https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2528986484058713&id=100008421589218
*قرون ثلاثہ میں بخاری نہ تھی مگر ختم جائز*
*دیوبندیوں کے رشید احمد گنگوھی سے ایک فتویٰ پوچھا گیا وہ فتویٰ سوال مع جواب ملاحظہ ہو:*
*”سوال :*
کسی مصیبت کے وقت بخاری شریف کا ختم کرانا قرونِ ثلاثہ سے ثابت ہے یا نہیں اور بدعت ہے یا نہیں؟
*جواب :*
قرونِ ثلاثہ (حضور ﷺ صحابہ اور تابعین کے زمانے) میں بخاری تالیف نہیں ہوئی تھی مگر اسکا ختم درست ہے کہ ذکرِ خیر کے بعد دعا قبول ہوتی ہے *اس کا اصل شرع سے ثابت ہے بدعت نہیں۔“*
[فتاویٰ رشدیہ، کتاب العلم، صفحہ 190، ناشر دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک نوشہرہ]
*تو پتہ چلا کہ جو اچھا و نیک کام حضور ﷺ یا صحابہ کرام یا تابعین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم اجمعین سے ثابت نہ بھی ہو تو بھی جائز ہے۔*
تو پھر یہ کہنا کہ *میلاد منانا و جھنڈیاں لگانا* نبی کریم ﷺ سے ثابت کرو صحابہ سے ثابت کرو ، یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟
*جو کام دیوبندی اکابرین کریں ، وہ ثابت نہ بھی ہوں تو جائز ، اور جو کام اھلسنت کریں انکی اصل شریعت میں موجود بھی ہو تو بدعت؟*
*اب جس دلیل سے ختمِ بخاری ثابت ہے*
👈 اسی دلیل سے ختمِ غوثیہ ثابت ہے اسی دلیل سے قل شریف ، دسواں ، چالیسوں، برسی ، ختمِ گیارھویں وغیرہ ایصال ثواب اور میلاد کی خوشی منانا میلاد ثابت ہے۔
جب ہماری باری آئے تو تمہارا اصول جواز سے بدل کر بدعت میں تبدیل ہو جائے۔
*خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد*
*جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے*
اللہ کریم ﷻ عقلِ سلیم عطا فرمائے آمین
مدینے پاک کا بھکاری
محمداویس رضاعطاری
پچھلی پوسٹ 👇👇👇👇👇
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2528770494080312&id=100008421589218
No comments:
Post a Comment