Pages

Friday, 4 November 2016

وہابی دیوبندی قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت کے منکر

وہابی دیوبندی قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت کے منکر
**************************************
دیوبندیوں کا مذہب
کبراء علماءدیوبند کا مسلک یہ ہے کہ قرآن کریم نے کفار کو فصاحت و بلاغت سے عاجز نہیں کیا تھا اور فصاحت و بلاغت سے عاجز کرنا علماءدیوبند کے نزدیک کوئی کمال بھی نہیں۔ چنانچہ مولوی حسین علی صاحب تلمیذ رشید احمد صاحب گنگوہی اپنی کتاب بلغۃ الحیران مطبوعہ حمایت اسلام پریس لاہورن (طبع اول) میں صفحہ ۱۲ پر لکھتے ہیں ’’یہ خیال کرنا چاہئے کہ کفار کو عاجز کرنا کوئی فصاحت اور بلاغت سے نہ تھا کیونکہ قرآن خاص واسطے کفار فصحاء بلغاء کے نہیں آیا تھا اور یہ کمال بھی نہیں۔‘‘

اہل سنت کا مذہب
اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ قرآن کریم نے یقینا اپنی فصاحت و بلاغت سے کفار فصحاء عرب کو عاجز کیا تھا اور قرآن کی یہ شانِ اعجاز قیامت تک باقی رہے گی۔ جو شخص اس اعجازِ قرآنی کا منکر ہے اور قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کو کمال نہیں سمجھتا وہ دشمن قرآن ملحد و بے دین خارج از اسلام ہے۔(مقالات کاظمی، 2)

مکمل تحریر >>

دیوبندی اور وھابی قرآن کے منکر ہیں قرآن کی ان آیات کو نہیں مانتے

دیوبندی اور وھابی قرآن کے منکر ہیں قرآن کی ان آیات کو نہیں مانتے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ
(القران 5:55) تمہارا ولی تو بس اللہ ہے، اور اس کا رسول اور وہ جو ایمان رکہتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور حالتِ رکوع میں زکوۃ ادا کرتے ہیں۔

وَمَن يَتَوَلَّ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ فَإِنَّ حِزْبَ اللّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ
(القران 5:56) اور جو اللہ کو اور اس کے رسول کو اور مومنین کو اپنا ولی بناتے ہیں تو بیشک اللہ کی جماعت ہی غالب آنے والی ہے ۔

وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوْاْ مَا آتَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّهُ سَيُؤْتِينَا اللّهُ مِن فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللّهِ رَاغِبُونَ(القران 9:59) اور اگر وہ اس پر راضی ہو جاتے کی جو کچہ اللہ نے اور اس کے رسول نے انہیں دیا ہے، اور یہ کہتے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے۔ اور اللہ جلد ہمیں مزید عطا کرے گا اپنے فضل سے اور اس کا رسول بھی۔

يَحْلِفُونَ بِاللّهِ مَا قَالُواْ وَلَقَدْ قَالُواْ كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُواْ بَعْدَ إِسْلاَمِهِمْ وَهَمُّواْ بِمَا لَمْ يَنَالُواْ وَمَا نَقَمُواْ إِلاَّ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ فَإِن يَتُوبُواْ يَكُ خَيْرًا(القران 9:74) یہ قسم کہاتے ہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کہا ہے حالانکہ انہوں نے کلمہِ کفر کہا ہے اور ایمان لانے کے بعد کافر ہو گثے ہیں اور وہ ارادہ کیا تھا جو حاصل نہیں کر سکے اور انہیں صرف اس بات کا غصہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے انہیں (مسلمانوں) کو غنی کر دیا ہے۔ بہرحال یہ اب بھی توبہ کر لیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ھے۔

فضل سے غنی کرنا تو صرف اللہ کا کام ہے، مگر اللہ اسی قران میں گواہی دے رہا ہے کہ اللہ کا رسول ﷺ بھی اپنے فضل سے مسلمانوں کو غنی کرتا ہے۔ تو اب مسئلہ یہ ہے کہ قران کے صرف ظاہر کو لینے اور مجاز کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے سب سے پہلے اللہ پر مشرک ہونے کا فتویٰ لگے گا۔۔

إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ

(القران 66:4) (اے نبی کی بیویو) اب تم توبہ کرو کہ تمہارے دل ٹیرھے ہو گئے ہیں ورنہ اگر تم اس (رسول) کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی تو یاد رکہو کہ اس (رسول) کا ولی اللہ ہے اور جبرئیل ہیں اور صالح مومنین اور فرشتے سب اس کے مددگار ہیں۔

وہابی دیوبندی قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت کے منکر

دیوبندیوں کا مذہب
کبراء علماءدیوبند کا مسلک یہ ہے کہ قرآن کریم نے کفار کو فصاحت و بلاغت سے عاجز نہیں کیا تھا اور فصاحت و بلاغت سے عاجز کرنا علماءدیوبند کے نزدیک کوئی کمال بھی نہیں۔ چنانچہ مولوی حسین علی صاحب تلمیذ رشید احمد صاحب گنگوہی اپنی کتاب بلغۃ الحیران مطبوعہ حمایت اسلام پریس لاہور (طبع اول) میں صفحہ ۱۲ پر لکھتے ہیں ’’یہ خیال کرنا چاہئے کہ کفار کو عاجز کرنا کوئی فصاحت اور بلاغت سے نہ تھا کیونکہ قرآن خاص واسطے کفار فصحاء بلغاء کے نہیں آیا تھا اور یہ کمال بھی نہیں۔‘‘
اہل سنت کا مذہب
اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ قرآن کریم نے یقینا اپنی فصاحت و بلاغت سے کفار فصحاء عرب کو عاجز کیا تھا اور قرآن کی یہ شانِ اعجاز قیامت تک باقی رہے گی۔ جو شخص اس اعجازِ قرآنی کا منکر ہے اور قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کو کمال نہیں سمجھتا وہ دشمن قرآن ملحد و بے دین خارج از اسلام ہے۔(مقالات کاظمی، 2)

مکمل تحریر >>

Thursday, 3 November 2016

يَحْلِفُونَ بِاللّهِ مَا قَالُواْ وَلَقَدْ قَالُواْ كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُواْ بَعْدَ إِسْلاَمِهِمْ وَهَمُّواْ بِمَا لَمْ يَنَالُواْ وَمَا نَقَمُواْ إِلاَّ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ فَإِن يَتُوبُواْ يَكُ خَيْرًا (القران 9:74) یہ قسم کہاتے ہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کہا ہے حالانکہ انہوں نے کلمہِ کفر کہا ہے اور ایمان لانے کے بعد کافر ہو گثے ہیں اور وہ ارادہ کیا تھا جو حاصل نہیں کر سکے اور انہیں صرف اس بات کا غصہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے انہیں (مسلمانوں) کو غنی کر دیا ہے۔ بہرحال یہ اب بھی توبہ کر لیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ھے۔۔۔ فضل سے غنی کرنا تو صرف اللہ کا کام ہے، مگر اللہ اسی قران میں گواہی دے رہا ہے کہ اللہ کا رسول ﷺ بھی اپنے فضل سے مسلمانوں کو غنی کرتا ہے۔ تو اب مسئلہ یہ ہے کہ قران کے صرف ظاہر کو لینے اور مجاز کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے سب سے پہلے اللہ پر مشرک ہونے کا فتویٰ لگے گا۔۔

يَحْلِفُونَ بِاللّهِ مَا قَالُواْ وَلَقَدْ قَالُواْ كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُواْ بَعْدَ إِسْلاَمِهِمْ وَهَمُّواْ بِمَا لَمْ يَنَالُواْ وَمَا نَقَمُواْ إِلاَّ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ فَإِن يَتُوبُواْ يَكُ خَيْرًا

(القران 9:74) یہ قسم کہاتے ہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کہا ہے حالانکہ انہوں نے کلمہِ کفر کہا ہے اور ایمان لانے کے بعد کافر ہو گثے ہیں اور وہ ارادہ کیا تھا جو حاصل نہیں کر سکے اور انہیں صرف اس بات کا غصہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے انہیں (مسلمانوں) کو غنی کر دیا ہے۔ بہرحال یہ اب بھی توبہ کر لیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ھے۔۔۔

فضل سے غنی کرنا تو صرف اللہ کا کام ہے، مگر اللہ اسی قران میں گواہی دے رہا ہے کہ اللہ کا رسول ﷺ بھی اپنے فضل سے مسلمانوں کو غنی کرتا ہے۔ تو اب مسئلہ یہ ہے کہ قران کے صرف ظاہر کو لینے اور مجاز کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے سب سے پہلے اللہ پر مشرک ہونے کا فتویٰ لگے گا۔۔

