Pages

Wednesday, 5 July 2017

وہابیہ کی طرف سے اعلیٰ حضرت علیہ الرّحمہ پر شیعہ ہونے کا الزام کا جواب

وہابیہ کی طرف سے اعلیٰ حضرت علیہ الرّحمہ پر شیعہ ہونے کا الزام کا جواب
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دین و دیانت رکھنے والے حضرات کے لیے یہ امر باعثِ حیرت ہو گی کہ اہل سنت کے امام مولانا شاہ احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات میں سے ایک الزام یہ بھی ہے ۔

وہ ایسے شیعہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے ، جس نے اہل سنت کو نقصان پہنچانے کے لیے بطورِ تقیہ ، سنی ہونا ظاہر کیا تھا ۔ (احسان الٰہی ظہیر غیر مقلد وہابی : البریلویۃ ص ۲۱)

پندرھویں صدی کا یہ عظیم ترین جھوٹ بولتے ہوئے یہ نہیں سوچا کہ کیا ساری دنیا اندھی ہوگئی ہے جسے امام احمد رضا بریلوی علیہ الرّحمہ کی تصانیف کا مطالعہ کرنے کا موقع نہیں ملے گا جو شخص فتاویٰ رضویہ اور دیگر بلند پایہ علمی تصانیف کا مطالعہ کرے گا، وہ آپ کی صداقت اور دیانت کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا ؟ کیا قیامت کے دن ، واحد قہار کی بارگاہ میں جواب دہی کا یقین بالکل ہی جاتا رہا ہے ؟ یا روزِ قیامت کے آنے کا یقین ہی نہیں ہے ۔

اس دعوے پر جو دلائل پیش کیے گئے ہیں ، وہ اس قدر بے وزن اور غیر معقول ہیں کہ دلائل کہلانے کے قابل ہی نہیں ، ذیل میں ان کا مختصر سا جائز پیش کیا جاتا ہے :

الزام : ان کے آباؤ اجداد کے نام شیعوں والے ہیں ، ایسے نام اہل سنت میں رائج نہ تھے اور وہ یہ ہیں ۔
احمد رضا، ابن نقی علی ابن رضا علی، ابن کاظم علی۔‘‘ (احسان الٰہی ظہیر غیر مقلد وہابی : ابریلویۃ ص ۲۱) ۔

نواب صدیق حسن خان کے والد کا نام حسن، دادا کا نام علی الحسنین ، بیٹے کا نام میر علی خاں اور میر نور الحسن خان۔‘‘ (صدیق حسن خان بھوپالی ، نواب: ابجدالعلوم ج ۳، ص) ۔

غیر مقلدین کے شیخ الکل نذیر حسین دہلوی ہیں ، مدراس کے مولوی صاحب کا نام محمد باقر ہے ۔ قنوج کے مولوی کا نام ہے رستم علی ابن علی اصغر ، ایک دوسرے مولوی کا نام غلام حسنین ابن مولوی حسین علی۔ ان لوگوں کا تذکرہ نواب بھوپالی کی کتاب ابجد العلوم کی تیسری جلد میں کیا گیا ہے ۔ اہل حدیث کے جرید ے اشاعۃ السنۃ کے ایڈیٹر کا نام محمد حسین بٹالوی ہے ۔ کیا یہ سب شیعہ ہیں ؟ شرم تم کو مگر نہیں آتی مگر آئے تو کیسے ؟ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

دو رنگی چھوڑ یک رنگ ہو جا
سرار موم ہو یا زنگ ہو جا​

حضرت مولانا احمد رضا خاں قادری بریلوی علیہ الرحمہ کا خاندانی نسب نامہ اس طرح ہے : احمد رضا خاں ابن حضرت مولانا نقی علی خاں بن حضرت مولانا رضا علی خاں بن حضرت مولانا حافظ محمدکاظم علی خاں بن حضرت مولانا شاہ محمد اعظم خاں بن حضرت محمد سعادت یار خاں بن حضرت محمد سعید اﷲ خاں رحمة اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔ (حیات اعلیٰ حضرت، جلد اوّل، مطبوعہ مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی، ص۲)
کیا امام زین العابدین، امام، جعفر صادق، امام موسیٰ کاظم، امام علی رضا، امام نقی رحمہم اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین شیعہ تھے؟ ، لاحول ولا قوة الا باﷲ​ ۔

خود ان وہابیوں کے اکابرعلماءکے نام ملاحظہ ہوں ،شیخ الکل مولوی نذیر حسین محدث دہلوی (غیر مقلد)، مولوی نواب صدیق حسن بھوپالی(غیر مقلد)، مولوی محمد حسین بٹالوی(غیر مقلد) ، مولوی سید شریف حسین ،مولوی ڈپٹی سید احمد حسن، مولوی سید امیر حسن سہسوانی، مولوی سبط احمد، مولوی حکیم مظہر علی، مولوی محمد تقی، مولوی سید علی، مولوی سید اولاد حسن، مولوی نواب سید علی حسن بھوپالی، مولوی سید حیدر علی، مولوی خرم علی بلہوری ، مولوی مرزا حسن علی لکھنوی ۔
(تراجم علمائے حدیث ہند، از ابو یحیٰ امام خاں نوشہروی، مطبوعہ مکتبہ اہل حدیث ٹرسٹ، کراچی، ص۳ تا ۳۱)
کیا یہ غیر مقلد مولوی شیعہ تھے؟اگر نہیں تھے تو کیوں ؟ ​

سنن ابن ماجہ کے مقدمہ میں حدیث نمبر ۵۶ کے تحت درج ہے : ”حدثنا علی بن موسیٰ الرضا عن ابیہ عن جعفر ابن محمد عن ابیہ عن علی ابن الحسین عن ابیہ عن ابی طالب “
ابن ماجہ کے دادا استاد ابو صلت نے کہا : لوقریءھذا الاسناد علی مجنون لبراً یعنی اس سند کو اگرکسی مجنون پر پڑھا جائے تو اس کا جنون دور ہوجائے۔ (سبحان اﷲ)
لیکن کیا کیجئے ، ان جہلائے وھابیت کی بد بختی کا کہ وہ ان بابرکت ناموں کو دیکھیں تو ان کا پاگل پن اور زیادہ ہوجاتا ہے اور وہ ان اسماءمبارکہ کو یکجا لکھا دیکھ کر شیعہ شیعہ کا نعرہ لگانا شروع کردیتے ہیں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