Pages

Friday, 2 December 2016

اُن کے قصرِ قَدر سے خُلد ایک کمرہ نُور کا سِدرہ پائیں باغ میں ننھا ساپَودا نُورکا

✨ اُن کے قصرِ قَدر سے خُلد ایک کمرہ نُور کا
سِدرہ پائیں باغ میں ننھا ساپَودا نُورکا ✨

ہمارے آقاومولا صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ کے ہاں جو قدرومنزلت تھی اُسے لفظوں میں تو بیان نہیں کیا جاسکتا تھا ، بہ قول حضرتِ بوصیری :

فَان فضلَ رسولِ اللہ لیسَ لہ
حدٌّ فَیعربَ عنہ ناطق بفمِ
(بے شک رسول اللہ کی فضیلت کی کوئی حد نہیں ، جسے کوئی بتانے والا اپنے منہ سے بیان کرسکے )

میرے امام سیدی احمد رضاخان نے ایک مثال دے کر یوں سمجھانے کی کوشش کی :

اُن کے قصرِ قَدر سے خُلد ایک کمرہ نُور کا
سِدرہ پائیں باغ میں ننھا ساپَودا نُورکا

☀️ اُن سے مراد رسولِ مجتبی ہیں -
☀️ قصر ، محل کوکہتے ہیں -
☀️ قدر ، عزت ومنزلت کے معنیٰ میں ہے -
☀️ خُلد ، ہمیشہ رہنے والی جنت کا نام ہے -
☀️ سدرہ ، ایک درخت ہے جس کی جڑیں چھٹے آسمان پر ، تنا ساتویں آسمان پر اور شاخیں حاملین عرش کے سروں کے اُوپر ہیں ؛  وہیں مخلوق کے علوم کی انتہا ہوتی ہے -
( انظر : الجامع لاحکام القرآن ، قرطبِی ، تحت سورۃ النجم 14 ، ج 17 ، ص 95 ، دارالکتب المصریۃ القاہرۃ ، الطبعۃ الثانیۃ 1384ھ )

☀️ پائیں باغ ، اس خوب صورت باغ کو کہتے ہیں جو محل کے صحن میں لگایا جاتا ہے -
☀️ ننھا ، چھوٹے کو کہتے ہیں اور جب اس کے ساتھ " سا " لگے گا تو معنی ہو گا بہت چھوٹا
☀️ پودا بھی چھوٹے درخت کوکہتے ہیں -

اب سمجھیے:

رسول اللہ کی عزت ایک بلند وبالا محل کی طرح ہے - وہ خُلد جو خود آسمانوں سے اوپر ہے ، وہ بھی میرے محبوب کے " محل"  کا " ایک کمرہ " ہے -
اور  کمرہ محل کے اوپر نہیں ، نیچے ہی ہوا کرتا ہے -
بس جو جنت خود آسمانوں سے اوپرہے وہ بھی میرے حبیب کے محل کا ایک کمرہ ہے -
( یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ اس کمرے(خلد) میں کون کون سی نعمتیں جمع ہیں !!)

پھر اُس عظیم محل کی " سطحِ زمین"  پر لگے باغ کے علو کا یہ عالم ہے کہ وہ سدرہ ، جس کی جڑیں چھٹے آسمان پر ، تنا ساتویں آسمان پر اور شاخیں حاملین عرش کے سروں کے اُوپر ہیں

وہ.........

بھی اُس باغ میں " چھوٹے سے " پودے کی طرح ہے -

یہ بھی یاد رہے کہ :

محلات ، اینٹ ، پتھر سے تعمیر ہوتے ہیں ، رنگ وروغن سے مزین کیے جاتے ہیں اور فانوس وقُمقموں سے روشن -
اور درخت ، شاخوں ، پتوں وغیرہ سے مرکب ہوتے ہیں -

مگر یہ ساری چیزیں نظیف ہونے کے ساتھ کثیف بھی ہوتی ہیں -
لیکن نور ایسی چیز ہے جس میں لطافت ہے ، کثافت کا تصور بھی نہیں !
میرے امام نے  نورٌ علیٰ نور محبوبﷺ کے محل کے کمرے اور باغ کے چھوٹے سے پودے کو بھی محض کمرے اور پودے سے تشبیہ نہیں دی " نور کے " کمرے اور پودے سے تشبیہ دی ، جس میں لطافت ہی لطافت ہے -

