Pages

Sunday, 1 January 2017

عقیدہ حاضر و ناظر مستند دلائل کی روشنی میں

عقیدہ حاضر و ناظر مستند دلائل کی روشنی میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیرءعزیزی میں (ویکون الرسول علیکم شہیدا) کے تحت فرماتے ہیں:یعنی وباشد رسول شما برشماگواہ زیرا کہ او مطلع است بنور نبوت بررتبہ ہرمتدین بدین طور کہ درکدام درجہ از دین من رسیدہ و حقیقت ایمان اوچیست وحجابے کہ بداں از ترقی محجوب ماندہ است کدام است پس اومے شناسد گناہاں شماراودرجات ایمان شماراواخلاص ونفاق شماراولہٰذا شہادت او دردنیا وآخرت بہ حکم شرع درحقیقت امت مقبول وواجب العمل است۔

ترجمہ:یعنی تمہارے رسول تم پر گواہ ہیں کیونکہ حضورعلیہ السلام نور نبوت سے ہردیندار کے اس رتبہ پر مطلع ہہیں کہ جس تک وہ پہنچا ہوا ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے، اور اس حجاب سے بھی واقف ہیں کہ جس کی وجہ سے رکا ہوا ہے، تو حضور علیہ السلام تمہارے گناہوں کو اور تمہارے درجات ء ایمان کو اور تمہارے نیک وبداعمال کو اور تمہارے اخلاص ونفاق کو جانتے اور پہچانتے ہیں، اسی لیئے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شہادت دنیا وآخرت میں بحکم شرع امت کے حق میں مقبول اور واجب العمل ہے۔

حاضر کے لغوی معنی ہیں سامنے موجود ہونا یعنی غائب نہ ہونا۔ المصباح المنیر میں ہے۔ حاضر حضرۃ مجلس القاضی وحضر الغالب حضور اقدم من غیبتہ۔ منتی الارب میں ہے حاضر حاضر شومذہ۔

ناظر کے چند معنے ہیں۔ دیکھنے والا، آنکھ کا تل، نظر، ناک کی رگ، آنکھ کا پانی۔

المصباح المنیر میں ہے۔ والناظر السواد الا صغر من العین الذی یبصربہ الانسان شخصہ۔

قاموس الغات میں ہے۔ والناظر السواد فی العین اوالبصر بنفسہ و عرق فی الانف وفیہ ماء البصر۔

مختار الصحاح میں ابن ابی بکر رازی کہتے ہیں۔ الناظر فی المقلتہ السواد لا صغر الذی فیہ الماء العین۔

جہاں تک ہماری نظر کام کرے وہاں تک ہم ناظر ہیں اور جس جگہ تک ہماری دسترس ہو کہ تصرف کر لیں وہاں تک حاضر ہیں۔ آسمان تک نظر کام کرتی ہے وہاں تک ہم ناظر، یعنی دیکھنے والے ہیں مگر وہاں ہم حاضر نہیں۔ کیونکہ وہاں دسترس نہیں۔ اور جس حجرے یا گھر میں ہم موجود ہیں وہاں حاضر ہیں کہ اس جگہ ہماری پہنچ ہے۔ عالم میں حاضر و ناظر کے شرعی معنی یہ ہیں کہ قوت قدسیہ والا ایک ہی جگہ رہ کر تمام عالم کو اپنے کف دست کی طرح دیکھے اور دور و قریب کی آوازیں سنے یا ایک آن میں تمام عالم کی سیر کرے اور صدہا کوس پر حاجت مندوں کی حاجت روائی کرے۔ یہ رفتار خواہ صرف روحانی ہو یا جسم مثالی کے ساتھ ہو یا اسی جسم سے ہو تو قبر میں مدفون یا کسی جگہ موجود ہے ان سب معنی کا ثبوت بزرگان دین کے لئے قرآن و حدیث و اقوال علماء سے ہے۔

حاضر و ناظر کی تین صورتیں ہیں ایک جگہ رہ کر سارے عالم کو دیکھنا۔ آن کی آن میں سارے عالم کی سیر کر لینا۔ ایک وقت میں چند جگہ ہونا۔ ان آیات میں فرمایا گیا کہ آپ بایں جسم پاک وہاں موجود نہ تھے ان میں یہ کہاں ہے کہ آپ ان واقعات کو ملاحظہ بھی نہیں فرما رہے تھے اس جسد عصری سے وہاں نہ ہونا اور ہے اور ان واقعات کو مشاہدہ فرمانا کچھ اور بلکہ جناب کی پیشکردہ آیات کا مطلب ہی یہ ہے کہ اے محبوب علیہ السلام آپ وہاں بہ ایں جسم موجود نہ تھے لیکن پھر بھی آپ کو ان واقعات کا علم اور مشاہدہ ہے جس سے معلوم ہوا کہ آپ سچے نبی ہیں یہ آیات تو حضورﷺ کا حاضر و ناظر ہونا ثبوت کر رہی ہیں۔

اور اگر اب بھی کوئی باضد ہے تو پھر ان آیات کا جواب دیں۔

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۔(سورۃ الفجر آیت 6)۔
کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے ربّ نے عاد کے ساتھ کیسا کیا۔

وَثَمُودَ ٱلَّذِينَ جَابُواْ ٱلصَّخْرَ بِٱلْوَادِ۔ (سورۃ الفجر آیت 9)۔
اور ثمود جنہوں نے وادی میں پتھر کی چٹانیں کاٹیں۔

وَفِرْعَوْنَ ذِى ٱلأَوْتَادِ۔(سورۃ الفجر آیت 10)۔
اور فرعون جو میخا کرتا۔

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ ٱلْفِيلِ(سورۃ الفیل آیت 1)۔
کیا تم نے نہیں دیکھا تمہارے ربّ نے ہاتھی والوں کا کیا حال کیا۔

اور یہ بھی بھولیئے کہ یہاں یہ نہیں فرمایا گیا کہ "کیا تم نے نہیں پڑھا" یا "کیا تمہیں نہیں بتایا گیا"۔ بلکہ اللہ عزوجل یہی فرماتا ہے کہ کیا تم نے نہیں دیکھا۔

