شفاء شریف کی شرح کرتے ہوئے امام ملا علی قاری حنفی علیہ الرحمتہ اس مقام پر آکر یوں فرماتے ہیں : " لان روحہ علیہ السلام حاضر فی بیوت اھل الاسلام "
ترجمہ : (یعنی السلام علی النبی ورحمتہﷲ وبرکاتہ کا حکم اس لئے کیونکہ) نبی کریم ﷺ کی روح ہر مسلمان کے گھر میں حاضر ہوتی ہے ۔
( شرح الشفاء الجزء الثانی صفحہ ١١٨۔ الملا علی قاری الھروی الحنفیؒ (متوفی ١٠١٤ھ)
مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان )
معلوم ہوا کہ اہلسنت کے وہی عقائد ہیں جو اکابرین اہلسنت علیہم الرّحمہ کے تھے : حیرت والی بات یہ ہے کہ اکابرین و سلف صالحین علیہم الرّحمہ اگر حضور ﷺ کو ہر مسلمان کے گھر جلوہ فرما مانیں تو ان کے ایمان کی بنیاد مضبوط کی مضبوط ہی رہتی ہے اور اگر متاخرین بزرگانِ اہلسنت اسی عقیدے کو " حاضر و ناظر " کے عنوان سے بیان فرمائیں تو شرک کے فتوے صادر فرما دیئے جاتے ہیں ۔ مخالفین کا یہ دوہرا معیار سمجھ سے بالاتر ہے
No comments:
Post a Comment