اب سمجھ کر پڑھیں :

اُن کے قصر قدر سے خلد ایک کمرہ نور کا
سدرہ پائیں باغ میں ننھا ساپودا نورکا

( محمد لقمان عفاعنہ الرحمٰن )

مکمل تحریر >>

Thursday, 1 December 2016

سوال: کیا ایسا کوئی عمل جو سرور کونین ﷺ کے اسوہ سے ثابت نہیں ہے کرنا دین میں اضافہ اور بدعت نہیں ہے؟ اس اعتراض کا جواب پڑھیئے

سوال: کیا ایسا کوئی عمل جو سرور کونین ﷺ کے اسوہ سے ثابت نہیں ہے کرنا دین میں اضافہ اور بدعت نہیں ہے؟ اس اعتراض کا جواب پڑھیئے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بدعت کا لغوی معنی

نیا کام، نئی ایجاد، نئی بات

بدعت کاشرعی معنی

ہر وہ کام جو سرکار اعظمﷺ کی ظاہری حیات مبارکہ میں نہ ہو بلکہ بعد میں ایجاد ہوا ہو۔

بدعت کی دو قسمیں ہیں

(1) بدعت حسنہ (2) بدعت سیہ

اب ان دو اقسام پر روشنی ڈالتے ہیں

(1) بدعت حسنہ کی تعریف

ہر وہ طریقہ جو سرکار اعظمﷺ کے زمانہ میں نہ ہو ، بعد میں ایجاد ہوا ہو اور وہ کام شریعت کے خلاف نہ ہو جیسے نماز تراویح، جماعت کے ساتھ ادا کرنا، قرآن وحدیث کو سمجھنے کے لئے بہت سے دوسرے علوم و فنون پڑھنا اور سیکھنا، دینی مدارس قائم کرنا، قرآن مجید کے اعراب کا لگایا جانا، قرآن مجید پر غلاف چڑھانا، قرآن مجید کی اعلیٰ طباعت کے ساتھ شائع کرنا، مساجد میں محرابیں بنانا، مساجد کے بلند مینار تعمیر کروانا، جمعہ کے دن دو اذانیں دینا، دانے والی تسبیح پڑھنا وغیرہ وغیرہ

کتاب کشاف اصطلاحات الفنون جلد اول صفحہ 122 میں حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ کے حوالے سے ہے کہ وہ بدعت جو کتاب اﷲ، سنت، اجماع یا اثر صحابہ کے خلاف نہ ہو تو یہ بدعت حسنہ ہے۔

بدعت حسنہ پر عمل کرنا باعث اجروثواب ہے

من سنن فی الاسلام سنۃ حسنۃ فلہ اجرہا واجرمن عمل بہا من غیر ان ینقص من اجورہم شئ

ترجمہ: جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اس کا ثواب ملے گا اور اس کا بھی جو اس پر عمل کریں گے اور ان کے ثواب میں کچھ کمی نہیں ہوگی (ابو داؤد شریف)

یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ہر وہ اچھا کام جو سرکار اعظمﷺ کے زمانہ اقدس میں نہ ہو، بعد میں ایجاد ہوا ہو اور شریعت کے مخالف نہ ہو تو ایسے کام کو اپنانا اور ایجاد کرنا دونوں باعث اجر ہیں۔

عن ابی سلمہ ان النبیﷺ عن الامر یحدث لیس فی کتاب ولا سنۃ فقال ینظر فیہ العابدون من المومنین

ترجمہ: حضرت ابو سلمہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار اعظمﷺ سے ایسے نئے کام جس کی وضاحت کتاب وسنت میں ہو کے متعلق پوچھا گیا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس امر محدث کے بارے میں عابدین مومنین کو غوروفکر کرنا چاہئے (سنن دارمی باب النورع عن الجواب فی مالیس فیہ کتاب ولا سنتہ جلد اول ص 54)

اس حدیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہر نئے کام کو برا سمجھ کر رد نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کے لئے یہ واضح حکم موجود ہے کہ مجتہدین اور اہل اﷲ اس کے بارے میں فیصلہ کریں۔

اسی بناء پر حضرت امام نووی علیہ الرحمہ اور دوسرے بہت سے ائمہ نے بدعت کی پانچ اقسام بیان کی ہیں۔