مکمل تحریر >>

مشائخ کرام علیہم الرّحمہ کے نزدیک تصوف کے چار ارکان ہیں

مشائخ کرام علیہم الرّحمہ کے نزدیک تصوف کے چار ارکان ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(۱) شریعت (۲) طریقت (۳) حقیقت (۴) معرفت قرآن و سنت کے ظاہری احکام کو ’’شریعت‘‘ کہا جاتا ہے - اور ’’طریقت‘‘ ان کے باطن کا نام ہے۔ مثال کے طور پر طہارتِ شرعی یہ ہے کہ بدن کو پاک کرلیا جائے لیکن ’’ طریقت‘‘کی طہارت یہ ہے کہ دل کو تمام برائیوں سے پاک کیا جائے۔  ’’شریعت‘‘ کے احکام پر عمل کرنے سے جو اثرات ذہن و قلب پر مکمل طور پر چھا جائیں اور یقین کی دولت حاصل ہو جائے تو اِسے ’’حقیقت‘‘ کہا جاتا ہے۔’’ معرفت ‘‘سے مراد ہے:اللہ تعالیٰ کی پہچان۔اس کا دوسرا نام ’’عرفان‘‘ ہے۔ جب صوفی پر حقائق کھلتے ہیں تو وہ حق الیقین کی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔یہی عرفان ہے اور یہی معرفت ہے۔  حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء قدس سرہ فرماتے ہیں کہ جب سالک سے کوئی غلَطی ہو جاتی ہے تو ’’معرفت‘‘ سے ’’حقیقت‘‘ کی منزل پر آجاتا ہے۔جب حقیقت کی منزل پر اس سے غلطی ہوتی ہے وہ ’’طریقت‘‘ کی منزل پر آجاتا ہے۔ جب طریقت کی منزل پر اس سے غلطی ہوتی ہے تو’’شریعت‘‘ کی منزل پر آجاتا ہے۔اس لئے ’’شریعت‘‘ کی پابندی ضروری ہے۔  نکات واحد: اگر یہ سوال کیا جائے : ’’صوفی‘‘ کون ہوتا ہے؟۔۔۔۔ تو اس کا مختصر جواب یہ ہے: پاکیزہ خیال ، خیر اندیش ، نیک نیت ، اہل دل ، اہل ذوق ، فائدہ بخش اور دعا گو۔ صوفی انسانیت کا دشمن نہیں بلکہ دوست ہوتا ہے صوفی کو نفرت برے سے نہیں بلکہ برائی سے ہوتی ہے ۔ اگر صوفیا بروں سے نفرت کریں تو کون ہو گا جو بروں کو منزل کی راہنمائی کرےگا-  حاشا نہ شریعت و طریقت دو راہیں ہیں نہ اولیاء کبھی غیر علماء ہو سکتے ہیں امام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: علم باطن نہ جانے گا مگر وہ جو علم ظاہر جانتا ہے ، امام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہ بنایا یعنی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دے دیا اسکے بعد ولی کیا ۔ شریعت ، طریقت ، حقیقت معرفت میں باہم اصلا کوئی اختلاف نہیں اس کا مدعی اگر بے سمجھے کہے تو نرا جاہل ہے اور سمجھ کر کہے تو گمراہ ، بد دین۔ شریعت، حضور اقدس سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال ہیں، اور طریقت ، حضور کے افعال، اور حقیقت، حضور کے احوال، اور معرفت ، حضور کے علوم بے مثال .

