بابا جی کیا حضورﷺ کے وسیلے سے مانگنا جاہز ہے؟؟
__________________________________________________
پُتر شفاہ دینے والا اللہ ہے لیکن بیمار ہونے پہ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں
رزق دینے والا اللہ ہے پر روزی کمانے کیلیے گھر سے باہر نکلتے ہیں
مدد کرنے والا اللہ ہے مگر دنیاوی ضروریات کے پیشِ نظر کسی دوست کے پاس جاتے ہیں.
علم و حکمت کا مرکز اور منبع اللہ ہے مگر تعلیم حاصل کرنے کے لیے استاد کے پاس جاتے ہیں.
فصل اگانے والا اللہ ہے مگر پانی کے لیے بارش کا انتظار کرتے ہیں.
دنیا و مافیہا کی تمام چیزیں اللہ عطا کرتا ہے مگر انکو لینے کیلیے دوکان پہ جاتے ہیں.
اسی طرح اللہ تک پہنچنے کیلیے حضورﷺ کے وسیلہ کی ضروری ہے .....
اور پتر اگر صحابہ کی زندگی کو مطالعہ کرو تو معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی کوہی بھی مشکل پیش آتی تھی تو حضورﷺ کے پاس آتا تھا حالانکہ صحابہ سے ذیادہ توحید کون جانتا ہے.
حضرت عکاشہ(رضی اللہ عنہ) کی تلوار ٹوٹ گہی مدد مانگنے حضورﷺ کے پاس آہے
حضرت قتادہ(رضی اللہ عنہ) کی آنکھ نکل گہی مدد مانگنے حضورﷺ کے پاس آہے.
حضرت ابو ہریرہ(رضی اللہ عنہ) کا حافظہ کمزور تھا مدد مانگنے حضورﷺ کے پاس آہے
پتر صحابہ کو تو کوہی بھی مشکل پیش آتی وہ حضورﷺ سے مدد مانگنے آتے تھے جب حضورﷺ سے مدد مانگنا جاہز ہے تو حضورﷺ کے وسیلے سے مانگنا کیسے ناجاہز ہو سکتا ہے.
#بابا_جی_کی_باتیں...
Pages
▼
Pages - Menu
▼
No comments:
Post a Comment