(1) بدعت واجب، (2) بدعت مندوبہ، (3) بدعت مباحہ، (4) بدعت مکروہہ، (5) بدعت حرام

ماراہ المسلمون حسنا فہو عنداﷲ حسن : ترجمہ: جس کام کو مسلمان اچھا جانیں وہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک اچھا ہے (موطا امام محمد باب قیام شہر رمضان ص 144)

(1) امام کاسانی علیہ الرحمہ بدائع الصنائع میں فرماتے ہیں:

اتباع مااشتہر العمل بہ فی الناس واجب

ترجمہ: جو عمل لوگوں میں مشہور ہوجائے جبکہ شریعت کے مطابق ہو، اس کی اتباع ضروری ہے (بحوالہ: بدائع الصنائع فصل فی بیان یامستحب فی یوم العید، جلد اول)

(2) علامہ بدرالدین عینی (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری) علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جو کام شریعت کے مخالف نہ ہو تو وہ ’’بدعت حسنہ‘‘ یعنی اچھی بدعت ہے۔

(3) علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ، شامی کے مقدمے میں فرماتے ہیں ’’یہ حدیث اسلام کے قوانین ہیں کہ جو شخص کوئی بری بدعت ایجاد کرے، اس پر تمام پیروی کرنے والوں کا گناہ ہے اور جو شخص اچھی بدعت نکالے، اسے قیامت تک اس عمل کی پیروی کرنے والوں کا ثواب ہوگا‘‘ اگر یہ کہا جائے کہ بدعت حسنہ یعنی اچھی بدعت کوئی چیز نہیں ہے تو یہ بات مسلم شریف کی حدیث کے خلاف بھی ہوسکتی ہے۔

(4) شیخ وحید الزماں جوغیر مقلدین اہلحدیث کے امام ہیں، حضرت شاہ ولی اﷲ علیہ الرحمہ کے حوالے سے اپنی کتاب ہدیۃ المہدی ص 117 میں لکھتے ہیں کہ بدعت حسنہ (اچھی بدعت) کو دانتوں سے (مضبوطی سے) پکڑ لینا چاہئے کیونکہ سرکار اعظمﷺ نے اس کو واجب کئے بغیر اس پر برانگیختہ کیا ہے جیسے نماز تراویح۔

(5) حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ماہ رمضان میں نماز تراویح کی جماعت کا اہتمام کیا تو کسی نے عرض کیا کہ یہ ’’بدعت‘‘ ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جواب میں فرمایا ’’نعمت البدعۃ ہذہ‘‘ یہ کتنی اچھی بدعت ہے

ان تمام احادیث اور علمائے امت کے اقوال سے یہ بات نہایت آسانی سے معلوم ہورہی ہے کہ ہر وہ ایسا عمل جو سرکار اعظمﷺ کے زمانہ میں نہیں تھا بلکہ بعد میں ایجاد ہوا، اگر وہ شریعت مطہرہ اور سنت رسولﷺ کے مخالف نہیں تو اس پر عمل کرنا مستحب اور بعض صورتوں میں ضروری ہے۔

سرکار اعظمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اسلام میں اچھا طریقہ نکالا اس کے لئے اس کا ثواب ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا ثواب بھی (بحوالہ مسلم شریف، جلد تیسری، ص 718)

مسلم شریف کی حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر وہ اچھا کام جو سرکار اعظمﷺ کے زمانہ میں نہ ہو بعد میں ایجاد ہوا اور شریعت کے مخالف نہ ہو تو ایسے کام کو اپنانا اور ایجاد کرنا دونوں باعث اجر ہیں۔

تفسیر روح البیان میں ہے کہ وہ کام جسے علماء اور عارفین ایجاد کریں اور وہ سنت کے خلاف نہ ہو تو یہ اچھا کام ہے۔

(2)بدعت سیۂ کی تعریف

ہر وہ کام جو سرکار اعظمﷺ کے زمانے میں نہ ہو بلکہ بعد میں ایجاد ہوا ہو اور وہ شریعت کے مخالف ہو۔

(1) کتاب اصطلاحات الفنون ص 133 جلد اول میں ہے کہ حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ وہ بدعت جو کتاب، سنت، اجماع یا اثر صحابہ کے خلاف ہو تو یہ بدعت سیۂ یعنی بری بدعت ہے۔