مکمل تحریر >>

شریعت کی پابندی، بزرگانِ دین کا طرۂ امتیاز

شریعت کی پابندی، بزرگانِ دین کا طرۂ امتیاز
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اﷲ رب العزت سورئہ عنکبوت کی آخری آیت میں ارشاد فرماتا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے ’’اور وہ لوگ جو ہمارا راستہ پانے کیلئے جد و جہد کرتے ہیں ہم ضرور بہ ضرور انہیں ہدایت کا راستہ بتلاتے ہیں۔ اور بیشک اﷲ سبحانہ وتعالیٰ اچھے لوگوں کے ساتھ ہے‘‘ ۔ اس آیت پاک میں وضاحت کے ساتھ بتلایا جارہا ہے کہ جو بھی راہِ ہدایت کو پانے کی جستجو کریگا تو اﷲتعالیٰ اس کو وہ عطا فرمائیگا۔ اب کون ہیں وہ جو راہِ ہدایت کو حاصل کرسکیں گے تو وہ ہیں اولیائُ اﷲ یعنی اﷲتعالیٰ کے دوست۔
بخاری و مسلم شریف میں حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ’’حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام کو ندا(آواز) دیتا ہے اور فرماتا ہے ائے جبریل میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو، جب حضرت جبریل علیہ السلام اس بندہ سے محبت کرتے ہیں تو آسمان والوں کو حضرت جبریل علیہ السلام ندا(آواز) دیتے اور فرماتے کہ ائے آسمان والو: اﷲتعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو، جب آسمان والے اس بندے سے محبت کرتے ہیں تو اﷲ تعالیٰ زمین پر رہنے والوں کے دلوں میں اس کے تعلق سے محبت پیدا کردیتا ہے۔(متفق علیہ)
ولی کے معنی دوست کے آتے ہیں۔ ولی کی پہچان یہ بتلائی گئی ہے کہ ’’اﷲ اور رسول کی پوری اتباع (پیروی) کرنے سے انسان درجہ ولایت کو پہنچتاہے‘‘۔بعض حضرات ولی کی تعریف میں یہ صراحت کئے ہیں ’’معرفت الٰہی سے آراستہ ہونا، ہمیشہ عبادت گزار رہنا، لذتوں اور خواہشوں کو ترک کرنا وغیرہ جو پوری اتباع میں یہ سب امور داخل ہیں۔ (نصاب اہل خدمات شرعیہ) ولایت یہ کسبی ہے یعنی محنت سے حاصل کی جانے والی چیز ہے۔ اور اس کا سلسلہ تاقیامت جاری وساری رہیگا۔ جس شخص کا اوڑھنا بچھونا تقویٰ و طہارت کے مطابق جتنا ہوگا اتنا ہی وہ ولایت کے درجے پر پہنچے گا۔
٭    ولی سے بھی ایسی خلاف عادت (عجیب وغریب) باتیں ظاہر ہوسکتی ہیں جن میں عقل حیران ہو اس کو کرامت کہتے ہیں۔
٭    ولایت کے لئے کرامت کا ظاہر ہونا شرط نہیں، البتہ شریعت کا پابند ہونا شرط ہے۔
٭    اولیائُ اﷲ سے محبت رکھنا چاہئے اور ان کے افعال حسنہ کی پیروی کرنی چاہئے۔
٭    انبیاء عظام اور اولیائُ اﷲ کو وسیلہ ٹہرا کر بارگاہ الٰہی میں التجا کرنا اور دعا مانگنا جائزہے۔

ہندوستان میں بے حساب بزرگانِ دین آئے ہیں اور تبلیغ دین کو اختیار کئے ہیں جس کے ذریعہ اکثر و بیشتر لوگ راہِ راست کو اختیار کئے ہیں اور وہ بھی کامیابی اور سرفرازی حاصل کئے ہیں۔ جن میں سے ایک بہت ہی بڑے بزرگ جن کو ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں رہنے والے سلطان الہند خواجہ خواجگان حضرت سیدنا معین الدین چشتی رحمۃ اﷲ علیہ کے نام سے جانتی ہے۔ آپ کی شخصیت انتہائی برکت اور عظمت والی ہے ، ولایت کے جتنے  اوصاف وکمالات بتلائے گئے ہیں وہ تمام کے تمام حضرت سلطان الہند کی حیات میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ یہی نہیں بلکہ لاکھوںکروڑوں لوگوں کے قلوب کوروشن و منور کرتے ہوئے انکی زندگیوں میں بڑی تبدیلی اور انقلاب لائے ہیں۔ یقیناً یہ ایک ایسا کارنامہ ہیں جس کو لوگ قیامت تک یاد رکھیں گے۔
آپ کی حیات مبارکہ کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب آپ دہلی سے اجمیر تک کا سفر طے کئے تو اس دوران تقریباً ایک لاکھ سے زائد لوگ مذہب اسلام میں داخل ہوگئے سبحان اﷲ اس کو کہتے ہیں کرامت کیونکہ ہماری عقل اس کو آسانی سے مان نہیں سکتی ہے۔ اب یہ کونسا طریقہ تھا کہ لوگ جوق در جوق داخل اسلام ہوتے گئے۔ بس اس کا آسان سا جواب یہی ہے کہ حضرت سلطان الہند حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک ایک سنت کو اختیار کئے اور اسی پر عمل کرتے ہوئے اپنی پوری زندگی بسر کئے ہیں۔ یعنی اخلاق، کردار، نرم گفتگو، اور ہر وقت اچھے اعمال کو اختیار کرنا اور برے اعمال سے پرہیز کرنایہ سب چیزیں آپ کے اندر موجودتھیں۔ چنانچہ شیخ الاسلام عارف باﷲ حافظ محمد انوار اﷲ فاروقی علیہ الرحمہ بانی جامعہ نظامیہ مقاصد الاسلام میں جو بزرگانِ دین کے متعلق تحریر فرمائے ہیں جسکا مختصر سا خلاصہ یہ ہے کہ ’’حضرت سلطان الہند بزرگانِ دین کی مجلسوں کے میر مجلس ہوتے ہیں۔ یعنی آپ کو یہ جو مقام ملاہے اس کی وجہ یہی ہے کہ آپ ہمیشہ اﷲ تعالیٰ اور رسول پاک علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت و فرمابرداری کو اپنے اوپر لازم کرلئے تھے۔ اور تمام مریدین و معتقدین کو بھی یہ درس دیتے کہ وہ بھی اسی طریقہ سے زندگی گزراتے رہیں تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیابی و سرفرازی حاصل ہوجائے‘‘۔