اسی لئے تفسیرِ صاوی میں سورۃ القصص کی آیت کے ماتحت ہے کہ؛
وھذا بالنظر الی العالم الجسمانی لا قامۃ الحجۃ علی الخصم واما بالنظر الی العالم الروحانی فھو حاضر رسالۃ کل رسول وما وقع من لدن ادم الی ان ظھر، بجسمہ الشریف
یعنی یہ فرمانا کہ موسٰی علیہ السلام کے اس واقعہ کی جگہ نہ تھے جسمانی لحاظ سے ہے عالم روحانی کی حیثیت سے حضور علیہ السلام پر رسول کی رسالت اور آدم علیہ السلام سے لے کر آپ کے جسمانی ظہور تک کے تمام واقعات پر حاضر ہیں۔

نیز ہجرت کے دن غار ثور میں صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو لئے ہوئے جلوہ گر ہیں کہ کفّار مکہ دروازہ غار پر آ پہنچے حضرت صدیق پریشان ہوئے تو حضور نے فرمایا۔

لا تحزن ان اللہ معنا۔ (سورۃ التوبہ آیت 40)۔
غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہمارے ساتھ تو ہے مگر کفّار کے ساتھ نہیں لٰہذا نعوذبااللہ خدا ہر جگہ نہیں، کیونکہ کفّار بھی تو عالم ہی میں تھے۔ تو جس طرح اس کلام میں توجیہہ ہوگی کہ اس کلام سے مراد ہے کہ اللہ رحم و کرم سے ہمارے ساتھ ہے اور جبر و قہر سے کفار کے ساتھ اسی طرح ان آیات میں بھی کہا جائے گا کہ بطریق ظاہریہ جسدِ عنصری آپ اس وقت ان کے پاس نہ تھے۔

اب آئیے قرآنِ کریم سے اس کے اثبات میں کچھ آیت ملاحظہ کریں۔

يٰأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِنَّآ أَرْسَلْنَٰكَ شَٰهِداً وَمُبَشِّراً وَنَذِيراً۔ (سورۃ الاحزاب آیت 46)۔
اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا۔

یہاں ترجمہ میں حاضر و ناظر پر اعتراض کیا جاتا ہے تو لفظ شاہد شہود سے مشتق ہے اور شہود حضور ہے۔ شاہد مشاہدہ سے ہے اور مشاہدہ رویت سے۔ تو بیشک شاہد ہیں، بیشک حاضر ہیں، بیشک ناظر ہیں۔ دعائے میت میں جو لفظ "شاھدنا" آتا ہے وہ اسی شہود سے مشتق ہے جس کے معنی حاضر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد پھر "غائبنا" کہا جاتا ہے۔ یا یہ شہادت سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں گواہی دینا اس مادہ سے شاہد کے معنی گواہی دینے والا ہوا۔ بہرحال مراد شاہد، حاضر و ناظر اور گواہ تین معنوں کے درمیان ہی ہوئی اور ہر معنی سے نبی اکرمﷺ کا حاضر و ناظر ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ شاہد کا معنی گواہ لینے کی صورت میں بھی ہمارا مقصود حاصل ہے، کیونکہ شریعت مطہرہ میں دیکھی ہوئی چیزوں ہی کی گواہی مقبول ہے، ان دیکھی کی مردود۔

وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيداً (سورۃ البقرۃ آیت 143)۔
اور یہ رسول تمھارے نگہبان و گواہ۔

تفسیر روح البیان میں اس آیت کے تحت ہے؛
ومعنی شھادۃ الرسول علیھم الملاعۃ علی رتبۃ کل متدین بدینۃ وحقیقۃ التی ھو علیھا من دینہ وحجابہ الذی ھو بہ محجوب عن کمال دینہ فھو یعرف ذنوبھم وحقیقۃ ایمالھم واعمالھم وحسناتھم وسیاتھم واخلاصھم ونفاقھم وغیر ذلک بنورالحق۔
یعنی مسلمانوں پر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کے یہ معنی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہر دین دار کے دین کے مرتبوں پر اور اپنے دین میں سے جس حقیقت پر وہ ہے اس پر اور وہ حجاب جس کے سبب دین کے کمال سے محجوب ہو گیا ہے سب پر مطلع اور خبردار ہیں تو وہ امت کے گناہوں، ان کے ایمان کی حقیقتوں، ان کے اعمال، ان کی نیکیوں، برائیوں اور ان کے اخلاص و نفاق سب کو نور حق کے ذریعہ جانتے پہچانتے ہیں۔

فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلاۤءِ شَهِيداً۔(سورۃ النسا آیت 41)۔
تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تم کو ان سب پر گواہ و نگہبان بناکر لائیں۔

وَمَآ أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ۔(سورۃ الانبیا آیت 107)۔
اور ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کیلئے۔

اس آیت میں اللہ عزوجل نے تمام منکرین کا ردّ فرما دیا کہ منکرین بھی اللہ عزوجل کو رب العالمین تو مانتے ہیں۔ اور اس آیت میں رب العالمین اپنے محبوب ﷺ کو رحمۃ للعلمین قرار دے رہا ہے۔ یعنی جہاں جہاں ربّ کی ربّوبیت ہے وہاں وہاں مصطفیٰﷺ کی رحمت بھی ہے۔ تمام عالمین کے لئے رحمت ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے گذرے ہوئے اور آنے والے تمام زمانوں میں کل عالمین میں رسول اللہﷺ کی رحمت موجود رہی اور رہے گی۔

وَهُوَ ٱلْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُم حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لاَ يُفَرِّطُونَ۔(سورۃ الانعام آیت 61)۔
اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے

روح البیان میں آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ؛
قال مجاهد قد جعلت الارض لملك الموت كالطشت يتناول من حيث يشاء
یعنی ملک الموت کے لئے ساری زمین طشت کی طرح کر دی گئی ہے کہ جہاں سے چاہیں لے لیں۔

لیس علی ملک الموت صعوبۃ قبض الارواح وان کثرت وکانت فی امکنۃ متعددۃ
ملک الموت پر روحیں قبض کرنے میں کوئی دشواری نہیں اگرچہ روحیں زیادہ ہوں اور مختلف جگہ میں ہوں۔