(2) کتاب نیل الادطارباب صلوٰۃ جلد سوم ص 57 میں ہے کہ اگر بدعت ایسے وصول کے تحت داخل ہے جو شریعت میں قبیح ہے تو یہ بدعت سیۂ ہے۔

(3) امام حجر عسقلانی علیہ الرحمہ فتح الباری میں فرماتے ہیں کہ دین میں کسی ایسی نئی چیز کا ایجاد کرنا جس کی اصل (دلیل) شریعت میں نہ ہو)

(4) علامہ ابن منظور افریقی فرماتے ہیں کہ وہ نئی بات جو قرآن و حدیث کے خلاف ہو، بدعت سیۂ ہے۔

(5) مشکوٰۃ المصابیح باب الاعتصام جلد اول میں ہے کہ جس شخص نے ہمارے دین میں کوئی نیا عقیدہ ایجاد کیا کہ جو دین کے خلاف ہو تو ہو مردود ہے۔

(6) علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں کہ ’’ہر نیا کام بدعت ہے‘‘ سے مراد وہ نیا کام ہے جو شریعت کے مخالف ہو اور سنت کے موافق نہ ہو۔

معلوم ہوا کہ جو چیز اسلام سے ٹکرائے وہ بدعت سیۂ یعنی بری بدعت ہے اور جو دین اسلام سے نہ ٹکرائے اور جن کاموں کو قرآن و سنت میں منع نہیں کیا گیا، وہ بدعت حسنہ یعنی اچھی بدعت ہے۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اہل بیت اطہار نے سرکار اعظمﷺ کے ظاہری زمانے میں اور بعد میں اپنے دل سے بہت سی ایسی اچھی بدعتیں یا نئے کام بھی کئے، جن کا حکم نہ قرآن مجید میں آیا، جو نہ سرکار اعظمﷺ نے خود کئے اور نہ کرنے کا حکم دیا۔

(1) حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے کاتب وحی حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کو قرآن مجید جمع کرنے کا حکم دیا تو حضرت زید رضی اﷲ عنہ نے عرض کیاکہ آپ رضی اﷲ عنہ وہ کام کیوں کرتے ہیں جو سرکار اعظمﷺ نے نہیں کیا؟ تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ یہ کام اچھا ہے (بخاری شریف)

(2) نماز تراویح ایک عبادت ہے جو سرکار اعظمﷺ کی ظاہری حیات میں ہر سال پورے رمضان جماعت سے نہیں ہوئی تھی مگر حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسے رائج کرتے ہوئے اس کے لئے ’’بدعت‘‘ کا لفظ استعمال کیا اور فرمایا ’’یہ کتنی اچھی بدعت ہے‘‘ (بخاری شریف)

(3) حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے جمعہ میں دو اذانوں کا طریقہ شروع کیا

(4) حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے ایک ہی شہر میں نماز عید کے دو اجتماعات شروع کئے

(5) حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے علم نحو ایجاد کیا

(6) حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے علم صرف ایجاد کیا

(7) حضرت حباب رضی اﷲ عنہ نے پہلی مرتبہ شہید کئے جانے سے پہلے دو رکعت نفل ادا کئے

(8) حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے وعظ کے لئے جمعرات کا دن متعین کیا (بخاری شریف)

(9) حضرت بلال رضی اﷲ عنہ وضو کے بعد دو رکعت نماز ادا فرماتے تھے حالانکہ سرکار اعظمﷺ نے انہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا

(10) حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے قرآن مجید کو جمع کرکے ایک کتابی صورت تشکیل دی۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ایجاد کردہ کام ’’بدعت‘‘ ہیں یا ’’سنت‘‘؟ کچھ علماء کا خیال ہے کہ ’’سنت‘‘ ہے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے طریقوں پر چلنے کی ہدایت سرکار اعظمﷺ کے فرمان میں موجود ہے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ایجاد کردہ کام ’’بدعت حسنہ‘‘ ہیں۔ حدیث شریف میں خلفائے راشدین کی ’’سنت‘‘ کا مطلب ان کا طریقہ ہے اور یہ طریقہ ان معنوں میں ’’سنت‘‘ نہیں جس طرح کہ سرکار اعظمﷺ کی سنت ہے۔

مکمل تحریر >>

اعتراض : کیا رحمت کائناتﷺ کی صورت میں اﷲ تعالیٰ نے ہمیں جو عظیم نعمت عطا فرمائی ہے اس نعمت پر اﷲ کی شکر گزاری کرنے کا طریقہ اس رسولﷺ کے اسوہ کو اور اس کی لائی ہوئی شریعت کو اختیار کرنا نہیں ہے؟

