Pages

Friday, 3 February 2017

علم غیب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن اور حدیث روشنی میں

علم غیب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن اور حدیث روشنی میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بیشک عالم الغیب والشھادۃاﷲعزوجل ہی کی ذات ہے، ذاتی طور پر علم غیب وہی جانتا ہے لیکن اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوراپنے دیگر پسندیدہ رسولوں کو بھی جتنا چاہا علم غیب عطا فرمایا ہے اسی دعوی پرسب سے پہلے ہم قرآنی آیات اوربعدہ چند احادیث کریمہ پیش کریں گے ۔

’’عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احد االامن ا ر تضیمن رسول،،

ترجمہ کنزالایمان : غیبکا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔ سور ہ جن ۔ آیت ۶۲،۷۲
’’ وماکا ن اﷲ لیطلعکم علی الغیبولکن اﷲ یجتبی من رسلہ من یشاء ُ،،  سورہ ال عمران آیت 97
ترجمہ :اور اﷲ عزوجل کی شان یہ نہیں کہ عا م لوگو !تمہیں غیب کا علم دے دے ہا ں اﷲ عزوجل چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے۔

حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کےسامنے اس عطائے ربانی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا  ’’ قالالم اقل لکم انی اعلم من اﷲ مالاتعلمون،،    ترجمہ :(حضرت یعقوب علیہ السلام )نے کہا کہ میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اﷲعزوجل کی وہ شانیںمعلوم ہیں جو تم نہیں جانتے ۔]سورہ ٔ یوسف آیت ۶۹[     

حضرات انبیاء کرام  اس علم غیب عطائی کا اظہار بھی فرمایا کرتے تھےجیسا کہ قرآن حکیم میں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے حواریوں سے ارشاد فرمارہےہیں : ’’ و انبئکم بماتاکلون وما تدّخرون فی بیوتکم ط انّ فی ذالک لا یۃ لکم ان کنتم مٶمنین،،

ترجمۂ کنزالایمان :اور تمہیں بتاتا ہوں جو تمکھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو ۔ بیشک ! ان باتوں میں تمھارےلئیے بڑی نشانی ہے ۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو ۔

’’ قال لا یأ تیکما طعام ترزقنہالا نبا تکما بتاویلہ قبل ان یأتیکماذالکما مما علمنی ربی،،
ترجمہ کنزالایمان : (یوسف علیہ السلام ) نے کہا جو کھاناتمہیں ملا کرتا ہے وہ تمہارے پا س نہ آنے پائے گا کہ میں اس کی تعبیراس کے آنے سےسے پہلے تمہیںبتادوں گا ۔ یہ ان علموں میں سے ہے جو مجھے میرے رب (عزوجل ) نےسکھایا ہے ۔]سورہ ٔیوسف ۔ آیت ۷۳

وَمَاکَانَ اللہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیۡبِ وَلٰکِنَّ اللہَ یَجْتَبِیۡ مِنۡرُّسُلِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ (العمران179) 

ترجمۂ کنزالایمان:اوراللّٰہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللّٰہ چُن لیتاہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے  ۔ تو ان برگزیدہ رسولوں کو غیب کا علم دیتا ہے اور سید انبیاءحبیب خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم رسولوں میں سب سے افضل اور اعلٰی ہیں اس آیتسے اور اس کے سوا بکثرت آیات و حدیث سے ثابت ہے کہ اللّٰہ تعالٰی نے حضور علیہالصلو ۃ والسلام کو غیوب کے علوم عطا فرمائے اور غیوب کے علم آپ کا معجزہ ہیں۔

ذٰلِکَ مِنْ اَنۡۢبَآءِ الْغَیۡبِ نُوۡحِیۡہِ اِلَیۡکَ  (یوسف 102)

ترجمہ:  یہ کچھغیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں

وَ مَا ہُوَ عَلَیالْغَیۡبِ بِضَنِیۡنٍ    (التکویر 24)

ترجمہ : اور یہ (نبی) غیب بتانے میں بخیل نہیں

کچھ تراجم میں "اللہ غیب بتانےمیں بخیل نہیں" ہے ، تو اس سے بھی یہی ظاہر ہوا کہ "اللہ پاک علم غیببتانے میں بخیل نہیں تو بہت بتایا ہوگا اس سے بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کاعلم غیب ثابت ہوتا ہے"

وَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَیۡکَ وَرَحْمَتُہٗ لَہَمَّتۡطَّآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ اَنۡ یُّضِلُّوۡکَ ؕ وَمَا یُضِلُّوۡنَاِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمْ وَمَا یَضُرُّوۡنَکَ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ وَاَنۡزَلَ اللہُعَلَیۡکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ ؕ وَکَانَفَضْلُ اللہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا       ﴿النساء113﴾
  ترجمہ:اوراے محبوب اگر اللّٰہ کا فضل و رحمت تم پر نہ ہوتا توان میں کے کچھ لوگ یہ چاہتے کہتمہیں دھوکا دے دیں اور وہ اپنے ہی آپ کو بہکا رہے ہیں اور تمہارا کچھ نہ بگاڑیںگے اور اللّٰہ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری اور تمہیں سکھادیا جو کچھ تم نہ جانتےتھے اور اللّٰہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔ امورِ دین و احکامِ شرع و علومِ غیب

اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللّٰہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو تمامکائنات کے علوم عطا فرمائے اور کتاب و حکمت کے اَسرارو حقائق پر مطلع کیا یہ مسئلہقرآن کریم کی بہت آیات اور احادیث کثیرہ سے ثابت ہے۔

ان آیات سے معلوم ہوا کہ اﷲعزوجلنے اپنی برگزیدہ رسولوں کو علم غیب عطافریا ہے اس عطائے خاص سے انکا ر کرنا قرآنعظیم سے انکار کرنا ہے ۔ پھر یہ کہ تمام انبیاء علیھم السلام کو یکساں علم غیبحاصل نہیں بلکہ جس طرح انبیاء و رسل علیھم السلام میں درجات ہیں اسی طرح علم غیببھی درجہ بدرجہ عطافرمایا گیا ہے ۔ قرآن حکیم سے اس کی تصدیق ہوتی ہے حضرت موسیعلیہ السلام کی حضرت خضرعلیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور حضرت موسی علیہ السلامنےوہ علم سیکھنے کی درخواست کی جو اﷲ عزوجل نے ان کو عطا فرمایا تھا حضرت خضر علیہالسلام نے درخواست منظور فرمائی مگر یہ ہدایت فرمائی کہ دیکھتے جائیے گا اور جب تکمیں نہ بولوں کچھ نہ بولیئے گا ۔ حضرت خضر علیہ السلام جو کچھ کرتے گئے اسے حضرتموسی علیہ السلام نہ سمجھ سکے آخر رہانہ گیا پوچھ لیا ۔ حضرت خضر علیہ السلام نےراز سے پردہ اٹھا دیا مگر پھر حضرت موسی علیہ السلام کو اپنے ساتھ نہ رکھا ۔ یہپوری تفصیل قرآن حکیم میں سورہ ٔ کھف آیت نمبر ۵۲سے ۲۸ تکموجود ہے ۔ اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تمام انبیاء علیھم السلام کو علم غیبیکساں نہیں قرآن پاک نے حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا :’’و علم آدم الاسماء کلھا،،

ترجمہ ٔ کنزالایمان : ا ﷲعزوجل نے آدم علیہ السلام کو تمام اشیاء کے نام سکھا ئی]سوۂ بقرہ آیت ۱۳