یہ تو سبھی کو تسلیم ہے کہ دنیا بھر میں ایک ہی آن میں کئیں اموات ہوتی ہیں اور ہر اس روح کو قبض کرنے ملک الموت موجود ہوتے ہیں۔ تو جب ملک الموت کے لئے ایک ہی وقت میں مختلف مقامات پر حاضر ہونا قبول ہے تو پھر رسول اللہﷺ کہ جن کا علم تمام مخلوقات سے برتر، تو پھر آپﷺ کے لئے یہ کمال ماننے میں کیا چیز مانع ہے؟

ٱلنَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِٱلْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ۔(سورۃ الاحزاب آیت 6)۔
یہ نبی مسلمانوں کا انکی جان سے زیادہ مالک ہے۔

اس آیت کے متعلق بانیٗ دارالعلوم دیوبند قاسم نانوتوی لکھتے ہیں؛

النبی اولی بالؤمنین من انفسھم کو بعد لحاظ صلہ من انفسھم دیکھئے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو اپنی امت کے ساتھ وہ قرب حاصل ہے کہ ان کی جانوں کو بھی ان کے ساتھ حاصل نہیں کیوں کہ اولٰی بمعنی اقرب ہے اور اگر بمعنی ادب یا اولٰی بالتصرف ہو تب بھی یہی بات لازم آئے گی کیونکہ اجنیت و اولویت بالتصوف کے لئے اقربیت تو وجہ ہو سکتی ہے پر بالعکس نہیں ہو سکتا۔(تحذیرالناس، ص 14)۔

اب کچھ احادیث اور اقوالِ ائمہ ملاحظہ کیجیئے۔

مشکوٰۃ باب المعجزات میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے۔
نعی النبی علیہ السلام زیدا جعفر وابن رواحۃ للناس قبل ان یاتیھم خبرھم فقال اخذا الرایۃ زید فاصیب الی حتٰی اخذا الرایۃ سیوف اللہ یعنی خالد ابن الولید حتٰی فتح اللہ علیھم
حضور علیہ السلام نے زید اور جعفر اور ابن رواحہ کو ان کی خبر موت آنے سے پہلے لوگوں کو خبر موت دے دی۔ فرمایا کہ اب جھنڈا زید نے لے لیا اور وہ شہید ہو گئے۔ یہاں تک کہ جھنڈا اللہ کی تلوار خالد ابن ولید نے لیا تا آنکہ اللہ نے ان کو فتح دے دی۔

مشکوٰۃ جلد دوم باب الکرامات کے بعد باب وفاۃ النبی علیہ السلام میں ہے۔
وان موعدکم الحوض وانی لا نظر الیہ وانا فی مقامی
تمہاری ملاقات کی جگہ حوض کوثر ہے۔ میں اس کو اسی جگہ سے دیکھ رہا ہوں۔

مشکوٰۃ باب تسویۃً الصف میں ہے۔
اقیموا صفوفکم فانی ارکم من ورانی
اپنی صفیں سیدھی رکھو کیونکہ ہم تم کو اپنے پیچھے بھی دیکھتے ہیں۔

امام قسطلانی مواہب الدنیہ میں زیارۃ قبرہ الشریف میں فرماتے ہیں؛
وقد قال علماء نالا فرق بین موتہ وحیوتہ علیہ السلام فی مشاھدتہ لامتہ ومعرفتہ باحوالھم ونیاتھم وعزائمھم و خواطرھم وذالک جلی عندہ لا خفاء بہ
ہمارے علماء نے فرمایا کہ حضور علیہ السلام کی زندگی اور وفات میں کوئی فرق نہیں اپنی امت کو دیکھتے ہیں اور ان کے حالات و نیات اور ارادے اور دل کی باتوں کو جانتے ہیں یہ آپ کو بالکل ظاہر ہے۔ اس میں پوشیدگی نہیں۔

مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ملا علی قاری فرماتے ہیں۔
وقال الغزالی سلم علیہ اذا دخلت فے المسجد فانہ علیہ السلام یحضر فی المسجد
امام غزالی نے فرمایا کہ جب تم مسجد میں جاؤ تم حضور علیہ السلام کو سلام عرض کرو کیونکہ آپ مسجدوں میں موجود ہیں۔

احیاء العلوم جلد اول باب چہارم فصل سوم نماز کی باطنی شرطوں میں امام غزالی فرماتے ہیں۔
واحضرنی قلبک النبی علیہ السلام وشخصہ الکریم وقل السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اور اپنے دل میں نبی علیہ السلام کو اور آپ کی ذات پاک کو حاضر جانو اور کہو السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

مصباح الہدایت ترجمہ عوارف المعارف مصنفہ شیخ شہاب الدین سہروردی میں ہے۔
بس باید کہ بندہ ہمچناں کہ حق سبحانہ را پیوستہ بر جمیع احوال خود ظاہراً و باطناً واقف و مطلع بیند رسول اللہ علیہ السلام رانیز ظاہر و باطن حاضر داند۔ تا مطالعہ صورت تعظیم دوقات اور ہموارہ بہ محافظت آداب حضرتش دلیل بوداز مخالفت دے سر ادا علاناً شرم داردو ہیچ دقیقہ از وقائق آداب صحبے اوفر نہ گزارو۔
پس چاہئیے کہ بندہ جس طرح حق تعالٰی کو ہر حال میں ظاہر و باطن طور پر واقف جانتا ہے۔ اسی طرح حضور علیہ السلام کو بھی ظاہر و باطن جانے تاکہ آپ کی صورت کا دیکھنا آپ کی ہمیشہ تعظیم وقار کرنے اور اس بارگاہ کے ادب کی دلیل ہو جاوے اور آپ کی ظاہر و باطن میں مخالفت سے شرف کرے اور حضور علیہ السلام کی صحبت پاک کے ادب کا کوئی دقیقہ نہ چھوڑے۔

ہزدم مسمٰی بہ سلوک اقرب السبل بالتوجہ سیدالرسل میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں۔
باچندیں اختلاف و کثرت مذاہب کہ در علماء امت ہست یک کس رادریں مسئلہ خلافی نیست کہ آنحضرت علیہ السلام بحقیقت حیات بے شائبہ مجاز تو ہم تاویل دائم و باقی است و بر اعمال امت حاضر و ناظر است و مرطالبان حقیقت راومتو جہان آنحضرت رامفیض و مربی (ادخال الساں)۔
اس اختلاف و مذاہب کے باوجود جو علمائے امت میں ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ حضور علیہ السلام حقیقی زندگی سے بغیر تاویل و مجاز کے احتمال کے باقی اور دائم ہیں اور امت کے اعمال پر حاضر و ناظر ہیں اور حقیقت کے طلبگار اور حاضرینِ بارگاہ کو فیض رساں اور مربّی۔