اعتراض : کیا رحمت کائناتﷺ کی صورت میں اﷲ تعالیٰ نے ہمیں جو عظیم نعمت عطا فرمائی ہے اس نعمت پر اﷲ کی شکر گزاری کرنے کا طریقہ اس رسولﷺ کے اسوہ کو اور اس کی لائی ہوئی شریعت کو اختیار کرنا نہیں ہے؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جواب : میلاد منانا ہی اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے۔ عید میلاد النبیﷺ میں اﷲ تعالیٰ کی نعمت رسولﷺ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ ذکر رسولﷺ کرکے محفلیں منعقد کرکے اﷲ تعالیٰ کی نعمت کا چرچہ کرتے ہیں۔ رسول اﷲﷺ نعمت ہیں، اس نعمت کا ذکر کرتے ہیں، نئے کپڑے پہن کر، چراغاں کرکے صدقہ و خیرات کرکے اﷲ تعالیٰ کی نعمت پر خوشی مناتے ہیں۔ اس کا حکم قرآن مجید میں خود اﷲ تعالیٰ دیتا ہے۔

ترجمہ: تم فرماؤ اﷲ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں ۔

(سورہ یونس آیت 58 پارہ11)
------------------------------------------------------------------------------
اعتراض : کیا رحمت عالمﷺ سے محبت کا سب سے بڑا ثبوت زندگی گزارنے کے لئے آپ کے طریقوں پر چلنا نہیں ہے؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جواب: سرکار ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنا واقعی میں محبت کی بنیاد ہے مگر یاد رہے جس سے محبت ہو، اس سے نسبت رکھنے والی ہرچیز سے محبت ہونی چاہئے، میلاد سے عداوت رکھ کر سنتوں پر عمل کرنا یہ سچی محبت نہیں ہے، عیب والی محبت ہے۔

مکمل تحریر >>

تم لوگ میلاد پر وسائل کا اسراف (چراغاں) وغرہ کرتے ہو اگر اس خرچ کو جمع کیا جائے تو ہزاروں، بیروزگاروں کوکاروبار کرایا جاسکتاہے، جائز ہے؟ اس اعتراض کا جواب

تم لوگ میلاد پر وسائل کا اسراف (چراغاں) وغرہ کرتے ہو اگر اس خرچ کو جمع کیا جائے تو ہزاروں، بیروزگاروں کوکاروبار کرایا جاسکتاہے، جائز ہے؟ اس اعتراض کا جواب
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محسن انسانیتﷺ کی ذات اور آپﷺ کا مرتبہ و مقام اس قدر بلند ہے کہ جس قدر ان کی ولادت کی خوشی میں چراغاں کیا جائے، کم ہے جہاں تک اسراف (فضول خرچی) کا تعلق ہے تو یاد رکھئے جو کام کسی نیک مقصد کے لئے کیا جائے وہ اسراف (فضول خرچی) نہیں ہوتا۔

سال کے بارہ مہینوں میں صرف ایک ربیع الاول کے مہینے کے بارہ دن غریبوں کا خیال آنے والے مالداروں سے ہمارے سوالات:

پوری دنیا کے یتیم، مسکین، بیوہ، نادار، بے روزگار اور غریبوں کا خیال صرف ربیع الاول میں ہی آتا ہے؟

* اپنے بیٹے یا بیٹی کی منگنی میں لاکھوں روپے خرچ کرتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟

* اپنے بیٹے یا بیٹی کی شادی کے موقع پر لاکھوں روپے خرچ کرتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟

* روزانہ ہوٹلوں پر اور اپنے دفاتر میں ہزاروں روپے لنچ اور ڈنر پر خرچ کرتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟

* اپنی اولاد کی سالگرہ کے موقع پر لاکھوں روپے خرچ کرتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟

* اپنے محلات، بنگلوں، کوٹھیوں اور گھروں پر کروڑوں روپے خرچ کرتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟

اپنے گھر کے ہر فرد کے لئے علیحدہ علیحدہ گاڑیاں رکھتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟

* اپنے گھروں میں پارٹیوں کے انعقاد پر لاکھوں روپے خرچ کرتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟

* اپنے جلسوں پر لاکھوں روپے خرچ کرتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟

* ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں بیرون ملک پکنک پر جانے کی غرض سے لاکھوں روپے خرچ کرتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟

کیسے آئے گا؟ اور کیوں کر آئے گا؟ اس لئے کہ وہاں واہ واہ ہوتی ہے۔

نادانو! ذرا سوچو! جس محسن انسانیت کے صدقے تمہیں سب کچھ ملا، اس کی ولادت کی خوشی میں خرچ تمہیں اسراف نظر آتا ہے، یقیناًیہ تمہاری بدبختی ہے۔

مکمل تحریر >>

جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور راہِ اعتدال

جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور راہِ اعتدال

    اسلام ایک آفاقی مذہب ہے؛ اس کی تعلیمات بھی آفاقی ہیں۔اسلامی تعلیمات میں حکمت و دانش کے لعل و جواہر ہیں۔ احکامِ اسلام میں حلال و حرام کو بالکل واضح کردیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ جو بھی ہیں اگر وہ شریعتِ اسلام سے متصادم نہیں تو ان اعمال و اشغال کو مباح ٹھہرا کر جائز مانا جاتا ہے اور اگر ان سے اسلام کو کسی بھی طرح سے تقویت ملے تو انہیں ’’مستحب‘‘ کا درجہ دیا جاتا ہے۔اسی طرح وہ نئے افعال و اشغال جو اسلام کے کسی اصول سے مخالف ہوں تو انہیں اصولی طور پر ناجائزہی مانا جاتاہے۔ ان اصول کی تشریحات کتبِ فقہ میں مع امثال موجود ہیں جن کی تفہیم انتشار و افتراق کے دفع میں معاون ہوتی ہے۔

    ماہِ ربیع الاول کی آمد آمد ہوتے ہی مسلم معاشرے میںایک عجیب ماحول پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ جائز ہے ،یہ نا جائز ہے، اس کی یہ دلیل ہے،اس کی کیا دلیل ہے؟کس نے کب کیا کِیا؟آج یہ سب کیوں کیا جارہا ہے؟وغیرہ جیسے اَن گِنت اعتراضات و سوالات سوشل میڈیا اور نجی گفتگو کا مرکز ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے سال بھر اس موقع کا انتظار ہوتا ہے جب لوگوں کو حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا علم سیکھنے کا جذبہ وقتی طور پر بیدار ہوتا ہے یا کیا جاتا ہے۔ پھر جشنِ میلاد کے بعد سال بھر حلال و حرام ، جائز و ناجائز کی تمیز کی کسی کو فکر نہیں ہوتی۔ (الا ماشاء اللّٰہ)اخبارات میں سیرت کے موضوع پر اکثر مضامین شائع ہوتے ہیں؛ جن میں جہاںسیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا جاتا ہے وہیں کچھ مقالہ نگار حضرات نہ جانے کیوں اشارے کنائے بلکہ واضح جملوں میں بھی ایسی باتیں تحریر کرجاتے ہیں جو ان کی متشدد فکر کی عکاسی کرتی ہے۔ جب کہ ایک مضمون نگار اور صحافی کو معتدل مزاج اور منصف نظر ہونا چاہیے اور کسی بھی بہترین مقالہ نگار کا بنیادی وصف یہی ہے کہ وہ جس موضوع پر لکھنا چاہے تو اس کے دونوں پہلو کو سامنے رکھ کر وہی تحریر کرے جو حق اور درست ہو۔

    جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے ہر حصے میں منایا جاتا ہے۔ اور اسلامی تاریخ کے ہر دور میں اس کی اصل موجود رہی ہے۔ اگرچہ مروجہ طریقہ مختلف ہے مگر اصل روح یعنی ذکرِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق اہتمام کرنے کی روایت بلا شبہہ اسلامی تاریخ و روایت کا اٹوٹ حصہ ہے۔ اور اگر بالفرض اس جشن کی کوئی اصل موجود نہ ہو تب بھی اس جشن کے اہتمام، جلوس و چراغاں، محافلِ ذکر میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انعقاد یقینا شوکتِ اسلام و عظمتِ اسلام کے اظہار کا ذریعہ ہے؛ جس سے یقینا اسلام اور مسلمانوں کو تقویت ملتی ہے۔ اگر تشدد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان افعال پر فتوے داغے گئے تو ان سیاسی و احتجاجی ریلیوں، احتجاجی مظاہروں مذہبی شخصیات کے خلاف بھونکنے والوں کے خلاف مذمتی اقدام کے لیے کہاں اور کس منہ سے دلائل پیش کیے جائیں گے؟حال ہی میں ہندستان ہی کے ایک بدبخت مشرک نے حضور جانِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ،ان کے یارِ غار سیدنا صدیق اکبر اور مسلمانوں کی تقدس مآب روحانی ماںسیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کی شان میں گستاخیاں بکیں۔ اس کے خلاف پورے ہندستان کے مسلم سراپا احتجاج بن گئے۔ ہندستان کاکون سا شہر ہے جہاں اس کی گستاخی کے خلاف ہزاروں لاکھوں مسلمان سڑک پر نہیں نکلے؟ کون سا فرقہ ہے جس نے احتجاجی مظاہرہ نہیں کیا؟کس مکتبِ فکر کے ذمہ دار افراد نے ان ریلیوں(جلوس) میں شرکت نہیں کی؟ کس طبقہ کے علما نے اس گستاخی کی مذمت نہیں کی؟ بلا شبہہ ہر ایک نے اپنے اپنے طور پر تحفظ ناموسِ رسالت کی خاطر مذمتی اقدامات، احتجاجی مظاہرے ، جلوسوں اور جلسوں کی شکل میں کیے۔ مگر کیا یہ سب دورِ رسالت اور دورِ صحابہ و تابعین میں بھی مسلمانوں کا عمل تھا؟…مذکورہ ادوار میں بھی توہینِ رسالت کا ارتکاب کیا جاتا تھا۔ اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے خلاف بکواس کی جاتی تھی۔ مگر کیا ان ادوار کے غیور مسلمانوں نے آج کی طرح احتجاجی اقدام کئے تھے؟… بلا شبہہ ان کی غیرتِ ایمانی نے کبھی گوارہ نہیں کیا کہ ان کے ہوتے ہوئے شاتمانِ رسول زندہ رہے۔ چناںچہ ہر دور میںگستاخانِ رسول کو یہی سزادی گئی کہ ان کے سروں کو گردن سے الگ کردیا گیا۔ دور رسالت اور دورِ صحابہ و تابعین میں اس کی متعدد مثالیں ملتی ہیں،ان کے بعد بھی ہر دور میں فدایانِ شمعِ نبوت نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ناموسِ رسالت پر شب خون مارنے والوں کو واصلِ جہنم کیا۔نورالدین زنگی، سلطان صلاح الدین ایوبی سے لے کر ماضی قریب میں غازی عبدالقیوم، غازی عامر چیمہ، غازی علم الدین اور دورِ حاضر میں غازی ممتاز قادری تک ایک منور سلسلہ ہے جنہوں نے دنیا کو گستاخانِ رسول سے پاک کیا ہے۔… مگر جلوسِ میلاد ، محافلِ میلاد اور میلاد کی خوشی میں چراغاں کرنے پر واویلا مچانے والے جرأت و بہادری کی اس روایت کو یک سر فراموش کرکے محض احتجاجی جلوس، احتجاجی جلسوں اور مظاہروں ہی پر اکتفا کرکے شاید اپنے زعم میں دورِ رسالت سے جاری اُس روایت کا حصہ تصور کرتے ہیں۔فیا للعجب!