تفسیرروح البیان میں اس آیت کے تحت مفسر قرآن اسماعیل حقی رحمۃاﷲ تعالی علیہ حدیث بیانفرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سات لا کھ زبانیں سکھائی گئیں ۔ تفسیرمدارک میں اس آیت کے تحت ہے : ترجمہ : حضرت آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے نامبتانے کے معنی یہ ہیں کہ رب تعالی نے ان کو وہ تمام جنسیں دکھا دیں جن کو پیدا کیاہے اور ان کو بتادیا گیا کہ اس کا نام گھوڑا ہے اور اس کا نام اونٹ اور اس کا نامفلاں فلاں ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہ سے مروی ہے کہ ان کو ہر چیز کے نامسکھادیئے ۔ یہاں تک کہ پیالی اور چلو کے بھی ۔]تفسیر مدارک صفحہ ۵۴ جلد ۱ مطبوعہقدیمی کتب خانہ کراچی
جب حضرت آدم علیہ السلام کی وسعت علمی کا یہ عالم ہے تو تمام رسولوں کے سردار نبیوںکے تاجدار جناب احمد مختار ؐ کی وسعت علمی کا کو ن اندازہ لگا سکتا ہے ۔ وہ پیارےآقا مدنی مصطفی ؐ جن پر اﷲعزوجل کا فضل عظیم ہے بھلاکائنات کی کونسی چیز ان سےپوشیدہ رہ سکتی ہے پیارے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب ؐ کی شان میں اقرآنحکیم نے فرمایا : ’’وعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اﷲ علیک عظیماً،،   

ترجمہ کنزالایمان : اورتمہیں سکھادیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے او راﷲ کا تم پر بڑ افضل ہی۔سورۂ نساء سورت ۴ آیت ۳۱۱
امام جلال الدین السیوطیرحمۃا ﷲ تعالی علیہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں’’ ای من الاحکام والغیب،ترجمہ : یعنیاحکام شرع اور غیب میں سے سکھا دیا (تفسیر جلالین ) خزائن العرفان میں صدرالافاضلاس آیت کے تحت فرماتے ہیں اس آیت سے ثابت ہوا کہ اﷲتعالی نے اپنے حبیب ؐ کو تمامکائنات کے علو م عطافرمائے اور کتاب و حکمت کے اسرار و حقائق پر مطلعفرمایا۔]تفسیر خزائن العرفان

اب امامالمحدثین امیرالمومنین فی الحدیث الشیخ ابو عبداﷲ محمد بن اسماعیل البخاری الجعفی( ولادت ۴۹۱؁ ووفات ۶۵۲؁ ) کیصحیح بخاری شریف میں سے اور دیگر کتب احادیث تسعہ میں سے چند احادیث ملاحظہفرمائیں

عن ابیموسی قال : سئل النبی ؐ عن اشیاء کرھھا ، فلما اکثر علیہ غضب ، ثم قال للناس :سلونی عما شئتم قال رجل : من اَبی؟قال : ابوک حذا فۃ فقام اخر فقال : من ابییارسول اﷲ ؐ ؟ فقال :بوک سالم مولی شیبۃ فلما راَی عمر مافی وجھہ قال : یارسول ا ﷲؐ انا نتوب ِالی اﷲ عزوجل ،،

ترجمہ : حضرتابوموسی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپ رضی اﷲتعالی عنہ فرماتے ہیں کہ : نبیپاک ؐ سے ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کیا گیا جن کے بارے میں سوال کرنا آپ ؐ کوناگوار تھا جب سوالات زیادہ ہونے لگے تو آپ ؐ کو جلال آگیا پھر آپ ؐ نے لوگوں سےفرمایا : تم لوگوں کا جو جی چاہے پوچھو! اس پر ایک صاحب نے پوچھا میرابا پ کون ہے؟ فرمایا تیراباپ حذافہ ہے اس کے بعد ایک اور شخص اٹھے اور پوچھا یارسول اﷲ ؐمیراباپ کو ن ہے ؟ فرمایا سالم ، شیبہ کا آزاد کردہ غلام جب حضرت عمر رضی اﷲ تعالیعنہ نے روئے انور پر غضب کے آثاردیکھے تو عرض کیا یا رسول ا ﷲ ؐ ! ہم سب اﷲ عزوجلکی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں ۔

الصحیح البخای ،رقم الحدیث :۲۹، کتابالعلم، باب الغضب فی الموعظۃ ، والتعلیم، الجلد الاول ، صفحہ :۹۱،مطبوعہ: قدیمی کتب خانہ ، کراچی

تشریح:بخاری شریف کی اس کی حدیث میں سرکار مدینہ ؐ نےارشاد فرمایا : ’’ سلونی عماشئتم ‘‘تم لوگوں کا جو جی چاہے پوچھو! ان مبارک الفاظمیں استعمال ہونے والے لفظ ’’ عما‘‘ میں دین و دنیا کی ساری باتیں شامل ہیں ۔ اسلئیے کہ کھڑے ہونے والے دونوں صحابہ رضی ا ﷲعنہما نے اپنے اپنے والد کے بارے میںسوال کیا تھا جو کہ ایک دنیا وی بات ہے آپ ؐ کے ارشاد کا مطلب یہ ہو ا کہ تم لوگوںکاجو چی چاہے پوچھو خواہ دنیا کی بات ہو یا دین کی ۔ میں تمھیں سب کچھ بتادوں گایہ وہی کہہ سکتا ہے جو دین و دنیا کے سارے علوم رکھتا ہو تو اس حدیث سے بھی ثابتہو اکہ حضور اقدس ؐ کو دین و دنیا کے جملہ علوم حاصل تھے اسی سے ان لوگوں کی غلطیواضح ہوگئی جو یہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس ؐ صرف دین کے جملہ علوم رکھتے تھے دنیا کےعلوم میں یہ حال تھا کہ دیوار کے پیچھے کی بھی خبر نہ تھی ( معاذاﷲ عزوجل )]تشریحماخوذ از نزھۃ القاری فی شرح صحیح البخاری ، صفحہ ۴۸۳ جلد ۱ ،فقیہالھند مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ ، مطبوعہ برکاتی پبلشرز ،کراچی

سرکارمدینہ ؐ نے مخلوق کی ابتداء سے لے کر لوگوں کے جنت یادوزخ میں جانے تک کی خبر دےدی ۔’’عن طارق بن شھاب قال : سمعت عمر رضی اﷲتعالی عنہ یقول : قا م فینا النبی ؐمقامًا ، فاخبر نا عن بدء الخلق حتی دخل اھل الجنۃ منازلھم واھل النار منازلھم ،حفظہ ذلک من حفظہ و نسیہ من نسیہ،،

ترجمہ:حضرت طارق بن شھاب رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہےانہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عمر رضی ا ﷲتعالی عنہ کو سنا کہ وہ فرماتے ہیں کہ نبیکریم ؐ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور مخلوق کی پیدائش کی ابتداکے متعلق ہمیں خبر دییہاں تک کہ جنتی اپنے ٹھکانوں میں اور دوزخی اپنے ٹھکانوں میں داخل ہوگئے اسے جسنے یا د رکھا سویاد رکھا جو بھول گیا سو بھول گیا۔

الصحیح البخاری، رقمالحدیث:۲۹۱۳، کتاببدء الخلق ، باب ماجاء فی قول اﷲ عزوجل ، الجلد الاو ل ،صفحہ: ۳۵۴،مطبوعہقدیمی کتب خانہ کراچی                                          
اس حدیث کی شرح فرماتے ہوئے سند الحفاظ حضرتعلامہ احمد بن علی بن حجر العسقلانی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ ( سن ولادت ۳۷۷؁ ھ اورسن وفات ۲۵۸؁ھ) فتحالباری صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :

ودل ذالک علی انہ ؐ اخبر فی المجلس الواحدبجمیع احوال المخلوقات منذ ابتدت الی ان تفنی الی ان تبعث فشمل ذالک الاخبار عنالمبداِا المعاش والمعاد وفی تیسیر ایراد ذالک کلہ فی مجلس واحد من خوارق العادۃ امر عظیم،،

ترجمہ: یہحدیث اس کی دلیل ہے کہ رسول اﷲ ؐ نے ایک ہی مجلس میں تمام مخلوق کے احوال جب سےخلقت شروع ہوئی اور جب تک فناء ہوگی اور جب اٹھائی جائیگی سب بیان فرمادیااور یہبیان مخلوق کی پیدائش ، دنیا وی زندگی اور محشر سب کو شامل تھا اور خلاف عادت آسانیسے ان ساری باتوں کا ایک ہی مجلس میں بیان فرمادینانہایت عظیم معجزہ ہے ۔                         فتح الباری ،کتاب بدء الخلق،جلد:۶، صفحہ:۵۲۴،مطبوعہ دارلفکر ، بیروت ، لبنان

حضرت علامہ بدر الدینابو محمد محمود بن احمد العینی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ ( سن وفات ۵۵۸؁ھ )عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :

فیہدلالۃ علی انہ ؐ اخبر فی المجلس الواحد بجمیع احوال المخلوقات من ابتدائھا الیانتھا ء ھا وفی ایراد ذالک کلہ فی مجلس واحد امر عظیم من خوارق العادۃ،،

ترجمہ : یہحدیث اس پر دلیل ہے کہ رسول اﷲ ؐ نے ایک مجلس میں تمام مخلوقات کی ابتداء سے لیکراسکی انتھی تک مخلوقات کے تمام حالات بیان فرمادئے اور ان سب کا ایک ہی مجلس میںبیان فرمادینا نہایت عظیم معجزہ ہے ۔

عمدۃ القاری ،کتاب بدءالخلق، جلد ۰۱ ، صفحہ ۴۴۵، مطبوعہ دارلفکر بیروت ، لبنان مرقاۃ جلد ۹ ، صفحہ۲۷۶ مطبوعہدارلفکر ، بیروت ، لبنان

علامہ طیبی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے شرح مشکوٰۃ میں علامہ احمد خطیب قسطلانیرحمۃاﷲ تعالی علیہ نے ارشادالساری میں اور مرقاۃ میں علامہ ملا علی قاری رحمۃ اﷲتعالی علیہ نے بھی علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی بیا ن کردہ شرحکوبیان فرمایا ۔ یہ متعدد شارحین حدیث متفق ہوکر لکھ رہے ہیں کہ یہ حدیث اس بات کیدلیل ہے کہ سرکار مدینہ ؐ نے ایک مجلس میں مخلوق کی پیدائش کی ابتد سے لیکر جنتیوںکے جنت اور دوزخیوں کے دوزخ میں جانے تک تمام مخلوقات کے کل حالات کی خبر دی اسیکا نام’’ جمیع ماکان ومایکون،،(جو کچھ ہو گیا اور کو کچھ ہو نا ہے اس) کا علم ہے ۔اس سے ثابت ہوگیا کہ اسلاف کرام اور بزرگان دین کا عقیدہ یہی تھا کہ سر کار مدینہؐ روز اوّ ل سے روز آخر تک کے تمام حالات جانتے ہیں اور یہی علم غیب ہے ۔الحمداﷲعزوجل ہم اہلسنت کا یہ عقیدہ قرآن و حدیث اور اسلاف کے عقیدے کے مطابق ہے ۔

قیامت تک کے تمام واقعات کا بیان ’’عن حذیفہ رضی اﷲتعالی عنہقال :لقدخطبنا النبی ؐ خطبۃ ماترک فیھا شیئا الی قیام الساعۃ الاذکرہ عَلِمَہُ من عَلِمَہُو جھلہ من جھلہ ان کنت لری الشئ قد نسیت فاعرف مایعرف الرجل اذا غاب عنہ فرہ فعرفہ،،

ترجمہ :حضرت حذیفہ رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت ہے انہوںنے فرمایا نبی کریم ؐ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور اس خطبہ میں قیامت تک کی کسیچیز کو نہ چھوڑا جس کا ذکر نہ فرمایا ہو ( یعنی تمام چیزوں کا تذکرہ فرمادیا) اسےجا نا جس نے جانااور جو نہ جان سکا نہ جان سکا( ان بتائی گئی باتوں میں سے )بھولیہوئی کسی چیز کو ہوتے دیکھتا ہوں تو پہچان لیتا ہوں جیسے آدمی اپنے سے بچھڑی ہوئیچیز کودیکھتے ہی پہچان لیتا ہے۔
الصحیحالبخاری، کتاب القدر، باب: وکان امراللہ قدرا مقدوراً، رقم الحدیث صفحہ:۴۰۶۶،الجلدالثانی،صفحہ :۷۷۹، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی

اماممسلم نے حضرت ابوزید انصاری رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کی انہوں نے فرمایا:’’ صلیبنارسول اﷲ ؐ صلوٰۃ الصبح فصعد المنبر فخطبنا حتی حضرت الظھر ثم نزل فصلی الظھر ثمصعد المنبر فخطبنا حتی حضرت العصر ثم نزل فصلی العصر فصعد المنبر فخطبنا حتی غابتالشمس فحدثنا فیھابما کان وماھو کائن فاعلمنا احفظنا،،

ترجمۃ:رسول اﷲ ؐ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی او رمنبرپر تشریف لے گئے اور ہمیں خطبہ دینا شروع کیا یہاں تک کہ ظہر کا وقت آگیا ۔ ظہر کینماز پڑھ کر پھر منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ دینے لگے پھر عصر کی نماز پڑھی اسیطرح خطبہ دینے لگے یہاں تک کے سورج ڈوب گیا ۔ اس خطبے میں(ماکان ومایکون ) یعنی وہسب کچھ بیان فرمادیا جو ہوچکا تھا اور جوآئندہ ہونے والا ہے ہم میں زیادہ علموالاوہ ہے جس نے سب سے زیادہ یاد رکھا
الصحیح المسلم، الجلد الثانی ، کتاب الفقن ،باب امارات الساعۃ ، صفحہ: ۰۹۳، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی

عن ثوبان قال رسول اﷲ ؐ اناﷲزوی لی الارض فرایت مشارقھا ومغاربھا وانّ امتی سیبلغ ملکھا ما زوی لی منھااعطیت الکنزین الاحمروالابیض،،

ترجمہ :حضرت ثوبان رضی اﷲتعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہرسول اﷲ ؐ نے بیان فرمایااﷲ تعالی نے تمام روئے زمین کو میرے لئیے لپیٹ دیا او رمیں نے اس کے تمام مشارق و مغارب کو دیکھ لیا او ر بے شک میری امت ان ( مشارق ومغارب ) کے ملکوں تک پہنچے گی ۔ جتنی زمین کو میری لئیے لپیٹ دیا گیا اور مجھے سرخو سفید دونوں خزانے عطاکیے گئے ۔
الصحیح المسلم ،کتاب ابواب الفتن،باب امارات الساعۃ، المجلد الثانی، صفحہ:۰۹۳،مطبوعہ قدیمی کتب خانہکراچی 

