Pages

Pages - Menu

Monday, 2 January 2017

نظم وہابی دیوبندی بدعقیدہ❣

❣نظم وہابی دیوبندی بدعقیدہ❣
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*شرافت کے لبادے میں بڑے عیّار پھرتےہیں*
*وہابی بد عقیدے ہرطرف مکّار پھرتے ہیں*

پہن کر لمبا کرتا چھوٹا سا شلوارپھرتے ہیں
مسلماں کے پھنسانے کو لئےہتھیارپھرتے ہیں

*نبی کے امتی ہونے کا دعوی اور گستاخی*
*لئے کفری عبارت دربدر غدّار پھرتے ہیں*

سمجھتے کچھ نہیں کیا دین کیا ایمان ہے یارو !
بنے پھر بھی یہ دین کے آپ ٹھیکیدار پھرتے ہیں

*خدا نے اس قدر رسوا کیا ہےاِن کو دنیا میں*
*گدھےسا پوٹلا لادےسرٍ بازار پھرتے ہیں*

کہیں پر گالیاں کھائیں کہیں پہ لات جوتے یہ
مگر بے شرم ہیں اتنےکی یہ ہربار پھرتے ہیں

*پڑوسی کے حوالے کرکے اپنے بال بچوں کو*
*ملے کھانا تو چلّےکیلئے تیار پھرتے ہیں*

خداکو جھوٹا ثابت کرتے ہیں یہ دیؤ کے بندے
یہ ظالم خود بنے سچے بنے اطہار پھرتے ہیں

*نہ مانیں مصطفے کو یہ کسی بھی چیز کامالک*
*بنے یہ گھرکے اپنے مالک ومختار پھرتے ہیں*

مناتے ہیں یہ خوشیاں ہولی دیوالی کی اے لوگو
فقط یہ بارویں کی عید سے بیزار پھرتے ہیں

*چماروں سے بھی زائد یہ نبی کو خوار لکھ ڈالا*
*تبھی ابلیس کےچیلے ذلیل وخوار پھرتے ہیں*

انھیں اللہ والوں کی مزاروں سے الرجی ہے
مگر اپنے بزرگوں پر دیوانہ وار پھرتے ہیں

*شیعہ کے بھوریوں کےیہ کبھی بھی گھر نہیں جاتے*
*نظرسنی پہ ہوتی ہے ہزاروں بارپھرتے ہیں*

کرینگے کیا بھلا اصلاح جو خود بد عقیدہ ہوں
وہ تم کو کیا دوا دینگےجو خود بیمارپھرتے ہیں

*ہزاروں ڈھونڈتے ہیں کاش وہ گستاخ مل جاتا*
*قلم کرنے کو سر سنی لئے تلوار پھرتے ہیں*

🏌🏓🏌🏓🏌🏓🏌🏓

No comments:

Post a Comment