یہی شیخ عبدالحق دہلوی علیہ الرحمۃ مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں۔
ذکر کن اور ادرود بفرست بردے علیہ السلام وباش درحال ذکر گویا حاضر است پیش تو در حالت حیات دمی بینی توادر امتادب باجلال و تعظیم و ہیبت و حیا و ہدانکہ دے علیہ السلام می بیند وحی شنود کلام ترازیرا کہ دے علیہ السلام متصف است بصفات الہیہ دیکے از صفات الہی آں است کہ انا جلیس من ذکرنی
حضور علیہ السلام کو یاد کرو اور درود بھیجو اور حالت ذکر میں ایسے رہو کہ حضور حالتِ حیات میں تمہارے سامنے ہوں اور تم ان کو دیکھتے ہو ادب اور جلال اور تعظیم اور ہیبت و حیاء سے رہو اور جانو کہ حضور علیہ السلام دیکھتے اور سنتے ہیں تمہارے کلام کو کیونکہ حضور علیہ السلام صفات الٰہی سے موصوف ہیں اور اللہ کی ایک صفت یہ ہے کہ میں اپنے ذاکر کا ہم نشین ہوں۔

اسی مدارج النبوۃ میں ہے کہ؛
اگر بعد ازاں گوید کہ حق تعالٰی را حالتے وقدرتے بخشیدہ است کہ در ہر مکانے کۃ خواہد تشریف بخسند خواہ بعینیہ بمثال خواہ بر آسمان و خواہ بر زمین خواہ درقبر یا غیر دے صورتے دارد باوجود ثبوت نسبت خاص بقبر درہمہ حال۔
اس کے بعد اگر کہیں کہ رب تعالٰی نے حضور کے جسم پاک کو ایسی حالت و قدرت بخشی ہے کہ جس ماکن میں چاہیں تشریف لے جائیں خواہ بعینہ اس جسم سے خواہ جسم مثالی سے خواہ آسمان پر خواہ قبر میں تو درست ہے۔ قبر سے ہر حال میں خاص نسبت رہتی ہے

مثنوی شریف میں حارث ابن نعمان رضی اللہ عنہ کے متعلق ایک قصے کو مولانا روم اس انداز میں نقل کرتے ہیں؛

ہشت جنت ہفت دوزخ پیش من
ہست پیدا ہم چوں بت ایں پیش ہن
یک بیک دامی شناسم خلق را
ہمچو گندم من زجو در آسپا
کہ بہشتی کہ وزیگانہ کی است
پیش من پیدا چو مورد ماہی است
من بگویم یا فرد بندم نفس
لب گزیدش مصطفٰی یعنی کہ بس

میرے سامنے 8 بہشت اور 7 دوزخ ایسے ظاہر ہیں
جیسے ہندو کے سامنے بت ہیں
ہر ایک مخلوق کو ایسا پہچانتا ہوں
جیسے چکی میں جو اور گیہوں
کہ جنتی کون ہے اور دوزخی کون
میرے سامنے یہ سب مچھلی اور چیونٹی کی طرح ہیں
چپ رہوں یا کچھ اور کہوں
حضور نے ان کا منہ پکڑ لیا کہ بس

جب اس آفتاب کے زرّوں کی نظر کا یہ حال کہ جنت و دوزخ، عرش و فرش، جنتی و دوزخی کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو اس آفتابِ عالی مقامﷺ کی نظر کا کیا پوچھنا ہے۔