عن ابن عباس قال قال رسولاﷲ ؐ اتانی اللّیلۃ ربی تبارک و تعالی فی احسن صورۃ ٍ قال احسبہ قال فی المنامفقال یا محمد ھل تدری فیم یختصم الملأ الاعلی قلت لا قال فوضع یدہ بین کتفی حتیوجدت بردھا بین ثدی اوقال فی نخری فعلمت مافی السموت ومافی الارض،،
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اﷲتعا لی عنہ سے مروی ہے کہرسول اﷲ ؐ نے فرمایا کہ گذشتہ رات میرے رب عزوجل کا حسین صورت میں دیدار ہوا (راوی فرماتے ہیں میراگمان ہے کہ آپ ؐ نے فرمایا کہ میںنے نیند میںدیدار کیا اﷲعزوجل نے فرمایا : یامحمد ؐ کیا آپ جانتے ہیں کہ ملاءِ اعلی کے فرشتے کس بارے میںجھگڑتے ہیں میں نے کہا نہیں۔ پس اﷲ عزوجل نے اپنا دست قدرت میرے دونوں کندھوں کےدرمیان رکھا یہاں تک کہ میںنے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میںپائی ۔ پس میں نے جان لیاجو کچھ آسمانوں او رجو کچھ زمین میں ہے ۔جامع ترمذی ، ابوابالتفسیر، باب تفسیرص ،جلد: ثانی ،صفحہ :۷۳۴ ،مطبوعہ قدیمی کتب خانہکراچی

بخاری شریف اوردوسری کتب معتبرہ میں موجود احادث کے مضمون سے روز روشن کی طرح یہ بات واضح ہوگئیکہ اﷲ عزوجل نے اپنے حبیب ؐ کو مخلوق کی ابتداء سے انتہا تک کے تمام واقعات اورتمام چیزوں کے بارے میں علم غیب سکھا دیا اور پھر سرکا ر ر ؐ نے صحابہ کرام علیھمالرضوان کو بتابھی دیا ۔
ع ۔ملکوت و ملک میں کوئی شے نہیں و ہ جوتجھ پہ عیاں نہیں

نہیں حضرتاسماء بنت ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ؐ ( سورج گرہن کی نمازسے ) فارغ ہوئے تو اﷲ تعالی کی حمدو ثناء کی پھر فرمایا: :مامن شی کنت لم ارہالاوقد رأیتہ فی مقامی ھذا حتی الجنۃ والنار،،ترجمہ : کوئی چیز ایسی نہیں جو میں نےنہ دیکھی تھی مگر اس جگہ کھڑے ہوکر دیکھ لی یہاں تک کہ جنت اور دوزخ بھی۔
الصحیحالبخاری شریف ، رقم الحدیث: ۳۵۰۱، کتاب ابواب الکسوف، باب صلوۃ النساء مع الرجال فی الکسوف،صفحہ:۴۴۱، الجلدالاولِمطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی

اس حدیث سے معلوم ہواکہ آپ ؐ نے وہ تمام چیزیںجو نہیں دیکھی تھیں انھیں دیکھ لیا یہاں تک کہ جنت اور دوزخ بھی ۔ امام اھلسنتاعلحضرت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ اس حدیث شریف کو اپنی کتاب الدولۃالمکیہ میں ذکر کے ارشاد فرماتے ہیں : نسیم الریاض میں ہے کہ تمام مخلوقات آدمعلیہ السلام سے لے کر قیام قیامت تک سب نبی ؐ پر پیش کی گئیں حضور ؐ نے ان سب کوپہچان لیا ،جیساکہ آدم علیہ السلام کو تمام اشیاء کے نام سکھادیئے گئے ،امام قاضیعیاض ،علامہ علی قاری، اور علامہ منادی نے اپنی کتاب ’’تیسیر شرح جامع صغیر،،لامام سیوطی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ میں فرماتے ہیں: پاک جانیں بدن کے علاقوں (یعنیتعلق) سے جداہوتی ہیں عالم بالاسے مل جاتی ہیں اور ان کے لئے کچھ پردہ نہیں رہتاتو سب کچھ ایسا دیکھتی اور سنتی ہیں جیسا کے سامنے ہورہاہو امام ابن حا ج مکی نےمدخل اور امام قسطلانی نے مواہب میں فرمایا : ’’لافر ق بین موتہ وحیاتہ ؐ فیمشاھدتہ لامتہ معرفتہ باحوالھم و نیاتھم و عزائمھم،،ترجمہ : بیشک ہمارے علماء رحمۃاﷲ تعالی علیھم اجمعین فرماتے ہیں : نبی پاک ؐ کی حیات و وفات میں اس بات میں کچھفر ق نہیں کہ حضور ؐ اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوں اور نیتوں اور ارادوںاور دل کے خطرات کو پہچانتے ہیں اور یہ سب حضور ؐ پر ایسا روشن ہے کہ جس میں کچھپوشیدگی نہیں الدولۃ المکیۃ ، صفحہ :۹۹ ، مطبوعہ نزیر سنزپبلیشرز لاہو

نگاہ مصطفی ؐ کامدینے سے مقام موتہ میں جنگ ملاحظہفرمانا

غزوہ موتہ ۸ ؁ھ آٹھ سن ہجری میں ہوا اس غزوہ میں مسلمان تین ہزار تھے ھرقلکی رومی فوج ایک لاکھ تھی سرکار مدینہ ؐ نے مجاہدین کے لشکر پر حضرت زید بن حارثرضی اﷲ تعالی عنہ کو امیر بنایا اور فرمایا اگر وہ شہید ہوجائیں توحضرت جعفربن ابیطالب چھنڈا لیں گے اگر وہ شہید ہوجائیں تو حضرت عبداﷲ بن رواحہ جھنڈا لیں گے جبرومیوں کاایک لاکھ کالشکر مسلمانوں کے مد مقابل ہوا تو سخت خونریز جنگ ہوئی حضرتزید شہید ہوگئے حضرت جعفر بن ابی طالب نے جھنڈ ا لیا حضرت جعفر جھنڈا لے کر جوشجہاد میں گھوڑے سے اتر پڑے اس کی کوچیں کاٹ دیں اور کفار سے لڑنا شروع کردیا یہاںتک کہ آپ کا ایک ہاتھ کٹ گیا تو جھنڈا دوسرے ہاتھ میں لیا وہ بھی کٹ گیا تو کٹےہوئے ہاتھوں کو سمیٹ کر جھنڈا دبائے رہے اسی حال میں ایک رومی نے کمر پر تلوارماری کہ آپ کے جسم کے دو ٹکرے ہوگئے اور آپ شہید ہوگئے پھر حضرت عبد اﷲبن رواحہرضی اﷲ تعالٰی عنہ نے جھنڈا لیایہ بھی شہید ہوگئے تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہنے جھنڈا لیا اس وقت مسلمان منتشر ہوچکے تھے انھوں نے بہت بہادری اور تدبر سے کاملے کر مسلمانوں کو اکٹھا کردیا ترتیب بدل دی میمنہ (دائیں جانب والوں ) کو میسرہ(بائیں جانب والوں ) پر اور میسرہ کو میمنہ پر کردیا اس سے رومیوںنے یہ سمجھا کہمسلمانوں کے لیئے مدد آچکی ہے مسلمانوں کو اکٹھا کرکے حضرت خالد رضی اﷲ تعالٰی عنہنے پوری طاقت سے حملہ کردیاحضرت خالد اس جوش سے لڑے کہ اس دن ان کے ہاتھ سے نو۹تلواریں ٹوٹیں جس کے نتیجے میں رومیوں کو میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا ۔ حضور اقدس ؐکے سامنے میدانِ جنگ کا پورا نقشہ تھا اور آپ ؐ مدینے میں تشریف فرماتھے حضرت زیدحضرت جعفر حضرت عبداﷲ بن رواحہ رضی اﷲ تعالٰی عنھم کی یکے بعد دیگرے شھادت کیخبریں دیتے رہے میدان جنگ آپ ؐ کے پیش نظر تھامدینے میں صحابہ کرام کو فتح کی غیبیخبر دیتے ہوئے فرمایا ۔
پھر اﷲکیتلواروں میں ایک تلوار نے جھنڈا لیا اﷲ عزوجل نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی

بخاری شریف کے روایت کردہ الفاظ ملاحظہ ہوں

عن انس ان النبی ؐ نعی زیدا وجعفرا وابن رواحۃللناس قبل ان یاتیھم خبرھم فقال اخذ الرأیۃ زید فاصیب ثم اخذ جعفر فاصیب ثم اخذابن رواحۃ فاصیب وعیناہ تزر فان حتی ا خذ الرأیۃ سیف من سیوف اﷲ حتی فتح اﷲعلیھم،،

ترجمہ :حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبیکریم ؐ نے حضرت زید رضی اﷲ تعالٰی عنہ، جعفر رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور ابن رواحہ رضیاﷲتعالی عنہ کی موت کی خبر آنے سے پہلے لوگوںکو ان کی موت کی خبر دی اس طرح کے آپؐ فرمارہے تھے جھنڈازید نے پکڑا ور وہ شہید ہو گئے پھر جعفر نے لے لیا ہے او ر وہبھی شہید ہو گئے پھر ابن رواحہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے لیا اور وہ بھی شہید ہو گئےاور آپ ؐ کی آنکھیں اشک بہا رہی تھیں(پھر فرمایا)حتی کہ جھنڈا اﷲ کی تلواروں میںسے ایک تلوار نے لیا (یعنی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نی) حتی کہ اﷲ(عزوجل) نے ان (کافروں) پر (مسلمانوں کو ) فتح دی۔
الصحیح البخاری ،رقمالحدیث: ۲۶۲۴ ،کتابالمغازی ،باب غزوہ موتہ من ارض الشام ،الجلد الثانی، الصفحہ :۱۱۶،مطبوعہقدیمی کتب خانہ کراچی

مفسر شہیر شیخ الحدیث والتفسیر مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:مقام موتہ میں یہ حضرات یکے بعد دیگر شہیدہورہے تھے اور یکے بعد دیگرے جھنڈا لے رہے تھے اور یہاں حضور ؐ مسجد نبوی الشریفعلی صاحبھا الصلوۃ والسلام میں تشریف فرماہوکر ان تمام واقعات کی خبر دے رہے تھےیہ ہے حضور ؐکاعلم غیب بلکہ حاضر ناظر ہونا آج دور بین کے ذریعے انسان دور کی چیزدیکھ لیتاہے تو نبوت کی روحانی دور بین کا کیاکہنا ۔]مراۃ المناجیح جلد ۸ صفحہ ۷۸۱

قبر کے غیبی احوال کی خبر : عن ابن عباس قال مرّ النبیُّ ؐ بقبرین فقا ل انھما لیعذبان ومایعذبان فی کبیرٍ امااحدُ ھما فکان لایستتر من البول واما الاخرُ فکان یمشیبالنمیمۃ ثم اخذ جریدۃ رطبۃ فشقَّھا نصفین فغرز فی کل قبرٍ واحدۃً قالوا یارسولاﷲ(ؐ) لم فعلت ھذا قال لعلہ یخفف عنھمامالم ییبسا،،

ترجمہ :حضرت ابنعباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ دو قبروں کے پاس سے گذرے توفرمایا کہ انھیں عذاب ہورہا ہی۔اور کسی کبیرہ گناہ کے باعث نہیں ان میں سے ایک توپیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلیاں کھاتا پھرتاتھا پھر ایک سبزٹہنی لی اور اس کے دو حصے کرکے ہر قبر پر ایک حصہ گاڑ دیا لوگ عرض گزار ہوئے کہیارسول اﷲ ؐ ! ایسا کیوں کیا ؟ فرمایا کہ جب تک یہ خشک نہ ہوں تو ان کے عذاب میں تخفیفرہے گی۔الصحیح البخاری ،کتابالوضوء باب حدّثنامحمد، رقم الحدیث: ۸۱۲، صفحہ:۵۳،الجلدالاول،مطبوعہ قدیمی کتب خانہ
اس حدیث سے مندرجہ ذیل مسائل نکلتے ہیں
(۱)حضور ؐنے االلہ تعالی کی طرف سے دیئے گئے علم غیب کے ذریعے یہ جان لیا کہ ان پر عذابہورہا ہے۔
(۲)اور یہ بھی جان لیا کہ کسبناء پر ہورہا ہی۔
(۳) نیز یہجان لیاکہ ان شاخوں کے رکھنے سے عذاب میں تخفیف ہوگی۔
(۴) اور یہبھی جان لیاکہ کب تک ہوگی اس حدیث میںاکھٹی چار علم غیب کی خبر یں ہیں۔
مدنی آقا ؐ پیچھے اور آگے سے یکساں دیکھتے ہیں   
                                               
عن انسابن مالک قال صلٰی بنا النبی ؐ صلوۃً ثم رقی المنبر فقال فی الصلوٰۃ وفی الرکوعانی لا راکم من ورآءِ ی کما اراکم،، 
ترجمہ : حضرت انس بن مالک( رضی اﷲتعالٰی عنہ ) نے فرمایا۔ نبی کریم ؐ نے ہمیں نماز پڑھائی پھر منبر پر جلوہافروز ہوکر فرمایا میں تمھیں پیچے  سے بھی اسیطرح دیکھتا ہوں جیسے سامنے سے تمہیں دیکھتا ہوں۔
الصحیحالبخاری رقم الحدیث:۹۱۴ ،کتاب الصلوۃ ،باب عظۃ الامام الناس فی اتمام الصلوۃوذکرالقبلۃ، الجلد الاول ،صفحہ: ۹۵، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی

تاجدارمدینہؐ دل کے خشوع کوبھی جانتے ہیں ۔  

عن ابیھریرۃ ان رسول اﷲ ؐ قال ھل ترون قبلتی ھٰھُنا ؟ فواﷲِ مایخفٰی علی خشو عکم ولارکوعکم انی لاراکم من ورآءِ ظھری،،

ترجمہ :حضرت ابو ھریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت ہے کہرسول اﷲ ؐ نے فرمایا :تم کیایہی دیکھتے ہوکہ میرامنہ اِدھر ہی؟ اﷲ کی قسم نہ مجھپر تمہاراخشوع وخضوع پوشیدہ ہے اور نہ ہی تمہارے رکوع میں تمھیں پیٹھ کے پیچھے سےبھی دیکھتا ہوں ،
الصحیح البخاری ،کتاب الصلوۃ بابالخشوع فی الصلوۃ،قم الحدیث: ۱۴۷،الجلد الاول،صفحہ:۹۵،مطبوعہ قدیمی کتب خانہکراچی

رحمت دو عالم ؐ کافرمانا کہ مجھ پر تمہاراخشوع ورکوع پوشیدہ نہیں اس میں سرکار مدینہ فیض گنجینہ راحت قلب و سینہ ؐ نے اپنیغیبی وسعت نظری کا حال بیان فرمایا ہے کیونکہ رکوع تو ظاہری اور جسمانی فعل کا نامہے جو دوسروں کو بھی نظر آتاہے اور اس حدیث مبارکہ میں نگاہ مصطفٰی ؐ کے دو معجزےبیان فرمائے گئے ہیں کہ آپ ؐ پیٹھ پیچھے سے صحابہ رضی اﷲتعالٰی عنہ کے رکوع بھیملاحظہ فرمالیتے ہیں اورآنکھ کی حس کے بغیر پیچھے سے دیکھنا یقینا علم غیب ہے اوردوسرے یہ کہ ان کے دلوں کے خشوع وخضوع والی کیفیت بھی سرکار مدینہ ؐ کی نگاہوں سےپوشیدہ نہیں اور یہ بھی بفضل اللہ تعالی علم غیب ہے ۔

اعلحضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خا ن علیہرحمۃ الرحمن فرماتے ہیں کہ’’اللہ عزوجل کی عطاسے علوم غیب غیرمحیط کاانبیاء علیہمالصلوٰۃ والسلام کوملنابھی قطعاًحق ہی،اورامام قسطلانی علیہ الرحمہ مواہب اللدنیہشریف میں لکھتے ہیں کہ’’النبوۃ التی ہی الاطلاع علی الغیب‘‘یعنی نبوت کے معنی ہییہ ہیں کہ علم غیب جاننا‘‘۔اسی میں نبی کریمؐ کے اسم مبارک نبی کے بیان میںفرمایا’’النبوأۃ مأخوذۃ من النباء وہوالخبرای ان اللہ تعالیٰ اطلعہ علی غیبہ‘‘’’یعنی،’’حضورؐکونبی اس لئے کہاجاتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضورکوعلم غیب عطافرمایا‘‘۔اسی میں ہے ’’قداشتہروانتشرامرہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بین اصحابہ بالاطلاععلی الغیب‘‘یعنی ،’’بیشک صحابہ کرام علیہم الرضوان میں یہ بات مشہورو معروف تھی کہنبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو غیبوں کاعلم ہی‘‘۔اسی کی شرح زرقانی میں ہےکہ’’اصحابہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جازمون باطلاعہ علی الغیب‘‘یعنی،’’صحابہکرام یقین کے ساتھ حکم لگاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کوغیبکاعلم ہی‘‘۔

نیز ملا علی قاری علیہ الرحمہ کے حوالے لکھتےہیں کہ’’الناس ینقسم الیٰ فطن یدرک الغائب کالمشاہد وہم الانبیاء والی من الغائبعلیہم متابعۃ الحس ومتابعۃ الوہم فقط وہم اکثرالخلائق فلابدلہم من معلم یکشف لہمالمغیبات وماہوالاالنبی المبعوث لہذاالامر‘‘’’یعنی،’’ انسان دوقسم کے ہوتے ہیں ایکوہ زیرک کہ غیب کومشاہدہ کی طرح جانتے ہیں اوریہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلامہیں،دوسرے وہ جن پرصرف حس ووہم کی پیروی غالب ہے اکثرمخلوق اسی قسم کی ہے ۔توانکوایک بتانے والے کی ضرورت ہے جوان پرغیبوں کوکھول دے اوروہ بتانے والا نہیںمگرنبی کہ خوداس کام کے لئے بھیجاجاتاہی‘‘۔

تفسیرامامطبری اورتفسیر درمنثور میں بروایت ابوبکربن ابی شیبہ استاذامام بخاری ومسلم وغیرہائمہ محدثین سیدناامام مجاہد تلمیذخاص حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہمسے ہے ’’انہ قال فی قولہ تعالیٰ ولئن سألتہم لیقولن انماکنانخوض ونلعب قال رجل منالمنافقین یحدثنا محمدان ناقۃ فلان بوادی کذاوکذاومایدریہ بالغیب‘‘                        یعنیانھوں نے کہااللہ کے فرمان’’ ولئن سألتہم لیقولن انماکنانخوض ونلعب ‘‘کی تفسیرمیںکہ منافقین میں ایک شخص نے کہاکہ محمدؐ ہم سے بیان کرتے ہیں کہ فلاں کی اونٹنیفلاں فلاںوادی میں ہے بھلاوہ غیب کی باتیں کیاجانیں‘‘یعنی کسی کی اونٹنی گم ہوگئیتھی رسول اللہ ؐ نے فرمایاکہ’’ وہ فلاں جنگل میں ہی‘‘ایک منافق بولا’’محمد غیبکیاجانیں‘‘اسی پراللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ ان سے فرمادیجئے کہ ’’اللہ اوراسکے رسول اوراس کی آیتوں سے ٹھٹھاکرتے ہو،بہانے نہ بناؤ،تم کافرہوچکے ایمان کےبعد‘‘۔حضرت ملاحظہ فرمائیں کہ یہ آیت مخالفین پر کیسی آفت ہی‘‘۔]ملخص از:فتاویرضویہ،ج:۹۲،ص:۸۳۴۔۲۴۴،رضافاؤنڈیشن لاہور

ان مذکورہ بالاحوالوں سےمعلوم ہواکہ حضورؐکو بارگاہ عزوجل سے علم غیب حاصل ہے ،اختصار کے ساتھ یہ دلا ئلبیان کئے ان شاء اللہ ماننے والے کے لئے یہی کا فی ہیں

۔ سنی عقائد کی معلومات اور اصلاح کے لئے زیادہ سے زیادہ اس  Page کو Like کریں اور شیئر کریں
سوشل میڈیا میں بڑا Page بنانے میں ہمارے ساتھ اپنا کردار ادا کریں جزاکم اللہ خیرا

https://www.facebook.com/sunniaqaid12/

مکمل تحریر >>

علم غیب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفی میں پیش کی جانی والی آیات کا جواب

علم غیب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفی میں پیش کی جانی والی آیات کا جواب
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ۔
ترجمہء کنزالایمان:تم فرماؤ میں کوئی انوکھا رسول نہیں (ف۲۲) اور میں نہیں جانتا میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (ف۲۳) میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے (ف۲۴) اور میں نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا

اس آیت سے بعض لوگ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے علم کی نفی کرتےہیں۔یہ ان کی خام خیالی ہے۔
قرآن پڑھ کر لوگوں کا گمراہ ہونا۔قرآن سے ثابت ہے۔سورہ بقرہ،آیت نمبر26
يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ ﴿٢٦) اللہ بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے (ف۴۷) اور بہتیروں کو ہدایت فرماتا ہے اور اس سے انہیں گمراہ کرتا ہے جو بے حکم ہیں-(ف ۴۸) (٢٦)
کسی نے بخاری شریف کے بارے میں کہا ہے۔
بغیر عشق کے جو پڑھتے ہیں بخاری
آتا ہے بخار ان کو آتی نہیں‌ بخاری
اعظم چشتی علیہ الرحمہ نے کہا تھا۔
محبوبان اتے نقطی چینی کرنا کم نہیں ‏عاشقاں دا
جتھے دل لگ جاوے اعظم اوتھےعیب نظر نہیں‌آؤندا

