Pages

Pages - Menu

Monday, 26 December 2016

نظم وہابی دیوبندی بدعقیدہ❣

نظم وہابی دیوبندی بدعقیدہ❣
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*شرافت کے لبادے میں بڑے عیّار پھرتےہیں*
*وہابی بد عقیدے ہرطرف مکّار پھرتے ہیں*
پہن کر لمبا کرتا چھوٹا سا شلوارپھرتے ہیں
مسلماں کے پھنسانے کو لئےہتھیارپھرتے ہیں
*نبی کے امتی ہونے کا دعوی اور گستاخی*
*لئے کفری عبارت دربدر غدّار پھرتے ہیں*
سمجھتے کچھ نہیں کیا دین کیا ایمان ہے یارو !
بنے پھر بھی یہ دین کے آپ ٹھیکیدار پھرتے ہیں
*خدا نے اس قدر رسوا کیا ہےاِن کو دنیا میں*
*گدھےسا پوٹلا لادےسرٍ بازار پھرتے ہیں*
کہیں پر گالیاں کھائیں کہیں پہ لات جوتے یہ
مگر بے شرم ہیں اتنےکی یہ ہربار پھرتے ہیں
*پڑوسی کے حوالے کرکے اپنے بال بچوں کو*
*ملے کھانا تو چلّےکیلئے تیار پھرتے ہیں*
خداکو جھوٹا ثابت کرتے ہیں یہ دیؤ کے بندے
یہ ظالم خود بنے سچے بنے اطہار پھرتے ہیں
*نہ مانیں مصطفے کو یہ کسی بھی چیز کامالک*
*بنے یہ گھرکے اپنے مالک ومختار پھرتے ہیں*
مناتے ہیں یہ خوشیاں ہولی دیوالی کی اے لوگو
فقط یہ بارویں کی عید سے بیزار پھرتے ہیں
*چماروں سے بھی زائد یہ نبی کو خوار لکھ ڈالا*
*تبھی ابلیس کےچیلے ذلیل وخوار پھرتے ہیں*
انھیں اللہ والوں کی مزاروں سے الرجی ہے
مگر اپنے بزرگوں پر دیوانہ وار پھرتے ہیں
*شیعہ کے بھوریوں کےیہ کبھی بھی گھر نہیں جاتے*
*نظرسنی پہ ہوتی ہے ہزاروں بارپھرتے ہیں*
کرینگے کیا بھلا اصلاح جو خود بد عقیدہ ہوں
وہ تم کو کیا دوا دینگےجو خود بیمارپھرتے ہیں
*ہزاروں ڈھونڈتے ہیں کاش وہ گستاخ مل جاتا*
*قلم کرنے کو سر سنی لئے تلوار پھرتے ہیں*

No comments:

Post a Comment