جشنِ میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم چوں کہ پورے عالمِ اسلام میں اتنہائی شان و شوکت اور اہتمام سے منایا جاتا ہے تو ممکن ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے جشن کے انعقاد میں کچھ ایسی باتیں بھی کم علم عوام سے سرزد ہوجائیں جو اس جشن اور اسلام کی روح کے منافی ہوں۔ مگر اس سلسلہ میں ان چند گروپس اور طبقہ کے کم علم اور غیر ذمہ دار افراد و اشخاص کے افعال کی بنا پر اس مبارک جشن کو ٹارگیٹ کرکے عید میلاد کے خلاف فتوے بازی کرنایقینا شدت پسندی اور اسلامی راہِ اعتدال کے منافی ہے۔یہ بات بھی واضح رہے کہ حامیانِ عیدمیلادلنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ تحریراً و تقریراً، قولاً و فعلاًجشن عید میلاد کے موقع پر یہی تلقین کی کہ یہ جشن ہم اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی میں مناتے ہیں اس لیے اس کا انعقاد بھی شریعت کے دائرے میں کرنا چاہیے۔ غیر شرعی اور قابلِ گرفت حرکات کا اس جشن کے کسی بھی حصہ سے تعلق نہیں۔ ہر سال ماہِ ربیع الاول کا چاند نظر آتے ہیں علماے اہل سنت باقائدہ میلاد کے جلسوں اور اخبارات میں اعلامیہ جاری کرتے ہیں کہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوس میں باوضو، حمد و نعت،درود و سلام اور کلمہ پڑھتے ہوئے شرکت کریں،نماز کے وقت جلوس کے شرکا قریبی سُنّی مسجد میں باجماعت نماز ادا کریں پھر وہیں سے جلوس میں دوبارہ شریک ہوجائیں،ڈی جے نہ بجائیں، کسی قسم کے دل آزار نعرے نہ لگائیں بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرنے والے نعرے لگائیں-وغیرہ، ہدایات جاری کی جاتیں ہیں۔ مگر ہزاروں لاکھوں افراد کے جلوس میں کچھ فی صد افراد یا گروپس ان ہدایات پر عمل نہیں کرتے اور مخالفین انہیں مٹھی بھر مفاد پرستوں کی حرکتوں کو بہانہ بنا کر پورے جلوس اور شرکا مع قائدین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان ناقدین کا یہ عمل تشددِ بے جا نہیں؟

    آج پوری دنیا میں بالخصوص عرب شریف اور یورپ میں اسلام اور جہاد کا نام لے کر جو دہشت گردانہ کارروائیاں ہورہی ہیں ان مٹھی بھر دہشت گردوں کا سہارا لے کر یہودی نواز میڈیا جب جہاد اور اسلامی تعلیمات کو نشانہ بناتا ہے تو بڑے بڑے ’مفکرین، قائدین اورمدبرین‘ یہی کہتے ہیں کہ ان دہشت گردوں کا اسلام اور جہاد سے کچھ تعلق نہیں۔ ان کی غیر انسانی غیر شرعی حرکتوں کا ذمہ دار پورا عالمِ اسلام نہیں ہوسکتا… اب اعتدال اور انصاف کا تقاضہ ہے کہ جو نقطۂ نظر اور اصول دہشت گردی سے متعلق ان مٹھی بھر شر پسندوں کے لیے رکھا جاتا ہے وہی نظریہ جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انعقاد میں ہونے والی قابلِ گرفت حرکت کرنے والوں سے متعلق ہونا چاہیے۔

آج دنیا چاند پر کمندیں ڈال رہی ہے، سورج کی شعاعوں کو گرفتار کررہی ہے،ہوا کے دوش پر پرواز کررہی ہے،زیرِ سمندر اور دوسرے سیاروں پر آشیانے تیار کررہی ہے۔اور مسلمان کو اس بات پر دست و گریباں کیا جارہا ہے کہ مسلمان اپنے نبی کی عظمت و عقیدت اور محبت کے اظہار کے لیے کیا کریں اور کیا نہ کریں۔یاد رہے یہ وہی منصوبہ ہے جسے ایک صدی قبل ڈاکٹر اقبالؔ نے ان اشعار میں بے نقاب کیا تھا ؎

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا

روحِ محمد اس کے بدن سے نکال دو

فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیلات

اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

    مسلمان جب تک اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و عظمت کے تحفظ اور اس کے اظہار کو حرزِ جاں بنائے ہوئے تھے تب تک دنیا ان کے قدموں میں تھی۔ زمین اپناسینہ ان کے لیے کشادہ کرتی چلی گئی اور مسلمان سیلِ رواں کی طرح زمین کی وسعتوں میں سماتے گئے اور جہاں گیری و جہاں بانی کرتے رہے۔ لیکن فرنگی تخیلات اور یہودیوں کی شہ پر پنپنے والے فتنوں کے دام میں جب سے پڑنے لگے ہیں بے وقعت ہوکر رہ گئے ہیں۔ آج بھی اگر اپنی عظمتِ رفتہ کی بحالی عزیز ہے تو ہمیں تحفظِ ناموسِ رسالت کی خاطر حساس ہونا ہوگا اور اپنے ماضی کی طرف لوٹنا ہوگا۔ع

لوٹ ماضی کی طرف ایک گردشِ ایام تو

***

مکمل تحریر >>