صاحب عقل کو کافی ہے اشارے کی زباں
ورنہ سو بار دلائل بھی ہے بیکار و عبث

مکمل تحریر >>

وسیلہ قرآن و حدیث اور دیگر دلائل کی روشنی میں

وسیلہ قرآن و حدیث اور دیگر دلائل کی روشنی میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
توسل یعنی وسیلہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس پر علمائے سلف و خلف نے بے شمار کتابیں تخلیق فرمائی ہیں کہ جن سے اس کے بارے میں مفصل معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ لیکن آج کے دور میں اس کے بارے میں دو مختلف بنیادی نظریات پائے جاتے ہیں بوجہء عدم علم۔ ایک طبقہ وہ ہے کہ جو توسل کو سرے سے (کفر، شرک، بدعت) سے تعبیر کرتا ہے اور اس سے انکار کی تعلیم لوگوں کو دیتا نہیں تھکتا جبکہ اہلسنت وجماعت جو کہ (السواد الاعظم) کہلاتی ہے یعنی سب سے بڑا گروہ کہ جسکے جنتی ہونے کی بشارت متعدد احادیث میں وارد ہوئی ہیں وہ اسکو عین قرآنی حکم اور خیرالقرون کا عمل قرار دیتے ہیں ۔ اس موضوع پر میری کاوش یہ ہے کہ میں مستند کتابوں کو ان کے حوالوں کے ساتھ جس قدر ممکن ہوسکے ایک جگہ پر اکٹھا کروں تاکہ عوام الناس میں سے وہ لوگ کہ جن کی استطاعت تمام کتب تک رسائی اور کوشش کا فقدان ہے وہ اس سے کماحقہ مستفید ہوسکیں۔ اس موضوع پر تین طرح سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ پہلے قرآنی آیات سے اور سلف الصالحین وخیرالقرون کی تفسیرات سے اس پر مفصلاً ذکر کیا گیا ہے، اسکے بعد اسلام کے دوسرے بڑے مآخذ یعنی علم الحدیث سے مستند احادیث کا ذخیرہ اکٹھا کرنے کی سعی کی گئی ہے وہ بھی تمام تر حوالوں کے ساتھ تاکہ قارئین کو مکمل آگاہی مل سکے اور تیسرے خود مخالفین کی کتب سے اس موضوع پرانکی رائے کا رد اور اصل تفصیل بتائی جاسکے۔ اللہ رب العزت والعظمت سے میری دعا ہے کہ وہ اپنے حبیبِ کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے صدقہ میں، انکے مقدس مطہر معطر آلِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اور اصحاب نبی (رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین) کے صدقے میں میری اس کاوش کو اپنی بارگاہ ِ بے کس پناہ میں مقبول و منظور فرمائے اور جس کے نصیب میں ہدایت لکھی ہو، اللہ اسکے طفیل ہدایت عطا فرما کر اسکو بروز قیامت ہم سب کے لیئے شفاعت کا ذریعہ بنائے، اور مجھے میرے مرحوم والدین، دوست احباب، رشتہ داروں اور عام پڑھنے والوں سے لیکر صاحبانِ علم و عمل تک کے لیئے ایک ایسا ذریعہ بنائے کہ جس سے ہماری آخرت کا سدھار ہوسکے۔ بجاہ النبی آمین یارب العالمین۔
اس موضوع پر جیسے کہ پہلے بیان ہوا کہ سب سے پہلے لفظ (وسیلہ) کہ جس کو موجودہ دور میں چند عاقبت نااندیشوں نے (غیراللہ سے مدد) کا نام دے رکھا ہے، لغات العرب سے اسکے قرآنی معنی اور قدیم تفسیراتِ قرآنی سے دلائل کے طور پر بیان کیا جائے گا، اور پھر آیاتِ قرآنی ترجمہ و تشریحاتِ قرآنی، اس پر سلف کا بیان، احادیث کا ذخیرہ اورخاص کر صحابہ کرام علیہم الرضوان وخیرالقرون کے عمل سے ایسا بیان کیا جائے کہ جو دلوں کے زنگ اتارنے کا سبب ہو۔ اس مختصر تفصیل کے بعد بنا وقت ضائع کیئے اس پر بسم اللہ کرتے ہیں اور اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنا دین، اپنا عقیدہ اور اپنا عمل قرآن، سنت و سلف کے مطابق سمجھنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین۔
توسل وسیلہ کا لغات العرب میں معنی مفہوم اور مطالب
حضرت علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے اپنی تفسیر تبیان القرآن میں ماتحت سورہ الفاتحہ آیت ۴ وسیلہ کے لغوی معنی پر سلف الصالحین کے اقوال پیش کیئے ہیں جو کہ یہاں دیئے جارہے ہیں مزید تخریج کے ساتھ۔
امام ابی القاسم الحسین بن محمد المعروف بالراغب الاصفھانیؒ لکھتے ہیں؛۔
وسل: الوسیلۃ التوسل الی الشئٰ۔۔۔۔۔۔۔۔ الیٰ سرقۃ۔۔
ترجمہ عبارت؛۔ الوسیلۃ: کے معنی کسی چیز کی طرف رغبت کے ساتھ پہنچنے کے ہیں۔ چنانچہ معنی رغبت کو متضمن ہونے کی وجہ سے وصیلۃ سے اخص ہے۔ وابتغوالیہ الوسیلۃ (۳۵،۵) اور اسکا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرو۔ درحقیقت توسل الی اللہ، علم و عبارت اور مکارم ِ شریعت کی بجاآوری سے طریقِ الٰہی کی محافظت کا نام ہے اور یہی معنی تقرب الی اللہ کے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت کرنے والے کو واسل کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے علاوہ توسل کے معنی چوری کرنا بھی آتے ہیں چنانچہ محاورہ ہے۔ اخذ فلاں اہل فلاں توسلا۔ اس نے فلا کے اونٹ چوری کرلیئے۔
حوالہ؛۔ المفردات فی غریب القرآن ۔ امام اللغت، راغب اصفھانیؒ ۔ کتاب الواو۔ صفحات ۵۲۳ و ۵۲۴ دارالمعرفۃ بیروت لبنان
