماننا پڑے گا کہ یہ قبور کفار تھیں ورنہ تعجب ہے کہ سیدنا علی تو اونچی قبریں اکھڑوائیں اور ان کے فرزند محمد ابن حنیفہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قبر پر قبہ بنائیں۔ اگر کسی مسلمان کی قبر اونچی بن بھی گئی۔ تب بھی اس کو نہیں اکھیڑ سکتے کیونکہ اس میں مسلمان کی توہین ہے۔ اولاً اونچی نہ بناؤ مگر جب بن جائے تو نہ مٹاؤ۔ قرآن پاک چھوٹا سائز چھاپنا منع ہے دیکھو شامی کتاب الکرہیت۔ مگر جب چھپ گیا تو اس کو پھینکو نہ جلاؤ۔ کیونکہ اس میں قرآن کی بے ادبی ہے احادیث میں وارد ہے کہ مسلمان کی قبر پر بیٹھنا وہاں پاخانہ کرنا وہاں جوتہ سے چلنا ویسے بھی اس پر چلنا پھرنا منع ہے مگر افسوس کہ نجدی نے صحابہ کرام کے مزارات گرائے اور معلوم ہوا کہ اب جدہ میں انگریز عیسائیوں کی اونچی اونچی قبریں برابر بن رہی ہیں صدق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقتلون اھل الاسلام ویترکون اھل الاصنام ہر ایک کو اپنی جنس سے محبت ہوتی ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے سند لانا محض بے جا ہے وہ تو خود فرما رہے ہیں کہ میت پر اعمال کا سایہ کافی ہے جس سے معلوم ہوا کہ اگر میت پر سایہ کرنے کے لیے قبہ بنایا تو جائز ہے۔
عینی شرح بخاری اسی حدیث ابن عمر کے ماتحت فرماتے ہیں۔
وھی اشارۃ الی ان ضرب الفسطاط لغرض صحیح لاتشترمن الشمس مثلا للاحیاء لا لا ضلال المیت جاز
"ادھر اشارہ ہے کہ قبر پر صحیح غرض کے لیے خیمہ لگانا جیسے کہ زندوں کو دھوپ سے بچانے کے لیے نہ کہ میت کو سایہ کرنے کے لیے جائز ہے۔"
اس کا تجربہ خود مجھ کو اس طرح ہوا کہ میں ایک دفعہ دوپہر کے وقت ایک گھنٹہ کے لیے سیالکوٹ گیا۔ بہت شوق تھا کہ ملا عبدالحکیم فاضل سیالکوٹی رلیہ الرحمۃ کے مزار پر فاتحہ پڑھوں۔ کیونکہ ان کے حواشی دیکھنے کا اکثر مشغلہ رہا وہاں پہنچا۔ قبر پر کوئی سائبان نہ تھا۔ زمین گرم تھی دھوپ تیز تھی بمشکل تمام چند آیات پڑھ کر فوراً وہاں سے ہٹنا پڑا۔ جذبہ دل دل ہی میں رہ گیا۔ اس دن معلوم ہوا کہ مزارات پر عمارت بہت فائدہ مند ہیں۔ تفسیر روح البیان پارہ26 سورہ فتح زیر آیت اذیبا یعونک تحت الشجرۃ ہے کہ بعض مغرور لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ آج کل لوگ اولیاء اللہ کی قبروں کی تعظیم کرتے ہیں لٰہذا ہم ان قبروں کو گرائیں گے تاکہ یہ لوگ دیکھ لیں کہ اولیاء اللہ میں کوئی قدرت نہیں ہے ورنہ وہ اپنی قبروں کر گرنے سے بچا لیتے-
فاعلم ان ھذا الصنیع کفر صراح ماخوذ من قول فرعون ذرونی اقتل موسی ولیدع وبہ انی اخاف ان یبدل دینکم اور ان یظھر دی الارض الفساد
"تو جان لو کہ یہ کام خالص کفر ہے فرعون کے اس قول سے ماخوذ ہے کہ چھوڑ دو مجھ کو میں موسٰی کو قتل کردوں وہ اپنے خدا کو بلالے میں خوف کرتا ہوں کہ تمہارا دین بدل دیگا یا زمین میں فساد پھیلا دیگا۔"
مجھ سے ایک بار کیسی نے کہا کہ اگر اولیاء اللہ یا صحابہ کرام میں کچھ طاقت تھی تو نجدی وہابیوں سے اپنی قبروں کو کیوں نہ بچایا؟ معلوم ہوا کہ یہ محض مردے ہیں پھر ان کی تعظیم و توقیر کیسی؟ میں نے کہا کہ حضور علیہ السلام سے پہلے کعبہ معظمہ میں تین سو ساٹھ 360 بت تھے اور احادیث میں ہے کہ قریب قیامت ایک شخص کعبہ گرادے گا۔ آج لاہور یں مسجد شہید گنج سکھوں کا گوردوارہ بن گئی۔ بہت سی مساجد ہیں جو کہ برباد کر دی گئیں تو اگر ہندو کہیں کہ اگر خدا میں طاقت تھی تو اس نے اپنا گھر ہمارے ہاتھوں سے کیوں نہ بچالیا۔ اولیاء اللہ یا ان کی مقابر کی تعظیم ان کی محبوبیت کی وجہ سے کی ہے۔ نہ کہ محض قدرت سے جیسے کہ مساجد اور کعبہ معظمہ کی تعظیم ابن سعود نے بہت سی مسجدیں بھی گرادیں جیسے کہ مسجد سیدنا بلال کوہ صفاء پر وغیرہ وغیرہ۔

مکمل تحریر >>