سرفرازی اور چاہت کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ صرف زبان سے اس کا اظہار کریں بلکہ حقیقی چاہت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے نقشِ قدم پر چلتے رہیں۔ اگر ایسا ہو تو چاہت کا حق ادا ہوگا۔ ورنہ نہیں ہوگا۔ ہماری عبادتیں، ریاضتیں، گفتگو، اٹھنا، بیٹھنا، ملاقات کرنا، غصہ کو پی جانا اور اطاعت خدا ورسول کے مطابق ہوجائے تو ہی کامیابی حاصل ہوگی ورنہ صرف کہنے سے نہ محبت پیدا ہوتی ہے اور نہ ہمارے مال میں ، رزق میں برکت ہوتی ہے۔ یہی درس ہمیں سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اﷲ دیئے ہیں۔
اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم تمام کو دارین میں کامیابی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔  آمین ثم آمین

مکمل تحریر >>

موجودہ دور میں تصوف میں پیدا ہونے والی خرابیاں اور جعلی پیر

موجودہ دور میں تصوف میں پیدا ہونے والی خرابیاں اور جعلی پیر
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تصوف و سلوک جو ایک روحانی نظام تربیت کا نام ہے بدقسمتی سے آج اس میں بہت سے تضادات و اختلافات کی وجہ سے خرافات کی صورتیں پیدا ہو گئی ہیں۔ تصوف محض چند رسومات کی حد تک ہی رہ گیا ہے۔ تصوف کی بنیاد جس اخلاص پر تھی آج نام نہاد صوفیاء نے اسے ریاکاری اور دکھاوے کی بھینٹ چڑھا دیا ہے، جعلی پیروں نے تعویذ گنڈوں دم درود اور عرس منانے تک ہی ساری طریقت کو محدود کر دیا ہے۔ طریقت اور تصوف صرف اس بات سے عبارت ہو کر رہ گئے ہیں کہ بیعتِ شیخ کی جائے۔ اس عمل کے بعد نہ شیخ کو خبر کہ میرا مرید کس حال میں ہے اور نہ ہی مرید کو شیخ کے حال کی خبر بس تصوف اور بیعت محض رسمی سی چیز بن کر رہ گئے ہیں۔ سال بعد جملہ مریدین ایک جگہ جمع ہوں، سب عرس کی تقریب میں شریک ہوں اور پیر صاحب سالانہ دو چار دورے فرمائیں، نذر نیاز وصول کر کے واپس چلے جائیں اس طرح تصوف جو حب جاہ اور حب دنیا ترک کرنے کی تعلیم دیتا تھا کاروبار بن کر رہ گیا۔ تصوف و طریقت میں جانشینی اور وراثت کا تصور پیدا ہو گیا ہے اس طرح خانقاہی نظام میں بے پناہ قباحتیں اور خلاف شریعت امور در آئے ہیں سجادہ نشینی کا نسل در نسل نظام زوال پذیر ہوتے ہوئے عملاً یہ صورت اختیار کر گیا ہے :

میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

(اقبال)

تصوف پر ایک ظلم یہ ہوا کہ علمائے دین تعلیم و تربیت کے پہلو سے بے توجہی برتنے لگے ہیں، تصوف کے لئے کوئی مقام دینی و شرعی علوم میں رہا نہ کسی خانقاہ میں۔ تصوف میں دوسرا بڑا فتنہ جو نام نہاد پیروں اور جھوٹے مفاد پرست دنیا دار صوفیوں نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے اٹھایا ہے، شریعت کو مولویت کا نام دے کر بدنام کرنے کی تعلیم دی ہے۔ ان کے نزدیک قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم مولویوں کا کام ہے اولیاء و صوفیاء کا نہیں۔ علوم شرعیہ کی اس طرح نفی کی جا رہی ہے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ شاید طریقت، روحانیت، معرفت، ولایت اور حقیقت کا شریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

مکمل تحریر >>

شرائطِ مرشد اور کاروباری پیر

شرائطِ مرشد اور کاروباری پیر
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کسی جامع شرائط مرشد کی بیعت بھی ایک مستحب اور بابرکت کام ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مرشد کامل کی چار شرائط ارشاد فرمائی ہیں ان کے بغیر اس کا بیعت لینا جائز نہیں۔صحیح العقیدہ مسلمان ہو یعنی اہل سنت والجماعت سے وابستہ ہو، بد عقیدہ اور بد مذہب نہ ہو۔عقائد کے دلائل اور تمام احکام شرعیہ کا عالم ہو حتی کہ ہر پیش آمدہ مسئلہ کا حل بیان کر سکتا ہو (یعنی مفتی ہو)۔علم کے مطابق عمل کرتا ہو۔ فرائض، واجبات، سنن اور مستحبات پر دائمی عمل پیرا ہو اور تمام محرمات و مکروہات سے بچتا ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک اس کی نسبت متصل ہو، یعنی اس کے مشائخ کا سلسلہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتا ہو۔ ہمارے زمانے میں بعض بے علم لوگ وعظ و تبلیغ کرتے ہیں اور جب کچھ حلقہ بن جاتا ہے تو لوگوں سے بیعت لینا بھی شروع کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی بے علمی کا عیب چھپانے کے لئے علماء کی تنقیص کرتے ہیں، ان کو منافق اور بے عمل کہتے ہیں۔ ساتھ ہی خود کو اہل اللہ کا محب کہتے ہوئے اولیاء اللہ کی صف میں شمار کروانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ سادہ لوح عوام علماء کو چھوڑ کر ایسے بے علم واعظین اور بے عمل ’’مرشدین‘‘ کے حلقہ ارادت میں کثرت کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔ ہم اس جہالت اور تعصب سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔

(فتاویٰ افریقہ، ص : 147۔ 146، ملخصا، مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی)

مذکورہ شرائط کو سامنے رکھتے ہوئے اگر موجودہ پاکستانی معاشرہ پر نظر ڈالیں تو ہمیں ہر طرف ایسے کاروباری پیروں کی فوج ظفر موج نظر آئے گی جن میں مذکورہ شرائط کا دور دور تک پتہ نہیں ہو گا۔ کسی کا عقیدہ خراب ہے تو کسی کا سلسلہ غیر متصل۔۔۔ کوئی پابند سنت نہیں ہے تو کوئی اعلانیہ فاسق و فاجر۔۔۔ علم کی شرط ملاحظہ کریں تو اس پر پورے ملک میں معدودے چند پیر صاحبان ہی بمشکل پورے اترتے نظر آئیں گے۔ جعلی پیروں کا بہت بڑا لشکر نہ صرف یہ کہ قرآن و حدیث اور فقہ و کلام سے بے خبر ہے بلکہ وہ علم اور علماء کا سخت دشمن بھی ہے۔ کیونکہ جس طرح سرمایہ دار، جاگیردار اور سیاستدان کی خیر اسی میں ہے کہ قوم جاہل مطلق رہے اسی طرح جھوٹے پیروں کی شان و شوکت کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے کہ قوم علم و عمل سے بے گانہ رہے۔ کیونکہ ان پڑھ لوگ ان کو جس طرح چومتے چاٹتے ہیں اس طرح پڑھے لکھے لوگ نہیں کرتے۔ کسی بھی پیر کے ملاقاتیوں کو ملاحظہ کر لیجئے آپ کو ان پڑھ اور پڑھے لکھے لوگوں کے اندر ملاقات میں نمایاں فرق نظر آئے گا۔

انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس طرح کے تمام جعلی، بناوٹی اور کاروباری پیر اپنے آپ کو مسلک حق اہل سنت وجماعت سے منسوب کرکے اس کی بدنامی اور رسوائی کا سبب بنتے ہیں۔ نیز وہ علماء سے یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ وہ ان کی نام نہاد بزرگی پر مہر تصدیق ثبت کریں۔ یہ ننگِ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن لوگ ایسے زہریلے ہیں کہ انہوں نے اپنی شہوت کاریوں سے مسلک حق کو ادھ موا کرکے رکھ دیا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ نامور بزرگوں کی گدیوں سے منسوب ہیں۔ عمل صالح اور شریعت کی پابندی تو کجا وہ کرپٹ لوگوں کی سرپرستی کرتے ہیں رسہ گیروں سے ان کی دوستیاں ہیں۔ الیکشن میں مسلک کے نام کو استعمال کرتے ہوئے یہ لوگ ممبر اسمبلی بنتے ہیں اور پھر سیکولر جماعتوں کے ساتھ مل کر انہی کے ایجنڈے کو فروغ دینے کا باعث بنتے ہیں۔ اس تمام خرابی کی بنیاد درحقیقت ان کاروباری مولویوں نے فراہم کی ہے جو انہیں (معمولی خدمت کے عوض) لوگوں کے سامنے غوث زماں، قطب عالم، شہنشاہ ولایت وغیرہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔

ان حضرات کی سیرت و کردار کو قریب سے دیکھیں تو ان کے فرعونی لہجے، شیطانی عادات و اطوار، یزیدی رسوم و رواج۔۔۔ غنڈوں اور بدمعاشوں کی سرپرستی، چوروں اور ڈاکوؤں کی پشت پناہی۔۔۔ باطل اعمال اور عقیدے، اعراس کے نام پر اسلام کش میلے ٹھیلے۔۔۔ کتوں اور ریچھوں کے مقابلے، قبروں اور مزاروں کی تجارت۔۔۔ صالحین کی تعلیمات پر عمل کی بجائے تعمیرات سے ولایت کی پیمائش۔۔۔ علماء کے خلاف سینوں میں بھڑکتی آگ، جہالت و رعونت میں اپنی مثال آپ۔۔۔ دین و شریعت کی بات پر منہ سے نکلتے انگارے۔۔۔ نماز روزے کا وقت آنے پر مرض اسہال، زکوۃ و جہاد کا نام سنتے ہی پیٹ میں درد قولنج۔ ۔ ۔ غیر محرم عورتوں کو بے پردہ مرید کرنا اور ان سے ٹانگیں دبوانا۔۔۔ یہ ہیں وہ کالے کرتوت جو ان ’’پیروں‘‘ کے نامہ اعمال میں درج ہیں۔

اگر آپ ان کے کفریہ و شرکیہ اور مبالغہ آمیز اشعار پر مصنوعی طور پر بدمست ہو کر جھومنے اور ناچنے والے جاہل مریدوں کو دیکھیں تو گویا انہیں ذبح کیا جا رہا ہے۔۔۔ ان کے تعویذوں اور وظیفوں کو دیکھیں تو شیاطین سے استغاثہ پر مبنی جادو ٹونے کے پلندے معلوم ہوں۔۔۔ ان کی ’’مقدس مسندوں‘‘ کو دیکھیں تو ان پر کسی نیک سے نیک آدمی کا بیٹھ جانا یا صرف پاؤں لگ جانا بھی اعلیٰ درجے کی گستاخی شمار ہو۔

پھر پیران عظام کی ان گدیوں میں بھی مال و جائیداد کی طرح وراثت چل نکلی ہے (کیونکہ یہ بھی اب ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے) باپ کی گدی پر اولاد ہی بیٹھے گی خواہ وہ کیسی ہی کیوں نہ ہو۔ کسی مرید کی کیا مجال کہ وہ پیر مغاں کی سجادگی کا حقدار ٹھہرے خواہ وہ کیسا ہی رازی و غزالی کیوں نہ ہو اور یہی نااہلی اور وراثت سب سے بڑا سبب ہیں خانقاہی نظام کی تباہی کا۔

مکمل تحریر >>