علامہ ابن اثیر جزری لکھتے ہیں؛۔
ھی فی الاصل مایتوصل بہ الی الشیٗ و یتقرب بہ
جس چیز سے کسی شے تک رسائی حاصل کی جائے اور اس شے کا تقرب حاصل کیا جائے وہ وسیلہ ہے۔
نہایہ جلد ۵ ص ۱۸۵ مطبوعہ موسسۃ مطبوعاتی ایران۔ علامہ محمد بن اثیر جزریؒ)۔
لغات کے ایک اور امام حضرت علامہ ابن منظور افریقی ؒ لکھتے ہیں۔
الجوھری؛۔ الوسیلۃ ما یتقرب بہ الی الغیر۔ یعنی امام ِ لغت علامہ جوہری نے کہا ہے کہ جس چیز سے غیر کا تقرب حاصل کیا جائے وہ وسیلہ ہے۔
حوالہ؛۔ سید جمال الدین محمد بن مکرم ابن منظور الافریقی متوفی ۷۱۱ھ ، لسان العرب ج ۱۱ ص ۷۲۵ ۔ ۷۲۴، مطبوعہ نشر ادب الجوذہ ایران
علامہ ابن منظور افریقی اور علامہ زبیدی نے علامہ جوہری کی جس عبارت کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے۔
جس چیز سے غیر کا تقرب کیا جائے وہ وسیلہ ہے۔ (الصحاح ج ۵ ص ۱۸۴۱ مطبوعہ دارالعلم بیروت
لفظ وسیلہ کا اصل منبع (وسل) (و، س، ل) سے نکلا ہے اور ایک اور مشہور امام الغات ابن فارس لکھتے ہیں؛۔
الاولی الرغبۃ والطب ، یقال وَسَلَ، اِذا رَغَب، و الواسل: الراغب الی اللہ عزوجل ، وھو فی قول لبید (بلی کل ذی دین الی اللہ واسل)۔
یعنی اول معنی رغبت و طلب کے ہیں فرمایا۔ واسل (یعنی وسیلہ کرنے والا) اللہ کی طرف ذریعہ ہوتا ہے۔
(بحوالہ ؛ معجم المقابین اللغۃ ج ۶ ص ۱۱۰ لابی الحسین احمد بن فارس بن زکریا (متوفیٰ ۳۹۵ھ) دارالفکر للطاعۃ والنشر والتوزیع۔
ایسے ہی حضرت الامام شیخ محمد بن ابی بکر بن عبدالقادر الرازی نے اپنی مختار الصحاح میں لکھا ہے؛۔
و س ل ۔ (الوسیلۃ) مایتقرب بہ الی الغیر والجمع (الوسیل) و الوسائل) و(التوسیل) و (التوسل) واحد یقال: (وسل) فلان الی ربہ وسیلۃً بالتشدیدِ و (توسل) الیہ بوسلیۃ اذا تقرب الیہ بعمل۔
یعنی فلاں کا وسیلہ رب کی طرف پیش کرنا اور کسی کے ذریعہ سے کسی اور کا قرب چاہنا توسل کہلاتا ہے۔ (حوالہ مختار الصحاح، ص ۳۰۰، باب الواو۔ مکتبۃ لبنان دائرۃ المعاجم فی )۔
دکتور عبد اللہ عباس الندوی جو کہ جامعۃ ام القریٰ مکہ مکرمہ کے مدرس بھی ہیں انکی قاموس میں وسیلے کے متعلق کچھ یوں لکھا ہے؛۔
الوسیلۃ؛۔ (اسم) رسائی کے ذرائع ،اور وسائل۔ پینچ کا راستہ ۔ رسائی۔ اس فعل کا مصدری مادہ نہیں ہے۔
حوالہ؛۔ قاموس الفاظ القرآن الکریم ص ۴۵۰ مکتبہ دار الاشاعت کراچی پاکستان
المختار من صحاح اللغۃ تالیف محمد محی الدین عبدالحمید اور محمد عبداللطیف السبکی نے لکھا؛۔
و س ل ۔ الوسیلۃ : ما یتقرب بہ الی الغیر والجمع الوسیل، والوسائل۔ یعنی کسی کی طرف تقرب چاہنا، ذریعہ بنانا۔ باقی تمام معانی وہی ہیں جوامام رازی نے اپنی مختار الصحاح میں لکھے ہیں یعنی توسل کا مطلب ہے اللہ کی طرف ذریعہ واسطہ تلاش کرنا۔ جیسا کہ اعمال سے قرب حاصل کیا جاتا ہے۔
المختار من صحاح اللغۃ ص ۵۷۲ (زیر تحت و س ل) مکتبۃ التجاریۃ الکبریٰ لمصر۔ ومطبعۃ الاستقامۃ بالقاھرہ۔
مصباح المنیر میں لکھا ہے؛۔
وسل (وسلت) الی اللہ بالعمل اسِل من باب وعد رغبت و تقربت ومنہ استقاق الوسیلۃ وھی ما یتقرب بہ الی الشیٗ والمجمع الوسائل والسیل قیل جمع وسیلۃ وقیل لغۃ فیھا وتوسل الی ربہ بوسیلۃ تقرب الی بعمل۔
یعنی وسلت سے مراد کسی شے کی طرف قربت ، واسطہ ذریعہ حاصل کرنا ہے۔ اسکی جمع الوسائل اور الوسیل ہے، اور کہا کہ جمع وسیلۃ ہے ، اور کہا لغت میں اس سے مراد اللہ کی طرف ذریعہ (واسطہ) حاصل کرنا ہے (قربت کے لیئے) ۔
المصباح المنیر ، ص ۲۵۳،العالم العلامۃ احمد بن محمد بن علی الفیومی المقری متوفیٰ ۷۷۰ھ طبعۃ بِلونین میسرۃ مکتبۃ لبنان۔
المنجد فی اللغۃ والادب والعلوم ، میں بھی وسیلہ کا معنی (کوئی ایسا عمل اختیار کرنا کہ اللہ تک رسائی ہوسکے) اور (المنزلۃ عند الملوک) یعنی بادشاہوں(اختیار والوں) تک رسائی چاہنے کو وسیلہ کہتے ہیں۔
المنجد فی اللغۃ والادب والعلوم ۔ لسنۃ تاسع عشر۔ ج ۱ ص ۹۰۰ المطبعۃ الکاثولیکیۃ بیروت۔
الاستاذ الطاھر احمد الزاوی لکھتے ہیں؛۔
وس ل۔ (الوسیلۃ) ۔ والواسلۃُ: المنزلۃ عند الملک، والدرجۃ والقربۃ ووسل الی اللہ تعالیٰ توسیلاً ۔ والواسل: الواجبُ۔ والراغبُ الی اللہ تعالیٰ: والتوسل: السرقۃ ۔ یعنی وہ راہ جو (بادشاہوں) تک رسائی کے لیئے قربت کے لیے حاصل کی جائے اور (شرعی معنی) کہ اللہ کی طرف رسائی کا ذریعہ پیش کیا جائے یعنی توسل کیا جائے اللہ کی جانب ۔
ترتیب القاموس المحیط علی طریقۃ المصباح المنیر واساس البلاغۃ ،ج ۴ باب الواو۔ صفحہ ۶۱۲۔دارالفکر بیروت
محیط المحیط میں بھی وسل یعنی وسلیۃ کے بارے میں وہی کچھ مندرج ہے جو اوپر بیان ہوچکا ۔
حوالہ ۔ محیط المحیط قاموس مطول للغۃ العربیۃ۔ تالیف۔ المعلم بُطرس البُستانی۔ ص ۹۶۹ مکتبۃ لبنان، ساحتہ ریاض الصلح بیروت