تفسیر خزائن العرفان:22-مجھ سے پہلے بھی رسول آچکے ہیں تو تم کیوں نبوّت کا انکار کرتے ہو۔23-اس کے معنی میں مفسّرین کی چند قول ہیں ، ایک تو یہ کہ قیامت میں جو میرے اور تمہارے ساتھ کیا جائے گا ؟ وہ مجھے معلوم نہیں ، یہ معنی ہوں تو یہ آیت منسوخ ہے ، مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مشرک خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ لات و عزّٰی کی قَسم اﷲ تعالٰی کے نزدیک ہمارا اور محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا یکساں حال ہے ، انہیں ہم پر کچھ بھی فضیلت نہیں ، اگر یہ قرآن انکا اپنا بنایا ہوا نہ ہوتا تو ان کا بھیجنے والا انہیں ضرور خبر دیتا کہ ان کے ساتھ کیا کرے گا تو اللہ تعالٰی نے آیت '' لِیَغْفِرَلَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ ''نازل فرمائی ، صحابہ نے عرض کیا یا نبی اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضور کو مبارک ہو آپ کو تو معلوم ہوگیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا ، یہ انتظار ہے کہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا ، اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی '' لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ''اور یہ آیت نازل ہوئی '' بَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَھُمْ مِّنَ اﷲِ فَضْلاً کَبِیْراً '' تو اللہ تعالٰی نے بیان فرما دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ کیا کرے گا اور مومنین کے ساتھ کیا ، دوسرا قول آیت کی تفسیر میں یہ ہے کہ آخرت کا حال تو حضور کو اپنا بھی معلوم ہے ، مومنین کا بھی ، مکذّبین کا بھی ، معنٰی یہ ہیں کہ دنیا میں کیا کیا جائے گا ؟ یہ معلوم نہیں ، اگر یہ معنٰی لئے جائیں تو بھی آیت منسوخ ہے ، اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یہ بھی بتادیا '' لِیُظْہِرَہ عَلیَ الدِّیْنِ کُلِّہٖ '' اور '' مَاکَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ''بہرحال اﷲ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حضور کے ساتھ اور حضور کی امّت کے ساتھ پیش آنے والے امور پر مطلع فرمادیا خواہ وہ دنیا کے ہوں یا آخرت کے اور اگر درایت بمعنٰی ادراک بالقیاس یعنی عقل سے جاننے کے معنٰی میں لیا جائے تو مضمون اور بھی زیادہ صاف ہے اور آیت کا اس کے بعد والا جملہ اس کا مؤیِّد ہے ، علامہ نیشا پوری نے اس آیت کے تحت میں فرمایا کہ اس میں نفی اپنی ذات سے جاننے کی ہے ، من جہت الوحی جاننے کی نفی نہیں۔24-یعنی میں جو کچھ جانتا ہوں اﷲ تعالٰی کی تعلیم سے جانتا ہوں ۔
    
