ایک رِوایَت میں اُمُّ الْمومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے نعتیہ کلام پر مُشْتَمِل یہ اَشعار مَرْوِی ہیں:
فَلَوْ سَمِعُوْا فِیْ مِصْرَ اَوْصَافَ خَدِّہٖ لَمَا بَذَلُوْا فِیْ سَوْمِ يُوْسُفَ مِنْ نَّقْدٍ
لَـوَّامِیْ زُلَيْخَا لَوْ رَائَيْنَ جَبِيْنَهُ لَاَ ثَرْنَ بِالْـقَطْعِ الْـقُلُوْبِ عَلَی الْيَدِ
یعنی اگرآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رُخسار مُبارَک کے اَوصَاف اَہْلِ مِصر سن لیتے تو سَیِّدُنا یوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کی قیمت لگانے میں سیم و زر نہ بہاتےاور اگر زُلیخا کو مَلَامَت کرنے والی عورتیں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جبینِ اَنْوَر دیکھ لیتیں تو ہاتھوں کے بجائے اپنے دِل کاٹنے کو ترجیح دیتیں ۔
شرح العلامة الزرقانی،الفصل الثالث فی ذکر ازواجه الطاهرات، عائشةام المومنین، ۴/۳۹۰
*بارگاہِ رسالت میں صحابیات کے نذرانے*
No comments:
Post a Comment