معجم النفائس الکبیر ، دارالنفائس صفحہ ۲۲۰۹ زیر تحت لفظ (وسل) وہی سب لکھا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ وسل الی اللہ بوسیلۃ وتوسل:(اللہ کی جانب رجوع بواسطہ وسیلہ)۔وہ عمل جو اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیئے کیا جائے یعنی وہ ذریعہ جو اللہ تک پہنچائےاسکے علاوہ وسیلہ نبی  کا وہ بلند و ارفع درجہ ہے جو جنت میں ہوگا۔ (یعنی یہاں انکی مراد وہ وسیلہ بیان کرنا ہے جسکا حکم حدیث رسول میں بھی آیا ہے کہ نماز کے بعد دعا میں )۔
لغات کے ایک اور مشہور امام ، حضرت الامام جرجانیؒ نے لکھا ہے؛۔
الوسیلۃ؛ ھی ما یُتقرب بہ الی الغیر۔ (۱۹۷۰) صفحہ ۲۱۱معجم التعریفات۔ علامہ علی بن محمد السید الشریف الجرجانیؒ۔ دارالفضیلۃ۔
اسی طرح المعجم الوسیط عربی اردو ترجمہ میں لکھا ہے؛۔
وسل ۔ فلاں الی اللہ تعالیٰ۔ کوئی ایسا کام کرنا جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔ اور ۔ فلان الی اللہ بالعمل۔ یعنی۔ عمل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب چاہنا۔ الی فلان بکذا۔ کسی سے بذریعہ قرابت تعلق چاہنا۔ (الواسل) واجب ، ضروری، لازمی (الواسلۃ) تانیث الواسل (۲) بادشاہ کے یہاں مقام و مرتبہ (۳) درجہ مقام و تقرب۔ (الوسیلۃ) الواسلۃ مقام و مرتبہ ، ۲ قربت ، تعلق، اور ۳ نبی کریم ﷺ کا جنت میں درجہ ۔
حوالہ؛۔ المعجم الوسیط ۔ صفحہ ۱۲۵۵ باب الواو ۔ مکتبہ رحمانیہ لاہور پاکستان۔
امام اللغت ابو الحسن احمد ابن الفارسؒ کی ایک اور تصیف میں لکھا ہے؛۔
وسل: الواسل: الراغب الی اللہ۔ جل ثناؤہ۔ باقی پہلے کی طرح جیسا پہلے بیان ہوا۔
حوالہ؛ مجمل اللغۃ۔ لابی الحسن احمد بن فارس بن زکریا اللغوی۔ متوفیٰ ۳۹۵ ھ۔ جز ۱ ص ۹۲۵ زیر تحت (وسل)۔موسسۃ الرسالۃ بیروت۔
مشہور امام اللغات مجدالدین فیروزآبادیؒ نے اپنی القاموس المحیط عربی میں وسیلہ کے وہی معنی دیئے ہیں جو متعدد بار اوپر بیان ہوچکے۔ حوالہ یہ رہا۔
القاموس المحیط۔(عربی) حرف الواو۔ لفظ (وسل) ۱۰۱۰۷۔ صفحات ۱۷۵۳ و ۱۷۵۴ دارالحدیث قاھرہ مصر۔
امام مجد الدین ابی السعادات المبارک بن محمد الجزری ابن الاثیرؒ لکھتے ہیں؛۔
فی حدیث الاذان: اللھم آتِ محمدا الوسیلۃ۔ ھی فی الاصل: مایتوصل بہ الی الشیٗ ویتقرب بہ ۔ والمراد بہ فی الحدیث القرب من اللہ۔تعالی۔ وقیل: ھی الشفاعۃ یوم القیامۃ۔ وقیل ھی منزلۃ من منازل الجنۃ کما جاٗ فی الحدیث۔
یعنی۔ اذان کی حدیث میں جو ذکر آیا ہے (یعنی اذان کے بعد کی دعا) وہ اس لفظ کی اصل ہے۔ اور اس کا مطلب ہے کسی شئے تک قربت رسائی حاصل کرنا۔ اور توسل سے مراد جیسا کہ حدیثِ قرب میں بیان ہوا ہے وہ اللہ کی جانب راہ کرنا ہے۔ اور فرمایا۔ اس سے مراد روزِ محشر شفاعت ہے (یعنی شفاعتِ کبریٰ) پھر فرمایا؛ یہ ایک درجہ ہے جنت کے درجوں میں جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔
حوالہ؛۔ النھایۃ فی غریب الحدیث والاثر۔ امام مبارک بن محمد الجزری ابن الاثیرؒ۔ صفحہ ۹۷۲۔ دارابن الجوزی۔
حافظ سید فضل الرحمٰن اپنی تصنیف لطیف معجم القرآن میں لکھتے ہیں؛۔
وسیلۃ؛ وسیلہ، قرب، نزدیکی، اسم ہے ،جمع وسائل۔ رغبت کے ساتھ کسی شئے کی طرف پہنچنا۔ بحوالہ المفردات۔ ۵۲۳۔و ۵،۳۵ و۵۷۔۱۷۔ صفحہ ۴۹۱ باب الواو۔ زوار اکیڈمی پبلی کیشنز۔ کراچی پاکستان۔
دیوبندیوں کے ایک مشہور عالم مولانا زین العابدین سجاد میرٹھی نے اپنی قاموس میں کچھ ایسے تحریر کیا ہے؛۔
وسیلۃ؛ نزدیکی، قرب ، وسیلہ۔ امام راغب اصفہانی لکھتے ہیں الوسیلہ،التوصل الی الشیٗ برغبت (رغبت کے ساتھ کسی شے کی طرف پہنچنا)۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے۔ یا ایھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وابتغواالیہ الوسیلۃ وجاھدو انی سبیلہ لعلکم تفلحون۔اے ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو اور ڈھونڈو اسکی طرف وسیلہ اور جہاد کرو اسکے راستہ میں تاکہ تم فلاح پاو۔ اس آیت مبارکہ میں وسیلہ سے مراد علم، عبادت اور شریعت کے اعلیٰ اخلاق کو اختیار کرکے سبیل اللہ کی محافظت ہے اور وہ قربۃ و نزدیکی ہی کے معنیٰ میں ہے۔ (مفردات)۔ مشہور صوفی مشرف مفسر شیخ اسماعیل حقی صاحبِ روح البیان لکھتے ہیں؛۔ ای!طلبوا لانفسکم الی توابہ والزلفیٰ منہ القربۃ بالاعمال الصالحہ(یعنی طلب کرو اپنے لیئے نیک اعمال کے ذریعہ نزدیکی اللہ تعالیٰ کے ثواب اوراسکے مقام ِ قرب کی طرف) آگے لکھتے ہیں:۔ یہ فعلیۃ کے وزن پر ہے وسل الی کذا تقرب الیہ سے اور اسکے معنےٰ ہیں وہ کام جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیاجاسکے۔ اسکی جمع وسائل ہے۔ (روح البیان ج ۲ ص ۳۸۷)۔ پھر مولانا نے ایک لمبی تفصیل لکھی ہے جس میں انور شاہ کشمیری کے حوالے سے لکھا ہے کہ انہوں نے اسکے متعلق (یعنی توسل) کے متعلق یہ لکھا ہے کہ توسل جس انداز پر ہمارے زمانہ میں معروف ہے۔ سلف میں نہیں تھا ۔ جب وہ کسی بزرگ کے ذریعہ سے توسل کرتے تھے تو اسکی صورت یہ ہوتی تھی کہ وہ انہیں اپنے ساتھ دعا مین شامل کرتے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے تھے اور اسی سے مدد طلب کرتے تھے اور ان بزرگ کی شمولیت کی برکت سے اپنی دعا کی قبول کی امید کرتے تھے۔ اور حدیث میں جو ضعفا وصالحین سے استعانت (مدد) ثابت ہوتی ہے وہ یہی ہے۔ جنانچہ حدیثِ استسقاٗ میں صحابہ کرام کا حضرت عباسؓ سے توسل اسی نوعیت کا ہے ۔ رہا بزرگوں کے ناموں سے توسل جیسا کہ ہمارے زمانے میں مروج ہے کہ ان بزرگوں کو اسکا علم بھی نہیں ہوتا۔بلکہ وہ زندہ بھی نہیں ہوتے۔ صرف انکے کاموں کے ذریعہ توسل کیا جاتا ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالی کے ہاں جو درجہ حاصل ہے انکو اسکی وجہ سے وہ ان کے ناموں کے ذکر کے سبب دعا مانگنے والوں کو محروم نہ رکھے گا۔ تو میں اسکی تفصیلات میں جانا ناپسند کرتا ہوں۔ پھر مولانا انور شاہ کے ہی حوالے سے لکھا ہے کہ علامہ ابن تیمیہ نےتو اسے حرام کہا ہے لیکن صاحب درمختار نے اسکی اجازت دی ہے۔ مگر سلف سے کوئی دلیل اس پر قائم نہیں کی۔
حوالہ؛۔ قاموس القرآن ۔ از مولانا زین العابدین میرٹھی۔ صفحات ۶۳۸ و۶۳۹ ۔دارالاشاعت کراچی۔
تبصرہ:۔ جہاں تک مولانا انور شاہ کشمیری کی اس بات کا تعلق ہے کہ اسکا سلف سے کوئی ثبوت نہیں تو یہ فقط ان کی یاوہ گوئی ہ ے کیونکہ مستند تفاسیر اور احادیث سے ہم ثابت کرچکے ہیں اور کررہے ہیں کہ سلف کے مطابق بھی انبیا و اولیا کا باقاعدہ نام لے کرپکارنا بالکل جائز ہے۔ ورنہ عمرؓ نے عباسؓ کے متعلق یوں نہ ارشاد فرمایا ہوتا کہ (ہم تیرے نبی کے چچا کا وسیلہ پیش کرتے ہیں) اور ایسے ہی حضرت معاویہؓ نے جو حضرت یزید بن الاسودؓ کا وسیلہ پیش کیا باقاعدہ ان سے التجا و ندا کی اسکے علاوہ انور شاہ کشمیری صاحب نے انتہائی بددیانتی کا ثبوت دیا ہے یہ کہہ کر کہ ابن تیمیہ نے اس کا مکمل انکار کیا ہے۔ وہ غالباً یہ بتانا بھول گئے تھے کہ اسی ابن تیمیہ کا خود تمام تر علمائے اسلام نے رد فرمایا ہے اور خود ابن تیمیہ نے بھی انہیں احادیث کو صحیح الاسناد مانا ہے تو پھر اس کا انکار فقط اپنی مذہبی دکانداریوں کو چمکانا ہے۔ نیز صاحب درمختار ہمارے لیئے ابن تیمیہ سے کروڑہادرجہ بلند ہیں کیونکہ حنفیت کو صاحبِ درمختار کے قول پر عمل واجب ہے نا کہ ابن تیمیہ، دیوبند یا وہابیت کے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف قربت تلاش کرنا ہی وسیلہ کا مفہوم ہے۔ جبکہ انہوں نے قرآنی آیت میں بھی ڈنڈی ماری ہے۔ کہ (ابتغوا الیہ الوسیلۃ بالاحسانہ) یعنی اللہ فرماتا ہے میری طرف وسیلہ ڈھونڈو بھلائی کے ساتھ۔ اور اللہ کی بارگاہ میں اسکے تمام محبوب بندے ہمارا وسیلہ واسطہ ار مددگار ہیں۔ اور دعا ہی میں شامل ہوتے ہیں۔ کوئی بھی سنی حنفی صوفی مسلمان کسی ولی کو یا نبی کو اللہ سمجھ کر نہیں پکارتا نا ہی ان شخصیات کو الوہیت اور اسکی صفات میں شمار کرکے ان کو مددگارِ مطلق سمجھ کر پکارتا ہے۔ بلکہ پکارنے سے مراد یہی ہوتی ہے کہ اللہ کے دربار میں انکی سفارش پیش کی جائے ہماری طرف سے تاکہ دعاوں کی قبولیت میں زیادتی کا امکان ہو۔ اللہ ہمیں ایسے ایمان کے راہزنوں سے بچائے۔
ان کے ہی ایک اور دیوبندی عالم نے اپنی قاموس الوحید میں وسیلہ کے معنوں میں تحریر کیا ہے کہ۔۔۔ الوسیلۃ؛ ذریعہ، واسطہ ، مقام ومرتبہ۔ قرب و تقرب۔ جنت میں رسول اللہ ﷺ کا درجہ ومقام۔ ۔ یعنی انورشاہ کشمیری وپارٹی کے اپنے الفاظ کی تردید انکے اپنے ہی علمائے کرام سے موجود ہے۔
(حوالہ؛۔ القاموس الوحید۔ صفحہ ۱۸۵۰ تالیف؛ مولانا وحید الزماں قاسمی کیرانوی۔ استاذ حدیث و ادب عربی و معاون مہتمم دارالعلوم دیوبند۔ ادارہ اسلامیات لاھور کراچی پاکستان۔
امام جوھری ؒ کی الصحاح تاج اللغۃ وصحاح العربیۃ کا ایک اور حوالہ و ایڈیش یہ رہا۔ صفحہ ۱۲۴۵ حرف الواو۔ دارالحدیث قاھرہ مصر۔
ائمہ لغت کی ان تین بنیادی تصریحات سے واضح ہوگیا کہ جس چیز سے غیر کا تقرب حاصل کیا جائے وہ وسیلہ ہے، اللہ تعالیٰ کا تقرب اعمالِ صالحہ اور عبادات سے ہوتا ہے، تاہم انبیا علیھم السلام اور اولیائے کرام کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جو عزت اور وجاہب حاصل ہے، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت دعا کے لیئے اس عزت و وجاہت کو پیش کرنا اور ان سے دعا کی درخواست کرنا بھی جائز ہے، زندگی میں اور بعد از وفات بھی۔

مکمل تحریر >>