قُلْ مَا کُنتُ بِدْعاً مِّنْ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَلَا بِکُمْ (سورة احقاف، آیت ٩)
ترجمہ۔ آپ فرمادیں کہ میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں مجھے'' معلوم نہیں'' کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔
نبی پاک ۖ کی زبان مبارک سے یہ فرمان پیش کیا گیا ہے کہ ماادری مایفعل بی ولا بکم ، جس کا ترجمہ انہوں نے یہ کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے، اس کے ساتھ ہی بعد میں دی جانے والی حدیث کو کو بھی شامل کردیا جائے تو بہتر ہوگا ۔
حدیث نمبر 1 میں ہے کہ ایک صحابیہ نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اﷲ عنہ کی وفات کے بعد یہ الفاظ کہے کہ میں گواہی دیتی ہوں اس بات کی کہ ضرور تحقیق اﷲ نے تیرا اکرام کیا ہے (بخاری) اس کے بعد نبی پاک ۖ نے فرمایا میں خدا کا نبی ہوں مگر درایت کی رو سے میں ایسا بیان جاری نہیں کرتا کہ میرے ساتھ کیا ہوگا اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا، (مشکوٰة بحوالہ بخاری) ، آیت وحدیث ملا کر پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ مستقبل کے حوالے سے کوئی یقینی بات روایت کی رو سے کرنی چاہئے ، درایت(عقل وقیاس) کی رو سے نہیں، لیکن بادی النظر میں یوں لگتا ہے کہ جیسے نبی پاک ۖ کو اپنا اور دوسروں کا انجام معاذ اﷲ معلوم نہیں، یہی وجہ ہے کہ جب مشرکین نے یہ آیت سنی تو ہمارے دور کے کم فہموں والا مفہوم مراد لے بیٹھے اور خوشی سے پھولے نہ سمائے، پھر اﷲ تعالیٰ نے سورة فتح نازل فرمائی تو درایت سے پیدا ہونے والے ابہام کو توضیحی بیان سے دور فرمایااور صحابہ کرام کو سورة فتح کے نزول سے بہت زیادہ خوشی ہوئی، جس میں سورة الاحقاف کی مذکورہ زیر بحث آیت میں بیان شدہ خبر کے ابہام کو توضیح سے بدل دیا، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ سورة الاحقاف کی مذکورہ آیت کو سورة فتح نے منسوخ کردیا، جو اخبار میں نسخ کے قائل ہیں وہ یہی کہتے ہیں، اور دوسرے یہ کہتے ہیں کہ خبر کے ابہام کو بعد میں آنے والی توضیح نے منسوخ کردیا۔
ایک تو یہ لوگ ہیں جو سورة الاحقاف کے نزول تک بھی نبی پاک ۖ کو اپنے اور اپنے صحابہ کے انجام سے بے خبر بتاتے ہیں اور دوسری طرف ہم محبت کے مارے ہیں جو کہتے ہیں کہ جس قلم نے ماکان ومایکون کا علم لکھا وہ نور محمدی ۖ ہی ہے، اور آپ اُس وقت سے اپنے اور سب کے انجام سے واقف ہیں، تفصیل یہ ہے کہ ترمذی شریف میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہ کی حدیث ابواب القدر کے باب نمبر ١٧ میں موجود ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو تخلیق فرمایا ، اسے فرمایا لکھ، اس نے عرض کیا کیا لکھوں، حکم ہوا کہ اکتب القدر ما کان وماھو کائن الی الابد(حدیث نمبر ٢١٥٥) ، یعنی لکھ تقدیر کو جو کچھ ہوا اور جوکچھ ابد تک ہونے ولا ہے۔ (مشکوٰة، ص٢١)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ اوّل الخلق کاتب تقدیر ذی شعور قلم ہے کون سا ؟ اس کا جواب بخاری ، کتاب القدر، حدیث نمبر٦٦٠٩، بخاری کتاب الایمان والنذور، حدیث نمبر ٦٦٩٤، ابودائود، کتاب الایمان، حدیث نمبر٣٢٨٨میں آچکا ، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے ''لا یاتی ابن أدم النذر بشی لم أکن قدرتہ '' کہ ابن آدم کو نذر (منت) سے وہ چیز نہیں ملتی جو میں (نبی پاک ۖ) نے اُس کی تقدیر میں نہ لکھی ہو۔
یہاں سے معلوم ہوا کہ تقدیر لکھنے والے نبی پاک ۖ ہی ہیں اور قلم لا لفظ آپ ۖ کے لئے بطور استعارہ آیا ہے، عجب نہیں کہ ن والقلم (سورة قلم، آیت ١) میں نور محمدی بشکلِ قلم مراد ہو، ورنہ قلموں کی کیا مجال کہ وہ ماکان وما یکون جان سکیںلکھنا تو دُور کی بات ہے، (سورة لقمان، آیت ٢٧)، بعض عارفین نے کہا کہ اوّل الخلق نبی پاک ۖ ہیں، اوّل الخلق کے طور پر حدیثوں میں آنے والے سب نام آپ ۖ کے لئے استعارةً استعمال ہوئے ہیں۔(سر الاسرار، ص١٢، ١٤ ۔ مرصاد العباد، ص٣٠۔ تاریخ الخمیس،ج ١، ص١٩) ع
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
ماکان ومایکون کا علم تو نبی پاک ۖ کو اُس وقت بھی حاصل تھا، البتہ آپ ۖ کا علم مبارک تکمیلِ نزولِ قرآن تک ہر لمحہ اﷲ تعالیٰ بڑھاتا رہا، اور ہر لمحہ کا علم پچھلے لمحہ کی نسبت تفصیل بنتا چلا گیا اور ماضی والا علم اُس کی روشنی میں اجمالی نظر آیا، تاہم باقی تمام مخلوقات کے تفصیلی علوم کے مجموعے سے آپ ۖ کا اجمالی علم جو لوح نے قلم سے محفوظ کیا وہ زائد ہے، امیر مینائی نے کیا خوب کہا !
حضرت کا علم علمِ لدنی تھا اے امیر
دیتے تھے قدسیوں کو سبق بے پڑھے ہوئے
تعلیم جبرائیلِ امیں تھی برائے نام
حضرت وہیں سے آئے تھے لکھے پڑھے ہوئے
اس کلام کی روشنی میں قصیدہ بردہ کا وہ مصرعہ سمجھنا مشکل نہ رہا کہ'' ومن علومک علم اللوح والقلم '' ، لوح وقلم کا علم تو آپ کے علوم میں سے صرف ایک علم ہے، یہ محض عقیدت نہیں حدیثوں کو ملا کر دیکھنے سے ثابت ہے، یہ قرآن کے عجائب وغرائب ہیں جنہیں قیامت تک ظاہر ہوتے رہنا ہے، حاصل یہ ہوا کہ حضور ۖ کا یہ علم درایة پر مبنی نہیں ، قیاس کے گھوڑے دوڑا کر حاصل نہیں کیا گیا ، یہ قطعی یقینی تعلیم الٰہی پر مبنی ہے۔
    حدیث نمبر ١۔ رسول اﷲ ۖ نے فرمایا کہ گو میں خدا کا نبی ہوں مگر مجھے یہ'' معلوم نہیں '' کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔
اس کی وضاحت آیت نمبر ٦ کے ضمن میں پیش کی جاچکی ہے کہ میرے ساتھ کیا ہوگا اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا، کے حوالے سے میرا علم ظن وتخمین اور درایت وقیاس پر مبنی نہیں ہے بلکہ اس سلسلے میں میرا علم قطعی اور وحی الٰہی پر مبنی ہے۔
حدیث نمبر 2 ۔ ربیع بنت معوذ کا بیان ہے کہ چند بچیاں کچھ شعر پڑھ رہی تھیں ان میں سے کسی نے کہا وفینا نبی یعلم مافی غدٍ(ہم میں ایک ایسا نبی ہے جو آنے والی کل کی بات جانتا ہے) ، آپ نے فرمایا ایسا مت کہو جو شعر پہلے پڑھ رہی تھیں وہی پڑھتی رہو۔ (بخاری)
بچیوں نے شادی کی تقریب میں شہداء کا مرثیہ پڑھتے پڑھتے نبی پاک ۖ کو دیکھ کر اچانک موضوع بدلا اور نعتیہ کلام شروع کردیا، جس میں کہا گیا تھا وفینا نبی یعلم مافی غدٍ ، ہم میں وہ نبی ہے جو کل کی بات سے باخبر ہے، یہ مصرعہ کسی صحابی کی کہی گئی نعت کا ہی ہوسکتا ہے جو بچیوں تک کو یاد تھی، بچیوں نے منقبت صحابہ کو چھوڑ کر نبی پاک ۖ کی نعت شروع کی تو آپ ۖ نے اُنہیں منقبت صحابہ جاری رکھنے کا حکم دیا اور کسر نفسی اور تواضع سے کام لیا، اگریہ جملہ شرکیہ ہوتا تو آپ ۖ اُن بچیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے اور توبہ کی تلقین فرماتے، آپ نے صرف اتنا فرمایا اسے رہنے دو اور وہی کہو جو پہلے کہہ رہی تھیں، بلکہ اس مصرعہ سے ملتا جلتا مصرعہ حضرت مالک بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا تو نبی پاک ۖ نے اُس کو مصرعہ چھوڑنے کی بجائے انعام سے نوازا، مصرعہ یہ ہے ومتیٰ تشاء یخبرک عما فی غدٍ اور جب تو چاہے تو وہ تجھے بھی اس بات سے باخبر کردیں کہ کل کیا ہونے والا ہے(الاصابہ ، ابن حجر عسقلانی، ج٥، ص٥٥١) ۔
کے حوالے سے منقول ہے کہ جو شخص تمہیں کہے کہ نبی پاک ۖ یہ پانچ غیب جانتے تھے تو وہ شخص بڑا جھوٹا ہے(بخاری شریف) ۔
اُم المومنین سے دوسری جگہ یہ الفاظ یوں منقول ہیں کہ جو شخص کہتا ہے کہ نبی پاک ۖ کل کیا ہوگا سے باخبر ہیں، اُس نے جھوٹ بولا انہ یعلم ماغدٍ (بخاری ، کتاب التفسیر سورة النجم، حدیث ٤٨٥٥) ۔
تیسری جگہ الفاظ یوں ہیں انہ یعلم الغیب یعنی جو کہتا ہے کہ آپ ۖ غیب کا علم رکھتے ہیں تو وہ کذب کا مرتکب ہے۔
اب روایتیں ملا کر دیکھیں تو پورا مفہوم یہ ہوا کہ جو شخص کہتا ہے کہ آپ ۖ کو کل کی بات کا علم ہے اور آپ ۖ سورة لقمان کے آخر والے پانچوں غیب جانتے ہیں اور آپ ۖ کو غیب کا علم حاصل ہے تو وہ کذب کا مرتکب ہوتا ہے، اُم المومنین رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے دو باتیں اور بھی اپنے اس فتوے میں ارشاد فرمائی ہیں(ترمذی، کتاب التفسیر سورة النجم،حدیث نمبر٣٢٧٨ )سے پتہ چلتا ہے کہ اُم المومنین حضرت عبداﷲ ابن عباس اور بنو ہاشم کی طرف اشارہ فرمارہی ہیں کہ محمد ۖ نے اپنے رب کو دیکھا، اُم المومنین اُن کا ردّ کرتے ہوئے فرمارہی ہیں کہ جو تجھے کہے کہ(ا) حضرت محمد ۖ نے اپنے رب کو دیکھا ، (٢) یا حضرت محمد نے اسرار مخفی رکھے، (٣) یا حضرت محمد ۖ کو غیوب کا علم حاصل ہے تو وہ جھوٹ کا مرتکب ہے، یہ واضح بات ہے کہ نبی پاک ۖ کے اِن فضائل کا قائل اُس دَور کا کوئی کافر ومشرک تو نہیں تھا، وہ جو بھی تھا مسلمانوں میں سے تھا، اور اُم المومنین اُس دور کے کسی مسلمان کے اِن نظریات کی عبارت اور تعبیر میں خطا کو کذب سے تعبیر کررہی ہیں،تو یہ اُم المومنین کا اُن سے اجتہادی اختلاف ہے، اُم المومنین نفی ادراکِ باری سے نفی رویتِ باری کا مفہوم نکال رہی ہیں، تو اُن کا قیاس ہے ورنہ احادیث نبویہ میں رویت باری کا ثبوت ہر دو جہاں میں ملتا ہے، اسی طرح تبلیغی احکام نہ چھُپانے کا مطلب یہ نہیں کہ اسرار بھی کسی سے نہ چھپائے ، اور علم غیب کے حوالے سے حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حضرت خضر علیہ السلام کی بابت بیان فرماتے ہیں کان رجلاً یعلم علم الغیب''وہ مرد تھے جو علمِ غیب جانتے تھے'' (تفسیر ابن جریر۔ تفسیر ابن کثیر) ، بلکہ بخاری شریف میں تو حدیث مرفوع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تین اقوال پر بھی لفظِ کذب استعمال کیا گیا ہے، ظاہر ہے کہ وہ بھی صورتاً کذب ہے نہ کہ حقیقتاً۔

مکمل تحریر >>