Pages

Pages - Menu

Monday, 3 July 2017

امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃُ اللہ علیہ کا علم حدیث میں مقام

امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃُ اللہ علیہ کا علم حدیث میں مقام
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا اگر علم حدیث میں دامن تنگ ہوتا یا وہ مطلق حدیث نہ جانتے تو ان ائمہ حدیث علیہم الرّحمہ ان کی یہ شان کیوں بیان کی ؟

امام صدرالائمہ مکی رحمۃُ اللہ علیہ اپنی سند سے امام زفر رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں : بڑے بڑے محدثین مثلا زکریا بن ابی زائدہ، عبدالملک بن ابی سلیمان، لیث بن ابی سلیم، مطرف بن طریف حصین بن عبد الرحمن رحمہم اللہ وغیرہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آتے جاتے رہتے تھے اور ایسے (دقیق) مسائل ان سے پوچھتے جو انہیں پیش آتے تھے اور جس حدیث کے بارے میں انہیں اشتباہ ہوتا ہے اس کے متعلق بھی وہ ان سے سوال کرتے تھے۔ (مناقب موفق، جلد-٢، ص-١٤٩)
اگر امام صاحب کو فن حدیث میں مہارت تامہ حاصل نہ ہوتی یا وہ علم حدیث سے بے بہرہ ہوتے تو ان جلیل القدر محدثین علیہم الرّحمہ کو ان کے پاس آنے جانے اور حدیث میں ان سے شک و شبہات نکالنے کی کیا ضرورت پڑی تھی ؟
یہی امام صدر الائمہ رحمۃُ اللہ علیہ ایک مقام پر یوں فرماتے ہیں : وعبدالله بن يزيد هو ابو عبدالرحمن المقرى من حفاظ أصحاب الحديث كبرائهم اكثر عن أبى حنيفة الرواية فى الحديث -:ترجمہ : امام ابو عبدالرحمن المقری عبداللہ رحمۃُ اللہ علیہ نے جو خود بھی اصحاب حدیث کے حفاظ اور بڑے ائمہ میں سے تھے امام ابوحنیفہ رحمۃُ اللہ علیہ سے بہت سی روایتیں لی ہیں ۔ (مناقب موفق، ج-٢، ص-٣٢ )
اگر امام صاحب کے پاس حدیث تھی ہی نہیں بقول حاسدین تو بہت سی روایتیں لینے کا کیا مطلب بنتا ہے ؟ جواب کا منتظر ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

No comments:

Post a Comment