*کون ہے قاتل حضرت امام حسین رضی الله تعالی عنہ کا شیعہ کتب سے حوالہ جات* =======================
شیعوں کی کتاب میں ہے کہ
نَبِى عَلَيْهِ السَّلَام نے اِرشَاد فرمایا:
*”اے عَلِی! اپنے بیٹوں کو اپنے شِیعوں سے بَچانا، کِیونکہ تیرے شِیعہ تیری اَولاد کو قَتل کر دیں گے.“*
بحوالہ شِیعہ کِتاب:
(الروضۃ الکافِی:260/8)
سَیَّده زَینَب بِنتِ عَلِىُ الْمُرتَضىٰ رَضِي اَللّٰهُ تَعٰالىٰ عَنہَا نے فرمايا:
*”اے کُوفِیو! اے غَدَّارو! تُم نے نَبِی عَلَيْهِ السَّلَام کے جِگَر کے ٹُکڑے کو قَتل کِیا ہے.“*
بحوالہ شِیعہ کِتاب:
(جَلَاءُ العُیُون:424)
*”سَيَّدنا حُسَين بِن عَلِىُ الْمُرتَضىٰ رَضِي اَللّٰهُ تَعٰالىٰ عَنهُ کے قَاتِلوں میں کوئی شَامِی یا حِجَازِی نہیں تها بلکہ وه سب کُوفِی تهے.“*
بحوالہ شِیعہ کِتاب:
(خُلاصَةُ المِصَائِب:201)
*”کُوفِی سب کے سب شِیعہ تهے.“*
بحوالہ شِیعہ کِتاب:
(مَجَالِسُ الْمُؤمِنِینَ:25)
*اِعتِرافِ جُرم:*
*مُعتَبَر شِيعہ عَالِم مُلّا بَاقِر مَجلِسى لِکهتا ہے:*
*”لوگ ہمیں غَدَّار اور قَاتِلانِ حُسَین کہتے ہیں. آج میں اِقرار كرتا ہُوں کہ ہاں! شِیعوں نے ہِی اَہلِ بَیت سے غَدَّاری کی اور اُن کو شَہِید کِیا. پَر قَسَم لے لو وه ہم نہیں تهے بلکہ ہمارے آبا و اَجداد تهے، ہم تو اُن کا کَفَّاره اَدا کر رہے ہیں مَاتَم کر کے.“*
بحوالہ شِیعہ کِتاب:
(بِحَارُ الْأَنوَار:34/55)
سیدہ زینب رضی اللہ عنھا نے کوفی شیعوں سے مخاطب ہوتے ہوئے ان کو یوں بدعا دی:
"أَمّا بَعْدُ يا أَهْلَ الْكُوفَةِ، يا اهْلَ الْخَتْلِ وَالْغَدْرِ أَتَبکُونَ فَلا رَقَأَتِ الدَّمْعَةُ وَ لا هَدَأَتِ الرّنّةُ"
"اما بعد، اے اہل کوفہ، اے دھوکہ کرنے والو اور عہد توڑ دینے والو کیا گریہ کرتے ہو؟ " تمہارے آنسو نہ رُکیں اور تمہاری آہ و فغان بند نہ ہو"۔
بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج45، ص109۔
(یہ شیعہ کی مستند کتاب ہے اور سیدہ کی بدعا کا اثر آج تک ہم دیکھ رہے ہیں. کیا پھر بھی ہم اس بدعائی قوم کی قربت سے خود کو برباد کرتے رہیں گے؟)

No comments:
Post a Comment