حکیم الامت دیوبند جناب تھانوی صاحب اپنی کتاب تربیت السالک حصّہ دوم صفحہ نمبر 127 پر جواب دیتے ہوئے کھتے ہیں نماز میں السّلام علیک ایھاالنبی اپنی طرف سے خیال کر کے پڑھو ۔
جی جناب یہی بات ہم کہیں تو مشرک تھانوی صاحب کہیں تو حکیم الامت اور مجدد کوئ شرک کا فتویٰ نہیں ۔ خیال رھے جب نمازی اپنی طرف سے یہ خیال کرکے پڑھے یانبی آپ پر سلام ھو تو دور سے صیغہ خطاب بھی آگیا اور دور سے پکارنا بھی ۔
اب ہمارا سوال یہ ھے کہ یہ لکھ کر حکیم الامت دیوبند جناب تھانوی صاحب مشرک ھوئے کہ نہیں ؟ اگر نہیں تو پھر مسلمانان اہلسنت پر شرک شرک کے فتوے لگا کر امت مسلمہ میں نفرت و انتشار کیوں پھیلایا جاتا ھے ؟
Pages
▼
Pages - Menu
▼
No comments:
Post a Comment